| پاکستان کے ہیروز پاکستان کے ہیروز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
| 13 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (05-01-11), Farrukh (18-01-11), sahj (06-01-11), shafresha (06-01-11), محمدعدنان (05-01-11), ابن آدم (05-01-11), ارشد کمبوہ (05-01-11), طارق راحیل (05-01-11), عبدالقدوس (05-01-11), عبداللہ آدم (08-01-11), عبداللہ حیدر (05-01-11), عروج (05-01-11), غلام خان (07-01-11) |
|
|
#31 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (08-01-11), عبدالقدوس (07-01-11), عبداللہ آدم (08-01-11), عروج (04-02-11), غلام خان (07-01-11) |
|
|
#32 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#33 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#34 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
شہزادہ ہے شہزادہ.....................
وتعز من تشاءٰ وتذل من تشاء................ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#35 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل نے جہاں وی آئی پی سکیورٹی، قتل کے سیاسی ہونے یا نہ ہونے کی بحث چھیڑ دی ہے، وہیں مبصرین کے مطابق نوجوان نسل میں پائے جانے والے انتہا پسند رجحانات کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔
رابطے اور نیٹ ورکنگ کے فیس بک اور ٹویٹر پر جو ردِ عمل دیکھا جا رہا ہے وہ تجزیہ نگاروں کے بقول حکومت اور معتدل خیالات رکھنے والوں کے لیے کافی حیران اور پریشان کن ہے۔ قتل میں ملوث ممتاز قادری کی غازی اور ہیرو کے طور پر تعریف کی جا رہی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ان پر تنقید والے صفحات بھی بنے ہیں لیکن وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ (بی۔بی۔سی)
__________________
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#37 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بسم اللہ الرحمٰن آلرحیم - الصلوٰۃ والسلام علٰی رسولہ الکریم۔
اسلام و علیکم و رحمۃ اللہ۔ سلمان تاثیر کی موت کی ذمہ داری خود حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ملک میں قانون پر عمل درآمد نام کی کوئی شےہوتی اور لوگوں کو انصاف ملتا تواس طرح کے قتل واقعہ نہ ہوتا ۔ چونکہ عدالتیں اپنا کردار ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہیں تو عوام کوقانون اپنے ہاتھ میں لینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔ ناموس رسالت کا قانون اگر غلط ہے تو یہ بات اس وقت کیوں معلوم نہ ہوئی جب 1989 میں نام نہاد جمہوری حکومت قائم ہوئی تھی؟ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان یورپ کے معاشی کلب کے مستقل رکن کی درخواست دے رہا ہے اور یورپی گروپ کی انسانی حقوق کی طرف سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس قانون کو ختم کیا جائے۔ ملک میں ایسے متعدد افراد ہیں جو بغیر مقدمے کی جیلوں میں پڑے ہیں ۔ ان افراد پر حکمران طبقے کو کبھی بھی رحم نہیں آیا لیکن آسیہ بی بی پر ہی خاص نظر عنایت کیوں؟؟ کسی پر رحم کھانا اچھی بات ہے لیکن یہ سب کے لیئے برابر ہو۔ پھر کبھی وقت ملا تو دوبارہ حاضری دونگا
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
|
#39 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#40 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#42 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
’خاندان کا کوئی تعلق نہیں‘ ذوالفقار علی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد ’جو بھی عمل ہوتا ہے وہ اچھا ہے یا برا وہ میرے رب اور اس کے رسول کی نظر میں اگر اچھا ہے تب اچھا ہے۔ یہ تو اللہ اور اس کے رسول جانیں اور ملک ممتاز صاحب جانیں۔‘ یہ الفاظ ہیں دلپذیر اعوان کے جو پنچاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے الزام میں گرفتار ملک ممتاز قادری کے بھائی ہیں۔ دلپذیر اعوان نے اپنے بھائی کے اقدام کے بارے میں کہا کہ ان کے خاندان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ان کے بھائی نے اس بارے میں گھر میں کوئی بات کی۔ ’یہ اس کا ذاتی فعل ہے، ذاتی عمل ہے۔ یہ اچھا ہے یا برا ہم فی الحال اس بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتا۔ ہم بعض اوقات ظاہری طور پر اچھا کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اس میں بھی کہیں نہ کہیں کوتاہیاں ہوتی ہیں۔ کہیں نہ کہیں لغزش ہوتی ہے، کہیں نہ کہیں زیادتی ہوجاتی ہے۔ اس لیے جو بھی عمل ہوتا ہے وہ اچھا ہے یا برا وہ میرے رب اور اس کے رسول کی نظر میں اگر اچھا ہے تب اچھا ہے۔ یہ تو اللہ اور اس کا رسول جانیں اور ملک ممتاز صاحب جانیں۔‘ لیکن دلپذیر کی گفتگو میں کچھ تضاد بھی نظر آیا اور انہوں نے اپنے بھائی کے فعل کا دفاع کرنے کی بھی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بھائی کے فعل پر صرف یہ کہیں گے کہ کوئی بھی مسلمان اپنے دین کو نشانہ بنانا برداشت نہیں کر سکتا ہے۔ میرے بھائی یا میرے خاندان کے کسی بھی فرد کا کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت سے کبھی بھی کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔ ممتاز قادری کے بھائی دلپذیر پنچاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے محافظ پنچاب ایلیٹ فورس کے ملک ممتاز قادری نے چار جنوری کو اسلام آباد میں گولیاں مار کر قتل کیا تھا۔ ممتاز قادری کے دس بہن بھائی ہیں اور وہ بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ گورنر کے قتل کے بعد ملک ممتاز قادری کو گرفتار کرلیا گیا اور دلپذیر اعوان سمیت ان کے دیگر بھائیوں اور والد کو بھی پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا تھا لیکن بعد میں قادری کے والد اور ان کے بھائیوں کو رہا کر دیا گیا۔ لیکن ان کے ایک چچا زاد بھائی ملک نصیر جو پنچاب ایلیٹ فورس ہی میں ہیں اب بھی پولیس کی حراست میں ہیں۔ دلپذیر اعوان کا کہنا ہے کہ ان کی حراست کے دوران پولیس کی تحقیقات اسی سوال کے گرد گھومتی رہی کہ آیا ان کے بھائی کا کسی مذہبی تنظیم سے کوئی تعلق رہا ہے۔ دلپذیر کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی یا ان کے خاندان کے کسی بھی فرد کا کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت سے کبھی بھی کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی کا دین کی طرف لگاؤ ہے، وہ نماز کے پابند ہیں اور دینی محفل میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے الزام میں گرفتار ممتاز قادری کا گھر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ان کا گھر راولپنڈی کے علاقے مسلم ٹاؤن میں ہے۔ سرکاری اہلکاروں اور صحافیوں کے علاوہ محلے دار، عزیز و اقارب، دوست اور مختلف طبقۂ فکر کے لوگوں کا ممتاز قادری کے گھر پر دن بھر تانتا بندھا رہتا ہے۔ کوئی حقائق جاننے، کوئی ہمدردی تو کوئی حمایت کا اظہار کرنے پہنچ رہا ہے۔ ان ہی لوگوں میں عاصم ستی بھی ہیں، جو پیشے کے لحاظ سے بزنس مین ہیں اور ان کا ممتاز قادری کے خاندان سے قریبی تعلق ہے۔ ستی نےگورنر کے قتل کے واقعہ پر کہا کہ یہ بہت حساس معاملہ ہے اور کوئی بھی مسلمان پیغمبرِ اسلام کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ ’قادری کی نیت کیا تھی، اللہ نے ان سے کام لینا تھا، یہ اللہ ہی جانتا ہے۔‘ محلے کے ایک اور رہائشی محمد ریاض، جن کی تعلیم پرائمری ہے، کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں ناموس رسالت کے معاملے پر احتجاج ہورہا تھا اور پڑھے لکھے لوگوں، دانشوروں اور حکومت کو پہلے ہی اس کا کوئی ازالہ کرنا چاہیے تھا۔ ’اگر بروقت کوئی اقدام کیا جاتا تو یہ واقع پیش نہ آتا۔‘نجی کمپنی کے ملازم ممتاز قادری کے محلے دار محسن نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے لیکن پاکستان میں قانون کہاں ہے؟ گورنر کے بیان پر حکومت کو کوئی کارروائی کرنی چاہیے تھی جو نہیں کی گئی۔ یہ کس کا فرض تھا کہ ان سے پوچھتے کہ انہوں نے (گورنر) قانون توڑا ہے؟ محلے کے ایک اور رہائشی محمد ریاض، جن کی تعلیم پرائمری ہے، کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں ناموس رسالت کے معاملے پر احتجاج ہو رہا تھا اور پڑھے لکھے لوگوں، دانشوروں اور حکومت کو پہلے ہی اس کا کوئی ازالہ کرنا چاہیے تھا۔ ’اگر بروقت کوئی اقدام کیا جاتا تو یہ واقع پیش نہ آتا۔‘ کالج کے طالب علم حمزہ طارق نے کہا کہ وہ قادری کے فعل کی حمایت کرتے ہیں اور کوئی بھی مسلمان پیغمرِ اسلام کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ ملک ممتاز قادری کے گھر کے باہر اور بھی ایسے افراد نظر آئے جو قادری کے خاندان والوں سے ممتاز قادری کے فعل کی کھل کر حمایت کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ بحوالہ خبر |
|
|
|
|
|
#43 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ قائد کے پاکستان کو بنیاد پرستوں سے خطرہ ہے
کوئی اس سے پوچھے کہ ساری دنیا کی نظر میں قائد کے پاکستان کو تو اور تیرے باپ سے خطرہ اور کسی سے نہیں کیونکہ جناب کی ڈکشنری میں ڈولر کے عوض اپنی ماں کا قتل بھی گوارا لکھاہے،اپنے باپ سے پوچھ کہ تیری ماں کا قاتل کون ہے، تیرے نانا کے قتل پر مٹھائیاں بانٹ نے والا آج تیرے باب کے مقربین میں سے ہے کتنے دن انگریز کے گود میں تو بیٹھاگا /؟؟؟؟؟؟؟ مع السلامہ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#44 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ممتاز قادری کا نفسیاتی خاکہ عنبر شمسی بی بی سی اردو واقعہ تو چار جنوری، کوئی چار بجے ایک بھرے بازار میں پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کا ارادہ اس نے پانچ دن قبل ایک جلسے میں ایک مولانا کی اشتعال انگیز تقریر سن کر کیا۔ جب اس نے اعلیٰ سطح کے کئی رہنماؤں کو نشانہ بنانا چاہا تو آسان ہدف سلمان تاثیر ملا۔ نفیساتی ماہروں کا کہنا ہے کہ قصہ تو اس سے بھی پہلے کا ہے۔ چند سال پہلے، پنجاب کی ایلیٹ فورس کے ایک اہلکار کی اقوام متحدہ کے مشن کے ساتھ سکیورٹی ڈیوٹی لگی۔ مشن کے افراد کے لیے ٹیکسی روکنے کی کوشش کی گئی، لیکن ٹیکسی والا رکا نہیں۔ جو بندوق اس مشن کے اراکین کے تحفظ کے لیے دی گئی تھی، مشتعل اہلکار نے اسے غصے میں چلا دیا۔ قادری توہینِ رسالت کے ملزمان کے ساتھ ڈیوٹی کرتا رہا ہے، ان کو کورٹ کچہری تک لاتا رہا ہے۔اگر وہ واقعی اتنا پکا عاشقِ رسول تھا تو ان کو کیوں نہیں مارا؟ ڈی آئی جی سپیشل آپریشنز اسلام آْباد بنیامین اس واقعہ میں خوش قسمتی سے کوئی زخمی نہیں ہوا، نہ ہی کوئی ہلاک، لیکن اس محافظ کی ذہنیت واضح ہوگئی۔ انگریزی میں اس کو ’ٹریگر ہیپی‘ کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شخص جو بغیر سوچے سمجھے گولی چلا دے۔ یہ ٹریگر ہیپی اہلکار، سلمان تاثیر کے قتل میں ملوث ملک ممتاز قادری تھا۔ دنیا بھر میں مجرموں کی شخصیت اور نفسیات کا ایک نقشہ کھینچا جاتا ہے۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ جرم پہلے سے طے شدہ تھا یا جذبات کی رو میں بہہ کر کیا گیا۔ جو مجرم منصوبے کے تحت جرم کرتے ہیں، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غلط یا صحیح میں تفریق کر سکتے ہیں، وہ پاگل نہیں ہوتے اور انہیں اپنے فعل پر کوئی افسوس نہیں ہوتا۔ ممتاز قادری کا جرم تو عدالت میں ہی ثابت ہوگا، لیکن اس کے بارے میں گورنمنٹ کالج کے کلینکل نفسیات کے شعبے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد محمود نے کہا: ’ایسے لوگوں کے لیے ان کا جذبہ یا ایمان، ان کی سب سے عالیٰ قدر ہے۔ اس لیے ان کو افسوس نہیں ہوتا اور وہ آخر وقت تک یہی کہیں گے کہ میں نے درست کیا‘۔ راولپنڈی کے رہائشی، میٹرک پاس، چھبیس سالہ ممتاز قادری کے بارے میں اس کے بھائی دل پزیر اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا بھائی ’انتہائی شریف النفس، انتہائی باادب اور ملنسار تھا۔ وہ بہت نمازی تھا۔ ہم سب بھائیوں میں چھوٹا تھا لیکن ہم سب سے زیادہ دین دار تھا۔‘ لیکن گورنر سلمان تاثیر کے قتل کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی سپیشل آپریشنز اسلام آباد بنیامین نے کچھ اور بتایا۔ ’یہ کہناغلط ہے کہ وہ مکمل طور پر مذہبی تھا۔ اس کے پروفائل سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دنیا دار تھا، کبھی داڑھی منڈوا لیتا تھا تو کبھی بال لمبے رکھتا اور اس کے عشق بھی چلتے رہے ہیں‘۔ ممتاز قادری کی ایک ایسی ویڈیو بھی انٹرنٹ پر دستیاب ہے جس میں وہ ہاتھ میں بندوق پکڑے نعت پڑھ رہا ہے۔ بنیامین نے مزید کہا ’قادری توہینِ رسالت کے ملزمان کے ساتھ ڈیوٹی کرتا رہا ہے، ان کو کورٹ کچہری تک لاتا رہا ہے۔ اگر وہ واقعی اتنا پکا عاشقِ رسول تھا تو ان کو کیوں نہیں مارا؟‘ جب قادری نے سلمان تاثیر کے ساتھ اپنی ڈیوٹی لگوائی، تو بنیامین کے بقول ’اس کو ہیرو بننے کا چانس ملا۔‘ دوسری طرف دل پزیر کہتے ہیں کہ قادری محلے بھر کا کوڑا جمع کر کے مسیحی کوڑے والوں کو دیتا تھا۔ ’آپ ان کوڑے والوں سے پوچھیں، جو مسیحی ہیں، کہ گھر کا کوڑا کون سنبھالتا تھا۔ وہ اتنا باادب تھا۔‘ مگر بنیامین نے اس بات کی تصدیق کی کہ سپشل برانچ نے ممتاز قادری کو گیارہ دیگر اہلکاروں سمیت سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ ’ان سے ہم نے رپورٹ طلب کی ہے، اور اس بنا پر اس کو گورنر تاثیر کی ڈیوٹی پر نہیں لگانا چاہیے تھا۔‘ پروفیسر ڈاکٹر زاہد محمود نے بتایا کہ جن لوگوں میں تشدد کا رحجان پایا جاتا ہے وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے۔ ’ان کی بہت بڑی نشانی ان کا ماضی کا کردار ہوتا ہے جو ان کے مستقبل کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر ایسے شخص کے ماضی میں کئی جگہ ایسا ہوا ہو کہ وہ بے قابو ہو گیا ہو تو یہ اس کی ذہنی کیفیت ظاہر کرتا ہے۔‘ بنیامین کہتے ہیں ’اس کی جذباتی سی طبیت تھی۔ تو اگر بندوق اس کے ہاتھ میں ہو تو پھر اس طرح کا آدمی کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس سے کوئی بھی توقع کی جاسکتی ہے۔‘ تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایسے شخص کو وی آئی پی کے تحفظ کے لیے کیوں رکھا گیا۔ ایک پولیس افسر نے مجھے بتایا کے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں نفسیاتی سکریننگ ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود میجر نڈال جیسی مثالیں ملتی ہیں۔ سال دو ہزار نو میں ایک امریکی مسلمان میجر نے فوجی اڈے میں گولیاں مار کر اٹھارہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ تو نفسیاتی سکریننگ اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ ایسے دوبارہ نہیں ہوگا۔ سلمان تاثیر کے کیس کے بارے میں ڈی آئی جی پولیس نے کہا: ’میری چھبیس سال کی نوکری میں یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے ورنہ پولیس کانسٹیبل تو بڑے تابع دار ہوتے ہیں۔‘ لیکن ایک سابق آئی جی پولیس اور کمانڈنٹ قومی پولیس اکیڈمی، چودھری یعقوب کہتے ہیں کہ معاشرے میں جو صورت حال ہے، پولیس اہلکاروں کی ’سکریننگ بہت ضروری ہے تاکہ مختلف نقطۂ نظر سے دیکھا جائے کہ ان کے کس قسم کے رحجانات ہیں۔‘ بحوالہ خبر |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, com, jpg, size, فیصلہ, ہے۔, کوئی, کلک, کئے, کرے, پہلے, پولیس, قادری, نماز, ندامت, ممتاز, مطابق, اپنے, انٹرویو, اردو, اسلام, خوش, خدا, دیے, سلمان |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|