واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > پاکستان کے ہیروز



پاکستان کے ہیروز پاکستان کے ہیروز


علامہ محمد اسد ( Prof. Asad Leopold Weiss)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-09-10, 03:56 PM   #1
علامہ محمد اسد ( Prof. Asad Leopold Weiss)
نورالدین نورالدین آف لائن ہے 23-09-10, 03:56 PM

یہودیت چھوڑ کو اسلام قبول کرنے والے محمد اسد (سابق نام: لیوپولڈ ویز) جولائی 1900ء میں موجودہ یوکرین کے شہر لویو میں پیدا ہوئے جو اس وقت آسٹرو۔ ہنگرین سلطنت کا حصہ تھا۔
بیسویں صدی میں امت اسلامیہ کے علمی افق کو جن ستاروں نے تابناک کیا ان میں جرمن نو مسلم محمد اسد کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ اسد کی پیدائش ایک یہودی گھرانے میں ہوئی۔ 23 سال کی عمر میں ایک نو عمر صحافی کی حیثیت سے عرب دنیا میں تین سال گذارے اور اس تاریخی علاقے کے بدلتے ہوئے حالات کی عکاسی کے ذریعے بڑا نام پایا لیکن اس سے بڑا انعام ایمان کی دولت کی با‌زیافت کی شکل میں اس کی زندگی کا حاصل بن گیا۔ ستمبر 1926ء میں جرمنی کے مشہور خیری برادران میں سے بڑے بھائی عبدالجبار خیری کے دست شفقت پر قبول اسلام کی بیعت کی اور پھر آخری سانس تک اللہ سے وفا کا رشتہ نبھاتے ہوئے اسلامی فکر کی تشکیل اور دعوت میں 66 سال صرف کرکے بالآخر 1992ء میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

Name:  220px-Muhammad_Asad.jpg
Views: 58
Size:  12.9 KB

ابتدائی زندگی

لیوپولڈ ویز کے اہل خانہ نسلوں سے یہودی ربی تھے لیکن ان کے والد ایک وکیل تھے۔ محمد اسد نے ابتدائے عمر میں ہی عبرانی زبان سیکھ لی تھی۔ بعد ازاں ان کے اہل خانہ ویانا منتقل ہوگئے جہاں 14 سال کی عمر میں انہوں نے اسکول سے بھاگ کر آسٹرین فوج میں شمولیت کی کوشش کی تاکہ پہلی جنگ عظیم میں شرکت کرسکیں تاہم ان کا خواب آسٹرین سلطنت کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ختم ہوگیا۔ جنگ کے بعد انہوں نے جامعہ ویانا سے فلسفہ اور تاریخ فن میں تعلیم حاصل کی لیکن یہ تعلیم بھی ان کی روح کی تشفی کرنے میں ناکام رہی۔
1920ء میں ویانا چھوڑ کر وسطی یورپ کے دورے پر نکل پڑے اور کئی چھوٹی بڑی نوکریاں کرنے کے بعد برلن پہنچ گئے جہاں انہوں نے صحافت کو منتخب کیا اور جرمنی اور یورپ کے مؤقر ترین روزنامے "Frankfurter Zeitung" میں شمولیت اختیار کی۔ 1922ء میں وہ بیت المقدس میں اپنے چچا سے ملاقات کے لئے مشرق وسطی روانہ ہوئے۔

قبول اسلام

23 سال کی عمر میں عرب دنیا میں ٹرین میں سفر کے دوران ایک عرب ہم سفر نے لیو پولڈویز کو جانے بغیر اسے کھانے میں شرکت کی دعوت دی تو یہ خود پسند اور اپنی ذات کے خول میں گم مغربی دنیا کے اس نوجوان کے لئے بڑا عجیب تجربہ تھا۔ پھر اس نے عرب معاشرے میں باہمی تعلقات، بھائی چارے، محبت اور دکھ درد میں شرکت کو دیکھا تو حیران رہ گیا اور وہیں سے دل اسلام کی جانب راغب ہوگیا۔
مشرق وسطی سے واپسی کے بعد جرمنی میں قیام کے دوران ایک واقعے کے نتیجے میں انہوں نے قرآن مجید کا مطالعہ کیا اور سورۂ تکاثر ان کے قبول اسلام کا باعث بنی۔ انہوں نے برلن کی سب سے بڑی مسجد میں اسلام قبول کرلیا اور ان کا نام تبدیل کرکے محمد اسد رکھ دیا گیا۔ ان کے ساتھ اہلیہ ایلسا نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ محمد اسد نے اخبار کی نوکری چھوڑ کر حج بیت اللہ کا قصد کیا۔
محمد اسد نے ایک جگہ لکھا کہ "اسلام اس کے دل میں بس ایک چور کی طرح خاموشی سے داخل ہوجاتا اور پھر اس دل کو اپنا گھر بنالیتا ہے۔ چور کی تمثیل یہاں ختم ہوجاتی ہے۔ چور چپکے چپکے داخل ہوتا ہے مگر کچھ لے کر چپکے چپکے نکل جاتا ہے۔ اسلام داخل تو چپکے چپکے ہی ہوتا ہے لیکن کچھ لینے کے لئے نہیں، کچھ دینے کے لئے اور پھر ہمیشہ اسی گھر میں رہنے کے لئے"۔
انہوں نے اسلامی دنیا کو ہی اپنا مسکن منایا، انہوں نے مغرب سے دین کا ناتا ہی نہیں توڑا بلکہ جغرافیائی سفر کرکے وہ پھر اس دنیا کا حصہ ہی بن گیا جس نے اسے مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچا۔


حج بیت اللہ

بیت اللہ پر پہلی نظر پڑنے کے 9 دن بعد اسد کی زندگی ایک نئے موڑ پر آگئی، ایلسا خالق حقیقی سے جا ملیں۔ بعد ازاں اسد نے مکہ میں قیام کے دوران شاہ فیصل سے ملاقات کی جو اس وقت ولی عہد تھے اور بعد ازاں سعودی مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز السعود سے ملاقات کی۔ انہوں نے مکہ و مدینہ میں 6 سال گذارے اور عربی، قرآن، حدیث اور اسلامی تاریخ کی تعلیم حاصل کی۔

پاکستان آمد

1932ء میں وہ ہندوستان آگئے اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال سے ملاقات کی۔ 1939ء میں وہ اس وقت شدید مسائل کا شکار ہوگئے جب برطانیہ نے انہیں دشمن کا کارندہ قرار دیتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ محمد اسد کو 1945ء میں رہائی ملی۔
1947ء میں قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے اور نئی ریاست کی نظریاتی بنیادوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں انہیں پاکستان کی وزارت خارجہ کے شعبہ مشرق وسطی میں منتقل کردیا گیا جہاں انہوں نے دیگر مسلم ممالک سے پاکستان کے تعلقات مضبوط کرنے کا کام بخوبی انجام دیا۔ انہوں نے 1952ء تک اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے سفیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔


انتقال

محمد اسد نے اپنی اسلامی زندگی کے 66 سال عرب دنیا، ہندوستان، پاکستان اور تیونس میں گذارے اور آخری ایام میں اس کا قیام اسپین کے اس علاقے میں رہا جو اندلس اور عرب دنیا کا روحانی و ثقافتی حصہ تھا بلکہ آج بھی اس کی فضائیں باقی اسپین سے مختلف اور عرب دنیا کے ہم ساز ہیں۔
محمد اسد 1955ء میں نیویارک چھوڑ کر اسپین میں رہائش پذیر ہوئے۔ 17 سال کی کاوشوں کے بعد 80 برس کی عمر میں انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے خواب "قرآن پاک کی انگریزی ترجمہ و تفسیر" کو تکمیل تک پہنچایا۔ وہ 23 فروری 1992ء کو اسپین میں ہی خالق حقیقی سے جا ملے۔

محمد اسد: قیمتی ہیرا

ایک دوسرے جرمن نو مسلم ولفریڈ ہوفمین نے ان کے لئے کہا تھا کہ محمد اسد اسلام کے لئے یورپ کا تحفہ ہیں۔ جبکہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابو الاعلی مودودی نے 1936ء میں محمد اسد کے بارے میں تاریخی جملہ لکھا تھا کہ "میرا خیال یہ ہے کہ دور جدید میں اسلام کو جتنے غنائم یورپ سے ملے ہیں ان میں یہ سب سے زیادہ قیمتی ہیرا ہے"۔

نظریات، افکار، کارنامے

محمد اسد کوئی سرگرم کارکن نہ تھے لیکن فکری اعتبار سے ان کا کارنامہ بڑا واضح ہے اور اس میں چار چیزیں نمایاں ہیں: پہلی چیز مغربی تہذیب اور یہود عیسائی روایت (Judeo-Christian Tradition) کے بارے میں ان کا واضح اور مبنی برحق تبصرہ و تجزیہ ہے۔ مغرب کی قابل قدر چیزوں کے کھلے دل سے اعتراف کے ساتھ مغربی تہذیب اور عیسائی تہذیبی روایت کی جو بنیادی خامی اور کمزوری ہے اس کا نہایت واضح ادراک اور دو ٹوک اظہار ان کا بڑا علمی کارنامہ ہے۔ مغرب کے تصور کائنات، انسان، تاریخ اور معاشرے پر ان کی گہری نظر تھی اور اسلام سے اس کے تصادم کا انہیں پورا پورا شعور اور ادراک تھا۔ وہ کسی تہذیبی تصادم کے قائل نہ تھے مگر تہذیبوں کے اساسی فرق کے بارے میں انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ اسلام کے ایک مکمل دین ہونے اور اس دین کی بنیاد پر اس کی تہذیب کے منفرد اظہار کو یقینی بنانے اور دور حاضر میں اسلام کی بنیاد پر صرف انفرادی کردار ہی نہیں بلکہ وہ اجتماعی نظام کی تشکیل نو کے داعی تھے اور اپنے اس مؤقف کو دلیل اور یقین کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ اسلام کا یہ جامع تصور ان کے فکر اور کارنامے کا دوسرا نمایاں پہلو تھا۔
ان کا تیسرا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے امت کے زوال کے اسباب کا گہری نظر سے مطالعہ کیا اور اس سلسلے میں جن بنیادی کمزوریوں کی نشاندہی کی ان میں تصور دین کے غبار آلود ہوجانے کے ساتھ سیرت و کردار کے فقدان، دین و دنیا کی عملی تقسیم، اجتہاد سے غفلت اور رسوم رواج کی محکومی اور سب سے بڑھ کر قرآن و سنت سے بلاواسطہ تعلق اور استفادے کی جگہ ثانوی مآخذ پر ضرورت سے زیادہ انحصار بلکہ ان کی اندھی تقلید بھی شامل ہے۔ فقہی مسالک سے وابستگی کے بارے میں ان کی پوزیشن ظاہری مکتب فکر سے قریب تھی۔ ان کی دعوت کا خلاصہ قرآن و سنت سے رجوع اور ان کی بنیاد پر مستقل کی تعمیر و تشکیل تھی۔
محمد اسد کے کام کی اہمیت کا چوتھا پہلو دور جدید میں اسلام کے اطلاق اور نفاذ کے سلسلے میں ان کی حکمت عملی اور اس سلسلے میں تحریک پاکستان سے ان کی وابستگی اور پاکستان کے بارے میں ان کا وژن اور عملی کوششیں ہیں جو قومی تعمیر نو کے ادارے "عرفات" کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی نگارشات، ان کی تقاریر اور پھر ان کی دو کتابیں Islam at the Crossroads اور Road to Mecca ہیں۔ عرفات کے زمانے میں یہ مضامین دور حاضر میں نفاذ اسلام کا وژن اور اس کے لئے واضح حکمت عملی پیش کرتے ہیں۔ چند امور پر اختلاف کے باوجود محمد اسد کی فکر اور دور جدید کی اسلامی تحریکات کی فکر میں بڑی مناسبت اور یکسانی ہے حالانکہ وہ ان تحریکوں سے کبھی بھی عملا وابستہ نہیں رہے۔

تصنیفات

قرآن محمد اسد کی فکر کا محور رہا اور حدیث و سنت کو وہ اسلامی نشاۃ ثانیہ کی اساس سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے تمام بڑے قیمتی مضامین کے باوصف ان کا اصل علمی کارنامہ قرآن پاک ترجمہ و تفسیر اور صحیح بخاری کے چند ابواب کا ترجمہ و تشریح ہے۔ ان کی معروف کتب میں Islam at the Crossroads، Road to Mecca اور The Principles of State and Government in Islam شامل ہیں۔

Name:  220px-Roadtomakkah.jpg
Views: 56
Size:  10.7 KB
محمد اسد کی مشہور کتاب "شارع مکہ"
Road to Mecca علمی، ادبی، تہذیبی ہر اعتبار سے ایک منفرد کارنامہ اور صدیوں زندہ رہنے والی سوغات ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک کتاب This Law of Ours بھی تحریر کی۔

محمد اسد اور پاکستان

محمد اسد کا دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان سے انتہائی گہرا اور قریبی تعلق تھا اور وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے سفیر بھی رہے۔
محمد اسد پاکستان اور تحریک پاکستان کے اصل مقاصد اور اہداف کا بڑا واضح ادراک رکھتے تھے اور آج کی پاکستانی قیادت کے لئے اسد کی تحریروں میں بڑا سبق اور پاکستانی قوم کے لئے عبرت کا پیغام ہے۔ محمد اسد نے فروری 1947ء میں اپنے پرچے "عرفات" میں تصور پاکستان کو اس طرح بیان کیا اور ماضی میں ابھرنے والی کئی اصلاح تحریکوں کا ذکر کرتے ہوا لکھا کہ : "تحریک پاکستان اس طرح کی تمام صوفیانہ تحریکوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ یہ کسی روحانی رہنما پر لوگوں کے اعتقاد سے جذبہ و توانائی حاصل نہیں کرتی، بلکہ اس کا یہ ادراک، جو بیشتر معاملات میں ہدایت دیتا ہے اور علمی حلقوں میں صاف صاف سمجھا جاتا ہے، کہ اسلام (پورے نظام زندگی کی تعمیر نو کی) ایک معقول تدبیر ہے اور اس کی سماجی و اقتصادی اسکیم انسانیت کو درپیش تمام مسائل کا حل فراہم کرسکتی ہے اور اس کا واضح تقاضا یہ ہے کہ اس کے اصولوں کی پیروی کی جائے۔ نظریۂ پاکستان کا یہ علمی پہلو اس کا سب سے اہم پہلو ہے۔ اس کی تاریخ کا ہم کھلی آنکھوں سے مطالعہ کریں تو ہم یہ پائیں گے کہ اپنے اولین دور میں اسلام کی فتح کی وجہ اس کی انسان کی فہم، دانش اور عقل عام سے اپیل ہے۔ تحریک پاکستان، جس کی نظیر جدید مسلم تاریخ میں موجود نہیں ہے، ایک نئے اسلامی ارتقا کا نقطۂ آغاز ہوسکتی ہے، اگر مسلمان یہ محسوس کریں، اور جب پاکستان حاصل ہوجائے تب بھی محسوس کرتے رہیں کہ اس تحریک کا حقیقی تاریخی جواز اس بات میں نہیں ہے کہ ہم اس ملک کے دوسرے باشندوں سے لباس، گفتگو یا سلام کرنے کے طریقے میں مختلف ہیں، یا دوسری آبادیوں سے جو ہماری شکایات ہیں اس میں یا ان لوگوں کے لئے جو محض عادتا خود کو مسلمان کہتے ہیں، زیادہ معاشی مواقع اور ترقی کے امکانات حاصل کریں، بلکہ ایک سچا اسلامی معاشرہ قائم کرنے میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسلام کے احکامات کو عملی زندگی میں نافذ کرنا ہے"۔ (عرفات، فروری 1947ء صفحہ 863 تا 865)
اسی رسالے میں آگے لکھتے ہیں کہ "ہم پاکستان کے ذریعے اسلام کو صرف اپنی زندگیوں میں ایک حقیقت بنانا چاہتے ہیں۔ ہم اس لئے پاکستان چاہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک اس قابل ہو کہ لفظ کے وسیع تر مفہوم میں ایک سچی اسلامی زندگی بسر کرسکے۔ اور یہ بالکل ناممکن ہے کہ کوئی شخص اللہ کے رسول کی بتائی ہوئی اسکیم کے مطابق زندگی گذار سکے جب تک پورا معاشرہ شعوری طور پر اس کے مطابق نہ ہو اور اسلام کے قانون کو ملک کا قانون نہ بنائے"(عرفات، فروری 1947ء صفحہ 91
آخری پیرے میں انہوں نے پوری تحریک پاکستان کا جوہر اور ہدف بیان کرتے ہوئے لکھا کہ "مسلمان عوام وجدانی طور پر پاکستان کی اسلامی اہمیت کو محسوس کرتے ہیں اور واقعی ایسے حالات کی خواہش رکھتے ہیں جن میں معاشرے کے ارتقا کا نقطہ آغاز "لا الہ الا اللہ" ہو"۔ (عرفات، فروری 1947ء صفحہ 925)


کتب
محمد اسد: یورپ کا اسلام کے لئے تحفہ : مصنف محمد اکرام چغتائی

حوالہ جات
ترجمان القرآن، اگست 2006ء اس مضمون کا بیشتر حصہ ماہنامہ ترجمان القرآن سے لیا گیا ہے۔

بہ شکریہ وکی پیڈیا | محمد اسد

__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔

نورالدین
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 206
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-09-10), مرزا عامر (23-09-10), اویسی (25-09-10)
پرانا 23-09-10, 04:24 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default ہم نے کشمیر کیسے کھویا؟ (علامہ محمد اسد)

محمد اسد امت مسلمہ کی ایک جانی پہچانی شخصیت تھی جس نے علمی اور فکری میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور پاکستان کے قیام اور تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس جرمن نومسلم نے جب اسلام کے دائرے میں قدم رکھا تو پھر اس کی زندگی کا مقصد اسلام اور امت مسلمہ کی خدمت ہوگیا۔ قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں شریک تھا اور تقسیم ملک کے بعد اس نے بھی دوسرے لٹے پٹے مہاجرین کی طرح اپنے خوابوں کی سرزمین کی طرف مراجعت کی۔ پاکستان ایک حقیقی اسلامی ریاست بنے، اس کے دل کی آرزو تھی۔ اس نے اس وقت کی حکومت پنجاب کے ایک اعلیٰ افسر کی حیثیت سے پاکستان کی نظریاتی تعمیر کے لیے ایک روشن کردار ادا کیا، اور پھر سفارت کے محاذ پر پاکستان کی ترجمانی کرتا رہا۔ افسوس کہ بعد کی پاکستانی قیادت نے اسے مایوس کیا۔

محمداسد کی خودنوشت داستان شاہراہِ مکّہ فکرودانش اور علم و ادب کا ایک شاہکار ہے۔ بدقسمتی سے اس کی دوسری جِلد نامکمل رہی اور ان کے نوٹس کی مدد سے موصوف کی بیوہ نے مرتب کی ہے، جو انگریزی سے بھی پہلے اردو میں جناب محمد اکرام چغتائی کی محنت سے بندہ صحرائی کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ اس کا ایک حصہ کراچی اپڈیٹس کے قارئین کی نذر کر رہے ہیں۔ اس سے ایک طرف ان جذبات اور مقاصد کا صحیح صحیح ادراک کیا جاسکتا ہے جو قیامِ پاکستان کا اصل محرک تھے تو دوسری طرف قیادت کی نااہلی اور دشمنوں کی عیاری کی ایک کرب ناک داستان بھی سامنے آتی ہے۔ تیسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں نے بھارت کی غلامی کو کبھی بھی قبول نہیں کیا اور آج بھی وہ اس کے تسلط سے نجات پانے کے لیے جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کس طرح۱۹۴۷-۴۸ءمیں ہماری سیاسی قیادت نے دھوکا کھایا اور جیتی ہوئی بازی ہار گئی اور کس طرح آج کے حکمران طبقے پھر انھی دشمن قوتوں کے چکمے میں آنے کے لیے بے تاب ہیں۔


ہم نے کشمیر کیسے کھویا؟ (علامہ محمد اسد)

Name:  kashmir1948.gif
Views: 52
Size:  4.3 KB


اکتوبر۱۹۴۷ءکی صبح کو نواب افتخار حسین ممدوٹ نے مجھے اپنے دفتر بلایا۔ اس وقت ان کی عمر۵۴سال کے لگ بھگ تھی۔ درازقد، صحت مند، خاموش طبع اور صاف ستھرے ذہن کے مالک اور تقسیمِ ہند سے قبل وہ ایک چھوٹی سی ریاست یا بالفاظ دیگر جاگیر کے کرتا دھرتا تھے۔ یہ جاگیر سترھویں صدی عیسوی [ان کے آبا کو] میں ایک مغل حکمران نے دی تھی۔ نواب صاحب تحریکِ پاکستان کے اکابرین میں شامل رہے اور اپنی ذاتی دولت کا بڑا حصہ اس تحریک کی نذر کر دیا۔ یہ جاگیر مشرقی پنجاب میں واقع تھی، چنانچہ تقسیم کے وقت اسے ہندستان ہی میں چھوڑ آئے اور لاہور آکر یہاں ایک متوسط درجے کے گھر میں سکونت پذیر ہوگئے۔ ان کی وفاداری اور راست بازی کے پیش نظر محمدعلی جناح نے پاکستان کے قائم ہوتے ہی انھیں مغربی پنجاب کا پہلا وزیراعلیٰ مقرر کر دیا۔ اس بنا پر انھیں قائداعظم کے قریب ترین رفقا میں شمار کیا جانے لگا۔

جونہی میں ان کے دفتر میں داخل ہوا، ممدوٹ صاحب رسمی تکلفات کی پروا کیے بغیر کہنے لگے: ”اسد صاحب! میرے خیال میں اب ہمیں نظریاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام اٹھانے چاہییں۔ آپ نے ان کے بارے میں تقریراً اور تحریراً بہت کچھ کیا۔ اب آپ کیا تجویز کرتے ہیں؟ کیا ہمیں وزیراعظم سے رجوع کرنا چاہیے؟“
کئی روز سے مجھے ایسے سوال کاانتظار تھا، چنانچہ میں نے پہلے ہی سے اس کا جواب سوچ رکھا تھا:”ابھی مرکزی حکومت نے ان مسائل کا ذکر نہیں کیا، اس لیے نواب صاحب! آپ ہی اس ضمن میں پہل کیجیے۔ میری راے میں آپ ہی کو پنجاب میں ایک ایسا خصوصی ادارہ قائم کرنا چاہیے، جو ان نظریاتی مسائل کو زیربحث لاسکے، جن کی بنیاد پر پاکستان معرضِ وجود میں آیا ہے۔ خدا نے چاہا تو آیندہ حکومتِ کراچی بھی اس اہم فریضے کی جانب متوجہ ہوگی۔ اس وقت وہ اپنی خارجہ پالیسی کو تشکیل دینے میں مصروف ہے۔ ان حالات میں شاید وزیراعظم یا قائداعظم اِدھر زیادہ توجہ نہ دے سکیں“۔

نواب صاحب فوری قوتِ فیصلہ کی صلاحیت کے مالک تھے، چنانچہ انھوں نے مجھ سے اتفاق کرتے ہوئے پوچھا: ”آپ کے اس مجوزہ ادارے کا کیا نام ہونا چاہیے؟“
میں نے جواباً عرض کیا: ”اس کا نام ”محکمہ احیاے ملّت اسلامیہ‘ ‘مناسب رہے گا، کیونکہ اس سے ہمارے مقصد کی بھرپور ترجمانی ہوگی، یعنی صحیح اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنی معاشرتی زندگی اور فکر کی تعمیرنو“۔
ممدوٹ صاحب نے بلاتوقف کہا: ”بالکل درست، ایسا ہی ہوگا۔ آپ اس ادارے کے قیام کا منصوبہ اور اس کے اخراجات کا ایک تخمینہ تیار کیجیے۔ آپ کو سرکاری طور پر اس ادارے کا ناظم مقرر کیا جاتا ہے اور آپ کی ماہوار تنخواہ شعبہ اطلاعات کے ناظم جتنی ہوگی۔ مجھے امید ہے، آپ اسے قبول کرلیں گے“۔

مجھے امید نہیں تھی کہ اتنی جلدی فیصلہ ہوجائے گا، لیکن نواب آف ممدوٹ کے فیصلوں کا یہی انداز تھا۔ چند دنوں کے اندر اندر اس ادارے کا رسمی میمورنڈم تیار ہوگیا۔ اس کے اخراجات کے تخمینے پر بحث ہوئی۔ شعبہ مالیات کے سربراہ کے صلاح مشورے سے یہ منظور ہوگیا، اور سرکاری اطلاع نامہ بھی جاری کر دیا گیا۔ یوں دیکھتے دیکھتے محکمہ احیا ملّت اسلامیہ کا قیام عمل میں آیا۔ پوری اسلامی دنیا میں یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے پہلا ادارہ تھا۔
میں نے لاہور کے بعض معروف علماے دین بالخصوص مولانا داود غزنوی امیرجماعت اہلِ حدیث سے رابطہ قائم کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ ایسے دو اصحاب کے نام بتائیں جو میرے تحت کام کرسکیں، عربی اچھی جانتے ہوں اور میری آیندہ کی تجاویز کو عملی شکل دینے میں جن ضروری حوالوں کی ضرورت پڑے، انھیں احادیث کے ضخیم مجموعوں میں سے تلاش کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ جلد ہی ایسے دو نوجوان اور باصلاحیت علما دستیاب ہوگئے اور انھیں یہ کام تفویض کردیا گیا۔ علاوہ ازیں مجھے پنجاب یونی ورسٹی کے ایک پرجوش طالب علم کی جزوقتی خدمات بھی حاصل ہوگئیں۔ دفتر کے دیگر انتظامی اور مالیاتی امور کو بحسن و خوبی نبٹانے کے لیے مجھے اپنے قریبی دوست ممتاز حسن کا تعاون حاصل تھا، جو مغربی پنجاب کے شعبہ مالیات کے ایک اہم عہدے پر فائز تھے اور بعد میں اس کے سربراہ مقرر ہوگئے۔

اب میں باقاعدہ طور پر سرکاری ملازم تھا، اس لیے مجھے دو رویہ درختوں کے ایک خوب صورت علاقے چمبہ ہاوس میں بلاکرایہ گھر بھی مل گیا (یہ لین مہاراجا آف چمبہ کے نام سے موسوم تھی۔ یہ ریاست کوہِ ہمالیہ کے دامن میں واقع تھی اور تقسیم ہند سے پہلے مہاراج کا یہاں محل تھا)۔ اس گھر کے اردگرد چاروں طرف چھوٹا سا باغ تھا۔ یہ ایک تجارت پیشہ ہندو کی ملکیت تھا، جو ہندستان نقل مکانی کر گیا تھا۔ ممکن ہے،وہاں اسے کسی ایسے مسلمان کا گھر مل گیا ہو، جو اپنا سب کچھ چھوڑچھاڑ کر پاکستان آگیا ہو۔ نظربندی کیمپ سے میری رہائی کے بعد میرا بیٹا طلال کیتھولک اسکول میں بطور اقامتی طالب علم زیرتعلیم تھا۔ یہ لاہور کا اعلیٰ ترین ادارہ تھا جس کو آئرلینڈ کے ڈومینیکن چلا رہے تھے۔ اب میں اپنی بیوی کے ساتھ لاہور ہی میں مستقلاً رہایش پذیر تھا،اس لیے طلال اس گھر میں منتقل ہوگیا اور یہیں سے ہر روز اسکول جانے لگا۔ اب میرے لیے یہ نئی صورت حال خاصی اطمینان بخش تھی۔

۳۰ جنوری ۱۹۴۸ءکی صبح کو میں دفتر جانے کے لیے بذریعہ کار گھر سے نکل ہی رہا تھا (میں نے ایک متروکہ کار اپنے نام الاٹ کرا لی تھی) کہ اپنے ہمسائے اور دوست سرسکندر حیات خاں کے بھتیجے سردار شوکت حیات خاں سے میری ملاقات ہوگئی۔ وہ اس وقت خاصے پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ انھوں نے بتایا: ”میں نے ابھی ریڈیو پر یہ خبر سنی ہے کہ گاندھی کو قتل کردیا گیا ہے۔ خدا کاشکر ہے کہ قاتل کوئی مسلمان نہیں ہے“___ میں اس کی پریشانی میں برابر کا شریک تھا۔ ہم دونوں جانتے تھے کہ اگر قتل کرنے والا مسلمان ہوتا، تو ہندستانی حکومت اپنی مسلمان رعایا کے ساتھ کیا سلوک کرتی۔ بہرحال چند گھنٹوں بعد آل انڈیا ریڈیو نے واضح بیان جاری کردیا کہ گاندھی کا قاتل راشٹریہ سیوک سنگھ کا رکن ہے۔ یہ انھی متعصب ہندووں کی جماعت تھی، جس نے ڈلہوزی کے مسلمانوں کا قتل عام بھی کیا تھا۔

محکمہ احیاے ملّت اسلامیہ کا کام آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ ہم زکوٰةاور عشر کے اہم موضوع پر پورے انہماک سے تحقیق کر رہے تھے، کیونکہ کسی بھی اسلامی مملکت میں شرعی اعتبار سے محصولیات کی بنیاد انھی دو پر ہے۔ ابھی تلاش و تفحص کا یہ مرحلہ طے ہو رہا تھا کہ ممدوٹ صاحب نے دوبارہ اپنے دفتر بلایا۔ میرے داخل ہوتے ہی وہ حسب معمول کسی تکلف کے بغیر گویا ہوئے: ”میں نے ابھی ابھی آپ کا مضمون ”اسلامی دستورسازی کی جانب‘ “پڑھا ہے، جو عرفات کے تازہ شمارے میں شائع ہوا ہے۔ آپ انھی خطوط پر قدرے شرح و بسط کے ساتھ ایک میمورنڈم تیار کیجیے۔ میں اسے مغربی پنجاب کی حکومت کی جانب سے شائع کراوں گا اور اس کو دیکھ کر ممکن ہے، مرکزی حکومت بھی اس جانب متوجہ ہو۔“ چنانچہ ۱۹۴۸ءمیں میرا یہی انگریزی مضمون مع اردو ترجمہ مغربی پنجاب کی حکومت کی زیرنگرانی طبع ہوا۔ کچھ ہفتوں بعد وزیراعظم کی جانب سے مجھے کراچی آنے کا پیغام موصول ہوا۔

لیاقت علی خاں سے یہ میری پہلی ملاقات نہیں تھی۔ میں قیامِ پاکستان سے قبل ان سے گاہے بگاہے ملتا رہتا تھا۔ ان سے جب بھی گفتگو کا موقع ملتا، وہ کھلے ذہن اور پوری توجہ سے میری باتیں سنتے اور ساتھ ساتھ متواتر سگریٹ نوشی کرتے رہتے (میں نے جب بھی انھیں دیکھا، انھوں نے اسٹیٹ ایکسپریس کے ۰۵سگریٹوں کا پیکٹ ہاتھ میں پکڑا ہوتا یا ان کے میز پر پڑا رہتا)۔ اس ملاقات میں بھی وہ سگریٹ سے سگریٹ سلگائے جا رہے تھے۔ انھوں نے مجھے بھی سگریٹ پیش کیا، چائے منگوائی اور مجھے اسلامی دستور پر قدرے تفصیل سے لکھنے کا مشورہ دیا۔ ہماری ابتدائی دو ملاقاتوں میں بھی وہ اس اہم مسئلہ پر سنجیدگی سے گفتگو کرتے تھے۔ انھوں نے سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ”لیکن ہم اس موقع پر خود دستورسازی کا عمل شروع نہیں کرسکتے۔ ہمیں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ کشمیر پر ہندستان نے قبضہ کرلیا ہے اور ہمارے پٹھان بھائیوں کی سری نگر پر قبضہ کرنے کی کوشش ناکام ہوچکی ہے۔ یہ بھی امرمسلّمہ ہے کہ فوجی اعتبار سے ہندستان ہم سے بہت مضبوط ہے۔ ہم تو ابھی حکومتی مشینری کے کل پرزے درست کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے لیے وقت اور سعی پیہم کی ضرورت ہے۔ ہم ایک ساتھ سارے کام شروع نہیں کرسکتے۔ میں مانتا ہوں کہ دستور سازی کا عمل اہم اور دور رس نتائج کا حامل ہے، لیکن اسے بھی فی الحال موخر کرنا پڑے گا۔“

میں وزیراعظم کی اس گفتگو سے متاثر ہوا، کیونکہ انھوں نے بلاتکلف حکومت کو درپیش تمام مسائل کا کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ میں جانتا تھا کہ میری طرح وہ بھی پاکستان کے اسلامی تشخص کو اجاگر کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے، لیکن ابھی حالاتِ حاضرہ کے دباو کے تحت اِدھر توجہ دینے سے گریز کرر ہے تھے۔ میں نے ان کے موقف سے اتفاق کیا اور رخصت ہوتے وقت انھوں نے مجھے کہا: ”فی الحال ہمیں خود کو اس مسئلے پر سوچ بچار کرتے رہنا چاہیے۔“

اس کے بعد کابینہ کے سیکرٹری چودھری محمدعلی سے کئی ملاقاتیں ہوئیں اور مجھے اندازہ ہوا کہ حکومت کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ان میں سب سے بڑا مسئلہ معاشی استحکام کا ہے۔ انھوں نے بتایا: قائداعظم نے امیرترین مسلمان حکمران نظام حیدرآباد دکن سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان کو سونے چاندی کی شکل میں چند لاکھ پاونڈ سٹرلنگ ادھار دیں اور انھیں اپنے نام پر ہی بنک میں جمع کرا دیں، تاکہ پاکستانی کرنسی کو تحفظ مل سکے۔ لیکن نظام دولت کے انبار کو اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں، اس لیے انھوں نے قائداعظم کی درخواست کو رد کر دیا ہے۔ چند ماہ بعد ہی ہندستان نے حیدرآباد ریاست کی خودمختار حیثیت ختم کر کے اسے اپنے ملک کا حصہ بنا لیا اور نظام کے سونے چاندی کے تمام ذخیرے بھی ہندوستانی حکومت کے تصرف میں چلے گئے۔ نظام کے ساتھ ساتھ خود ان کی آل اولاد اور پاکستان بھی ہمیشہ کے لیے ان خزانوں سے محروم ہوگئے۔

جب میں چودھری محمدعلی سے گفتگو کر رہا تھا، معاً مجھے نظام کے ذاتی خزینوں کی یاد آگئی۔ ۱۹۳۹ءکو مَیں دوسری بار حیدرآباد گیا تھا اور اس وقت ریاست کے وزیرمالیات نے مجھے اس خزانے کا صرف ایک حصہ دکھایا تھا۔ متعدد کمروں میں قطار اندر قطار صندوق رکھے تھے اور یہ سب سونے اور قیمتی پتھروں سے بھرے پڑے تھے۔ ہیرے جواہرات سے بھرے لوہے کے تھال فرش پر رکھے تھے۔ مال و دولت کا ایک ناقابلِ یقین اور مردہ ڈھیر، جو ایک فانی شخص کی مریضانہ اور عجیب وغریب حرص کا نمونہ تھا۔

لیاقت علی خاں نے اپنی گفتگو میں آزادیِ کشمیر کی جس جدوجہد کا ذکر کیا تھا، وہ ہمیشہ میری اور ہرپاکستانی کی سوچ پر غالب رہی ہے۔ اس کی جغرافیائی، نسلی اور مذہبی وضع قطع کے باعث اس حسین و جمیل سرزمین کو لازماً پاکستان کا حصہ بننا تھا۔ یہاں کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے۔ تمام بڑے دریا (سندھ، جہلم، چناب اور راوی) مغربی پنجاب کی زمینوں کو سیراب کرتے ہیں اور یہاں کی معیشت کا انحصار مکمل طور پر انھی دریاوں پر ہے۔ ہندستانی حکومت اور مہاراجا کے مابین اقرارنامہ کی وجہ سے ریڈکلف نے صریحاً دھوکے بازی سے مسلمانوں کی اکثریت کا ضلع گورداسپور ہندستان کے حوالے کر دیا۔ ریڈکلف کی یہ ”نوازش‘ ‘تقسیم ہند کے طے شدہ بنیادی اصول کی خلاف ورزی تھی اور اسے کوئی پاکستانی تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اس وقت پاکستان اپنی سربریدہ فوج کے سبب ہندستان سے جنگ کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا، اس لیے قائداعظم نے کسی فوجی مداخلت کے امکان کو بالکل رد کر دیا۔ حکومت پاکستان کی اس واضح پالیسی کے بعد صوبہ سرحد اور افغانستان کے ملحقہ علاقوں کے پٹھانوں کے قبائل پاکستان کے نام پر کشمیر کو فتح کرنے چل پڑے۔

اکتوبر ۷۴۹۱ءمیں محسود، وزیری اور آفریدی قبیلوں کے بڑے بڑے جتھوں نے کشمیر کی سرحد عبور کرکے بارہ مولا اور مظفرآباد پر بلامقابلہ قبضہ کرلیا۔ سری نگر کے اردگرد جو فوج تعینات تھی، اس میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ انھوں نے بھی بغاوت کردی اور پٹھان بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر آگے بڑھنے کو تیار ہوگئے۔ قبائلیوں کی پیش قدمی جاری تھی اور سری نگر تک پہنچنا انھیں آسان دکھائی دے رہا تھا، لیکن اس دوران میں ایک تکلیف دہ واقعہ وقوع پذیر ہوگیا۔ یہ قبائل اپنی صدیوں پرانی غارت گری کی جبلت پر قابو نہ پاسکے اور سری نگر کی جانب قدم بڑھانے کے بجاے انھوں نے مظفرآباد کے شہریوں کو لوٹنا شروع کر دیا۔ دو دن تک لوٹ مار کا یہ بازار گرم رہا۔ یہ بڑا نازک وقت تھا، جسے ان قبائلیوں نے ضائع کر دیا۔ چنانچہ اس عرصے میں ماونٹ بیٹن اور جواہر لال نہرو کی ملی بھگت سے جوابی حملے کے انتظامات مکمل کرلیے گئے۔ نئی دہلی میں برطانوی فوج کے تعاون سے ہندووں اور سکھوں پر مشتمل فوجی دستوں کو جلدی جلدی منظم کیا گیا۔ انھیں ہتھیار فراہم کیے گئے اور ایک ہلکے توپ خانہ کا بھی انتظام کر دیا گیا، تاکہ وہ سری نگر پر قبضہ کرکے وہاں کے ہوائی اڈے کو بھی اپنے دائرہ اختیار میں لے آئیں۔ اس طرح فوجی اور غیرفوجی جہازوں کے ذریعے ہندستانی فوج کی خاصی بڑی تعداد کو سری نگر پہنچا دیا گیا، جہاں سے وہ ریاست کشمیر کے دوسرے حصوں پر بھی اپنا تسلط جما لیں۔ آہستہ آہستہ پٹھانوں کو نکال باہر کیا گیا اور پھر ان کا جذبہ جہاد مدہم پڑتے پڑتے ختم ہوگیا۔

تاہم کشمیر کی جنگ ختم نہیں ہوئی۔ اسی اثنا میں نئے قبائلی مجاہد اور ناگزیر طور پر پاکستانی فوج کے دستے بھی اس جنگ میں شامل ہوگئے۔ ہندستان نے وادیِ کشمیر پر قبضہ جمائے رکھا اور سرحد کے ساتھ ساتھ دور تک پناہ گاہیں اور خندقیں بنالیں۔ آج تک ہندستان کشمیر کے اس حصے پر قابض ہے، جو گلگت سے لداخ اور کارگل کے برفانی پہاڑوں تک پھیلا ہوا ہے۔ بالآخر پاکستان مسئلہ کشمیر کو مجلس اقوام متحدہ میں لے گیا،
(یہاں مضمون نگار کو اشتباہ ہوا ہے، اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ بھارت لے کر گیا تھا)

جہاں استصواب رائے کی قرارداد منظور کی گئی، جو اس علاقے کی قسمت کا فیصلہ کرے گی۔ حکومت ہندستان نے اس قرارداد کو بڑی بے دلی سے قبول کیا، کیونکہ یہ کھلی ہوئی حقیقت تھی کہ اس قرارداد پر عمل درآمد کا نتیجہ پاکستان کی فتح کی صورت میں نکلے گا۔ چنانچہ ہندستان حیلے بہانے سے بار بار اس مسئلے کو ملتوی کرتا رہا۔ اب یہی مسئلہ کشمیر، پاکستان اور ہندستان کے اچھے ہمسایہ ممالک جیسے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ دونوں ملکوں کے سپاہی خندقوں میں ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں



بہ شکریہ karachiupdates ہم نے کشمیر کیسے کھویا؟ (علامہ محمد اسد)

Last edited by نورالدین; 24-09-10 at 05:32 PM. وجہ: نمبرز کی درستگی و خاص نکات زیر خط
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-09-10), منتظمین (23-09-10), مرزا عامر (23-09-10), اویسی (25-09-10)
پرانا 23-09-10, 06:02 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default


3/4/2009 کو روزنامہ جنگ میں شائع شدہ
ڈاکٹر عبدالقدیر کا ایک کالم جس میں انہوں نے نظام تعلیم کے حوالے سے علامہ محمد اسد کی چند یادیں شیئر کی ہیں ۔ ۔۔



بنیادی تعلیم ۔ مزید تبصرہ,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان
اپنے پچھلے کالم ”تعلیم، پرانی خوشگوار یادیں“ میں میں نے اپنے تعلیمی نظام میں تہذیب و تمدن کی اہمیت پر روشنی ڈالی تھی اور توجہ دلائی تھی کہ کس طرح ہم اپنے پرانے ،قدیم سنہری ورثہ کو نظرانداز کر کے ہنس کی چال چلنے کی جدوجہد میں لگ گئے ہیں ۔ اسی سلسلے میں آپ کی خدمت میں دو نہایت اہم واقعات بیان کرنا چاہتا ہوں جن سے ہمیں قومی ورثہ، تہذیب و تمدن کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا۔
(۱) سوئے مکہ یا مکہ کی راہ میں کے مشہور مصنف و نو مسلم محمد اسد جو پہلے یہودی تھے اور لیو پولڈ وائس (Leopold Weiss ) کے نام سے جانے جاتے تھے اور بعد میں نہایت مشہور عالم دین کے طور پر سامنے آئے انہوں نے اپنی اوپر بیان کردہ کتاب میں ایک واقعہ بیان کیا ہے جو ہمارے سربراہان نظامِ تعلیم کی آنکھیں کھولنے کو کافی ہے۔ وہ پہلے سعودی عرب میں بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود کے بہت ہی قریبی دوست بن گئے تھے اور ان کی مجلس کا حصہ تھے ۔ وہ مغربی ممالک کو ابن سعود کی اہلیت وضرورت کے بارے میں جرمنی کے مشہور اخبار میں مضامین لکھ کر آگاہ کرتے تھے ۔اپنے صحافتی فرائض کی ادائیگی میں انہوں نے تمام مسلم ممالک کا دورہ کیا ، عربی زبان پر مقامی لوگوں کی طرح مہارت حاصل کی اور کلام مجید کا نہایت سلیس ترجمہ اور تفسیر انگریزی زبان میں تیارکر کے شائع کرائی، انہوں نے اپنی کتاب میں تذکرہ کیا کہ جب وہ ایران گئے تو انہیں یہ دیکھ کرنہایت تعجب اور خوشی ہوئی کہ عام آدمی یعنی ماشکی ، قصاب، قہوہ خانے والے شام کو بیٹھ کر حافظ، سعدی، جامی اور رومی وغیرہ کے کلام سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور ان لوگوں کو اپنے ان عالموں کا کلام زبانی یاد تھا جبکہ انسان یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ مغربی ممالک میں عام لوگ تو کیا بلکہ اوسط تعلیم یافتہ لوگ بھی شیکسپیئر،ورڈزورتھ ، بائرن ، ٹینی سن یا گوئٹے جیسے مشہور شاعروں ادیبوں سے کچھ واقفیت رکھتے ہوں۔
ان میں ہی محمد اسد کے بارے میں اہم واقعہ بیان کرناچاہتا ہوں۔ ابن سعود کی قربت کی وجہ سے بہت سے درباری ان کے حاسد ہو گئے تھے اور بادشاہ کے کان بھرنے لگے تھے۔ اسد کو جب یہ بھنک پہنچی تو انہوں نے ایک دن ابن سعود سے کہا کہ لوگ مجھے عیسائی یا یہودی جاسوس ہونے کا شبہ کر رہے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ملک چھوڑ دوں تاکہ بادشاہ اس بہتان بازی سے محفوظ رہیں، ابن سعود نے کہا کہ محمد اسد میں نے بھی یہ باتیں سنی تھیں لیکن ایک دن میں نے مسجد نبوی میں خود خواب میں تم کو اذان دیتے دیکھا ہے ۔ اللہ کی قسم جو شخص مسجد نبوی میں اذان دے رہا ہو نہ ہی وہ غیر مسلم ہو سکتا ہے اور نہ ہی وہ ہمارے خلاف جاسوسی کر سکتا ہے ۔ پاکستان کے قیام کے بعد محمد اسد نے پاکستانی شہریت حاصل کر لی تھی جو ان کی وفات تک قائم رہی اور وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مندوب کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دیتے رہے تھے اور مسلم ممالک کی آزادی کے لیے بہت پر اثر تقاریر کرتے تھے ۔
(۲)دوسرا واقعہ میں نے ازبکستان میں دیکھا ۔ میں اپنے چند رفقاء کار کے ساتھ وہاں کے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی پروفیسر پولات حبیب اللہ کی دعوت پر ازبکستان گیا تھا۔ پروفیسر حبیب اللہ بین الاقوامی شہرت کے فزکس کے پروفیسر تھے انہوں نے ہمیں تاشقند، ثمرقند ،بخارا وغیرہ کی سیر کرائی اور وہاں کی یونیورسٹیاں بھی دکھائیں ۔ ایک روز مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ انگریزوں نے آپ پر ڈیڑھ سو ، دو سو سال حکومت کی مگر آپ کی تہذیب و تمدن کو غارت نہیں کیا ، روسیوں نے ہمیں تباہ کر دیا ، ہماری تہذیب و تمدن کو نیست و نابود کر دیا یہ علاقہ جو علم و ادب و اسلام کا گہوارہ تھا اس کی بنیادیں کھود دیں۔ ہمارا خط تحریر تبدیل کر کے (عربی رسم الخط سے روسی رسم الخط میں ) ہمارا روحانی ، تاریخی، ادبی تعلق نہ صرف چینی ترکستان یعنی سنکیانگ بلکہ ایران، ترکی اور عرب ممالک اور ہندوستان سے کاٹ دیا ۔ عربی رسم الخط کی وجہ سے ہم فارسی شعراء اور کلام مجید اور عربی ادب سے قریب تھے رسم الخط بدلنے سے ہمیں ہماری تہذیب و تمدن سے اجنبی بنا دیا گیا۔ خوش قسمتی سے اب ان مسلمان ریاستوں نے اب اپنی پرانی ثقافت ، تاریخ، تہذیب و تمدن، کو دوبارہ اجاگر کرنا شروع کر دیا ہے تمام تاریخی عمارات کی مرمت، مساجد و مدارس کی مرمت کر دی گئی ہے اور ڈاکٹر حبیب اللہ نے بتایا تھا کہ اب اپنے پرانے اسلامی ناموں کو بھی واپس رائج کرنے کی کوشش ہو رہی ہے یعنی جو پہلے ابراہیم تھا اور جس کو روسیوں نے ابراہیموف کر دیا تھا اب واپس ابراہیم ہو جائے گا۔
(۳) میں خود اپنے سامنے ہونے والے واقعے کا تذکرہ کروں گا۔ اپنے طالبعلمی کے دور میں ہم لوگ ناظم آباد میں رہتے تھے ہمارا مکان بڑے میدان و پاپوش نگر کے درمیان تھا۔ شام کو ہم چند دوست ناظم آباد کے بس اسٹاپ جا کر ایک دوست کو بس میں بٹھایا کرتے تھے راستہ میں ایک کواٹر میں ایک قصاب کی دکان تھی شام کو وہاں چار پانچ اشخاص چارپائیوں پر بیٹھ کر چائے نوشی کرتے رہتے تھے۔ ایک روز جب ہم وہاں سے گزر رہے تھے تو ان میں سے ایک شخص بڑے ترنم سے غالب کی غزل سنا رہا تھا اور جب ہم وہاں پہنچے تو وہ یہ مصرع گارہا تھا۔
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
جب وہ دو تین مرتبہ یہ مصرع گا چکا تو اچانک رک کر ساتھیوں سے کہنے لگا ۔ گردنیں تو ہلا رہے ہو تغافل کے معنی بھی جانتے ہو ؟ ایک شخص نے فوراً اس کا مطلب بتا دیا ۔ میں وہ خوشگوار ماحول آج تک نہیں بھولا ہوں اور جب میں نے محمد اسد کی کتاب پڑھی اور ایران والا واقعہ پڑھا تو ناظم آباد کے قصاب اور غالب یاد آگئے۔کاش ہمارے اسکولوں میں بھی اردو زبان ، ہمارے شعراء اور ان کے کلام سے متعلق مزید تعلیم دی جائے تاکہ ہم اپنی تہذیب و تمدن سے بہرہ ور رہ سکیں ۔
اب کچھ باتیں ابتدائی یا اسکولی تعلیم کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ یہ مسئلہ نہایت اہم ہے ۔ پوری قوم کے مستقبل کا انحصار اس پر ہے اور ہماری آئندہ نسلوں کی خوشحالی بھی اس پر منحصر ہے مگر قبل اس کے کہ میں اس بارے میں کچھ معروضات پیش کروں میرے ایک تعلیم سے متعلق کالم پر ہمارے ایک عقل ِ کل ماہر معاشیات کے تبصرہ پر اپنے خیالات کا اظہار کروں گا۔میں نے عرض کیا تھا کہ صرف تعلیم ہی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا امرت دھارا نہیں ہے اور اس سلسلے میں سری لنکا کی مثال دی تھی جہاں تقریباً اٹھانوے فیصد آبادی لکھ پڑھ سکتی ہے مگر پھر بھی ملک بہت غریب اور پسماندہ تھا۔ ان ماہر معاشیات نے جن کے سابقہ اور موجودہ ساتھیوں نے ملک کو جس حال میں چھوڑا ہے وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ فوراً تبصرہ کر ڈالا کہ میں نے سری لنکا کی مثال تو دے دی مگر میں شاید ایسی مثال پیش نہ کر سکوں جہاں پاکستان جیسی جہالت اور کم علمی عام ہو اور وہ ترقی یافتہ ہو۔میں نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا یا کہنے کی کوشش کی تھی کہ ہم اپنی وسیع کم علمی اور جہالت کی وجہ سے ترقی کر سکتے ہیں میں یہ بتانے کی کوشش کر رہا تھا کہ ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ بعد میں فنی مضامین کی تعلیم اور صنعتی ترقی یا صنعتوں کا قیام ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بے حد ضروری ہے

نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-09-10), مرزا عامر (23-09-10), اویسی (25-09-10)
جواب

Tags
فن, کارنامے, پاکستان, پاکستانی, پسند, وفا, قرآن, قصد, چور, نظر, مکہ, موجودہ, مجید, محمد اقبال, مسائل, مسجد, معاشرہ, ایمان, اقوام متحدہ, اسلامی تاریخ, تعلیم, حدیث, سوانح, عقل, علامہ محمد اقبال, علامہ اسد لیوپولڈ, صحافت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:35 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger