واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص)




رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-01-11, 11:52 PM   #1
رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو
فیصل ناصر فیصل ناصر آف لائن ہے 10-01-11, 11:52 PM

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ۔ (الانبیاء 21:107)

اے رسول ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔

اگر کوئی شخص یہ دیکھنا چاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ انسان کے لئے کس طرح رحمت بنی تو اس بیان کے لئے ایک تقریر کیا، سینکڑوں تقریریں اور سینکڑوں کتابیں بھی ناکافی ہیں۔ انسان رحمت کے ان پہلوؤں کا شمار نہیں کر سکتا۔ اس لئے میں آپ کے سامنے اس رحمت کے صرف ایک پہلو کے بیان پر اکتفا کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انسانی سماج کے لئے وہ اصول پیش کئے ہیں جن کی بنیاد پر انسانوں کی ایک برادری بن سکتی ہے اور انہی اصولوں پر ایک عالمی حکومت (World State) بھی معرض وجود میں آ سکتی ہے اور انسانوں کے درمیان وہ تقسیم بھی ختم ہو سکتی ہے جو ہمیشہ سے ظلم کا باعث بنی رہی ہے۔۔۔۔

دنیا میں جتنی بھی تہذیبیں گزری ہیں، انہوں نے جو بھی اصول پیش کئے ہیں، وہ انسانوں کو جوڑنے والے نہیں ہیں بلکہ پھاڑنے والے اور انہیں درندہ بنانے والے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ سب سے قدیم آریہ تہذیب کو لے لیجیے۔ وہ جہاں بھی گئے اپنے ساتھ نسلی برتری کا تصور لے کر گئے۔ [ایران و ہندوستان میں] آریہ تہذیب نے واضح طور انسان کو مختلف طبقوں میں تقسیم کیا اور یہ تقسیم انسانی صفات کی بنیاد پر نہ تھی بلکہ پیدائش کی بنیاد پر تھی اور اس میں انسانی کوشش کو قطعاً کوئی دخل نہ تھا۔ کوشش سے کوئی شودر برہمن نہ بن سکتا تھا اور نہ کوئی ذات دوسری ذات میں منتقل ہو سکتی تھی۔

اسی اصول کو ہٹلر نے اختیار کیا تھا۔ اس نے یہ دعوی کیا تھا کہ جرمن نسل سب سے برتر و فائق ہے۔ نسلی برتری کا یہی تصور یہودی ذہنیت میں بھی رچا بسا ہوا ہے۔ ان کے قانون کے مطابق جو پیدائشی اسرائیلی نہیں، وہ اسرائیلیوں کے برابر نہیں ہے۔۔۔۔ اسی طرح یونانیوں کے اندر بھی ایک نسلی غرور پایا جاتا ہے۔۔۔ یہی چیز آپ کو مغربی ذہنیت میں پیوست دکھائی دیتی ہے۔۔۔ جنوبی افریقہ اور روڈیشیا میں یہی ظلم آج بھی انسان انسان کے ساتھ کر رہا ہے۔۔۔۔

اسی قبیل سے علاقائی قومیت (Territorial Nationalism) کا ایک نشہ بھی ہے۔ دنیا کی دو بڑی جنگیں اسی تعصب کی بنیاد پر چھڑیں۔۔۔۔ اور یہی کیفیت خود عرب میں بھی تھی۔ قبائلی عصبیت ان لوگوں کے رگ و ریشہ میں رچی بسی ہوئی تھی۔ ہر قبیلہ اپنے آپ کو دوسرے کے مقابلے میں برتر و فائق سمجھتا تھا۔ دوسرے قبیلے کا کوئی شخص کتنا ہی نیک کیوں نہ ہوتا، وہ ایک قبیلے کے نزدیک اتنی قدر نہیں رکھتا تھا جتنا کہ ان کے نزدیک ان کا اپنا ایک برا آدمی رکھتا تھا۔۔۔۔

جس سرزمین میں انسانوں کے درمیان امتیاز نسل، قبیلے اور رنگ کی بنا پر ہوتا تھا وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پکار انسان کی حیثیت سے بلند کی۔ ایک عرب نیشنلسٹ کی حیثیت سے نہیں اور نہ عرب یا ایشیا کا جھنڈا بلند کرنے کے لئے کی تھی۔ آپ نے پکار کر فرمایا:

اے انسانو! میں تم سب کی طرف مبعوث ہوا ہوں۔

اور جو بات پیش کی وہ یہ کہ:

اے انسانو! ہم نے تم کو ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا، اور تم کو قبیلوں اور گروہوں میں اس لئے بانٹا ہے کہ تم کو باہم تعارف ہو۔ اللہ کے نزدیک برتر اور عزت والا وہ ہے جو اس سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے۔

آپ نے فرمایا کہ تمام انسان اصل میں ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک ماں باپ کی اولاد ہیں اور اس حیثیت سے بھائی بھائی ہیں۔ ان کے درمیان کوئی فرق رنگ، نسل اور وطن کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فلسفی نہیں تھے کہ محض ایک فلسفہ پیش کر دیا۔ آپ نے اس بنیاد پر ایک امت بنائی اور اسے بتایا کہ جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شھداء علی الناس [یعنی تمہیں درمیانی امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر (اللہ اور آخرت کی) گواہی قائم کر دو۔ امت وسط کا] مفہوم یہی ہے کہ مسلمان امت عادل ہے۔

اب یہ امت عادل بنتی کس چیز پر ہے؟ یہ کسی قبیلے پر نہیں بنتی، کسی نسل یا وطن پر نہیں بنتی، یہ بنتی ہے تو ایک کلمے پر یعنی اللہ اور اس کے رسول کا حکم تسلیم کر لو تو جہاں بھی پیدا ہوئے ہو، جو بھی رنگ ہے، بھائی بھائی ہو۔ اس برادری میں جو بھی شامل ہو جاتا ہے اس کے حقوق سب کے ساتھ برابر ہیں۔ کسی سید اور شیخ میں کوئٰ فرق نہیں اور نہ عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت ہے۔۔۔۔

اس امت میں بلال حبشی بھی تھے، سلمان فارسی بھی اور صہیب رومی بھی [رضی اللہ عنہم]۔ یہی وہ چیز تھی جس نے ساری دنیا کو اسلام کے قدموں میں لا ڈالا۔ خلافت راشدہ کے عہد مبارک میں ملک پر ملک فتح ہوتا چلا گیا۔ اس لئے نہیں کہ مسلمان کی تلوار سخت تھی بلکہ اس لئے کہ وہ جس اصول کو لے کر نکلے تھے اس کے سامنے کوئی گردن جھکے بغیر نہ رہ سکتی تھی۔ ایران میں ویسا ہی اونچ نیچ کا فرق تھا جیسا کہ عرب جاہلیت میں۔ جب ایرانیوں نے مسلمانوں کو ایک صف میں کھڑے دیکھا تو ان کے دل خود بخود مسخر ہو گئے۔۔۔۔

مسلمان جب بھی اس اصول سے ہٹے، مار کھائی۔ اسپین پر مسلمانوں کی آٹھ سو برس حکومت رہی۔ جب مسلمان وہاں سے نکلے تو اس کی وجہ تھی، قبائلی عصبیت کی بناء پر باہمی چپقلش۔۔۔۔ اسی طرح ہندوستان میں بھی مسلمانوں کی طاقت کیوں ٹوٹی، ان میں وہی جاہلیت کی عصبیتیں ابھر آئی تھیں۔ کوئی اپنے مغل ہونے پر ناز کرتا تھا تو کوئی پٹھان ہونے پر۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ پہلے مرہٹوں سے پٹے، پھر سکھوں سے پٹے اور آخر میں چھ ہزار میل دور سے ایک غیر قوم آ کر ان پر حاکم بن گئی۔ اسی [پچھلی] صدی میں ترکی عظیم الشان سلطنت ختم ہو گئی۔۔۔۔

آپ سیرت پر کانفرنسیں ضرور کریں، ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مبارک کوئی کام نہیں ہے لیکن یہ محض ذکر اور Lip Service ہو کر نہ رہ جائے۔ اس پر عمل کریں گے تو اس رحمت سے آپ کو حصہ ملے گا جو صرف پیروی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مقدر ہے۔

(مصنف: سید ابو الاعلی مودودی، تفہیمات حصہ 4 سے انتخاب)
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

 
فیصل ناصر's Avatar
فیصل ناصر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 125
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (11-01-11), منتظمین (11-01-11), غیاث (10-01-11)
جواب

Tags
color, کوشش, کلمے, منتقل, ماں, world, آج, آدمی, ایران, اللہ, انسان, اسلام, بھائی, تعارف, حکم, شخص, عہد, عورت, عرب, عزت, عظیم, غرور, صفات, صدی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:36 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger