واپس چلیں   پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص)




مؤمنین کی مائیں۔ امہات المؤمنین

اس موضوع کے 8 جوابات دیےگئے ہیں اور اسے 136 مرتبہ دیکھا گیا ہے
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-06-09, 10:28 AM   #1
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 1,301
کمائي: 18,519
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,303
838 مراسلہ میں 2,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default مؤمنین کی مائیں۔ امہات المؤمنین

مؤمنین کی مائیں۔ امہات المؤمنین

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مختلف روایات میں گیارہ ازواج کے نام ملتے ہیں جنہیں امہات المؤمنین کہا جاتا ہے یعنی مؤمنین کی مائیں۔ اس کے علاوہ انہیں ازواج مطہرات بھی کہا جاتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ تمام بیوہ و مطلقہ تھیں اور عمر میں بھی زیادہ تھیں اور زیادہ شادیوں کا عرب میں عام رواج تھا۔ مؤرخین کے مطابق اکثر شادیاں مختلف قبائل سے اتحاد کے لیے یا ان خواتین کو عزت دینے کے لیے کی گئیں۔ ان میں سے اکثر سن رسیدہ تھیں اس لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر کثرت ازدواج کا الزام لگانے والوں کی دلیلیں ناکارہ ہو جاتی ہیں۔ ان میں سے صرف حضرت خدیجہ بنت خویلد اور حضرت زینب بنت جحش سے اولاد ہوئی۔

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نبوت سے قبل 25 برس کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پہلی بیوی تھیں اور آپ کی اولاد میں حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے سوا تمام صاحبزادے اور صاحبزادیاں ان کے ہی بطن سے ہوئیں۔

ازواج مطہرات

حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا: آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے 25 برس کی عمر میں مکہ میں حضرت خدیجہ سے شادی کی۔ اس طرح حضرت خدیجہ پہلی خاتون تھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئيں۔ ان کا نام خدیجہ اور لقب طاہرہ تھا۔ ان کے والد کا نام خویلد اور والدہ کا نام فاطمہ تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنے سے قبل ان کا نکاح پہلے ابو ہالہ بن بناش تمیمی سے ہوا تھا۔ ان کے بعد عتیق بن عابد مخزومی کے نکاح میں آئیں۔ ان کے انتقال کے بعد 40 برس کی عمر میں حرم نبوت میں داخل ہوئیں اور ام المؤمنین کا شرف حاصل ہوا۔ پاکیزہ اخلاق کی بدولت طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نبوت ملی تو نبوت کی تصدیق کے ساتھ ساتھ سب سے پہلے اسلام لانے کی سعادت انہوں نے ہی حاصل کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنے کے بعد 25 برس تک زندہ رہیں۔ نبوت کے دسویں سال انتقال کیا۔
حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ کے انتقال کے بعد حضرت سودہ سے شادی کی۔ جو قریش کے ایک قبیلے عامر بھی لومی سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کی پہلی شادی سکران بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ہوئی تھی۔ جن کا انتقال ہو گیا تو 7 رمضان (بعض روایات میں شوال) سن 10 نبوی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں انتقال کیا۔ سخاوت و فیاض ان کے اوصاف کے نمایاں پہلو تھے۔
حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ والدہ کا نام زینب تھا۔ ان کا نام عائشہ لقب صدیقہ اور کنیت ام عبد اللہ تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سن 11 نبوی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور 1 ہجری میں ان کی رخصتی ہوئی۔ رخصتی کے وقت ان کی عمر تقریبا ساڑھے گیارہ برس تھی۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو برس گذارے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے 48 سال بعد 66 برس کی عمر میں بنو امیہ کے حکمران امیر معاویہ کے دور میں انتقال ہوا۔
حضرت عائشہ کو علمی حیثیت سے عورتوں میں سب سے زيادہ فقیہہ اور صاحب علم ہونے کی بناء پر چند صحابہ کرام پر بھی فوقیت حاصل تھی۔ فتوے دیتی تھی اور بے شمار احادیث ان سے مروی ہیں۔ خوش تقریر بھی تھیں۔

حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا: حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ والدہ کا نام زینب بنت مطعون تھا۔ غزوۂ بدر میں حضرت حفصہ کے شوہر شہید ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح ہوا۔ 45ھ میں مدینہ میں انتقال کیا۔
حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا: حضرت زینب رضی اللہ عنہا ام المساکین کے والد کا نام خزیمہ تھا۔ ام المساکین کنیت تھی۔ فقراء اور مساکین کے ساتھ فیاضی کرتی تھیں۔ اس لیے اس کنیت سے مشہور ہوگئیں۔ پہلے شوہر عبد اللہ بن جحش تھے جو غزوۂ احد میں شہید ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح ہوا لیکن صرف دو تین ماہ کے بعد ہی انتقال کیا۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا: ان کا نام ہند اور کنیت ام سلمہ تھی۔ پہلے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے نکاح ہوا تھا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں دونوں اسلام لائے تھے۔ حبشہ اور مدینہ ہجرت بھی کی تھی۔ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ غزوۂ احد میں زخمی ہوئے اور جانبر نہ ہو سکے تو ام سلمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح ہوا۔
علمی اعتبار سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعد آپ کا نمبر آتا تھا۔ بہت سی احادیث ان سے مروی ہیں۔

حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا: نام زینب اور کنیت ام الحکم تھی۔ والد کا نام جحش بن رباب اور والدہ کا نام امیمہ تھا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ اس طرح حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد تھیں۔
حضرت زینب کا پہلا نکاح زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ہوا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ دونوں کے تعلقات خوشگوار نہ رہ سکے اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے طلاق دے دی اور حضرت زینب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا۔ ان کا انتقال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں ہوا۔

حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا: آپ رضی اللہ عنہا بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں۔ حضرت جویریہ کا نکاح مسافع بن صفون سے ہوا تھا۔ جو ان کے قبیلے سے تھا۔ لیکن غزوۂ مرسیع میں قتل ہو گیا تو مسلمانوں کے ہاتھ آنے والے لونڈی و غلاموں میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں اور مال غنیمت کی تقسیم میں ثابت بن قیس کے حصے میں آئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رقم دے کر آزاد کرایا اور ان سے نکاح کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے بعد بنی مصطلق قبیلہ کے دیگر لونڈی غلام بھی آزاد کر دیے۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا انتقال 50ھ ہوا۔
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا: ان کا اصل نام رملہ تھا۔ ابو سفیان رضی اللہ تعالٰی عنہ بن حرب کی بیٹی تھیں۔ والدہ صفیہ بنت العاص تھیں۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ نکاح عبید اللہ بن جحش سے ہوا اور مسلمان ہوئیں۔ حبشہ ہجرت بھی کی۔ عبید اللہ کا انتقال حبشہ میں ہی ہوا۔ عدت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کے پاس عمرو بن امیہ کو نکاح کے پیغام کے لیے بھیجا۔ نجاشی نے خود نکاح پڑھایا اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا مدینہ آگئیں۔ 44ھ میں انتقال ہوا۔
حضرت صفیہ بنت حی بن اخطب رضی اللہ عنہا: ان کا اصل نام زینب تھا۔ جو غزوۂ خیبر کے قیدیوں میں سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حصے میں آئی تھیں جو قبیلہ بنو نضیر کے سردار حی بن اخطب کی بیٹی تھیں۔ ان کی ماں بھی رئیس قریظہ کی بیٹی تھیں۔
ان کی پہلی شادی مشکم القرظی سے ہوئی۔ اس سے طلاق کے بعد کنانہ بن ابی الحقیق کے نکاح میں آئیں جو جنگ خیبر میں قتل ہوا۔ حضرت صفیہ جنگ میں گرفتار ہو کر آئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کر کے نکاح کیا۔ 50ھ میں انتقال کیا۔

حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا: حضرت میمونہ کے والد کا نام حارث بن حزن تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح سے قبل پہلے مسعود بن عمرو سے نکاح ہوا۔ ان سے علیحدگی کے ابودھم کے نکاح میں آئیں۔ جن کی 7ھ میں وفات ہوئی اور 7ھ میں ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح ہوا۔ 51ھ میں انتقال فرمایا۔
حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا: بعض روایات کے مطابق آپ کنیزہ تھیں مگر زیادہ روایات کے مطابق آپ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے شادی کی تھی چنانچہ آپ بھی امہات المؤمنین میں شامل ہیں۔
__________________
میں غلام ھوں آقا صلی اللہ علی وسلم کا اور صحابہ کرام
رضوان اللہ علیھم اجمعین کا
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 8 صارفین نے sahj کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
فیصل ناصر (24-06-09), مباح (24-06-09), ابو عمار (24-06-09), خلیل (23-06-09), رضی (25-06-09), سحر (23-06-09), عادل سہیل (23-06-09), عبداللہ حیدر (04-07-09)
کمائي نے sahj کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
23-06-09 خلیل Umihat.. 100
پرانا 23-06-09, 11:28 AM   #2
ناظم اعلی
 
خلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
مراسلات: 5,879
کمائي: 72,480
ميرا موڈ:
شکریہ: 3,253
2,082 مراسلہ میں 4,719 بارشکریہ ادا کیا گیا
خلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ بھائی بہت اچھی ہے
خلیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
خلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (23-06-09)
پرانا 23-06-09, 02:49 PM   #3
Administrator

 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,672
کمائي: 73,010
ميرا موڈ:
شکریہ: 4,338
2,318 مراسلہ میں 7,515 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں نے پڑھا ہے کہ
ام المساکین حضرت ذینب بنت حجش رضی اللہ عنہ کو کہتے ہیں ۔

آپ ذرا چیک کرکے بتادیں

جزاک اللہ

Last edited by سحر; 24-06-09 at 11:25 AM.
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 23-06-09, 05:40 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 46
مراسلات: 3,000
کمائي: 43,639
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,291
2,162 مراسلہ میں 5,513 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ ،
جزاک اللہ کل خیر ساھج بھائی ، اللہ مزید خیر کی ہمت دے اور قبول فرمائے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 23-06-09, 05:46 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 46
مراسلات: 3,000
کمائي: 43,639
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,291
2,162 مراسلہ میں 5,513 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
میں نے پڑھا ہے کہ
ام المساکین حضرت ذینب بنت حجش کو کہتے ہیں ۔

آپ ذرا چیک کرکے بتادیں

جزاک اللہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
سحر بہن ، بھائی ساھج کی مہیا کردہ معلومات درست ہیں ، اِیمان والوں کی والدہ محترمہ ’’’ زینب بن خُزیمہ الھلالیہ رضی اللہ عنہا ‘‘‘ کا لقب ’’’ اُم المساکین ‘‘‘ تھا ، جیسا کہ احادیث کی کتابوں میں صراحت سے مذکور ہے ،
ساھج بھائی معذرت چاہتا ہوں سوال آپ سے تھا جواب میں نے دے دیا ، امید ہے آپ اور سحر بہن اس گستاخی پر گرفت نہ فرمائیں گے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
سحر (23-06-09)
پرانا 24-06-09, 11:11 AM   #6
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 246
کمائي: 5,404
ميرا موڈ:
شکریہ: 737
191 مراسلہ میں 472 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السّلام علیکم سہیل بھائی اور تمام برادران اور سسٹر سحر!
سہیل بھائی آپ سے ایک سوال پوچھنا تھا کہ کیا یہ درست ہے کہ حضرت بی بی امّی جان ماہرہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے بھی آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک فرزند عطا ہوا تھا جسکا نام حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنھا تھا جنکا کمسنی میں وصال ہو گیا تھا؟
جواب کا طالب آپکا بھائی مباح
مباح آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 24-06-09, 11:24 AM   #7
Administrator

 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,672
کمائي: 73,010
ميرا موڈ:
شکریہ: 4,338
2,318 مراسلہ میں 7,515 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
سحر بہن ، بھائی ساھج کی مہیا کردہ معلومات درست ہیں ، اِیمان والوں کی والدہ محترمہ ’’’ زینب بن خُزیمہ الھلالیہ رضی اللہ عنہا ‘‘‘ کا لقب ’’’ اُم المساکین ‘‘‘ تھا ، جیسا کہ احادیث کی کتابوں میں صراحت سے مذکور ہے ،
ساھج بھائی معذرت چاہتا ہوں سوال آپ سے تھا جواب میں نے دے دیا ، امید ہے آپ اور سحر بہن اس گستاخی پر گرفت نہ فرمائیں گے ، و السلام علیکم۔
اللہ آپ کو اور ساحج بھائی جزائے خیر عطا فرمائے
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 04-07-09, 12:45 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 46
مراسلات: 3,000
کمائي: 43,639
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,291
2,162 مراسلہ میں 5,513 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم بھائی مباح ، رسول ا کرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مقدس اور پاکیزہ بیگمات ، ہماری ماؤں میں سے ایک ماریہ بنت شمعون رضی اللہ عنہا بھی تھیں ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو اسکندریہ کے بادشاہ المقوقس کی طرف تحفتاً موصول ہوئیں تھی ، اور ان کے ساتھ ان کی بہن سیرین رضی اللہ عنہا بھی تھیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنے شاعر صحابی حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے دے دیا اور امی جان ماریہ کو اپنے نکاح میں لے لیا ، اور ان سے اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو ایک بیٹا عطا فرمایا ، جن کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِبراہیم رکھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دیگر فرزندان کی طرح انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے چھوٹی سی عمر میں ہی واپس لے لیا ،
ایمان والوں کی والدہ محترمہ ماریہ رضی اللہ عنہا چونکہ مصر کے معروف قبیلے قبط سے تھیں ، اس لیے ان کے نام کے ساتھ عام طور """ القبطیہ """" لکھا جاتا ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 2 صارفین نے عادل سہیل کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
sahj (04-07-09), مباح (04-07-09)
پرانا 04-07-09, 04:36 PM   #9
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 1,301
کمائي: 18,519
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,303
838 مراسلہ میں 2,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ بھائی عادل سہیل جزاک اللہ
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Bookmarks

Tags
color, کتابوں, قیس, مکہ, ماں, معذرت, اللہ, الزام, امیر, اسلام, بھائی, جواب, خواتین, خوش, رمضان, سال, سردار, طلاق, عزت, صاحبزادے, صحابہ, صحابی, صدیقہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
امیر المؤمنین ،خلیفۃ المسلمین، داماد ِرسول حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ فیصل ناصر سیرت اور تاریخ 8 07-12-09 08:14 AM
کاتب وحی امیر المؤمنین حضرت سید نا معاویہ رضی اللّ طارق راحیل تاریخ و عبر 7 24-05-09 07:07 PM
امیر المؤمنین ،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فیصل ناصر سیرت اور تاریخ 5 11-03-09 12:32 AM
ہماری مائیں : اُمہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کا معطر تذکرہ میاں شاہد تاریخ و عبر 14 19-08-08 03:46 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:17 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO 3.3.0
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2010,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger