| پاکستان کے ہیروز پاکستان کے ہیروز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 206
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
محمد اسد امت مسلمہ کی ایک جانی پہچانی شخصیت تھی جس نے علمی اور فکری میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور پاکستان کے قیام اور تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس جرمن نومسلم نے جب اسلام کے دائرے میں قدم رکھا تو پھر اس کی زندگی کا مقصد اسلام اور امت مسلمہ کی خدمت ہوگیا۔ قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں شریک تھا اور تقسیم ملک کے بعد اس نے بھی دوسرے لٹے پٹے مہاجرین کی طرح اپنے خوابوں کی سرزمین کی طرف مراجعت کی۔ پاکستان ایک حقیقی اسلامی ریاست بنے، اس کے دل کی آرزو تھی۔ اس نے اس وقت کی حکومت پنجاب کے ایک اعلیٰ افسر کی حیثیت سے پاکستان کی نظریاتی تعمیر کے لیے ایک روشن کردار ادا کیا، اور پھر سفارت کے محاذ پر پاکستان کی ترجمانی کرتا رہا۔ افسوس کہ بعد کی پاکستانی قیادت نے اسے مایوس کیا۔
محمداسد کی خودنوشت داستان شاہراہِ مکّہ فکرودانش اور علم و ادب کا ایک شاہکار ہے۔ بدقسمتی سے اس کی دوسری جِلد نامکمل رہی اور ان کے نوٹس کی مدد سے موصوف کی بیوہ نے مرتب کی ہے، جو انگریزی سے بھی پہلے اردو میں جناب محمد اکرام چغتائی کی محنت سے بندہ صحرائی کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ اس کا ایک حصہ کراچی اپڈیٹس کے قارئین کی نذر کر رہے ہیں۔ اس سے ایک طرف ان جذبات اور مقاصد کا صحیح صحیح ادراک کیا جاسکتا ہے جو قیامِ پاکستان کا اصل محرک تھے تو دوسری طرف قیادت کی نااہلی اور دشمنوں کی عیاری کی ایک کرب ناک داستان بھی سامنے آتی ہے۔ تیسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں نے بھارت کی غلامی کو کبھی بھی قبول نہیں کیا اور آج بھی وہ اس کے تسلط سے نجات پانے کے لیے جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کس طرح۱۹۴۷-۴۸ءمیں ہماری سیاسی قیادت نے دھوکا کھایا اور جیتی ہوئی بازی ہار گئی اور کس طرح آج کے حکمران طبقے پھر انھی دشمن قوتوں کے چکمے میں آنے کے لیے بے تاب ہیں۔ ہم نے کشمیر کیسے کھویا؟ (علامہ محمد اسد) ![]() اکتوبر۱۹۴۷ءکی صبح کو نواب افتخار حسین ممدوٹ نے مجھے اپنے دفتر بلایا۔ اس وقت ان کی عمر۵۴سال کے لگ بھگ تھی۔ درازقد، صحت مند، خاموش طبع اور صاف ستھرے ذہن کے مالک اور تقسیمِ ہند سے قبل وہ ایک چھوٹی سی ریاست یا بالفاظ دیگر جاگیر کے کرتا دھرتا تھے۔ یہ جاگیر سترھویں صدی عیسوی [ان کے آبا کو] میں ایک مغل حکمران نے دی تھی۔ نواب صاحب تحریکِ پاکستان کے اکابرین میں شامل رہے اور اپنی ذاتی دولت کا بڑا حصہ اس تحریک کی نذر کر دیا۔ یہ جاگیر مشرقی پنجاب میں واقع تھی، چنانچہ تقسیم کے وقت اسے ہندستان ہی میں چھوڑ آئے اور لاہور آکر یہاں ایک متوسط درجے کے گھر میں سکونت پذیر ہوگئے۔ ان کی وفاداری اور راست بازی کے پیش نظر محمدعلی جناح نے پاکستان کے قائم ہوتے ہی انھیں مغربی پنجاب کا پہلا وزیراعلیٰ مقرر کر دیا۔ اس بنا پر انھیں قائداعظم کے قریب ترین رفقا میں شمار کیا جانے لگا۔ جونہی میں ان کے دفتر میں داخل ہوا، ممدوٹ صاحب رسمی تکلفات کی پروا کیے بغیر کہنے لگے: ”اسد صاحب! میرے خیال میں اب ہمیں نظریاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام اٹھانے چاہییں۔ آپ نے ان کے بارے میں تقریراً اور تحریراً بہت کچھ کیا۔ اب آپ کیا تجویز کرتے ہیں؟ کیا ہمیں وزیراعظم سے رجوع کرنا چاہیے؟“ کئی روز سے مجھے ایسے سوال کاانتظار تھا، چنانچہ میں نے پہلے ہی سے اس کا جواب سوچ رکھا تھا:”ابھی مرکزی حکومت نے ان مسائل کا ذکر نہیں کیا، اس لیے نواب صاحب! آپ ہی اس ضمن میں پہل کیجیے۔ میری راے میں آپ ہی کو پنجاب میں ایک ایسا خصوصی ادارہ قائم کرنا چاہیے، جو ان نظریاتی مسائل کو زیربحث لاسکے، جن کی بنیاد پر پاکستان معرضِ وجود میں آیا ہے۔ خدا نے چاہا تو آیندہ حکومتِ کراچی بھی اس اہم فریضے کی جانب متوجہ ہوگی۔ اس وقت وہ اپنی خارجہ پالیسی کو تشکیل دینے میں مصروف ہے۔ ان حالات میں شاید وزیراعظم یا قائداعظم اِدھر زیادہ توجہ نہ دے سکیں“۔ نواب صاحب فوری قوتِ فیصلہ کی صلاحیت کے مالک تھے، چنانچہ انھوں نے مجھ سے اتفاق کرتے ہوئے پوچھا: ”آپ کے اس مجوزہ ادارے کا کیا نام ہونا چاہیے؟“ میں نے جواباً عرض کیا: ”اس کا نام ”محکمہ احیاے ملّت اسلامیہ‘ ‘مناسب رہے گا، کیونکہ اس سے ہمارے مقصد کی بھرپور ترجمانی ہوگی، یعنی صحیح اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنی معاشرتی زندگی اور فکر کی تعمیرنو“۔ ممدوٹ صاحب نے بلاتوقف کہا: ”بالکل درست، ایسا ہی ہوگا۔ آپ اس ادارے کے قیام کا منصوبہ اور اس کے اخراجات کا ایک تخمینہ تیار کیجیے۔ آپ کو سرکاری طور پر اس ادارے کا ناظم مقرر کیا جاتا ہے اور آپ کی ماہوار تنخواہ شعبہ اطلاعات کے ناظم جتنی ہوگی۔ مجھے امید ہے، آپ اسے قبول کرلیں گے“۔ مجھے امید نہیں تھی کہ اتنی جلدی فیصلہ ہوجائے گا، لیکن نواب آف ممدوٹ کے فیصلوں کا یہی انداز تھا۔ چند دنوں کے اندر اندر اس ادارے کا رسمی میمورنڈم تیار ہوگیا۔ اس کے اخراجات کے تخمینے پر بحث ہوئی۔ شعبہ مالیات کے سربراہ کے صلاح مشورے سے یہ منظور ہوگیا، اور سرکاری اطلاع نامہ بھی جاری کر دیا گیا۔ یوں دیکھتے دیکھتے محکمہ احیا ملّت اسلامیہ کا قیام عمل میں آیا۔ پوری اسلامی دنیا میں یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے پہلا ادارہ تھا۔ میں نے لاہور کے بعض معروف علماے دین بالخصوص مولانا داود غزنوی امیرجماعت اہلِ حدیث سے رابطہ قائم کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ ایسے دو اصحاب کے نام بتائیں جو میرے تحت کام کرسکیں، عربی اچھی جانتے ہوں اور میری آیندہ کی تجاویز کو عملی شکل دینے میں جن ضروری حوالوں کی ضرورت پڑے، انھیں احادیث کے ضخیم مجموعوں میں سے تلاش کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ جلد ہی ایسے دو نوجوان اور باصلاحیت علما دستیاب ہوگئے اور انھیں یہ کام تفویض کردیا گیا۔ علاوہ ازیں مجھے پنجاب یونی ورسٹی کے ایک پرجوش طالب علم کی جزوقتی خدمات بھی حاصل ہوگئیں۔ دفتر کے دیگر انتظامی اور مالیاتی امور کو بحسن و خوبی نبٹانے کے لیے مجھے اپنے قریبی دوست ممتاز حسن کا تعاون حاصل تھا، جو مغربی پنجاب کے شعبہ مالیات کے ایک اہم عہدے پر فائز تھے اور بعد میں اس کے سربراہ مقرر ہوگئے۔ اب میں باقاعدہ طور پر سرکاری ملازم تھا، اس لیے مجھے دو رویہ درختوں کے ایک خوب صورت علاقے چمبہ ہاوس میں بلاکرایہ گھر بھی مل گیا (یہ لین مہاراجا آف چمبہ کے نام سے موسوم تھی۔ یہ ریاست کوہِ ہمالیہ کے دامن میں واقع تھی اور تقسیم ہند سے پہلے مہاراج کا یہاں محل تھا)۔ اس گھر کے اردگرد چاروں طرف چھوٹا سا باغ تھا۔ یہ ایک تجارت پیشہ ہندو کی ملکیت تھا، جو ہندستان نقل مکانی کر گیا تھا۔ ممکن ہے،وہاں اسے کسی ایسے مسلمان کا گھر مل گیا ہو، جو اپنا سب کچھ چھوڑچھاڑ کر پاکستان آگیا ہو۔ نظربندی کیمپ سے میری رہائی کے بعد میرا بیٹا طلال کیتھولک اسکول میں بطور اقامتی طالب علم زیرتعلیم تھا۔ یہ لاہور کا اعلیٰ ترین ادارہ تھا جس کو آئرلینڈ کے ڈومینیکن چلا رہے تھے۔ اب میں اپنی بیوی کے ساتھ لاہور ہی میں مستقلاً رہایش پذیر تھا،اس لیے طلال اس گھر میں منتقل ہوگیا اور یہیں سے ہر روز اسکول جانے لگا۔ اب میرے لیے یہ نئی صورت حال خاصی اطمینان بخش تھی۔ ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ءکی صبح کو میں دفتر جانے کے لیے بذریعہ کار گھر سے نکل ہی رہا تھا (میں نے ایک متروکہ کار اپنے نام الاٹ کرا لی تھی) کہ اپنے ہمسائے اور دوست سرسکندر حیات خاں کے بھتیجے سردار شوکت حیات خاں سے میری ملاقات ہوگئی۔ وہ اس وقت خاصے پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ انھوں نے بتایا: ”میں نے ابھی ریڈیو پر یہ خبر سنی ہے کہ گاندھی کو قتل کردیا گیا ہے۔ خدا کاشکر ہے کہ قاتل کوئی مسلمان نہیں ہے“___ میں اس کی پریشانی میں برابر کا شریک تھا۔ ہم دونوں جانتے تھے کہ اگر قتل کرنے والا مسلمان ہوتا، تو ہندستانی حکومت اپنی مسلمان رعایا کے ساتھ کیا سلوک کرتی۔ بہرحال چند گھنٹوں بعد آل انڈیا ریڈیو نے واضح بیان جاری کردیا کہ گاندھی کا قاتل راشٹریہ سیوک سنگھ کا رکن ہے۔ یہ انھی متعصب ہندووں کی جماعت تھی، جس نے ڈلہوزی کے مسلمانوں کا قتل عام بھی کیا تھا۔ محکمہ احیاے ملّت اسلامیہ کا کام آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ ہم زکوٰةاور عشر کے اہم موضوع پر پورے انہماک سے تحقیق کر رہے تھے، کیونکہ کسی بھی اسلامی مملکت میں شرعی اعتبار سے محصولیات کی بنیاد انھی دو پر ہے۔ ابھی تلاش و تفحص کا یہ مرحلہ طے ہو رہا تھا کہ ممدوٹ صاحب نے دوبارہ اپنے دفتر بلایا۔ میرے داخل ہوتے ہی وہ حسب معمول کسی تکلف کے بغیر گویا ہوئے: ”میں نے ابھی ابھی آپ کا مضمون ”اسلامی دستورسازی کی جانب‘ “پڑھا ہے، جو عرفات کے تازہ شمارے میں شائع ہوا ہے۔ آپ انھی خطوط پر قدرے شرح و بسط کے ساتھ ایک میمورنڈم تیار کیجیے۔ میں اسے مغربی پنجاب کی حکومت کی جانب سے شائع کراوں گا اور اس کو دیکھ کر ممکن ہے، مرکزی حکومت بھی اس جانب متوجہ ہو۔“ چنانچہ ۱۹۴۸ءمیں میرا یہی انگریزی مضمون مع اردو ترجمہ مغربی پنجاب کی حکومت کی زیرنگرانی طبع ہوا۔ کچھ ہفتوں بعد وزیراعظم کی جانب سے مجھے کراچی آنے کا پیغام موصول ہوا۔ لیاقت علی خاں سے یہ میری پہلی ملاقات نہیں تھی۔ میں قیامِ پاکستان سے قبل ان سے گاہے بگاہے ملتا رہتا تھا۔ ان سے جب بھی گفتگو کا موقع ملتا، وہ کھلے ذہن اور پوری توجہ سے میری باتیں سنتے اور ساتھ ساتھ متواتر سگریٹ نوشی کرتے رہتے (میں نے جب بھی انھیں دیکھا، انھوں نے اسٹیٹ ایکسپریس کے ۰۵سگریٹوں کا پیکٹ ہاتھ میں پکڑا ہوتا یا ان کے میز پر پڑا رہتا)۔ اس ملاقات میں بھی وہ سگریٹ سے سگریٹ سلگائے جا رہے تھے۔ انھوں نے مجھے بھی سگریٹ پیش کیا، چائے منگوائی اور مجھے اسلامی دستور پر قدرے تفصیل سے لکھنے کا مشورہ دیا۔ ہماری ابتدائی دو ملاقاتوں میں بھی وہ اس اہم مسئلہ پر سنجیدگی سے گفتگو کرتے تھے۔ انھوں نے سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ”لیکن ہم اس موقع پر خود دستورسازی کا عمل شروع نہیں کرسکتے۔ ہمیں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ کشمیر پر ہندستان نے قبضہ کرلیا ہے اور ہمارے پٹھان بھائیوں کی سری نگر پر قبضہ کرنے کی کوشش ناکام ہوچکی ہے۔ یہ بھی امرمسلّمہ ہے کہ فوجی اعتبار سے ہندستان ہم سے بہت مضبوط ہے۔ ہم تو ابھی حکومتی مشینری کے کل پرزے درست کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے لیے وقت اور سعی پیہم کی ضرورت ہے۔ ہم ایک ساتھ سارے کام شروع نہیں کرسکتے۔ میں مانتا ہوں کہ دستور سازی کا عمل اہم اور دور رس نتائج کا حامل ہے، لیکن اسے بھی فی الحال موخر کرنا پڑے گا۔“ میں وزیراعظم کی اس گفتگو سے متاثر ہوا، کیونکہ انھوں نے بلاتکلف حکومت کو درپیش تمام مسائل کا کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ میں جانتا تھا کہ میری طرح وہ بھی پاکستان کے اسلامی تشخص کو اجاگر کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے، لیکن ابھی حالاتِ حاضرہ کے دباو کے تحت اِدھر توجہ دینے سے گریز کرر ہے تھے۔ میں نے ان کے موقف سے اتفاق کیا اور رخصت ہوتے وقت انھوں نے مجھے کہا: ”فی الحال ہمیں خود کو اس مسئلے پر سوچ بچار کرتے رہنا چاہیے۔“ اس کے بعد کابینہ کے سیکرٹری چودھری محمدعلی سے کئی ملاقاتیں ہوئیں اور مجھے اندازہ ہوا کہ حکومت کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ان میں سب سے بڑا مسئلہ معاشی استحکام کا ہے۔ انھوں نے بتایا: قائداعظم نے امیرترین مسلمان حکمران نظام حیدرآباد دکن سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان کو سونے چاندی کی شکل میں چند لاکھ پاونڈ سٹرلنگ ادھار دیں اور انھیں اپنے نام پر ہی بنک میں جمع کرا دیں، تاکہ پاکستانی کرنسی کو تحفظ مل سکے۔ لیکن نظام دولت کے انبار کو اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں، اس لیے انھوں نے قائداعظم کی درخواست کو رد کر دیا ہے۔ چند ماہ بعد ہی ہندستان نے حیدرآباد ریاست کی خودمختار حیثیت ختم کر کے اسے اپنے ملک کا حصہ بنا لیا اور نظام کے سونے چاندی کے تمام ذخیرے بھی ہندوستانی حکومت کے تصرف میں چلے گئے۔ نظام کے ساتھ ساتھ خود ان کی آل اولاد اور پاکستان بھی ہمیشہ کے لیے ان خزانوں سے محروم ہوگئے۔ جب میں چودھری محمدعلی سے گفتگو کر رہا تھا، معاً مجھے نظام کے ذاتی خزینوں کی یاد آگئی۔ ۱۹۳۹ءکو مَیں دوسری بار حیدرآباد گیا تھا اور اس وقت ریاست کے وزیرمالیات نے مجھے اس خزانے کا صرف ایک حصہ دکھایا تھا۔ متعدد کمروں میں قطار اندر قطار صندوق رکھے تھے اور یہ سب سونے اور قیمتی پتھروں سے بھرے پڑے تھے۔ ہیرے جواہرات سے بھرے لوہے کے تھال فرش پر رکھے تھے۔ مال و دولت کا ایک ناقابلِ یقین اور مردہ ڈھیر، جو ایک فانی شخص کی مریضانہ اور عجیب وغریب حرص کا نمونہ تھا۔ لیاقت علی خاں نے اپنی گفتگو میں آزادیِ کشمیر کی جس جدوجہد کا ذکر کیا تھا، وہ ہمیشہ میری اور ہرپاکستانی کی سوچ پر غالب رہی ہے۔ اس کی جغرافیائی، نسلی اور مذہبی وضع قطع کے باعث اس حسین و جمیل سرزمین کو لازماً پاکستان کا حصہ بننا تھا۔ یہاں کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے۔ تمام بڑے دریا (سندھ، جہلم، چناب اور راوی) مغربی پنجاب کی زمینوں کو سیراب کرتے ہیں اور یہاں کی معیشت کا انحصار مکمل طور پر انھی دریاوں پر ہے۔ ہندستانی حکومت اور مہاراجا کے مابین اقرارنامہ کی وجہ سے ریڈکلف نے صریحاً دھوکے بازی سے مسلمانوں کی اکثریت کا ضلع گورداسپور ہندستان کے حوالے کر دیا۔ ریڈکلف کی یہ ”نوازش‘ ‘تقسیم ہند کے طے شدہ بنیادی اصول کی خلاف ورزی تھی اور اسے کوئی پاکستانی تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اس وقت پاکستان اپنی سربریدہ فوج کے سبب ہندستان سے جنگ کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا، اس لیے قائداعظم نے کسی فوجی مداخلت کے امکان کو بالکل رد کر دیا۔ حکومت پاکستان کی اس واضح پالیسی کے بعد صوبہ سرحد اور افغانستان کے ملحقہ علاقوں کے پٹھانوں کے قبائل پاکستان کے نام پر کشمیر کو فتح کرنے چل پڑے۔ اکتوبر ۷۴۹۱ءمیں محسود، وزیری اور آفریدی قبیلوں کے بڑے بڑے جتھوں نے کشمیر کی سرحد عبور کرکے بارہ مولا اور مظفرآباد پر بلامقابلہ قبضہ کرلیا۔ سری نگر کے اردگرد جو فوج تعینات تھی، اس میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ انھوں نے بھی بغاوت کردی اور پٹھان بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر آگے بڑھنے کو تیار ہوگئے۔ قبائلیوں کی پیش قدمی جاری تھی اور سری نگر تک پہنچنا انھیں آسان دکھائی دے رہا تھا، لیکن اس دوران میں ایک تکلیف دہ واقعہ وقوع پذیر ہوگیا۔ یہ قبائل اپنی صدیوں پرانی غارت گری کی جبلت پر قابو نہ پاسکے اور سری نگر کی جانب قدم بڑھانے کے بجاے انھوں نے مظفرآباد کے شہریوں کو لوٹنا شروع کر دیا۔ دو دن تک لوٹ مار کا یہ بازار گرم رہا۔ یہ بڑا نازک وقت تھا، جسے ان قبائلیوں نے ضائع کر دیا۔ چنانچہ اس عرصے میں ماونٹ بیٹن اور جواہر لال نہرو کی ملی بھگت سے جوابی حملے کے انتظامات مکمل کرلیے گئے۔ نئی دہلی میں برطانوی فوج کے تعاون سے ہندووں اور سکھوں پر مشتمل فوجی دستوں کو جلدی جلدی منظم کیا گیا۔ انھیں ہتھیار فراہم کیے گئے اور ایک ہلکے توپ خانہ کا بھی انتظام کر دیا گیا، تاکہ وہ سری نگر پر قبضہ کرکے وہاں کے ہوائی اڈے کو بھی اپنے دائرہ اختیار میں لے آئیں۔ اس طرح فوجی اور غیرفوجی جہازوں کے ذریعے ہندستانی فوج کی خاصی بڑی تعداد کو سری نگر پہنچا دیا گیا، جہاں سے وہ ریاست کشمیر کے دوسرے حصوں پر بھی اپنا تسلط جما لیں۔ آہستہ آہستہ پٹھانوں کو نکال باہر کیا گیا اور پھر ان کا جذبہ جہاد مدہم پڑتے پڑتے ختم ہوگیا۔ تاہم کشمیر کی جنگ ختم نہیں ہوئی۔ اسی اثنا میں نئے قبائلی مجاہد اور ناگزیر طور پر پاکستانی فوج کے دستے بھی اس جنگ میں شامل ہوگئے۔ ہندستان نے وادیِ کشمیر پر قبضہ جمائے رکھا اور سرحد کے ساتھ ساتھ دور تک پناہ گاہیں اور خندقیں بنالیں۔ آج تک ہندستان کشمیر کے اس حصے پر قابض ہے، جو گلگت سے لداخ اور کارگل کے برفانی پہاڑوں تک پھیلا ہوا ہے۔ بالآخر پاکستان مسئلہ کشمیر کو مجلس اقوام متحدہ میں لے گیا،(یہاں مضمون نگار کو اشتباہ ہوا ہے، اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ بھارت لے کر گیا تھا) جہاں استصواب رائے کی قرارداد منظور کی گئی، جو اس علاقے کی قسمت کا فیصلہ کرے گی۔ حکومت ہندستان نے اس قرارداد کو بڑی بے دلی سے قبول کیا، کیونکہ یہ کھلی ہوئی حقیقت تھی کہ اس قرارداد پر عمل درآمد کا نتیجہ پاکستان کی فتح کی صورت میں نکلے گا۔ چنانچہ ہندستان حیلے بہانے سے بار بار اس مسئلے کو ملتوی کرتا رہا۔ اب یہی مسئلہ کشمیر، پاکستان اور ہندستان کے اچھے ہمسایہ ممالک جیسے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ دونوں ملکوں کے سپاہی خندقوں میں ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں بہ شکریہ karachiupdates ہم نے کشمیر کیسے کھویا؟ (علامہ محمد اسد) Last edited by نورالدین; 24-09-10 at 05:32 PM. وجہ: نمبرز کی درستگی و خاص نکات زیر خط |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
3/4/2009 کو روزنامہ جنگ میں شائع شدہ ڈاکٹر عبدالقدیر کا ایک کالم جس میں انہوں نے نظام تعلیم کے حوالے سے علامہ محمد اسد کی چند یادیں شیئر کی ہیں ۔ ۔۔ بنیادی تعلیم ۔ مزید تبصرہ,,,,سحر ہونے تک …ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے پچھلے کالم ”تعلیم، پرانی خوشگوار یادیں“ میں میں نے اپنے تعلیمی نظام میں تہذیب و تمدن کی اہمیت پر روشنی ڈالی تھی اور توجہ دلائی تھی کہ کس طرح ہم اپنے پرانے ،قدیم سنہری ورثہ کو نظرانداز کر کے ہنس کی چال چلنے کی جدوجہد میں لگ گئے ہیں ۔ اسی سلسلے میں آپ کی خدمت میں دو نہایت اہم واقعات بیان کرنا چاہتا ہوں جن سے ہمیں قومی ورثہ، تہذیب و تمدن کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا۔ (۱) سوئے مکہ یا مکہ کی راہ میں کے مشہور مصنف و نو مسلم محمد اسد جو پہلے یہودی تھے اور لیو پولڈ وائس (Leopold Weiss ) کے نام سے جانے جاتے تھے اور بعد میں نہایت مشہور عالم دین کے طور پر سامنے آئے انہوں نے اپنی اوپر بیان کردہ کتاب میں ایک واقعہ بیان کیا ہے جو ہمارے سربراہان نظامِ تعلیم کی آنکھیں کھولنے کو کافی ہے۔ وہ پہلے سعودی عرب میں بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود کے بہت ہی قریبی دوست بن گئے تھے اور ان کی مجلس کا حصہ تھے ۔ وہ مغربی ممالک کو ابن سعود کی اہلیت وضرورت کے بارے میں جرمنی کے مشہور اخبار میں مضامین لکھ کر آگاہ کرتے تھے ۔اپنے صحافتی فرائض کی ادائیگی میں انہوں نے تمام مسلم ممالک کا دورہ کیا ، عربی زبان پر مقامی لوگوں کی طرح مہارت حاصل کی اور کلام مجید کا نہایت سلیس ترجمہ اور تفسیر انگریزی زبان میں تیارکر کے شائع کرائی، انہوں نے اپنی کتاب میں تذکرہ کیا کہ جب وہ ایران گئے تو انہیں یہ دیکھ کرنہایت تعجب اور خوشی ہوئی کہ عام آدمی یعنی ماشکی ، قصاب، قہوہ خانے والے شام کو بیٹھ کر حافظ، سعدی، جامی اور رومی وغیرہ کے کلام سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور ان لوگوں کو اپنے ان عالموں کا کلام زبانی یاد تھا جبکہ انسان یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ مغربی ممالک میں عام لوگ تو کیا بلکہ اوسط تعلیم یافتہ لوگ بھی شیکسپیئر،ورڈزورتھ ، بائرن ، ٹینی سن یا گوئٹے جیسے مشہور شاعروں ادیبوں سے کچھ واقفیت رکھتے ہوں۔ ان میں ہی محمد اسد کے بارے میں اہم واقعہ بیان کرناچاہتا ہوں۔ ابن سعود کی قربت کی وجہ سے بہت سے درباری ان کے حاسد ہو گئے تھے اور بادشاہ کے کان بھرنے لگے تھے۔ اسد کو جب یہ بھنک پہنچی تو انہوں نے ایک دن ابن سعود سے کہا کہ لوگ مجھے عیسائی یا یہودی جاسوس ہونے کا شبہ کر رہے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ملک چھوڑ دوں تاکہ بادشاہ اس بہتان بازی سے محفوظ رہیں، ابن سعود نے کہا کہ محمد اسد میں نے بھی یہ باتیں سنی تھیں لیکن ایک دن میں نے مسجد نبوی میں خود خواب میں تم کو اذان دیتے دیکھا ہے ۔ اللہ کی قسم جو شخص مسجد نبوی میں اذان دے رہا ہو نہ ہی وہ غیر مسلم ہو سکتا ہے اور نہ ہی وہ ہمارے خلاف جاسوسی کر سکتا ہے ۔ پاکستان کے قیام کے بعد محمد اسد نے پاکستانی شہریت حاصل کر لی تھی جو ان کی وفات تک قائم رہی اور وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مندوب کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دیتے رہے تھے اور مسلم ممالک کی آزادی کے لیے بہت پر اثر تقاریر کرتے تھے ۔ (۲)دوسرا واقعہ میں نے ازبکستان میں دیکھا ۔ میں اپنے چند رفقاء کار کے ساتھ وہاں کے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی پروفیسر پولات حبیب اللہ کی دعوت پر ازبکستان گیا تھا۔ پروفیسر حبیب اللہ بین الاقوامی شہرت کے فزکس کے پروفیسر تھے انہوں نے ہمیں تاشقند، ثمرقند ،بخارا وغیرہ کی سیر کرائی اور وہاں کی یونیورسٹیاں بھی دکھائیں ۔ ایک روز مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ انگریزوں نے آپ پر ڈیڑھ سو ، دو سو سال حکومت کی مگر آپ کی تہذیب و تمدن کو غارت نہیں کیا ، روسیوں نے ہمیں تباہ کر دیا ، ہماری تہذیب و تمدن کو نیست و نابود کر دیا یہ علاقہ جو علم و ادب و اسلام کا گہوارہ تھا اس کی بنیادیں کھود دیں۔ ہمارا خط تحریر تبدیل کر کے (عربی رسم الخط سے روسی رسم الخط میں ) ہمارا روحانی ، تاریخی، ادبی تعلق نہ صرف چینی ترکستان یعنی سنکیانگ بلکہ ایران، ترکی اور عرب ممالک اور ہندوستان سے کاٹ دیا ۔ عربی رسم الخط کی وجہ سے ہم فارسی شعراء اور کلام مجید اور عربی ادب سے قریب تھے رسم الخط بدلنے سے ہمیں ہماری تہذیب و تمدن سے اجنبی بنا دیا گیا۔ خوش قسمتی سے اب ان مسلمان ریاستوں نے اب اپنی پرانی ثقافت ، تاریخ، تہذیب و تمدن، کو دوبارہ اجاگر کرنا شروع کر دیا ہے تمام تاریخی عمارات کی مرمت، مساجد و مدارس کی مرمت کر دی گئی ہے اور ڈاکٹر حبیب اللہ نے بتایا تھا کہ اب اپنے پرانے اسلامی ناموں کو بھی واپس رائج کرنے کی کوشش ہو رہی ہے یعنی جو پہلے ابراہیم تھا اور جس کو روسیوں نے ابراہیموف کر دیا تھا اب واپس ابراہیم ہو جائے گا۔ (۳) میں خود اپنے سامنے ہونے والے واقعے کا تذکرہ کروں گا۔ اپنے طالبعلمی کے دور میں ہم لوگ ناظم آباد میں رہتے تھے ہمارا مکان بڑے میدان و پاپوش نگر کے درمیان تھا۔ شام کو ہم چند دوست ناظم آباد کے بس اسٹاپ جا کر ایک دوست کو بس میں بٹھایا کرتے تھے راستہ میں ایک کواٹر میں ایک قصاب کی دکان تھی شام کو وہاں چار پانچ اشخاص چارپائیوں پر بیٹھ کر چائے نوشی کرتے رہتے تھے۔ ایک روز جب ہم وہاں سے گزر رہے تھے تو ان میں سے ایک شخص بڑے ترنم سے غالب کی غزل سنا رہا تھا اور جب ہم وہاں پہنچے تو وہ یہ مصرع گارہا تھا۔ ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک جب وہ دو تین مرتبہ یہ مصرع گا چکا تو اچانک رک کر ساتھیوں سے کہنے لگا ۔ گردنیں تو ہلا رہے ہو تغافل کے معنی بھی جانتے ہو ؟ ایک شخص نے فوراً اس کا مطلب بتا دیا ۔ میں وہ خوشگوار ماحول آج تک نہیں بھولا ہوں اور جب میں نے محمد اسد کی کتاب پڑھی اور ایران والا واقعہ پڑھا تو ناظم آباد کے قصاب اور غالب یاد آگئے۔کاش ہمارے اسکولوں میں بھی اردو زبان ، ہمارے شعراء اور ان کے کلام سے متعلق مزید تعلیم دی جائے تاکہ ہم اپنی تہذیب و تمدن سے بہرہ ور رہ سکیں ۔ اب کچھ باتیں ابتدائی یا اسکولی تعلیم کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ یہ مسئلہ نہایت اہم ہے ۔ پوری قوم کے مستقبل کا انحصار اس پر ہے اور ہماری آئندہ نسلوں کی خوشحالی بھی اس پر منحصر ہے مگر قبل اس کے کہ میں اس بارے میں کچھ معروضات پیش کروں میرے ایک تعلیم سے متعلق کالم پر ہمارے ایک عقل ِ کل ماہر معاشیات کے تبصرہ پر اپنے خیالات کا اظہار کروں گا۔میں نے عرض کیا تھا کہ صرف تعلیم ہی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا امرت دھارا نہیں ہے اور اس سلسلے میں سری لنکا کی مثال دی تھی جہاں تقریباً اٹھانوے فیصد آبادی لکھ پڑھ سکتی ہے مگر پھر بھی ملک بہت غریب اور پسماندہ تھا۔ ان ماہر معاشیات نے جن کے سابقہ اور موجودہ ساتھیوں نے ملک کو جس حال میں چھوڑا ہے وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ فوراً تبصرہ کر ڈالا کہ میں نے سری لنکا کی مثال تو دے دی مگر میں شاید ایسی مثال پیش نہ کر سکوں جہاں پاکستان جیسی جہالت اور کم علمی عام ہو اور وہ ترقی یافتہ ہو۔میں نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا یا کہنے کی کوشش کی تھی کہ ہم اپنی وسیع کم علمی اور جہالت کی وجہ سے ترقی کر سکتے ہیں میں یہ بتانے کی کوشش کر رہا تھا کہ ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ بعد میں فنی مضامین کی تعلیم اور صنعتی ترقی یا صنعتوں کا قیام ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بے حد ضروری ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فن, کارنامے, پاکستان, پاکستانی, پسند, وفا, قرآن, قصد, چور, نظر, مکہ, موجودہ, مجید, محمد اقبال, مسائل, مسجد, معاشرہ, ایمان, اقوام متحدہ, اسلامی تاریخ, تعلیم, حدیث, سوانح, عقل, علامہ محمد اقبال, علامہ اسد لیوپولڈ, صحافت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|