واپس چلیں   پاکستان کی آواز > سائنس اور ٹیکنالوجی > دیگر تحقیقات > کائنات کے راز



کائنات کے راز کائنات کے راز


متوازی کائنات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-03-11, 11:41 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,382
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default متوازی کائنات

متوازی کائنات

متوازی کائنات
ہمارے ایک دوست جو بڑی نفیس طبیعت کے مالک اور بڑے محبت کرنے والے ہیں " نے ہم سے اپنی ایک تحقیق کا ذکر کیا جس میں انہوں نے ایک عجیب بات کہی ان کا کہنا ہے کہ بقول مصنف کے ہماری کائنات کے متوازی ایک اور کائنات کا بھی وجود ہے جو اس کے بالکل parallelچل رہی ہے لیکن نہ تو ہمارے نظام سے ٹکراتی ہے اور نہ ہی اس کے نظام میں کوئی گڑ بڑ ہوتی ہے بلکہ ہمارا موجودہ نظام اسی پہ انحصار depend کرتا ہے ۔ گوکہ یہ بات بڑی پرانی ہے اور کئی سائنسدان اس قسم کا دعویٰ پہلے بھی کر چکے ہیں multiverse متنوع کائنات کا نظر یہ پہلے بھی پیش کیا جا چکا ہے بلکہ ایک سائنسدان شاید ،ڈبلیو ایچ نے تو اس دعویٰ پر اپنی دلیل بھی دی تھی اس کا کہنا تھا کہ اس کائنات میں ہزاروں کائناتیں موجود ہیں اور ان میں بیک وقت ہر جگہ ہم لوگ اور ہماری کائنات کی چیزیں ہزاروں جگہ موجود ہیں بذات ہم خود اس کائنات کے ساتھ ساتھ ہزارون کائناتوں میں موجود ہیں اس نے اپنے اس دعویٰ کی دلیل میں ایک سپر کمپیوٹر بنایا تھا جو ایک ایسے سوال کو جو بہت ہی الجھا ہوا او ر پیچیدہ تھا جس کو حل کرنے کے لئے موجودہ وقت کے حساب سے ایک گھنٹہ در کار تھا لیکن وہی سوال اس نے دس منٹ میں حل کر کے دکھایا تھا اور بقول اس کے اس نے اس سوال کو مختلف کائناتوں میں منتشر کر کے اس سوال کا جواب صرف دس منٹ میں حاصل کیا جو ایک کمپیوٹر ایک گھنٹے میں حل کرتا ۔اس کا اس بات پر اصرار تھا کہ اس نے اسی سوال کو مختلف ٹکڑوں میں بانٹ کر حل کیا ہے جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات میں کئی کائناتیں موجود ہیں ۔
یہ ایک الگ بات ہے کہ اس کے اس نظر ئے کو زیادہ پزیرائی نہیں مل سکی
بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جب بگ بینگ ہوا تھا تو اس وقت ایک اور مادہ بھی وجود میں آیا تھا جو اس مادہ سے 90% زیادہ قوی، بڑا اور تیز ہے روشن مادہ کم ہے اوریہ اصو ل اور قوانین کے تحت ہے تاریک مادہ لا محدود ہے اور یہ اصول و قوانین سے آزاد ہے اس کی تیز رفتاری کا یہ عالم ہے کہ اس کائنات کی سب سے تیز رفتار شے یعنی روشنی بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی سائنسدان اسے کا لے مادے یا اینٹی میٹر کے نام سے جانتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کالا مادہ بالکل تصویر کے نیگیٹؤ کی طرح ہے اور اس کائنات کا سارا نظام اسی مادے کی وجہ سے قائم ہے وہ مادہ اصل ہے او ر یہ کائنات اس کا عکس ہے جس طرح کوئی تصویر اپنے نیگیٹؤ کا عکس ہوتی ہے اگر کوئی شخص موجودہ کائنات میں تبدیلی کرنا چاہے تو اسے کالے مادے تک رسائی حاصل کرنی ہوگی اگر وہ وہاں تک جانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس کائنات کو جس طرح چاہے موڑ سکتاہے لیکن اس تک رسائی نا ممکن ہے کیو ں کہ روشنی سے زیادہ تیز سواری اب تک ممکن نہیں ہو سکی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر انسان اس مادے تک پہنچ جائے تو اس کی ہر خواہش پلک جھپکتے میں پوری ہو سکتی ہے اور وہاں ایسی ایسی چیزیں ہیں جن کے سامنے ہماری دنیا خاک کی طرح ہے جس طرح ماں کا پیٹ بچے کی کل کائنات ہوتی ہے اور وہ اسی کو کائنات سمجھتا ہے اس کا امیج اور تخیل کسی اور کائنات کا تصور قائم نہیں کر سکتا لیکن ماں کے پیٹ اوراس کائنات میںکوئی مقابلہ کوئی مماثلت اور کوئی جوڑ ہی نہیں ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ اس کائنات یعنی کالے مادے میں سب سے بنیادی چیز جو ہے وہ سوچ ہے جو سوچو گے فوراً پورا ہوجائے گا جو چاہو گے فوری مل جائے گا جو خواہش کروگے صرف اس کا خیال ہی اس کے وجو د کا مظہر بن جائے گا او ر خیال خود ہی اصل بن کے حاضر ہو جائے گا ۔کچھ سائنسدان تو یہاں تک گئے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی وجود ہی نہیں ہے یہ صرف ہمارا تخیل ہے بقول غالب (عالم تمام حلقہءِ دامِ خیال ہے ) وگرنہ اس کے علاوہ اسکا کوئی وجود ہے ہی نہیں ۔یہ صرف ہمارا illusionیا فریب ِ نظر ہے اس پر ایک بڑی مستند کتاب بھی ہے matter the other name for illusion اور اس پر اب تو کافی فلمیں بھی موجود ہیں جیسے میٹرکس وغیرہ بعض سائنسدان اس طرف بھی گئے ہیں کہ کالے مادہ تک رسائی کا ایک ذریعہ اور بھی ہے لیکن وہ اتنا مشکل ہے کہ اس کے حصول کے لئے انسان کو بڑ ی محنت درکار ہے اور ایک ایسا پختہ تصور اور ایک ایسا غیر متزلزل یقین درکار ہے جس میں ایک زرہ برا بر بھی شک نہ ہو لیکن ہماری موجودہ کائنات میں اس کا وجودعنقا ہے ۔ہاں ایک عام آدمی کے لیے اس کا مختصر سا وقفہ جس کے اندر وہ اس عالم کا مشاہدہ کر پاتا ہے وہ خواب کی ایک صورت ہے خواب میں جو جہان اسکو نظر آتا ہے یہ کالے مادہ کی ایک مختصر سی شبیہ ہوتی ہے یہ کالے مادے کے بارے میںگورے لوگوں کے وہ نظریات ہیں جو میں نے مختصر بیان کئے ہیں اب میں اپنے اصلی مقصد کی طرف آتا ہوں ۔
آپ نے دیکھا کہ یہ سارے واقعات اور نظر یات ایک ہی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اس کائنات میں ایسا کچھ ضرور موجود ہے اور ایسا کوئی راز اور بھید ضرور پو شیدہ ہے جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے اور یہ کہ یہ کائنات اسی کی وجہ سے موجود ہے یہ سارے نظر یات ان لوگوں کے ہیں جو بغیر تحقیق کے چھینکتے بھی نہیں ہیں اگر وہ قوم کوئی ایسی بات کر تی ہے تو ماننا پڑے گا کہ دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے ۔
یہ الگ بات ہے کہ ہمارا دین اس معاملے میں ہماری مکمل رہنمائی کرتا ہے اور ہمارے اسلاف کا اس معاملے میں اتنا خزانہ موجود ہے کہ ہم خود دوسروں کے راہبر بن سکتے ہیں لیکن ہم چونکہ اپنوں پہ اعتبار کرنا چھوڑ چکے ہیں اس لئے ہمیں غیروں کی بات کر کے یقین دلانا پڑ تا ہے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ایسا ہے بھی اور اگر ہے تو کیوں ہے اور کیسے ہے ؟ یہ کیوں اور کیسے بہت ٹیرہی کھیر ہے اس کو انسان سمجھ تو سکتاہے مگر سمجھا نہیں سکتا کیو ں کہ اس جگہ الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں اور اپنا مقام کھو دیتے ہیں اس کو بالکل اسی طرح سمجھیں جیسے کوئی شخص کوئی خواب دیکھے تو وہ جو خواب اس نے دیکھا ہے وہ خود تو دیکھ سکتا ہے مگر دکھا نہیں سکتا صرف بتا سکتا ہے ان الفاظ کے ساتھ جنہیں وہ سمجھتا ہے کہ میرے خواب کی مکمل ترجمانی کر دیں گے مگر ایسا ہوتا نہیں ہے اور آپ سمجھ سکتے ہیں کہ خواب بتانا اور ہے اور دکھانا اور ہے یہ دو مختلف چیزیں ہیں بحر حال مجھے اپنی کم مائیگی کا پو را پورا احساس ہے جو کچھ میں بزرگوں سے سمجھا ہوں وہ آپ تک پہنچانے کی اپنی سی کوشش کر تا ہوں آگے اللہ کی مرضی جہاں تک وہ پہنچائے ۔
اس بات کی ابتد ا ء ہمیں اپنی ذات سے کرنی پڑے گی پہلے ہمیں سمجھنا پڑے گا کہ ہم خود ہیں کیا ہمارا وجود صرف گوشت پوشت ہڈیوں اور خون کا مجمو عہ ہے یا اس سے آگے کی کو ئی شے ہے قلند رِ وقت نے اپنی شاعری میں کیا خوب کہا ہے
طلمِ بود و عدم جس کا نام ہے آدم
خدا کا راز ہے قادر نہیں ہے جس پر سخن
زمانہ صبحِ ازل سے رہا ہے محوِ سفر
مگر یہ اس کی تگ و دو سے ہو سکا نہ کہن
اگر نہ تجھ کو ہو الجھن تو کھول کر کہ دوں
وجودِ خضرتِ انساں نہ روح ہے نہ بدن
انسان اپنی ذات میں بڑ ی حیرت انگیز چیز ہے بلکہ جہاں حیرتوں کی انتہا ہو تی ہے وہاں سے اس کی ابتدا ء ہو تی ہے یہ ایک طلسم کدہ ہے حیرتوں کا ایک ایسا لا محدود سلسلہ اور سمندرہے جو روز ِ ازل سے شروع ہوا ہے مگر اب تک سمٹنے میں نہیں آ رہا آپ لوگ شاید میری بات سے اتفاق نہ کریں مگر میں حق ظاہر کرنے پر مجبور ہوں جس کو میری بات سے اتفاق نہ ہو وہ میڈیکل سائنس کے کسی طالب علم سے مل لے یا بائیلوجی یا کوئی بھی سبجیکٹ جو انسانی وجود سے بحث کرتا ہو کو پڑھ کر اپنی تسلی کر سکتا ہی۔
انسانی جسم کے مختلف الخواص مادوں کے اتصال کی تشریح بیان کرنے والے سبھی لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی جسم اور حیاتِ انسانی کی عنصری ترکیب میں کثیف اور لطیف حالتوں میں چھ قسم کی روشنیوں یا غلافوں کا الحاق یا اتصال ملتا ہے اور ان سب پر مسلط روح ان پانچوں روشنی کے غلافوں سے الگ ایک علیحدہ محرک عنصر ہے ( اسے صرف سمجھانے کے لئے عنصر کہا گیا ہے ) جسم انسانی کے کثیف مادو ں یا عنصرِ ترکیبی کا بیان علم طب کے تحت آتا ہے اور لطیف رگو ں اور ریشوں کے جالوں کا علم روح سے متعلق ہے ان چھ روشنیوں کے غلافوں کا ذکر یوگیوں کے ہاں اور ہندو مت میں بھی ملتا ہے مگر تصوف میں ان کو جس طرح بیان کیا گیا ہے وہ بالکل ہی مختلف ہے اور ایسی تحریریں بد قسمتی سے بہت کم ملتی ہیں جن میں ان دلائلِ عملی یا عقلی سے بڑھ کر ذاتی عمل پزیری کی بنا پر اس مسئلہ کو سلجھایا گیاہواس کی اہم وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ دلائل عملی یا عقلی کا تعلق جہاں ذہن اور خیالات کی صف بندی سے ہے وہاں ان روشن کوٹھریوں کا مسئلہ جسمانی ساخت کی تشریح کے علم anatomy میں تجسس سے متعلق ہے جو تجرباتی سائنس کی ایک شاخ ہے اس لیے ان کے بارے میں جتنا علم صوفیوں کو ہوتا ہے اتنا علم زبانی جمع خرچ کرنے والوں کو نہیں ہوسکتا ۔
خیالاتِ انسانی اور جسمِ انسانی کے تین حصے کئے جا سکتے ہیں جو در اصل سلسلہ وار ملتفت بہ باطن ہیں سب سے اول بیرونی حصہ کثیف ہے جس میں انسانی جسم کی کثیف ساختیں شامل ہیں مثلا ہڈیاں، دانت،پٹھے ،ناخن ، گر دے وغیرہ وغیرہ ان کو جسمِ کثیف کا نام دیا جاتا ہے ان میں وہ رگ و ریشے بھی شامل ہیں جو موت کے بعد کچھ وقت تک قائم رہتے ہیں او ر پوسٹ مارٹم کے وقت انہیں دیکھا جاسکتا ہے اس کثیف جسم کی دوسری ترتیب جسمِ لطیف کہلاتی ہے اس میں خورد بینی نسموں یا خلیوں کا سلسلہ ہے مثلاissues,molecules,sell,nucleus,protoplasma, nerves, وغیرہ لطیف ساختوں کا مجموعہ کہلاتے ہیں ایسی لطیف ساختیں خوربین کے بغیر نہیں دیکھی جاسکتیںاور جان نکلنے پر لاش ساکن ہوجانے سے دکھائی نہ دینے والی ناقابل حالت کو پہنچ جاتی ہیں ۔یہاں سے جہاں علم طب ااپنے اختتام کو پہنچتا ہے وہاں روحانی علم کی ابتدا ہوتی ہے لوگ روحانیت کو کوئی الگ شے سمجھتے ہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے یہ ظاہر سے باطن کی طرف جاتا ہے مگر ایک صوفی اپنے مرید کو باطن سے ظاہر کی طرف لاتا ہے کرامات کا سلسلہ یہیں سے شروع ہوتا ہے اور وہ کائنات جسے سائنس دان اپنی زبان میں کالا مادہ کہتے ہیں در اصل انسان کا باطن ہے اس کو ہم آگے چل کر سمجھاتے ہیں
چھ روشن چکر جن کا ذکر ہم اوپر کر آئے ہیں در اصل چھ لطائف ہیں جو صوفیوں کے ہاں لطائف ستہّ کے نام سے جانے جاتے ہیں ان میں سے ہر لطیفہ کا ایک مقام اور رنگ ہے یہی لطائف ہندو مت میں اور یوگیوں کے ہاں بھی ملتے ہیں مگر ان کے ہا ں چھ کے بجائے پانچ چکر ہوتے ہیں۔اور ان کا سفرآخری لطیفہ یا غلاف تک پہنچ کر اختتام پزیر ہو جاتا ہے یہ ان کا آخری مقام ہوتا ہے اس سے آگے کا ان کے ہاں تصور نہیں ہے مگر اسلام میں یہ اختتام نہیں ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تویہاں تک تو صرف شعبدے بازی ہی ہے اصل مقام اس سے آگے شروع ہوتا ہے جہاں انسان اپنی ذات میں فنا ہو جاتا ہے اور اللہ کے ساتھ باقی رہتا ہے اس مقام کو اکثر لوگ نہیں سمجھتے اور مزاق اڑاتے ہیں کہ کیا انسان معاذاللہ اللہ کے ساتھ الحاق کر جاتا ہے نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے بالکل آسان اور simple سی بات ہے کہ اس انسان کے اندر سے اس کی ساری صفات ختم ہوجاتی ہیں صرف اللہ کی رضا ہی رہ جاتی ہے اس کا ہر کام اللہ کے امر کے ساتھ جڑ جاتا ہے یہی وہ مقام ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑ تا ہے میں اس کے پاؤ ں بن جاتاہوں جس سے وہ چلتا ہے اور میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اسی شخص کو اسلام مومن کے نام سے موصوف کر تا ہے کہ مومن کی فراست سے بچو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے ۔
بات ہو رہی تھی جسم سے روح کے اتصال کی جسم اور روح کبھی الگ نہیں کئے جا سکتے روح جسم کے اندر سے ہو کر ہی گزر تی ہے جسم کے بعض گوشے ایسے ہیں جن کے ساتھ روح کا اتصال ہوتا ہے اور روح کی قوت کے کچھ مخصوص مقام ہیں جن سے روح ہو کے گزرتی ہے ان مقامات پر روح کی گزرگاہیں ہیں جب انسان جسم کے ان مقامات سے اپنا رابطہ بحال کر لیتا ہے تو وہ روح کی تحریکات کو کچھ کچھ سمجھنے لگتا ہے سب سے پہلا مقام مغز استخوان (آگیا چکر )edula plexus اور دماغی عقیرہerebra plexus کے اندرونی نور میں مقیم غا یت انبساط کاone (غلاف) چکرہ یا لطیفہ اسی میں چھپا ہوا مانا جاتا ہے اس کو سنہری رنگ کے ساتھ نسبت ہے سونے کا رنگ اس میں ایک سنہری کوٹھری (ell )ہے جو گویا بہشتی نور سے ڈھکی رہتی ہے اس سنہری کوٹھری میں تین صمام(alves )ہوتے ہیں اور تین مقدس گھرنے ہوتے ہیں اور اس میں جو فرشتہ عنصر الٰہیہ کے ساتھ رہتا ہے اسے سچے عارف ہی جان سکتے ہیں ۔
جسم حیوانی کی تخلیق یا نشو و نما کرنے والے خلیے cell اصطلاحی معنوں میں مادہ اولیہ protoplasm کا ہی ایک حصہ ہوتے ہیں مر کزہ nucles نام کا عنصرِ حیاتی جس چھوٹی سی معرق تھیلی میں رہتا ہے اس کو حیاتیات کے اصطلاح میں خلیہell کہتے ہیں جس کے معنی کوٹھری یا تھیلی کے ہیں ۔
سائنس کے ضابطہ میں خلیہell کی جو وضاحت کی جاتی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک بہت ہی لطیف حساس اور متحرک جوہر اقل حصہ ہے جو مختلف اشکال رکھتا ہے کوئی خلیہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ خوردبین کے بغیر نہیں دیکھا جاسکتا لیکن بعض بڑے بھی ہوتے ہیں جنہیں ہم اپنی نظر سے دیکھ سکتے ہیں ان کی جسامت عام طور پر ایک انچ کے چھ ہزارویں حصہ سے لے کر سویں حصے تک ہوتی ہے ۔ ان کی تخلیق و تشکیل میں باہر کی طرف ایک چمکیلی اور بد بدی جھلی ہوتی ہے اور اندر کی طرف ایک شفاف اور رسیلی رطوبت ہوتی ہے ۔ اس رسیلی رطوبت کو سائنس دان پروٹو پلازم یا مادہ اولیہ کہتے ہیں ۔ اس مادہ اولیہ یا رطوبت کے اندر ایک لطیف ترین اقل حصہ Atom ہوتا ہے جس کو سائنسدان نیو کلینر یا حیاتی مر کزہ کہتے ہیں در اصل یہی نیوکلینر خلیہ کی قوت حیات کے ہیولیٰ کا مر کز ہے ۔ یہی خلیہ کی روح ہے کیونکہ خلیہ کی زندگی کا انحصار اسی پر ہی۔ اس نیوکلنر یا حیاتی مر کزہ کو اگر ہم خور د بین کے نیچے رکھ کر دیکھیں تو روئی کے ریشوں کے جال کا سا جال دکھائی دیتا ہے ۔ یہ چھوٹے ریشے کسی کسی رنگ کو قبو ل کر لیتے ہیں یا پکڑ لیتے ہیں اسی لئے انہیں کروموسوم chromosome کہتے ہیں کروموسوم ہی وہ ریشے ہیں جو سلسلہ نسب میں والدین سے اولاد کو منتقل ہو تے ہیں ۔ یہی وہ حقیقی صورت ہے جس سے ہر اولاد اپنے والدین کی صحیح معنوں میں نسلاً او ر قانوناً اولاد ہونے کا حق پا کر ان کی وارث بنتی ہے اور آج تو سائنس نے یہ بات تحقیق سے بھی ثابت کر دی ہے کہ کائنات میں ہر ذی روح یا غیر ذی حیات کا مادی وجود مختلف اشکال کے خلیوں کے مر کزوں کے مجموعہ ہی سے مرتب ہوا ہے الگ الگ خلیے اپنے ایک متعین تخلیقی سلسلہ سے دوسرے خلیوں کی تخلیق کر تے ہیں اور یہی سب لاکھوں کروڑوں کی تعداد مل کر جسم حیاتی و مادی تشکیل و تکمیل کرتے ہیں ۔اجسامِ حیاتی میں جتنا بھی جسمانی اور مادی مواد یا سامان پایا جاتا ہے وہ سب انہی خلیوں کے اجتماع اور اتصال کا نتیجہ ہے ذی روح مخلو ق میں جتنی بھی امتیازی خصوصیات و عادات پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب ان لاکھوں کروڑوں خلیوں اور مر کزوں کی جزویت اور تنظیم کا نتیجہ ہیں۔
جن بے شمار خلیوں اور مر کزوں نے مل کر اس لا محدود کائنات کے کل جمادات ، نباتات اور حیوانات کی تخلیق کی ہے جن بیشمار خلیوں نے اپنے جسمانی اجتماعات سے ذی حیات کا ہیولہ آراستہ کیا ہے اور جن بیشمار خلیوں نے اپنے نموپانے اور مسلسل تغیر پزیر اجتماع سے جسم انسانی کو کثیف شکل عطا کی ہے ، ان کے اوصاف ،طریق ، روش او ر ترتیب و بناوٹ کے مطابق کثیف ، لطیف او ر لطیف تر حالتوں کو دیکھتے ہوئے پہلے وقتو ں کے عارفوں او ر صوفیوں نے ان کے چھ جز کر کے سب کے الگ الگ مراکز جزویت یا اجتماعات مقرر کئے تھے ان چھ مر کزوں کے نام ، ہیت ، مقام ، اوصاف ، طریق اور روش کے اعتبار سے ان کے مقام رنگ اور اوصاف مختلف ہیں ۔
یہ تشکیلِ ابدان اور ان کے ساتھ لطائف کا اتصا ل اور ان لطائف سے عالم بالا کا تعلق یہ ایک مسلسل اور اٹوٹ واسطہ اوررابطہ ہے جو ہر شخص کے ساتھ ہر وقت موجود رہتا ہے بھلے وہ اس کو محسوس کر ے یا نہ کرے لیکن وہ بیک وقت دو دنیاؤں کا باسی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں دو عالموں کا ذکر ایک ساتھ کیا ہے اور دونوں کے لیئے اپنی خالقیت کا ذکر ایک ساتھ کیا ہے کہ ہر دو عالم خلق اور عالم امر اسی کے ہیں ۔
ہماراہر عمل اپنا ایک وجو د رکھتا ہے ہر وہ حرکت جو ہم کرتے ہیں اس کا ایک ریکارڈ ہے لیکن کہاں ہے ہم جس دنیا سے آئے ہیں وہاں کے لوگ ہم سے مکمل طور پر آگاہ ہیں ہماری سوچ کہاں سے آتی ہے اور اس کا منبع کہاں ہے ۔
جب ہم کوئی حرکت کرتے ہیں تو وہ حرکت در اصل کسی اور حرکت کا نتیجہ ہوتی ہے جو کہیں اور کی گئی ہوتی ہے یہ ہماری سوچ ہوتی ہے جو ہمارے اعضاء کو حرکت کرنے پر مجبور کر تی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سوچ کیا ہے اور اس کا محل کیا ہے سوچ کہاں اے آتی ہے نقینً آپ کہیں گے کہ سوچ دماغ کا عمل ہے دماغ سوچتا ہے اور اعضاء اس کے حکم پر حرکت کرتے ہیں دماغ کس چیز سے تخلیق پاتا ہے لازماً مادہ سے یا ایک قدم اور آگے بڑھ کے ہم کہ سکتے ہیں کہ گوشت سے اس جگہ پہنچ کر ایک منٹ کے لئے رک جائیے اور زرا سوچ کر بتایئے کہ کیا مادہ یا گوشت میں سوچنے کی صلاحیت ہے کیا ایک گوشت کا ٹکڑا خیالات کو تشکیل دے سکتا ہے کیا اس میں تصورات آسکتے ہیں اور کیا وہ ادراک کی صلاحیت رکھتا ہے اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو آپ یقینا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آ پ کی ٹانگ سوچ سکتی ہے آپ کی انگلی میں خیالات آسکتے ہیں اور آپ کا پیٹ خواب دیکھ سکتا ہے مگر یقینا ایسا نہیں ہے اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہم اس اصل دماغ کو تلاش کرنے پر مجبور ہیں جس میں خیالات کا ہجوم ہوتا ہے اور جو تمیز کرنا جانتا ہے اور جس پر شریعت کے احکامات لاگو ہوتے ہیں شریعت کے احکامات محض ایک گوشت پوشت کے ٹکڑے پر نافذ نہیں کئے جاسکتے جب تک اس میں اچھے اور برے کی تمیز ہی نہ ہو وہ دماغ کہاں ہے اس کا تعلق کہاں سے ہے اور اس میںخیالات کون پیدا کرتا ہے اور وہ سوچتا کیسے ہے یہ اس جہان کی چیز ہی نہیں ہے اس کا تعلق کسی اور دنیا سے جڑا ہوا ہے جہاں سے اس میں ادراک کا تسلسل قائم و دائم ہے یہ سوچ جہاں سے آتی ہے در اصل ہم اسی کائنات کے باسی ہیں یہ وہی کائنات ہے جو ہمارے ساتھ ازل سے موجود ہے اور ابد تک رہے گی اگر یہ ایک لمحے کے لئے بھی ہم سے الگ ہوجائے تو ہمارے عمل کا ریکارڈ رک جائے لیکن ہمارا ریکارڈ مسلسل لکھا جا رہا ہے یہی کائنات ہمیںخواب میںنظر آتی ہے یہ خواب جس وقت ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں اس وقت ہم کہاں ہوتے ہیں اصولاً تو ہم خواب اپنے ذہن سے دیکھتے ہیں تو ہم خواب کی حالت کے اندر اپنے ہی ذہن کے اندر ہوتے ہیں تو ماننا پڑے گا کہ وہ جہان ہمارے ہی اندر کہیں موجو د ہے جو اس وقت نظر آتا ہے جب ہمارا انہماک اس دنیا سے ختم ہو جاتا ہے یا ہمارے حواس معطل ہو جاتے ہیں بھلے وہ وقتی طور پر ہی کیوں نہ ہوں یہی ہے وہ parellelکائنات جس میںہم رہتے ہیں ہمارا جسم جس کائنات سے متصادم ہے وہ موجودہ کائنات ہے اور ہمارا ذہن جس شے سے الحاق رکھتا ہے وہ ہماری روح ہے روح ذہن کے ذریعے سے ہم سے رابطے میں رہتی ہے اس طرح ہم بیک وقت جسم اور دماغ دو جہانوں میں بستے ہیں ۔
M A Ansari آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا
shafresha (16-03-11), نبیل خان (17-11-11), منتظمین (15-03-11)
پرانا 15-03-11, 03:39 AM   #2
Senior Member
 
گوہر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 470
کمائي: 14,486
شکریہ: 347
380 مراسلہ میں 1,213 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تحریر کے نشیب و فراز کے بعد کسی منطقی انجام تک نہ پہنچ سکے البتہ الجھ ضرور گئے ؛ سمجھ نہیں آیا کہ آپکا پیمانہ کیا ہے جسکی بنیاد پر دلائل دیے گئے ہیں؛ سائنس ، یوگ ، بدھ مت، روحانیت یا پھر اسلام؟
آپکے نکالے گئے نتیجہ کو اگر وقتی طور پر مان لیا جائے تو پھر قرآن کی اس آیت کےبارے میں کیا کہتے ہیں جہاں
نیند میں موت کی مماثلت ہے اور موت روح کا جسم یا دماغ میں مقید ہونا نہیں بلکہ جسم سے اعلیحدگی ہے؟
''اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آتی، انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے۔ پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہوتا ہے، انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری [روحوں] کو ایک مقرر وقت تک کیلیے چھوڑ دیتا ہے''
{سورہ الزمر: 42}
__________________
زندگی کا ہر روز تیری تاریخ کا ایک ورق ہے جبکہ الفاظ اپنی قوت میں بیمثال ہوتےہوئے زندگی کو دوام بخشتے ہیں
www.urdusky.com
گوہر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے گوہر کا شکریہ ادا کیا
M A Ansari (15-03-11), shafresha (16-03-11)
پرانا 15-03-11, 08:00 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,382
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گوہر بھائی میں نے اس میں محض کچھ لوگوں کے نظر یات کو کوڈ‌کیا ہے کہ ان کے متوازی کائنات کے بارے میں کیا نظریات ہیں اس میں یوگ، تصوف،ہندو مت سب کے نظریات شامل ہیں مگر ایک بات سب میں کومن ہے کہ اس کائنات کے علاوہ ہمارا تعلق کسی اور جگہ سے بھی بیک وقت جڑا رہتا ہے جہاں ہمارے رضا اور جزا کا معاملہ اس وقت بھی چل رہا ہوتا ہے جب ہم اس دنیا میں موجود ہوتے ہیں میں نے صرف ان نظریات کو پیش کیا ہے کسی پر کوئی قد غن نہیں لگائی کوئ مانتا ہے کو ئی نہیں مانتا لیکن اتنا ضرور ہے کہ روحانیت اتنی مشکل نہیں ہے جتنی نظر آتی ہے ضرورت صرف سمجھنے کی ہے اور یہ کہ یہ جسم ہی اس کائنات کے داخلے کا راستہ ہے نہ کہ کوئی اور اور خواب اس کی پہلی سیڑھی ہے میں نےخواب میں صرف اس بات کو سجھانے کی کوشش کی ہے کہ ہمارا دماغ ہر وقت کسی اور کائنات سے جڑا رہتا ہےاور ہر وقت سنگل وصول کرتا رہتا ہے اورجہاں تک روحانیت کا تعلق ہے تو میرے بھائی یہ صرف توفیق کی بات ہے اللہ جس کو توفیق دے وہی اس کو سمجھ سکتا ہے آ پ دعا کریں کہ اللہ مجھےاپنے حبیب کے صدقے مین اس کی توفیق دے دے میں صرف باتیں ہی باتیں کرتا ہوں کچھ کر بھی لوں جزاک اللہ خیرا آمین
M A Ansari آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-11-11, 01:47 AM   #4
Senior Member
 
حسنین ایوب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 1,064
کمائي: 19,020
شکریہ: 1,708
625 مراسلہ میں 1,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت خوب اچھی تحریر ہے آپ نے اسے لکھ تو دیا لیکن آپ سمجھ نہیں سکے اگر سمجھ جاتے تو لکھتے ہی نہیں
حسنین ایوب آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حسنین ایوب کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (17-11-11), حیدر (17-11-11)
کمائي نے حسنین ایوب کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
17-11-11 حیدر آپ نے اسے لکھ تو دیا لیکن آپ سمجھ نہیں سکے اگر سمجھ جاتے تو لکھتے ہی نہیں hahahahaha 10
پرانا 17-11-11, 07:12 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,638
شکریہ: 8,511
1,595 مراسلہ میں 3,525 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (17-11-11)
جواب

Tags
ہندو, کمپیوٹر, پوسٹ, واقعات, قدم, لوگ, لطیفہ, نظر, مکمل, موت, موجودہ, مقابلہ, منتقل, ممکن, ماں, محبت, آج, آدمی, اللہ, انسان, اسلام, بگ بینگ, تلاش, دوست, شاعری


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تابوت۔ ۔ ۔ ۔ توبہ توبہ توبہ۔ ۔ ۔ ۔ پیاسا دلچسپ اور عجیب 7 10-05-11 05:49 PM
پاکستانی غازی کے بعد امریکی غازی (طنزیہ) جارڈ لونر فاروق سرورخان خبریں 0 13-01-11 05:53 AM
750 روپے مالیتی انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی 15 اکتوبر کو حیدر آباد میں ہوگی ابن جلال خبریں 0 07-10-08 11:16 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:42 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger