![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 835
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
آپ نے درست کہا ، سعود بھائی ،اکثر غیر مسلم اس معاملے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کا موقع بنانے کی کوشش کرتے ہیں ، اور ان کی اس حرکت سے زیادہ دکھ کی بات یہ کہ کچھ مسلمان ان کی ہرز سرائی کے جواب میں حکمت والی بات کی بجائے اس حقیقت سے انکار ہی کر دیتے ہیں ، اور طرح طرح کی تاویلیں کرتے نظر آتے ہیں ، مختصرا اس کا جواب علما امت کی طرف سے یہ میسر ہے کہ اللہ کے کئی اور احکامات کی طرح اس معاملے کی حکمت امت محمدیہ علی صاحبھا الصلاۃ و السلام کے لیے ایک اہم معاملے میں آسانی پیدا کرنا ہے ، اور کسی ایمان والے کے دل میں کسی معاشرتی سوچ یا کسی اور سبب سے اس کے بارے میں کوئی شبہہ نہ ہونے پائے ، اس لیے یہ کام خود اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ذریعے کروا دیا ، اب مسلمانوں میں سے جو کوئی اس معاملے سے کوئی منفی تاثر لیتا ہے تو وہ سب سے پہلے اپنے ایمان کی خبر گیری کرے ، بھائی سعود میں نے بہت مختصرا آپ کی بات کو جواب دیا ہے ، اس موضوع ہر کافی طویل مباحث کا مطالعہ کئی سال پہلے کیا تھا ، اگر آپ کو مزید کوئی سوال کرنا ہو تو ضرور کیجیے ، ان شا اللہ مفصل جواب دینے کی کوشش کروں گا ، ایک گذارش ہے کہ سوال جس قدر ممکن ہو وضاحت سے کیجیے گا ، تا کہ جواب زیادہ سے زیادہ مطلوبہ معلومات میں سے ہی ہو ، و اللہ ولی التوفیق ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (04-07-09), فیصل ناصر (27-03-09), میاں شاہد (27-03-09), ام غزل (27-03-09), تفسیر حیدر (03-04-09), راجہ اکرام (02-04-09), سعود (27-03-09) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
میرے بھائی ! سعود بھائی کا تو پتہ نہیںکیا جاننا چاہیں ؟مگر ، میں یہ جاننا چاہتی ہوںکہ اس عقد کے پیچھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا کیا مقصد اور کیا وجوہات بتائی گئی ہیں،ہو سکے تو تفصیل سے آگاہ کریں ۔ اللہ آپ کو اجرٍ عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔ |
|
|
|
|
|
#4 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 136
کمائي: 2,430
شکریہ: 371
76 مراسلہ میں 160 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مزید یہ کہ ایک غیر مسلم اس کے متعلق سوال کرے تو اُسے اس بارے میں کیسے سمجھایا جائے؟ میں نے ایک محفل میں سنا تھا کہ "سعودی عرب کا موسم بہت گرم ہے اور اُن کی غذا (کھجور )بھی۔ اس وجہ سے وہاں لڑکیاں کم سنی میںبلوغت کو پہنچ جاتی ہیں۔" |
|
|
|
|
| سعود کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (02-04-09) |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اس موضوع پر شارع صحیح مسلم شریف نے بہت اچھا کام کیا ہے اور اس "مشہور" بات کی تردید کی ہے کے بوقت رخصتی حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی عمر صرف نو سال تھی۔ اگر فرصت ملی تو پیش کردوں گا۔
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
میںاحادیث کی کتب سے کچھ ثبوت پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عقد و رخصتی کی عمر بہت سی دوسری روایات سے ثابت نہیں ہوتی۔
والسلام |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک 6 یا 7 سال کی دلہن تھیں؟ ایک پرانی روایت کی حقیقت
-------------------------------------------------------------------------------- (یہ اقتباس ایک دوسرے تھریڈ میں لکھا گیا تھا۔ افادیت کے کئے یہاںمنتقل کردیا گیا ) کیا عائشہ ایک 6 یا 7 سال کی دلہن تھیں؟ ایک پرانی روایت کی حقیقت ٹی۔ او ۔ شاہنواز ٹی ۔او۔ شاہنواز ۔ ، مشی گن اسٹیٹ میں ایک پیشہ ور ڈاکٹر ہیں ۔ ان کا یہ مضمون منارات نامی رسالہ میں مارچ 1999 میں شائع ہوا۔ اسٌ پوسٹ: Was Ayesha A Six-Year-Old Bride? ( مضمون لمبا ہے اور اس میں8 دلائل ہیں۔ صرف ایک یہاں درج کر رہا ہوں۔ دوسرے حضرات پسند کریں تو دوسرے دلائل کا ترجمہ بھی یہاںدرج کرسکتے ہیں۔ فاروق) حضرت عائشہ کی عمر اور حضرت اسماء کی عمر کی نسبت بقول عبدالرحمن ابن ابی الذناد۔ حضرت اسماء، حضرت عائشہ سے دس سال بڑی تھیں۔ (سیار العلم النبالہ، الذہابی، جلد 2، ص 289 عربی۔ موسستہ الرسالہ، بیروت، 1992) بقول ابن کثیر: حضرت اسماء اپنے بہن حضرت عائشہ سے 10 سال بڑی تھیں۔ (البدایہ والنہایہ، ابن کثیر، جلد 8، ص371، دار الفکر العربی الجزاہ، 1933) بحوالہ ابن کثیر: حضرت اسماء نے اپنے بیٹے کو 73ھ میں مرتے ہوئے دیکھا۔ اور پھر 5 دن، یا 10 دن یا 20 دن یا' کچھ دن' یا 100 دن بعد( دنوں کی تعداد مورخ یا محدث پر منحصر ہے) انکی وفات 100 برس کی عمر میں ہوئی۔ (البدیاہ والنہایہ، ابن کثیر، جلد 8، ص 372، دار الفکر العربی، الجزاہ، 1933) بحوالہ ابن حجار الاثقلینی،:حضرت اسماء - 100 سو برس زندہ رہیں اور 73ھ یا 74 ھجری میں وفات پائی۔ (تقریب التہذیب، ابن حجار الاثقلینی، ص 654، عربی۔ باب فی النساء، الحرف الیف، لکھنئو) تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت اسماء کی وفات - سو برس کی عمر میں 73ھ یا 74 ھ میں ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ھجرت کے وقت، 27 یا 28 برس کی تھیں۔ جس کے حساب سے حضرت عائشہ کی عمر ھجرت کے وقت 17 یا 18 سال اور رسول اللہ کے گھر 19 یا 20 سال کی عمر سے رہنا شروع کیا۔ حجار، ابن کثیر، اور عبدالرحمن کی درج روایات کے مطابق، حساب کرنے سے ، حضرت عائشہ کی عمر ، شادی کے وقت 19 یا 20 سال بنتی ہے۔ ہشام بن عروہ حضرت عائشہ کی عمر کا تعین، مختلف روایات میں نکاح کے وقت 6، 7، 9 ، 12 یا 13 سال کرتے ہیں؟ تو یہ بتائیے کہ شادی کے وقت حضرت عائشہ کی عمر 17 یا 18 یا 19 یا 20 سال ہے؟ یا درست عمر 6، 7، 9 اور 12 سال ہے؟ نتیجہ: ہشام بن عروہ کی روایات کہ حضرت عایشہ کی عمر 6 یا 7 سال تھی اگر درست ہے تو پھر حجار، ابن کثیر اور عبدالرحمن درست نہیں۔ یہ واضح ہے کہ حضرت عائشہ کی نکاحکے وقت عمر، روایات میں لکھی کچھ ہیں اور حساب سے کچھ اور بنتی ہیں۔ مندرجہ بالا اقتباس ٹی۔ او ۔ شاہنواز کے مضمون سے لیا گیا۔ میرا نوٹ: لگتا ہے کہ کوئی نہ کوئی گڑبڑ کی گئی ہے یا ہوئی ہے۔ ممکن ہےکہ کتابت کی غلطی کی وجہ سے بھی کسی وقت کسی کتاب میں 19 کی جگہ 9 سال کتابت ہوگیا۔ اور پھر اس کتاب کی تقلید ہوتی رہی۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
اب اس امر کی رو سے دیکھئے۔ کہ یہ راوی ہی وہ واحد لوگ نہیں ہیں جو اس روایت کو پیش کررہے ہیں۔ کچھ لوگ اور بھی ہیں جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر کا حساب رکھا ہو اہے۔
1۔ حضرت اسماء حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بڑی بہن ہیں جس کی یہ روایتیں موجود ہیں بقول عبدالرحمن ابن ابی الذناد۔ حضرت اسماء، حضرت عائشہ سے دس سال بڑی تھیں۔ (سیار العلم النبالہ، الذہابی، جلد 2، ص 289 عربی۔ موسستہ الرسالہ، بیروت، 1992) بقول ابن کثیر: حضرت اسماء اپنے بہن حضرت عائشہ سے 10 سال بڑی تھیں۔ (البدایہ والنہایہ، ابن کثیر، جلد 8، ص371، دار الفکر العربی الجزاہ، 1933) 2۔ حضرت اسماء کی عمر کا تعین 100 سال ان حضرات نے کیا ہے اور تاریخ وفات 73 ھجری یا 74 ھجری کیا ہے۔ بحوالہ ابن کثیر: حضرت اسماء نے اپنے بیٹے کو 73ھ میں مرتے ہوئے دیکھا۔ اور پھر 5 دن، یا 10 دن یا 20 دن یا' کچھ دن' یا 100 دن بعد( دنوں کی تعداد مورخ یا محدث پر منحصر ہے) انکی وفات 100 برس کی عمر میں ہوئی۔ (البدیاہ والنہایہ، ابن کثیر، جلد 8، ص 372، دار الفکر العربی، الجزاہ، 1933) بحوالہ ابن حجار الاثقلینی،:حضرت اسماء - 100 سو برس زندہ رہیں اور 73ھ یا 74 ھجری میں وفات پائی۔ (تقریب التہذیب، ابن حجار الاثقلینی، ص 654، عربی۔ باب فی النساء، الحرف الیف، لکھنئو) تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت اسماء کی وفات - سو برس کی عمر میں 73ھ یا 74 ھ میں ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ھجرت کے وقت، 27 یا 28 برس کی تھیں۔ جس کے حساب سے حضرت عائشہ کی عمر ھجرت کے وقت 17 یا 18 سال اور رسول اللہ کے گھر 19 یا 20 سال کی عمر سے رہنا شروع کیا۔ حجار، ابن کثیر، اور عبدالرحمن کی درج روایات کے مطابق، حساب کرنے سے ، حضرت عائشہ کی عمر ، شادی کے وقت 19 یا 20 سال بنتی ہے۔ ہشام بن عروہ حضرت عائشہ کی عمر کا تعین، مختلف روایات میں نکاح کے وقت 6، 7، 9 ، 12 یا 13 سال کرتے ہیں؟ ان میں سے ہم روایت کے کس سلسلے کو نظر انداز کردیں؟ اور کیوں ؟ |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | سعود (02-04-09) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
مزید دیکھتے ہیں کہ حضرت فاطمہ الزہرۃ کی عمر اور حضرت عائشہ کی عمر مختلف اکابریں نے کیا لکھی ہے۔
بقول ابن حجار۔ حجرت فاطمہ کی پیدائش کعبہ کی دوبارہ تعمیر کے وقت ہوئی جبکہ رسول اللہ 35 سال کے تھے اور ھضرت فاطمہ ، ھضرت عائشہ سے 5 سال بڑی تھیں۔ ( الاصحابہ فی تمیزالصحابہ، ابن ھجار الثقلینی، جلد 4، ص، 377، مکتبۃ الریاض، الحدیثہ، الریاض، 197 اب اگر اس بیان کو دیکھا جائے تو حضرت عائشہ (ر) جب پیدا ہوئیں تو رسول اللہ (ص) 40 سال کے تھے اور اگر شادی کے وقت رسول اللہ (ص) کی عمر 52 سال تھی تو حضرت عائشہ (ر) 12 سال کی ثابت ہوتی ہیں جو کہ ان روایات میں صرف 9 سال ( تسع)درج ہے۔ جو اوپر پیش کی گئی ہیں ۔ اس حساب سے بھی یہ روایت ثابت نہیں ہوتی ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــ ابن طبری : تاریخ الامم والمملوک الطبری ، جلد 4، ص 50، عربی۔ دارالفکر بیروت 1979 1۔حضرت ابوبکر (ر) کی چاروں اولادیں قبل الاسلام پیدا ہوئیں۔ 2۔ حضرت عائشہ کی شادی 620 ع میں ہوئی اور رخصتی 624 ع میں ہوئی۔ (9 سال کی عمر کو ذہن میں رکھیں) 3۔ طبری لکھتا ہے کہ حضرت عایشہ 613 ع میں پیدا ہوئیں اور 9 سال کی عمر میں ان کی رخصتی ہوئی۔ 4۔ 613 ع قبل الاسلام نہیں ہے۔ وحی کا سلسلہ تو 610 ع میں شروع ہوا تو پھر حضرت ابوبکر (ر) کے سب بچے قبل الاسلام کیسے پیدا ہوئے؟ 5۔ اگر حضرت عائشہ (ر) قبل الاسلام یعنی 610 ع سے پہلے پیدا ہوئیں تو رخصتی کے وقت جو کہ 624 میں ہوئی، ان کی عمر 14 سال بنتی ہے۔ یہ 9 سال نہیں بنتی نتیجہ یا تو طبری کا حساب کچھ خراب تھا۔ اس کے بیانات میں تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں ------------------------------------------------------------------------------ غزوہ احد اور غزوہ بدر سے مثالیں مسلم کی کتاب الجہاد والسیار سے روایت ہے کہ حضرت عایشہ (ر) سے غزوہ بدر کی روایت ہے کہ : " جب ہم شجارہ کے مقام پر پہنچے " اس کا مطلب ہے کہ حضرت عایشہ (ر) اس گروپ کے ساتھ ہیں۔ پھر بخاری کی روایت ہے جنگ بدر کے دوران کہ : حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک دن غزوہ احد کے دوران ، جب لوگ رسول اللہ کے گرد کھڑے نہ رہ سکے تو اس دن میں نے دیکھا کہ عایشہ (ر) اور ام سلیم ، نے اپنے لباس اپنے پیروں سے کچھ اوپر کررکھے تھے۔۔۔۔۔۔ ثابت کرتا ہے کہ حضرت عایشہ احد اور بدر کے غزوات میں شریک تھیں۔ اب بجاری کی اس حدیث کو دیکھئے۔ ابن عمر (ر) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ان کو احد میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جب وہ 14 سال کے تھے لیکن اس روز جب غزوۃ ضندق واقع ہوئی تو میں 15 سال کا تھا، لہذا رسول اللہ نے مجھے شامل ہونے کی اجازت دے دی۔ اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ 15 سال سے چھوٹی عمر کے بچوں کو غزوۃ احد و غزوۃ بدر میں شامل نہیں ہونے دیا گیا تھا اور واپس بھیج دیا گیا تھا۔ لیکن حضرت عایشہ ان غزوات میں موجود تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان غزوات کے موقعہ پر حضرت عایشہ (ر)کی عمر کم از کم 15 سال ضرور تھی۔ ------------------------------------------- بخاری کی ایک حدیث کے مطابق حضرت عایشہ سے روایت ہے کہ میں ایک نوجوان لڑکی ( عربی میں جاریۃ) تھی جب سورۃ القمر نازل ہوئی۔ یہ سورۃ ہجرت سے 8 سال قبل 614 ع میں نازل ہوئی، اگر 623 ع میں شادی کے وقت حضرت عایشہ (ر) صرف 9 سال کی تھیں تو 614 میں ان کو ایک نو مولود ( جس کے لئے جاریۃ نہیں استعمال ہوتا) ہونا چاہئیے تھا۔ جبکہ اس روایت کے مطابق حضرت عایشہ (ر) ایک نوجوان لڑکی (جاریۃ) تھیں ۔ جاریہ کے معانی ایک کھیلنے کودنے کے قابل لڑکی کے ہیں ۔ جو کہ 6 سے 13 سال کی عمر کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جس سے شادی کے وقت عمر کم از کم عمر 15 اور زیادہ سے زیادہ 21 سال بنتی ہے نتیجہ: اگر اس روایت میں بعد میں ترمیمات ہوئی ہیں تو تمیمات کرنے والے کا حساب بہت کمزور تھا اور وہ ایک ساتھ تمام روایات میں ترمیم نہیں کرسکا۔ ---------------------------------------------------- سات سال میں شادی اور نو سال میں نکاح، قرآن کیا کہتا ہے۔ رسول اکرم صلعم اور حضرت ابوبکر صدیق (ر)اسلام کی دو بہت بڑی نامی گرامی شخصیتیں کیا قرآن سے باہر جاسکتے ہیں۔ جبکہ اول الذکر تو چلتا پھرتا قرآن ہیں۔ یہ دونوں حضرات کس طرح ایک 7 سال کی ایک ناسمجھ بچی کا نکاح کے لئے راضی ہوگئے؟ جبکہ اس قسم کی دوسری عرب روایات بھی نہیں ملتی ہیں اور جبکہ قرآن واضح طریقے سے کہتا ہے۔ سورۃ النسآء:4 , آیت:5 اور تم بے سمجھوں کو اپنے (یا ان کے) مال سپرد نہ کرو جنہیں اللہ نے تمہاری معیشت کی استواری کا سبب بنایا ہے۔ ہاں انہیں اس میں سے کھلاتے رہو اور پہناتے رہو اور ان سے بھلائی کی بات کیا کرو سورۃ النسآء:4 , آیت:6 اور یتیموں کی (تربیتہً) جانچ اور آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ نکاح (کی عمر) کو پہنچ جائیں پھر اگر تم ان میں ہوشیاری (اور حُسنِ تدبیر) دیکھ لو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو، اور ان کے مال فضول خرچی اور جلد بازی میں (اس اندیشے سے) نہ کھا ڈالو کہ وہ بڑے ہو (کر واپس لے) جائیں گے، اور جو کوئی خوشحال ہو وہ (مالِ یتیم سے) بالکل بچا رہے اور جو (خود) نادار ہو اسے (صرف) مناسب حد تک کھانا چاہئے، اور جب تم ان کے مال ان کے سپرد کرنے لگو تو ان پر گواہ بنا لیا کرو، اور حساب لینے والا اللہ ہی کافی ہے شادی ایک بھاری معاہدہ ہے ، قرآن شادی کو ایک بھاری معاہدہ قرار دیتا ہے۔ جو کہ نابالغوں کے درمیان ناممکن ہے۔ 7 سال کی عمر دنیا کے کسی بھی مذہب کے مطابق بالغ ہونے کی عمر نہیں۔ ہمارے رسول صلعم قرآن کے خلاف کیونکر عمل کرسکتے تھے، یہ عقل و قیاس سے بعید ہے۔ یہ بہت واضح ثبوت ہے کہ دشمنان اسلام نے ان روایات میں کہیں تبدیلی کی لیکن دوسری جگہوں پر حساب کرنے سے ان روایات کی تصدیق نہیں ہوتی۔ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
1۔ ان روایات کی اسناد یکساں ہے۔
جب ہم ایک ہی روایات کو مختلف کتب سے رکھ کر دیکھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اسناد یکساں نہیں ہیں۔ جیسا کہ ہشام بن عروہ کی اس روایت سے واضح ہے۔ کہ سب لکھ رہے ہیں کہ عروۃ (ر) نے ابیہ (ر) سے سنا ہے اور ابیہ(ر) نے عائشہ (ر)سے ۔ جبکہ ایک اور ج گہ عروۃ (ر) نے ڈائریکٹ عایشہ (ر) سے سنا ہے۔ اسناد کی یہ غلطی بہت ہی عام ہے اور ایک ڈاٹا بیس میں ڈالنے سے یہ بہت ہی عیاں ہو جاتی ہے۔ 2۔ یہ کہا جاتا ہے کہ روایات سب راویوں نے یاد کررکھی تھیں۔ کہ ایک نکتہ کا بھی فرق نہیں ۔ یہاں دیکھئے کہ ایک ہی بات کو کتنے طریقوں سے ادا کیا گیا ہے جبکہ پہلے تین راوی ایک ہی ہیں ، اگر ہشام ان عروۃ کے بعد یہ روایات زبانی یاد کی ہوئی ہوتیں تو ان کا متن ایک ہوتا۔ کہ روایت عائشہ (ر) سے ابیہ (ر) سے عروۃ (ر) - اس سند کے آخری صحابی تک پہنچی ، لہذا اس مقام پر اس رویات کو منجمد ہوجانا چاہئیے تھا کہ اس کے بعد والوں نے رٹ لی۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا۔ سنت رسول یا حدیث رسول کا منبع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس روایت کو دیکھئے۔ یہ صحیح ہے یا ضعیف، اس سے قطع نظر ، اس کا منبع رسول اللہ صلعم نہیں ہیں۔ اسی طرح بہت سی روایات ہیں جن کا منبع اصحابہ کرام ہیں۔ ان روایات کو ہم مشورہ ، نصیحت یا اکابرین کی تاریخ تو قرار دے سکتے ہیں ۔ لیکن ہدائت یا حدیث یا سنت رسول اللہ نہیں قرار دے سکتے ہیں۔ ان کتب کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ یہ درست ہے۔ لیکن جو فرمان نبوی نہیں ہے وہ صرف ایک ممکنہ تاریخ ہوسکتی ہے ۔ |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,863
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی فاروق سرور خان ، انہی معلومات کے انتظار میں خاموش تھا ، جزاک اللہ ، بھائی ، یہ ڈاکٹر ٹی ۔ او ۔ شاہنواز صاحب کی اپنی تحقیق ہے یا حبیب الرحمان کاندھلوی صاحب اور سید سلیمان ندوی صاحب کی کتابوں سے نقل کی گئی عبارات ، بہرحال میں آپ کی بات کی تکمیل کا منتظر ہوں ، اور بھائی شاھد علی صدیقی صاحب کے طرف سے """" شارح مسلم ؟ """ کی بات کا بھی ، فاروق بھائی ، آپ کی اس بات سے میں متفق ہوں کہ """"" جو فرمان رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نہیں وہ ایک ممکنہ تاریخ ہو سکتی ہے """" اور یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے قول ، فعل اور تقریر کو """ سنت """ یا """ حدیث """ کہا جاتا ہے ، اور یہاں جس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فعل مبارک اور تقریر میں شمار ہوتا ہے ، پس اس پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں بہت سی باتوں کا بہت اچھی طرح خیال رکھنا ہو گا ، باذن اللہ ، آخر میں ایک بات کی طرف توجہ دلواتا چلوں ، اور یہ اعتراضا نہیں ، """"" تقریب التھذیب """" کے مولف کا نام """" امام ابن حجر العسقلانی """" ہے ، اور ان کی ہی دوسری کتاب کا نام """"الاصابہ فی تمیز الصحابہ """" ہے ، """" امام شمس الدین الذہبی """" کی کتاب کا نام """" سیر الاعلام النُبلا """" ہے ، غالبا آپ نے انگریزی الفاظ کو """ نطق """ کے مطابق عربی یا اردو میں لکھنے کی کوشش کی ہے ، تو بھائیو ، جب آپ اپنی بات مکمل فرما چکیں تو آگاہ فرما دیجے گا ، اس کے بعد ان شا اللہ ان سب باتوں کا علمی جائزہ لیا جائے گا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
منتظمین کی بات کی تائید کرونگا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (03-04-09), ام غزل (03-04-09) |
![]() |
| Tags |
| کتابوں, گذارش, نظر, مکمل, موقع, ممکن, مسائل, ایمان, اللہ, اردو, اسلام, بھائی, جواب, حکم, حدیث, حضرت محمدؐ, خان, خبر, دل, درخواست, سیر, سال, عقد, عائشہ صدیقہؓ, غزل, صدیقی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سرٹیفکیشن اور انٹرنیٹ پر تعلیم کے متعلق مشورہ درکار | یاسر عمران مرزا | Computer Certifications | 29 | 20-03-11 12:11 AM |
| سلمان تاثیر کا تعلق تعلیم یافتہ عاشق رسول گھرانے سے تھا | گلاب خان | خبریں | 16 | 08-01-11 04:53 AM |
| تعلیمی سیمینار تعلیم | Real_Light | خبریں | 0 | 21-04-08 09:20 AM |
| سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 10:24 AM |
| سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 26-10-07 10:57 AM |