واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص)




اہلبیت کا تعارف

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-12-10, 11:39 PM   #1
اہلبیت کا تعارف
sahj sahj آف لائن ہے 15-12-10, 11:39 PM

دنیا کا کوئی مسلمان ایسا نہیں جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت نہ ھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیادت و قیادت پر یقین نہ ھو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و رفعت اور بلندی مرتبت پر ایمان رکھتا ھو لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان ازواج مطہرات ، اولاد ، رفقاء ، نواسوں اور نواسیوں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی قابل اعتماد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم سے بغض اور کدورت رکھتا ھو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا سب سے اہم تقاضا ہی یہ ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب ہر شخص اور ہر چیز سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح والہانہ عشق و محبت رکھا جائے۔

صحابہ کے دشمنوں کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما سے عداوت و شقاوت یہاں تک پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس بیویوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ یا اہل بیت کے لفظ سے یاد کرنا بھی اسی بغض کی زد میں آگیا۔

کچھ لوگوں نے خاندان نبوت سے محبت کی آڑ میں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین اور خلفاء راشدین کو مشق ستم بنایا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رفقاء کو کافر اور فاسق قرار دینے تک سے گریز نہ کیا ۔(معاذاللہ)
یہ وہ افراط و تفریط ھے ، کوئی بھی مسلمان جسے تحسین کی نظروں سے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔۔۔ قرآن عظیم کی زبان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے لئے اہل بیت کا لفظ کئی بار بولا گیا ھے ۔ میں خالص قرآنی اور محمدی خطاب کی روشنی میں ازواج مطہرات یعنی اہل بیت رسول اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کا مختصر آئینہ پیش کررہا ھوں ۔ بارگاہ الٰہی سے دعا ھے کہ صحابہ کرام کی طرح خاندان نبوت اور اہل بیت سے ہماری نسبت کو قبولیت عطا فرمائے۔


تعارف اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم


اہل بیت رضی اللہ عنہما کا حقیقی مفہوم

اسلام میں اہل بیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہا کے لئے جنہیں امت مسلمہ کی ماں کا درجہ حاصل ھے ، بولا جاتا ھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے، صاحب زادیاں، نواسے نواسیاں ، چچا ، قریبی رشتہ دار بھی تبعاً اس میں داخل ہیں۔

عربی میں اہلبیت کا مفہوم "گھر والے" یا اہل خانہ کے ہیں ۔ اردو لغت اور عام دوسری زبانوں کی اصطلاحات سے ظاھر ھے کہ جب کسی کے گھر والوں کا زکر آئے گا ، اس سے سب سے پہلے اس کی بیویاں اور حقیقی اولاد ہی مراد ھوگی۔ اصطلاح عام میں ھر عورت اپنے خاوند کی گھر والی ھے ۔ یعنی ہر عورت اپنے شوھر کی اہلبیت ھے۔ یہ اس اصطلاح کا حقیقی معنی ھے ۔ مجاز کے طور پر اولاد بھائیوں، پوتے پوتیوں ، نواسے نواسیوں اور خاندان کے جملہ افراد پر بھی اس لفظ کا اطلاق ھوتا ھے۔

جدید و قدیم اصطلاحات اور زاتی آراء سے ھٹ کر ہم یہاں قرآن سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں ۔ قرآن عظیم میں مختلف مقامات پر اہل بیت کا لفظ بولا گیا ھے ۔ ہر جگہ اہل بیت سے بیویاں ہی مراد لی گئی ہیں ۔

وَسَارَ بِأَهْلِهِ آنَسَ مِن جَانِبِ الطُّورِ نَارًا28:29
اور وہ موسٰی علیہ السلام اپنی بیوی کے ساتھ طور کی جانب چلا۔


وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا
20:132
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجئے اور اس پر پختہ رہیئے۔

إِذْ قَالَ مُوسَى لِأَهْلِهِ
27:7
اور جب موسٰی نے کہا اپنی بیوی سے

وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى ۖ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا
﴿033:033﴾‏
اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جس طرح (پہلے) جاہلیت (کے دنوں) میں اظہار تجمل کرتی تھیں اس طرح زینت نہ دکھاؤ اور نماز پڑھتی رہو اور زکوۃ دیتی رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتی رہو اے (پیغمبر کے) اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی (کا میل کچیل) دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے

قرآن کی ان واضح تصریحات کے بعد کسی قسم کی تاویل اور تفرد کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اس سے یہ بات واضح ھوگئی کہ ہر عورت اپنے خاوند کی گھر والی یعنی شوھر کی اہل بیت ھے ۔ چنانچہ حقیقی طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کا جب زکر آئے گا تو ان میں سب سے پہلے ان کی زوجہ محترمہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر بیویاں مراد ھوں گی ، اس کے ساتھ ان کی اولاد اور پھر ان کی اولادیں تبعا اس میں داخل ھوں گی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا اپنے شوھر ابوالعاص قاسم رضی اللہ عنہ بن ربیع اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا اپنے خاوند حضرت عثمان ذلنورین رضی اللہ عنہ کی اہل بیت ہیں۔ جب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کا لفظ بولا جائے گا تو اس سے حقیقی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ازواج مطہرات امہات المومنین مراد ھوں گی ۔
جو قدیم و جدید بعض علماء اسلام نے حدیث عباء اور حدیث ثقلین کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسیوں اور نواسوں اور ان کی اولاد کو اہل بیت عظام میں داخل کیا ھے وہ آیات قرآنی کے خلاف نہیں ۔ بلکہ مجازی طور پر ان کا اہل بیت میں شامل کرنا قرین قیاس ھے ۔
جن لوگوں نے اہل بیت سے مراد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت علی اور ان کی اولاد مراد لی ھے ، ان میں جلیل القدر حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور تابعین میں حضرت قتادہ رحمہ اللہ شامل ہیں ۔
ان کا کہنا ھے کہ جب آیت إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ نازل ھوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چالیس دن تک صبح کے وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے گزرتے وقت یہ الفاظ دہرا کر تشریف لے جاتے تھے ۔
السلام علیکم اھل البیت و رحمۃ اللہ و برکات الصلوۃ رحمکم اللہ
" اے اہل بیت تم پر اللہ تعالٰی کی سلامتی اور رحمت ھو نماز ٌپڑھو ، اللہ تم پر رحمت نازل فرمائے ۔"

دوسری طرف حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی رائے ھے کہ اہل بیت سے مراد صرف ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما ہیں ۔ راقم کی رائے کے مطابق دونوں آراء ایک دوسرے کے خلاف نہیں ، ان میں تطبیق دی جائے تو دونوں اقوال قرآنی مقتضی کے عین مطابق نظر آئیں گے ۔ حقیقی طور پر اہلبیت سے مراد ازواج مطہرات ہیں اور گھر والوں کے عنوان سے اولاد و احفاد کو بھی تبعا شامل ھے ۔

مؤرخین و محدثین میں ابن جریر رحمہ اللہ، ابن منزر رحمہ اللہ ابی حاتم ، طبرانی رحمہ اللہ ابن مردویہ وغیرھم نے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ھے ۔ وہ فرماتی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں جائے استراحت پر تشریف فرما تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی بنی ھوئی چادر زیب تن کی ھوئی تھی ۔ اتنے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ہنڈیا لائیں جس میں خزیرہ (قیمہ اور آٹا پر مشتمل عرب کا اک عمدہ کھانا) تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے شوھر اور اپنے صاحبزادوں کو بلاؤ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بلایا ۔ وہ بھی تناول فرمارہے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت تطہیر نازل ھوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو چادر میں ڈھانپ لیا اور دست مبارک نکال کر آسمان کی طرف اٹھائے اور فرمایا:
"اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے بھی پلیدی اور نجاست دور کر ۔"
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، میں نے چادر اٹھا کر اپنا سر اندر داخل کیا اور عرض کی "یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تو تو پہلے ہی بھلائی پر ھے " مطلب یہ ھوا کہ تم پہلے ہی اہل بیت میں داخل ھونے کی وجہ سے (نجاست سے دوری والی ) بھلائی پر ھو ۔

حضرت حکیم ترمزی رحمہ اللہ اور عصر حاضر کے بعض مؤرخین کی طرف سے خاندان نبوت کو اہل بیت سے خارج کرنا مقتضائے قرآنی کے خلاف ھے ۔
آیات قرآنی کے حقیقی مفہوم سے بلاشبہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما مراد ہیں۔ تاہم خاندان نبوت کے جملہ افراد اسی عنوان میں داخل ہیں ۔
ملاحظہ ھو کہ : كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ 3:110 اس آیت کے اولین مخاطب صحابہ کرام ہیں لیکن امت کے بعد کے لوگوں کو کون خارج کرسکتا ھے۔ اس سے امت محمدیہ کا ہر ہر فرد مراد ھے ۔


اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم یعنی امہات المومنین رضی اللہ عنہم کے فضائل



آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور گھر والیوں کی عظمت شان اور ان کا عالی مقام اک مسلمہ حقیقت ھے ، قرآن عظیم ان کے تقدس و طہارت پر شاہد و عادل ھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ تعالٰی عنہا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو منفرد مقام حاصل ھے ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا وہ ہستی ہیں جنہوں نے دنیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بننے کے بعد سب سے پہلے دیکھا اور آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا ہی وہ خاتون ہیں جن کے کانوں نے سب سے پہلے قرآن عظیم کی تلاوت سنی ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی تصدیق فرمائی ۔

اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت شان پر قرآنی شواہد



يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ
33:32
اے پیغمبر کی بیویو تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا
33:28
وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا
33:29
اے نبی اپنی بیویوں سے کہہ دو اگر تمہیں دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش منظور ہے تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا کر اچھی طرح سے رخصت کر دوں
اور اگر تم الله اور اس کے رسول اور آخرت کو چاہتی ہو تو الله نے تم میں سے نیک بختوں کے لیے بڑا اجر تیار کیا ہے

النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ
33:6
نبی زیادہ مقدم ہے اہلِ ایمان کے لیے ان کی اپنی ذات پر اور نبی کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا
﴿033:033﴾‏
اے (پیغمبر کے) اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی (کا میل کچیل) دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے

الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ
24:26
ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتو ں کے لیے ہیں او رپاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں


1
حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ تعالٰی عنہا


ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی ہیں۔ ان کی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا نکاح نہیں فرمایا ۔ بالاجماع آپ رضی اللہ عنہا پہلی مسلمان خاتون ہیں ۔ کوئی مرد اور عورت ایمان لانے میں آپ رضی اللہ عنہا سے مقدم نہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کے والد کا نام خویلد بن اسد اور والدہ ماجدہ کا نام فاطمہ بنت زاہدہ تھا ۔ قبیلہ قریس سے تعلق رکھتی تھیں اور قریش کی شاخ بنو امیہ کے خاندان سے تھیں ۔ قصئی پر جاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہا کا سلسلہ نسب مل جاتا ھے ۔
(((از الاصابہ،ج4،ص281)))

آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا،نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح سے پہلے ہی طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح ابوہالہ بن زرارہ تمیمی سے ھوا،جس سے ہند اور ہالہ دوبیٹے پیدہ ھوئے ۔ یہ دونوں صاحبزادے شرف صحابیت سے مشرف ھوئے۔ ابوہالہ کے انتقال کے بعد آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح عتیق بن عائد مخزمی سے ھوا اس سے ایک لڑکی پیدہ ھوئی۔ یہ بھی اسلام کے سایہ عاطفت میں آئیں۔ کچھ عرصے بعد عتیق بھی وفات پاگئے اور خدیجہ رضی اللہ عنہا پھر بیوہ ھوگئیں۔
(((زرقانی،،ض3،،ص220)))

نفیسہ بنت منیبہ سے روایت ھے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بڑی مالدار خاتون تھیں۔ جب بیوہ ھو گئیں تو عرب کا ہر شخص آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا متمنی تھا۔ لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہا کا مال تجارت لے کر شام گئے اور عظیم نفع کے ساتھ واپس لوٹے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت اور شرافت کے کئی واقعات اپنے غلام سے سن کر بہت متاثر ھوئیں۔
نفیسہ کا بیان ھے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عندیہ معلوم کرنے کے لئے بھیجا ۔ اس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس سال، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پچیس سال تھی۔ میں (نفیسہ) نے کہا "آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکاح میں کون سی چیز مانع ھے"۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ۔ میں نے کہا اگر آپ اس فکر سے کفایت کردئے جائیں تو ۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کوئی عزر نہ ھوگا۔ انہوں نے کہا کہ جس عورت کی خواہش ھے اس کا نام خدیجہ ھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کر لیا۔
(((الاصابہ،،ض4،،ص282)))

نکاح کی مجلس میں ورقہ بن نوفل بھی تھے خطبہ نکاح مسلک ابراہیمی پر ابوطالب نے پڑھا۔ ولیمہ کا خرچ بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اٹھایا ۔ ایک گائے زبح کرائی اور کھانا پکا کر مہمانوں کو کھلایا ۔ آپ رضی اللہ عنہا کا مہر بیس اونٹ یا پانچ سو درہم مقرر ھوا۔

آپ رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چار صاحبزادیاں ،زینب رضی اللہ عنہا، رقیہ رضی اللہ عنہا، ام کلثوم رضی اللہ عنہا ، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دو صاحبزادے حضرت قاسم رضی اللہ عنہ اور حضرت طاہر رضی اللہ عنہ پیدہ ھوئے ۔
آپ رضی اللہ عنہا کی وفات بعثت نبوی کے دسویں سال اور ھجرت مدینہ سے تین سال پیشتر مکہ میں ھوئی ۔ مقام حجون پر دفن ھوئیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قبر میں اتارا ۔ پچیس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں رہ کر پینسٹھ سال کی عمر مبارک میں دار فانی سے کوچ کیا ۔
بخاری اور مسلم کے مطابق جبرائیل علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعے آپ رضی اللہ عنہا کو اللہ کا سلام پہنچایا ۔

2
ام المومنین حضرت سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا


حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد آپ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں ۔ والدہ کا نام شموس بنت قیس بن عمرو بن زید انصاریہ اور والدہ کا نام زمعہ تھا ۔ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا قبیلہ بنی نجار انصاریہ سے تعلق رکھتی تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح بعثت کے دسویں سال یعنی ھجرت سے تین سال پہلے ھوا ۔ آپ رضی اللہ عنہا کا مہر چار سو درہم مقرر کیا گیا ۔ آپ رضی اللہ عنہا کی وفات تئیس ھجری میں عہد فاروقی میں ھوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہا کی قبر جنت البقیع مدینہ منورہ میں ھے ۔
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بنت زمعہ کا سلسلہ نسب لوئی بن غالب پر پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ھے ۔ آپ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح چچازاد ،سکران بن عمرو سے ھوا تھا۔ اس سے آپ رضی اللہ عنہا کے ایک صحبزادے ،عبدالرحمٰن تھے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں جنگ جلولاء میں شہید ھوئے ۔
آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے رکھی تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہا کا قد لمبا اور بدن فربہ تھا ۔


3
ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا


آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رفیقہ حیات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وہ جلیل القدر خاتون ہیں ، جن کی تقدیس و تطہیر کے لئے قرآن پاک کی سترہ آیات نازل ہوئیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کے خلاف جب منافقین مدینہ نے بے بنیاد الزام لگایا تو بارگاہ الٰہی سے پاکبازی کا اعلان کیا گیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے قلبی محبت اور گہرے تعلق کا بار بار ذکر فرمایا ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے والد مسلمانوں کے پہلے خلیفہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی معتمد رفیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کی والدہ ماجدہ زینب ام رومان بنت عامر کے نام سے مشہور ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں صرف حجرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی ایسی خاتون ہیں جو کنواری تھیں اور رخصتی کے وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک نو سال تھی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہجرت سے تین سال قبل جب کہ آپ رضی اللہ عنہا کی عمر چھ سال تھی اور رخصتی نوسال کی عمر میں مدینہ منورہ میں ھوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہا کے لئے مہر چارسو درھم مقرر کیا گیا ۔
آپ رضی اللہ عنہا نوسال آنحجرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اڑتالیس سال زندہ رہ کر چھیاسٹھ سال کی عمر میں ستاون ھجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا شمار اسلام کی جلیل القدر خواتین میں ھوتا ھے ۔ آپ رضی اللہ عنہا کا علم و فضل اور تقوٰی و طہارت ضرب المثل بن گیا ھے ۔

سیدہ عائشہ صدیقہء کائنات رضی اللہ عنہا کے چند فضائل
1-
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے کسی عورت سے اس وقت تک نکاح نہیں فرمایا جب تک جبرائیل امین ، اللہ کی طرف سے وحی لے کر نہ آگئے ھوں ۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں بھی یہی صورت پیش آئی۔

2-
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور یہ کہا اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کردیا ھے
(((بخاری و مسلم بحوالہ زرقانی، ج3)))

3-
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جبرائیل علیہ السلام تم کو سلام کہتے ہیں ۔ میں نے کہا واعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاۃ اور میں نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے ہیں میں نہیں ۔

4-
حجرت ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، آنحجرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مردوں میں سے بہت سے لوگ کمال کو پہنچے مگر عورتوں میں مریم بنت عمران علیہ السلام اور آسیہ علیہ السلام بنت مزاحم کے علاوہ کوئی کمال کو نہ پہنچا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ھے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر ۔
((( صحیح بخاری ،،کتاب المناقب)))

5-
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں مجھے اللہ تعالٰی نے دس ایسے کمال نصیب کئے ہیں جو حضرت مریم علیہ السلام کے علاوہ کسی کو عطا نہیں ھوئے۔

* میرے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی باکرہ (کنواری) عورت سے نکاح نہیں فرمایا ۔
*نکاح سے پیشتر فرشتہ میری تصویر لے کر نازل ھوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھاکر کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ھے ،اللہ تعالٰی کا حکم ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نکاح کریں ۔
*رسول صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ مجھ سے محبت فرماتے تھے ۔
*مردوں میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھا میں اس کی نیٹی ھوں ۔
*آسمان سے میری برائت میں سترہ آیات نازل ھوئیں۔
*میں نے جبرائیل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھا۔
*میرے بستر پر جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے۔
*میری باری دو رات اور دو دن تھی ۔ باقی ازواج کی باری صرف ایک دن اور ایک رات آتی تھی۔
*انتقال کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری گود میں تھا ۔
*انتقال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں مدفون ھوئے ۔


4
حضرت ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا


بنت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

آپ رضی اللہ عنہا کی والدہ زینب بنت نطعون اور والد سیدنا فاروق اعظم عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح خنیس بن حزافہ سہمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ھوا ۔ غزوہ بدر کے بعد جب خنیس کا انتقال ھوا تو حجرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حفصہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کی پیشکش کی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس سے بہتر بیوی اور حفصہ رضی اللہ عنہا کو عثمان رضی اللہ عنہ سے بہتر خاوند ملے گا ۔


چنانچہ چند روز بعد عثمان رضی اللہ عنہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صاحبزادی حجرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح ھوگیا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زوجیت میں لے لیا ۔ آپ رضی اللہ عنہا کا مہر بھی چارسو درھم مقرر ھوا ۔ یہ نکاح دو ھجری میں ھوا۔

ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر نازل ھوئے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے رجوع کرلیجئے ۔ وہ بڑی روزہ رکھنے والی اور عبادت گزار خاتون ہیں اور جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ھے ۔
(((الاصابہ ،ج4،،ص253)))

پانچ جمادی الثانی پینتالیس ھجری میں عہد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں آپ رضی اللہ عنہا کی وفات ھوئی ۔مروان بن حکم نے آپ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی۔

5
ام المومنین حضرت سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا

لقب ام المساکین


والد کا نام خزیمہ بن حارث ہلالی اور والدہ کا نام ھند بنت عوف تھا ، نکاح کے وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر تیس سال تھی تین ھجری رمضان میں بیس درھم ایک سو بارہ اوقیہ مہر کے عوض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آئیں ۔

فیاضی کی وجہ سے ام المساکین کے نام سے پکاری جاتی تھیں ۔ پہلا نکاح عبداللہ رضی اللہ عنہ بن جحش سے ھوا ۔ غزوہ احد میں عبداللہ رضی اللہ عنہ بن جحش کی شہادت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں ۔ نکاح کے چند ماہ بعد چار ھجری کو مدینہ منورہ میں وفات پائی ۔ آپ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی۔ وفات کے وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک تیس سال تھی ۔
(((زرقانی،،ج3،،ص249)))


6
ام المومنین حضرت سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا


آپ رضی اللہ عنہا کا اصلی نام ہند تھا ۔ ابو امیہ قریشی مخزومی کی بیٹی تھیں ۔ ماں کا نام عاتکہ بنت عامر بن ربیہ کنعانی تھا ۔ پہلا نکاح چچا زاد بھائی ابو سلمہ بن عبدالاسد مخزومی سے ھوا ۔ آپ رضی اللہ عنہا کے خاوند ابوسلمہ رضی اللہ عنہ غزوہ احد کے بعد ایک زخم کے ابھرنے سے شہید ھوگئے ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں شہادت سے چند روز قبل میرے شوہر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ گھر آئے اور کہا آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اک حدیث سن کر آرہا ھوں ۔ یہ حدیث میرے لئے دنیا و مافیہا سے بہتر ھے ۔ وہ یہ کہ جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے وہ اناللہ پڑھے اور اس کے بعد یہ دعا مانگے۔:

اللھم عندک احتسب مصیبتی ھذہ اللھم اخفی بخیر منھا
(((مسلم و ترمزی )))
"اے اللہ میں تجھ سے اپنی اس مصیبت میں اجر کی امید رکھتا ھوں ۔ اے اللہ مجھ کو اس کا نعم البدل عطاء فرما۔"
(((بحوالہ سیرت مصطفٰی ،ج3،،ص205)))

تو اللہ تعالٰی ضرور اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا ۔

ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ابو سلمٰی رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد یہ حدیث مجھ کو یاد آئی تو سوچا کہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر مجھ کو کون ملے گا مگر چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تھا ،پڑھ لیا ۔ چنانچہ یہ دعا بارگاہ الٰہی میں قبول ھوئی اور عدت گزارنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو نکاح کا پیغام دیا تو میں نے چند عزر پیش کئے کہ میری عمر زیادہ ھے ۔ میرے یتیم بچے میرے ساتھ ہیں ۔ میں غیرت کی وجہ سے حوصلہ نہیں پاتی ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا میری عمر تجھ سے زیادہ ھے ۔ تمہارہ کنبہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کنبہ ھے ۔ میں اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ نازک مزاجی جس کا تمہیں اندیشہ ھے ، تم سے جاتی رہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اور وہ احساس ختم ھوگیا۔
ماہ شوال چار ھجری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ زوجیت میں شامل ھوئیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کا مہر دس درھم مقرر ھوا اور آپ رضی اللہ عنہا کی وفات بیس رجب باسٹھ ھجری میں مدینہ منورہ میں ھوئی۔
(((از سیرت مصطفٰی،،ج3،،ص206)))

7
ام المومنین حضرت سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا


والدہ کا نام امیمہ بنت عبدالمطلب تھا ۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ھوا ۔ اس سے طلاق کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سب سے پہلے ازواج میں بیس ھجری میں آپ رضی اللہ عنہا کی وفات ھوئی ۔ ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکاح آسمانوں‌پر ھوا جو قرآن کریم کی اس آیت سے صاف ظاھر ھے ۔

فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا
33:37

نکاح کے وقت زینب رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک پینتیس سال تھی ۔ یہ واقعہ پانچ ھجری میں پیش آیا ۔ یہ واقعہ سیرت کی تمام کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مرقوم ھے۔


8
ام المومنین حضرت سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہ



آپ رضی اللہ عنہا کا اصل نام رملہ رضی اللہ عنہ اور والدہ کا نام صفیہ بنت ابوالعاص تھا ۔ یہ قریش کے مشہور سردار ابو سفیان رضی اللہ عنہ بن حرب اموی قریشی کی صاحبزادی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح عبداللہ بن جحش سے ھوا ۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ہاں عبداللہ کی ایک بچی حبیبہ پیدہ ھوئی ۔ اسی کنیت سے آپ رضی اللہ عنہا مشہور ھوگئیں ۔ کچھ عرصہ بعد عبداللہ نے حبشہ کی طرف ھجرت کی ۔ وہاں آپ رضی اللہ عنہ کا خاوند عبداللہ عیسائی ھوکر مرتد ھوگیا ، تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہ اسلام پر قائم رہیں ۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عبداللہ سے علٰحدگی کے کچھ عرصہ بعد میں نے خواب دیکھا کہ کوئی شخص مجھے ام المومنین کہہ کر پکار رہا ھے جس سے میں گھبرا کر اٹھی ۔ عدت ختم ھوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کا پیغام بھیج دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کے نجاشی بادشاہ کے نام پیغام بھیجا کہ اگر ام حبیبہ رضی اللہ عنہا مجھ سے نکاح کرنا چاھیں تو تم میری طرف سے وکیل بن کر نکاح کر کے مدینہ منورہ روانہ کردو ۔
نجاشی بادشاہ جو کافی عرصہ پہلے ہی مسلمان ھوچکا تھا اس نے اس نکاح کو سعادت سمجھ کر ،مہر بھی اپنی طرف سے چار سو دینار ادا کیا اور انہیں ام المومنین رضی اللہ عنہا کی حیثیت سے مدینہ منورہ روانہ کیا ۔
(((از سیرت مصطفٰی ،ج3،،ص241)))

9
ام المومنین حضرت سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بنت حارث بن ضرار


جویریہ رضی اللہ عنہا کا اصل نام برہ رضی اللہ عنہا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر جویریہ رضی اللہ عنہا رکھ دیا ۔ یہ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ضرار کی صاحبزادی تھیں ۔ پہلا نکاح مسافح بن صفوان مصطلق سے ھوا جو غزوہ مریسیع میں مارا گیا ۔ اس غزوہ میں حضرت جویریہ رضٰ اللہ عنہا بھی قید ھوکر آئیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کرکے چارسو درھم مہر میں اپنی زوجیت میں لے لیا ۔
اس وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک بیس سال تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے پینسٹھ برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی ۔

10
ام المومنین حضرت سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حی اخطب


آپ رضی اللہ عنہا بنی نضیر کے سردار حی بن اخطب کی صاحبزادی تھیں ۔ ماں کا نام حزہ بنت سموئیل تھا ۔ حی حضرت ھارون علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے ۔ صفیہ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح سلام بن مشکم قرظی سے ھوا ۔ سلام کے طلاق دینے کے بعد کنانہ بن ابی الحقیق کے حبالہ عقد میں آئیں کنانہ غزوہ خیبر میں قتل ھوا ۔ آپ رضی اللہ عنہا گرفتار ھوئیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کرکے اپنی زوجیت میں لے لیا ۔ آپ رضی اللہ عنہا کی آزادی ہی آپ رضی اللہ عنہا کا مہر قرار پایا ۔
(((صحیح بخاری)))

خیبر سے واپسی پر مقام صیہاء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین کی دعوت ولیمہ فرمائی اس ولیمہ میں صرف ستو اور پنیر شامل تھا ۔ اس دعوت میں گوشت اور روٹی نام کو نہ تھا ۔
(((از عیوان الاثر و بخاری و مسلم )))

آنحجرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکاح کے وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک سترہ سال اور سن سات ھجری تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے باسٹھ سال عمر پاکر چار رجب پچاس ھجری کو مدینہ منورہ میں وفات پائی ۔


11
ام المومنین حضرت سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بنت حارث


والدہ کا نام ہند اور والد کا نام حارث تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہا کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح سات ھجری میں مکہ مکرمہ کے مقام سرف میں ھوا ۔ تعجب ھے کہ جہاں نکاح ھوا تھا وہیں اکیاون ھجری میں دفن ہوئیں اور نماز جنازہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، یزد بن آصم اور عبداللہ بن شداد نے قبر میں اتارہ ۔ یہ تینوں آپ کے بھانجے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہا کا مہر پانچ سو درھم مقرر ھواتھا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے کل اسی سال کی عمر پائی ۔

ان گیارہ خواتین کو اسلام میں اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر والیں، ازواج مطہرات اور امہات المومنین کے مقدس لقب سے یاد کیا جاتا ھے ۔ ان کی عظمت اور فضیلت سے قرآن اور احادیث کے گلدستے مہک رہے ہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کے نزدیک ان ماؤں کا رتبہ حقیقی ماؤں سے بھی افضل و برتر ھے ۔ کیونکہ ان تمام ازواج مطہرات کو اللہ تعالٰی نے خود مسلمانوں‌کی مائیں قرار دیا ھے ۔ ان گیارہ ازواج کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین باندیاں بھی تھیں جن کا نام حسب ذیل ھے ۔

1-
حضرت سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا


آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ انہی کے بطن سے تھے ۔ ماریہ رضی اللہ عنہا کو مقوقس کے بادشاہ اسکندر نے بطور نزرانہ بھیجا تھا ۔ حضرت ماریہ رضٰ اللہ عنہا کا انتقال عہد فاروقی میں سولہ ھجری میں ھوا۔ آپ رضٰ اللہ عنہا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آٹھ ھجری میں تشریف لائیں ۔

2-
حضرت سیدہ ریحانہ رضی اللہ عنہا بنت شمعون


یہ بنی قریظہ کی جنگ میں اسیر ھوکر آئیں ۔ حجۃ الوداع میں سن دس ھجری میں آپ رضٰ اللہ عنہا کی وفات ھوئی ۔ ایک قول کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرکے نکاح فرمایا تھا ۔

3-
حضرت سیدہ نفیسہ رضی اللہ عنہا


یہ دراصل حضرت ام المومنین زینب رضی اللہ عنہا بنت جحش کی لونڈی تھیں ۔ یہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کردی تھیں۔
(((زرقانی،،ص271،،ج3)))


آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے


جیسا کہ گزشتہ سطور میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تین صاحبزادے تھے ۔

1- حضرت سیدنا قاسم رضی اللہ عنہ
2- حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ (حضرت طیب اور طاھر رضی اللہ عنہ )
3- حضرت سیدنا ابراہیم رضٰ اللہ عنہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تینوں صاحبزادے بچپن میں ہی فوت ھوگئے تھے ۔ شہزادگان رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت ابراہیم زیادہ مشہور ھوئے ہیں ۔ جب آپ رضی اللہ عنہ بیمار ھوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سخت غمگین ھوگئے۔ بخاری شریف میں ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو انکی سخت بیماری اور آخری وقت ہاتھوں میں لے کر فرمایا :

یا ابراھیم انا بفراقک لمحزونین
"اے ابراہیم ہم تیرے غم میں بہت پریشان ہیں "

آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال سولہ ماہ کی عمر میں سولہ ربیع الاول سن دس ھجری میں ھوا ۔ جنت البقیع میں مدفون ھوئے ۔

حضرت قاسم رضی اللہ عنہ سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد محبت تھی ۔ انہی کے نام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابوالقاسم مشہور ھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک سال پانچ ماہ زندہ رہ کر طائف میں فوت ھوئے ۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سب سے پہلے پیدہ ھوئے ۔

عبداللہ رضٰ اللہ عنہ نبوت کے بعد مکہ معظمہ میں پیدہ ھوئے ۔ ایک سال چھ ماہ آٹھ روز زندہ رہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی وفات بھی طائف میں ھوئی۔


آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے نواسیاں



حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا

آپ رضی اللہ عنہا کی فضیلت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری بیٹیوں میں زینب رضی اللہ عنہا سب سے بہترین ھے ۔ حضرت زینب رضٰ اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں سب سے بڑی تھیں ۔
خیر البنات زینب رضی اللہ عنہا بعثت نبوی سے دس سال قبل پیدہ ھوئیں ۔ اپنے خالہ زاد ، قاسم ابوالعاص بن ربیع اموی سے آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح ھوا ۔ آپ رضی اللہ عنہا کے لڑکے کا نام علی رضی اللہ عنہ اور لڑکی کا نام امامہ رضٰ اللہ عنہا تھا ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسوں میں علی رضی اللہ عنہ سب سے بڑے تھے ۔
طبقات ابن سعد کی روایات کے مطابق فتح مکہ میں خانہ کعبہ کے بت گراتے وقت یہی علی رضی اللہ عنہ بن ابوالعاص ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر سوار ھوئے۔
(((طبقات ابن سعد رحماء بینھم)))
متعدد روایات میں ھے کہ نواسہ رسول علی رضی اللہ عنہ اس وقت سات سال کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطور ردیف کے سوار ھوکر مدینہ منورہ سے مکہ ھئے تھے ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی نواسی امامہ رضی اللہ عنہ بنت ابوالعاص ہیں ۔ غزوہ بدر میں مال غنیمت کی تقسیم کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی امامہ رضی اللہ عنہ کے گلے میں ہار ڈالا تھا ۔
(((صحیح بخاری)))

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وصیت کے مطابق جب آپ رضی اللہ عنہا کی وفات ھوئی تو حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے انہی امامہ رضی اللہ عنہ سے شادی کی ۔ یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حقیقی بھانجی تھیں ۔ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت علی رضٰ اللہ عنہ کی زوجہ ھوئیں اور بڑی صاحبزادی حضرت زینب رضٰ اللہ عنہا ، علی رضی اللہ عنہ کی خوش دامن یعنی ساس قرار پائیں (سبحان اللہ) ۔ ساس بہر صورت ماں کے درجہ میں ھوتی ھے ۔ (ایک طبقہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت فاطمہ رضٰ اللہ عنہ کو تو یاد رکھتا ھے اور حجرت علی رضی اللہ عنہ کی ماں (ساس) حضرت زینب رضٰ اللہ عنہا کا سرے سے انکار کردیتا ھے ۔((یاللعجب))۔۔۔)
حضرت علی بن ابوالعاص رضی اللہ عنہما کے بارے میں ایک قول ھے کہ وہ معرکہ یرموک میں شہید ھوئے ۔
امامہ رضی اللہ عنہا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت محبت کرتے تھے ۔ امامہ رضی اللہ عنہا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مانوس تھیں ۔ بعض اوقات نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوش پر چڑھ جایا کرتیں تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آہستہ سے ان کو اتار دیتے تھے ۔
(((بخاری و مسلم )))

ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہار آیا ۔ تمام اہل بیت اس وقت جمع تھے ۔ امامہ رضی اللہ عنہا گھر کے ایک گوشے میں کھیل رہیں تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "یہ میں اپنے محبوب ترین اہل کو دوں گا "۔ سب کا گمان یہ تھا کہ یہ ہار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ملے گا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور اول ان کی آنکھوں کو اپنے دست مبارک سے پونچھا اور پھر وہ ہار ان کے گلے میں‌ڈالا ۔
(((مسند احمد و طبقات ابن سعد )))

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں حضرت امامہ رضٰ اللہ عنہا کے ہاں یحییٰ اور زید پیدہ ھوئے ۔ حضرت علی المرتضٰی رضٰ اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق ، آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ، امامہ رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت مغیرہ سے ھوئی ۔
(((زرقانی،،ج3،،ص195)))

حضرت سیدہ رقیہ و حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا


ابتداء میں حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا ،ابولہب کے دو لڑکوں سے منسوب تھیں ۔ سورہ تبت یداہ کے نزول کے بعد رخصتی سے قبل ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے کے لئے ابولہب نے طلاق دلوادی تھی۔ بعد ازاں دونوں صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان غنی رضٰ اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ایک ایک لڑکا عبداللہ رضی اللہ عنہ پیدہ ھوا۔ یہ بچہ چھ سال کی عمر میں فوت ھوگیا تھا ۔ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال بیس سال کی عمر مبارک میں ھوا۔
تین ھجری میں‌حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا بھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ اسی طرح حضرت عثمان ذولنورین رضی اللہ عنہ کہلائے ۔
چھ سال تک آپ رضی اللہ عنہ کے عقد میں رہ کر ، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سن نو ھجری میں فوت ھوئیں ۔


حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا


آپ رضی اللہ عنہا کا نام مبارک فاطمہ رضی اللہ عنہا تھا اور لقب زہراء تھا ۔ زہد اور دنیا کی بے رغبتی کی وجہ سے بتول بھی کہا جاتا ھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری سالوں میں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد میں سے صرف آپ رضی اللہ عنہا ہی زندہ تھیں ۔ سب سے چھوٹی اور خوشحالی کے زمانے میں موجود ھونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بے حد محبت تھی ۔ سن دو ھجری میں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح ھوا۔ مہر کی تمام رقم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ادا کی اور نکاح کے گواہ حضرت ابوبکر صدیق رضٰ اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بن عوف قرار پائے ۔ شادی کا تمام سامان بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فراہم کیا ۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک سے کل پانچ بچے پیدا ھوئے ۔ جن میں تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں ۔

*حضرت زینب رضی اللہ عنہا
*حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
*حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
*حضرت حسن رضی اللہ عنہ
*حضرت حسین رضی اللہ عنہ
*حضرت محسن رضی اللہ عنہ


حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بے شمار فضائل احادیث کی کتب میں موجود ہیں ۔

آپ رضی اللہ عنہا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چھ ماہ بعد ہی دنیا سے رخصت ھوگئیں ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی ۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ،عبادت گزار ، شب بیدار ، اور نہایت پاک باز خاتون تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کو ساری کائنات کے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کا ٹکڑا ھونے کا شرف عظیم حاصل ھے ۔



آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور نواسیاں


1-حضرت علی بن قاسم ابوالعاص بن ربیع اموی رضی اللہ عنہ
2-حضرت عبداللہ بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ
3-حضرت حسن بن علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ
4-حضرت حسین بن علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ
5-حضرت محسن بن علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ
6-حضرت امامہ رضی اللہ عنہا بنت ابوالعاص ۔ آپ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے اور دوسرا نکاح ، مغیرہ رضی اللہ عنہ سے ھوا۔
7-حضرت زینب بنت علی رضی اللہ عنہا، آپ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے ھوا۔
8-حضرت رقیہ بنت علی رضی اللہ عنہا ، بچپن میں ہی فوت ھوگئیں۔
9-حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ، آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ھوا۔


آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان لانے والے چچا


* حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ

* حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ



آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان لانے والے چچا زاد بھائی


* حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ

* حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ

* حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ

* حضرت عقیل بن ابوطالب رضی اللہ عنہ

* حضرت عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ

* حضرت قیم بن عباس رضی اللہ عنہ



آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھیاں


1-حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا
2-حضرت امیمہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا



آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد مکرم حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا برگزیدہ ترین ہستیاں ہیں ۔ ان کی عظمت شان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ شان و مقام سے ظاھر ھے ۔


آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزکورہ بالا جملہ اقارب ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت ہیں ۔ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہم اجمٰعین کو امت کی ماؤں کا درجہ حاصل ھے ۔ ظاہر ھے ماں کے ہم پلہ پورے خاندان میں اور کوئی نہیں ھوتا ۔


مضمون نگار ابو ریحان شہید رحمہ اللہ


حسین
sahj
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 158
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (16-12-10), ابوسعد (16-12-10), شمشاد احمد (16-12-10)
پرانا 16-12-10, 03:02 PM   #2
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,682
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ خیرا حسین بھائی بہت اچھی اور معلوماتی تحریر پوسٹ کی ہے۔
اللہ سب آلِ محمدﷺ پر اپنی خاص رحمت اور برکتیں نازل فرمائے آمین
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (16-12-10)
پرانا 16-12-10, 04:26 PM   #3
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,140
شکریہ: 7,300
5,973 مراسلہ میں 15,158 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ بہت اچھی معلومات ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واقعی یہی سب اہل بیت ہیں
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (16-12-10), ابوسعد (16-12-10)
پرانا 16-12-10, 05:30 PM   #4
Senior Member
 
ابوسعد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مقام: فوق الارض
عمر: 36
مراسلات: 456
کمائي: 10,514
شکریہ: 1,763
319 مراسلہ میں 856 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابوسعد کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ما شاء اللہ بہت ہی معلومات افز امضمون ہے اور بڑی محنت سے لکھا گیا ہے اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے
ابوسعد آف لائن ہے   Reply With Quote
ابوسعد کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (16-12-10)
پرانا 16-12-10, 05:41 PM   #5
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاء اللہ ساہج بھائی بہت ا‌چھے مضمون کا انتخاب کیا ہے؟ اللہ تعالی ‏آپ کی اس سعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (16-12-10)
پرانا 17-12-10, 10:26 AM   #6
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد عاصم مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ خیرا حسین بھائی بہت اچھی اور معلوماتی تحریر پوسٹ کی ہے۔
اللہ سب آلِ محمدﷺ پر اپنی خاص رحمت اور برکتیں نازل فرمائے آمین
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ بہت اچھی معلومات ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واقعی یہی سب اہل بیت ہیں
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابوسعد مراسلہ دیکھیں
ما شاء اللہ بہت ہی معلومات افز امضمون ہے اور بڑی محنت سے لکھا گیا ہے اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
ماشاء اللہ ساہج بھائی بہت ا‌چھے مضمون کا انتخاب کیا ہے؟ اللہ تعالی ‏آپ کی اس سعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔
السلام علیکم بھائیو

مزید دعاؤں کی درخواست ھے

جزاک اللہ خیرا

والسلام
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-12-10), شمشاد احمد (17-12-10)
جواب

Tags
گمان, وصیت, قید, قرآن, نماز, مکہ, منافقین, ماں, آئینہ, اہل بیت, اردو, اردو لغت, حدیث, خواتین, خدا, دعا, روزہ, رمضان, عورت, عقد, علی المرتضٰی, عبادت, عشق, غزوہ بدر, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ª!ª قرآن و سنت کی رو سے سجدہ تعظیمی اور سجدہ عبودیت کا فرقª!ª آبی ٹوکول عمومی بحث 42 19-07-10 07:40 PM
جوہری تعاون پر بات چیت سے کافی مطمئین ہیں کنعان پاکستان کے ہیروز 1 26-03-10 10:03 AM
::::: فرقہ اور فرقہ واریت ، تعریف ، مفہوم ، فرقہ ناجیہ صفات اور نشانیاں ::::: عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 12 01-04-09 02:32 AM
عالمی برادری جمہوریت کے استحکام کیلئے تعاون کرے،فہمیدہ مرزا اسلام آباد( نم عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 07:41 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:50 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger