![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 406
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 201
کمائي: 2,381
شکریہ: 108
142 مراسلہ میں 285 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ بہت اچھی تحریر ہے۔
|
|
|
|
| پیارا کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (21-07-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
سورہ الحمد کی ایت سے اگر کوئی اور یہ سمجھتا ہے کہ
نہی درود نہی بلکہ کچھ اور انعام کی بات ہورہی ہے یا یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کی آل پاک علیہ سلام وہ انعام یافتہ لوگ نہی ہیں جن کے بارے میں ہم قران پاک میں پڑھتے ہیں تو وہ لکھ سکتے ہیں یہ میری اپنی تحریر ہے میں اس میں تبدیلی کرسکتا ہوں اگر کوئ اور اللہ کے اس انعام کا کی طرف اشارہ کرئے ۔ ۔ ۔ ۔ دوسرے یہ کہ میں صراط مستقیم پر پانچ دنوں سے ایک مراسلہ لکھ رہا ہوں جس میں لفظ انعام لکھا تو انعام سے زہن کہیں سے کہیں نکلتا چلاگیا اور یہ اتنا بن گیا کہ خود ایک مراسلہ بن گیا ۔ ۔ ۔ ۔ یوں اپ سے شئیر کردیا ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
بس کچھ انعام ایسے ہیں جن میں انبیا علیہ سلام ہیں تو ان کے ساتھ شہید اور صالحین بندے بھی شامل ہیں بس یہ بھی
وہ خاص انعام نہ ہوا کیونکہ بلا تخفیف سب ہی مقدس ہستیاں ان میں شامل ہیں جیسے فرمان الہی ہے کہ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّھَدَآءِ وَ الصّٰالِحِیْنَ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا 4:69 اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے وہ ان انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ھو گا جن پر اللہ نے انعام کیا ھے اوریہ لوگ کیا ھی اچھے رفیق ھیں۔ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
مختلف علمائے اسلام نے بہت سے باتوں کی طرف رہنمائی کی ہے تو بس ڈھنڈتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر اور ان کی آل پاک ع پر اللہ کے کتنے احسانات ہیں ، کون کون سے فضائل ایسے ہیں جو کسی کے پاس نہی ۔ ۔ہوسکتا ہے کہ درود سے زیادہ اہم کوئی انعام ہو ۔ ۔ ۔
آخر کب تک ہم نماز میں پڑھتے رہیں گئےکہ جن لوگوں پر انعام کیا ان کی راہ پر چلا ۔ ۔ ۔ ۔ ڈھنڈنا تو پڑئے گا ۔ ۔ یا بس یونہی کھڑے جھومتے رہیں گئے ۔۔۔۔۔ ایک اور انعام کی طرف اشارہ ۔ ۔ ۔ امام مسلم بن حجاج، ابو داؤود اور نسائی ان سب نے مذکورہ حدیث کی سند کو اپنی صحیح میں ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے اور آخر میں عبد المطلب بن ربیعہ بن الحارث سےمتصل کیا ہے کہ عبد المطلب کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ (ص) سے سنا کہ تمام صدقات میل کچیل کی مانند ہیں ۔ اور محمد ص اور آل محمد ع میں کسی پر حلال نہیں۔ اور دوسرا استدلال اس حدیث کے ذریعے ہے جس کو امام دارالھجرۃ مالک بن انس اپنی کتاب میں سند کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ص سے روایت کرتے ہیں کی آپ (ص) نے فرمایا: صدقہ آلِ محمد کے لئے حلال نہیں ہے کیونکہ یہ لوگوں کے اموال کا میل ہے۔ رسول اللہ ص نے صدقات کو اپنی آل ع پر حرام کیا ہے اور آل محمد ص کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوئی کہ ان پر صدقہ حرام ہے لہذا وہ لوگ جن پر صدقہ حرام ہے، بنو ہاشم، اور پھر بنو عبد المطلب ہیں۔ جب زید بن ارقم سے پوچھا گیا کہ وہ کون آلِ رسول ہیں کہ جن پر صدقہ حرام ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ول آل علی، آل جعفر، آل عباس اور آل عقیل ہیں ۔ صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ اگرچہ یہ بھی ایک انعام ہے جو آل محمد علیہ سلام پر اللہ کی طرف سے ہوا مگر چونکہ اس میں بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کے افراد یعنی آل جعفر اور ال جعفر اور آل عباس اور آل عقیل وغیرہ بھی شامل ہیں ۔ اس لیے یہ انعام تو ہوا مگر انعام خاص نہ ہوا ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, کوئی, کرنی, کرتے, گھر, گئی, پاک, قران, نماز, چاہیے۔, نظر, نعت, مجید, آیات, اللہ, انعام, بار, دی, دعا, سورہ, ظالم, غضب, صالحین, صرف, صراط |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|