واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص)




رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ومنصب قرآن کریم کی روشنی میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-08-11, 11:25 PM   #1
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ومنصب قرآن کریم کی روشنی میں
سیفی خان سیفی خان آف لائن ہے 26-08-11, 11:25 PM

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معلم کتاب و حکمت اور مزکّئ امت

ارشاالٰہی ہے:

لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ۔۔الخ ( آل عمران،۱۲۴)

’’بے شک اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں پر بڑا احسان و کرم کیا جب کہ ان میں انھیں میں سے پیغمبر بھیج دیا جو ان کے سامنے اللہ کی آیات پڑھتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور کتاب اور عقل کی باتیں سکھاتا ہے۔‘‘

اس آیت کریمہ میں واضح دلالت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کام ایک پیغام بر کی مانند محض پیغام پہنچانا ہی نہ تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کتاب و حکمت کے معلم اور مسلمانوں کے لیے مزکّی بھی تھے۔ تعلیم کتاب کا فریضہ جو آپ کے ذمہ لگایا گیا آپ اس فرض منصبی کو بخوبی ادا کرتے تھے۔ کتاب کے مجملات کی تفسیر اور تشریح فرماتے ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے اعتراضات و اشکالات کو حل کرتے۔ کتاب کے مفہوم و مضمون کو واضح طور پر سمجھاتے تھے۔ بلاشبہ آپ اپنے قول و فعل سے قرآن کریم کی تشریح فرماتے اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم کی زندگیوں کا تزکیہ فرماتے ۔ نفس کو رذائل سے پاک کرنے کا نام تزکیہ ہے ۔ یہ تزکیہ صرف کتاب ہاتھ میں دے دینے سے نہیں ہوتا۔ اس کے لیے نفس کی خرابیوں پر بار بار تنبیہہ کرنا پڑتی ہے۔ مشورے دیتے پڑتے ہیں۔ تدبیریں بتانی ہوتی ہیں اور یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں سے ہے۔

[COLOR="rgb(255, 0, 255)"]رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و منصب کتاب اللہ کی تبیین و تشریح[/COLOR]

ارشادِ الٰہی ہے:

وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ (النحل،۴۴)

’’اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تا کہ جو (ارشادات )لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کر دو۔ اور تاکہ وہ غور کریں۔‘‘

اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب تشریح اور تبیین ہے۔ یہاں سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اس وقت تک ضرور محفوظ رہیں گے جب تک مسلمانوں کا وجود رہے گا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لیے دائمی ہدایت ہے اور اس ہدایت کو بیان کرنے کی ذمہداری اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالی ہے۔یہ کتابِ ہدایت باقی رہ جائے اور اس کتاب کی تشریحات اور احکام کی تفصیلات محفوظ اور باقی نہ رہیں تو کتاب اللہ دوامی ہدایت نہیں رہتی کیونکہ احکام کی تشریح کے بغیر عمل نہیں ہو سکے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی مدار ایمان اور تصفیہ طلب امور میں آخری عدالت

ارشاد الٰہی ہے:

فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (النساء،۶۵)

’’قسم ہے آپ کے رب کی وہ مومن نہ ہوں گے یہاں تک کہ وہ آپ کو ہی منصف جانیں اس جھگڑے میں جو ان میں اٹھے ۔ پھر نہ پائیں اپنے دل میں تنگی آپ کے فیصلہ سے اور قبول کریں خوشی سے۔‘‘

اس فرمانِ الٰہی سے یہ بات ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی امت کے تمام نزاعی امور کا فیصلہ کرنے کے لیے آخری عدالت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فیصلہ پر دل وجان سے راضی ہو جانا معیارِ ایمان ہے ۔ قرآن کریم کا حلفیہ بیان ہے کہ جو لوگ آپ کے ہر فیصلہ پر راضی نہ ہوں اور اس کے لیے سر تسلیم خم نہ کریں وہ ایمان سے محروم ہیں۔ قرآن کریم نے امت کے تمام جھگڑوں کو نمٹانے کے لیے آپ صلی اللہ کو منصف و فیصل قرار دیا ہے۔ جس سے آپ کا منصب ظاہر و باہر ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی واجب الاطاعت


ارشادِ الٰہی ہے :

یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ (النساء:۵۹)

’’اے ایمان والو!تم اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں اولی الامر ہیں۔‘‘

قرآن کریم کی وہ آیات جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اہلِ ایمان کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے بے شمار ہیں۔کتاب اللہ کے ان واضح اعلانات کی روشنی میں یہ فیصلہ بالکل آسان ہے کہ اسلام میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی حیثیت کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کی اطاعت اور پیروی کا حکم خود قرآن ہی میں موجود ہے اور جب قرآن کریم ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو عین اطاعتِ خداوندی قرار دیتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کو جب قرآن وحی الٰہی بتلاتا ہے۔

وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی اِِنْ ہُوَ اِِلَّا وَحْیٌ یُّوحٰی (النجم ،۲،۳)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات طیبات کو جب قرآن ہی ’’گفتہ اور گفتہ اللہ بود‘‘ کا مرتبہ دیتا ہے تو کیا حدیثِ نبوی کے حجتِ دینیہ ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش رہ جاتی ہے ؟اور کیا حدیثِ نبوی کا انکار کرنے سے قرآن کریم کا انکار لازم نہیں آتا۔ جس طرح ایمان کے معاملہ میں خدا وررسول کے درمیان فرق نہیں ہو سکتا کہ ایک کو مانا جائے اوردوسرے کو نہ مانا جائے۔ بالکل اسی طرح کلام اللہ اور کلام رسول میں بھی تفریق نہیں ہو سکتی کہ ایک کو واجب الاطاعت مانا جائے اور دوسرے کو نہ مانا جائے۔

ف۔۔۔(نوٹ) جب وہ آیات جن میں اطاعت کا حکم ہے منکرین حدیث کے سامنے پیش کی جاتی ہے تو وہ اپنے جاہل معتقدین کو یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں کہ اطاعتِ رسول کا یہ حکم رسول کی حیثیت سے نہیں تھا بلکہ مرکز ملت ہونے کی حیثیت سے تھا جب آپ دنیا سے تشریف لے گئے تو اطاعت ختم ہو گئی۔(العیاذ باللہ) ان لوگوں کی یہ بات بالکل اپنی طرف سے بنائی ہوئی ہے اپنے آپ کو اہل قرآن کہلانے کے باوجود اپنی اس بات کو قرآن سے ثابت نہیں کر سکتے۔۔۔ بلکہ قرآن کریم سے تو ان کی اس بات کی دو طرح سے تردید ہو رہی ہے۔

ایک یہ کہ حاکم کی اطاعت کا ذکر مستقل طور پر آگے آرہا ہے یعنی ’’اولی الامر منکم‘‘ لہٰذا اطاعتِ رسول کو اس پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔دوسرے یہ کہ یہاں اطیعوا الرسول میں اطاعت کی علت رسالت ہے نہ کہ حاکمیت۔ جب رسول اللہ کی اطاعت کا مستقل حکم ارشاد فرمایا تو معلوم ہوا کہ رسول کی حیثیت مستقل ہے اور آپ کی اطاعت اولی الامر ہونے کے علاوہ بھی فرض ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت در حقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت


ارشاد الٰہی ہے:

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَ مَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا

(النساء،۸۰)

’’جس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔اور جو شخص آپ کی اطاعت سے رو گردانی کرے سو آپ کچھ غم نہ کیجیے کیونکہ ہم نے آپ کو نگران کر کے نہیں بھیجا کہ آپ ان کو کفر نہ کرنے دیں۔‘‘(ترجمہ حضرت تھانوی)

اس آیت میں صاف اعلان کر دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت در حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو عین اطاعتِ خداوندی نہیں سمجھتے وہ اپنی بد فہمی کی وجہ سے کفر کے مرتکب ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہترین مثالی نمونہ


ارشاد الٰہی ہے:

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا (سورۃ الاحزاب،۲۱)

تم کو رسول اللہ کی پیروی (کرنی) بہتر ہے(یعنی) اس شخص کو جسے اللہ (سے ملنے) اور روزِقیامت (کےآنے) کی امید ہو اور وہ اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول و فعل، گفتار و کردار ، نشست و برخاست غرضیکہ آپ کی ذات سے صادر ہونے والی ہر چیز سراپا ہدایت ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی کو امت کے لیے بہترین مثالی نمونہ قرار دیا گیا۔ جو شخص آپ کو مثالی نمونہ نہیں سمجھتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو واجب الاطاعت اور لائق اقتداء نہیں سمجھتا اسے نہ اللہ پر ایمان ہے نہ آخرت پر۔۔۔اس کا دل ذکر الٰہی کے نور سے منور نہیں بلکہ محروم ہونے کی وجہ سے ظلمت کدہ ہے۔

فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا چون و چرا قبول کرنا


ارشاد الٰہی ہے:

وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ
(الحشر،۷)

’’اور رسول تمہیں جو کچھ بھی دے دیں اس کو لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے رک جاؤ۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والے ہیں۔‘‘

اس آیت میں اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو کچھ دیا جائے اس کو بلا چون وچرا قبول کر لو اور آپ کے منع کردہ امور سے باز رہو اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو ان کے حق میں شدید عذاب کا اندیشہ ہے۔

[COLOR="rgb(255, 0, 255)"]حکم نبوی سے اعراض باعث فتنہ و عذاب[/COLOR]


ارشادِ الٰہی ہے:

فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہ اَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیْبَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (النور،۶۳)

’’جو لوگ آپ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں انھیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان کو عظیم فتنہ پیش نہ آئے۔ یا کہیں ان کو عذاب الیم کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘‘

اس آیت کے ذیل میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رقم طراز ہیں:

یعنی اللہ اور رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان کے دلوں میں کفر و نفاق وغیرہ فتنہ ہمیشہ کے لیے جڑ نہ پکڑ جائے اور اس طرح دنیا کی کسی آفت یا آخرت کے درد ناک عذاب میں مبتلا نہ ہو جائیں۔العیاذ باللہ۔

اطاعت رسول باعث رحمت


ارشادالٰہی ہے:

وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (النور،۵۶)

’’اور اے مسلمانونماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور باقی احکام میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کیا کرو تا کہ تم پر کامل رحم کیا جائے۔‘‘(ترجمہ حکیم الامت)

احکام میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کیا کرو تا کہ تم پر کامل رحم کیا جائے ۔ اس آیت میں رحمتِ الٰہی کے نزول کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعتِ کاملہ کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے۔

ہدایت کا انحصار صرف اطاعتِ رسول میں


ارشاد الٰہی ہے:

قُلْ اَطِیعُوا اللّٰہَ وَاَطِیعُوا الرَّسُوْلَ فَاِِنْ تَوَلَّوا فَاِِنَّمَا عَلَیْہِ مَّا حُمِّلَ وَعَلَیْکُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَاِِنْ تُطِیعُوْہُ تَہْتَدُوْا وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ (النور،۵۴)

’’آپ کہیے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو پھر اگر تم اطاعت سے روگردانی کرو گے تو سمجھ رکھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ دہی(تبلیغ) ہے جس کا ان پر بار رکھا گیا اور تمھارے ذمے وہ ہے جس کا تم پر بار رکھا گیا ہے ۔اور اگر تم نے ان کی اطاعت کر لی تو راہ پر جا لگو اور بہر حال رسول کے ذمہ صاف صاف طور پر پہنچا دینا ہے۔‘‘

اس آیتِ کریمہ میں واضح کر دیا گیا ہے کہ ہدایت صرف اطاعتِ رسول پر منحصر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے علاوہ ہدایت کے تمام راستے بند ہیں۔ اس کے ساتھ بتلا دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سرتابی کرنے والے کوتاہ اندیش لوگوں کو اس کے ہولناک نتائج کے لیے تیار رہنا ہو گا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم
کے یہ چند مناصب اور مراتب قرآن کریم سے نمونہ کے طور پر ذکر کیے گئے ہیں جن سے واضح طور پر ثابت ہو رہا ہے کہ آپ کا مقام و مرتبہ نہایت بلند ہے۔ بے شک آپ ہادی عالم اور معلم انسانیت ہیں۔ مربیّ و مُزکّئ امت ہیں اوررہبر و رہنما ہیں۔ بدر الدُّجیٰ اور شمس الضُحیٰ ہیں، نور الہدیٰ اور خیر الوریٰ، فخر الرسل اور سید الانبیاء ہیں۔ امام الانبیاء اور محبوب کبریاء ہیں۔ رحمۃ اللعالمین اور شفیع المذنبین،خاتم النبیین والمعصومین ہیں۔ پوری کائنات میں بہترین ہیں۔ (صلی اللہ علیہ وسلم )
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/

 
سیفی خان's Avatar
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 199
Reply With Quote
سیفی خان کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (27-08-11)
پرانا 27-08-11, 12:57 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,316
شکریہ: 25,212
16,399 مراسلہ میں 41,652 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ خیر
اللہ ہمیں اسوہ حسنہ کو جزو زندگی بنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔ آمین
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان (27-08-11)
پرانا 27-08-11, 01:17 AM   #3
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,514
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اٰمین ثم اٰمین
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, فرض, کلمات, کلام, پاک, قرآن, معلوم, ایمان, اللہ, اسلام, بہترین, تعلیم, جاہل, حل, حال, خلاف, ذکر الٰہی, شخص, عقل, عالم, عظیم, غور, صاف, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM
یکم سے 10ستمبر تک پھر مون سون بارشیں شروع ہونگی، محکمہ موسمیات جاویداسد خبریں 0 27-08-10 12:18 PM
:::::تین کاموں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے قسم اٹھائی ::::: عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 7 14-12-09 02:17 PM
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ارسال کردہ خطوط مبارک میں سے ایک پیاسا پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 2 17-07-08 12:13 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:36 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger