واپس چلیں   پاکستان کی آواز > کھیل اور فن > کھیل اور کھلاڑی > کرکٹ




کپتانی کے لیے مشروط آمادگی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-12-07, 03:22 AM   #1
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,195
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default کپتانی کے لیے مشروط آمادگی

کپتانی کے لیے مشروط آمادگی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سینیئر بیٹسمین یونس خان نے ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اختیارات کے بغیر یہ ذمہ داری قبول نہیں کریں اورگیند اب پاکستان کرکٹ بورڈ کے کورٹ میں ہے کہ وہ پاکستانی کرکٹ کی بہتری کو مقدم سمجھتے ہوئے کیا فیصلہ کرتا ہے۔
یونس خان نے بھارت سے وطن واپسی پر بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کھل کر بھارت کے دورے کے بارے میں بات کی اور کہا کہ وہ کپتانی اور نائب کپتانی میں کبھی بھی دلچسپی نہیں لی لیکن کولکتہ ٹیسٹ نے ان کی سوچ بدل کر رکھ دی ہے اور اب اگر انہیں ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے لیے کہا گیا تو وہ اس پیشکش کو قبول کرلیں گے۔

یونس خان نے کہا کہ کولکتہ ٹیسٹ سے بدترین صورتحال ان کے کریئر میں اور کوئی نہیں ہوسکتی تھی جہاں گیارہ کطلاڑیوں کی ٹیم ترتیب دینا مشکل ہو گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ ان حالات میں کپتانی کرسکتے ہیں تو پھر کسی بھی صورتحال میں قیادت ان کے لیے مشکل نہیں لہذا انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اگر ٹیسٹ ٹیم کے لیے انہیں کپتان بناتا ہے تو وہ انکار نہیں کریں گے۔

تاہم یونس خان نے یہ واضح کردیا کہ وہ بے اختیار کپتان بننے کو کبھی بھی ترجیح نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گیند پاکستان کرکٹ بورڈ کے کورٹ میں ہے کہ وہ کیا سوچتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے۔

یونس خان نے کہا کہ ذاتی طور پر وہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کی طرح پاکستان کو بھی کسی کوچ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو ٹیم کی رہنمائی کرسکے۔

پاکستانی ٹیم کے تجربہ کار بیٹسمین نے کہا کہ اوپننگ، فٹنس اور فیلڈنگ کے مسائل کھل کر بھارتی دورے میں سامنے آئے ہیں۔’ون ڈے میں ایک آل راؤنڈر کی شدید ضرورت ہے جو رنز بھی بنائے اور وکٹیں بھی حاصل کرے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی مستقل مزاجی کا فقدان دکھائی دیا۔اگر فاسٹ بولرز اچھی بولنگ کر رہے تھے تو دانش کنیریا سے انہیں مدد نہیں ملی اور جب کنیریا اچھی بولنگ کررہے تھے تو فاسٹ بولرز کہیں دکھائی نہیں دیے۔‘

یونس خان نے کہا کہ ان کی بین الاقوامی کرکٹ دو تین سال رہ گئی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ جب کرکٹ سے رخصت ہوں تو نئے لڑکوں کو تیار کرکے جائیں اور کئی دوسرے کپتانوں کی طرح صرف باتیں کرکے نہ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی کپتانی میں تیار ہونے والے کرکٹرز ان کے جانے کے بعد بھی سات آٹھ سال تک کھیلتے رہے اور اسی طرح چند کرکٹرز راشد لطیف نے تیار کیے۔

یونس خان نے کہا کہ بھارت کے دورے میں پاکستانی ٹیم کو جیتنے کے مواقع ملے لیکن وہ گنوا دیےگئے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک بولر اور ایک بیٹسمین سے میچ نہیں جیتے جاتے، وقت آگیا ہے کہ ہر کرکٹر اپنی ذمہ داری کا احساس کرے ورنہ پاکستانی کرکٹ جہاں ہے اس سے بھی نیچے چلی جائے گی۔‘
__________________
----------
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, پاکستانی, مسائل, خان, سال, شخص, عمران, عمران خان, صورتحال, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پڑھتا جا شرماتا جا قاسم شاہ گپ شپ 5 02-03-11 02:16 PM
خطا کو دیکھتا ہوں اور سزا کو دیکھتا ہوں عبدالقدوس شعر و شاعری 2 02-11-10 07:05 PM
جو دیکھتا ہو وہی لکھتا ہو wajee عمومی بحث 17 28-07-09 11:28 PM
::: لیاری سے 7 سالہ بچہ پراسرار طور پر لاپتا::: ابو کاشان خبریں 0 03-01-08 12:25 PM
سلمان بٹ نئے نائب کپتان زبیر کرکٹ 11 06-08-07 02:32 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:09 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger