واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > پاکستان کے ہیروز



پاکستان کے ہیروز پاکستان کے ہیروز


شاعر مشرق سر علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ: کچھ یادیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-11-10, 02:19 AM   #1
شاعر مشرق سر علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ: کچھ یادیں
گلاب خان گلاب خان آن لائن ہے 10-11-10, 02:19 AM

علامہ محمد اقبال کے دیرینہ خام میاں علی بخش کی یادیں

میں علی بخش موضع اٹل گڑھ ضلع ہوشیار پور کارہنے والا ڈاکٹر صاحب کا قدیمی خادم ہوں۔ میں لکھنا پڑھنا نہیں جانتا اس لئے ٹھیک بتا نہیں سکتا کہ میں کب ان کے پاس نوکر ہوا۔ ہاں اتنا یاد ہے کہ جب میں ان کے پاس آیا تومیری عمر چودہ سال تھی۔ اب میں پچاس یا پچپن سال کا ہوں گا۔ یا شاید اس سے ایک دو سال کم یا زیادہ، اس حساب سے کوئی اڑتیس یا چالیس سال ان کے پاس رہا۔

ڈاکٹر صاحب کی پہلی شادی جوانی میں ہی ہوگئی تھی لیکن جس زمانے کا ذکر میں کررہا ہوں وہ اہل و عیال کو سیالکوٹ میں چھوڑ کر لاہور میں اکیلے رہتے تھے اور ان کا کھانا میں ہی پکاتا تھا، پھر جو پکا ریندھ کر سامنے لا رکھتا ڈاکٹر صاحب صبر و شکر کے ساتھ کھالیتے تھے۔ یہ بات نہیں کہ ڈاکٹر صاحب کو اچھے کھانے کا شوق نہیں تھا وہ ہمیشہ سے خوش خوراک تھے، دسترخوان پر ہمیشہ دو تین قسم کا سالن ضرور ہوا کرتا تھا البتہ وہ کھاتے بہت تھوڑا تھے۔ عام طور پر صرف ایک وقت کھانا کھاتے تھے بہت ہوا تورات کو نمکین چائے پی لی۔ صبح کو چائے بھی نہیں پیتے تھے۔ اکثر اوقات کچھ کھائے پئے بغیر کالج چلے جاتے تھے اور دوپہر کو آکے کھانا کھاتے تھے۔ خشکہ ان کی طبیعت کو راس نہیں آتا تھا اس لئے عام طور پر وہ روٹی ہی کھاتے تھے۔ آخر میں صبح کو چائے بھی پینے لگے تھے اور پلاؤ بھی بڑے شوق سے کھایا کرتے تھے۔ صبح کی نماز اور قرآن خوانی مدت سے ان کا معمول تھا ۔قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ آواز ایسی شیریں تھی کہ ان کی زبان سے قرآن سن کرپتھروں کے دل پانی ہوجاتے تھے۔ موت سے کچھ عرصہ پیشتر مجھ سے کہنے لگے علی بخش میرا جی چاہتا ہے کہ آج نماز پڑھوں۔ میں نے کہا آپ پلنگ پر بیٹھ جائیے میں آپ کو وہیں بیٹھے بیٹھے وضو کرا دیتا ہوں۔ وضو کرچکے تو میں نے کہا ڈاکٹر صاحب میں نے مہر صاحب کو بیٹھے بیٹھے نماز پڑھتے دیکھا ہے خدا جانے کیا بات ہے کہنے لگے ہاں مجبوری کی حالت میں یہ بھی جائز ہے۔جن دنوں ہم بھاٹی دروازے میں رہتے تھے ایک دفعہ پورے دو مہینے بڑی باقاعدگی سے تہجد کی نماز پڑھتے رہے ان دنوں ان کا عجب حال تھا۔ قرآن اس خوش آوازی کے ساتھ پڑھتے تھے کہ جی چاہتا تھا بس سارے کام کاج چھوڑ چھاڑ کر انہیں کے پاس بیٹھا رہوں۔ اس زمانے میں کھانا پینا بھی چھوٹ گیا تھا صرف شام کو تھوڑا سا دودھ پی لیتے تھے۔ خدا جانے اس میں کیا رمز تھی۔ جوانی میں ورزش بھی کرتے تھے ۔ بھاٹی دروازے والے مکان میں تو صبح سویرے اٹھ کر ڈنٹر پیلنا بھی شروع کر دیتے تھے کبھی کبھی مکدر بھی ہلاتے تھے۔ڈاکٹر صاحب اورئینٹل کالج میں تھوڑے ہی دن رہے۔ وہاں سے گورنمنٹ کالج میں چلے گئے اس زمانے میں سید تقی شاہ، بابو میرا بخش، فقیر افتخارالدین اور شیخ عبدالقادر سے ان کا بڑا میل جول تھا۔ مولوی حاکم علی سے بھی ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں لیکن ان کے وقت کا زیادہ حصہ لکھنے پڑھنے میں صرف ہوجاتا تھا ۔ لکھتے کم تھے پڑھتے زیادہ تھے جس کمرہ میں وہ سوتے تھے اس میں ایک بڑی میز پر کتابیں پڑی رہتی تھیں۔ کبھی کبھی میں ان کتابوں کو ترتیب سے الماری میں رکھ دینے کا ارادہ کرتا تھا تو کہتے تھے انہیں پڑا رہنے دو کانگڑے کے زلزلہ میں لاہور پر بھی بڑی آفت آئی۔ شہر میں بہت سے مکان گرے ہر طرف کہرام مچا ہوا تھا۔ میرا یہ حال تھا کہ کبھی گھبرا کر کوٹھے پر چڑھ جاتا کبھی نیچے آجاتا جب زلزلہ آیا ڈاکٹر صاحب اپنے کمرے میں چارپائی پر لیٹے کتاب پڑھ رہے تھے لیکن جس طرح لیٹے تھے اسی طرح لیٹے رہے۔ ذرا ہلے جلے تک نہیں ہاں میری بے تابی دیکھ کر ایک دفعہ کتاب پڑھتے پڑھتے سر اٹھایا اور کہنے لگے۔”علی بخش یوں بھاگے بھاگے نہ پھرو، سیڑھیوں میں کھڑے ہوجاؤ“۔یہ کہہ کر پھر اسی اطمینان سے کتاب پڑھنے لگے۔ زلزلہ کے بعد میں گھر سے نکلا تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کے دوشت شیخ عبدالقادر کا مکان گرپڑا شیخ صاحب اس وقت ولایت میں تھے۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ خبر سن کر بہت افسوس ہوا اور اسی وقت انہیں یہاں کے سارے حالات لکھ بھیجے۔

ایک دفعہ میں نے دیکھا ڈاکٹر صاحب پلنگ پر بیٹھے ہیں سامنے کاغذ اور پنسل ہے، کبھی کچھ سوچنے لگتے ہیں، کبھی کاغذ پرپنسل سے کچھ لکھ لیتے ہیں، کبھی پیشانی پر بل پڑے ہوئے ہیں اور سر جھکا ہوا ہے، کبھی ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے اور آہستہ آہستہ کچھ پڑھ رہے ہیں۔اس وقت تو میری سمجھ میں کوئی بات نہ آئی بعد میں معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب شاعر ہیں اور ان کے شعر کہنے کا یہی انداز ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ شعر شاعر اور شاعری کامطلب بہت دیر کے بعد میری سمجھ میں آیا۔ شعر کہتے وقت ڈاکٹر صاحب کی عجیب کیفیت ہوتی تھی۔ بیٹھے بیٹھے لیٹ جاتے، بار بار پہلو بدلتے، پھر اٹھ بیٹھتے کبھی چہرہ پر اضطراب ہوتا تھا ،کبھی بشاشت ،ان کے پلنگ کے پاس ایک میز ہوتی تھی اس پر ایک کاپی پڑی رہتی تھی جب شعر کہنے کو طبیعت چاہتی لکھنا شروع کردیتے تھے۔ کبھی کبھی کوئی ملنے کو آجاتا تھا تو اسے شعر لکھوادیتے تھے۔ ایک دفعہ شیخ عبدالقادر کو شعر لکھوانے شروع کئے اور دونوں ساری رات بیٹھے لکھتے لکھاتے رہے صبح ہوتے ہوتے نظم ختم ہوگی۔ یہ نظم انجمن کے جلسے میں پڑھی گئی۔

ان دنوں ڈاکٹر صاحب عام پنجابیوں کی طرح شلوار اور قمیض پہنتے تھے۔ قمیض پر کوٹ، نہیں فراک نہیں، یہی عام کوٹ جو آپ اور ہم پہنتے ہیں لیکن اتنا چھوٹا نہیں البتہ جاڑے میں وہ بند گلے کا فراک پہنتے تھے۔ سر پر سپید ململ کی پگڑی ہوتی تھی۔ موتیے رنگ کی پگڑی ہوتی تھی موتیے رنگ کی پگڑی کا بھی شوق تھا بعد میں ترکی ٹوپی بھی اوڑھنے لگے۔

ڈاکٹر صاحب نے ولایت جانے سے پہلے سوٹ کبھی نہ پہنا اور سوٹ بھی کبھی کبھار ہی پہنتے تھے ورنہ انہیں دل سے دیسی لباس ہی پسند تھا۔ ان دنوں گجر سنگھ کے قلعہ میں نظام الدین نام کا ایک بڈھا درزی تھا۔ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ کپڑے اسی سے سلواتے تھے۔ اسے بھی ڈاکٹر صاحب سے بڑی محبت تھی اور ان کے کپڑے بڑی محنت سے سیا کرتا تھا۔ ایک دن مجھ سے کہنے لگا علی بخش میں شیخ صاحب سے بہت ڈرتا ہوں بھئی آخر شاعر ہیں کہیں غصہ میں آکر میرے خلاف ایک آدھ شعر لکھ دیں تو میں کہیں کا نہ رہوں۔

ڈاکٹر صاحب اپنی آمدنی کا حساب نہایت باقاعدگی سے رکھتے تھے۔ منشی طاہر الدین کے پاس آج بھی تیس پینتیس سال کا سارا حساب لکھا ہوا موجود ہے کیامجال ہے کہ اس میں ایک پائی کا فرق ہو۔ منشی طاہر الدین مدت تک ڈاکٹر صاحب کے پاس رہے ہیں۔ جب ڈاکٹر صاحب وکالت کرتے تھے تو سارا کام کاج منشی جی کے سپرد تھا لیکن انہوں نے وکالت چھوڑ دی تومنشی جی نے اپنا علیحدہ کاروبار شروع کردیا لیکن آخری وقت تک حساب کتاب انہی کے سپرد رہا۔ پریکٹس چھوڑ دی تو منشی جی کو جو تنخواہ ملتی تھی وہ بھی بند ہوگئی۔ ڈاکٹر صاحب تو انہیں اسی حالت میں تنخواہ دینا چاہتے تھے مگر انہوں نے یہ بات منظور نہ کی۔ اصل میں ڈاکٹر صاحب دنیا دار آدمی نہیں تھے اور دنیا والوں کے ایچ پیچ اور الٹ پھیر انہیں نہیں آتے تھے۔ وہ کبھی اپنے پاس روپیہ پیسہ نہیں رکھتے تھے۔ منشی طاہر الدین ان کے خزانچی تھے اور ان کے ہاتھوں روپیہ خرچ ہوتا تھا۔ مجھے کئی دفعہ ان کے ساتھ سفر کا اتفاق ہوا۔ سفر میں روپیہ پیسہ بلکہ ریلوے کا ٹکٹ تک میرے پاس رہتا تھا، اپنے پاس وہ پھوٹی کوڑی تک نہیں رکھتے تھے۔ انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ انہوں نے جو نظمیں کہی ہیں انہیں چھاپ کرفروخت کیاجاسکتا ہے۔ کچھ نظمیں شیخ عبدالقادر چھاپنے کو لے جاتے تھے۔ کچھ مولانا ظفر علی خان کے اخبار میں چھپ جاتی تھیں۔ ان دنوں منشی فضل الٰہی مرغوب رقم ایک خوشنویس ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے بھی ڈاکٹر صاحب کی بہت سی نظمیں کتاب کی صورت میں چھاپیں اور ہزاروں روپے کمائے اور شاید انہیں کبھی کتابیں چھاپنے کا خیال ہی نہ آتا، بھلا ہو چودھری محمد حسین صاحب کا جنہوں نے ڈاکٹر صاحب کو یہ بات سمجھائی۔

مجھے ڈاکٹر صاحب سے کچھ ایسا لگاؤ ہوگیا تھا کہ ان کے جانے کے بعد کوئی کام کرنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب ولایت سے آئے تو آتے ہی سیالکوٹ چلے گئے میں اس زمانے میں اسلامیہ کالج چھوڑ کے ایک اور جگہ نوکر ہوگیا تھا اس لئے مجھے ان کے آنے کی اطلاع نہ تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی لوگوں سے میرے متعلق پچھوایا مگر انہیں بھی کوئی پتہ نہ لگا۔ آخر سیالکوٹ سے انہوں نے اپنے ایک دوست کے نام خط لکھا کہ جب میں ولایت گیا تھا تومیرے پاس علی بخش نام کاایک لڑکا ہوشیار پور کے علاقے کارہنے والا نوکر تھا۔ اس کا کوئی اتا پتا معلوم ہو تومجھے لکھو۔ انہوں نے تلاش کرتے کرتے ایک دن میرا پتا معلوم کرلیا اور مجھ سے کہا ڈاکٹر صاحب آگئے ہیں اور تمہیں بلاتے ہیں۔ میں گھرپہ گیا تو وہاں نہیں تھے۔ معلوم ہوا کچہری چلے گئے ہیں میں پہنچا تو دور سے ڈاکٹر صاحب دروازے سے باہر نکلتے دکھائی دئیے۔ میں دوڑ کر قریب پہنچا تو بڑھ کر مجھے گلے لگا لیا پھر خیریت پوچھی اور کہنے لگے کہ تم آج ہی اپنا بوریا بندھنا اٹھا کے چلے آؤ۔

ڈاکٹر صاحب پہلے بھاٹی دروازے حکیم شہباز الدین کے مکان میں رہتے تھے۔ ولایت سے آنے کے بعد یہ مکان چھوڑ دیا پہلے گلاب سنکھ کے چھاپہ خانے کے پاس کوئی تین مہینے رہے پھر انارکلی اٹھ آئے۔ ولایت سے آنے کے بعد ان کو گورنمنٹ کالج سے پانچ سو روپے ماہورار ملنے لگے۔ اس کے علاوہ انہیں پریکٹس کی بھی اجازت تھی انہیں کالج سے جو ملتا تھا وہ گھر بھیج دیتے تھے اور وکالت کی آمدنی پر گزارا کرتے تھے۔
میرے رشتہ داروں کو میرالاہوررہنا پسند نہیں تھا سب یہی کہتے تھے کہ تم اب گرہستی دار ٹھہرے لاہور کو چھوڑ دو اور یہیں آکے رہو۔ نوکری میں ہزار آرام سہی مگر گھر سا آرام کہاں؟کئی دفعہ میرا جی بھی نوکری چھوڑ گھر چلے جانے کو چاہا لیکن ڈاکٹر صاحب سے یہ بات کہنے کا حوصلہ نہ پڑا۔ آخر ایک بار بات کر ہی دی ۔میں نے ارادہ تو بڑا پکا کیا تھا کہ اب لاہور میں نہیں رہوں گا لیکن ڈاکٹر صاحب کی باتیں سن کر ارادہ ٹوٹ گیا اور جب انہوں نے پوچھا کیوں یہ بات منظور ہے تو میری زبان سے صرف اتنا نکلا جی ہاں شیخ صاحب! پھر وہ کہنے لگے کیوں اب مجھے چھوڑ کے نہیں جاؤ گے؟ کئی سال تو یونہی ہوتا رہا کہ میں کچھ دنوں کے لئے گھر چلا جاتا تھا پھر یکایک میری بیوی کا انتقال ہوگیا۔ لوگوں نے کہا تم ابھی جوان ہو دوسرا بیا کرلو ایک دو جگہ سے ناطہ کی بات بھی آئی مگر میں نے پھر شادی نہیں کی اور ڈاکٹر صاحب کے قدموں میں عمر گزاری دی۔ ڈاکٹر صاحب نے کبھی مجھے برا بھلا نہیں کہا ایک دفعہ ان کے بھانجے نے مجھے گالی دی تو اس پر سخت ناراض ہوئے بلکہ اسے پیٹا بھی البتہ دو تین دفعہ مجھ پر خفا ضرور ہوئے اور یہ خفگی بھی تھوڑی دیر میں جاتی رہی۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,516
شکریہ: 1,554
2,989 مراسلہ میں 8,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 113
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (12-11-10), عبداللہ آدم (12-11-10)
پرانا 12-11-10, 02:18 AM   #2
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,516
کمائي: 94,413
شکریہ: 1,554
2,989 مراسلہ میں 8,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

توڑ دے تسبیح کو اس خیال سے اقبال
کیا گن گن کے نام لینا اس کا جو بے حساب دیتا ہے
گلاب خان آن لائن ہے   Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
کالج, کتابوں, پسند, ورزش, قرآن, نوکری, نماز, موت, محمد اقبال, محبت, معلوم, آج, آدمی, اللہ, تلاش, خوش, خان, خبر, خدا, دوست, زلزلہ, شاعری, علی, علامہ محمد اقبال, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:35 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger