| کتاب گھر یہاںپر اپ تمام اردو کی کتابوں کے لنک اور کتابوں کو اپلوڈ کر سکتے ہیں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,231
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلامُ علیکم
![]() موسم، طوفانِ باد و باراں کے اشاروں پر رقص کر رہا تھا۔ سپیڈ کم ہوئی اور کار رک گئی۔ اس نے ہا رن دبایا۔ تیسری آواز پر گیٹ کھل گیا۔ بادل ایک بار پھر بڑے زور سے گرجی۔ بارش میں اور شدت آ گئی۔ کار آگے کو سرکی مگر اس سے پہلے کہ کار گیٹ سے اندر داخل ہو تی، بجلی زور سے چمکی۔ فانوس سے روشن ہو گئی۔ وہ چونک اٹھا۔ اس کی تیز نظریں گیٹ کے باہر بائیں ہاتھ بنے چھوٹے سے سائبان تلے چھائے اندھیرے میں جم گئیں۔ "کیا بات اے صاب! " پٹھان چوکیدار نے بارش میں بھیگتے ہوئے پوچھا۔ "خان۔۔۔ "لیکن اس سے پہلے کہ وہ فقرہ پورا کرتا، برق پھر کوندی۔ وہ تیزی سے کار کا دروازہ کھول کر باہر کو لپکا۔ اس دوران خان بھی گیٹ سے باہر نکل آیا۔ بارش اور تیز ہوا کی پرواہ کئے بغیر دو تین لمبے لمبے ڈگ بھر کر وہ اس اندھیرے کونے میں پہنچ گیا، جہاں دو بار برق نے اجالا کیا تھا۔ ایک سایہ تھا جو بیدِ مجنوں کی طرح لرز رہا تھا۔ "کون ہو تم؟" اس نے جلدی سے پوچھا اور ایک بار پھر اس کی نظریں چندھیا گئیں۔ "میں۔۔۔ " ایک کمزور سی نسوانی آواز ابھری۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ اجنبی وجود زمین پر آ رہتا، اس کے مضبوط اور گرم بازوؤں نے اسے سنبھال لیا۔ "خان۔ " اس نے پلٹ کر پکارا۔ "جی صاب۔ "قریب ہی سے آواز ابھری۔ "میں کمرے میں جا رہا ہوں۔ گاڑی گیراج میں بند کر کے وہیں چلے آؤ۔ جلدی۔ " "جی صاب۔ "وہ تعمیل حکم کے لئے جلدی سے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ اس نے اس نازک، برف سے زیادہ سرد اور لہروں سے زیادہ نرم وجود کو باہوں میں بھر لیا، جو اَب لکڑی کی مانند کھردرا اور پتھر کی مانند سخت ہوا جا رہا تھا۔ تیز تیز چلتا ہوا وہ پورچ پار کر کے برآمدے میں پہنچا۔ پاؤں کی ٹھوکر سے دروازہ کھولا اور مختصر سی راہداری کو طے کر کے ہال میں چلا آیا۔ ایک لمحے کو کچھ سوچا، پھر سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا۔ ایک کمرہ چھوڑ کر دوسرے کمرے کے دروازے پر پہنچ کر اس نے پھر دائیں پاؤں سے کام لیا۔ اندر داخل ہوا اور بستر کی طرف بڑھ گیا۔ دھیرے سے اس نے اپنے بازوؤں میں بھرے اس ریشمیں خزانے کو احتیاط سے سمیٹ کر بیڈ پر رکھ دیا، پھر اسے گرم لحاف میں چھپا دیا۔ شاید اس لئے کہ کوئی اور دیکھ نہ لی۔ ایک لمحے کو اس کی نظریں اس سمٹے پڑے خزانے کے تر بتر چہرے پر جم گئیں ، جہاں سیاہ لانبی زلفیں کسی بادلوں میں چھپے چاند یا گھٹاؤں میں قید برق کا سماں پیش کر رہی تھیں۔ اسی وقت خان اندر داخل ہوا۔ "اوہ خان۔ " اس نے جلدی سے کہا۔ کچھ سوچا پھر تیزی سے ٹیلی فون کی طرف بڑھ گیا۔ ڈاکٹر کو فون کر کے وہ حکم کے منتظر اور چور نظروں سے اس خوابیدہ حسن کو تکتے خان کی طرف متوجہ ہوا اور ہولے سے مسکرایا۔ "خان۔ " "جی صاب۔ " وہ گھبرا سا گیا۔ "تمام نوکر تو سوچکے ہوں گے۔ " "جی صاب۔ " اس نے اپنا مخصوص جواب دہرایا۔ "ہوں۔ "وہ کچھ سوچنے لگا۔ پھر کہا۔ "تم نیچے چلے جاؤ۔ اپنے ڈاکٹر صاحب آرہے ہیں۔ ان کو لے کر اوپر چلے آنا۔ " "جی صاب!" اور خان ایک نظر بستر پر ڈال کر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ اس نے آگے بڑھ کر سوئچ بورڈ پر ایک بٹن دبا دیا۔ ایر کنڈیشنڈ سسٹم گہری نیند سے جاگ گیا۔ پھر اس کی نادیدہ تپش نے دھیرے دھیرے کمرے کو گرم کرنا شروع کیا۔ اس نے مطمئن انداز میں سر ہلا کر بند کھڑکیوں کی جانب دیکھا اور کرسی گھسیٹ کر بستر کے قریب لے آیا۔ بیٹھتے ہوئے وہ قدرے جھک گیا اور نظریں اس خاموش گلاب پر جما دیں جس کی دو پنکھڑیاں اپنی سرخی کھونے لگی تھیں۔ نیلاہٹ ابھری چلی آ رہی تھی۔ وہ آہستہ سے لرزی تو بے چینی سے وہ کلائی پر بندھی رسٹ واچ پر نظر ڈال کر رہ گیا۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔ اس کی بے تاب نظریں اس غنچہ دہن پر جم گئیں ، جس میں اب پھر کوئی حرکت نہیں تھی۔ آہستہ سے اٹھا۔ جھکا اور لحاف کو اچھی طرح اس پر لپیٹ کر سیدھا کھڑا ہو گیا۔ اب وہ بے چینی سے ٹہلنے لگا۔ اسی وقت ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا چلا آ رہا ہو۔ " آئیے آیئے انکل۔ "وہ کمرے میں داخل ہوتے ادھیڑ عمر مگر مضبوط جسم کے مالک ڈاکٹر ہاشمی کی طرف بڑھا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے رین کوٹ اتار کر اس سے مصافحہ کیا۔ "کیا بات تھی بیٹی۔ میں تو تمہارا فون سنتے ہے۔۔۔ "اور ان کی آواز حلق ہی میں اٹک گئی۔ حیرت زدہ نظریں بستر پر پڑی جوان اور نیلی پڑتی لڑکی کے وجود پر ٹھہر گئیں۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی۔ چند لمحوں بعد ان کا تجربہ کار ہاتھ لڑکی کے ماتھے سے ہٹا تو وہ کچھ مضطرب سے نظر آ رہے تھے۔ "خان۔۔۔ میرا بیگ۔ " وہ بولے اور خان کے ساتھ ہی وہ بھی ان کے قریب چلا آیا۔ بیگ کھلا اور ڈاکٹر اپنے فرض میں ڈوبتا چلا گیا۔ وہ خاموشی سے ڈاکٹر ہاشمی کی کوششوں کا جائزہ لیتا رہا۔ کتنی ہی دیر گزر گئی اور تب ڈاکٹر ہاشمی ایک طویل سانس لے کر بستر کی پٹی سے اٹھ کھڑے ہوئی۔ "انکل!" وہ مضطربانہ انداز میں اتنا ہی کہہ سکا۔ "الحمد للہ۔ خطرہ ٹل چکا ہے۔ " وہ آگے بڑھ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔ "خان۔ کچن سے دودھ لے آؤ۔ "انہوں نے کہا اور خان کمرے سے نکل گیا۔ "ہاں۔ اب کہو۔ یہ سب کیا چکر ہے؟" ڈاکٹر ہاشمی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ "چکر۔۔۔ ؟" وہ جھینپ گیا۔ "چکر تو کوئی نہیں ہے انکل! میں پکچر دیکھ کر لوٹا تو یہ باہر گیٹ کے پاس کھڑی نظر آئی۔ میں کار سے نکل کر اس کے قریب پہنچا مگر کچھ پوچھنے اور بتانے کی نوبت ہی نہ آئی اور یہ بے ہوش ہو گئی۔ میں اسے اٹھا کر اندر لے آیا اور آپ کو فون کر دیا۔ بس، یہ ہے ساری بات۔ " "ہوں۔ ڈاکٹر ہاشمی کے ہونٹ شرارت سے پھڑکی۔ " بیٹے۔ لڑکی تھی ناں۔ اگر صنف کرخت ہوتی تو۔۔۔ " " آپ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں انکل۔ "وہ مسکرا کر بولا اور ڈاکٹر ہاشمی ہنس دئیے۔ "میں تو مذاق کر رہا تھا۔ ہاں۔۔۔ بیگم صاحبہ زمینوں سے نہیں لوٹیں ابھی؟" "جی نہیں۔ ابھی کافی دن رکیں گی وہاں۔ " اسی وقت خان دودھ کا بھر ا جگ اور گلاس لئے اندر داخل ہوا۔ "صاب۔ دودھ بہوت تا۔ ہم گرم کر لائی۔ "وہ جگ میز پر رکھتے ہوئے بولا۔ "یہ تو بہت اچھا کیا خان۔ "وہ دودھ گلاس میں انڈیلتا ہوا بولا۔ دودھ پی کر فارغ ہو گئے تو ڈاکٹر ہاشمی اٹھ کھڑے ہوئی۔ "اچھا بیٹی۔ میں چلتا ہوں۔ بارش کا زور کم ہو رہا ہے۔ کہیں پھر زور نہ پکڑ لے۔ " "بہتر انکل۔ "وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ خان نے ڈاکٹر کا بیگ تھام لیا۔ "صبح دس بجے سے پہلے ہوش نہیں آئے گا۔ پریشان نہ ہونا۔ "وہ پھر مسکرا دیے اور وہ جھینپ کران کی ہدایات کو ذہن نشین کرنے لگا۔ " نیند کے انجکشن کا اثر کم از کم نو گھنٹے رہے گا۔ کیپسول تپائی پر پڑے ہیں۔ ہوش آنے پر ہر چار گھنٹے بعد گرم دودھ سے دو کیپسول دیتے رہنا۔ " ڈاکٹر ہاشمی رخصت ہو گئے۔ کمرہ خاصا گرم ہو چکا تھا۔ نیلے ہونٹ اب کچھ کچھ گلابی نظر آ رہے تھے۔ اس نے مطمئن انداز میں سر ہلایا اور بستر کے قریب چلا آیا۔ سانس اب مناسب رفتار سے چل رہا تھا۔ چہرہ پُرسکون تھا۔ کتنی ہی دیر تک وہ اس محو استراحت حسنِ بے پرواہ کو تکتا رہا۔ "صاب۔ " خان کی آواز اسے بچھو کے ڈنک ہی کی طرح لگی۔ وہ تیزی سے پلٹا۔ "تم ابھی تک یہیں ہو۔ "اس کے لہجے میں کچھ اکتاہٹ تھی مگر خان بھی مجبور تھا۔ اسے نیند نے تنگ کر رکھا تھا۔ وہ بلاوجہ اس کی محویت کو ختم کرنے کا قصور وار نہ ہوا تھا۔ "کوئی حکم صاب؟" وہ ڈر سا گیا۔ "کچھ نہیں۔ بس جاؤ۔ اور دیکھو۔ اس کمرے میں کوئی مت آئے۔ میں ساتھ والے کمرے میں آرام کروں گا۔ " "جی صاب۔ "وہ سلام کر کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ چند لمحے وہ بستر پر پڑے مصور کے اس حسین خیال کو گل پاش نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر پلٹ کر دھیرے دھیرے چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ * * *
__________________
![]() |
|
|
|
| زارا کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (25-05-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,231
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بے پناہ دولت۔ لمبی چوڑی جائداد۔ بے اندازہ زمینیں۔ دو کوٹھیاں۔ ایک حویلی۔ کئی کاریں اور بے تحاشا عزت ان دو ماں بیٹے میں محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ دونوں ہی کی تمنا تھی کہ کوئی تیسرا بھی ان کی ملکیت کا حصہ دار بنی۔ جو ان تین میں چند اور نفوس کا اضافہ کر سکی!مگر۔۔۔ امارت کی نظروں میں کوئی وجود جچ نہ رہا تھا۔ بوڑھی تجربہ کار نگاہیں صورت کے ساتھ سیرت اور خاندان کے ساتھ دولت و ثروت بھی چاہتی تھیں۔ ایک تصویر میں ضروری نہیں کہ مصور ہر ایک کے جذبات کی عکاسی کر سکے اور ہر کسی کے پسندیدہ رنگ بھر دی۔ اسے اپنی تصویر کو بہرصورت خوبصورتی اور حسن سے مرصع کرنا ہوتا ہے۔ اب اس کے لئے چاہے اسے کسی بھی قسم کے رنگ منتخب کرنا پڑیں۔ اور جوانی تھی کہ کسی اور ہی ڈگر پر چل نکلی تھی۔ اسے دولت نہیں چاہیے تھی کہ اس کے پاس بہت تھی۔ اسے خاندان نہیں چاہیے تھا۔ کہ ذات پات اس کی نظر میں بے اہمیت شے تھی۔ اسے صرف اپنے جذبات اور احساسات کی ترجمان تصویر کی تلاش تھی۔ وہ خواہ اسے آرٹ گیلری کے وسیع و عریض سجے سجائے قیمتی اور حسین ہال میں نظر آ جاتی، یا کسی فاقہ زدہ مصور کے ادھورے رنگوں سے بوسیدہ کاغذ پر ابھرتی نظر آ جاتی۔ اسے اور کچھ نہیں چاہیے تھا۔ چاہئے تھا تو صرف یہ کہ جو بھی آئے وہ صرف اسے چاہے۔ اس کے علاوہ ہر ایک سے بیگانہ ہو۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد وہ کسی کا خیال اپنے خانہ دل میں نہ سجاپایا ہو۔ بڑھاپا تجربہ کار تھا۔ اپنے اصولوں کا محافظ تھا۔ جوانی امنگوں بھری تھی۔ حسن اور محبت کی طلبگار تھی۔ اور آج۔۔۔ شاید اسے منزل مل گئی تھی۔ دل تو یہی کہہ رہا تھا۔ اور دل جھوٹ بھی تو بولا کرتا ہے۔ "صاب! آپ کا پون۔۔۔ " وہ چونک پڑا۔ خیالات بکھر گئی۔ بستر سے نکلا اور گاؤن پہنتا ہوا دروازے کی طرف چل دیا۔ کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔ "خان۔ "وہ رک گیا۔ "جی صاب۔ " "دیکھو۔ باباسیف آ چکا ہو گا۔ اسے اوپر بھیجو۔ " "جی صاب۔ " وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ وہ کچھ سوچتا ہوا ٹیلی فون کے پاس چلا آیا۔ "یس۔ طاہر اسپیکنگ۔ " وہ ریسیور کان سے لگا کر بولا۔ "ہیلو طاہر۔ "دوسری طرف سے ڈاکٹر ہاشمی نے ہنس کر کہا۔ "اوہ آپ۔۔۔ آپ کا مریض ابھی تک "ہوش ندارد"ہے انکل۔ " وہ مسکرایا۔ "مسیحا پاس رہے تو بیمار کا اچھا ہونے کو جی کب چاہتا ہے طاہر میاں !"وہ ڈاکٹر ہاشمی کی چوٹ پر خجل سا ہو گیا۔ رات بھی ان کی باتوں سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اس کی نظروں کا بھید جان چکے ہیں۔ "بہرحال، اس وقت نو بجے ہیں۔ دس بجے تک ہوش نہ آیا تو مجھے فون کر دینا۔ ویسے میں گیارہ بجے کے قریب خود ہی چلا آؤں گا۔ " "بس تو ٹھیک ہے۔ آپ آ ہی جائیے گا۔ " "خدا حافظ۔ "ڈاکٹر ہاشمی نے ہلکے سے قہقہے کے ساتھ ریسیور رکھ دیا۔ فون بند کر کے وہ پلٹا اور بستر کے قریب پڑی کرسی پر جم گیا۔ "سلام صاحب۔ " سیف کمرے میں داخل ہوا اور اس کی نظروں میں بھی حیرت سی امنڈ آئی۔ "سیف بابا۔ یہ ہماری مہمان ہیں اور بیمار بھی۔ "اس نے سیف کی حیرت کو نظر انداز کرتے ہوئے رسٹ واچ میں وقت دیکھا۔ "ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہلکے ناشتے کے تمام ضروری لوازمات یہاں ہونے چاہئیں !" "بہتر صاحب!" وہ سوالیہ نظروں کے ساتھ بستر پر سوئی لڑکی کو دیکھتا ہوا پلٹا اور برتن اٹھائے باہر نکل گیا۔ وہ ایک طویل انگڑائی لے کر کرسی سے اٹھا اور کھڑکیوں پر سے صرف پردے ہٹا دئیے، پٹ نہ کھولے۔ ہوا سرد تھی۔ رات کی بارش کے بعد موسم کھل گیا تھا۔ سورج کافی بلند ہو چکا تھا۔ اس کی زرد کرنیں دھند اور ٹھنڈک کا سینہ چیر چیر کر ہر مقابل شے کو روشن اور گرم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ وہ کتنی ہی دیر کھڑکی کے شیشوں سے باہر دیکھتے ہوئے دور نیلے آسمان کی لامحدود وسعتوں میں نجانے کیا تلاش کرتا رہا۔ "امی۔۔۔ امی۔۔۔ آپ کہاں ہیں امی۔۔۔ امی۔۔۔ "دھیمی سی بڑبڑاہٹ نے اسے چونکا دیا۔ وہ تیزی سے پلٹ کر بستر کے قریب چلا آیا۔ نرم و نازک وجود متحرک تھا۔ لانبی سیاہ پلکیں دھیرے دھیرے کانپ رہی تھیں۔ چہرے پرسرخی دوڑنے لگی تھی۔ ہونٹوں کے گوشے لرز رہے تھے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ہولے سے اپنی پلکوں کی چلمن اٹھا دی۔ وہ بے چینی سے اس کی ایک ایک حرکت کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ چند لمحوں تک وہ بے حس و حرکت، چت پڑی چھت کو گھورتی رہی۔ پھر جیسے چونک اٹھی۔ گردن گھما کر دائیں بائیں دیکھا۔۔۔ اور اسے سامنے دیکھ کر بری طرح گھبرا گئی۔ " آپ۔۔۔ آپ کون ہیں ؟ میں کہاں ہوں ؟" روایتی سے الفاظ اس کے لبوں سے ابل پڑی۔ "گھبرائیے نہیں۔ لیٹی رہئے۔ "وہ مسکرا کر اس پر جھک آیا۔ شانوں سے تھام کر اس نے پھر اسے لٹا دیامگردوسرے ہی لمحے وہ پھر اٹھ بیٹھی۔ "میں۔۔۔ " "دیکھئے۔ آپ کو میں بدمعاش نظر آتا ہوں یا آپ کو خود پر اعتماد نہیں ہے؟" وہ اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولا تو وہ گڑ بڑا گئی۔ بیباک مگر شریفانہ تاثر کی حامل نگاہوں نے اسے الجھن میں ڈال دیا۔ "میں جانا چاہتی۔۔۔ " " آں ہاں۔ یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟ "وہ اسے بستر سے اترتا دیکھ کر تیزی سے بولا۔ "جی میرا۔۔۔ " "ارے بابا، کیوں اپنا دماغ تھکا رہی ہیں آپ۔ اطمینان سے لیٹ جائے۔ کچھ مجھ سے پوچھئے۔ کچھ مجھے بتائیے۔ " وہ ریشمی لحاف اس پر اوڑھاتا ہوا بولا۔ اور نہ جانے کیا سوچ کر اور کیوں وہ چپ چاپ لیٹ گئی۔ پھر اس کی سوالیہ نظریں کمرے کے درو دیوار کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعداس کے مسکراتے چہرے پر آ کر جم گئیں۔ "ویسے ایک بات تو بتائیے؟"وہ بے تکلفی سے کرسی گھسیٹ کر اس کے قریب ہو بیٹھا۔ "جی۔ " وہ ہولے سے بولی اور نظریں چرا لیں۔ "کیا آپ کو بارش میں بھیگنے کا بہت شوق ہے ؟" "جی۔۔۔ کیا مطلب؟" وہ بے ساختہ حیرانی سے بولی۔ "مطلب یہ کہ کل رات آپ بڑی بے تکلفی سے طوفانِ باد و باراں کا لطف اٹھا رہی تھیں۔ سردی بھی بلا کی تھی اور۔۔۔ " ایک دم نہ جانے کیوں وہ بے چین سی ہو کر پھر اٹھ بیٹھی۔ "ارے ارے۔۔۔ یہ کیا۔۔۔ دیکھئے، میں تو مذاق کر رہا تھا۔۔۔ اور آپ۔۔۔ "وہ اس کی پلکوں کو نم ہوتا دیکھ کر بری طرح سے گڑ بڑا گیا۔ "مجھے جانے دیجئے۔ خدا کے لئے۔ "وہ بستر سے نکل پڑی۔ "ارے۔ یہ آپ کو بار بار جانے کا دورہ کیوں پڑ جاتا ہے؟" وہ اٹھ کر اس کو بازو سے تھامتا ہوا بولا۔ "چھوڑیئے۔ میں اب یہاں نہیں ٹھہر سکتی۔ "وہ بازو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔ "مگر آپ کہاں جانا چاہتی ہیں ؟ یہ تو طے ہے کہ آپ کا گھر کوئی نہیں ہے۔ ویسے اگر آپ دارالامان جانا چاہتی ہیں تو بندہ حاضر ہے لیکن پہلے ناشتہ تو کر لیجئے۔ " " آپ کو کیسے معلوم کہ۔۔۔ " " جن کا کوئی گھر ہو، وہ ایسی طوفانی راتوں میں اس حالت میں تو باہر آنے سے رہی، جس حالت میں آپ پائی گئیں۔ " وہ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر سسکنے لگی۔
* * *
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,231
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
طاہر سنجیدہ ہو گیا۔ مذاق اور ایک اجنبی لڑکی سی، جواس کے نام تک سے ناواقف تھی، کافی ہو چکا تھا!وہ کتنی ہی دیر تک روتی رہی۔ سیف ناشتہ میز پر رکھ کر جا چکا تھا۔ وہ خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ "دیکھئے۔ خدا را اب یہ رونا دھونا بند کیجئے اور ناشتہ کر لیجئے۔ "وہ معذرت خواہانہ لہجے میں بولا۔ اس نے دوپٹے کے پلو سے آنکھیں خشک کیں اور اس کی جانب دیکھا۔ " آئیے۔ باتھ روم اس طرف ہے۔ "اس نے کمرے کے غربی گوشے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ خاموشی سے باتھ روم کی جانب چل دی۔ کچھ دیر بعد جب وہ منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ کچھ اتنی ہی نکھر آئی تھی وہ سوگوار ی میں نتھر کر۔ "چلئے۔ ناشتہ کیجئے۔ "اس نے طاہر کی جانب دیکھا اور سر جھکا کر بستر کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئی۔ "ویسے ڈاکٹر صاحب نے بستر سے نکلنے سے منع کیا ہے۔ آپ نمونئے کے اٹیک سے بال بال بچی ہیں۔ "وہ ہولے سے بولا۔ وہ اس کی جانب دیکھ کر کوئی بحث کئے بغیر خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ کچھ دیر بعد وہ بستر میں بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی اور وہ کرسی پر بیٹھا چائے کی پیالی سے دل بہلا رہا تھا۔ اس نے بہت کم ناشتہ کیا۔ طاہر نے زیادہ پر اصرار نہیں کیا۔ سیف بابا برتن لے گیا۔ وہ پھر کسی سوچ میں کھو گئی۔ کتنی ہی دیر تک وہ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر ہولے سے کھنکارا تو وہ چونکی۔ نگاہیں ملیں۔ وہ مسکرادیا۔ "ہاں تو صاحب! مگر یہ صاحب کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ آپ کا نام کیا ہے؟" وہ بے تکلفی سے پوچھ بیٹھا۔ "زاہدہ۔ "وہ بے ساختہ دھیرے سے کہہ گئی۔ "مس زاہدہ؟" اس نے الٹا سا سوال کر دیا مگر تیزی سے! "جی۔۔۔ جی ہاں۔ " وہ کہتے کہتے رکی اور شرما گئی۔ "تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے مالک۔ " وہ سمجھ میں نہ آنے والے لہجے میں آہستہ سے بڑبڑایا۔ "اچھا۔ اب یہ بتائیے کہ آپ کون ہیں ؟ کیا ہیں ؟ رات آپ اس حال میں کیوں تھیں وغیرہ وغیرہ۔ پھر میں آپ کو اپنے بارے میں سب کچھ بتاؤں گا۔ جی۔ ویسے میرا نام طاہر ہے۔ " اور وہ اس باتونی، لا ابالی اور بے تکلف سے انسان کو بڑی گہری اور عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگی۔ "کیا دیکھ رہی ہیں ؟" اس نے کچھ دیر بعد یکا یک کہا۔ "جی۔ کچھ نہیں۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں۔ "وہ گھبرا گئی۔ "تو پھر کہئے ناں۔ " "کیا کہوں ؟" وہ اداس سی ہو گئی۔ "پہلے تو یہ بتایئے۔۔۔ "وہ معاملے کی نزاکت کے پیش نظر بات بدل گیا۔ " آپ کا کوئی۔۔۔ " وہ کہتے کہتے رک گیا۔ "نہیں ہے۔ کوئی نہیں ہے میرا۔ " اس نے گھٹے گھٹے لہجے میں کہہ کر آنکھیں بھینچ لیں۔ "اوہ۔۔۔ مگر ۔ صبح آپ نیم بیہوشی میں اپنی امی کو۔۔۔ " "مرنے والے پکارنے سے لوٹ تو نہیں آیا کرتے۔ "وہ سسک پڑی۔ " معاف کیجئے گا۔ میں نے آپ کو دکھ دیا۔ "وہ افسردہ سا ہو گیا۔ وہ کتنی ہی دیر دل کی بھڑاس نکالتی رہی۔ طاہر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ وہ چاہتا تھا اس کے دل کا غبار پوری طرح نکل جائے۔ "تو اب آپ کا کیا ارادہ ہے؟" وہ کچھ دیر بعد سنبھلی تواس نے دھڑ کتے دل کے ساتھ سوال کیا۔ "ارادہ؟" وہ طنز سے مسکرائی۔ "میرا مطلب ہے، آپ جہاں رہتی تھیں۔ وہیں واپس جانا چاہیں تو۔۔۔ " "جی نہیں۔ وہاں تو اب میرے لئے صرف اور صرف نفرت باقی ہے۔ انہی کے احسان نے تو مجھے اس طوفانی رات کے حوالے کیا تھا۔" "کیا مطلب؟" وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ " آپ ضرور سننا چاہتے ہیں۔" اس نے درد بھری نظروں سے اسے دیکھا۔ " آپ مناسب سمجھیں تو۔۔۔ " "ٹھیک ہے۔ یہ کوئی نئی اور انوکھی بات بھی نہیں ہے دنیا میں کہ میں اسے دل پر بوجھ بنائے لئے لئے پھروں۔۔۔ مگر مجھے کریدیے گا نہیں۔ " پھر ایک لرزتی کانپتی، درد بھری آواز کے زیر و بم نے اسے جکڑ سا لیا۔ وہ کہتی رہی۔ طاہر سنتا رہا۔ بت بنا۔ ہمہ تن گوش۔ "ابو بچپن میں ہی ساتھ چھوڑ گئے۔ غربت کا دائرہ کچھ اور تنگ ہو گیا۔ میں اور امی چچا کے در پر فقیروں کی طرح پڑے رہی۔ ان کے گھر کے کام کاج، خدمت، دن رات کی گالیوں ، مار پیٹ اور جھڑکیوں کے عوض بچا کھچا کھانا پیٹ کی آگ بجھانے کو مل جاتا۔ اسی پر سجدہ شکر ادا کرتی۔ امی نے ہر مصیبت اور تنگدستی کا مقابلہ کر کے کسی نہ کسی طرح مجھے ایف اے پاس کرا دیا۔ چچا کا لڑکا اختر ہمیشہ پڑھائی میں میری مدد کرتا۔ ماں باپ کی سخت مخالفت کے باوجود میری اور امی کی ہر طرح مدد کرتا۔ اسی کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے چچا اور چچی نے مجھے کمپیوٹر کورس کی اجازت دے دی۔ امی کے دُکھوں کو سُکھ میں بدلنے کا یہی ایک طریقہ تھا کہ میں کہیں نوکری کر لیتی۔ یہی سوچ کر میں نے یہ کورس کرنے کا عزم کر لیا۔ چچا کی اولاد میں اختر سے اوپر ایک لڑکی نرگس تھی۔ وہ اعلیٰ تعلیم کی غرض سے لندن چلی گئی اور ابھی تک وہیں ہے۔ وقت گزرتا رہا۔ جوانی بڑھاپے میں ڈھل گئی۔ امی کی جگہ بھی اب مجھی کو تمام گھر کا بوجھ سنبھالنا پڑا۔ میں نے کوئی گلہ شکوہ کئے بغیر یہ کڑوے گھونٹ بھی حلق سے اتار لئے۔ اس لئے کہ اختر، میرا اختر، میرا ساتھ نبھانے، مجھے اپنانے کا وعدہ کر چکا تھا۔ صرف اس کے امتحان سے فارغ ہو کر کاروبارسنبھالنے کی دیر تھی۔ اختر کی بے پناہ محبت نے مجھے ہر ڈر اور خوف سے لا پرواہ سا کر دیا۔ مجھے نئی زندگی بخش دی۔ وہ مجھ سے شادی کرنے کو بالکل تیار بلکہ بے صبرا ہو رہا تھا مگر جب تک وہ تعلیم مکمل نہ کر لیتا، یہ ممکن نہ تھا۔ پھر ایک روز اس نے مجھے یہ خوش خبری سنائی کہ وہ بی اے کا آخری پیپر دے آیا ہے۔ اب رزلٹ نکلنے کی دیر ہے اور پھر۔۔ اور اس "پھر " سے آگے میں سن نہ سکی۔ سہانے سپنوں میں کھو گئی۔ آنے والے کل کے سورج کی دمکتی کرنیں میرے تاریک ماضی کو تابناک مستقبل میں بدل جانے کا پیغام دے رہی تھیں۔ امی نے مجھے بہت سمجھایا۔ اونچ نیچ، قسمت اور تقدیر سے خوفزدہ کرنا چاہا مگر میں اختر پر اندھا اعتماد کئے بیٹھی تھی۔ کچھ نہ سمجھ سکی۔ کچھ نہ سوچ سکی۔ تب۔۔۔ ایک روز۔ جب اختر نے مجھے بتایا کہ چچا اور چچی نے اس کے لئے ایک امیر زادی کا رشتہ منظور کر لیا ہے تو میرے سپنوں کا تاج محل زمین بوس ہو گیا۔ زندگی نے بڑے پیار سے فریب دیا تھا۔۔۔ میں تمام رات روتی رہی۔ پلک نہ جھپکی۔ سسکیاں گونجتی رہیں۔ ہچکیاں آنسوؤں کا ساتھ دیتی رہیں۔ صبح کے قریب جب میں چند لمحوں کی نیند کی تلاش میں تھک کر اونگھتے اونگھتے ہڑ بڑا کر جاگی تو امی ہمیشہ کی نیند سو چکی تھیں۔ وہ مجھ سے زیادہ دُکھی، تھکی ہوئی اور ستم رسیدہ تھیں۔ نجات پا گئیں۔ چند روز تک گھر میں خاموشی رہی۔ مجھے کسی نے گالی نہ دی۔ جھڑکیوں سے نہ نوازا۔ تھپڑوں کے انعام سے محروم رہی۔ تب۔۔۔ اختر نے ایک بار پھر مجھے سہارا دیا۔ اس نے مجھ سے جلد ہی خفیہ طور پر شادی کر لینے کی خبر سنا کر ایک بار پھر مجھے امید کی رہگزر پر لا کھڑا کیا۔ چند لمحے پھر بہار کی تصوراتی آغوش میں گزر گئی۔ مگر بہار کے بعد خزاں بھی تو آیا کرتی ہے۔ دن کے بعد رات بھی تو آتی ہے۔ کل کی رات بڑی طوفانی تھی۔ بڑی خوفناک تھی۔ شدت سے بارش ہو رہی تھی۔ بادل پوری قوت سے دھاڑ رہے تھے۔ برق پوری تابناکی سے کوند رہی تھی۔ اختر ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا۔ اس کے والدین اور گھر کے ملازم گہری نیندسورہے تھی۔ وہ اکثر دیر سے لوٹتا تھا۔ میرا دل نہ جانے کیوں بیٹھا جا رہا تھا۔ گیارہ بج گئے۔ دل جیسے تڑپ کر سینے سے باہر آنے کی سعی کرنے لگا۔ میں اپنے چھوٹے سے کمرے میں بے چینی سے کروٹیں بدل رہی تھی۔ تبھی باہر دروازے پر اسی مخصوص مگر شاید بارش کی وجہ سے تیز انداز میں کی گئی دستک نے مجھے زندگی کی وادیوں میں گھسیٹ لیا۔ میں تقریباً بھاگتی ہوئی دروازے پر پہنچی۔ دروازہ کھولا۔ سامنے اختر بارش میں شرابور کھڑا تھا۔ "ارے تم۔۔۔ "وہ مجھے حیرت سے دیکھتا ہوا بولا۔ "اتنی دیر تم نے کہا ں لگا دی اختر۔ "میں نے پریشانی سے کہا۔ "ارے پگلی۔ " اس نے کھینچ کر مجھے سینے سے لگا لیا۔ "میں جب ناصر کے گھر سے نکلا تو موسم ٹھیک تھا۔ ایک دم ہی بارش نے آ لیا۔ موٹر سائیکل پر آتے آتے یہ حال ہو گیا۔ " میں اس کے سینے میں سما گئی۔ دروازہ بند کر کے ہم اسی طرح ایک دوسرے سے لپٹے کمرے میں چلے آئی۔ وہ میرے بستر میں لحاف اوڑھ کر لیٹ گیا۔ میں اس کے قریب بیٹھ گئی۔ "جناب، جائیے اب جا کر گیلے کپڑے اتار دیجئے۔ کافی دیر ہو چکی ہے۔ "کتنی ہی دیر بعد میں نے اس کی بے باک نظروں سے گھبرا کر کہا۔ "زاہدہ۔۔۔ "اس نے مجھے لحاف کے اندر گھسیٹ لیا۔ میں بے خود سی ہو گئی مگر جب وہ حد سے بڑھنے لگا تو میں سنبھل گئی۔ ہوش میں آ گئی۔ "ہوش میں آؤ اختر۔ کیا کر رہے ہو؟"میں نے اس کے گستاخ ہاتھوں کو روکتے ہوئے گھبرا کر کہا۔ " آج مجھے مت روکو زاہدہ۔ دیکھو۔ یہ رات، یہ موسم، یہ تنہائی کیا کہہ رہی ہے۔ "اس نے اس زور سے مجھے لپٹایا کہ میرا انگ انگ کراہ اٹھا۔ "کیا کر رہے ہو اختر۔ کیا ہو گیا ہے تمہیں ؟" میں سہم سی گئی اور اٹھنے کی کوشش کرنے لگی مگر بہکتے جذبات اور موسم نے اختر سے ہوش و حواس چھین لئے تھے۔ وہ وحشی ہوا جا رہا تھا۔ میں نے اسے دھمکی دی، شور مچانے کی۔ مچلی، تڑپی، روئی مگر وہ بہک چکا تھا۔ پھر میں چیخ اٹھی۔ ایک بار۔ دو بار، کہ شاید کوئی مدد کو آ پہنچے اور وہی ہوا۔ کوئی راہداری میں تیز تیز قدم اٹھاتا چلا آ رہا تھا۔ اختر گھبرا گیا۔ بہکے ہوئے جذبات کا بھوت اس کے سر سے اتر گیا۔ خدا نے میری عزت بچا لی۔ میں لٹتے لٹتے رہ گئی! "کون ہے اندر؟ دروازہ کھولو۔ دروازہ کھولو۔۔۔ "چچا جان دروازہ دھڑ دھڑا رہے تھے۔ اختر نے اِدھر اُدھر دیکھا اور کھڑکی کی طرف لپکا۔ جب میں نے دروازہ کھولا تو کھڑکی کھلی تھی اور اختر اپنے کمرے میں جا چکا تھا۔ پھر میری ایک نہ سنی گئی۔ مجھے پیٹا گیا۔ گالیاں دی گئیں۔ تہمتیں تراشی گئیں۔ الزام لگائے گئی۔ بدکار، طوائف، بد چلن اور ایسے کتنے ہی خطابات سے نوازا گیا۔ اپنے گھر کو ایک گندی مچھلی سے پاک کرنے کے لئے مجھے، ایک جوان لڑکی کو، سگی بھتیجی کو، اس طوفانی رات کے حوالے کر دیا گیامگراختر نہ آیا۔ شاید اپنے اصلی روپ میں ظاہر ہونے کے بعد اس کے پاس کوئی نیا لبادہ نہ رہ گیا تھا۔ اس سے بعد میں صرف اتنا ہی جانتی ہوں کہ آسمان کی عنایات سے بے دم ہو کر ایک کوٹھی کے سائبان تلے رک گئی تھی۔ پھر کیا ہوا، مجھے کچھ معلوم نہیں !" وہ خاموش ہو گئی۔ "بڑی دردناک کہانی ہے آپ کی؟" کچھ دیر بعد وہ ایک طویل سانس لے کر آہستہ سے بولا۔ زاہدہ آنکھیں خشک کرنے لگی۔ "مگر نئی نہیں ہے۔ " وہ دونوں ایک آواز سن کر چونک پڑے۔ دروازے کے پاس پڑے صوفے پر ڈاکٹر ہاشمی بیٹھے تھے۔ "دنیا میں ایسے ہزارو ں واقعات روزانہ پیش آتے ہیں۔ "وہ اٹھ کر ان کے قریب چلے آئے۔ "تم خوش قسمت ہو بیٹی کہ ایک وحشی کے ہاتھوں بے آبرو ہونے سے بچ گئیں ورنہ یہ بات تقریباً ناممکن ہو جایا کرتی ہے۔ "وہ بستر کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔ زاہدہ کاسر جھک گیا۔ " آپ کب آئے انکل؟" طاہر نے ان کی جانب دیکھا۔ "جب کہانی کلائمکس پر تھی۔ " وہ بولے اور طاہر سر ہلا کر رہ گیا۔ زاہدہ سر جھکائے انگلیاں مروڑ رہی تھی۔ "چائے لیں گے آپ؟" اس نے پوچھا۔ "نہیں بھئی۔ اس وقت طلب نہیں۔ ہاں بیٹی۔ ذرا ہاتھ ادھر دو۔ "وہ اس کی نبض پر ہاتھ رکھ کر گھڑی کی طرف دیکھنے لگی۔ " اب تو بالکل ٹھیک ہو تم۔ " وہ انجکشن دے کر فارغ ہو گئی۔ یہی کیپسول ہر تین گھنٹے بعد لیتی رہو۔ انشاءاللہ شام تک ان سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ "پھر وہ اٹھ گئی۔ "اچھا بھئی طاہر۔ میں اب چلوں گا۔ شام کو پھر آؤں گا۔ " "بہتر انکل۔ " وہ بھی کھڑا ہو گیا اور سیف کو پکارا۔ چند لمحے بعد وہ کمرے میں تھا۔ "ڈاکٹر صاحب کو گاڑی تک چھوڑ آؤ۔ "سیف نے آگے بڑھ کر ان کا بیگ اٹھا لیا۔ ڈاکٹر ہاشمی چل دیئے۔ "اور سنو۔ سیف بابا سے دو کپ چائے کا کہہ دو۔ " "جی بہتر۔ "وہ سرجھکائے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ وہ پھر کرسی پر بیٹھ گیا۔ زاہدہ تکئے سے ٹیک لگائے جانے کس سوچ میں گم نیم دراز تھی۔ "ہوں۔ تو آپ صبح اسی لئے ان لوگوں کے پاس بھاگ بھاگ کر واپس جا رہی تھیں۔ " وہ اسے چونکاتا ہوا گویا ہوا۔ "جی۔۔۔ جی نہیں۔ " وہ افسردگی سے بولی۔ "وہ میرے لئے مر چکے ہیں۔ " "کیا۔۔۔ اختر بھی؟" اس نے زاہدہ کی آنکھوں میں جھانکا۔ "وہ بھی تو انہی میں سے تھا۔ "اس نے نظریں جھکا لیں۔ "اگر وہ پیٹھ نہ دکھاتا اور میری ڈھال بن جاتا تو میں اس وقت یہاں نہ ہوتی۔ " اوراس کے سینے سے ایک بوجھ سا ہٹ گیا۔ لبوں پر پھر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ تیر گئی۔ "تو پھر۔۔۔ کہاں جانے کے لئے اتنا بے قرار تھیں آپ؟دیکھئے۔ وہی گھسا پٹا جواب نہ دیجئے گا کہ جہاں قسمت لے جاتی۔ "وہ لہجے کو نسوانی بناتے ہوئے بڑی افسردگی سے بولا۔ زاہدہ بے ساختہ مسکرا دی۔ "ارے ۔۔۔ آپ تو ہنستی بھی ہیں۔ "وہ بڑی حیرانی سے بولا اور اپنے جواب ندارد سوال کو بھول کر اس کے رنگیں لبوں کی مسکراہٹ میں کھو گیا جواَب کچھ اور گہری ہو گئی تھی۔ "بس یونہی مسکراتی رہئے۔ ہنستی رہئے۔ بخدا زندگی جنت بن جائے گی۔ ویسے ایک بات کہوں۔ صبح آپ پتہ ہے کیوں بھاگ رہی تھیں ؟" اس نے پھر زاہدہ کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھنے لگی۔ " آپ کا خوفزدہ ذہن مجھ سے بھی ڈر رہا تھا۔ اختر کی طرح۔ " اور اس نے سنجیدہ ہو کر نظریں جھکا لیں۔ شاید یہ سچ تھا۔ سیف بابا چائے لے آیا۔ کچھ دیر بعد وہ چائے سے فارغ ہو گئی۔ "اچھا مس زاہدہ۔ آپ آرام کیجئے۔ میں کچھ کام نبٹا آؤں۔ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بیل موجود ہے۔ "اس نے کال بیل پر انگلی رکھ دی۔ چند لمحوں بعد سیف کمرے میں تھا۔ "دیکھو سیف بابا۔ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا۔ کھانا پورے ایک بجے۔۔۔ اور رات کے کھانے پر تو میں گھر پر ہی ہوں گا۔ " "بہتر صاحب۔ " وہ ادب سے بولا۔ "بس جاؤ۔ " اور وہ واپس پلٹ گیا۔ "اب میں چلوں گا۔ گھبرائیے گا نہیں۔ اور یہاں سے جانے کا ابھی مت سوچئے گا۔ کیونکہ میری غیر موجودگی میں کوئی آپ کو یہاں سے جانے نہیں دے گا۔ شام کو لوٹوں گا تو باقی باتیں ہوں گی۔ پھر طے کریں گے کہ آپ کو آگے کیا کرنا ہے؟" وہ مسکراتا ہوا کپڑوں والی الماری کی طرف بڑھ گیا۔ "ارے ہاں۔ مجھے اپنا وعدہ تو بھول ہی گیا۔ " اچانک واپس آ کر وہ پھر کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ اسے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی۔ "دیکھئے صاحب۔ ابو تو ہمارے بھی اللہ کے پیاروں کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔ بس ایک امی ہیں۔ اور ان کا یہ اکلوتا، کلم کلا، فرزندِ ارجمند۔ آج کل وہ زمینوں پر گئی ہوئی ہیں۔ بڑی سخت گیر ہیں۔ ملازموں کو سر نہیں چڑھاتیں۔ ان کی خبر لیتی رہتی ہیں۔ اور میں یعنی مسٹر طاہر۔ امپورٹ ایکسپورٹ کی فرم کا واحد اور بلا شرکت غیرے مالک۔ تاکہ وقت گزرتا رہی۔ بیکار بیٹھنے سے بچنے کا اک بہانہ ہے۔ بس یہ تھی ہماری مختصر سی زندگی، جس کے بارے میں مَیں نے آپ کو بتانے کا وعدہ کیا تھا۔ "وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ لاکھ کوشش کے باوجود اپنی مسکراہٹ کو دبا نہ سکی۔ طاہر الماری سے کپڑے نکال کر باتھ روم میں گھس گیا۔ چند منٹ بعد جب وہ باہر نکلاتوکچھ دیر کووہ بھی مبہوت رہ گئی۔ کچھ اتنا ہی سمارٹ لگ رہا تھا وہ۔ وہ ہاتھ ہلا کر مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔ زاہدہ پھر کسی گہری سوچ میں گم ہو گئی۔ ٭ پندرہ دن ایک آنکھ مچولی کی سی کیفیت میں گزر گئی۔ اس شام وہ ڈاکٹر ہاشمی کے ہاسپٹل میں ان کے پاس موجود تھا۔ "طاہر بیٹے۔ "ڈاکٹر ہاشمی کرسی سے اٹھ کر کھڑکی کے قریب چلے گئی۔ "تم میں جلد بازی کا مادہ بہت زیادہ ہے۔ تم ہر اس شے کو حاصل کر لینا چاہتے ہو، جو تمہاری نگاہوں کو تسکین دے دی۔ تمہارے دل کوپسند آ جائے لیکن۔۔۔ " وہ رک گئی۔ طاہر بے چینی سے پہلو بدل کر رہ گیا۔ "دوسرے کے جذبات، رستے میں آنے والی رکاوٹوں ، حقیقت اور ہر تغیر سے تم بالکل بے بہرہ ہو جاتے ہو۔ " "میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا انکل۔ "وہ مضطرب سا ہو گیا۔ "جوانی دیوانی ہوتی ہے بیٹے لیکن اگر اسے سنبھل کر خرچ کیا جائے تو یہ کبھی ختم نہ ہونے والا سکون بھی بن جایا سکتی ہے۔ " اس نے پھر کچھ کہنا چاہا مگر ڈاکٹر ہاشمی نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔ اس کے ادھ کھلے ہونٹ پھر بند ہو گئی۔ "ابھی اس اجنبی لڑکی کو یہاں آئے ہوئے صرف تین دن ہوئے ہیں اور تم اسے جنم جنم کا ساتھی جان کر، شریک حیات بنانے کا بے وقوفانہ فیصلہ کر بیٹھے ہو۔ " "مگر اس کا اب دنیا میں ہے بھی کون انکل؟ اسے یہ بات بخوشی قبول ہو گی۔ " "غلط کہتے ہو۔ تم اس کے دل میں جھانک کر نہیں دیکھ سکتے۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ اختر کی محبت اتنی جلدی اس کے دل سے حرفِ غلط کی طرح مٹ گئی ہو گی۔ " "اس نے خود۔۔۔ " "کہنے سے کیا ہوتا ہے۔ کہنے کو تو اس نے ان سب کو مردہ کہہ دیا ہے جن میں اس کا چچا، چچی اور اختر سب شامل ہیں لیکن کیا وہ حقیقتاً مر گئے ہیں۔ نہیں۔۔۔ وہ زندہ ہیں۔ جیسے میں ، تم اور وہ خود۔۔۔ " "لیکن۔۔۔ " "ابھی بیگم صاحبہ یہاں نہیں ہیں۔ چند روز میں وہ بھی لوٹ آئیں گی اور اس وقت۔۔۔ اس وقت تم ایک عجیب مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ گے طاہر۔ تم ان کی طبیعت سے اچھی طرح واقف ہو۔ " "لیکن میں فیصلہ کر چکا ہوں۔۔۔ " "وہ فیصلے بدل دینے کی عادی ہیں۔ " "میں بھی انہی کی اولاد ہوں انکل۔ " "اور اگر۔۔۔ اس لڑکی ہی نے تمہارا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تو؟" وہ سچ مچ پریشان ہو گیا۔ ڈاکٹر ہاشمی کی ہر بات اپنی جگہ اٹل تھی۔ "بات کو سمجھنے کی کوشش کرو بیٹے۔ " وہ نرمی سے اس کا شانہ تھپکتے ہوئے بولے۔ "ابھی اس کے زخم تازہ ہیں۔ ان پر ہمدردی اور پیار کا مرہم رکھو۔ اسے حوصلہ دو۔ جلد بازی کو کچھ عرصے کے لئے خیر باد کہہ دو۔ اگر تم اس کے دل کا زخم بھرنے میں کامیاب ہو گئے تو شاید وہ سب کچھ ہو سکے جو تم سوچ رہے ہو مگر فی الحال ایسا کوئی چانس نہیں ہے۔ شیخ چلی کا خیالی پلاؤ تم جیسا انسان نہ پکائے تو اچھا ہے ورنہ حقیقت کی بھوک تمہیں ایسے فاقے پر مجبور کر دے گی جو جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ " طاہر نے ان کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہ مسکرادیے۔ دھیرے سے پھر اس کا شانہ تھپکا۔ اس نے سر جھکا لیا۔ "وقت آنے پر میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ "وہ آہستہ سے بولے۔ اور اسے جیسے بہت بڑا سہارا مل گیا۔ "اللہ حافظ۔ "وہ مسکرا کر دروازے کی طرف بڑھ گئے۔ "اللہ حافظ۔ " وہ ہولے سے بولا اور کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ ٭ شوخیوں پر نکھار آتا چلا گیا۔ شرارتیں بڑھتی چلی گئیں۔ تکلف کی دیواریں گرنے لگیں۔ دبی دبی، پھیکی پھیکی مسکراہٹیں ، بلند بانگ اور زندگی سے بھرپور قہقہوں میں ڈھل گئیں۔ یک طرفہ محبت کی آگ کے شعلے بلندسے بلند تر ہونے لگی۔ اس کی نیندیں اڑنے لگیں۔ قرار چھن گیا۔ سکون رخصت ہو گیا۔ دفتر کا عملہ اس کی یکدم بڑھ جانے والی زندہ دلی، ظرافت اور پیار کو "کسی کے مل جانے "سے تشبیہ دینے لگا۔ اس کی سٹینو امبر نے تو کئی بار اسے ہنسی ہنسی میں یہ بات کہہ بھی دی تھی۔ دوسری طرف زاہدہ اس محبت سے بے خبر تھی۔ بالکل بے خبر۔ لگتا یہی تھا کہ وہ اپنے ماضی کو فراموش کر چکی ہے لیکن اس کے دل میں کیا تھا یہ کوئی نہ جانتا تھا۔ ہاں ، کبھی کبھی اختر کی یاد اسے بے چین کر دیتی تو وہ کچھ دیر کے لئے اداس ہو جاتی لیکن جب اسے اختر کی زیادتی کا خیال آتا تو وہ اس اداسی کو ذہن سے جھٹک دیتی۔ اس کے خیال کو دل سے نکال پھینکنے کی کوشش کرنے لگتی۔ ایسے موقع پر طاہر اس کے بہت کام آتا۔ وہ منٹوں میں اس کی اداسی کو شوخی میں بدل کر رکھ دیتا۔ اسے قہقہوں میں گم کر دیتا۔ ماضی کو فراموش کر کے وہ مستقبل سے بالکل لا پرواہ ہوئی جا رہی تھی تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ چٹان کی طرح موجود تھی کہ لاکھ کوشش کے باوجود وہ اختر کو مکمل طور پر اپنی یادوں سے کھرچ دینے میں ناکام رہی تھی۔ آج اسے طاہر کے ہاں آئے دو ماہ ہو رہے تھے۔ بیگم صاحبہ ابھی تک گاؤں سے نہیں لوٹی تھیں۔ سردیاں ختم ہونے کو تھیں۔ طاہر نے اسے کیا کچھ نہ دیا تھا۔ مسکراہٹیں ، خوشیاں ، بے فکری، آرام، آزادی۔۔۔ لیکن یہ اس کا مستقل ٹھکانہ تو نہیں تھا۔ "اے مس اداس۔۔۔ " طاہر کی شوخی سے بھرپور آواز نے اس کے خیالات کا شیرازہ بکھیر دیا۔ اس نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا۔ وہ اسے مسکراتی ہوئی بڑی گہری نظروں سے دیکھتا ہوا، اس کے سامنے ہی آلتی پالتی مار کر لان کی نرم نرم گھاس پر بیٹھ گیا۔ "فرمائیے۔ " وہ بے ساختہ مسکرادی۔ "فرمانا کیا ہے ہم فقیروں نے۔ بس یہ ایک عدد خط آیا ہے امی جان کا۔ " وہ کاغذ کھول کر اسے گھاس پر بچھاتا ہوا جیسے مشاعرے میں غزل پڑھنے لگا۔ وہ نجانے کیوں بے چین سی ہو گئی۔ " آ رہی ہیں وہ ؟" "ہاں۔۔۔ مگر تم کیوں پریشان ہو گئیں ؟" وہ خط پڑھے بغیر تہہ کر کے جیب میں رکھتے ہوئے بولا۔ "پریشان۔۔۔ نہیں تو۔ وہ۔۔۔ " "اچھا چھوڑو۔ ایک بات بتاؤ۔ " "جی پوچھئے۔ " "اب تمہارا ارادہ کیا ہے؟ میرا مطلب ہے۔۔۔ " "میں بھی یہی سوچ رہی تھی طاہر صاحب کہ آپ نے مجھ پر کتنے احسانات۔۔۔ " "میں نے احسانات گننے کو نہیں کہا۔ یہ پوچھا ہے کہ اب آئندہ کا پروگرام کیا ہے؟" اس نے زاہدہ کی بات کاٹ دی۔ "پروگرام کیا ہونا ہے طاہر صاحب۔ ایک نہ ایک روز تو مجھے یہاں سے جانا ہی ہے۔ کئی بار جانا چاہا۔ کبھی آپ نے یہ کہہ کر روک لیا کہ کہاں جاؤ گی؟ اور کبھی یہ سوچ کر رک گئی کہ واقعی کہاں جاؤں گی میں ؟ لیکن آج آپ نے پوچھ ہی لیا ہے تو۔۔۔ " وہ رک گئی۔ پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھتا رہا۔ " آپ ہی بتائیے۔ میں کہاں جاؤں ؟" "ارے تو کون اُلو کا پٹھا تمہیں جانے کو کہہ رہا ہے؟ "وہ مصنوعی جھلاہٹ سے بولا اور اٹھ کر اس کے قریب چلا آیا۔ "مذاق نہیں طاہر صاحب۔ میں۔۔۔ میں آج ہی یہاں سے چلی جاؤں گی۔ "وہ اداسی سے بولی۔ "کہاں ؟" "کہیں بھی؟" وہ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر رہ گئی۔ "پھر بھی ؟" "جہاں۔۔۔ " "قسمت لے جائے۔ بس اس فلمی ڈائیلاگ سے مجھے بڑی چڑ ہے۔ "وہ اس کی بات اچک کر بولا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔ "سنو۔۔۔ "وہ اس کے بالکل سامنے، بالکل قریب چلا آیا۔ اس نے طاہر کی طرف دیکھا۔ "تم کہیں مت جاؤ۔ یہیں رہو۔ "وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر بولا۔ "نوکرانی بن کر۔۔۔ ؟"وہ دھیرے سے مسکرائی۔ "رانی بن کر۔ " وہ اسے ہلکا سا جھٹکا دے کر بولا۔ "کیا مطلب؟" وہ حیران سی ہو گئی۔ "رانی کا مطلب نہیں سمجھتیں کیا۔ ارے وہی۔۔۔ جو ایک راجہ کی۔۔۔ "وہ شرارت سے مسکرا کر خاموش ہو گیا۔ "طاہر صاحب۔ " وہ حیرت سے لڑکھڑا کر پیچھے ہٹ گئی۔ "کیوں۔۔۔ کیا ہوا ؟" وہ بے چینی سے بولا۔ دل بڑے زور سے دھڑکا تھا۔ "ایسا مت کہئے طاہر صاحب۔ میں اتنا بھیانک مذاق سہہ نہ سکوں گی۔ " "ارے واہ۔ تم زندگی بھر کے بندھن کو مذاق۔۔۔ "
* * *
|
|
|
|
| زارا کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (25-05-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,231
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
"خاموش ہو جائیے طاہر صاحب۔ خدا کے لئے۔ "وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر سسک پڑی۔ "زاہدہ۔۔۔ " اس کو شانوں سے تھام کر طاہر نے اس کا رخ اپنی جانب پھیرا۔ "میں اختر نہیں ہوں زاہدہ۔ " "اسی لئے تو یقین نہیں آتا۔ "اس نے رخ پھیر لیا۔ "زاہدہ۔ تم۔۔۔ تم سمجھتی کیوں نہیں ؟ میں۔۔۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ "وہ رک رک کر کہہ گیا۔ "بس کیجئے طاہر صاحب۔ بس کیجئے۔ یہ زہر میں بجھے ہوئے تیر بہت پہلے میرے دل میں اتر چکے ہیں۔ " "زاہدہ۔ "وہ تڑپ اٹھا۔ "میرے خلوص کی یوں دھجیاں نہ بکھیرو۔ " "مجھے جانے دیجئے طاہر صاحب۔ مجھے جانے دیجئے۔ مجھ میں اب یہ فریب، یہ ستم سہنے کی تاب نہیں۔ "وہ چل دی۔ طاہر آگے بڑھا اور اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔ "جا سکوگی؟" اس کی نم آنکھوں میں جھانک کر وہ بڑے مان سے بولا۔ وہ لرز گئی۔ ایک چٹان کھڑی تھی اس کے راستے میں ! "میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کے لئے بے قراری محسوس کی ہے زاہدہ۔ پہلی مرتبہ میرا دل کسی کے لئے دھڑکا ہے۔ تمہارے لئے۔ زاہدہ، صرف تمہارے لئے۔ اگر اسی کو محبت کہتے ہیں تو۔۔۔ " "طاہر صاحب۔ "وہ پھر سسکی۔ "ہاں زاہدہ۔ میں نے جب تمہیں پہلی مرتبہ دیکھا تھا تو نجانے کیوں تمہیں دل میں سمولینے، دھڑکنوں میں چھپا لینے کو جی چاہا۔ میں نے اپنا کوئی آئیڈیل نہیں بنایا زاہدہ مگر اب لگتا ہے تم ہی میری نامحسوس اور ان دیکھی آرزوؤں کی تصویر ہو۔ میں نے اس کٹی پھٹی تصویر میں اپنی چاہت کے رنگ بھر دیے لیکن نہیں جانتا تھا کہ یہ تصویر میری بولی سے بہت زیادہ قیمت کی ہے۔ میرے پاس تو صرف خلوص کی دولت ہے زاہدہ۔ اس ظاہری شان و شوکت، اس آن بان پر تو میں کبھی تن کر کھڑا نہیں ہوا۔ " وہ بت بنی اس کی صورت تکتی رہی۔ وہ پھیکے سے انداز میں مسکرا دیا۔ "جانا چاہتی ہو؟ مجھے چھوڑ کر؟"وہ اس کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں جھانک کر آہستہ سے بولا۔ "میں تمہیں نہیں روکوں گا۔ جاؤ۔ " وہ بڑی درد بھری مسکراہٹ ہونٹوں پر لئے ایک طرف ہٹ گیا۔ زاہدہ نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ کر دھیرے سے حرکت کی اور چل دی۔ آہستہ آہستہ، چھوٹے چھوٹے چند قدم اٹھائے۔ طاہر کی آنکھوں کے سامنے دھند سی لہرا گئی۔ پانی کی پتلی سی چادر تن گئی۔ وہ رک گئی۔ طاہر کی پلکیں بھیگ گئیں۔ وہ پلٹی۔ دھیرے سے۔ طاہر کے ہونٹوں کے گوشے لرز گئی۔ وہ رخ پھیر کر بھاگی۔ طاہر کے بازو وَا ہو گئے۔ وہ اس کے بازوؤں میں سماتی چلی گئی۔ شبنم، پھول کی پتیوں پر پھسل پڑی۔ دور برآمدے میں کھڑے ڈاکٹر ہاشمی کے لبوں پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ ابھری۔ شاید وہ سب کچھ جان گئے تھے۔ "تو ہماری اک ذرا سی عدم موجودگی نے یہ گل کھلائے ہیں۔ " بیگم صاحبہ نے سرجھکائے کھڑے طاہر، زاہدہ اور ڈاکٹر ہاشمی کی جانب کڑی نظروں سے دیکھا۔ "میں نے۔۔۔ " طاہر نے کہنا چاہا۔ "کوئی جرم نہیں کیا۔ کوئی گناہ نہیں کیا۔ محبت کی ہے۔ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ یہی فلمی ڈائیلاگ بولو گے نا تم۔ " اس کی بات تیز لہجے میں کاٹ دی گئی۔ وہ ان کے پُر رعب، با وقار چہرے پر پھیلتی سختی کی تاب نہ لا کر سر جھکا کر رہ گیا۔ "ڈاکٹر ہاشمی۔ " "جی بیگم صاحبہ"۔ وہ ایک قدم آگے بڑھ آئی۔ " آپ بھی اس سازش میں برابر کے شریک ہیں۔ " وہ سرد مہری سے بولیں۔ "جی۔۔۔ جی۔۔۔ میں۔۔۔۔ " وہ گڑ بڑا گئے۔ "گھبرائیے نہیں ڈاکٹر ہاشمی۔ آپ ہمارے خاندانی ڈاکٹر ہیں۔ آپ میں تو اتنی ہمت، اتنی جرات ہونی چاہیے کہ آپ ہم سے بلا خوف بات کر سکیں ، یا ہمارے نمک میں یہ اثر بھی نہیں رہا۔ " "ایسی کوئی بات نہیں بیگم صاحبہ۔ "وہ سنبھل گئے۔ "تو پھر ؟ یہ سب کیا ہوا ؟ کیوں ہوا؟ہمیں اطلاع کیوں نہ دی گئی؟" وہ ان کی جانب دیکھتی ہوئی بولیں۔ "میں نے۔۔۔ " " آپ نے کچھ بھی سوچا ہو ڈاکٹر ہاشمی مگر ہمارے لئے نہیں۔ اس سر پھر ے لڑکے لئے سوچا ہو گا، جسے آپ نے گودوں کھلایا ہے۔ ہے ناں ؟" "جی۔۔۔ جی ہاں۔ " وہ اقرار کر گئے۔ زاہدہ سہم سی گئی مگر طاہر نے اسے نظروں ہی نظروں میں دلاسا دیا۔ تب وہ اپنے خوف کو کافی حد تک کم محسوس کرنے لگی۔ "طاہر۔ "وہ اس کی طرف پلٹیں۔ "جی امی جان۔ "وہ ادب سے بولا۔ "تمہیں ہمارا فیصلہ معلوم تھا ناں ؟" "جی۔ " اس کا سر جھک گیا۔ "پھر تم نے اسے بدلنے کے بارے میں سوچا کیسے؟" "گستاخی معاف امی جان۔ میں نے تمام زندگی آپ کے ہر حکم پر سرجھکایا ہے۔ " "مگر اب اس لڑکی کی خاطر، اپنی پسند کی خاطر، تم ہمارے ہر اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دو گے، جو ہم تم پر حکم کہہ کر لاگو کریں گے۔ "انہوں نے اس کی بات پوری کر دی۔ "جی نہیں۔ امی جان میں نے ایسا۔۔۔ " "تو تمہیں ہمارے ہر فیصلے سے اتفاق ہو گا؟ "وہ حاکمانہ انداز میں گویا ہوئیں۔ وہ جواب میں خاموش رہا۔ ایک بوجھ سا ان سب کے دلوں پر بیٹھتا چلا گیا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے پُر درد نظروں سے ان دو پیار بھرے دلوں کو دیکھا، جو سہمے سہمے انداز میں دھڑکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ "اس خاموشی سے ہم کیا مطلب لیں طاہر؟" اور اس نے آہستہ سے زاہدہ کی جانب دیکھ کر سر اٹھایا۔ "میں آپ کے فیصلے کا منتظر ہوں امی جان۔ " "تو۔۔۔ " وہ ان کی جانب گہری نظروں سے دیکھتی ہوئی بولیں۔ "ابھی۔۔۔ اسی وقت۔ اس لڑکی کو۔۔۔ "وہ رکیں۔ ان سب کو تنقیدی اور جانچنے والی نظروں سے دیکھا۔ "یہاں سے رخصت کر دو۔ " کہہ کر انہوں نے رخ پھیر لیا۔ ایک بم پھٹا۔ ایک زلزلہ آیا۔ ایک طوفان اٹھا۔ یہ سب ان کی توقع کے مطابق ہی ہوا تھا مگر وہ پھر بھی سہہ نہ سکے۔ "میں وجہ پوچھنا چاہوں گا امی جان۔ " ایک اور دھماکہ ہوا۔ "طاہر۔ " وہ آپے سے باہر ہو گئیں۔ تیزی سے اس کی طرف پلٹیں۔ " وجہ تم اچھی طرح جانتے ہو۔ "وہ غیظ و غضب سے ان دونوں کو گھورتے ہوئے پھنکاریں۔ "میں آپ کی زبان سے سننا چاہتا ہوں۔ "وہ جیسے ہر خوف، ہر ڈر سے بے بہرہ ہو گیا۔ وہ ایک لمحے کو سن ہو گئیں۔ طاہر، ان سے وجہ پوچھ رہا تھا۔ ان کے حکم کی تعمیل سے انکار کر رہا تھا۔ ان کی انا پر براہ راست حملہ اور ہو رہا تھا۔ مگردوسرے ہی لمحے وہ سنبھل گئیں۔ جوانی جوش میں تھی، انہیں ہوش کی ضرورت تھی۔ طوفان چڑھ رہا تھا۔ بند باندھنا مشکل تھا، ناممکن نہیں۔ ان کے چہرے کی سرخی، اعتدال کی سفیدی میں ڈھلتی چلی گئی۔ آنکھوں میں دہکتی ہوئی آگ، ہلکی سی چمک میں بدل گئی۔ بڑھاپا سنبھل گیا۔ جوانی کو داؤ میں لینے کا لمحہ آن پہنچا تھا۔ "یہ لڑکی کون ہے۔ جانتے ہو؟"وہ زاہدہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولیں۔ "انسان ہے امی جان۔ "وہ ادب سے بولا۔ "اس کا خاندان، گھر بار، ٹھکانہ، ماں باپ۔ "وہ بل کھا کر ایک ہی سانس میں سب کچھ پوچھ گئیں۔ " یہ بے سہارا ہے امی جان۔ " " آوارہ بھی تو ہو سکتی ہے۔ " انہوں نے اس کی بات کاٹ دی۔ "امی جان۔ "وہ احتجاجاً بولا۔ "جنگ میں زخموں کی پرواہ کرنے والے بزدل ہوتے ہیں طاہر بیٹے۔ اور تم ہمارے بیٹے ہو۔ ہمارے سامنے تن کر کھڑے ہوئے ہو تو وار سہنا بھی سیکھو۔ " وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولیں۔ "امی جان۔ " وہ ایک قدم آگے بڑھ آیا۔ "یہ غریب، بے سہارا، بے ٹھکانہ ہے۔ " "تو آج تک دارالامان میں رہی ہے۔ "وہ طنز سے بولیں۔ "اپنوں کے ستم سہتی رہی ہے۔ "وہ تیزی سے بولا۔ "پھر یہ بے گھر کیسے ہوئی؟ کیوں ہوئی؟" وہ جلال میں آ گئیں۔ "تقدیر جب سر سے آنچل کھینچ لینے کے درپے ہو گئی تو۔۔۔ " "تو۔۔۔ یہ تمہارے پاس چلی آئی۔ "انہوں نے اس کا فقرہ بڑے خوبصورت طنز سے پورا کر دیا۔ "میں سب بتا چکا ہوں امی جان۔ "وہ ادب ہی سے بولا۔ "مگر ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی ایسی لڑکی ہمارے بیٹے کی بیوی اور ہماری بہو کہلائے۔۔۔ " "جس کے پاس دولت نہیں۔ جہیز نہیں۔ معاشرے میں اونچا مقام نہیں۔ "وہ پھٹ پڑا۔ "ٹھیک سمجھے ہو۔ "وہ نرمی سے بولیں۔ "میں ایک سوال اور کروں گا امی جان۔ " "ہم جواب ضرور دیں گے۔ " "اگر یہ لڑکی۔۔۔ فرض کیجئے یہ لڑکی ڈاکٹر ہاشمی کی بیٹی ہوتی تو؟" "تو ہم بخوشی اسے اپنی بہو بنا لیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ڈاکٹر ہاشمی کی بیٹی نہیں ہے۔ اس لئے ہم اسے تمہاری بیوی نہیں بنا سکتے۔ "وہ وقار سے بولیں۔ "اگر شرط یہی ہے تو سمجھ لیجئے بیگم صاحبہ۔ یہ لڑکی آج سے میری بیٹی ہے۔ "ڈاکٹر ہاشمی نے آگے بڑھ کر زاہدہ کے سرپر ہاتھ رکھ دیا۔ "ڈاکٹر ہاشمی۔ " امارت تلملا اٹھی۔ " آپ زبان دے چکی ہیں بیگم صاحبہ"۔ وہ ادب اور آہستگی سے بولی۔ "مگر یہ آپ کی سگی بیٹی نہیں ہے۔ " " آپ نے یہ شرط نہیں لگائی تھی امی جان۔ "وہ ان کے بالکل قریب چلا آیا۔ اور وہ اپنی بوڑھی، تجربہ کار مگر ممتا بھری نظروں سے اسے گھورتی رہ گئیں۔ "مان جائیے ناں امی جان۔ تمام زندگی مجھے حکم دیتی آئی ہیں۔ میری ضدیں پوری کرتی آئی ہیں۔ آج یہ ضد بھی مان لیجئے۔ " وہ پھر بھی اسے گھورتی رہیں۔ تاہم طوفان اترنے لگا تھا۔ "امی جان۔ "اس نے ان کے شانے تھام لئے۔ "بولئے ناں۔ "اس نے ان کی آنکھوں میں جھانکا۔ ممتا لرز گئی اور بال آخر بے بس ہو گئی۔ کتنی ہی دیر گزر گئی۔ پھر انہوں نے سرجھکا لیا۔ آہستہ سے بیٹے کو ایک طرف ہٹا دیا۔ دو قدم چلیں اور زاہدہ کو گھورنے لگیں۔ "ہمارے۔۔۔ قریب آؤ۔ "وہ رک رک کر کتنی ہی دیر بعد بولیں۔ وہ پلکوں پر ستارے لئے، دھیرے دھیرے، ان کے قریب چلی آئی۔ وہ چند لمحوں تک اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے جانے کیا دیکھتی رہیں۔ جانچتی رہیں۔ تب اس کی پلکوں سے ستارے ٹوٹے اور بیگم صاحبہ کے قدموں پر نچھاور ہو گئی۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ ان کے قدم چوم لیتی، انہوں نے اس کی پیشانی پر مہر محبت ثبت کر دی۔ فیصلہ ہو گیا۔ "ہم ہار گئے طاہر۔ "وہ زاہدہ کو سینے سے الگ کر کے آہستہ سے پلٹیں۔ "لیکن صرف اپنے اصولوں ، اپنی زبان کی خاطر۔ " "امی جان۔ "وہ بھاگ کر ان سے لپٹ گیا۔ "پگلی۔ ابھی تو بڑا فلسفی بنا ہوا تھا۔ "وہ اس کے سر پر بوسہ دیتی ہوئی مسکرائیں۔ "امی جان۔ " وہ جھینپ کر بولا۔ زاہدہ نے شرما کر سرجھکا لیا۔ ڈاکٹر ہاشمی مسکرا رہے تھے۔ "ڈاکٹر ہاشمی۔ " کچھ دیر بعد وہ ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔ "جی بیگم صاحبہ۔ "وہ ادب سے بولی۔ "ہماری بہو کو گھر لے جائیے۔ ہم اگلے ماہ کی تین تاریخ کو یہ ستارہ، اپنے چاند کے پہلو میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ " وہ پیار سے ان دونوں کو گھور کر بولیں۔ "جو حکم بیگم صاحبہ۔ "وہ بھی مسکرا دیئے۔ شرما کر زاہدہ نے دونوں ہاتھوں میں منہ چھپاتے ہوئے رخ پھیر لیا۔ طاہر اس کے لرزتے ہوئے وجود کو دیکھ کر نشے میں جھومتا ہوا آگے بڑھا۔ "مبارک ہو۔ " زاہدہ کے قریب سے گزرتے ہوئے اس نے آہستہ سے کہا۔ "ہماری طرف سے بھی۔ "بیگم صاحبہ کی آواز نے اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ وہ شرم سے گڑی جا رہی تھی۔ "ہمیں اب اجازت دیجئے بیگم صاحبہ۔ آپ نے وقت بہت کم دیا ہے۔ " ڈاکٹر ہاشمی نے کہا۔ "کاش ! آپ جانتے ڈاکٹر ہاشمی کہ انتظار کس قدر تلخ شے کا نام ہے۔ "وہ ہولے سے قہقہہ لگا کر بولیں۔ ڈاکٹر ہاشمی جھینپ کر رہ گئی۔ "اچھا۔ تو جائیے۔ " وہ ہنستے ہوئے بولیں۔ "لے جائیے ہماری امانت کو اپنے گھر چند دنوں کے لئے۔ "وہ شرمائی لجائی سی آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ڈاکٹر ہاشمی کے ہمراہ خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ بیگم صاحبہ کے چہرے پر ایک سکون تھا۔ تمکنت تھی۔ وقار تھا مگر دل میں ایک پھانس سی تھی۔ انہیں نجانے کیوں لگ رہا تھا کہ یہ ایک خواب ہے جو طاہر نے دیکھا ہے، اور جب اس کی آنکھ کھلے گی تو تعبیر اچھی نہیں ہو گی۔ پھر انہوں نے سر جھٹک کر اپنے واہموں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم دل کی بے سکونی ان کی پیشانی پر تفکر کی لکیر بن کر چھلک آئی تھی۔ شاید بڑھاپا خود کو فریب دینا چاہ رہا تھا مگر تجربے کی تیسری آنکھ وا ہو چکی تھی جو آنے والے وقت کے اندیشے کی پرچھائیاں محسوس کر کے پتھرائے جا رہی تھی۔ "لو بیٹی۔ یہ ہے تمہارا نیا مگر مختصر سے وقت کے لئے چھوٹا سا گھر۔ "ڈاکٹر ہاشمی نے اسے ساری کوٹھی کی سیر کرانے کے بعدواپس ڈرائنگ روم میں آ کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ وہ خاموشی سے ان کے سامنے بیٹھ گئی۔ زندگی کی خوشیاں ، ہر نعمت، ہرمسرت پا کر بھی، اس پر نجانے کیوں ایک بے نام سی اداسی، نامحسوس سی یاسیت طاری تھی، جسے وہ چھپانے کی حتی الامکان کوشش کر رہی تھی۔ "دینو۔ او دینو۔ " ڈاکٹر ہاشمی نے اپنے ملازم کو آواز دی۔ "جی مالک۔ "نوکر کمرے میں داخل ہوا۔ "دیکھو۔ دو کپ چائے لے آؤ مگر ذرا جلدی۔ مجھے ہاسپٹل پہنچنا ہے۔ "وہ چٹکی بجا کر بولی۔ دینو سر ہلاتا ہوا باہر نکل گیا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے مختصراًدینو کو اتنا ہی بتایا تھا کہ زاہدہ ان کی منہ بولی بیٹی ہے اور اگلے ماہ اس کی شادی طاہر میاں سے ہو رہی ہے۔ دینو ان کا اکلوتا اور وفادار ملازم تھا۔ ڈاکٹر دلاور ہاشمی نے بیوی کے مرنے کے بعد دوسری شادی نہیں کی تھی۔ ایک ہی بیٹا تھا۔ سرمد۔ جسے وہ جی بھر کر پڑھانا چاہتے تھی۔ آج کل وہ لندن یونیورسٹی میں ایم بی اے کر رہا تھا۔ دونوں باپ بیٹا، دو ہی افراد اس خوبصورت آشیانے کے باسی تھے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد، غم اور خوشی کے شریک۔ راز دار، دوست، سبھی کچھ تو تھے وہ۔ ثروت خانم کے دلہن بن کر آنے سے بھی پہلے سے وہ سر سلطان وجاہت کے فیملی ڈاکٹر تھے۔ معالج اور مریض کا یہ رشتہ وقت نے رفتہ رفتہ دوستی میں بدل دیا اور سر وجاہت سلطان کی وفات کے بعد بیگم صاحبہ اور طاہر سے ان کا یہ تعلق سرپرستانہ ہو گیا۔ انہیں سلطان ولا میں گھر کے ایک اہم فرد ہی کی سی عزت دی جاتی تھی۔ اس تعلق کی بنیادوں میں یہ بات اولیں اہمیت کی حامل تھی کہ انہوں نے طاہر کو واقعی کسی چچا کی طرح گود میں کھلایا تھا۔ چائے ختم ہو گئی تو وہ اٹھ گئے۔ "اچھا بیٹی۔ میں ذرا ہاسپٹل ہو آؤں۔ شام تک لوٹ آؤں گا۔ تم گھبرانا نہیں۔ دینو سے بے تکلف ہو کر جس شے کی ضرورت ہو کہہ دینا۔ شام کو شاپنگ کے لئے چلیں گے۔ " وہ خاموش رہی۔ ڈاکٹر ہاشمی ہنستے ہوئے اٹھے اور پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر دروازے کی جانب بڑ ھ گئے۔ وہ کتنی ہی دیر جانی پہچانی سوچوں میں گم صوفے پر بیٹھی رہی۔ آنسو اس کی پلکوں سے شبنم کے موتیوں کی طرح ڈھلک ڈھلک کر رخساروں پر پھسلتے رہے۔ ذہن الجھا رہا۔ دل مچلتا رہا اور لب کپکپا کر ایک ہی نام، ایک ہی خیال کو دہراتے رہے۔ "اختر۔ کاش اختر۔ وہ سب کچھ نہ ہوتا۔ جس نے مجھے اس مقام تک پہنچا دیا۔ مجھے سب کچھ ملا اختر مگر تم نہ ملے۔ کیوں اختر؟ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تمام زندگی کے لئے مجھے یادوں کی چتا میں جلنے کو کیوں چھوڑ دیا؟ بولو ناں اختر۔ تم سنتے کیوں نہیں ؟کہاں ہو تم اختر۔ کہاں ہو تم؟" وہ کتنی ہی دیر روتی رہی۔ اشک بہتے رہی۔ دل سلگتا رہا۔ یادیں آتی رہیں۔ جانے کب تک۔ پھر وہیں صوفے پر بیٹھے بیٹھے وہ نیندکی بانہوں میں سمٹ گئی۔ کسی معصوم بچی کی طرح۔ ٭ شادی میں صرف دو دن باقی تھے۔ دونوں جانب تیاریاں مکمل ہو گئیں۔ ڈاکٹر ہاشمی نے اپنی چیک بک کو جی کھول کر استعمال کیا تھا۔ اب ان کی سونی سونی کوٹھی واقعی کسی ایسی لڑکی کا گھر معلوم ہونے لگی تھی، جس کی رخصتی عنقریب ہونے والی ہو۔ وہ بے حد خوش تھی۔ بھری دنیا میں ایک بیٹے اور اب اس منہ بولی، چند روزہ مہمان بیٹی کے سوا ان کا تھا بھی کون؟وہ اسے باپ بن کر ہی بیاہنا چاہتے تھے! بیگم صاحبہ بھی وقتاً فوقتا ان کے ہاں چلی آتیں۔ انہیں اپنے ہاں بلا بھیجتیں۔ صلاح مشورے ہوتے۔ پھر آنے والے سہانے دنوں کے خواب حقیقت بن بن کر ان کی ترستی ہوئی پیاسی آنکھوں میں ابھرنے لگتے۔ رہ گیا طاہر۔ تواس کا ایک ہی کام تھا۔ دن بھر ٹیلی فون کر کر کے اسے تنگ کرنا۔ آنے والے خوبصورت دنوں کی باتیں کرنا۔ ٹھنڈی آہیں بھر کر وقت کے جلدی نہ گزرنے کی شکایتیں کرنا۔ بے قرار دل کا حالِ زار سنانا اور محبت جتانا۔ اس کا بس نہیں چلتا تھا۔ اگر ڈاکٹر ہاشمی اور بیگم صاحبہ کا نادر شاہی حکم نہ ہوتا تو وہ شاید ہر پل زاہدہ کی قربت میں گزار دیتا مگر مجبور تھا۔ ہاں ، تھوڑا سا بے شرم ہو کر وہ زاہدہ کے لئے ہر روز کوئی نہ کوئی چیز ضرور خرید لاتا۔ کبھی ساڑھی۔ کبھی نیکلس۔ کبھی کچھ۔ کبھی کچھ۔ بیگم صاحبہ سب کچھ دیکھ کر، سب کچھ جان کر بھی، ہولے سے مسکرا کر خاموش ہو رہتیں۔ اور بس۔ عجیب بات تھی کہ انہیں اب بھی اس بات پر یقین نہ آتا تھا کہ ان کے بیٹے کی شادی ہو رہی ہے۔ اب بھی ان کا وہم انہیں اندر سے ڈرائے رکھتا تھا۔ طاہر دفتر میں سارا سارا دن بچوں کی طرح ہر ایک کو چھیڑتا رہتا۔ ہر ایک کو تنگ کرتا رہتا۔ سب اس کی خوبصورت شرارتوں کو مالک کے پیار سے زیادہ ایک سچی، مخلص اور پیارے دوست کا حق سمجھ کر برداشت بھی کرتے اور موقع ملنے پر بدلہ بھی چکا دیتے۔ "امبر۔۔۔ تم بھی جلدی سے شادی کر لو۔ ایمان سے آدمی مرنے سے پہلے ہی جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ "طاہر کہتا اور وہ بیر بہوٹی بن کر رہ جاتی۔ اب تو چند دنوں کی بات تھی۔ پھر۔۔۔ اور اس" پھر "سے آگے، وہ بڑے حسین تصورات میں گم ہو جاتا۔ کھو کر رہ جاتا۔ "زاہدہ۔ "ایک نام اس کے لبوں پر آتا اور وہ مدہوش سا ہو جاتا۔ دوسری طرف زاہدہ کسی اور ہی دنیا میں تھی۔ سب کچھ، اس کی آنکھوں ، جاگتی آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ وہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ محسوس کر رہی تھی لیکن اسے یہ سب خواب معلوم ہو رہا تھا۔ ایک ایسا خواب جس میں بے چینی تھی، بے سکونی تھی، بے اطمینانی تھی۔ وہ راتوں کو بے قراری سے کروٹیں بدلتی رہتی۔ اضطراب اس پر حاوی رہتا۔ ذہن منتشر منتشر سا۔ دل مسلا مسلا سا۔ سوچیں ادھوری ادھوری سی۔ خیالات بکھرے بکھرے سے۔ وہ خود کو نامکمل سی محسوس کرتی۔ قطعی نامکمل، تشنہ اور ادھورا۔ یہ ادھورا پن، یہ تشنگی، یہ اضطراب، صرف اور صرف ماضی کی ان بے قرار یادوں کے باعث تھا جو اسے ایک پل کو چین نہ لینے دیتی تھیں۔ اس کے ہر تصور پر اختر، ہر پل، ہر لمحہ، چھایا رہتا۔ اس نے جتنا ماضی سے دامن چھڑانا چاہا، مستقبل اتنا ہی اس سے دور ہوتا چلا گیا۔ وہ یادوں کے گھور اندھیروں میں ڈوبی، اشکوں کے چراغ جلاتی رہتی مگر کوئی راستہ، کوئی منزل، کوئی راہگزر نگاہوں کے ہالے میں تیرتی نظر نہ آتی۔ محبت کھیل نہیں کہ بغیر چوٹ دیے ختم ہو جائے۔۔۔ یہ احساس اسے شدت سے ہو رہا تھا۔ پوری تندی و تیزی سے یہ طوفان اسے اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا اور وہ بے بسی سے اپنی نم آنکھوں میں چبھتے نوکیلے کانٹوں کی چبھن اپنی روح پر محسوس کرتے ہوئے آنسو آنسو ہو کر چیخ پڑتی۔ چلا اٹھتی۔ "اختر کہاں ہو تم۔ ظالم! یہ کس جہنم میں دھکیل دیا ہے تم نے مجھے۔ ایک بار۔ صرف ایک بار سامنے تو آؤ۔ مجھے یقین تو ہو جائے کہ تم وہ نہیں ہو، جو صرف ایک رات کے لئے، ایک مختصر سے وقفے کے لئے نظر آئے تھے۔ اور اگر وہی ہو، جسے میں نے صدیوں اپنے دل کے نہاں خانے میں چھپائے رکھا تو میں وہی بن جاؤں ، جو تمہارے لئے دیوی تھی۔ تمہاری داسی تھی۔ تمہاری تھی اختر۔ صرف تمہاری!"۔۔۔ مگر اس کے دل کی یہ پکار، جذبات کی صدا کوئی بھی تو نہ سن سکتا تھا۔ کوئی بھی تو نہیں۔ اختر بھی نہیں ! جوں جوں وہ یادگار دن قریب آ رہا تھا جس کی خاطر طاہر نے اسے فرش سے عرش پر لا بٹھایا تھا۔ جس کے انتظار میں اس نے ہر پل سپنے دیکھے تھے۔ خواب سجائے تھے، توں توں وہ اداسی، یاسیت اور خاموشی کی گمبھیر وادیوں میں اترتی چلی جا رہی تھی۔ اس لئے کہ خوابوں کا شہزادہ وہ نہیں تھا جسے اس نے دھڑکن کی طرح دل میں چھپا رکھا تھا۔ تعبیر وہ نہیں تھی جو اس نے اپنے تصورات کے سہارے سوچ رکھی تھی۔ پھر اسے اپنی اس جذباتی غلطی، حالات سے گھبرا کر مایوسی کی باہوں میں پناہ لے لینے کے خوفناک گناہ پر پچھتاوا ہونے لگتا۔ کتنا بھیانک تھا اس ایک لمحے کی لرزش کا انجام، جو اس نے طاہر کی محبت کے سامنے سر جھکا کر کی تھی۔ وہ آج بھی اپنے خیالات میں اختر کو بسائے ہوئے تھی۔ اختر کو بھلا دینا اس کے بس میں نہیں تھا۔ اس کی زندگی، جیسے بہارو ں بھرے گلشن میں تمام عمر کے لئے آگ میں جلنے جا رہی تھی۔ اور اسے یہ سب کچھ بہرحال سہنا تھا۔ رو کر یا ہنس کر۔ ٭ " زاہدہ بیٹی۔ تم چھ بجے کے قریب ہاسپٹل چلی آنا۔ میں کار بھیج دوں گا۔ " "جی مگر ۔۔۔ "وہ شاید وجہ پوچھنا چاہتی تھی۔ "بیٹی۔ بیگم صاحبہ کا فون آیا تھا۔ وہ بھی آرہی ہیں شام کو۔ وہ تمہیں اپنے ساتھ شاپنگ پر لے جانا چاہتی ہیں۔ تمہاری پسند کی کچھ چیزیں خریدیں گی۔ " ڈاکٹر ہاشمی کا لہجہ معنی خیز ہو گیا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پھیکے سے انداز میں مسکرادی۔ "جی بہتر۔ " "اللہ حافظ۔ "انہوں نے رابطہ ختم کر دیا۔ وہ کتنی ہی دیر تک بے جان، ٹوں ٹوں کرتے ریسور کو تھامے کھڑی جانے کیا سوچتی رہی۔ کلاک نے پانچ بجائے تو وہ چونک پڑی۔ آہستہ سے، ایک طویل، تھکی تھکی سانس لے کر پلٹی۔ اس کی بے چین نظریں بے اختیار اپنی کلائی پر بندھی خوبصورت سی رسٹ واچ پر جم گئیں جو اسے ڈاکٹر ہاشمی نے خرید کر دی تھی۔ پھر وہ نچلے ہونٹ کو دانتوں میں داب کر آنکھوں میں تیرجانے والے آبدار موتیوں کو روکنے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی صوفے پر اوندھی گر پڑی۔ سسکیاں کمرے کی خاموش اور اداس فضا کے بے جان بُت پر آہوں ، دبی دبی ہچکیوں اور بے قرار جذبات کے پھول نچھاور کرنے لگیں۔ وہ کتنی ہی دیر تک بلکتی رہی۔ پھر " ٹن" کی مخصوص آواز کے ساتھ کلاک نے وقت کے بوڑھے، متحرک، رعشہ زدہ سر پر پہلا ہتھوڑا کھینچ مارا تواسے یوں محسوس ہواجیسے یہ ضرب، یہ چوٹ اس کے دل پر لگی ہو۔ چھ بج چکے تھے۔ وہ اٹھی اور باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔ منہ ہاتھ دھو کر باہر آئی اور صوفے پر بیٹھ کر پھر کسی سوچ میں گم ہو گئی۔ اس کی خوبصورت، مدھ بھری آنکھیں سوجی سوجی نظر آ رہی تھیں۔ "سلام بی بی جی۔ " کچھ دیر بعد ایک آواز سن کر وہ چونکی۔ ڈرائیور دروازے میں کھڑ تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی باہر نکل آئی۔ ڈرائیور بھی اس کے پیچھے ہی باہر چلا آیا۔ ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ ڈاکٹر ہاشمی کے چھوٹے سے ہاسپٹل کے کار پارک میں اتری۔ ڈرائیور کار کو آگے بڑھا لے گیا اور وہ سر جھکائے اندر کو چل دی۔ " تم آ گئیں بیٹی۔ آؤ۔ بیٹھو۔ " ڈاکٹر ہاشمی نے اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر کہا اور ہاتھ میں موجود ایکسرے کو روشنی کے ہالے میں لا کر غور سے دیکھنے لگی۔ قریب کھڑی نرس ان کی جانب منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ "اس میں تو کوئی گڑ بڑ نہیں ہے؟" وہ ایکسرے کو میز پر رکھتے ہوئے پرسوچ انداز میں بولی۔ "تم اس مریض کے کمرے میں چلو۔ میں آ رہا ہوں۔ " "یس سر۔ "نرس تیزی سے باہر نکل گئی۔ زاہدہ سر جھکائے ناخن سے میز کی سطح کرید رہی تھی۔ "کیا بات ہے بیٹی۔ تم کچھ اداس ہو؟" انہوں نے پوچھا۔ "جی۔۔۔ جی نہیں تو۔ "وہ پھیکے سے انداز میں بادل نخواستہ مسکرا دی۔ "ہوں۔ بیگم صاحبہ کے آنے میں توابھی کچھ دیر ہے۔ آؤ۔ تمہیں دکھائیں کہ ہم مریض کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ "وہ رسٹ واچ سے نگاہ ہٹا کر اٹھتے ہوئے مسکرائی۔ زاہدہ بے اختیار کھڑی ہو گئی۔ تنہائی میں اگر وہ پھر بے قابو ہو جاتی اور بیگم صاحبہ آ جاتیں تو؟یہی سوچ کر اس نے انکار مناسب نہ سمجھا اور ان کے پیچھے چلتی ہوئی کاریڈور میں نکل آئی۔ بایاں موڑ مڑتے ہی پہلا کمرہ ان کی منزل تھا۔ وہ ان کے پیچھے کمرے میں داخل ہوئی۔ ٹھیک اسی وقت مریض کے بستر کے قریب کھڑی نرس ڈاکٹر ہاشمی کی جانب پلٹی۔ "سر۔ اسے ہوش آ رہا ہے۔ "پرے ہٹتے ہوئے اس نے ان راستہ دیا۔ ڈاکٹر ہاشمی تیزی سے بستر کے قریب چلے گئے اور جھک کر اس کا معائنہ کرنے لگے۔ زاہدہ بے مقصد ہی ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ "اس کی والدہ کہاں گئیں ؟" "جی۔ وہ اپنے ہسبینڈ کو فون کرنے گئی ہیں۔" "ہوں۔ "وہ سیدھے کھڑے ہو گئے۔ تب۔۔۔ پے درپے کئی دھماکے ہوئے۔ روشنی اور اندھیرے کے ملے جلے جھماکے، جو اس کی آنکھوں کو چکا چوند کر گئی۔ ہر شے جیسے اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ زمین لرزی۔ آسمان کانپا اور وہ لڑکھڑا گئی۔ اس کی حیرت زدہ، پھٹی پھٹی آنکھیں ، بستر پر پڑے اختر پر جمی تھیں۔ اس کے ہونٹوں سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ ڈاکٹر ہاشمی اس کی دگرگوں ہوتی حالت کو دیکھ کر بری طرح گھبرا گئے۔ "بیٹی۔ کیا بات ہے؟"وہ تیزی سے گرتی ہوئی زاہدہ کی جانب لپکے اور اسے باہوں میں سنبھال لیا۔ پھر ان کی بے چین آنکھوں نے زاہدہ کی حلقوں سے ابلتی، برستی آنکھوں کا محور پا لیا۔ وہ سن سے ہو گئی۔ "زا۔۔۔ ہدہ۔۔۔ "ہڈیوں کے اس پنجر کے سوکھے ہوئے خشک لب ہلے۔ "اختر۔ "جیسے کسی زخمی روح نے تڑپ کر سرگوشی کی۔ "زاہدہ۔۔۔ کہاں۔۔۔ ہو۔۔۔ تم ؟"ایک درد بھری صدا نے اس کا صبر و قرار چھین لیا۔ "اخ۔۔۔ " آواز اس کے گلے میں گھٹ کر رہ گئی۔ "بیٹی۔ "ڈاکٹر ہاشمی جیسے ہوش میں آ گئے۔ ان کی تحیر زدہ نظروں میں اب دردسا امنڈ آیا تھا۔ زاہدہ بت بنی کھڑی، روتی ہوئی آنکھوں سے سرسوں کے اس پھول کو دیکھے جا رہی تھی، جو شاید مرجھانے جا رہا تھا۔ اس کے چہرے کے نقوش درد، اضطراب، کسک اور تڑپ کے رنگوں میں نئے نئے روپ دھار رہے تھے۔ نرس حیرت بھری نظروں سے یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ تب۔۔۔ آہستہ سے دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔ کوئی سامنے چلا آیا۔ "زاہدہ۔ " حیرت اور یاس میں ڈوبی ایک آواز گونجی۔ چند لمحے حیرت، بے چینی اور آنکھوں کی دھندلاہٹ کی نظر ہو گئی۔ پھر کوئی تیزی سے آگے بڑھا اور اس سے ایک قدم کے فاصلے پر رک گیا۔ "تم۔۔۔ تم کہاں تھیں بیٹی؟" وہ چونک سے پڑی۔ حواس میں آ گئی۔ سنبھل گئی۔ " آپ؟" اس کے لبوں سے مری مری آواز نکلی اور "بیٹی" کے لفظ نے اسے پھر حیرت سے گنگ کر دیا۔ "ہاں بیٹی۔ " چچی آنکھوں سے امنڈنے والے آنسوؤں کو رخساروں پر بہنے سے نہ روک سکیں۔ "میں۔ تمہاری مجرم۔ تمہاری گناہ گار۔ " وہ اس کانپتی ہوئی آواز سے ڈر سی گئی۔ لڑکھڑا گئی۔ تب کسی نے اسے سہار لیا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے رخ پھیر لیا۔ "میرا بیٹا۔۔۔ مر رہا ہے بیٹی!"ایک کراہ ابھری۔ وہ انہیں گھورتی رہی۔ اپنی بے رحم چچی کو۔ "اختر تمہارے لئے مر رہا ہے بیٹی۔ " وہ بمشکل بولیں۔ وہ خاموش کھڑی رہی۔ "میں ہاتھ جوڑتی ہوں بیٹی۔ "انہوں نے بوڑھے مگر سنگلاخ ہاتھ جوڑ دئیے۔ وہ پتھرائی ہوئی بے نور سی آنکھوں سے انہیں دیکھتی رہی۔ " زاہدہ۔ "ایک ماں کی کانپتی ہوئی آواز نے اسے چونکا دیا۔ مرجھاتے ہوئے گلاب کو خزاں کے جھونکے نے ہلکورا دیا۔ "تمہارا اختر مر۔۔۔ "ہچکیاں نامکمل رہ گئیں۔ "زاہدہ۔۔۔ کہاں ہو تم ؟"اختر کے ہونٹ کپکپائے۔ "اختر۔ "وہ مزید نہ سہہ سکی۔ بھاگی۔ لڑکھڑائی اور جا کر اس کے سینے سے لپٹ گئی۔ "زاہدہ۔ " آواز میں زندگی عود کر آئی۔ "اختر۔ "وہ بیقراری سے بولی۔ "تم۔۔۔ " آواز میں درد کم ہوا۔ "میں یہاں ہوں اختر۔ تمہارے پاس۔ " وہ سسک اٹھی۔ "زاہدہ۔ "ایک، ہچکی ابھری اور۔۔۔ گردن ڈھلک گئی۔ "اختر۔۔۔ "ایک چیخ لہرائی۔ "یہ بے ہوش ہو چکا ہے بیٹی۔ "ایک اداس سی آواز نے اسے زندگی کی نوید دی۔ "اس کا کمزور دماغ اس ناممکن حقیقت کو سہہ نہیں سکا۔ "ڈاکٹر ہاشمی کی افسردہ سی آواز ابھری۔ "اسی۔۔۔ " "زندگی دینے والا خدا ہے بیٹی۔ "انہوں نے زاہدہ کی بات کاٹ کر اسے بستر سے اٹھایا اور کمرے سے باہر جانے کا اشارہ کیا۔ پھر سفید لباس میں ملبوس نرسوں کے ہمراہ ڈاکٹر ہاشمی نے اختر کے بستر کو گھیرے میں لے لیا۔ "تم نے مجھے معاف کر دیا بیٹی۔ " خود غرضی نے نیا روپ دھار لیا تھا۔ "چچی جان۔ " وہ ان سے لپٹ گئی۔ پچیس منٹ پچیس صدیاں بن کر گزری۔ پھر ڈاکٹر ہاشمی باہر چلے آئی۔ وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھی۔ نرسوں کا ٹولہ بھی کمرے سے نکل گیا۔ اب چچا بھی ان دونوں کے ساتھ تھے۔ نادم نادم سی۔ کھوئے کھوئے سے۔ ڈاکٹر ہاشمی نے بڑی یاس بھری نظروں سے اسے دیکھا اور دھیرے سے اثبات میں سر ہلا کر آگے بڑھ گئے۔ وہ بھاگتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ چچی بھی اس کے پیچھے لپکی۔ "نہیں۔ "چچا نے چچی کو روک لیا اور وہ نجانے کیوں مسکرا دیں۔ مطمئن سی ہو کر۔ "اختر۔۔۔ "اندر وہ اس کے سینے پر سر رکھے روئے جا رہی تھی۔ "زاہدہ۔ "وہ اسے اپنے سینے میں سمونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کی آنکھیں بھی جی بھر کر ارمان نکال رہی تھیں۔ وہ۔۔۔ نظریں جھکائے ڈاکٹر ہاشمی کے آفس میں داخل ہوئی۔ چچا اور چچی کے علاوہ وہاں ایک اور ایسی ہستی موجود تھی، جس کا سامنا کرنے کی اس میں ہمت نہ تھی۔ وہ رک گئی۔ چلنے کی سکت ختم ہو گئی۔ اس نے آہستہ سے نظریں اٹھائیں۔ خاموشی۔ سناٹا۔ سکوت۔ ہرچہرہ اداس۔ ہر آنکھ نم۔ ہروجود بے حس و حرکت۔ زاہدہ کی دھڑکن رکنے لگی۔ سانس گھٹنے لگی۔ یہ خاموشی، یہ سناٹا، یہ سکوت۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئی بہت بڑا طوفان گزر چکا ہو اور اپنے پیچھے اپنی تباہی و بربادی کے آثار چھوڑ گیا ہو۔ اس کی نظریں بیگم صاحبہ کی نظروں سے ٹکرائیں۔ کتنا درد تھا ان میں۔ ان بوڑھے چراغوں میں ، جہاں ممتا کی لاش ویرانی کا کفن اوڑھے پڑی تھی۔ وہ دبدبہ، وہ رعب، وہ کرختگی۔ کچھ بھی تو نہیں تھاوہاں۔ سب ختم ہو چکا تھا۔ سب راکھ ہو چکا تھا۔ اس نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں۔ اس کادل کسی انجانے بوجھ تلے دبتا چلا گیا۔ "زاہدہ۔ "ایک سرگوشی ابھری۔ اس نے پلکیں اٹھائیں۔ پتھر کے لبوں پر بڑی زخمی سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ "ہمارے پاس آؤ۔ "جیسے کسی نے التجا کی ہو۔ وہ ان کی نم آنکھوں میں دیکھتی ہوئی آگے بڑھی۔ مسکراہٹ میں خون کی سرخی گہری ہو گئی۔ زخم کا منہ کچھ اور کھل گیا۔ "بیگم صاحبہ۔ "وہ بلکتی ہوئی ان کے قدموں سے لپٹ گئی۔ انہوں نے پاؤں کھینچے نہیں۔ اسے روکا نہیں۔ اس کی زلفوں میں بوڑھے ہاتھ سے کنگھی کرتی رہیں۔ وہ کتنی ہی دیر ان مشفق قدموں سے لپٹی دل کی بھڑاس نکالتی رہی۔ پھر انہوں نے آہستہ سے اسے شانوں سے تھام کر اٹھایا اور اپنے سامنے کھڑا کر لیا۔ "منزل مبارک ہو بیٹی۔ "ان کے لب کپکپائے اور آنکھیں چھلک گئیں۔ انہوں نے اسے لپٹا لیا۔ بھینچ لیا۔ کتنے ہی گرم گرم موتی ان کے رخساروں سے ٹوٹ کر زاہدہ کی سیاہ گھٹاؤں میں جذب ہو گئی۔ پھر جب انہوں نے اسے سینے سے الگ کیا تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس سے کوئی بہت قیمتی شے کھو گئی ہو۔ "ابو۔ "وہ پلٹ کر ڈاکٹر ہاشمی سے لپٹ گئی۔ "پگلی۔ " وہ اس کا شانہ تھپکتے ہوئے خود بھی بے قابو سے ہو گئے۔ "میں نے کہا تھا ناں۔ تو میری چند روز کی مہمان بیٹی ہے۔ "ایک باپ دکھی ہو رہا تھا۔ "ابو۔ "وہ مزید کچھ بھی نہ کہہ سکی۔ پھر اس سسکتی کلی کو، اس کے اپنی، ماضی کے دشمنوں اور حال کے دوستوں نے باہوں میں سمیٹ لیا۔ دامن میں بھر لیا۔ "ڈاکٹر ہاشمی۔ " "جی بیگم صاحبہ۔ "وہ سر جھکائے آگے بڑھ آئی۔ "اختر کس حال میں ہے؟" "یہ اسے گھر لے جا سکتے ہیں بیگم صاحبہ۔ مسیحا ان کے ساتھ ہے۔ "وہ ان کی بات کے جواب میں آہستہ سے بولی۔ بیگم صاحبہ نے اختر کے والدین کی جانب بڑی یاس بھری نظروں سے دیکھا۔ وہ سمجھ گئی۔ بڑے اداس تھے وہ بھی۔ شاید بیٹے کی حالت نے ان کا سارا زہر نکال دیا تھا۔ "ہم کس طرح آپ کا شکریہ۔۔۔ " "کوئی ضرورت نہیں۔ ہم بھی ایک بیٹے کی ماں ہیں۔ "بیگم صاحبہ نے بڑی دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ "بس ایک کرم کیجئے ہم پر۔ " "جی۔ آپ حکم کیجئے۔ " چچا کی آواز میں ممنونیت کا دریا بہہ رہا تھا۔ "جتنی جلدی ہو سکے آپ یہاں سے رخصت ہو جائے۔ طاہر ادھر نکل آیا تو ہم اپنے آپ میں نہ رہ سکیں گے۔ " "جی۔ " چچا اور چچی کے چہروں پر دھواں سا پھیلا جبکہ زاہدہ سرسوں کے پھول جیسی زرد ہو گئی۔ ان سب کے سر جھک گئے۔ احسان کے بوجھ سے۔ پھر وہ رخصت ہونے کے لئے دروازے کی جانب بڑھ گئی۔ "زاہدہ۔ "ایک آواز پر وہ رک گئی۔ پلٹی اور بیگم صاحبہ کی جانب دیکھنے لگی۔ آہستہ آہستہ اس کے قدم اٹھی۔ وہ ان کے قریب چلی آئی۔ "ہاتھ لاؤ۔ " اور بے ساختہ زاہدہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں چلا گیا۔ "اس پر تمہارا ہی حق تھا۔ " ایک ہیرا اس کی انگلی میں جڑ دیا گیا۔ اس کے ہونٹ لرزی۔ ہاتھ کی مٹھی بھنچ گئی اور پلکوں کے گوشے پھر نم ہو گئی۔ "نہیں۔ اب نہیں۔ کبھی نہیں۔ " ان کے ہونٹوں پر پھر ایک خون رستی مسکراہٹ تیر گئی۔ وہ بے قابو سی ہو کر پلٹ کر بھاگتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔ وقت تھم سا گیا! "ڈاکٹر ہاشمی۔ "ایک شعلہ لرزا۔ "جی بیگم صاحبہ۔ " لو تھرتھرائی۔ "یہ تھا وہ خوف جو ہمیں طاہر اور زاہدہ کے ملاپ سے روکتا تھا۔ ہم جانتے تھے پہلی محبت کبھی بھی زاہدہ کے دل سے نکل نہیں سکے گی۔ اختر کا خیال اسے کبھی بھی طاہر میں پوری طرح مدغم نہ ہونے دے گا۔ اور ڈاکٹر ہاشمی۔ یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں ہے ناں کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں۔ اس لباس میں کسی اور کا پیوند لباس کو لباس نہیں رہنے دیتا، چیتھڑا بنا دیتا ہے اور طاہر چیتھڑے پہن کر زندگی گزار سکتا ہے کیا؟" جواب میں ڈاکٹر ہاشمی صرف اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی۔ بیگم صاحبہ کا اندیشہ کتنی جلدی حقیقت بن کر سامنے آ گیا تھا، وہ اس سوچ میں ڈوب گئی۔
******** کار کا انجن آخری مرتبہ کھانسا اور بے دم ہو گیا۔ وہ ڈیش بورڈ پر پڑا گفٹ پیک سنبھالتا باہر نکل آیا۔ شام کا اندھیرا گہرا ہو چکا تھا۔ کوٹھی دلہن بنی ہوئی تھی۔ بڑی حسین اور امنگوں بھری مسکراہٹ لبوں پر لئے دھیمے سروں میں کوئی پیارا سا گیت گنگناتا وہ داخلی دروازے کی طرف بڑھا۔ دبے پاؤں اندر داخل ہوا۔ "امی آج بھی کوئی نئی خریدی ہوئی چیز آگے رکھے میرا انتظار کر رہی ہوں گی۔ " اس نے سوچا اور بڑے دلکش خیالات میں گم اوپر جانے والی سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔ "امی۔ آپ۔۔۔ ؟"وہ کھڑکی کے کھلے پٹ کا سہارا لئے کھڑی دور کہیں اندھیرے میں گھورتی بیگم صاحبہ کو دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ وہ خاموش، اسی انداز میں کھڑی رہیں۔ "اس سردی میں۔ اس وقت تک آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ؟" وہ ان کے قریب چلا آیا۔ بیگم صاحبہ بدستور چپ رہیں۔ " آپ بولتی کیوں نہیں امی؟"وہ گھبرا سا گیا۔ تب وہ آہستہ سے پلٹیں اور اس کے ذہن کو جھٹکا سا لگا۔ دل بڑے زور سے دھڑکا۔ سوجی سوجی آنکھیں ، جن میں کبھی بھوری چٹانوں کی سی سختی کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا تھا۔ زرد رنگت جو ہمیشہ وقار اور دبدبے کے بوجھ سے ابلتے ہوئے خون کی چغلی کھاتی تھی۔ کملایا ہوا چہرہ، جس پر پہاڑوں کے عزم اور آسمانوں کی سی عظمت کے سوا کبھی کچھ نہ ابھرا تھا۔ "امی۔ "کسی انجانے حادثے کی وہ منہ بولتی تصویراس کا صبر و قرار چھین لے گئی۔ "کیا بات ہے امی ؟"وہ تڑپ اٹھا۔ وہ بڑی درد بھری نظروں سے اس کے معصوم سے خوفزدہ چہرے کو گھورتی رہیں۔ "بولئے امی۔ آپ بولتی کیوں نہیں ؟" وہ بے پناہ بے قراری سے بولا۔ انہوں نے سر جھکا کر رخ پھیرتے ہوئے قدم آگے بڑھا دئیے۔ "امی۔ "وہ تیزی سے ان کے سامنے چلا آیا۔ " آپ کو میری قسم امی۔ " انہوں نے بڑے کرب سے پلکیں بھینچ لیں۔ پتھر سے چشمہ پھوٹ نکلا۔ وہ گنگ سا کھڑا ان کی طرف بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگا۔ "زاہدہ۔۔۔ "ایک سسکی ان کے کانپتے لبوں سے آزاد ہو گئی۔ "کیا ہوا اسی؟" وہ بے چینی سے بولا۔ "چلی گئی۔ "ڈاکٹر ہاشمی کی آواز، اس کی سماعت کے لئے تو بہ شکن دھماکہ ثابت ہوئی۔ وہ لڑکھڑا گیا۔ گفٹ پیک اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر چمکدار فرش پر آرہا۔ سنگ مر مر کا خوبصورت اور بے داغ تاج محل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ بکھر گیا۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے منہ پھیرے کھڑی بیگم صاحبہ اور سرجھکائے ڈاکٹر ہاشمی کو گھورتا رہ گیا۔ کتنی ہی دیر۔۔۔ ہاں کتنی ہی دیر اس اذیت ناک خاموشی کے قبرستان میں ارمانوں کے مزار پر کھڑے گزر گئی۔ بجھتے چراغوں کا دھواں نظروں کی دھندلاہٹ میں بدل گیا۔ "چلی گئی۔۔۔ ؟"ایک سپاٹ، جذبات سے عاری، دھیمی سی صدا ابھری۔ جھکے ہوئے سر اٹھے۔ "بیٹے۔ " بیگم صاحبہ کا دل جیسے پھٹ گیا۔ "اور آپ اسے روک بھی نہ سکیں۔ "اس کا لہجہ درد سے پُر تھا۔ بیگم صاحبہ نے تڑ پ کر پھر رخ پھیر لیا۔ "وہ کیوں چلی گئی امی؟" وہ بچوں کی طرح سوال کر بیٹھا۔ "ڈاکٹر ہاشمی۔ "بیگم صاحبہ نے سسک کر صوفے کا سہارا لے لیا۔ "اسے بتائیے ڈاکٹر ہاشمی، وہ کیوں چلی گئی۔ "ان کی آواز بھیگ گئی۔ "میں جواب آپ سے چاہتا ہوں امی۔ "وہ جیسے کرب سے چیخ اٹھا۔ تڑپ کر ان کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ "جواب دیجئے۔ وہ کیوں چلی گئی۔ کہاں چلی گئی۔ کس کے ساتھ چلی گئی؟" وہ ان کو جھنجھوڑتا ہوا چیخ اٹھا۔ "اختر موت کے دہانے پر کھڑا تھا۔ اسے جانا پڑا۔ " "اختر کا گھر اس کی منزل تھا۔ وہ وہیں لوٹ گئی۔ " "اختر اس کی محبت ہے۔ اسی کے ساتھ چلی گئی۔ " "نہیں نہیں نہیں۔ " وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر پوری قوت سے چیخ اٹھا۔ نہ جانے کس ضبط سے اس نے اپنے دل کا خون رخساروں پر چھلکنے سے روکا۔ اس کی آنکھیں کتنی ہی دیر بھنچی رہیں ، جیسے اسے زہر کے تلخ اور کسیلے گھونٹ حلق سے اتارنا پڑے ہوں۔ جیسے وہ زہر اس کے جسم کی ہر رگ کو کاٹ رہا ہو۔ اس کے ہاتھ مضبوطی سے کانوں پر جمے رہی۔ جیسے اب وہ کچھ سننے کی تاب نہ رکھتا ہو۔ جیسے اب اگر ایک لفظ بھی اس کے کانوں کے پردوں سے ٹکرایاتو وہ ہمیشہ کے لئے سماعت سے محروم ہو جائے گا۔ پھر وہ آہستہ سے پلٹا۔ بیگم صاحبہ دل کو دونوں ہاتھوں میں جکڑے صوفے پر بیٹھتی چلی گئیں۔ کھڑے ہونے کی سکت ہی کہاں رہ گئی تھی ان میں۔ ڈاکٹر ہاشمی نے چہرے پر ابھر آنے والے کرب کو رخ پھیر کر چھپاتے ہوئے صوفے کی پشت کا سہارا لے لیالیکن وہ ہر ایک سے بے نیاز، دھیرے دھیرے زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔ اس کے لرزتے ہوئے بے جان، بے سکت ہاتھ ٹوٹے ہوئے، بکھرے پڑے تاج محل کے ٹکڑوں سے ٹکرائی۔ "تو کیا تاج محل صرف چاندنی راتوں ہی میں محبت کی کہانیاں سنتا ہے۔ اندھیری راتوں میں یہ خود بھی بکھر ا رہتا ہے کیا؟"وہ مر مر کے بے جان ٹکڑوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑبڑایا۔ دھیرے دھیرے اس نے تمام ٹکڑوں کو دونوں ہاتھوں میں سمیٹ لیا۔ آہستہ سے اٹھا اور ہولے ہولے چلتا ہوا اوپر جانے والی سیڑھیوں کی جانب بڑھتا چلا گیا۔ "طاہر۔ "بیگم صاحبہ کی غمزدہ آواز نے اس کے قدم روک لئے لیکن وہ پلٹا نہیں۔ ایک لمحے کا وقت معنی خیز خاموشی میں بیت گیا۔ "گھبرائیے نہیں امی۔ ابھی دل دھڑک رہا ہے۔ لاشیں بے گوروکفن بھی تو پڑی رہتی ہیں۔ "وہ کہہ کر آگے بڑھ گیا۔ سائے گہرے ہوتے چلے گئے۔ شبِ پُر نم کی زلفیں کھلتی چلی گئیں۔ شبنم گرتی رہی۔ اور خزاں کا کہر ہر سو پھیلتا چلا گیا۔ پھیلتا چلا گیا۔ سمور کے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے دوسرے ہاتھ میں بڑا سا پیکٹ سنبھالے وہ گنگناتی ہوئی آفس میں داخل ہوئی۔ ہر سو ایک بے نام اور خلاف معمول خاموشی کا راج تھا۔ ہر شخص سرجھکائے اپنے کام میں مشغول تھا۔ اس کے خوبصورت ہونٹ ساکت ہو گئے۔ بڑی بڑی آنکھوں میں ہلکی ہلکی الجھن تیرنے لگی۔ ہر وقت قہقہوں میں ڈوبا رہنے والا آفس اداسی میں تہہ نشین تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چل پڑی۔ رجسٹر پر جھکی نجمہ اس کے قدموں کی آہٹ پر چونکی۔ "اوہ۔ امبر۔۔۔ "وہ اس کی جانب دیکھ کر آہستہ سے مسکرائی۔ سر کے اشارے سے سب سے سلام لیتے اور دیتے ہوئے وہ اس کی میز کے قریب پہنچ گئی۔ "کیا بات ہے بھئی۔ آج گلشن اداس ہے۔ "وہ اس کی میز پر بیٹھ گئی۔ " آج باس اداس ہیں۔ "نجمہ دھیرے سے بولی۔ "اداس۔۔۔ ؟" وہ چونک پڑی۔ "ہاں۔" * * *
|
|
|
|
| زارا کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (25-05-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,231
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
"مگر کیوں ؟" "کوئی نہیں جانتا۔ بس۔ صبح خاموشی سے آئی۔ کسی سے سلام لیا نہ کسی سے بات کی۔ سیدھے آفس میں چلے گئے۔ اب تک وہیں بند ہیں۔ " امبر کسی سوچ میں گم ہو گئی۔ نجمہ اپنا کام نبٹانے لگی۔ "اچھا۔ میں مل کر آتی ہوں۔ یہ کارڈ آ گئے ہیں۔ یہ دے آؤں۔ شاید کچھ وجہ بھی معلوم ہو جائے اس بے وقت اداسی کی۔ کل تو ان کی شادی ہے۔ " "ہاں۔ تم سے کچھ نہیں چھپائیں گے۔ ان کی چہیتی ہوناں۔ " نجمہ شرارت سے بولی۔ "تم جلا کرو۔ "وہ پیکٹ ہاتھ میں لئے مسکراتی ہوئی چل دی۔ سب کی نظریں پل بھر کو اٹھیں اور جھک گئیں۔ دروازہ آہستہ سے کھلا۔ وہ چونکا۔ اس کی سرخ سرخ آنکھیں دروازے سے اندر داخل ہوتی ہوئی امبر پر جم گئیں۔ "مارننگ سر۔ "اس نے مخصوص لہجے میں کہا اور ساتھ ہی اس کا نرم و نازک ہاتھ ماتھے پر پہنچ گیا۔ "مارننگ۔ " وہ جیسے بڑبڑایا۔ وہ پل بھر کو ٹھٹکی۔ پھر ہولے ہولے مسکراتی ہوئی اس کی میز کے قریب چلی آئی۔ "لیجئے سر۔ آپ کے میریج کارڈ۔۔۔ "وہ پیکٹ اس کے سامنے رکھتے ہوئے میز کے کونے سے ٹک گئی۔ اس کی حالت ایک دم بدل گئی۔ چہرے پر زردی اور سرخ آنکھوں میں بے چینی سی پھیل گئی مگر پھر فوراً ہی وہ سنبھل گیا۔ "کیا بات ہے سر۔ آپ رات ٹھیک سے سوئے نہیں کیا؟"وہ گہری نظروں سے اس کی بدلتی ہوئی حالت اور سرخ سرخ آنکھوں کو پرکھتے ہوئے دھیرے سے سیدھی ہو کر کھڑی ہو گئی۔ " آں۔۔۔ نہیں تو۔ ایسی تو کوئی بات نہیں۔ " وہ جیسے بڑے درد سے بادل نخواستہ مسکرایا۔ پھر کسی سوچ میں ڈوب گیا۔ اس نے کارڈز کا پیکٹ چھو کر بھی نہ دیکھا۔ "سر۔ "وہ ڈر سی گئی۔ اس کا معصوم دل دھڑک اٹھا۔ یہ بے چینی، یہ اضطراب، یہ کسی چیز کو پوشیدہ رکھنے کی سعی ہے۔ وہ بچی نہیں تھی۔ یہ کسی المیے ہی کی نشانی ہے۔ اس نے سوچا۔ " آں۔۔۔ " اس نے سر جھٹک کر اس کی طرف دیکھا۔ "سر۔ مجھے لسٹ دے دیجئے۔ میں نام ٹائپ کردوں۔ " وہ چاہتے ہوئے بھی اس کی پریشانی کی وجہ پوچھتے پوچھتے رہ گئی۔ جواب میں اس کے ہونٹوں پر، خشک ہونٹوں پر بڑی کرب انگیز مسکراہٹ تیر گئی۔ "سر۔ آپ کچھ پریشان ہیں ؟"وہ کہتے ہوئے نہ جانے کیوں اس سے نظریں چرا گئی۔ "ہاں۔ بہت پریشان ہوں امبر۔ "وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولا۔ "مجھے بتائیے سر۔ شاید میں آپ کے کچھ کام آ سکوں۔ "وہ بے تابی سے بولی۔ "تم۔۔۔ ؟" وہ خالی خالی نظروں سے اس کے چہرے کو تکنے لگا۔ "ہاں۔ تم میری پریشانی کا خاتمہ کر سکتی ہو۔ "اس کا لہجہ اب بھی ویران ویران سا تھا۔ "کہئے سر۔ "وہ کچھ اور بے چین ہو گئی۔ اس کی نظریں پیکٹ میں بندھے کارڈوں پر جم گئیں۔ "امبر۔ یہ کارڈ ہیں نا۔۔۔ " وہ ان پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آہستہ سے بولا۔ "یس سر۔ " وہ حیران سی ہو گئی۔ "ان کو۔۔۔ ان کو آگ لگا دو امبر۔ "وہ اسی خالی خالی سپاٹ آواز میں بولا۔ امبر پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔ "امبر۔ انہیں جلا کر راکھ کر دو۔ شعلوں میں پھینک دو۔ "وہ تڑپ کر کھڑا ہو گیا۔ "یہ۔۔۔ یہ مجھے راس نہیں آئے امبر۔ انہیں یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ کوئی حق نہیں امبر۔ " وہ پیکٹ پر جھپٹ پڑا۔۔۔ چند ہی لمحوں بعد فرش پر ہر سو کارڈز کے پرزے پھیل گئی۔ امبر حیرت بھری پھٹی پھٹی نگاہوں سے سب کچھ دیکھتی رہی۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی ہر صلاحیت دم توڑ گئی۔ "یہ کیا ہوا؟ کیوں ہوا؟" وہ سوچتی رہی۔ اور وہ فرش پر بکھرے ان بے جان پرزوں کوویران ویران، سرخ سرخ شب بیدار آنکھوں سے تکتا رہا۔ "بیٹھ جاؤ امبر۔ کھڑی کیوں ہو؟" وہ تھکے تھکے لہجے میں بولا۔ وہ کسی بے جان مشین کی طرح کرسی پر گرگئی۔ اس کی نظریں اب بھی طاہر کے ستے ہوئے چہرے پر جمی تھیں۔ "سر۔ "کتنی ہی دیر بعد دھیرے سے اس نے کہا۔ طاہر نے اس کی جانب دیکھا۔ "یہ سب کیسے ہوا سر؟ کیوں ہوا؟"اس کی آواز بے پناہ اداسی لئے ہوئے تھی۔ "پگلی۔ " وہ بڑے کرب سے ہنسا۔ "سر۔ وہ تو آپ کے ساتھ۔۔۔ " " دو دن بعد شادی کرنے والی تھی۔ "اس نے امبر کی بات کاٹ دی۔ "جی سر۔ اور پھر یہ انکار۔۔۔ " "وہ کسی اور سے محبت کرتی تھی امبر۔ "وہ مسکرایا۔ بڑے عجیب سے انداز میں۔ "سر۔۔۔ " "ہاں امبر۔ اس کا محبوب موت کی دہلیز پر کھڑا اسے پکار رہا تھا۔ وہ زندگی بن کر اس کے پاس واپس لوٹ گئی۔ " "اور آپ۔۔۔ ؟ "وہ بے ساختہ کہہ اٹھی۔ "ابھی تک زندہ ہوں۔ نہ جانے کیوں ؟" وہ پھر مسکرایا۔ اور نہ جانے کیوں امبر کا جی چاہا۔ وہ رو دے۔ لاکھ ضبط کے باوجود اس کی پلکوں کے گوشے نم ہو گئے۔ "اری۔۔۔ " وہ اسے حیرت سے دیکھ کر بولا۔ اٹھ کھڑا ہوا۔ "تم رو رہی ہو۔ "وہ اس کے قریب چلا آیا۔ "پگلی۔ تم سن کر رو دیں۔ میں تو سہہ کر بھی خاموش رہا۔ " "سر۔ آپ ہمارے لئے کیا ہیں ؟ آپ نہیں جانتی۔ آپ کی ذرا سی خاموشی اور اداسی نے سارے آفس پر موت کا سا سناٹا طاری کر دیا ہے۔ کیوں ؟ کیوں سر؟" وہ بے چین ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ "امبر۔ " وہ اس کی کانپتی آواز کے زیر و بم میں کھو کر رہ گیا۔ "صرف اس لئے سر کہ آپ۔۔۔ آپ اس آفس کے چپڑاسی سے لے کر مینجر تک کے لئے کسی دیوتا سے کم نہیں ہیں۔ پُر خلوص، بے لوث، بے پناہ محبت کرنے والا دیوتا۔ آپ نے اپنے آفس میں ان بیروزگاروں کو، اپنے والدین، بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کے واحد سہاروں کواس وقت پناہ دی، جب وہ مایوسی کی باہوں میں سما جانے کا فیصلہ کر چکے تھی۔ وہ آپ کے دکھ درد، آپ کی مسرت کو آپ سے زیادہ محسوس کرتے ہیں سر۔ آپ اداس ہوں تو اس چھوٹے سے گلستاں کا ہر باسی مرجھا جاتا ہے۔ آپ خوش ہوں تو ان کی زندگی میں بہار رقصاں ہو جاتی ہے۔ یہ سب آپ کے سہاری، آپ کی مسکراہٹوں کے سہارے جیتے ہیں سر۔ آپ پر اتنا بڑا حادثہ اتنا بڑا سانحہ گزر جائے اور ہم پتھر بنی، مرجھائے ہوئے بے حس پھولوں کی طرح آپ کو تکتے رہیں۔ کیسے سر؟ ہم یہ کیسے کریں ؟" "چپ ہو جاؤ امبر۔ چپ ہو جاؤ۔ "اس نے گھبرا کر اس کے کانپتے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ "میں۔۔۔ میں تو پاگل تھا۔ دیوانہ تھا۔ مجھے ایک فرد کی محبت نے، ایک تھوڑی سی محبت نے، اتنی ڈھیر ساری محبت، اتنے بہت سوں کے پیار سے پل بھر میں ، کتنی دور پہنچا دیا۔ میں سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ تم لوگ مجھے اتنا چاہتے ہو۔ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہو۔ بخدا امبر۔ میں اب بالکل اداس نہیں ہوں۔ بالکل پریشان نہیں ہوں۔ میں۔۔۔ میں تو مسکرا رہا ہوں۔ ہنس رہا ہوں۔ میرے اتنے سارے اپنے ہیں۔ ایک بیگانہ چلا گیا تو کیا ہوا ؟ کیا ہوا امبر؟ کچھ بھی تو نہیں ؟ پھر میں کیوں اداس رہوں ؟ میں کیوں افسوس کروں۔ دیکھو۔ میں مسکرارہا ہوں امبر۔ میں ہنس رہا ہوں۔ ہنس رہا ہوں۔ ہا ہا۔ ہا ہا۔ میں ہنس رہا ہوں امبر۔ دیکھو۔ ہا ہاہا۔ میں ہنس رہا ہوں۔ ہا۔ ہا۔ ہا۔ ہاہا۔ "اس کی آواز بھرا گئی اور وہ پاگلوں کی طرح رقت آمیز انداز میں ہنستا چلا گیا۔ بالکل دیوانوں کی مانند۔ پھر جب مزید قہقہے لگانے کی سکت ہی نہ رہی تو اس کی آواز دھیمی ہوتے ہوتے بالکل رک گئی۔ امبر نے دیکھا۔ اس کے لب اب بھی مسکراہٹ کے انداز میں وا تھے اور آنکھوں کی نمی چھلکنے کو تھی۔ "سر۔ " اس کی آواز تھرا گئی۔ "دکھ بھرے قہقہوں سے دل کے زخم بھرنے کی بجائے کچھ اور کھل جایا کرتے ہیں۔ "وہ پلٹ کر تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ باہر جمع ہجوم اسے روک نہ سکا۔ وہ دوڑتی ہوئی آفس سے باہر نکل گئی۔ ٭ راستہ طویل نہ تھا مگر اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ بے تحاشا لپک کر منزل کا دامن تھام لیتا۔ انتظار۔۔۔ ہاں اسے انتظار کرنا تھا۔ ابھی تو اسے منزل، سوئی سوئی منزل، بے خبر منزل کے بارے میں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ اسے اپنا مسافر بھی تسلیم کرتی ہے یا نہیں ؟ ابھی تو یہ سب خواب تھی۔ سراب تھی۔ اس نے کتنی ہی مرتبہ کوشش کی اور کئی باراس کی زبان پر آ کر دل کی بات رک گئی۔ وہ مضطرب سا ہو جاتا۔ پہلو بدل کر رہ جاتا۔ بے چینی اس کے رگ و پے میں بجلی بن کر سرایت کر جاتی مگر وہ کچھ بھی نہ کہہ پاتا۔ جذبات بے زبان حیوان کی طرح سرکشی پر اترتے رہی۔ احساس چوٹ کھائے ہوئے پرندے کی مانند پھڑپھڑاتا رہا۔ بہار، خزاں کے قفس میں سر ٹکراتی رہی لیکن کب تک؟ آخر وہ لمحہ بھی آیا جب یہ سب کچھ اس کی برداشت سے باہر ہو گیا۔ اذیت کی تپش اسے ہر پل، ہر گھڑی، خشک لکڑی کی طرح جلانے لگی۔ وہ کسی ویرانے میں سلگتی ہوئی اس شمع کی طرح پگھلنے لگا، جس کا کوئی پروانہ نہ تھا۔ شمع، پروانے کو جلائے بغیر خود جلتی رہی۔ پگھلتی رہی۔ یہ وہ کب گوارا کر سکتی ہے؟یہی اس کے ساتھ ہوا۔ ضبط انتہا کو پہنچ کر دم توڑ گیا۔ پیمانہ لبریز ہوا اور چھلک پڑا۔ "میں آج امبر کوسب کچھ بتا دوں گا۔۔۔ سب کچھ۔ "وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔ "صاحب۔ ناشتے پر بیگم صاحبہ آپ کا انتظار کر رہی ہیں۔ " سیف نے اسے چونکا دیا۔ "تم چلو۔ میں آ رہا ہوں۔ "اس نے بستر سے نکلتے ہوئے کہا۔ ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ ناشتے کی میز پر بیٹھا تھا۔ ناشتہ خاموشی سے کیا گیا۔ ملازم نے میز صاف کر دی۔ وہ اخبار دیکھنے لگا۔ بیگم صاحبہ کسی گہری سوچ میں گم تھیں۔ ان کا داہنا ہاتھ سامنے پڑے سفید لفافے سے کھیلنے میں مصروف تھا۔ "اوہ۔ دس بج گئے۔ "وہ اخبار رکھ کر رسٹ واچ پر نظریں دوڑاتے ہوئے جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ "بیٹھ جاؤ۔ " بیگم صاحبہ کی دھیمی سی آواز نے اسے بے ساختہ پھر بٹھا دیا۔ ان کی سوچ زدہ آنکھوں میں سنجیدگی کروٹیں لے رہی تھی۔ اس کا دل بے طرح سے دھڑک اٹھا۔ وہ پہلو بدل کر رہ گیا۔ "جی امی۔ "اس نے خاموشی کا دامن چاک کیا۔ "بیٹے۔ " اداس سی آواز ابھری۔ "ہم چاہتے ہیں کہ زندگی کا دامن چھوڑنے سے پہلے تمہیں زندگی کی خوشیوں میں کھیلتے دیکھ لیں۔ اب ہم مزید پتھر کی یہ سل اپنے دل پر برداشت نہ کر سکیں گے۔ " وہ سر جھکائے ناخنوں سے میز کی سطح کریدتا رہا۔- "زندگی میں ناکامیاں بھی آتی ہیں بیٹے لیکن اس لئے نہیں کہ انسان میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے بلکہ اس لئے کہ اگلے امتحان میں پچھلی ناکامی کی کسر بھی نکال دی۔ ایک تمنا پوری نہ ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انسان آرزو کرنا ہی چھوڑ دے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سنبھلنے کے لئے جتنا وقت درکار ہوتا ہے، ہم اس سے بہت زیادہ وقت تمہیں دے چکے ہیں۔ ہر ماں کی طرح ہماری بھی تمنا ہے کہ ہم اپنے بیٹے کے پہلو میں چاند سی بہو دیکھیں۔ " وہ ایک لمحے کو رکیں۔ اس کا جھکا ہوا سر تب بھی جھکا ہی رہا۔ "کئی ایک گھروں سے رشتے آئے ہیں۔ ہم نے ابھی کسی کو جواب نہیں دیا۔ صرف تمہاری خاطر۔ " تب اس نے دھیرے سے چہرہ اوپر اٹھایا۔ تھوڑ اتھوڑا مضطرب لگ رہاتھا وہ۔ "ہم تمہیں فیصلے سے پہلے انتخاب اور پسند کا پورا پورا موقع دیں گے۔ " انہوں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور اپنے سامنے پڑا لفافہ اس کی جانب سرکادیا۔ "اس میں کچھ تصویریں ہیں۔ زاہدہ کی چچا زاد بہن نرگس کی بھی۔ " وہ معنی خیز لہجے میں بولیں۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ "وہ خاص طور پر اس رشتے کے خواہش مند ہیں۔ لڑکی چند ہی روز پہلے انگلینڈ سے واپس آئی ہے مگر اس پر مشرقی اقدار پوری طرح حاوی ہیں۔ " "مگر میں۔۔۔ " "شادی نہیں کرنا چاہتا۔ "تلخی سے کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ "یہی جواب ہے ناں تمہارا۔ " "جی نہیں۔ میں نے یہ کب کہا۔ " "تو پھر ؟" وہ حیرت سے بولیں۔ "کیا ضروری ہے کہ ان ہی میں سے اور پھر خاص طور پر نرگس ہی سی۔۔۔ " "ہم سمجھتے ہیں بیٹے لیکن ہم نے یہ بات ایسے ہی نہیں کہی۔ نرگس واقعی گلِنرگس ہے۔ زاہدہ اور اس لفافے میں موجود کوئی بھی لڑکی اس کے سامنے ہیچ ہے۔ " "لیکن۔۔۔ " "کہیں تم کسی اور کو تو۔۔۔ " "یہ بات نہیں ہے امی۔ "وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے پھر بے چین سا ہو گیا۔ "دیکھو بیٹی۔ تم کیوں یہ چاہتے ہو کہ تم محبت کی شادی کرو۔ کیا ضروری ہے کہ جس سے تم شادی کرو وہ شادی سے پہلے تم سے محبت کرے۔ " وہ کھل کر کہہ گئیں۔ "میں نے ایسا کب کہا امی۔ " اس کی آواز دب سی گئی۔ "پھر کیا تم یہ چاہتے ہو کہ شادی سے پہلے تم اپنی ہونے والی بیوی کے ساتھ محبت کے چار دن ضرور گزارو۔ " " ایسی بھی میری کوئی شرط نہیں ہے امی۔ " "تو پھر تم چاہتے کیا ہو؟"ان کی آواز میں تلخی ابھر آئی۔ "امی۔ " اس نے سر جھکائے جھکائے کہا۔ "میں نے ایک زخم کھایا ہے۔ ایسی لڑکی کو چن لیا جو پہلے ہی کسی اور سے محبت کرتی تھی۔ اب میں ایسے کسی حادثہ سے دوچار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں مجھے جو لڑکی بیوی کے روپ میں ملے وہ صرف میری ہو، ہر طرح سی۔ اس کے خیالوں پر، اس کی سوچ پر میرے سوا کسی اور کی پرچھائیں بھی نہ پڑی ہو۔ " " شریف گھرانوں کی لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں بیٹی۔ اور یہ سب تصویریں شرفا کی بیٹیوں ہی کی ہیں۔ " "زاہدہ بھی تو شریف گھرانے ہی سے تعلق رکھتی تھی امی۔ " "بیٹی۔ " وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولیں۔ "محبت ایسا جذبہ ہے جس پر کسی کا بس نہیں چلتا۔ زاہدہ نے اگر ایسا کیا تو کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ تمہاری جلد بازی اور میری ممتا نے مل کر ایک ایسی غلطی کو جنم دیاجس کا خمیازہ ہم دونوں کو بھگتنا پڑا۔ " "یعنی۔۔۔ ؟" اس نے سوالیہ انداز میں ماں کی جانب دیکھا۔ "ہمیں پہلے زاہدہ کے بارے میں پوری چھان بین کرنی چاہئے تھی۔ وہ تو خیر ہوئی کہ وہ لڑکی دھوکے باز نہیں تھی ورنہ اگر وہ کوئی چالباز ہوتی اور واردات کی نیت سے آئی ہوتی تو ہم اس کے چکر میں پھنس کر اب تک مال اور عزت دونوں گنوا چکے ہوتے۔ " "تو اب آپ جس لڑکی سے بھی میری شادی کرانا چاہتی ہیں اس کے بارے میں یہ کیسے پتہ چلے گا کہ وہ مجھ سے پہلے کسی اور کے ساتھ انوالو نہیں رہی؟" بات چیت بڑی کھل کھلا کر ہو رہی تھی۔ بیگم صاحبہ اپنے مزاج کے خلاف اس صورتحال کا بڑے حوصلے اور برداشت کے ساتھ سامنا کر رہی تھیں۔ وجہ صرف یہ تھی کہ وہ بات کو کسی منطقی انجام تک لے جانا چاہتی تھیں۔ "تم اگر چاہو تو جس لڑکی کو پسند کرو، اس کے ساتھ تمہاری ملاقات کرائی جا سکتی ہے۔ تم دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح جان لو، سمجھ لو۔ پھر کسی فیصلے پر پہنچ سکو، اس کا یہ بہت اچھا راستہ ہے۔ " "اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہ لڑکی ہمارے امیر گھرانے میں شادی کے لئے مجھ سے اپنا ماضی نہیں چھپائے گی۔ جھوٹ نہیں بولے گی۔ " "اب وہم کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا بیٹی۔ تم ایک ہی چوٹ کھا کر تمام طبیبوں سے بد ظن ہو گئے ہو۔ اس طرح تو زندگی نہیں گزر سکتی۔ " "اور پھر ایک آدھ ملاقات میں ہم ایک دوسرے کو کیسے مکمل طور پر جان لیں گے۔ " "تو کیا اب سالوں کے سال چاہئیں تمہیں بیوی منتخب کرنے کے لئے؟تم کھل کر کیوں نہیں کہتے، جو تمہارے دل میں ہے؟"وہ جھنجھلا گئیں۔ "میں۔۔۔ میں۔۔۔ " اس کی پیشانی عرق آلود ہو گئی۔ "کسی کو پسند کر چکے ہو کیا؟" وہ اس کی جانب غور سے دیکھ کر بولیں۔ "جی۔۔۔ جی ہاں۔ "سرگوشی سی ابھری۔ وہ جوتے کی ٹو سے فرش کریدنے لگا۔ "ہوں۔ کون ہے وہ؟"ان کے لہجے سے کچھ بیزاری، ناگواری اور ناپسندیدگی ظاہر تھی۔ "امبر۔۔۔ "وہ اسی طرح بولا۔ "کون امبر؟" "میری اسٹینو۔ " "طاہر۔۔۔ "وہ بے پناہ کڑواہٹ سے بولیں۔ "وہ بڑی اچھی لڑکی ہے امی۔ "وہ بمشکل تمام کہہ سکا۔ "زاہدہ بھی تو بری نہیں تھی۔ "وہ تلخی سے بولیں۔ "مگر امی۔۔۔ " "ہم جانتے ہیں۔ ڈائیلاگ تمہاری زبان پر دھرے رہتے ہیں۔ ہمیں قائل کرنے کے لئے تم ایڑی چوٹی کا زور لگا دو گے لیکن یہ سوچ لو طاہر۔ ہم بار بار ایک ہی زخم نہ کھا سکیں گی۔ "وہ تلخی سے شکست خوردگی پر اتر آئیں۔ "نہیں امی۔ آپ۔۔۔ آپ۔۔۔ " "جاؤ۔ اس وقت ہمیں تنہا چھوڑ دو۔ ہم ماں ہیں۔ جو ان اولاد کی خوشی پر ایک مرتبہ پھر اپنی انا قربان کر رہے ہیں لیکن یاد رکھنا طاہر۔ یہ آخری بار ہو رہا ہے۔ اس کے بعد ہم داؤ لگائیں گے نہ بساط کے مہرے کی طرح پٹنے پر تیار ہوں گے۔ " "شکریہ امی جان۔ میری جیت بھی تو آپ ہی کی جیت ہے۔ "وہ اپنی خوشی کو دباتے ہوئے بمشکل کہہ سکا۔ "بس جاؤ۔ ہم کل ہی اس لڑکی کے گھر جانا چاہیں گی۔ "
* * *
|
|
|
|
| زارا کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (25-05-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,231
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
"جی۔ مگر ۔ اتنی جلدی۔۔۔ " وہ ہکلایا۔ "بکو مت۔ ہر بات میں اپنی منوانے کے عادی ہو چکے ہو۔ بس۔۔۔ کل ہم امبر کے گھر جا کر اسے دیکھنا چاہیں گے۔ " "جی۔۔۔ بہتر۔ "وہ خفیف سا ہو گیا۔ چند لمحے کھڑا رہا۔ بیگم صاحبہ پھر کسی خیال میں کھو گئی تھیں۔ وہ آہستہ سے پلٹا اور خارجی دروازے کی جانب بڑھتا چلا گیا۔ اس کے قدموں میں لرزش اور اضطراب نمایاں تھا۔ ٭ "اوہ۔ ساڑھے گیارہ ہو گئے۔ " وہ ٹہلتے ٹہلتے رکا اور وقت دیکھ کر بڑبڑایا۔ اس کی بے چینی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔ قدموں نے پھر قالین کی سینہ کوبی شروع کر دی۔ امبر ابھی تک نہیں آئی تھی۔ اس نے کبھی اتنی دیر نہیں کی تھی۔ اور پھر بغیر اطلاع۔ اس کا دل بار بار کسی نئے اندیشے کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا۔ "اگر وہ آج نہ آئی تو؟" "نہیں نہیں۔ وہ ضرور آئے گی۔ "وہ بڑبڑایا اور نظریں پھر رسٹ واچ پر پھسل پڑیں۔ "بارہ۔ "اس کے بے چین اور بے قرار خیالات کے سانس اکھڑنے لگی۔ اس کے متحرک قدم رکے۔ داہنا ہاتھ تیزی سے کال بیل کی جانب لپکا۔ دوسرے ہی لمحے نادر کمرے میں تھا۔ "یس سر۔ " "دیکھو۔ مس امبر ابھی تک۔۔۔ "الفاظ اس کے لبوں پر دم توڑ گئی۔ دروازے سے امبر اندر داخل ہو رہی تھی۔ "جاؤ۔ تم جاؤ۔ "وہ جلدی سے بولا اور نادر خاموشی سے باہر نکل گیا۔ "مارننگ سر۔ "وہ شوخی اور شرارت سے بھرپور آواز میں آدھے سلام کے ساتھ بولی۔ "ہوں۔۔۔ "وہ اس کے خوبصورت اور سڈول جسم کو دیکھتا ہوا اس کے گلاب ایسے کھلے ہوئے چہرے پر آ کر رک گیا۔ "یہ مارننگ ٹائم ہے۔ "وہ ہونٹ بھینچ کر بولا۔ جواب میں وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اس کے سینے میں جیسے کسی نے ہلچل مچا دی۔ "سر۔۔۔ وہ۔۔۔ بات ہی ایسی تھی۔ "وہ شرما سی گئی۔ "بات۔۔۔ کیسی بات؟ اور یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟"وہ اس کے دائیں ہاتھ کو دیکھ کر جلدی سے بولا۔ "یہ۔۔۔ یہ سر۔۔۔ "وہ گڑ بڑا سی گئی۔ قوس قزح کے حسین لہریے اس کے حسین چہرے پر پھیلتے چلے گئی۔ اس نے سر جھکا لیا۔ وہ اس کی پیشانی پر ابھرتے پسینے کے قطروں کو دیکھ کر الجھن میں پڑ گیا۔ "کیا بات ہے امبر؟" وہ دو قدم آگے بڑھ آیا۔ "سر۔۔۔ وہ۔۔۔ "وہ جیسے کہہ نہ پا رہی تھی۔ "ارے بولو نا۔ پھر مجھے بھی کچھ کہنا ہے۔ " "تو پہلے آپ بتائیے۔ "وہ اسے دیکھ کر بڑے پیارے انداز میں مسکرائی۔ "اوں ہوں۔ پہلے تم۔ " وہ نفی میں سر ہلا کر بولا۔ "نو سر۔ پہلے آپ۔۔۔ انتظار آپ کر رہے تھے، میں نہیں۔ " وہ شوخی سے بولی۔ اور اس کا دل جیسے پسلیوں کاقفس توڑ کر سینے سے باہر آ جانے کو مچلنے لگا۔ "میں تو۔۔ "وہ خود گڑ بڑا گیا۔ "ہوں۔ کوئی خاص ہی بات ہے۔ "وہ پھر شرارت پر اتر آئی۔ "امبر۔ وہ۔ میں۔۔۔ "جسم میں ابلتا ہوا لاوا جیسے سرد پڑنے لگا۔ اچھا بیٹھو تو۔ "وہ کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ "جی نہیں۔ بیٹھ گئی۔ تو پھر بھاگنے میں دقت پیش آئے گی۔ " اس نے نفی میں سر ہلایا۔ "کیا مطلب؟" "بات ہی ایسی ہے سر۔ " وہ پھر شرما گئی۔ "ہوں۔ " وہ اسے بڑی عجیب اور تیز نظروں سے گھورنے لگا۔ "بتائیے نا سر۔ "وہ اس کے انداز پر کچھ جھینپ سی گئی۔ "امبر۔ "وہ کچھ دیر بعد بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔ وہ اس کی جانب دیکھنے لگی۔ "امبر۔ اگر کوئی کسی کو پسند کرنے لگے تو؟"اس کی پیشانی بھیگ سی گئی۔ "تو اسے اپنا لے۔ "وہ مسکرا کر بولی۔ بڑی لاپرواہی سی۔ جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔ طاہر نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہ بدستور مسکراتی رہی۔ "لیکن اگر کوئی اس بات سے بے خبر ہو کہ اسے کوئی پسند کرتا ہے۔ اسے اپنانا چاہتا ہے۔ تب ؟" "تب اسے بتا دے۔ "اس نے سیدھا سا نسخہ بتایا۔ اور وہ جھلا گیا۔ "بڑی آسان بات ہے ناں۔ "اور وہ اس کے جھنجلانے پر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ وہ بڑے پیار سے اس کی جانب دیکھے جا رہا تھا۔ "دیکھو امبر۔ فرض کرو۔ "اس نے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ کہنا شروع کیا۔ "فرض کرو۔ کوئی تمہیں پسند کرتا ہے۔" اس کی زبان لڑکھڑاتے لڑکھڑاتے رہ گئی۔ فقرہ ختم کر کے اس نے امبر کی جانب دیکھا۔ وہ مسکراتی ہوئی نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔ گالوں پر حیا کی سرخی ضرور ابھر آئی تھی۔ اس کا حوصلہ جیسے دو چند ہو گیا۔ "تمہیں چاہتا ہے۔ تمہیں اپنانا چاہتا ہے۔ لیکن تم۔۔۔ تم اس سے بے خبر ہو۔ تمہیں کچھ بھی معلوم نہ ہو۔ " "لیکن ہم بے خبر نہیں ہیں سر۔ "وہ شرارت بھرے انداز میں کہہ کر بے طرح شرما گئی۔ "امبر۔ "اس کا سینہ پھٹنے لگا۔ دماغ چکرا کر رہ گیا۔ "تو کیا؟"مسرت اس کے انگ انگ میں ناچ اٹھی۔ "یس سر۔ یہ رہا اس کا ثبوت کہ ہم بے خبر نہیں تھے۔ ہم بھی کسی کو چاہتے تھے۔ "وہ پل بھر کو رکی۔ اس کا ہاتھ پشت پر سے سامنے آیاجس میں ایک سفید لفافہ دبا ہوا تھا۔ "اوراسے حاصل بھی کر سکتے ہیں۔ "اس نے لفافہ طاہر کے ہاتھ میں تھما یا اور شرم سے سرخ رُو پلٹ کر بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔ "امبر۔ "اس کے لبوں سے ایک سرگوشی ابھری اور امبر کے پیچھے فضا میں تحلیل ہو گئی۔ بہاریں ناچ اٹھیں۔ دھڑکتا ہوا دل جھوم سا گیا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا اور۔۔۔ لڑکھڑا کر رہ گیا۔ اندھیرا اور روشنی جیسے پوری قوت آپس میں سے ٹکرا گئی۔ رات اور دن ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے۔ آسمان اور زمین نے جگہیں بدل لیں۔ ہر شے درہم برہم ہو گئی۔ وہ بے جان سے انداز میں کرسی پر بیٹھتا چلا گیا۔ اس کی پھٹی پھٹی، بے اعتبار نگاہیں ، لفافے سے نکلنے والے کارڈ پر ٹھہر سی گئیں۔ وہ امبر کی شادی کا دعوت نامہ تھا۔ اس کی امبر، اس کی اپنی امبر، کسی دوسرے کی امانت تھی، یہ تو اسے معلوم ہی نہ تھا۔ پگلا تھا ناں۔ ہر پسند آ جانے والی شے کو حاصل کر لینے کی خواہش نے اسے ایک بار پھر ناکامی اور محرومی کا داغ دیا تھا۔ پہلی بار جلد بازی نے ایساکیا تھا اور دوسری بار شاید اس نے خود دیر کر دی تھی۔ خاموشی۔ اداسی۔ سناٹا۔ اور وہ۔ کتنے ہی لمحوں تک باہم مدغم رہی۔ شاید صدیوں تک۔ "امبر۔ " آخر ایک سسکی اس کے لبوں سے آزاد ہوئی۔ ساکت آنکھوں کے گہرے اور ہلچل زدہ سمندر نے دھندلاہٹ کے گرداب سے چند موتی پلکوں کے کناروں پر اچھال دئیے۔ موتی دعوت نامے پر چمکتے "امبر" کے لفظ پر گرے اور پھیل گئی۔ لفظ کی چمک کچھ اور بڑھ گئی۔ رنگ کچھ اور گہرا ہو گیا۔ اس کے کانپتے ہوئے ہاتھوں نے حرکت کی اور لرزتے لبوں نے پہلی اور آخری بار مہر تمنا" امبر" کے لفظ پر ثبت کر دی۔ "سیف بابا۔ طاہر ابھی تک نہیں آیا۔ "بیگم صاحبہ نے ناشتے کی میز پر اخبار بینی سے اکتا کر کہا۔ "جی۔ میں دیکھتا ہوں۔ "وہ ادب سے کہہ کر باہر نکل گیا۔ وہ اکتائی اکتائی نظریں پھر گھسی پٹی خبروں پر دوڑانے لگیں۔ "السلام علیکم امی جان۔ "وہ دھیرے سے کہہ کر اندر داخل ہوا۔ انہوں نے جواب دے کر آہستہ سے اس کی جانب دیکھا اور بے ساختہ چونک اٹھیں۔ وہ ان کی نظروں کی چبھن سے گھبرا گیا۔ نگاہیں جھکا کر اپنی سرخ سرخ آنکھوں پر پردہ ڈالتے ہوئے وہ آگے بڑھا اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ وہ بغوراس کا جائزہ لیتی رہیں۔ تنا ہوا چہرہ۔ شب بیداری کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ سرخ سرخ انگارہ آنکھیں۔ جیسے بہت بڑا سیلاب روکے بیٹھی ہوں۔ تھکے تھکے قدم۔ جواری کے سب کچھ ہار جانے کا پتہ دے رہے تھے۔ "مگر کیوں ؟"وہ اس کا جواب ڈھونڈھنے میں ناکام رہیں۔ "تم نے ابھی کپڑے نہیں بدلے؟"دھڑکتے دل کے ساتھ ان کی زبان سے نکلا۔ "ناشتے کے بعد بدل لوں گا امی۔ "وہ آہستہ سے بولا اور اخبار پر نظریں جما دیں۔ "طاہر۔ "ان کا لہجہ عجیب سا ہو گیا۔ "جی۔ "وہ سنبھل گیا۔ "کیا بات ہے؟" "کچھ بھی تو نہیں امی۔ " وہ پہلو بدل کر رہ گیا۔ "واقعی۔۔۔ ؟" وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولیں۔ وہ نگاہیں چرا کر رہ گیا۔ "جی۔۔۔ جی ہاں امی۔ کوئی خاص بات نہیں۔ " "ناشتہ کرو۔ "وہ چائے دانی کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے دھیرے سے بولیں۔ "میں صرف چائے پیوں گا۔ " اور بیگم صاحبہ کا توس والی پلیٹ کی جانب بڑھتا ہوا ہاتھ رک گیا۔ ایک لمحے کو انہوں نے سر جھکائے بیٹھی، مضطرب اور بے چین بیٹے کی جانب دیکھا۔ پھر ہاتھ کھینچ لیا۔ انہوں نے بھی صرف چائے کے کپ پر اکتفا کیا۔ خاموشی گہری ہوتی گئی۔ خالی کپ میز پر رکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ "ٹھہرو۔ "ایک تحکم آمیز آواز نے اسے بت بنا دیا۔ "جی۔ "وہ پلٹے بغیر بولا۔ "بیٹھ جاؤ۔ " اور وہ کسی بے جان شے کی طرح پھر کرسی پر گر پڑا۔ "کل ہم نے تم سے کچھ کہا تھا۔ " "جی۔ " اضطراب کی حالت میں پہلو بدل کر وہ ایک نظر ان کی جانب دیکھ کر رہ گیا۔ "لیکن اب ہم نے اپنے پروگرام میں کچھ تبدیلی کر دی ہے۔ " "جی۔ " وہ کچھ بھی نہ سمجھا۔ "ہم لڑکی کے گھر جانے سے پہلے اسے کہیں اور ایک نظر دیکھنا چاہتے ہیں۔ " "امی۔ "وہ تڑپ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ پُرسکون انداز میں اسے دیکھتی رہیں۔ "تمہیں اعتراض ہے کیا؟" "مجھے۔۔۔ نہیں تو امی۔ " "تو جلدی سے تیار ہو کر آ جاؤ۔ ہم تمہارے ساتھ آفس چلیں گے۔ "ایک ہتھوڑا سا اس کے ذہن پر برسا۔ "مگر امی۔۔۔ "اس نے کچھ کہنا چاہا۔ "ہم اسے آج۔۔۔ ابھی۔۔۔ اسی وقت دیکھنے جانا چاہتے ہیں۔ " "چند روز رک نہیں سکتیں آپ؟"وہ گھٹی گھٹی آواز میں بولا۔ "وجہ؟"بڑے جابرانہ انداز میں استفسار کیا گیا۔ "اسے۔۔۔ "وہ ایک پل کو رکا۔ "دلہن بنا دیکھ لیجئے گا اسے۔ " "ہم سمجھے نہیں۔ "وہ واقعی حیرت زدہ رہ گئیں۔ اور جواب میں طاہر کا ہاتھ گاؤن کی جیب سے باہر نکل آیا۔ اس سے کارڈ لیتے ہوئے ان کا ہاتھ نجانے کیوں کانپ گیا۔ وہ تیزی سے چلتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔ یہ دیکھنے کی اس میں ہمت نہیں تھی کہ کارڈ دیکھ کر بوڑھی چٹان ایک مرتبہ پھر لرز کر رہ گئی تھی۔ "طاہر۔ "ماں کے لبوں پر ایک آہ مچلی اور نظروں کے سامنے دھوئیں کی دیوار بن کر پھیل گئی۔ وہ دھندلائی ہوئی آنکھوں سے اپنے لرزتے ہاتھوں میں کپکپاتے اس پروانہ مسرت کو دیکھ رہی تھیں جو ان کی ہر خوشی کے لئے زہر بن گیا تھا۔ "یہ۔۔۔ یہ سب کیا ہوا میرے بدنصیب بیٹے۔ کیا ہو رہا ہے یہ سب ؟کیوں ہو رہا ہے؟ کب تک ہوتا رہے گا؟"کتنی ہی دیر تک ایک بے جان بت کی مانند بیٹھے رہنے کے بعد وہ آہستہ سے بڑبڑائیں۔ "جب تک میری ہر دھڑکن تنہائی اور محرومی سے آشنا نہیں ہو جاتی۔ تب تک یہ ہوتا رہے گا امی۔ "وہ ان کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ اسے دکھی دکھی نظروں سے گھورتی رہ گئیں۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ نجانے کس طرح؟ "اللہ حافظ امی۔ "وہ دروازے کی جانب پلٹ گیا۔ وہ تب بھی پتھر کی طرح ساکت بیٹھی رہیں۔ خاموش اور بے حس و حرکت مجسمے کی مانند۔ کسی سحر زدہ معمول کی طرح۔ بالکل ایسی۔ جیسے غیر معمولی صدمے کے سحر نے ایک جاندار کو بے جان شے میں تبدیل کر دیا ہو۔ ٭ "بنو۔ ان دنوں باہر نہیں نکلا کرتی۔ درخواست ہی دینا تھی تو مجھے کہہ دیا ہوتا۔ " رضیہ نے شرارت سے امبر کے بازو پر چٹکی لیتے ہوئے کہا اور اس کے لبوں سے سسکی نکل گئی۔ "اری۔ درخواست کا تو صرف بہانہ ہے۔ اس کا گھر پر دل ہی کہاں لگتا ہے۔ غلامی سے پہلے جی بھر کر آزادی منا لینا چاہتی ہے۔ " انجم نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا تو وہ بے بسی سے اس کی طرف دیکھ کر رہ گئی۔ "ہائی۔ یہ شب بیدار آنکھیں ضرور ہمارے دولہا بھیا کی شرارتوں کی تصویریں بناتے بناتے سرخ ہوئی ہیں۔ واللہ۔ محبت ہو توایسی ہو۔ "نجمہ نے اس کی آنکھوں کے سامنے انگلی نچاتے ہوئے کہا۔ باقی تینوں نے بھی اسی کی ہاں میں ہاں ملائی۔ "دیکھو۔ خدا کے لئے مجھے بخش دو۔ "اس نے فریادیوں کے انداز میں ہاتھ جوڑ کر ان سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی۔ "اوں ہوں۔ بی بی۔ ہم سے تو آج کل میں پیچھا چھڑا لو گی مگر وہ جو تمام عمر تمہارے پیچھے لٹھ لئے بھاگتے پھریں گی، ان کے بارے میں کیا خیال ہے ؟"نجمہ نے کہا تو وہ شرم سے لجا کر رہ گئی۔ "ہائی۔ اب ہمارے صاحب کا کیا بنے گا؟ وہ تو دیوداس بن کر رہ جائیں گی۔ پھر یہ آفس امپورٹ ایکسپورٹ کے بجائے تان سین کا ڈیرہ بن کر رہ جائے گا۔ " رضیہ نے دل پر ہاتھ رکھ کر بڑی ادا سے کہا۔ "بکو مت۔ " وہ ایکدم سنجیدہ ہو گئی۔ "مذاق میں بھی ان کے بارے میں ایسی بیہودہ گفتگو مت کیا کرو۔ "اس نے جیسے اسے ڈانٹ دیا۔ "اے فلسفہ بیگم۔ "انجم نے اس کے باز پر زور سے چٹکی لی۔ "مذاق کو اتنا سیریس کیس مت بنایا کرو۔ ہم بھی جانتی ہیں کہ وہ تمہارے لئے ہی نہیں ہمارے لئے بھی دنیا میں شاید ماں باپ کے بعدسب سے زیادہ قابل احترام ہستی ہیں۔ ہم تم سے زیادہ چاہتے ہیں انہیں۔ "اور سب کی سب مسکرا دیں۔ "ارے۔ صاحب آ گئے۔ " اچانک نجمہ نے دروازے کی جانب اشارہ کیا تو وہ چاروں سنبھل کر کھڑی ہو گئیں۔ اس وقت وہ سب امبر کے کیبن میں تھیں۔ "بی پجارن۔ دیوتا کا سواگت کرو ناں جا کر۔ ان کے چرنوں میں اپنی ایپلی کیشن کے پھول چڑھاؤ۔ انکار تو وہ کر ہی نہیں سکیں گے۔ " رضیہ نے اسے کہنی سے ٹھوکا دے کر آہستہ سے کہا۔ "بکو مت۔ " وہ جھینپ سی گئی۔ طاہر پل بھر کو ہال میں رکا۔ لڑکیوں کی تمام سیٹیں خالی دیکھ کر ایک لمحے کو اس نے کچھ سوچا۔ پھر اپنے آفس کی جانب بڑھتا چلا گیا۔ تمام لوگ اس کے کمرے میں جاتے ہی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔ "چلو۔ اب اپنا اپنا کام کرو جا کر۔ میری جان بخشو۔ "وہ اپنا خوبصورت چھوٹا سا شولڈر بیگ اٹھا کر دروازے کی جانب بڑھی۔ "جی ہاں۔ اب آپ مندر جا رہی ہیں۔ "نجمہ نے شرارت سے کہا اور سب کا مشترکہ ہلکا سا قہقہہ گونج کر رہ گیا۔ "بکتی رہو۔ " کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔ "چلو بھئی۔ وہ تو گئی۔ اب کام شروع کریں۔ سیزن کے دن ہیں۔ بہت کام ہے۔ " وہ سب بھی چل دیں۔ دروازہ دھیرے سے کھلا۔ "مارننگ سر۔ "وہ اندر آتے ہوئے آہستہ سے بولی۔ "او ہ۔ امبر تم۔۔۔ آؤ آؤ۔ "وہ دھیرے سے مسکرا دیا۔ امبر دھڑکتے دل کے ساتھ نظریں جھکائے آگے بڑھی اور ایک کرسی کی پشت تھام کر کھڑی ہو گئی۔ "بیٹھو۔ "وہ عجیب سی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا اور نجانے کیوں نچلا ہونٹ دانتوں میں داب لیا۔ امبر نے کچھ کہنے کے لئے چہرہ اوپر اٹھایا، لب کھولے مگر اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر شرما گئی۔ اس کا سر پھر جھک گیا۔ پھر وہ آہستہ سے کرسی پر بیٹھ گئی۔ وہ بھی اپنی سیٹ پر چلا آیا۔ کتنی ہی دیر خاموشی چھائی رہی۔ پھر امبر کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ "سر۔ " "ہوں۔ "وہ پیپرویٹ سے کھیلتے کھیلتے رک گیا۔ "کیا بات ہے؟" اس نے مسکرا کر امبر کی آنکھوں میں دیکھا۔ "جی۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ سر۔ " وہ ہکلا گئی۔ "کیا ہو گیا ہے تمہیں ؟"وہ ہنس دیا۔ "شادی ہر لڑکی کی ہوتی ہے۔ شرم و حیا ہر لڑکی کا زیور ہوتا ہے لیکن تم تو سب پر بازی لے گئیں۔" وہ سر جھکائی، بیر بہوٹی بنی، ناخن سے شیشے کی ٹاپ کریدتے ہوئے، نچلا ہونٹ دانتوں سے کاٹتے ہوئے اس کی آواز کی مٹھاس میں گم ہو گئی۔ "اور پھر اپنوں سے کیا شرمانا امبر۔ ہم نے ایک عرصہ ساتھ ساتھ گزارا ہے۔ اچھے دوستوں ، اچھے ساتھیوں کی طرح۔ "وہ ایک پل کو رکا۔ "ہاں۔ اب کہو۔ لیکن شرمانا نہیں۔ " وہ اسے تنبیہ کرتے ہوئے بولا تو وہ شرمیلی سی ہنسی ہنس دی۔ "سر۔۔۔ یہ۔۔۔ " اس نے بیگ کھول کر ایک کاغذ نکالا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔ "یہ کیا ہے؟" وہ اسے تھامتے ہوئے حیرت سے بولا۔ "ایپلی کیشن سر۔ " "کیسی ایپلی کیشن؟" "چھٹی کی سر۔ " "ارے چھوڑو بھی۔ " اس نے ایک جھٹکے سے اس کے دو اور پھر چار ٹکڑے کر کے باسکٹ میں پھینک دئیے۔ "سر۔ مگر ۔۔۔ " " آفس کی کارروائی مکمل کرنے کے لئے ایسے تکلفات کی ضرورت ہوتی ہے امبر۔۔۔ لیکن تم ان ملازموں میں شمار نہیں ہوتیں جن کے لئے ایسی کارروائیوں کا اہتمام لازم ہو۔ تم نے جس طرح میرے ساتھ مل کر THE PROUD جیسے پراجیکٹ کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے، اس کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ ہم ایسے تکلفات میں وقت ضائع کیا کریں۔ " "سر۔ "حیرت اور مسرت سے اس کی آواز لڑکھڑا گئی۔ "ہاں امبر۔ میں نے اس آفس کے ہر فرد کو اپنا سمجھا ہے۔ اپنا جانا ہے اور تم۔۔۔ تم تو وہ ہو، جو میری زندگی اور موت کے درمیان سینہ تان کر آ کھڑی ہوئی تھیں۔ "وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑکی میں جا کھڑا ہوا۔ "تم نے ایک مرتبہ مجھے دیوتا کہا تھا امبر لیکن مجھے ایسا لگتا ہے، دیوی تم ہو۔ پیار کی۔ وفا کی۔ رفاقت کی۔ تم میرے لئے ایک ایسی مخلص دوست ہو امبر، جس کے ہر پل کی رفاقت مجھ پر احسان ہے۔ اور دوستوں میں ، محبت کرنے والوں میں یہ رسمیں بڑی بور لگتی ہیں۔ لگتی ہیں نا۔ "وہ اس کے قریب چلا آیا۔ اس پر جھک سا گیا۔ "سر۔ "اس کی آنکھوں میں تشکر امڈ آیا۔ "پگلی۔ "وہ ہولے سے مسکرایا اور سیدھا ہو گیا۔ "کتنے دنوں کی چھٹی چاہیے تمہیں ؟ "وہ شریر سے لہجے میں بولا۔ اور امبر نے ناخنوں سے میز کی سطح کو کریدتے ہوئے سر جھکا لیا۔ "ایک۔۔۔ ایک ہفتے کی سر۔ " وہ بمشکل کہہ پائی۔ "با۔۔۔۔۔ س۔ "وہ لفظ کو کھینچ کر بولا۔ " آج دس تاریخ ہے۔ "وہ کلائی پر بندھی گھڑی میں تاریخ دیکھتے ہوئے بولا۔ "بارہ کو شادی ہے۔ دو دن یہ گئے۔ اور باقی بچے صرف پانچ دن۔ " وہ بڑبڑاتے ہوئے رکا۔ "ارے۔ صرف پانچ دن۔ " وہ حیرت اور بھولپن بھری شرارت سے اس کے سامنے ہاتھ کھول کر نچاتے ہوئے بولا۔ "سر۔۔۔ " وہ جھینپ سی گئی۔ طاہر زور سے ہنس دیا۔ "تمہیں ایک ماہ کی رخصت دی جاتی ہے۔ "وہ شاہانہ انداز سے بولا۔ "مگر سر۔۔۔ " "کچھ نہیں۔ کوئی بات ہے بھلا۔ شادی ہو اور صرف پانچ دن بعد پھر ڈیوٹی سنبھال لی جائے۔ " "مگر میں کچھ اور کہہ رہی تھی سر۔ " "ہاں ہاں۔ کچھ اور کہو۔ بڑے شوق سے کہو۔ " "وہ سر۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ نہیں چاہتے کہ میں شادی کے بعد بھی جاب کروں۔ "وہ بڑے اداس لہجے میں بولی۔ اور۔۔۔ اس کے دل کو دھچکا سا لگا۔ ایک پل کو اس کے چہرے پر جیسے خزاں کا رنگ بکھر گئے مگر دوسرے ہی لمحے وہ سنبھل گیا۔ اس کے کانپتے لبوں پر ایک کرب آلود مسکراہٹ تیر گئی۔ اس نے ہونٹوں کو زور سے بھینچ لیا اور یوں اثبات میں سر ہلایا جیسے کسی انجانی صدا پر لبیک کہہ رہا ہو۔ پھر وہ آہستہ سے نامحسوس مگر درد بھرے انداز میں ہنس دیا۔ "ٹھیک ہی تو کہتے ہیں۔ "وہ جیسے اپنے آپ سے کہہ اٹھا۔ "پھر۔۔۔ کب سے ہمارا ساتھ چھوڑ رہی ہو؟" وہ پھر مسکرادیا۔ " آپ کا ساتھ تو مرتے دم تک رہے گا سر۔ دوستوں سے ایسی باتیں نہ کیا کیجئے۔ "وہ افسردگی سے مسکرادی۔ وہ چند لمحوں تک اسے عجیب نظروں سے گھورتا رہا۔ "اس کا مطلب ہے۔ "وہ پہلو بدل کر بولا۔ "کہ تم صرف یہی مہینہ ہمارے ساتھ ہو جس کے دس دن گزر چکے ہیں۔ " "یس سر۔ " "ہوں۔ " وہ بجھ سا گیا۔ "ٹھیک ہے امبر۔ "کچھ دیر بعد وہ ایک طویل اور سرد آہ بھر کر گویا ہوا۔ "ہم میں سے کوئی بھی تمہیں بھول نہ سکے گا۔ " "سر۔ "اس کی آواز تھرا گئی۔ "ارے ہاں۔ "وہ بات بدل گیا۔ "یہ تو میں نے پوچھا ہی نہیں کہ تمہارے وہ کرتے کیا ہیں ؟" اور جذبات کے ریلے میں بہتی ہوئی امبر ساحلِحواس پر آ گری۔ "وہ کالج میں لیکچرار ہیں سر۔ "اس نے آہستہ سے کہا۔ "ہوں۔ "وہ پھر کسی خیال میں ڈوب گیا۔ " آج کی ڈاک سر۔ "نادر نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا اور ڈاک میز پر رکھ کر واپس لوٹ گیا۔ وہ ایک طویل سانس لے کر سیدھا ہو بیٹھا۔ ڈاک ایک جانب سرکا کر اس نے امبر کی طرف دیکھا۔ دونوں کی نظریں ملیں اور جھک گئیں۔ "امبر۔ " "یس سر۔ " "میں کچھ کہوں۔ برا تو نہ مانو گی۔ " "کیسی باتیں کرتے ہیں آپ سر۔ " "امبر۔۔۔ میں۔۔۔ "وہ کہتے کہتے رکا۔ "میں تمہاری شادی میں نہ آ سکوں گا۔ " "کیوں سر؟" وہ تڑپ سی گئی۔ "مجھے گاؤں جانا ہے امبر۔ وہاں نجانے کتنے دن لگ جائیں۔ "اس نے بڑی ہمت کر کے جھوٹ بولا۔ "لیکن میں اس سے پہلے تمہارے اعزاز میں ایک شاندار پارٹی دینا چاہتا ہوں امبر۔ " "سر۔ وہ سب ٹھیک ہے۔ مگر ۔ آپ۔۔۔ " "مجھے احساس ہے امبر۔ لیکن یقین کرو، وہ کام اتنا ہی اہم اور وقت طلب ہے کہ میں مجبور ہو گیا ہوں۔ "وہ میز کے کونے پر بیٹھ گیا۔ "دیکھو۔ تم جس طرح چاہو، میں تم سے معذرت کرنے کو تیار ہوں لیکن خدارا، مجھ سے خفا مت ہونا۔ تم کہو تو میں اپنا کام چھوڑ کر تمہاری خوشی میں شریک ہونے کو چلا آؤں گا لیکن تم مجھ سے ناراض مت ہونا۔ "وہ اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر اداس اور التجا آمیز لہجے میں بولا۔ "نہیں سر۔ میں آپ سے ناراض کیسے ہو سکتی ہوں ؟ آپ اپنا کام التوا میں مت ڈالئے لیکن اس کے لئے آپ کو میری بھی ایک بات ماننا پڑے گی۔ " "ہاں ہاں ، کہو۔ " "شادی کے بعد میں آپ کے اعزاز میں ایک پارٹی دوں گی، جس کے لئے آپ کوئی بہانہ نہ بنا سکیں گی۔ " وہ چند لمحوں تک اس کی پُر امید آنکھوں میں جھانکتا رہا۔ "ٹھیک ہے۔ "وہ میز سے اٹھ گیا۔ وہ کھل اٹھی۔ "لیکن۔۔۔ " "لیکن کیا سر؟"بے تابی سے اس نے پوچھا۔ "پارٹی یہاں ، اسی آفس میں دی جائے گی۔ تمام انتظام میرا ہو گا اور تم اور تمہارے وہ مہمان خصوصی ہوں گے۔ " "بالکل نہیں سر۔ "وہ مچل سی گئی۔ "پہلی بات تو ٹھیک ہے لیکن باقی دونوں باتیں غلط ہیں۔ پارٹی ہم دیں گے اور مہمان آپ ہوں گے۔ " "غلط۔ بالکل غلط۔ جا تم رہی ہو۔ اور الوداعی پارٹی جانے والے کے اعزاز میں دی جاتی ہے۔ لہذا میرا حق پہلے بنتا ہے۔ " "وہ حق تو آپ پارٹی دے کر استعمال کر ہی رہے ہیں سر۔ " "نہیں۔ یہ رسمی پارٹی ہے۔ بعد کی پارٹی اعزازی اور خاص ہو گی۔"
* * *
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا | ننھا بچہ (23-08-11), ایس اے نقوی (25-05-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,231
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مکمل پڑھنے کیلئے ڈاؤن لوڈکریں۔ شُکریہ
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا | ننھا بچہ (23-08-11), ایس اے نقوی (25-05-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
زارا پہلے پڑھ لو پھر شکریہ ادا کروں گا آپکا
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,231
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اِنتظاررہے گا۔ جزاک اللہ
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہے۔۔۔, فرض, کوششوں, پہلے, پڑی, وقت, قید, لڑکی, لمحوں, نیند, چور, انداز, اجنبی, تاب, جواب, حکم, حسن, دیکھا, دیں, رفتار, رات, شروع, عشق, صاحبہ, صبح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|