واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص)




حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ : مینارہ نور.... لائق تقلید نمونہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-03-11, 02:19 AM   #1
حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ : مینارہ نور.... لائق تقلید نمونہ
گلاب خان گلاب خان آن لائن ہے 02-03-11, 02:19 AM

ڈاکٹر محمد سعود عالم قاسمی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے ہر زمانے اور ہر جغرافیائی خطے میں اپنی طرف سے کسی نہ کسی منتخب رسول اور پیغمبر کو بھیجا۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی خاتم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک نبوت کا سلسلہ جاری رہا۔رسول اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جتنے انبیاءصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے وہ یا تو کسی خاص عہد کے لیے آئے تھے یا خاص قوم کی ہدایت کے لیے مامور تھے، مگر یہ اعزاز اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خاص کر رکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام انسانوں اور رہتی دنیا تک کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلسلہ نبوت کو ختم کیا اور دین کو مکمل کر دیا۔ پچھلے انبیاء علیہ السلام نے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی بشارت دی اور آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچھلے انبیاء علیہ السلام کی تصدیق کی۔ پچھلے تمام انبیاء علیہ السلام کی تعلیمات یعنی توحید، رسالت اور آخرت اور ان کی تعلیمات کا حاصل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع گویا تمام رسولوں کی اتباع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ” اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہہ دو کہ اے لوگو! میں تم سب لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں، جس کے لیے آسمان و زمین کی بادشاہت ہے، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ وہی زندگی عطا کرتا ہے، وہی موت دیتا ہے۔ اس لیے ایمان لاﺅ اللہ پر اور اس کے رسول امّی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو اللہ اور اس کے کلمے پر ایمان رکھتا ہے اور رسول کی اتباع کرو، تا کہ تم ہدایت یافتہ ہو جاﺅ۔“ یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی متعین قوم اور خاص عہد کے لیے رسول بن کر نہیں آئے، بلکہ تمام انسانوں کے لیے بن کر آئے اور تمام انسانوں کو اسی نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کا حکم دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خاص وصف ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوسرے انبیائے کرام سے ممتاز کرتا ہے۔ چناں چہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوسرے انبیاءپر مجھے پانچ چیزوں میں فضیلت عطا کی گئی، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ”پچھلے نبی خاص اپنی قوم کے لیے مبعوث ہوئے اور مجھے تمام انسانوں کے لیے مبعوث کیا گیا۔“ یوں تو تمام انبیاءاپنے وقت میں اپنی قوم کے لیے نمونہ اور رول ماڈل ہوتے ہیں اور ان کی اتباع قوم کے لیے لازم ہوتی ہے، مگر آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دائمی بنایا گیا ہے۔اس لیے ہر لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کامل بنایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو ہر پہلو سے قابل تقلید اور واجب الاتباع قرار دیا گیا۔ ارشاد ربانی ہے: ”رسول، جو دیں، اسے لو اور جس سے منع کریں، اس سے رک جاﺅ“ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت فرمائی: ”جس چیز سے منع کروں، اس سے رک جاﺅ اور جس چیز کا حکم دوں، اس کی اتباع کرو۔“ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کوقابل اتباع اور عملی نمونہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ”بے شک، تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں اسوہ حسنہ موجود ہے۔ ہر شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔“
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ اسوہ محمدی جسے اللہ نے مسلمانوں کے لیے نمونہ اور رول ماڈل قرار دیا ہے، ہر لحاظ سے کامل ہے۔ علامہ سید سلیمان ندوی رحمة اللہ علیہ نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے: ”آئیڈیل لائف اور نمونہ تقلید بننے کے لیے جو حیات انسانی منتخب کی جائے، ضروری ہے کہ اس کی سیرت کے موجودہ نقشے میں یہ چار باتیں پائی جائیں، یعنی تاریخیت، جامعیت، کاملیت اور عملیت۔ وہ مزید لکھتے ہیں: میرا یہ مقصد نہیں کہ دیگر انبیاءعلیہم السلام کی زندگیاں ان کے عہد اور زمانے میں ان خصوصیات سے خالی تھیں، یہ مقصد ہے کہ ان کی سیرتیں جو ان کے بعد انسانوں تک پہنچیں یا جو آج موجود ہیں، وہ ان خصوصیات سے خالی ہیں اور ایسا ہونا مصلحت الٰہی کے مطابق تھا، تاکہ یہ ثابت ہوسکے کہ وہ انبیاءعلیہ السلام محدود زمانے اور متعین قوموں کے لیے تھے، اس لیے ان کی سیرتوں کو دوسری قوموں اور آئندہ زمانوں تک محفوظ رہنے کی ضرورت نہ تھی۔ صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام دنیا کی قوموں کے لیے اور قیامت تک کے لیے نمونہ عمل اور قابل تقلید بناکر بھیجے گئے تھے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو ہر حیثیت سے مکمل دائمی اور ہمیشہ کے لیے محفوظ رہنے کی ضرورت تھی اور یہی ختم نبوت کی سب سے بڑی عملی دلیل ہے۔“
اخلاقی کمال کا یہ عالم تھا کہ اس کی گواہی خود رب العالمین نے یہ کہہ کر دی ”بے شک آپ اخلاق عظیم پر فائز ہیں“۔ جسمانی لحاظ سے اتنا کامل اور متناسب بنایا کہ حضرت حسان بن ثابت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہنا پڑا: ” آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر قسم کے عیب سے پاک پیدا کیے گئے ہیں، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق پیدا کیے گئے ہیں“۔
دین کے کامل ہونے کا اعلان حجة الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح فرمایا: ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا، اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے منظور کرلیا ہے۔“
مفسر قرآن علامہ ابن کثیر نے مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: ”اس امت پر یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے کہ اللہ نے اس کے لیے اس کا دین مکمل کردیا۔ اب وہ کسی اور دین کی محتاج نہیں، اور اپنے نبی کے علاوہ کسی اور نبی کی محتاج نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ کی سلامتی ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم الانبیاءبنایا اور تمام انس و جن کی طرف مبعوث فرمایا۔ حلال وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلال کیا اور حرام وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام قرار دیا۔ دین وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شروع کیا۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس چیز کی خبر دی وہ حق و صداقت ہے۔“
اللہ تعالیٰ نے جب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم المرسلین بنایا اور ہر زمانے کے لیے رہنما بنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر نقص سے پاک اور ہر طرح سے کامل بنایا۔ قدرت نے رسول کامل کے اسوہ حسنہ کی حفاظت اور اشاعت کا ایسا انتظام فرمایا جو گزشتہ کسی رسول کے سلسلے میں نہیں فرمایا۔ آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ کا ایک ایک عمل اس طرح محفوظ کردیا کہ دنیا کسی طرح کے اندھیرے اور شک و شبہے میں نہ رہے، بلکہ چمکتے سورج کی طرح رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ حسنہ دیکھے اور اپنی منزل طے کرے۔ بقول علامہ سید سلیمان ندوی: ”کوئی زندگی خواہ کسی قدر تاریخی ہو۔ جب تک وہ کامل نہ ہو، ہمارے لیے نمونہ نہیں بن سکتی۔ کسی زندگی کا کامل اورہر نقص سے بری ہونا اس وقت تک ثابت نہیں ہوسکتا، جب تک اس زندگی کے تمام اجزاءہمارے سامنے نہ ہوں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا ہر لمحہ پیدائش سے وصال تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے لوگوں کے سامنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد تاریخ عالم کے سامنے ہے۔“
صحابہ کرام سے آج تک، تمام محدثین، مفسرین، سیرت نگار، تاریخ نویس،علمائ،فقہاءاور گویا تمام امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت ہر حیثیت سے کامل اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت ہر پہلو سے روشن،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ اعلیٰ،ارفع و افضل اور مکمل ہے۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,523
شکریہ: 1,554
2,989 مراسلہ میں 8,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 299
Reply With Quote
جواب

Tags
کلمے, کمال, پاک, قرآن, مکمل, موقع, موت, موجودہ, آج, ایمان, اللہ, اسلام, بادشاہت, حکم, خبر, ختم نبوت, زندگی, سیرت طیبہ, شخص, عہد, علامہ, عالم, عظیم, صداقت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
::::::: اپنے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مدد کیجیے ::::::: عادل سہیل عقیدہ رسالت 16 23-08-11 01:39 AM
بھروسہ فیصل ناصر قہقہے ہی قہقے 10 28-04-11 06:39 PM
ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم,,,,لاؤڈ اسپیکر…ڈاکٹرعامرلیاقت حسین آبی ٹوکول عمومی بحث 2 31-03-11 08:11 PM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM
سب سے بڑے قائد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم عبداللہ حیدر عقیدہ رسالت 6 11-03-09 12:35 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:52 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger