واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > پاکستان کے ہیروز



پاکستان کے ہیروز پاکستان کے ہیروز


ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-11-10, 02:39 PM   #1
ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 19-11-10, 02:39 PM

ڈاکٹر انیس احمد



کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ o وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلٰالِ وَالْاِِکْرَامِ o (الرحمٰن ۵۵: ۲۶۔۲۷) ہر چیزجو اس زمین پر ہے فنا ہوجانے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔

قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ میں جو صداقت بیان کی گئی ہے بارہا مطالعہ کے باوجود ہم اسے اکثر بھول جاتے ہیں، لیکن بعض حادثات ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں اور اس وقت اس آیت کا مفہوم ذہن میں تازہ ہوتا ہے کہ ہرچیز جو اس دنیا میں ہے، فنا ہوجانے والی ہے اور صرف اللہ ذوالجلال والاکرام کی ذات باقی رہنے والی ہے۔ کل تک یہ بات وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ آج ڈاکٹر محمود احمد غازی ہمارے ساتھ نہ ہوں گے۔

میں کراچی میں تھا جب ڈاکٹر محمود احمد غازی کے انتقال کی خبر ملی (۲۶ستمبر ۲۰۱۰ء)۔ یہ خبر میرے لیے ناقابلِ یقین تھی۔ ابھی چند ہفتے قبل ہم نے رابطہ عالم اسلامی کے پچاسویں یومِ تاسیس کی تقریب میں مکہ مکرمہ میں شرکت کی، ایک ساتھ جہاز میں سفر کیا اور حرم شریف میں نمازوں میں شرکت کی تھی۔ مکہ مکرمہ جاتے وقت میں اور میری اہلیہ جہاز میں بیٹھے تھے کہ غازی صاحب جہاز میں داخل ہوئے اور مجھے دیکھ کر انتہائی گرم جوشی کے ساتھ جھک کر میری پیشانی پر بوسہ دیا اور پھر یہ کہا کہ میں قطر میں تھا تو ڈاکٹر منذر قحف صاحب نے بااصرار کہا تھا کہ جب آپ ڈاکٹر انیس سے ملیں تو میری طرف سے ان کی پیشانی پر بوسہ دیں___ اللہ اکبر! کل کی بات ہے اور آج ہم ایک ایسے صاحبِ علم سے محروم ہوگئے جو نہ صرف اپنے علم و تقویٰ بلکہ برادرانہ تعلق کی بنا پر ہمارے گھر کا ایک فرد تھا۔

۱۹۸۰ء میں جب بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد نے تصورسے نکل کر ایک قابل محسوس شکل اختیار کی تو ادارہ تحقیقاتِ اسلامی کو، جو اس سے قبل مختلف سرپرستیوں میں رہا تھا، یونی ورسٹی کا حصہ بنا دیا گیا اور مرحوم ڈاکٹر عبدالواحد ہالے پوتا صاحب، جو ادارے کے سربراہ تھے اور ڈاکٹر محمود غازی جو ادارے میں ریڈر تھے مع دیگر محققین کے یونی ورسٹی سے وابستہ ہوگئے۔ اس زمانے میں شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب ان سے ملاقات نہ ہوئی ہو۔ اکثر حسین حامد حسان صاحب جو اس وقت کلیہ شریعہ کے ڈین تھے اور بعد میں یونی ورسٹی کے صدر بنے، سرشام ہی مجھے ڈاکٹر حسن محمود الشافعی اور اکثر ڈاکٹر غازی کو اپنے گھر بلا لیتے اور رات گئے تک یونی ورسٹی کے بہت سے مسائل پر ہم سب مصروفِ مشورہ رہتے۔ دعوۃ اکیڈمی کا قیام ۱۹۸۳ء میں عمل میں آیا اور مجھے اس کا ڈائرکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جن افراد نے ہر مرحلے میں میرے ساتھ تعاون کیا ان میں ڈاکٹر حسن شافعی اور محمود غازی پیش پیش تھے۔ بعض وجوہ کی بنا پر میں دعوۃ اکیڈمی سے الگ ہوا تو ڈاکٹرغازی نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور جب میں دوبارہ اکیڈمی کا ڈائرکٹر جنرل بنا تو وہ اکثر یہ کہتے کہ میں آپ کا خلیفہ ہوں اور آپ میرے خلیفہ ہیں۔

ڈاکٹر غازی کی یادداشت غضب کی تھی اور برس ہا برس گزرنے کے بعد بھی واقعات کی ترتیب و تفصیل بیان کرنے میں انھیں یدِطولیٰ حاصل تھا۔ ڈاکٹر صاحب اثرانگیز خطیب اور پُرفکر تحریر کی بنا پر اس دور کے چند معروف اصحابِ علم میں سے تھے۔ ان کے قرآن کریم، حدیث، سیرت پاک، فقہ، شریعت اور معیشت و تجارت کے موضوع پر خطابات کتابی شکل میں طبع ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر کتب میں قانون بین المالک، اسلام اور مغرب تعلقات، مسلمانوں کا دینی و عصری نظام تعلیم، اسلامی بنک کاری: ایک تعارف، ادب القاضی اور قرآن مجید، ایک تعارف شامل ہیں۔ وہ ایک دردمند دل رکھنے والے محقق، عالم، مفکر اور فقیہہ تھے۔

پاکستان میں سودی بنکاری سے نجات کے لیے جن لوگوں نے کام کیا اور خصوصاً جب معاملہ سپریم کورٹ کے اپیلٹ بنچ میں گیا اور پھر سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اس مسئلے کا جائزہ لیا تو اس میں غازی صاحب نے نمایاں کردار ادا کیا۔ فیڈرل شریعہ کورٹ میں جس طرح ڈاکٹر فدا محمدخان صاحب نے فیصلے کی تحریر میں کردار ادا کیا ایسے ہی سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس خلیل الرحمن صاحب اور ڈاکٹر غازی کا اہم کردار رہا۔

۸۰ کے عشرے میں جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کے حوالے سے عدالتی کارروائی میں پاکستان کے جن اصحابِ علم نے عدالتِ عالیہ کو اس مسئلے پر رہنمائی فراہم کی ان میں مولانا ظفراحمد انصاری، پروفیسر خورشید احمد صاحب، جسٹس افضل چیمہ صاحب مرحوم اور ڈاکٹر غازی کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ دعوۃ اکیڈمی کے ساتھ میرے طویل تعلق میں شاید ہی کوئی پروگرام ایسا ہو جس میں ملک کے اندر یا ملک سے باہر کوئی تربیتی کورس ہو اور اس میں ڈاکٹر غازی نے شرکت نہ کی ہو۔

ڈاکٹر غازی کو اُردو، عربی اور انگریزی میں خطاب کرنے میں عبور حاصل تھا۔ وہ فرانسیسی زبان بھی جانتے تھے۔ ڈاکٹر غازی نے صدر جنرل پرویز مشرف کی کابینہ میں مذہبی امور کے وزیر کے فرائض بھی انجام دیے اور بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے صدر اور نائب صدر کے علاوہ یونی ورسٹی کی شریعہ اکیڈمی کے ڈائرکٹر جنرل کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ان کی علمی خدمات کی بنا پر انھیں ملک اور ملک سے باہر ایک معروف اسکالر کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔

ڈاکٹر غازی ایک حلیم الطبع انسان تھے۔ اکثر اپنے چھوٹے بھائی ڈاکٹر محمد الغزالی کی چھیڑچھاڑ سے خود بھی محظوظ ہوتے اور کبھی اپنے بڑے ہونے کے حق کو استعمال نہ کرتے۔ نجی محفلوں میں ان کی حاضر جوابی اور ذہانت ہمیشہ انھیں دیگر حاضرین سے ممتاز کرتی۔ مہمانوں کی تواضع میں ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ ان کی وفات نے جو خلا پاکستان بلکہ عالمِ اسلام کی علمی صفوں میں پیدا کیا ہے وہ عرصے تک ان کی یاد کو تازہ رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے قرآن کریم سے تعلق اور دین کی اشاعت کے لیے خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ آمین!

ماہنامہ ترجمان القرآن ۔ نومبر 2010ء
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 313
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-11-10), رضی (26-11-10), عبداللہ آدم (19-11-10)
پرانا 21-11-10, 12:28 AM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,788
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ واقعی ایک بڑا نقصان ہے!!!!!!

ناجانے یہ قوم اپنے محسنوں‌کو قتل کرنے کا شوق کیوں‌رکھتی ہے؟؟؟؟؟
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (21-11-10), رضی (26-11-10)
پرانا 15-12-10, 01:02 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
ڈاکٹر انیس احمد



اللہ تعالیٰ ان کے قرآن کریم سے تعلق اور دین کی اشاعت کے لیے خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ آمین!

ماہنامہ ترجمان القرآن ۔ نومبر 2010ء
بلاشبہ ایسے لوگ اثاثہ تھے مگرانکا علم مشعلِ راہ ھے۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (15-12-10)
جواب

Tags
کورٹ, کورس, کراچی, گمان, واقعات, وزیر, مکہ, مسائل, آج, اکبر, اللہ, انسان, اسلامی, بھائی, تحریر, حسن, خبر, دل, رات, سفر, سپریم, عالم, صداقت, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پاکستانی غازی کے بعد امریکی غازی (طنزیہ) جارڈ لونر فاروق سرورخان خبریں 0 13-01-11 05:53 AM
نمازی حضرات کے لیئے تحفہ رضی سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست 5 15-10-10 09:26 AM
قلمی مزدور نذیر ناجی کی قلابازی عبداللہ حیدر خبریں 21 29-07-09 05:54 PM
حافظ شیرازی طارق راحیل شعر و شاعری 0 28-12-08 05:33 PM
خود نوشت کا فن اور ڈاکٹر پروازی محمدعدنان فلمی دنیا 0 04-05-08 04:14 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:36 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger