واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص)




یوم النبی صلی اللہ علہہ وسلم کا ایک نشریہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-02-12, 12:13 AM   #1
یوم النبی صلی اللہ علہہ وسلم کا ایک نشریہ
gazali gazali آف لائن ہے 07-02-12, 12:13 AM

از مولانا عبد الماجد ؒ دریا آبادی
با رہویں تاریخ مارچ 624عیسویں کی ہے اور با رہویں تاریخ م ہ رمضان 2ھ کی بھی ، کہ مدینہ سے ایک قافلہ ایک بڑی مہم پر ایک بڑے میدان کی طرف رواں ہے ، فاصلہ بھی کچھ ایسا کم نہیں ، کوئی چار منزل ، قافلے میں آدمی تین سو سے اوپر اور اونٹ کل سو۔ نتیجہ یہ کہ ایک ایک اونٹ کے حصہ دار تین تین ، اور سوار ہونا تو ایک وقت میں دو ہی کے لئے ممکن تھا ۔اس لئے ایک ساتھی کو لا محالہ پیدل چلنا پڑتا۔۔۔ اور یہی صورت قافلہ کے سردار کیلئے بھی ۔ یہ صاحب ادھیڑ عمر کے ۔ یہی کوئی 53۔54 سال کی عمر کے ۔ دونوں ساتھی سن میں چھوٹے ۔ دونوں ادب کے ساتھ اور جذبہ اطاعت وفاداری کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ
'' محترم سرادار ! ہم اپنی باری بہ خوشی بخشتے ہیں ۔ ہم لوگ پیدل بہ آسانی چل لیں گے ۔ ہمارے بجائے آپ ہی سواری پر تشریف رکھیں ''
خلوص سےبھری ہوئی درخواست فدائیوں کی طرف سے تھی جو سن میں بھی چھوٹے تھے ۔ مگر سنئے کہ محترم آقا کی طرف سے جواب کیا ملتا ہے ۔ ہمارے آپ کے لفظوں میں یہ کہ !
'' تم دونوں کچھ مجھ سے زایادہ قوی تو ہو نہیں ( پیدل جیسے تم چل سکتے ہو ، میں بھی چل سکتا ہوں( اور رہا اجر جو پیدل چلنے کی مشقت سے حاصل ہوتا ہے تو اس کے ھاجتمند جیسے تم ویسے میں ''
جواب سن لیا ؟
ملک وقوم کے سرداراں ذی شان آج اس بیسیویں صدی میں بھی جس آن بان ، جس کرو وفر سے سفر کرتے رہتے ہیں ،اس کے نمونے آپ کی آنکھوں کے سامنے ہیں ، ذرا ان نمونوں کو سامنے رکھ کر پھر اس سادے سے جواب کو جانچئے ،تو لئے ، پر کھئے اور اس پر جھوم جھوم اٹھئے ۔ بقول شخصے
چشم بر روئے واکشا باز بہ خویشتن بگر

سوال وجواب ، اب آپ سمھ گئے ، کس کس کے درمیان رہا ؟ درخواست پیش کر نے والے تھے ، دو نو عمر صحابی ، فدائیت کی منزلیں طئے کئے ہوئے اور جواب دینے والے تھے ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیارے اور ہم سب کو درس یدایت دے جانے والے ۔اب دیکھئے تو اس مختصر سے بول میں کتنا بڑا سبق دے گئے ۔شرافت کا ، کبر نفس کا ، شفقت کا ، مساوات کا ، اپنی عبدیت کا ، اللہ سے اپنے ربط وتعلق کا اور اجر آخرت کی طلب وحرص کا ۔
یہی وہ محبوب ومحترم اور سراپا عمل ہستی جس کی سالانہ یاد ہ، منانے ہم اور آپ جمع ہوئے ہیں ،یہ پیاری اور بر گزیدہ شخصیت تو اس قابل ہے کہ اسکی یاد سال میں ایک بار کیسی ،سال کے ہر روز بلا ناغہ منائی جائے ۔ اور دن میں ایک بار نہیں ، پانچ پانچ بار ۔۔۔ درود نا محدود اس ذات پا ک پر ۔
اب آپ میدان بدر تک تو آہی چکے ہیں تو ذرا ایک آدھ منظر اور دیکھتے چلئے ۔ادھر مقابل لشکر قریش ہر طرح ساز وسامان سے لیس ، کیا گھوڑے اور کیا اونٹ ، کیا زرہ اور کیا تلوار ، ہر اعتبار سے ۔۔۔ اورادھر مادی بےسرو سامانی ہر معیار سے ۔ اب رہی تعداد تو ادھر ایک اوراُ دھر تین ۔ ادھر تیس سو تیرہ اور اُ دھر ایک ہزار ۔اس پر مردانگی اور خود اعتمادی کا یہ عالم کہ سرور سردار نے مقابلہ کر کے ہی چھوڑا اور رہتی دنیا تک ایک باقی رہ جانے والا نقش ہمت وحوصلہ کا چھوڑ دیا۔
معرکہ جنگ تو خیر 17/ رمضان جوجمعہ کو صبح گرم ہونا تھا ۔اس رات میں دیکھنے والے کیا دیکھتے ہیں کہ یہی دلیر وباہمت سردار ایک گو شہ میں بیٹھا ہوا اپنے دب سے راز ونیاز میں مصروف ہے ۔ چشم گریان ، قلب لرزاں ، زبان پر الفاظ کچھ اس طرح امڈ امڈ کر آرہے ہیں۔


''الٰہی!
اگر تونے ان مٹھی بھر بندوں کو ہلاک کر دیا تو پھر اس زمین پر تیری بندگی کبھی نہ ہوگی ۔
الٰہی!
تو نے وعدہ امداد کا مجھ سے کیا ہے ۔ تو اسے پورا فر ما ۔
الٰہی ! تیری ہی مدد کی درخواست ہے ''
اللہ اللہ ۔ ہمت ودلیری کا ذکر تو آپ ابھی سن ہی چکے ہیں ۔ عبدیت ، خشیئت ،اعتماد علیٰ اللہ کا نقشہ اب آپ نے دیکھ لیا ؟ ۔۔۔ سیرت وکردار کی کتنی گہرائیوں سے پردے اس ایک واقعہ بدر سے ہٹ گئے اور اخلاق وروحانیت ومعرفتَ حق کے کتنے سبق اس ایک واقعہ کے اندر مل گئے ؟
تاریخ کا ورق ذرا سا الٹئے ۔
سال ہجری اب 5 ہے اور مہینہ ذی قعدہ کا ، کہ اکبارگی سارے دشمنوں نے مل کر مدینہ پر چڑھائی کی ٹھان لی ۔ قریش خود بھی زور وطاقت میں کیا کم تھے ،اب کے اپنے ساتھ کے لئے سارے ہی پُر قوت قبیلوں کو توڑ لیا ۔اور پھر ان سب کی کمک پر قوم یہود ۔اس ٹڈی دل نے آکر شہر مدینہ اور اس کے گر د ونواح کو گھیرے میں لے لیا ۔ مقابلہ کے لئے مسلمانوں نے یہ ٹھرائی کہ شہر سے باہر نکل کر ارد وگرد ایک خندق کھود لیجئے ۔
خندق جنگی اغراض کے لئے با قاعدہ کھو دنے کی یہاں مشق ومہارت کس کو تھی ۔ کام رسول ہی کی رہنمائی میں شروع ہوا اور بغیر کسی سفر مینا پلٹن کی امداد کے، کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں کرا یا جیسے کوئی ماہر فن انجینرہی کراتا اور اب یہ حال تھا کہ خود بھی کدال پھاؤڑا ہاتھ میں لے ،دوسروں ہی کی طرح کھدائی کر رہے ہیں ۔ جانثار صحابیوں کی نہیں، نہیں ،کے باوجود ، پورا شہر محاصرے میں ،باہر سے رسد کی آمد بند، قحط کی سی صورت حال نمودار ہو گئی ، بھوک سے نڈھال صحابیوں نے پیٹ پر پتھر باندھ لیے ۔اور اب جو دیکھا تو ان سے زیادہ فاقہ کشی کا عالم خود سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر طاری ،شکم مبارک پر ایک پتھر کے بجائے دو پتھر بندھے ہوئے۔
دیکھ لیا آپ نے؟ ۔۔۔۔ دنیا کی کس فوج کا سالار اپنے ادنیٰ ادنیٰ سپاہیوں کے ساتھ عمل میں مساوات اختیار کرے گا ،اورمساوات کیسی ۔ یہاں تو صورت سپاہیوں سے بازی لے جانے کی رہی ۔۔۔۔ جو حکمرانوں میں سب سے بڑھ کر عادل اور داناؤں کی صفت میں سب سے بڑا عاقل اور عالموں میں سب سے بڑا فاضل تھا، وہ مزدوروں کی قطار میں شامل ہو کر بھی کیسا فر د کامل نکلا۔
پاک وپاکیزہ ، مبارک ومتبرک زندگی کا لب لباب یا عطر جو کچھ کہیئے ،ان ہی دو ایک جھلکیوں میں کھنچ آیا۔ اب ان کی شرح کر نے پر آیئے یا واقعات کو تفصیل سے ایک ایک کر کے گنائیے تو منٹ اور گھنٹے کیسے ، ساری رات تمام ہو جائے اور یہ ذکر جمیل تقریبا بھی تمام ہونے کو نہ آئے ۔اللہ کا حق سب سے زیادہ ادا کرنے والا کی عظمت کو دل میں سب سے بڑھ کر جگہ دینے والا ، اللہ کی محبت میں رگ رگ سے غرق رہنے والا، اللہ کے بندوں میں سے ایک ایک کا حق پہچانے والا ، ہرمظلوم کا ہمدرد ، ہر غمگین کا غمگسار ، ہر عاجزو در ماندہ کا دسمبر ، 30 اپریل 571ء مطابق 12 ربیع الاول 52 قبل ہجرت اس دنیا کو خیر وبر کت سے منور کرنے کو مکہ کی سرزمین پر ظاہر ہوا ،اور 8 /جون مطابق 632 / ربیع الاول 11ھ کو مدینہ کی سر زمین سے اپنے مالک ومولا کے حضور میں روانہ ہوگیا ، عمر سنِ قمری کے حساب سے 63 سال کی پائی ۔
نبوت کے حصہ میں کل 23 سال کی مدت آئی اور اس میں سے بھی 12 سال کا زمانہ دعوت وموعظت اور ایک بڑی ہی ضدی اور سر کش قوم کی طرف سے مخالفت کی نذر ہوگیا ۔ مسلمان تو خیر اس ذات کو وسیلہ نجات سمجھتے ہیں اور اس کی شان میں۔بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔
کا کلمہ پڑھتے رہتے ہی ہیں ، باقی اس کی امانت ،دیانت ،عفت ، ہمت ، شرافت ، حسنِ اخلاق ، فم وفراست، تدبیر وتدبر ،جو ددستی ، دلیری ومر دانگی کی گواہی جس طرح پچھلے منکروں نے دی، اس طرح آج تک یورپ اور امریکہ کے بڑے بڑے فاضل وعاقل دیتے چلے آرہے ہیں ،اور اس کی نعت گویوں کی فہرست میں دس بیس نہیں پچاسوں بلکہ سینکڑوں ہندوؤں کے نام نظر آتے ہیں ۔اسی کے نام کی پکار آج ساڑھے تیرہ سو سال سے ہر روز پانچ پانچ بار دنیا کے گوشے سے ہوتی چلی آرہی ہے ۔وہ کل دس سال کی ننھی سی مدت میں دنیا میں عظیم ترین انقلاب بر پا کر گیا ۔اپنے پیچھے ایک منظم حکومت 2 لاکھ مربع میل پر چھوڑ گیا ،اور وہ بھی لاکھوں انسانوں کے قتل کے بعد نہیں ، ہزار ھا جانیں لینے کے بعد نہیں ، بلکہ حیرت کے کانوں سے سنئے کہ اس کی ساری لڑائیوں میں دوست ودشمن سب ملا کر کُل جمع ایک ہزار اٹھارہ انسان کام آئے ۔۔۔259،اپنے اور 759 دشمن کے۔۔۔ جبھی تو انسائیکلو پٰدیا بر نا ٹیکا کے گیا رھویں ایڈیشن کا بیان ہے کہ دنیا کی مذہبی شخصیتوں میں سب سے بڑھ کر کا میاب وہی گذری ہے۔
The most successful of all religious personalities
اور اس کی لائی ہوئی کتاب قرآن مجید کی بابت اسی انسائیکلو بر ناٹیکا کی گواہی ہے کہ روئے زمین پر سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب یہی ہے۔
The most widely read book Book in the world
اور جو امت اس کے نام کا کلمہ پڑھنی ہے۔ اس کی تعداد دنیا کے مختلف ملکوں میں ملا کر60 کروڑ کی ہے ۔
اس ساری زندگی کو اگر ایک مستقل اور مسلسل معجزہ نہ کہئے تو آخر اور کیا کہئے!
__________________
ہندوستان کا پہلا اردواسلامی فورم ‌http://www.algazali.org

gazali
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 241
شکریہ: 97
163 مراسلہ میں 441 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 117
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے gazali کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (07-02-12), نبیل خان (07-02-12), آصف رضا (07-02-12), سیفی خان (07-02-12)
پرانا 07-02-12, 06:36 AM   #2
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,514
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم
بہت اچھی تحریر ہے ۔ ۔ جزاک اللہ
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (07-02-12), آصف رضا (07-02-12)
پرانا 07-02-12, 01:37 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مقام: اللہ عزوجل کی زمین پر
مراسلات: 232
کمائي: 3,491
شکریہ: 1,303
153 مراسلہ میں 329 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت بڑا مضمون لکھا ہے جناب نے۔
قسط وار شائع کرتے تو میں‌شاید پورا ہی پڑھ لیتا۔
فی الحال آفس میں اور بھی بہت سے کام ہے ۔
چند ایک لائن ہی پڑھ سکا ہوں ابھی تک اس لئے کمنٹس دینے کی جسارت کر بیٹھا ۔
عمدہ تحریر لکھنے کا شکریہ۔ اللہ جزا عطا فرمائے۔
__________________
اس بلاگ میں دائیں طرف نیچے لکھے ہوئے FOLLOWپر کلک کریں اور اور اپنا ای میل ایڈریس دے تا کہ آپ کو اس بلاگ کی اپڈیٹ حاصل ہو۔
www.sunnatscience.wordpress.com
آصف رضا آف لائن ہے   Reply With Quote
آصف رضا کا شکریہ ادا کیا گیا
نبیل خان (07-02-12)
پرانا 07-02-12, 10:01 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,638
شکریہ: 8,511
1,595 مراسلہ میں 3,525 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی تحریر ہے ۔ جزاک اللہ خیرا
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا
آصف رضا (08-02-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کا ایک حل یہ بھی ہوسکتاہے dxbgraphics گپ شپ 15 07-05-11 09:23 PM
اگر یونیفکیشن بلاک اکثریت میں ہے تو ق لیگ کے دیگر ارکان نااہل ہوسکتے ہیں، اعتراز احسن گلاب خان خبریں 0 27-02-11 04:14 AM
رومن اردو سے یونیکوڈ میں ترجمہ کرنے کی گوگل کی سروس۔۔۔۔۔۔۔ Farrukh ویب سائٹس کا جائزہ 4 23-06-10 11:31 AM
ایران کو شکست--جاپان،آسٹریا، ترکی ، یوگنڈا اور میکسیکوسلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن منتخب ابن جلال خبریں 0 18-10-08 03:18 PM
قرار داد کے ذریعے جج بحال نہیں ہوسکتے ، ملک قیوم ، ہم ایسا کرینگے، وفاقی و عبدالقدوس خبریں 0 23-04-08 01:59 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:39 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger