| کتاب گھر یہاںپر اپ تمام اردو کی کتابوں کے لنک اور کتابوں کو اپلوڈ کر سکتے ہیں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
حج اکبر
امتياز صغير کی شادی ہوئی تو شہر بھر ميں دھوم مچ گئی، آتش بازيوں کا رواج باقی نہيں رہا تھا مگر دولہے کے باپ نے اس پرانی عياشی پر بے دريغ روپيہ صرف کيا، جب صغير زيوروں سے لدے پھندے سفيد براق گھوڑے پر سوار تھا تو اس کے چاروں طرف انار چھوٹ رہے تھے، مہتابياں اپنے رنگ برنگ شعلے بکھير رہی تھيں، پٹاخے چھوٹ رہے تھے، صغير خوش تھا۔ صغير نے امتياز کو ايک شادی کی تقريب ميں ديکھا تھا، اس کی جھلک اسے دکھائی دی تھی، مگر وہ اس پر سو جان سے فريضہ ہوگيا، اور اس نے دل ميں عہد کرليا کہ وہ اس کے علاوہ کسی کو اپنی رفيقہ حيات نہيں بنائے گا، چاہے دنيا ادھر کی ادھر نہ ہوجائے، دنيا ادھر کی ادھر نہ ہوئی، صغير نے امتياز کے راستے ڈھونڈ لئے شروع شروع ميں اس خوبرو لڑکی کے حجاب آڑے آيا، ليکن بعد ميں صغير کو اس کا التفات حاصل ہوگيا۔ صغير بہت مخلص دل کا نوجوان تھا، اس ميں ريا کاری نام کو بھی تھی، اس کو امتياز سے محبت ہوگئی تو اس نے يہ سمجھا کہ اسے اپنی زندگی کا اصل مقصد حاصل ہوگيا، اس کو اس بات کی کوئی فکر نہيں تھی کہ امتیازاسے قبول کرے گی يا نہيں وہ اس قسم کا آدمی تھا کہا اپنی محبت کے جذبے کے سہارے ساری زندگی بسر کرديتا، اس کو جب امتیاز سے پہلی بار بات کرنے کا موقع ملا تو اس نے گفتگو کی ابتدا ہی ان الفاظ سے کی، ديکھو لالی، ميں ايک نا محرم آدمی ہوں، ميں نے مجبور کياہے تم مجھ سے ملو، اب اس ملاپ کا انجام بھی نيک ہونا چاہئيے، يہ ميرے ضمير اور دل کی اکھٹی آواز ہے ، تم بھی وعدہ کرو کہ جب تک ميں زندہ ہو مجھے کوئی آزا رنہيں پہنچائوں گی اور ميری موت کے بعد بھی مجھے ياد کرتی رہو گی، اس لئے کہ قبر ميں بھی ميری سوکھی ہڈياں تمہارے پيار کی بھوکيں ہوں گی۔ امتياز نے دھڑکتے ہوئے دل سے وعدہ کيا کہ وہ اس عہد پر قائم رہے گی، اس کے بعد ان دونوں ميں چھپ چھپ کے ملاقاتيں رہيں، صغير مطمئن تھا کہ امتياز اس کی محبت کی دعوت قبول کر چکی ہے، اس لئے اب اور زيادہ گفتگو کرنے کی ضرورت تھی، ويسے وہ بھی اپنی محبوبہ سے ملنا اس لئے ضروری سمجھتا تھا کہ وہ اس کے عادات و حصائل سے واقف ہوجائے اور وہ بھی اس کو اچھی جان پہچان لے تاکہ وہ اس کچلت کا اندازہ کرسکے اور اس کو شکايت کا کوئی موقع نہ ملے، اس نے ايک دن امتياز سے بڑے غير عاشقانہ انداز ميں کہا، نازی ميں اب بھی تم سے کہتا ہوں کہ اگر تم نے مجھ ميں کوئی خامی ديکھی ہے اگر ميں تمہارے معيار پر پورا نہيں اترا تو مجھے سے صاف صاف کہہ دو، تم کسی بندھن ميں گرفتار نہيں ہو، تم مجھے دھتکار تو مجھے کوئی شکايت نہيں ہوگی، ميری محبت ميرے لئے کافی ہے، ميں اس کے اور ان ملاقاتوں کے سہارے کافی دير تک جی سکتا ہوں۔امتياز اس سے بہت متاثر ہوئی اس کا جی چاہا کہ صغير کو اپنے گلے سے لگا کر رونا شروع کردے مگر وہ اسے نا پسند کرتا تھا، اس لئے اس نے اپنے جذبات اند ہی مسل ڈالے، وہ چاہتی تھی کہ صغيراس سے فلسفانہ باتيں نہ کريں، ليکن کبھی کبھی اس طور پر بھی اس سے پيش آئے، جس طرح فلموں ميں ہيرو اپنی ہيروئن سے پيش آتا ہے ، مگر صغير کو ايسی عاميانہ حرکت سے نفرت تھی۔ پہلی رات کو حجلہ روعی ميں جب صغير داخل ہوا تو امتیازچھينک مار رہی تھی، وہ بہت متفکر ہوا امتياز کو بلا شبہ زکام ہو رہا تھا ليکن وہ نہيں چاہتی تھی کہ اس کا خاوند اس معمولی سے عارضے کی طرف متوجہ ہو کر اس کی تمام امنگوں کو فراموش کردے وہ سرتاپا سپردگی تھی مگر صغير کو اس بات کی تشويش تھی کہ امتياز اس کی جان سے زيادہ عزيز ہستی عليل ہے، چناچہ اس نے فورا ڈاکٹر بلوايا، جو دوائياں اس نے تجويز کيں بازار سے خريد کر لايا، اور اپنی نئی دلہن کو جس کو ڈاکڑ کی آمد سے کوئی دلچسپی تھی نہ اپنے خاوند کی تیمارداری سے مجبور کيا کہ وہ انجکشن لگوائے اور چار چار گھنٹے کے بعد دار پئے، زکام کچھ شديد قسم کا تھا اس لئے چار دن اور چار راتين صغير اپنی دلہن کی تيمارداری ميں مصروف رہا، امتیازچڑ گئی، وہ جانے کيا سوچ کر عروسی جورا پہن کر صغير کے گھر آئی تھی، مگر وہ بے کار، اس کے زکام کو درست کرنے کے پيچھے کے پيچھے پڑا ہوا تھا، جيسے دلہا دلن کيلئے بس ايک يہی چيز اہم ہے باقی اور باتين سب فضول ہيں۔ تنگ آکر ايک دن اس نے اپنے ضرورت سے زيادہ شريف شوہر سے کہا، آپ چھوڑئيے ميرے معالجے کو، ميں اچھی بھلی ہوں، پھر اس نے دعوت بھری نگاہوں سے اس کی طرف ديکھا ميں دلہن ہو آپ کے گھر آئی ہوں، اور آپ نے اسے اسپتال بناديا ہے، صغير نے بڑے پيار سے دلہن کا ہاتھ دبايا اور مسکرا کر کہا، نازی خدا نہ کرے کہ يہ کوئی اسپتال ہو، يہ ميرا گھر نہيں تمہارا گھر ہے، اس کے بعد امتياز کو جو فوری شکايت تھی وہ دور ہوگئی، اور شير و شکر ہو کر رہنے لگے صغير اس سے محبت کرتا تھا ليکن اس کو ہميشہ امتياز کی صحت اس کے جسم کی خوبصورتيوں اور اس کو ترو تازہ ديکھنے کا خيال رہتا تھا، وہ اسے کانچ کے نازک پھولدان کی طرح سمجھتا تھا، جس کے متعلق ہر وقت يہ خدشہ ہو کہ زرا سی بے احتياطی سے ٹوٹ جائے گا، امتياز اور صغير کا رشتہ دوہرا تھا دو بھائی اصغر حسين اور امجد حسين تھے، کھاتے پيتے تاجر، صغير بڑے بھائی اصغر حسين کا لڑکا تھا اور امتياز امجد حسين کی بيٹی تھی، اب يہ دنوں مياں بيوی تھے، شادی سے پہلے دونوں بھائيوں ميں کچھ اختلافات تھے جو اب دور ہوگئے۔ امتياز کی دو بہنيں اور تھيں اور جو اس پر جان چھڑکتی تھيں، امتياز کا بياہ تو ہوا ان دونوں کی باری قدرتی طور پر آگئی، وہ اپنے گھروں ميں آبا خوش تھيں، کبھی کبھی امتياز سے ملنے آتيں، اور صغير کے اخلق سے متاثر ہوتيں ان کی نظر ميں وہ آئيڈيل شوہر ہے۔ دو برس گزر گئے امتياز کے ہاں کوئی بچہ نہ ہوا دراصل چاہتا تھا کہ اتنی چھوٹی عمر ميں وہ اولاد کے بکھيڑوں ميں نہ پڑے، ان دنوں کے دن کے ابھی کھيلنی کودنے کے تھے، صغير ہر روز اسے سينما لے جاتا باغوں کی سری کراتا، نہر کے کناے کنارے سے اسکے ساتھ ساتھ چہل قدمی کرتا، اس کی ہر آسائش کا خيال تھا، بہترين کھانے، اچھے سے اچھا باورچی اگر امتياز کبھی باورچی خانے کا رخ کرتی تو وہ اسے کہتا تازی انگھيٹوں ميں پتھر کے کوئے جلتے ہين، ان کی بو بہت بری ہوتی ہے، اور صحت کيلئے نا مفيد، ميری جان تم اندر نہ جايا کرو، دو نوکر ہيں، کھانے پکانے کا کام جب تم نے ان کے سپرد کر رکھا ہے تو اس زحمت کی کيا ضرورت ہے، امتياز مان جاتی۔ سرديون ميں صغير کا بڑا بھائی اکبر جو نيروبی ميں ايک عرصہ مقيم تھا اور ڈاکڑ تھا کسی کام کے سلسلے ميں کراچی آيا ہوا تھا تو اس نے سوچا کہ چلو لاہور صغير سے مل آئيں بذريعہ ہوائی جہاز لاہور پہنچا اور اپنے چھوٹے بھائی کے پاس ٹہرا، وہ صرف چار روز کيلئے آيا کہ ہوائی جہاز ميں اس کی سيٹ پانچويں دن کی بک تھی، مگر جب اس کی بھابی نے جو اس کی آمد پر خوش ہوئی تھی، اصرار کيا تو چھوٹے بھائی صغير نے اس سے کہا، بھائی جان آپ اتنی دير کے بعد آئے ہيں کچھ دن اور ٹھہر جائيے، ميری شادی ميں آپ شريک ہوئے تھے جتنے آپ فالتو ٹھہريں گے اتنا جرمانہ سمجھ ليجے گا، امتياز مسکرائی اور اکبر سے مخاطب ہوئی، اس تو آپ کو ٹھہرنا ہی پڑے گا اور پھر مجھے آپ نے شادی پر کوئی تحفہ بھی تو نہيں ديا، ميں جب تک وصول نہيں کرلوں گی آپ کيسے جاسکتے ہيں اور آپ کو ميں جانے بھی کب دوں گی۔ دوسرے روز اکبر اس کو ساتھ لے گيا اور سچے موتيوں کا ايک ہار لے ديا، صغير نے اپنے بڑے بھائی کا شکريہ ادا کيا، اس لئے کہ ہار بہت قيمتی تھا کم از کم پانچ ہزار کا ہوگا ہی، اسی دن اکبر نے واپسی نيروبی جانے کا ارادہ ظاہر کيا اور صغير سے کہا کہ وہ ہوائی جہاز ميں اس کے ٹکٹ کا بندوبست کردے اس لئے کے اس کی لاہور شہر ميں کافی واقفيت تھی اکبر نے اس کو روپے دئيے مگر اس نے کو درانہ انداز ميں کہا، آپ ابھی اپنے پاس رکھئے ميں لے لوں گا، اور ٹکٹ کا بندوبست کرنے چلا گيا، اسے کوئی دقت نہ ہوئی اس لئے کہ ہوائی جہاز سروس کا ايک جنرل مينيجر اس کا دوست تھا اس نے فورا ٹکٹ لے ديا، صغير کچھ دير اس کے ساتھ بيٹھا گپ لڑا تا رہا اس کے بعد گھر کا رخ کيا، موٹر گيراج ميں بند کرکے وہ اندر داخل ہوا ليکن فورا باہر نکل آيا، گراج سے موٹر نکالی اور اس ميں بيٹھ کے جانے کہا روانہ ہو گيا، اکبر اور امتياز دير تک اس کا انتظار کرتے رہے مگر وہ نہ آيا انہوں نے موٹر کے آنے اور گيراج ميں بند ہونے کی آواز سنی تھی، مگر انہوں نے سوچا کہ شايد ان کے کانوں کو دھوکا ہوا تھا، اس لئے کہ صغير موجود تھا نہ اس کی موٹر وہ غائب ہو گيا تھا؟ اکبر کو واپس جانا تھا، مگر اس نے ايک ہفتہ انتظار کيا کيا ادھر ادھر کئی جگہ پوچھ گچہ کی پوليس ميں رپورٹ لکھوائی مگر صغير کی کوئی سن گن نہ ملی، آخری دن جب کہ اکبر جا رہا تھا پوليس اسٹيشن سے اطلاع ملی کہ پی بی ايل 100591 نمبر کی موٹر کار جس کے ايک خانے ميں صغير اخترا نام کے لائسنس نکلا ہے، ہوائی اڈے کے باہر کئی دنوں سے پڑی ہے، دريافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اکبر امجد حسين نام کے ايک آدمی نے آٹھ روز پہلے ہوائی جہاز ميں نيروبی کا سفر کيا ہے، اکبر کی سيٹ نيروبی کيلئے بک تھی امتياز سے رخصت لے کر جب وہ کنيا پہنچا تو اسے بڑی مشکلوں کے بعد صرف اتنا پتہ ايک صاحب جن کا نام اکبر امجد تھا ہوائی جہاز کے ذريعے سے يہاں پہچنے تھے ايک ہوٹل ميں دور روز ٹہرے اس کے بعد چلے گئے۔ اکبر نے بہت تلاش کی مگر کوئی پتہ نہ چلا اس دوران ميں اس کو امتياز کے کئی خطوط آئے، پہلے دو تين خطوں کی تو اس نے رسيد بھيجی اس کے بعد جو بھی خط آيا پھاڑديتا تاکہ اس کی بيوی نہ پڑھ لے، دس برس گزر گئے امجد حسين يعنی امتياز کا باپ بہت پريشان تھا، بہت لوگوں کا خيال تھا کہ صغير مر کھپ چکا ہے مگر امجد حسين کا دل نہيں مانتا تھا۔ کہيں اس کی لاش ہی مل جاتی، خود کشی کرنے کی کيا وجہ ہودکتی ہے؟ بڑا نيک ، شريف اور برخوردار لڑکا تھا، امجد کو اس سے بہت محبت تھی، ايک ہی بات اس کی سمجھ ميں آئی تھی کہ اس کی بيٹی امتياز نہ کہيں اس جيسے ذکی الحس آدمی کو اسيے ٹھيس نہ پہنچائی ہو کہ وہ دل شکستہ ہو کر کہيں رو پوش ہو گيا ہے، چناچنہ اس نے امتياز سے کئی مرتبہ اس بار ميں پوچھا مگر وہ صاف منکر ہوگئی، خدا اور رسول کی قسميں کھا کر اس نے اپنے باپ کی تشفی کردی، کہ اس سے اسی کوئی حرکت سرز نہيں ہوئی اکثر اوقات وہ روتی تھی، اس کو صغير ياد آتا تھا، اس کی نرم و نازک محبت ياد آتی تھی، اس کو وہ دھيما دھيما نيسم سحری کا سلوک ياد آتا تھا، جو اس کی فطرت تھی، نيا پيرا امجد کا ايک دوست حج کو گيا، واپس آيا تو اس نے اس کو يہ خوشخبری سنائی کہ صغير زندہ ہے اور ايک عرصے سے مکے ميں مقيم ہے امجد حسين کو ہوش ہوا، اس کو اس کے دوست نے صغير ہندی کا پتا ديا تھا، اس نے اپنی بيٹی کو تيار کيا کہ وہ اس کے ساتھ حجاز چلے، فورا ہوائی جہاز کا سفر کا انتظام کيا، امتياز ساتھ جانے کو تيار نہ تھی، اس کو جھجھک سی محسوس ہو رہی تھی۔ بہر حال باپ بيٹی سرزمين حجاز ميں پہنچے، ہر مقدس مقام کی زيارت کی، امجد حسين نے ايک ايک کونہ چھان مارا مگر صغير کا پتہ نہ چلا، چند آدميوں سے جو اس کو جانتے تھے، صرف اتنا معلوم ہوا کہ وہ آپ کی آمد سے دس روز پہلے، کيونکہ اسے کسی نہ کسی طريق معلوم ہوچکا تھا، کہ آپ تشريف لارہے ہيں، کھڑکی دے کود اور گر کر ہلاک ہوگيا، مرنے سے پہلے چند لمحات اس کےہونتوں پر ايک لفظ کانپ رہا تھا غالبا امتياز تھا۔ اس کی قبر کہاں ہے وہ کب اور کيسے دفن ہوا اس کے متعلق صغير کے جاننے والوں نے کچھ نہ بتايا، يہ ان کے علم ميں نہيں تھا، امتياز کو يقين ہوگيا کہ اس کے خاوند نے خودکشی کر لی ہے، اس کو شادی اس کا سبب معلوم تھا، مگر اس کا باپ يہ ماننے سے يکسر منکر تھا، چناچہ اس نے ايک بار اپنی بيٹی سے کہا ميرا دل کہتا ہے وہ زہدہ ہے، وہ تمہای محبت کی خاطر اس وقت تک زندہ رہے گا جب تک خدا اس کو موت کے فرشتے کے حوالے نہ کردے، ميں اس کو اچھی طرح سمجھتا تمہاری جگہ اگر وہ ميرا بيٹا ہوتا تو ميں خود کو دنيا کا سب سے خوش نصيب انسان سمجھتا، يہ سن کر امتياز خاموش رہی۔ دونوں سرزمين حجاز سے بے نيل و مرام واپس آگئے، ايک برس گزر گيا، اس دوران ميں امجد حسين بڑی مہلک بيماری يعنی دل کے عارضے ميں گرفتار ہوا اور وفات پاگيا، مرتے وقت اس نے اپنی بيٹی کو کچھ کہان چاہا مگر وہ شايد بڑی اذيت دہ تھی کہ وہ خاموش رہا اور صرف سرزنس بھری نگاہوں سے امتياز کو ديکھتے ديکھتے مر گيا، اس کے بعد امتياز اپنی بہن ممتاز کے پاس راولپنڈی چلی گئی، ان کی کوٹھی کے سامنے ايک اور کوٹھی تھی، جس ميں ايک ادھيڑ عمر کا مرد بہت تھکا تھکا سا دکھائی ديتا تھا، دھپو تاپتا اور کتابيں پڑھتا رہتا تھا، ممتاز اس کو ہر روز ديکھتی، ايک دن اس نے امتياز سے کہا، مجھے ايسا معلوم ہوتا ہے يہ صغير ہے، کيا تم نہيں پہچان سکتی ہو، وہ ناک نقشہ متانت وہی سنجدگی، امتياز نے اس آدمی کی طرف غور سے ديکھا ايک دم چلائی ہاں ہاں وہی ہے پھر فورا رک گئی، ليکن وہ کيسے ہوسکتے ہيں وہ تو وفات پاچکے ہيں۔ انہيں دنوں ان کی چھوٹی بہن شہناز بھی آگئی ممتاز اور امتياز نے ان کو قبل از وقت مرجھايا اور افسردہ مرد دکھايا جس کی داڑھی کچھڑی تھی، اور اس سے پوچھا تم بتائو اس کی شکل صغير سے ملتی ہے يا نہيں؟ شہناز نے اس کو بڑی ہری نظروں سے ديکھا اور فيصلہ کن لہجے ميں کہا، شکل ملتی کی ہے يہ خود صغير ہے سونی صدی صغير اور يہ کہہ کہ وہ سامنے والی کوٹھی ميں داخل ہوگئی وہ شخص کتاب پڑھنے ميں مشغول تھا چونکا، شہناز جس نے شادی کے موقع پر اس کی جوتی چرائی تھی، اسی پرانے انداز ميں کہا، جناب آپ کب تک چھپے رہيں گے؟ اس شخص نے شہناز کی طرف ديکھا اور بڑی سنجيدگی اخيتار کرتے ہوئے پوچھا آپ کون ہيں؟ شہناز طراز تھی اس کے علاوہ اس کو يقين تھا کہ جس سے وہ ہم کلامی ہے وہ اس کا بہنوئی ہے چناچہ اس نے بڑے نوکيلئے لہجے ميں کہا جناب ميں آپ کی سالی شہہاز ہوں، اس شخص نے شہناز کو سخت نا اميد کی اس نے کہا، مجھے افسوس ہے کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، اس کے بعد شہناز نے اور بہت سے باتيں کيں مگر اس نے بڑے ملام انداز ميں اس سے جو کچھ کہا، اس کا يہ مطلب تھا کہ تم ناحق اپنا وقت ضائع کر رہی ہوں، ميں تمہيں جانتا ہوں نہ تمہاری بہن کو جس کے متعلق تم کہتی ہو کہ ميری بيوی ہے، ميری بيوی اپنی زندگی ميں ہے ار ميں ہی اس کا خاوند ہو۔ شہناز اور ممتاز کو معلوم ہوگيا تھا کہ وہ امتياز کے متعلق تمام معلومات حاصل کرتا ہے، ان کو يہ بھی پتہ چل گيا تھا کہ اس پر اسرار مرد کے نوکر کے ذريعے سے کہ وہ راتوں کو اکثر روتاہے نمازيں پڑھتا ہے اور دعائيں مانگتا ہے کہزندہ رہے وہ چاہتا ہے کہ اس کو جو اذيت پہنچی ہے اس سے دير تک لطف اندوز ہوتا رہے، نوکر حيران تھا کہ انسان کی زندگی ميں ايسی کون سی تکليف ہوسکتی ہے، جس سے وہ لفط اٹھا سکتا تھا، سب باتيں امتياز سنتی تھی اور اس کے دل ميں يہ خواہش پيدا ہوئی تھی کہ مرجائے، چنانچہ اس نے جب يہ سنا کہ وہ شخص جس کو امتياز اچھی طرح پہچانتی تھی، اس کے نام سے قطعنا آشنا ہے تو اس نے ايک روز افيم کھالی اور يہ ظاہر کيا کہ اس کے سر ميں درد ہے اور اکيلی آرام کرنا چاہتی ہے، وہ آرام کرنے چلی گئی ليکن شہناز نے جب اس کو غنونگی کے عالم ميں ديکھا تو اسے شبہ ہوا اس نے ممتاز سے بات کی، اس کا ماتھا بھی ٹھنڈا کمرے ميں جاکر ديکھا تو امتياز بالکل بے ہوش پڑی تھی، اس کو جھنجھوڑا مگر نہ جاگی شہناز دوڑی دوڑی سامنے کوٹھی ميں گئی اور اس شخص جس کا نام راولپنڈی ميں کسی کو نا معلوم تھا، سخت گھبراہٹ ميں يہ اطلاع دی کہ اس کی بيوی نے زہر کھا ليا ہے، اور مرنے کے قريب ہے، يہ سن کر اس نے اتنا کہا آپ کو غلط فہمی ہے وہ ميری بيوی نہيں ہے، ليکن ميرے ہاں اتفاق سے ايک ڈاکٹر آيا ہوا ہے، آپ چليئے ميں اسے بھيج ديتا ہوں۔ شہناز گئی تو وہ اندر کوٹھی ميں گيا اور اپنے بھائی اکبر سے کہا، يہ جو کوٹھی سامنے ہے اس ميں کسی عورت نے زہر کھا ليا ہے، بھائی جان آپ جلدی سے جائيے، اور کوشش کيجئے کہ بچ جائے، اس کا بھائی جو نيروبی ميں بہت بڑا ڈاکٹر تھا امتياز کو نہ بچاسکا دونوں نے ايک دوسرے کو ديکھا تو اس کا رد عمل بہت مختلف تھا، امتياز فورا مر گئی اور اکبر اپنا بيگ لے کر واپس چلا گيا، صغير نے اس سے پوچھا کيا حال ہے مريضہ کا؟ اکبر نے جواب ديا مرگئی، صغير نے اپنے ہونٹ بھينچ کر بڑے مضبوط لہجے ميں کہا ميں زندہ رہوں گا، ليکن ايک دم سنگين فرش پر لڑکھڑانے کے بعد گرا اورجب اکبر نے اس کی نبض ديکھی تو وہ ساکت تھي (سعادت حسن منٹو) پی ڈی ایف میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
| نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا | عارف اقبال (01-05-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
ارے بھائی غلام مجتبیٰ
آپ تو بڑے ہی پھرتیلے ہیں کتابوں کے معاملےمیں ابھی اپ لوڈ کیے ہوئے منٹ نہیں گزرے اور آپ کی رائے آگئی بہر حال بہت شکریہ کہ منٹو کے افسانے پاک نیٹ جیسے فیملی فورم کے لیے بہت سوچ سمجھ کر رکھنا پڑتا ہے آپ سمجھ رہے ہیں نا میں نے کچھ عرصہ پہلے ( جب منٹو کو نہی پڑھا تھا ) منٹو پر تبصرہ شدہ ایک کتاب دیکھی لائبریری میں اس میں منٹو کی کتاب سے ایک پیرگراف بطور اقتباس نقل کیا گیا تھا محض اس ایک پیراگراف پڑھ کر میرے کان سرخ ہوگئے فوراً کتاب بند کر کے واپس رکھی اور ادھر ادھر دیکھا کسی نے دیکھا تو نہیں مجھے ایسی چیز پڑھتے ہوئے اور توبہ توبہ کرتے ہوئے ارادہ کیا کہ آئندہ نہيں پڑھوں گا مگر کیا کریں حقیقت نگاری کا وہ انداز ذہن میں بیٹھ گیا تھا ۔ یہ حسّاس ہونا ہمیں مجبور کر دیتا ہے کہ حقیقت کی حد تک افسانہ نگاری کی خاطر بعض حدود پار کرجانے والوں کو بھی پڑھ کر دیکھیں کہ یہ لوگ معاشرے میں کن برائیوں کی کن پہلوؤں سے نشان دہی کرتے ہيں آپ کیا کہتے ہیں |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا | عارف اقبال (01-05-10), غلام مجتبی جان (03-05-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,199
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نورالدین بھائی اس افسانے کی شئیرنگ کے لئے بہت شکریہ ، بہت عمدہ
![]() ![]() ![]() دو تین الفاظ کی غلطیاں نظر آئیں ان کو براہ کرم ٹھیک کر دیجئیے سو جان سے فريفتہ ہوگيا اس کے عادات و خصائل سے اکبر نے اس کو روپے دئيے مگر اس نے خود دارانہ انداز ميں کہا، اور صغير نے کیوں ایسا کیا؟ یعنی اسے جانے کے لیے کم ازکم کوئی وجہ چاہئیے تھا نہ ؟ یہ بات مبہم ہے اس افسانے میں
__________________
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات |
|
|
|
| عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا گیا | غلام مجتبی جان (03-05-10) |
![]() |
| Tags |
| کراچی, پہچان, پسند, لڑکی, نفرت, نظر, موت, محبت, معلوم, آدمی, افسانہ, اکبر, انسان, بھائی, تلاش, جواب, حال, حجِّ اکبر, حسن, خودکشی, خدا, دوست, داڑھی, سحری, سعادت حسن منٹو, عورت, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| مزدوری از سعادت حسن منٹو | زارا | اردو ادب سے اقتباسات | 0 | 11-02-11 11:18 AM |
| ٹیٹوال کا کتّا [سعادت حسن منٹو] | نورالدین | اردو افسانے | 0 | 24-04-10 03:02 PM |
| طاقت کا امتحان از سعادت حسن منٹو | راجہ صاحب | اردو ادب سے اقتباسات | 0 | 06-08-08 03:38 PM |
| ٹوبہ ٹيک سنگھ ----- سعادت حسن منٹو | محمدعدنان | اردو افسانے | 4 | 11-04-08 01:58 PM |
| موذيل۔۔۔۔سعادت حسن منٹو | خرم شہزاد خرم | اردو افسانے | 6 | 17-07-07 03:56 PM |