واپس چلیں   پاکستان کی آواز > سائنس اور ٹیکنالوجی > دیگر تحقیقات > کائنات کے راز



کائنات کے راز کائنات کے راز


کتاب جسے مصنف نے موت کے بعد لکھا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-09-10, 09:58 PM   #1
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Feb 2008
مراسلات: 17
کمائي: 607
شکریہ: 0
15 مراسلہ میں 82 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کتاب جسے مصنف نے موت کے بعد لکھا

کتاب جسے مصنف نے موت کے بعد لکھا

اسلام و علیکم دوستو یہ میرا پہلا Thread ہے اگر اچھا لگا تو رپلائی ضرور کرنا شُُُکریہ




ان دنوں پُراسرار کہانیاں لکھنے کا رواج نیا نیا شروع ہوا تھا۔ چارلس ڈگنز نے اپنے ایک دوست کے مشورے سے مہینوں کے غور و فکر کے بعد ایک ناول شروع کیا جس کا نام اس نے ایڈن ڈروڈ کا اسرار رکھا۔ چارلس نے یہ کتاب 12 قسطوں میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مرتبہ ایک عجیب و غریب بات واقع ہوئی۔ ڈگنز نے ناول کے ناشر سے معاہدے میں اس بات پر زور دیا کہ اگر ناول مکمل ہونے سے پہلے اس کی موت واقع ہو جائے تو معاوضے کی تمام رقم اس کے وارثوں کو دے دی جائے۔ موت کے متعلق اس کا خدشہ مستقبل بینی کی دلالت کرتا ہے کیونکہ ڈگنز 1870 میں اس وقت مر گیا جب اس کی زیرِ تحریر کتاب کی چھ قسطیں ہی شائع ہو سکی تھیں۔ چنانچہ یہ کتاب نا مکمل رہ گئی جس سے امریکہ اور سمندر پار کے قارئین تشنہ رہ گئے۔
وہ اس پر اسرار کہانی کے انجام کے بارے میں جو چارلس ڈگنز کے ساتھ ہی قبر میں چلا گیا تھا اپنے طور پر ہی قیاس آرائیاں کرنے لگ گئے تھے۔
لیکن اس ناول کا انجام ایک خوبرو اور آوارہ گرد ناشر کو معلوم تھا جو برٹیل بورڈ کی گلیوں میں خوبصورت لڑکیوں کا پیچھا کرتا تھا۔ اس کا نام تھامس جیمز تھا۔
ایک دن اس نے ایک لڑکی کا تعاقب کیا اور وہ اس تعاقب میں اس کے گھر تک پہنچ گیا۔ لڑکی کے حُسنِ بے مثال سے متاثر ہو کر جیمز نے اس مکان کے قریب گلی کے سرے پر ایک مکان کرائے پر لے لیا۔ اسے جلد ہی معلوم ہو گیا کہ اس کے مکان کی مالکہ روحانیت کی قائل ہیں۔ جیمز ایک سال تک اس خاتون سے روحانیت کا درس لیتا رہا۔ جیمز نے اس عورت سے کوئی فیض حاصل کیا یا نہیں یہ بات اسی تک محدود ہے۔
3 اکتوبر 1872 کو اس نے مکان کی مالکہ کو بتایا کہ چارلس ڈگنز کی روح اس سے ملی ہے اور اسے اختیار دیا ہے کہ وہ اس کے نا مکمل ناول “ایڈون کا اسرار“ کو مکمل کرے۔ مالکہ مکان جیمز کے اس انکشاف پر بہت حیران ہوئی اور اس نے جیمز کو دیگر سہولتوں کے علاوہ مکان کا کرایہ بھی معاف کر دیا تاکہ وہ ناول کو آسانی سے مکمل کر سکے۔
بے شمار عینی شاہدوں کا بیان ہے کہ تھامس جیمز پر ایک عجیب عجیب قسم کا روحانی وجد طاری ہو جاتا تھا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہتا۔ اس دورے کے اختتام پر وہ اٹھ بیٹھتا تھا اور بڑی تیز رفتاری سے ناول لکھنے میں مصروف ہو جاتا۔ بعض اوقات وہ صفحوں کے صفحے لکھ جاتا۔ ایسا بھی ہوتا کہ وہ دورے کے بعد محض چند سطریں ہی لکھ پاتا۔ ایک اور عجیب بات تھی جب موسم خراب ہوتا تو وہ کچھ بھی نہیں لکھ سکتا تھا۔
تھامس کے اپنے بیان کے مطابق چارلس ڈگنز کی روح اس کے پاس آتی تھی اور اسے ناول کا بقیہ حصہ بتا جاتی تھی جسے وہ لکھتا جاتا تھا۔
جلد ہی اس عظیم منصوبے کی خبر اخبارات تک پہنچ گئی۔ جنہوں نے جیمز کے دعوے کو فراڈ قرار دیتے ہوئے صدائے احتجاج بند کی۔ ڈگنز کے نامکمل ناول کی بقیہ اقساط 31 اکتوبر 1872 کو منظرِ عام پر آئیں۔
اس وقت ڈگنز کو مرے 2 سال کا عرصہ ہو چکا تھا۔ ملک کے کئی ادیب اور نقاد اس کتاب کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اس کتاب کا اندازِ تحریر چارلس ڈگنز کے اسلوبِ تحریر سے حیرت انگیز حد تک مشابہت رکھتا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے یہ کتاب ڈگنز نے خود لکھی ہے۔
جیمز جو چند روز پہلے غیر معروف انسان تھا راتوں رات ادبی حلقوں میں مشہور ہو گیا۔ پرنگ فیلڈ اور میسا چوسٹس کے اخبارات نے اسے چارلس ڈگنز کا صحیح جانشین قرار دیا۔ بوسٹن کے ایک اخبار نے لکھا تھا مسٹر جیمز، چارلس ڈگنز کی مدد کے بغیر یہ کتاب کبھی نہیں لکھ سکتا تھا۔ کیا یہ روحانیت کے کرشمے ہیں؟ اس بارے میں کچھ بھی کہا نہیں جا سکتا۔
شرلاک ہومز کے انوکھے اور غیر فانی کردار کے خالق سر آرتھر کاٹن ڈائل نے جیمز کا اچھی طرح سے معائنہ کیا دسمبر 1967 کے فورٹ نائٹ ریویو میں اس نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا۔ جیمز اس کتاب کے لکھنے سے پہلے کوئی ادبی حیثیت نہیں رکھتا تھا اس نے ایک اوسط درجے کے پرائمری سکول میں صرف پانچویں جماعت تک ہی تعلیم پائی تھی۔ 13 سال کی عمر میں ہی اس نے سکول چھوڑ دیا تھا۔ وہ کتاب لکھنے کے بعد کوئی دوسری چیز لکھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا۔ اس نے کسی طریقے سے چارلس ڈگنز کا سلوبِ تحریر ذخیرہ الفاظ اور اندازِ فکر پر بہت غور و خوض کر کے یہ ناول مکمل کر لیا ہے۔ بلاشبہ یہ امریکہ کے ایک پریس کے ملازم کا جس نے بہت کم تعلیم حاصل کی ہے ایک ناقابلِ توجیہ اور حیرت انگیز کارنامہ ہے۔
اگر جیمز کی اس تحریر کو چارلس ڈگنز کی تحریر کی پیروڈی قرار دیا جائے تو پھر ماننا پڑتا ہے کہ اس کی یہ پیروڈی اصل سے بیحد قریب تھی۔ اس سلسلے میں کسی شک و شبہ یا مبالغے کی کوئی گنجائش نہیں۔ تھامس جیمز نے دوہرے اسرار کو جنم دیا وہ اچانک دنیا کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ وہ کب اور کہاں مرا؟ یہ کوئی بھی نہیں جانتا۔ امریکہ کی چند ایک لائبریریوں میں تھامس جیمز کی وہ کتاب اب بھی محفوظ ہے جو بقول اس کے چارلس ڈگنز کی روح نے لکھوائی تھی۔
helpfull آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے helpfull کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-09-10), منتظمین (10-09-10), مرزا عامر (10-09-10), حیدر (11-09-10), شمشاد احمد (14-09-10), عبدالقدوس (11-09-10)
پرانا 10-09-10, 12:06 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-09-10), مرزا عامر (10-09-10), حیدر (11-09-10)
پرانا 10-09-10, 02:04 AM   #3
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,794
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,603 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی ہیلپ فُل شئیرنگ کا بہت بہت شکریہ!!!!

ویسے یہ بتائیے کہ کیا آپ نے اپنا تعارف کروادیا ہے؟؟؟؟ اگر نہیں‌تو برائے اپنا تعارف کروائیے۔
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (10-09-10), حیدر (11-09-10)
پرانا 11-09-10, 09:29 AM   #4
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,794
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,603 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مجھے اس کہانی پر کسی حد تک یقین ہے!
کتاب کا نام تھا "The Mystery Behind Drood"۔
Name:  book.jpg
Views: 45
Size:  122.4 KB

کچھ لنکس یہاں دیکھیئے!
Our Strange World
The Mystery of Edwin Drood - Wikipedia, the free encyclopedia
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (14-09-10), مرزا عامر (11-09-10), حیدر (11-09-10)
پرانا 14-09-10, 07:19 PM   #5
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Feb 2008
مراسلات: 17
کمائي: 607
شکریہ: 0
15 مراسلہ میں 82 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شُکریہ تصدیق کرنے کا۔۔۔
helpfull آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
مکمل, موت, معلوم, اندازِ, انسان, امریکہ, احتجاج, اسلام, تحریر, تعلیم, جلد, حُسنِ, خبر, دنیا, سال, عورت, عجیب, عرصہ, عظیم, غور, غریب, صلاحیت, صحیح, صدائے, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے۔۔۔۔ ایک نمازی کی سجدے کی حالت میں موت(ویڈیو) ایکسٹو متفرقات 2 09-03-11 01:54 PM
امام کی تلاوت اور جدید سائنس wajee اسلام اور معاشرہ 5 09-03-11 06:55 AM
نبوت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاعقلی ثبوت عبداللہ حیدر عقیدہ رسالت 12 31-12-10 02:09 PM
ماہ مقدس رمضان اور تلاوت قرآن Real_Light ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 0 21-08-09 05:39 PM
موت ایک اٹل حقیقت !!!!!ایک منتخب تحریر وجدان آخرت 7 17-08-09 09:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:42 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger