![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,701
کمائي: 34,603
ميرا موڈ:
شکریہ: 162
705 مراسلہ میں 1,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حضرت عبید اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریمۖ نے ہم سے ارشاد فرمایا ''نوجوانو! تم میں سے جو شخص نکاح کی ذمے داریاں ادا کر سکتا ہو، اسے چاہئے کہ وہ شادی کرے، اس سے نگاہ قابو میں آ جاتی ہے اور آدمی پاک دامن ہو جاتا ہے۔ ہاں جو شخص ''نکاح'' کی ذمے داریوں کو ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ روزے رکھے، کیونکہ (روزہ) اس کے شہوانی جذبات کو کم کر دے گا'' بیوی کی ضروریات زندگی مثلاً لباس، خوراک، مکان اور روزمرہ کے دیگر اخراجات کی کفالت شوہر کے ذمے ہے۔ جو شخص اس کی استطاعت رکھتا ہو، اسے چاہئے کہ وہ لازمی طور پر شادی کرے۔ شادی کرنے سے نگاہیں ادھر ادھر بھٹکنے سے بچ جاتی ہیں۔ جائز ذریعے سے تسکین انسان کو ہر طرح سے محفوظ کر لیتی ہے۔ غیر شادی شدہ آدمی ہر وقت شیطان کے نرغے میں رہتا ہے۔ جو شخص ازدواجی زندگی کی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ مسلسل روزے رکھ کر اپنے شہوانی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے۔ روزہ رکھنے سے ایک فائدہ تو اسے یہ ہو گا کہ اس کی روح مادی کثافتوں سے نجات حاصل کرتی رہے گی۔ دوسرے یہ سب سے اللہ تبارک و تعالٰی کی قربت حاصل کرنے کا زیادہ موثر طریقہ ہے۔ اس سے انسان میں ضبط نفس کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔
نبی کریمۖ نے حضرت عثمان بن مظعون کو بلا بھیجا۔ وہ حاضر ہوئے تو آپۖ نے فرمایا۔ ''کیا تو میرے طریقے سے اعراض کرتا ہے؟'' انہوں نے عرض کیا ''(نہیں) اے اللہ کے رسولۖ خدا گواہ ہے کہ میں آپۖ کے طریقے سے اعراض نہیں کرتا، بلکہ میں تو آپۖ ہی کے طریقے کی تلاش میں ہوں''۔ نبی رحمتۖ نے فرمایا (میرا ہاتھ تو یہ ہے) کہ میں رات کے ایک حصے میں سوتا ہوں اور اس کے ایک حصے میں (نماز) پڑھتا ہوں۔ میں روزے رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ اے عثمان! تو خدا سے ڈر اور اپنے مہمان، اپنی بیوی اور اپنے نفس کی حق تلفی نہ کر۔ تیرے بال بچوں کا تجھ پر حق ہے۔ تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے اور تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے۔ پس تو روزے رکھ اور افطار کر، رات کو نفل نماز پڑھ اور سو بھی جا! دراصل حضرت عثمان بن مظعون نے کہا تھا کہ میں بالکل عورتوں سے واسطہ نہیں رکھوں گا۔ راتوں کو جاگ کر ساری رات نماز پڑھوں گا اور ہمیشہ روزے رکھوں گا، ایک دن بھی افطار نہیں کروں گا۔ یہ بات جب سرور کائناتۖ کے علم میں آئی تو آپۖ نے عثمان بن مظعون کو بلوا کر ان سے یہ بات چیت کی تھی۔ استطاعت کے باوجود نکاح نہ کرنا نیکی نہیں ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے کہ آدمی دنیا کے بازار سے بھاگ کر رات دن نماز روزے میں مشغول ہو جائے اور ازدواجی زندگی کے قریب بھی نہ پھٹکے۔ وہ شخص جاہل ہے جو تقویٰ کی ترنگ میں آ کر شادی نہیں کرتا اور اگر شادی کر لیتا ہے تو بیوی کے حقوق ادا نہیں کرتا۔ رات دن تبلیغ اور عبادت میں منہمک رہتا ہے اور اہل و عیال کی خبر گیری سے غافل ہے۔ اس روایت کی رو سے بال بچوں، مہمانوں اور اپنے جسم کے حقوق ادا کرنے کا نام تقویٰ ہے۔ نبی کریمۖ نے ارشاد فرمایا ''عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے۔ 1۔ اس کی جائیداد کی وجہ سے۔ 2۔ اس کی خاندانی شرافت کے باعث۔ 3۔ اس کے حسن و جمال کے سبب۔ 4۔ اس کی دین داری کی بنیاد پر۔ پس! تم دین دار عورت سے نکاح کرو!'' جو لوگ مال و دولت کے لالچی ہیں، وہ مال دار عورت سے نکاح کر کے اپنی معاشی پوزیشن کو مضبوط اور مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات بھی ان کے پیش نظر ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اپنی ماں کی جائیداد اور دولت کی وارث قرار پائے گی۔ بعض لوگ عزت و جاہ کے حصول کیلئے بے چین رہتے ہیں معاشرے میں نمایاں ہونے اور امتیازی مقام پانے کیلئے وہ مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔ جو شخص اس ذہن کے ساتھ سوچتا ہے کہ وہ اپنی جاہ پسندی کی تسکین کیلئے ایسی لڑکی سے نکاح کرے جو شریف خاندان سے تعلق رکھتی ہو، اس میں کوئی اور صفت پائی جاتی ہو یا نہ پائی جاتی ہو اسے اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی پس اسے چاہئے کہ جس لڑکی سے شادی کر رہا ہے اس کی فیملی معاشرے میں احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہو۔ خاندانی شرافت کو نظر انداز کر کے صرف دین اور تقویٰ کی بنیاد پر شادی کرنے کی مثالیں دور نبوت میں ملتی ہیں۔ نبی کریمۖ نے اپنی چچازادبہن زینب بنت حجش کا نکاح اپنے غلام زید بن حارث سے کیا۔ زید کے بیٹے اسامہ کی شادی نبی فخر کی لڑکی فاطمہ بنت قیس سے کر دی۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف جیسے تاجر اور قریشی کی بہن سے سیدنا بلال ابن ریاح نے نکاح کیا۔ اس سے یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ انسان کو اپنے تعلقات دین دار اور خدا ترس لوگوں سے قائم کرنے چاہئیں۔ فاسق و فاجر آدمی کی ہم نشینی غیر شعوری طور پر آہستہ آہستہ اچھے خاصے پرہیز گار کو بھی اس کے راستے سے ہٹا دیتی ہے۔ رسول اکرمۖ کا ارشاد پاک ہے ''جب تمہارے پاس وہ آدمی نکاح کا پیغام لائے جس کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس سے اپنی لڑکی کا نکاح کر دو''۔ معیار زندگی پر نظر نہیں رکھنی چاہئے۔ اگر کسی دیانت دار، صالح اور محنتی لڑکے کی طرف سے شادی کا پیغام ملے تو اسے قبول کر لینا چاہئے۔ نکاح کے سلسلے میں سب سے زیادہ اہمیت دین اور اخلاق کو دینی چاہئے۔ اسلام دین فطرت ہے،۔ نبی کریمۖ کا اسوہ حسنہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور آپۖ کی حیات طیبہ ہمارے لئے ایک روشن دئیے کی مانند ہے۔ آپۖ کے بتائے ہوئے احکامات اور فرمودات کی وجہ سے آج بھی تہذیب و تمدن کی اساس قائم ہے۔اللہ تعالٰی ہمیں اپنے دین پر قائم رہنے اور اس کی تعلیمات کے مطابق چلنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 3 صارفین نے راجہ صاحب کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | میاں شاہد (25-07-08), عبداللہ حیدر (25-07-08) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,701
کمائي: 34,603
ميرا موڈ:
شکریہ: 162
705 مراسلہ میں 1,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
جزاک اللہ بھائی کی جان
|
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| پاک, قیس, لوگ, لڑکی, چین, نماز, نظر, ماں, مشعل, آج, آدمی, اللہ, انسان, بچوں, تلاش, جاہل, حسن, خبر, خدا, روزہ, رات, زندگی, شخص, عبادت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں جون ایلیاء | Real_Light | جون ایلیا | 0 | 14-06-08 11:35 AM |
| سوزِ غم دے کر مجھے اس نے یہ ارشاد کیا | پاکستانی | جوش | 0 | 10-04-08 04:48 PM |
| تعمیلِ ارشاد | چاچا کمال | قہقہے ہی قہقے | 0 | 21-12-07 01:58 PM |
| مھربانی فرما | محمد11 | تعارف | 3 | 17-12-07 01:57 PM |
| مہربانی فرما کر غسل کے بارے میں بتاے | خرم شہزاد خرم | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 5 | 10-08-07 03:39 PM |