واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > پاکستان کے ہیروز



پاکستان کے ہیروز پاکستان کے ہیروز


عبدالستار ایدھی۔۔۔۔۔۔ ایدھی ٹرسٹ پاکستان میں375 فلاحی مراکز چلا رہا ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-03-11, 04:04 AM   #1
عبدالستار ایدھی۔۔۔۔۔۔ ایدھی ٹرسٹ پاکستان میں375 فلاحی مراکز چلا رہا ہے
گلاب خان گلاب خان آن لائن ہے 24-03-11, 04:04 AM

پاکستان میں انسانیت عبدالستار ایدھی سے شروع ہوتی ہے۔ اٹھاسی سالہ عبدالستار ایدھی نہیں جانتے کہ پیسے کے پیچھے بھاگنا کیا ہوتا ہے، آج تک کسی حکومت سے امداد نہیں لی، صرف عوامی تعاون سے 63، 64 سالوں سے ایک ایسا رفاہی ادارہ چلا رہے ہیں جس کے ماہانہ اخراجات ایک کروڑ سے زائد ہیں۔ سادہ اتنے کہ بتاتے ہیں ادارے میں امدادی رقم ڈبل آتی اور سنگل خرچ ہوتی ہے۔ نڈر ایسے کہ کوئی پروٹوکول نہیں، بدترین حالات میں بھی کوئی سیکیورٹی حصار نہیں۔ بلوچستان گئے تو ڈاکو تائب ہوگئے، فنڈز دیئے۔ شمالی وزیرستان گئے تو طالبان نے بے لوث رہنما مان لیا اور ڈھیروں امداد دے کر بحفاظت روانہ کیا۔ کوئی خوف نہیں کوئی لگی لپٹی نہیں۔ ۔۔ اور سب سے بڑھ کر سراہے جانے کی کوئی تمنا بھی نہیں۔

وائس آف امریکا سے خصوصی بات چیت کے دوران عبدالستار ایدھی نے دل کھول کر باتیں کیں۔ جس میں بچپن، نوعمری، جوانی، رومانس، شادی، جدوجہد، غربت، امارت، گلے شکوے سب ہی کچھ تھا۔
Name:  Edhi_main.jpg
Views: 74
Size:  28.0 KB
عبدالستارایدھی 1928 کو بھارت کے شہر گجرات میں بانٹوا نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ یہاں زیادہ تر افراد کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا اور ذریعہ معاش کاروبار تھا۔ چار بھائی اور دو بہنیں تھیں لیکن سب سے چھوٹے بھائی عزیز کے علاوہ سب اللہ کو پیارے ہو گئے۔ والدین کی تربیت کے باعث بچپن سے ہی سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے لیکن خاطر خواہ تعلیم حاصل نہ کرسکے۔ کہتے ہیں کہ وہ شرارتوں کے باعث تعلیم حاصل نہ کرسکے۔ چھٹی کے وقت اسکول کے باہر کھڑے ہوجاتے تھے اور دیگر لڑکوں کے ہمراہ لڑائی جھگڑا معمول تھا۔ سکول کے اساتذہ اکثر ان سے ناراض رہتے تھے اور گھر پر شکایات کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ اکثر استاد جو سوالات پوچھتے تھے ان کا جواب نہیں دیتے تھے۔ اساتذہ کی جانب سے ایک خاص حکمت عملی کے تحت انہیں کلاس کا مانیٹر بنادیا جاتا تھا۔ سکول میں بالکل دل نہیں لگتا تھا مگر گھر والوں کے دباؤ پر سکول جانا پڑتا تھا اور بالاخر دوسری جماعت کے بعد صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور تعلیم کو خیر باد کہہ دیا۔

بچپن میں دوستوں کے ساتھ درختوں پر چڑھ جاتے تھے اور ہم عمروں کو ستانے کے لئے مختلف خطرناک جانوروں کی آوازیں بھی لگاتے تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسانیت سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ رمضان اور عیدین کے مواقع پر ان کی والدہ اور دیگر میمن خواتین کھانے پینے کی چیزوں کے چھوٹے چھوٹے پیکٹ تیار کرتیں جنہیں غریبوں میں تقسیم کرنے کی ذمہ داری بھی انہیں ہی سونپی جاتی۔ وہ بتاتے ہیں کہ والدہ کی تربیت کے باعث اکثر وہ بانٹوا کے گلی کوچوں میں گھومتے رہتے اور اگر کوئی معذور یا اپاہج نظر آجاتا تو اس کی مدد کرتے۔

پٹھو گرم پسندیدہ کھیل تھا، اس میں سات چپٹی شکل کے پتھروں کو اوپر نیچے رکھ کر ایک بچہ انہیں دور سے گیند مارتا ہے اور جتنے پتھر گرتے ہیں انہیں دوبارہ رکھنا ہوتا تھا جبکہ حریف ٹیم کا کوئی کھلاڑی اس گیند کا نشانہ اگر پتھر گرانے والی ٹیم کو پتھر رکھنے سے پہلے رکھ دیتا تو وہ ٹیم ہار جاتی ہے اور اگر پتھر رکھنے میں کامیابی ہوتی ہے تو پھر کامیابی گیند مارنے والی ٹیم کے حصے میں آتی ہے۔ اس کے علاوہ کرکٹ اور گلی ڈنڈا بھی کھیلتے تھے اور دوڑکے مقابلوں میں بھی حصہ لیتے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ شروع ہی سے باغی تھے۔ ایک مرتبہ دیگر دوستوں کے ہمراہ گھر سے بھاگ گئے اور بانٹوا سے احمد آباد جا پہنچے لیکن پھر واپس گھر لوٹ آئے اور والدین کے سمجھانے پر آئندہ ایسا کام کبھی نہیں کیا ۔ بچپن میں سوچتے تھے کہ زندگی میں انسانیت کیلئے کچھ بڑا کام کرنا ہے، لیکن کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے یہ معلوم نہ تھا ۔شروع سے ہی انتہائی سادہ زندگی بسر کی، ہمیشہ سچ بولتے تھے اور محنت سے کبھی نہیں گھبرائے۔

گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے ایک کپڑے کے تاجر حاجی عبداللہ کی دکان پر نوکری بھی کی جہاں انہیں پانچ روپے ماہانہ دیئے جاتے تھے۔ دکان کا مالک دیگر لڑکوں سے زیادہ ان پر اعتماد کرتا تھا اس لئے انہیں مزید ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں اور آمدنی میں بھی اضافہ کیا گیا۔ وہ زمانہ بہت اچھا تھا چار آنے کی سیر چینی اور بیس پیسے فی سیر دودھ ہوتا تھا، اس زمانے میں دودھ لیٹرز میں نہ ملتا تھا۔

اسی دوران ہندوستان میں سامراج دم توڑنے لگا اور جنوبی ایشیا میں ایک الگ وطن کی تیاریاں ہونے لگیں۔ قائداعظم محمد علی جناح بانٹوا کے مسلمانوں سے خطاب کے لئے آئے جہاں ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ سب نے ان کی تقریر کے دوران فلک شگاف نعرے لگائے اور انہیں پارٹی فنڈز کے لئے جمع کیے گئے 35 ہزار روپے پیش کیے۔

اس دوران والد نے کہا کہ ہمیں بہتر مستقبل کیلئے پاکستان چلے جانا چاہیے اور انہوں نے برادری کے بہت سے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا ۔ چھ ستمبر 1947 کو میمن برادری کے چار ہزار افراد اوچھ جانے کے لئے سوار ہوئے۔ اس دوران پانچ روز تک سوکھی روٹی کھا کر گزارہ کرنا پڑا اور کشتیوں میں بیٹھ کر براستہ بحرہ عرب کراچی کے ساحل پر پہنچے۔ اس وقت ان کی عمر بائیس سال تھی۔

کچھ عرصہ ملیر میں رہنے کے بعد ان کے والد نے جوڑیا بازار کے ساتھ چھاپہ گلی میں ایک چھوٹا سا گھر کرائے پر لے لیا۔ میٹھادر میں ایک 13 سو روپے کا ٹکڑا لیا جو ابھی ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی کے نام پر ہے جبکہ ان کے نام صرف چھاپہ گلی کا ایک مکان ہے جس سے ان کے والدین کا جنازہ اٹھایا گیا تھا۔ بچپن سے ایمبولینس چلانا ان کا شوق تھا کیونکہ اس سے بہت اچھے کام ہوتے ہیں۔

کراچی میں آنے کے بعد جیب میں ایک پائی بھی نہ تھی اور سب سے پہلا مسئلہ یہ تھا کہ پیسہ کہا ں سے لایا جائے۔ لیکن یہ گر ماں باپ نے سکھایا تھا کہ روڈ پر کھڑے ہو کر بھیک مانگ لینا۔ یہ عادت آج تک اپنائی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ قائم ہوا اور انشاء اللہ چلتا رہے گا۔ زیادہ تر امور فیصل ایدھی کے سپرد کردیئے اور وہ احسن طریقے سے اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں اس کے علاوہ بیٹی کبریٰ بھی یتیم بچوں اور بے سہارا خواتین کی دیکھ بھال کررہی ہیں۔
Name:  Edhi_more2.jpg
Views: 69
Size:  17.5 KB
1977 میں کراچی میں فلو کی وبا پھیلی۔ طبی مراکز کی کمی کے باعث عوام شدید پریشانی کا شکار تھی۔ ایسی صورتحال میں انہوں نے ٹینٹوں میں نو ڈسپنسریاں کھولیں اور سول اسپتال میں زیر تربیت ڈاکٹرز کو بغیر تنخواہ کے کام کرنے پر آمادہ کیا۔ ادھار پر ادویات مارکیٹ سے حاصل کیں۔ اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک کاروبار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایدھی کے تمام سینٹرز پر صرف سادی ادویات ہی دی جاتی ہیں۔ خیر اس تمام تر صورتحال میں لوگوں نے کام کا جذبہ دیکھ کر انہیں عطیات دینا شروع کردیئے جن کی مالیت 37 ہزار تھی جبکہ اس ساری مہم پر خرچہ سات ہزار آیا تھا۔

ایدھی فاؤنڈیشن آج تک رجسٹرڈ نہیں کروایا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس حوالے سے حیدر آباد کی ایک عدالت میں دو صفحات پر مشتمل ڈکلریشن کے لئے ایک درخواست جمع کروائی گئی تھی جو گجراتی میں تحریرکی گئی اور اس میں اپنے مقاصد سے آگاہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے ڈکلریشن دے دی جس کے بعد انہوں نے ایک پرانی ہملٹن ایمبولینس خرید لی اور25 سال تک اس کے ذریعے انسانیت کی خدمت کرتے رہے۔ ایک چار پائی پر سوتے تھے لیکن کوئی ڈر اور خوف نہ تھا۔ یہ سب خدمات دیکھ کر لوگوں کی ہمدردی اور دلچسپی مزید بڑھی اور ان کی طرف مائل ہونے لگے۔ ایمبولیس کے ذریعے مریضوں کو گھر سے اسپتال اور اسپتال سے گھر منتقل کرتے تھے۔ ریڈکراس اور سین جون بھی گئے اور ان کے لائیو ممبر بھی بنے۔ اس دوران ادارے کو پیسے مل بھی رہے تھے اور مستحقین میں ان کی تقسیم بھی جاری تھی۔ قربانی پر لوگ جانوروں کی کھالیں بھی جمع کروا رہے تھے۔35 ، 35 ہزار کھالیں جمع ہوگئیں۔ رمضان المبارک میں فطرہ بھی دیا جا رہا تھا، لہذا انسانیت کی خدمت دن بدن بڑھتی گئی۔

کہتے ہیں کہ ہمیشہ ظلم کی مخالفت کی اور اسی باعث انہیں 'برادری بدر' بھی کیا گیا۔ ان کے بقول برادری سے نکالنے کی وجہ یہ تھی کہ میں انسان تھا اور تقسیم کو پسند نہیں کرتا تھا۔ مذہبی، برادری اور جان پہچان یہ سارے ایسے ہتھکنڈے ہیں جن سے انسانیت کا استحصال ہوتا ہے۔ آغاز میں بہت سے لوگوں نے دل کھول کر مخالفت کی، مخالفت کرنے والوں میں سب سے زیادہ سرمایہ دار تھے کیونکہ وہ فلاحی کام بھی کاروبار سمجھ کر کرتے ہیں لیکن کسی کی پروا نہیں کی اور اپنے کام سے کام رکھا اور آہستہ آہستہ پیسہ جمع ہوتا گیا جس کے باعث فلاحی کاموں کے لئے مزید جگہ بھی خرید تے رہے۔

اس کے بعد ایک سولہ ہزار تین سوروپے مالیت کی ایک نئی ایمبولینس خرید ی۔ کہتے ہیں کہ یہ جگہ لوگوں کے دل میں بسنے کی ہے، آج بھی جب لوگ عطیات جمع کروانے آتے ہیں تو یاد کرتے ہیں کہ پچاس سال قبل ایدھی نے ان کی بوڑھی ماں کو اپنی ایمبولینس میں اسپتال پہنچایا تھا۔ یہاں کے لوگ احسان کا بدلہ دینا خوب جانتے ہیں۔

اسی دوران ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں کراچی کے علاقے لیاری میں بسم اللہ بلڈنگ منہدم ہوگئی۔ وہاں ایدھی کے رضا کار امدادی کارروائیوں میں مصروف تھے کہ بھٹو صاحب پہنچ گئے۔ رضا کاروں کو کام کرتا دیکھ کر انہیں بلایا اور کہنے لگے کہ اگر میرے پاس ایسے رضا کار ہوتے تو انقلاب برپا کردیتا۔ بے نظیر بھٹو بھی اکثر بلقیس ایدھی سے ملنے آتی تھیں اور عطیات دیتی تھیں۔

ایدھی ٹرسٹ کا جتنا بھی کام پھیلا ہواہے یہ سب اللہ کا کرم ہے۔ کبھی کسی حکومت یا غیرملک سے امداد طلب نہیں کی بس عوام کے سامنے ہی جھولی پھیلائی ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے پانچ لاکھ کا عطیہ دیا لیکن وہ واپس کردیا گیا کیونکہ وہ کسی حکومت کے غلام نہیں بننا چاہتے۔ بقول ایدھی صاحب اس ملک میں صرف تین باصلاحیت حکمران رہے ہیں جن میں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور سابق صدر پرویزمشرف شامل ہیں۔ بقول ان کے صدر مشرف اچھا آدمی ہے لیکن اسے سیاست دان کبھی حکومت میں نہیں آنے دیں گے۔ ضیاء الحق نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ڈرامہ رچایا۔ اس کا رنگ مذہبی نہیں بلکہ ڈرامائی تھا۔ 73 ممالک میں گیا لیکن پاکستان جیسی قوم نہیں دیکھی اگر حکمراں مخلص مل جائیں تو پاکستان امریکا سے امداد لینے کے بجائے اسے دے سکتا ہے۔ اگر ٹیکس و زکوة میں چوری اور فضول خرچی چھوڑ دی جائے تو ہم دنیا بھر میں امداد دینے کے قابل ہو جائیں۔ صدر آصف علی زرداری نے پوچھا کہ کوئی کام ہو تو بتائیں، جواب میں کہا کہ اس ادارے کے لئے عوام ہی بہت ہیں۔ بیورو کریسی بھی بھر پور امداد فراہم کرتی ہے۔ یوایس ایڈ سمیت مختلف تنظیمیں بھی فنڈز دینے سے متعلق رابطے کرتی رہتی ہیں لیکن انہیں ہمیشہ انکار کیا۔ امریکا نے ہیلی کاپٹر دیا تھا لیکن اب وہ پرانا ہوگیا لہذا ایک اور ہیلی کاپٹر چاہیے۔

لبنان اور بیروت کی جنگ کے دوران صرف ایدھی ٹرسٹ امدادی کارروائیوں میں مصروف تھا، اس دوران ایران اور دبئی کی جانب سے امداد کی پیشکش کی گئی لیکن پھر انکار کردیا کیونکہ اس ادارے کو جو اپنی قوم دیتی ہے وہ بہت ہے۔ سوات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسپتا ل کھولا اور چارمیڈیکل سٹورز قائم کیے گئے۔ وہاں خواتین پردے کا خاص اہتمام کرتی ہیں لیکن ان کے سامنے وہ عورتیں بھی گھونگٹ اٹھا کر سلام کرتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایدھی ان کے والد سے بھی زیادہ محترم ہیں۔ الحمداللہ پاکستان میں 75 فیصد لوگ انہیں پہچانتے ہیں۔ سیلاب میں حکومت وقت نے پی ٹی وی کے ذریعے امداد کی اپیل بھی ان ہی سے کروائی۔ خدا کے فضل سے سیلاب زدگان کے لئے ایدھی کو بھی لوگوں نے دل کھول کر عطیات دیئے۔

عبدالستار ایدھی اب تک اپنے ہاتھوں سے تقریباً پونے دو لاکھ مردوں کو غسل دے چکے ہیں لیکن اب 88 سال تک عمر جا پہنچی ہے لہذا مختلف سینٹرز میں رضا کاروں کو اس کی تربیت دے دی گئی ہے۔

نوبیل پرائز کے لئے بے نظیر بھٹو کے دور میں نام بھجوایا گیا تھا لیکن انہیں اس بات سے غرض نہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہاں کے عوام کا پیار ہی سب کچھ ہے۔ بتاتے ہیں کہ کراچی سے پشاور جاتے جاتے جہاز میں پچیس سے تیس ہزار روپے جمع ہوجاتے ہیں جبکہ پشاور میں تو یہ حال ہے کہ میں اگر اپنی بچیوں کے ساتھ کہیں بیٹھ جاؤں تو خواتین اپنا سونا اتار کر بھی دینے سے گریز نہیں کرتیں۔

پٹھان لوگ اکثر ان سے پشتو میں بات کرنے لگتے ہیں کیونکہ شکل اور لباس سے وہ بھی پٹھان ہی نظر آتے ہیں۔ بتاتے ہیں کہ ستر سال سے وہ ایک ہی رنگ کا لباس زیب تن کرتے ہیں، باچا خان کی بیلچہ تحریک سے بہت متاثر تھے اور باچا خان سے متاثر ہوکر ملیشیا پہننا شروع کیا۔ انہیں باچا خان ایوارڈ بھی دیا گیا۔

مسکان بھرے چہرے سے بتاتے ہیں کہ یاد نہیں اب تک کتنے ایوارڈ حاصل کیے ہیں اور کس کس نے دیئے البتہ بیٹی کبریٰ کی الماری بھرچکی ہے۔ بچے، عورتیں، نوجوان سب ”ابو“ کہہ کر پکارتے ہیں جو اچھا لگتا ہے۔

ایک مرتبہ بلوچستان گئے تو راستے میں ڈاکو آگئے۔ لیکن جب انہوں نے پہچانا تو فوراً نہ صرف معافی مانگ لی بلکہ امدادی رقم کے بھی ڈھیر لگا دیئے اور خود انہیں بحفاظت کوئٹہ پریس کلب پہنچایا۔ اسی رات انہیں فوج نے اٹھا کر ڈی آئی خان پہنچادیا۔ فوج کا کہنا تھا کہ شرپسندوں نے اغواء کرلیا تو حکومت کو بلیک میل اور تاوان طلب کریں گے۔

وہ وزیرستان بھی گئے اور وہاں طالبان نے بھی ان سے ملاقات کی۔ طالبا ن انہیں خدائی فقیر کہتے ہیں۔

ظالموں کی تعریف ان کے نزدیک غیرمنصفانہ دولت کی تقسیم کرنے والے، مہنگائی اور غربت پھیلانے والے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایدھی ٹرسٹ کے اخراجات گھر سے بالکل الگ ہیں اورٹرسٹ کا ایک پیسہ بھی وہ ذاتی طور پر استعمال نہیں کرتے۔ انہیں چار ایوارڈ ملے جس میں شیخ زیدبن سلطان ایوارڈ بھی شامل ہے جس کی مالیت دس لاکھ روپے ہے۔ تمام ایوارڈ ز کی مالیت تقریبا 32 کروڑ روپے ہے۔ ذاتی جائیداد میں میٹھادر والا مکان جو شروع میں تیرہ سو روپے کا خریدا گیا تھا وہ بلقیس ایدھی کے نام پر ہے جبکہ چھاپہ گلی والا چھوٹا سا مکان جس سے والدین اور بہن بھائی کا جنازہ اٹھا تھا ان کے نام پر ہے۔ ابھی آٹھ جنوری کو فرٹیلائزر والے پچاس لاکھ روپے دیں گے گھر کے خرچے کے لئے، پہلے دکانیں تھیں وہاں سے بھی کرایہ آتا تھا۔ اگر اخراجات سے کچھ پیسہ بچتا ہے تو وہ بھی ایدھی ٹرسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے۔

آج بھی ایدھی ٹرسٹ کی جانب سے امریکا اور لندن میں دس، دس ہزار ڈالر فنڈز دیئے جاتے ہیں۔ دنیا کے بارہ بڑے شہروں میں ایدھی سینٹرز ہیں۔ پاکستان میں ہی 375 سینٹرز ہیں۔ سیاچین سے لے کر نگر پارکر تک ایدھی کی سولہ سو ایمبولینسز کام کررہی ہیں۔ سات ہزار ملازمین کا روز گار اس ادارے سے وابستہ ہے۔ لوگ اب تک انیس ہزار بچے ایدھی پالنے میں ڈال چکے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب پولیس والے بھی پالنے میں ڈالے جانے والے بچوں سے متعلق کسی کو تنگ نہیں کرتے۔ یہ بچے خواہشمند بے اولاد جوڑوں کو بھی دیئے جاتے ہیں۔ لیکن زیادہ بہتر ہوتا ہے کہ انہیں ماضی کے بارے نہ بتایا جائے اور اپنی اولاد بنا کر رکھا جائے تاہم اگر کسی صورت انہیں پتہ چل جائے تو ان کے اندر ایک بغاوت پھوٹ پڑتی ہے اور پھر وہ واپس ایدھی سینٹر میں آ جاتے ہیں۔

ان بچوں میں سے بہت سے اب شادی شدہ ہیں۔ گزشتہ روز ہی ایک لڑکی جس کے دو بچے ہوچکے ہیں یہاں آئی اور والدین کا پوچھنے لگی جس پراسے کہا گیا کہ ایدھی اور بلقیس ہی تمہارے ماں باپ ہیں۔ اگر شادی کے بعد کوئی یہ سمجھے کہ ان سے بدسلوکی ہورہی ہے تو ایدھی فاؤنڈیشن اس لڑکی کی پشت پناہی کرتی ہے اور اس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں تقریبا دو سو ستائس شادیاں کروائی گئی ہیں، بچیوں کو جہیز بھی دیا جاتا ہے اور زیور بھی۔ ایک بچی کی شادی پر تقریبا ایک لاکھ روپے خرچ آتا ہے جو کوئی نہ کوئی اللہ کا بندہ ادا کردیتا ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کا سالانہ خرچ تقریبا ایک ارب روپے ہے تاہم آمدنی اس سے دوگنی ہے اور یہ ادارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہے۔ اولاد سے کہا ہے کہ اب تم ہی سنبھالو۔
Name:  faisal-edhi.jpg
Views: 69
Size:  23.3 KB
عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی

ایدھی صاحب عشق کے معاملے میں دل پھینک ثابت ہوئے ہیں۔ ہنستے ہوئے بتایا کہ زندگی میں جو لڑکی بھی پسند آئی اظہار محبت کرنے میں دیر نہ کی۔ بارہ سے تیرہ لڑکیوں کو شادی کی پیشکش کرچکے ہیں جن میں سے چار نے مثبت جواب دیا اور چار وں سے شادیاں کیں۔ دو بلقیس سے پہلے اور ایک بلقیس ایدھی کے بعد۔ بلقیس ایدھی لاوارث بچوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں اور وہیں پسند آ گئیں۔ انہیں شادی کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول کرلی۔

کہتے ہیں بلقیس ایدھی بہت زیادہ پروگریسو ہیں اور انہوں نے بہت حوصلہ افزائی کی۔ "بہت اچھی مقررہ ہیں جس کا میں ہمیشہ سے معترف ہوں۔ ابھی ایک نواسے کی شادی پر تھوڑی ناراض تھیں جس کی وجہ یہ تھی کہ لڑکی غیروں میں سے تھی۔ لیکن میں نے اسے خوشی سے قبول کیا، بعد میں بلقیس بھی راضی ہوگئیں ۔ چوتھی شادی بلقیس ایدھی سے شادی کے بیس سال بعد کی جسے خفیہ رکھا مگر کچھ ہی عرصے بعد وہ ایک مولوی کے ساتھ بھاگ گئی۔ کھلکھلا کر ہنستے ہوئے بتاتے ہیں کہ ابھی تک تو انہوں نے طلاق نہیں دی لیکن مولوی کے ساتھ بھاگی ہے، اس نے جائز طریقہ نکال کر نکاح بھی کرلیا ہوگا۔

اپنی روز مرہ زندگی سے متعلق بتاتے ہیں کہ روزانہ صبح چار بجے اُٹھ جاتے ہیں، تلاوت اور ترجمہ سنتے ہیں اور پھر ناشتہ کرتے ہیں، ناشتے میں سوکھی روٹی دودھ کے ساتھ کھاتے ہیں جس کے بعد دوائی لیتے ہیں۔ 35 سال سے ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں مگر آج تک اس کا ایلوپیتھک علاج نہیں کرایا۔ آج تک ایک بھی فلم نہیں دیکھی۔ میوزک سے دلچسپی محدود ہے۔ محمد رفیع اور نورجہاں پسندیدہ سنگرز ہیں۔ سب سے پسندیدہ گانا محمد رفیع کا گایا ہوا ”اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے، کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا“ سنتے ہیں۔
Name:  Jan-05-edhi-main-pix.jpg
Views: 68
Size:  31.3 KB
سارا دن اپنے دفتر میں گزارتے ہیں، کوئی حادثہ پیش آجائے تو امدادی کارروائی کا معائنہ کرنے کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔ زندگی میں کبھی چائے نہیں پی۔ تمباکو نوشی نہیں کی۔ دوپہر کو ایک روٹی سالن کھاتے ہیں، جو بیٹی کبریٰ گھر سے بناکر بھیجتی ہے۔ بھنا ہوا گوشت مرغوب غذا ہے اور خود بھی پکا لیتے ہیں۔

بے نظیر بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے ایک مرتبہ انہیں استعمال کرنے کوشش کی گئی۔ عمران خان نے کہا کہ وہ سیاست میں آجائیں اور بے نظیر کے خلاف ساتھ دیں۔ اس سلسلے میں ایک ریٹائرڈ فوجی نے بھی دباؤ ڈالا۔ انکار پر دھمکیاں دی گئیں جس پر پہلی فلائٹ پکڑ کرمستقل لندن چلے گئے مگر جب ملکی اور غیرملکی نشریاتی اداروں سے اس کی خبر نشر ہوئی تو بہت سے لوگوں نے رابطہ کیا اور بھروسا دلایا جس پر ایک ماہ بعد ہی پاکستان واپس آگئے۔

عبدالستار ایدھی ملک میں فوجی انقلاب کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوریت ایک بوگس دھندہ ہے، اصل جمہوریت یہاں نہیں چل سکتی۔ فوجی دور میں کھانے والے کم ہوتے ہیں لیکن جمہوریت میں بہت لوٹ مار ہوتی ہے۔ اس کھیل میں مذہبی جماعتیں بھی کچھ کم نہیں ہیں، وہ مذہب کے نام پر انسانیت کو تقسیم کرتی ہیں۔

__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,516
شکریہ: 1,554
2,989 مراسلہ میں 8,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 329
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (25-03-11), ننھا بچہ (24-03-11), عدنان دانی (24-03-11)
پرانا 24-03-11, 11:38 AM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,230
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلامُ علیکم

بے شک پاکستان میں انسانیت عبدالستار ایدھی سے شروع ہوتی ہے۔ اٹھاسی سالہ عبدالستار ایدھی نہیں جانتے کہ پیسے کے پیچھے بھاگنا کیا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ آج تک کسی حکومت سے امداد نہیں لی، صرف عوامی تعاون سے 63، 64 سالوں سے ایک ایسا رفاہی ادارہ چلا رہے ہیں جس کے ماہانہ اخراجات ایک کروڑ سے زائد ہیں۔ سادہ اتنے کہ بتاتے ہیں ادارے میں امدادی رقم ڈبل آتی اور سنگل خرچ ہوتی ہے۔ نڈر ایسے کہ کوئی پروٹوکول نہیں، بدترین حالات میں بھی کوئی سیکیورٹی حصار نہیں۔ بلوچستان گئے تو ڈاکو تائب ہوگئے، فنڈز دیئے ۔ شمالی وزیرستان گئے تو طالبان نے بے لوث رہنما مان لیا اور ڈھیروں امداد دے کر بحفاظت روانہ کیا۔ کوئی خوف نہیں کوئی لگی لپٹی نہیں۔ ۔۔ اور سب سے بڑھ کر سراہے جانے کی کوئی تمنا بھی نہیں۔ بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں۔

بہت کم دُنیا میں لوگ ایسے نایاب ہوتے ہیں
جو اوروں کیلئے جیتے ہیں اپنوں کی طرح
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (25-03-11), احمد بلال (24-03-11)
پرانا 24-03-11, 02:25 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,914
شکریہ: 10,606
1,223 مراسلہ میں 3,229 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں سوچ رہا ہوں‌ ہر مشہور انسان کے بہت سے چاہنے والے اور بہت اس کے خلاف۔۔۔ عبدالستار صاحب کےخلاف کسی کو نہیں‌دیکھا۔۔۔۔ ہاں انکئ پالیسیز کے خلاف کبھی کبھا ر میڈیا بول لیتا ہے۔۔
لیکن اللہ سب کی نیت جانتا ہے۔
احمد بلال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (25-03-11), ننھا بچہ (25-03-11)
پرانا 13-05-11, 08:26 PM   #4
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 24
کمائي: 800
شکریہ: 2
20 مراسلہ میں 47 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عبدالستار صاحب سے ہمیں زبردست اختلاف ہے۔ لیکن ان کی بعض اچھائیوں کی بنا پر ان کو زیر بحث لانا اچھا نہیں سمجھتے۔
سراج آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کوئٹہ, کراچی, پہچان, پیارے, پاکستان, پسندیدہ, قائداعظم, مہنگائی, ماں, ایران, بے نظیر, بچوں, تعلیم, خواتین, خدا, دبئی, ذیابیطس, ذوالفقار علی بھٹو, رمضان, زرداری, سیاست, طلاق, طالبان, عمران خان, عشق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
گوانتاناموبے جیل میں ہونے والے مظالم کی داستان(ایک کتاب ابھی پڑھیے) پیاسا کتاب گھر 2 18-03-11 10:28 PM
ایشیائی کھیل :پاکستان نے سکواش میں بھی گولڈ میڈل جیت لیا جاویداسد خبریں 0 25-11-10 05:57 PM
پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم بھی پیچھے نہیں گلاب خان کرکٹ 5 09-05-10 03:30 AM
بھیک مشن :پاکستانیوں کے سوا کسی سے امداد نہیں لوں گا، ایدھی کوئٹہ … معروف عبدالقدوس خبریں 0 22-06-08 08:33 PM
ایران نے جوہری پروگرام کے بدلے یورپی پیکج مسترد کر دیا عبدالقدوس خبریں 0 15-06-08 08:21 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:35 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger