گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور معروف سماجی رہمنا انصار برنی کی کوششوں سے 314 دن بعد صومالی قزاقوں سے بحری جہاز ایم وی سوئز کے عملے کے 22 افراد کی رہائی ۔۔۔
پناما میں رجسٹر ڈ تجارتی بحری جہاز ایم وی سوئز جو دس ماہ سے زائد عرصے تک صومالی قزاقوں کی قید میں تھا ، اس پر تعینات تمام ملکی و غیر ملکی باشندوں کو لے کر الحمد للہ جب پاک بحریہ کا جہاز پی این ایس ذالفقار بخیر و عافیت جمعرات 23 جون کی شام کراچی پہنچا تو یہاں رقت آمیز اور جذباتی مناظر سے ہر خاص و عام ک آنکھ پرنم نظر آئی ۔ مغویوں کا کراچی پورٹ پہنچنے پر جو والہانہ استقبال کیا گیا ان کے پر تپاک استقبال اور ان کی رہائی نے دنیا کو یہ بتا دیا کہ پاکستانی بلا تفریق انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں ، اگر چہ اس جہاز پر پاکستان کے صرف چار افراد ہی سوار تھے جبکہ زیادہ تعداد بھارتیوں کی تھی ، اس کے باوجود بھی بھارتی حکمرانوں نے اپنے باشندوں کی رہائی کے لئے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھا یا ۔پاکستان سمیت بھارت ، مصر اور سری لنکن افراد پر مشتمل 22 مغویوں کو رہائی دلوانے میں معروف سماجی رہنما انصار برنی اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان خصوصا مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے اس مسئلہ کے حل میں نہایت اہم کردار ادا کیا اور انہوں نے پاکستان کے مخیر حضرات کو اس جانب متوجہ کیا ۔۔۔ صبر آزما مراحل کے بعد 21 لاکھ امریکی ڈالر کی خطیر رقم اکھٹا ہو سکی ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب حکومت پاکستان نے بھارت سے رابطہ کر کے صومالی قزاقوں سے جہاز کے تمام مغویوں کی رہائی کے لئے تعاون کی درخواست کی تو بھارتی حکومت نے اپنی غیر سنجیدگی کا مظاہر کرتے ہوئے اس معاملے میں ہر قسم کے تعاون سے قطعا انکار کر دیا ۔
رہائی پانے والے ایک بھارتی شہری رویندر سنگھ کی اہلیہ آرپا سمپا نے کہا کہ ان کے دادا کا یہ قول آج سچ ثابت ہوگیا ہے کہ سچے مسلمان کی دوستی سے بڑھ کر کوئی تحفہ نہیں۔۔۔۔رہائی پانے والے افراد کے اعزاز میں منعقد تقریب میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ پاکستانی قوم دنیا بھر میں سر خرو ہوگئی ہے اور پاکستان کے سر پر انسانیت کا سہرا سج گیا ہے ۔