واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > کفروشرک



کفروشرک کفروشرک


توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 1::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-12-07, 05:21 PM  
توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 1::::
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 18-12-07, 05:21 PM

السلام علیکم ،
چند دِن پہلے توحید کے تعارفی رواں خاکہ جات ارسال کیے تھے ، جِن پر کسی قسم کا کوئی جواب موصول نہیں ایسا لگتا ہے یا تو کسی نے ادھر توجہ ہی نہیں کی ، یا جس جس نے دیکھا وہ پہلے ہی جانتا تھا یا اس کے لیے کوئی ضروری یا اہم بات وہاں میسر نہیں تھی ، اللہ ہی بہتر جانے ،
توحید کی دعوت کا ہمشیہ ایسا ہی استقبال ہوتا ہے ، اور دعوت دینے والا بہر حال اپنے رب کی رضا کے لیے دعوت دیتا رہتا ہے ،
پس ، اگلے رواں خاکہ جات ، جن میں مختصر طور پر کسی کی زندگی میں سے توحید کو ختم کر دینے والے کاموں کا ذَکر ہے ارسال کر رہا ہوں ، انشا اللہ ان کے بعد توحید کو کم کر دینت والے کاموں کا تعارف ارسال کروں گا
السلام علیکم

Attached Thumbnails
f_chart_4_shirk_1_2.jpg  


عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 6936
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (01-01-10), shafresha (24-03-10), نورالدین (02-03-10), مون لائیٹ آفریدی (12-07-08), مباح (05-03-10), محمد عاصم (02-05-10), مسلم بھائی (28-05-10), ارشد کمبوہ (21-10-10), شریف (03-03-10), عارف اقبال (24-03-10), عبداللہ آدم (12-03-10)
پرانا 23-03-10, 05:06 PM   #166
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
السلام علیکم:

عابد بھائی اس تھریڈ کا لنک بھی دے دیں جھاں اپ نے عبد اللہ بن مسعود والے اثر کا رد کیا ہے۔ہم بھی تو دیکھیں کہ فہم صحابہ کا رد کس انداز میں کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام پیارے بھائی یہ رہا لنک اس تھریڈ کا باقی وہ رد میں نے اپنی ذاتی حیچیت سے نہیں کیا بلکہ متقدمین علماء کرام اور محدثین کے حوالے اسے یہاں نقل کیا اور یہاں چونکہ میں نے نقل کیا ہے تو روانی میں بطور عرف یہ کہہ دیا کہ ہم رد کرچکے بحرحال میں کوئی عالم دین نہیں ہوں البتہ دین کا ادنٰی سا طالب علم ضرور ہوں ۔۔ ۔
اقتباس:
نہ ہی تو آپ نے اپنے نقطہ نظر کے مطابق پائی جانے والی کچھ بدعات گنوائی ہیں اور نہ ہی کچھ نئی برائیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو زمانہ نبوی میں نہ پائی جاتی تھیں اور آج ہیں۔۔۔۔۔۔۔

در اصل آپکا مزعومہ قانون اباحت اسلام میں کسی بھی نئی چیز کو بدعت کہنے کی گنجائش چھوڑتا ہی نہیں ہے،جو بھی اچھا سمجھو کرو،بس ہر اچھی چیز دیں ہے،چاہے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہو نہ بتائی ہو،اس طرح تو آپ (نعوذ باللہ)بنی صلی اللہ علیہ و سلم پر بالواسطہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ انہیں کچھ حسنات کا پتہ تو تھا لیکن انہوں نے امت کو نہیں بتلایا جو کہ قرآن کے صریحا خلاف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(یا ایھا السول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ))المائدہ)

احادیث کا آپ رد کرتے ہیں،صحابہ کا فہم آپکو سمجھ نہیں آتا،پھر آپ کس اسلام کی بات کرتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟

بھرحال خوش رہیں

والسلام
دیکھیئے یہاں آپ اپنی کج فہمی کی بنا پر فضول میں بحث کیئے جارہے ہیں آپکو اگر بدعت کے مسئلہ کی سمجھ نہیں تو دھیرج رکھیئے اور مجھے اور عادل سہیل بھائی کو گفتگو کرنے دیجیئے رہ گئی اباحت کے قانون کی بات اور آپکو ہمارا پیش کیا گیا نظریہ قابل قبول نہیں تو میری آپ سے گذارش ہے کہ آپ الگ سے ایک دھاگا کھول لیں اور وہاں اپنے فہم کی مطابق اسلام کے قانون اباحت کی وضاحت فرمائیں ہم وہاں پر آپکے ساتھ فقط اسی موضوع پر گفتگو کریں گے طریقہ کار یہ رکھ لیتے ہیں کہ پہلے آپ اپنے فہم کے مطابق اسلام کے نظریہ اباحت کی وضاحت کیجئے اور پھر اس فہم کے صحیح ہونے پر قرآن و سنت اور دیگر ماخذات شریعت سے دلائل پیش کریں پھر ہمیں جہاں جہاں اختلاف ہوگا ہم اپنے سوالات کی صورت میں آپ سے مزید وضاحت طلب کرتے چلے جائیں گے اور یوں آپکا نظریہ اباحت نکھر کر لوگوں کے سامنے آجائے گا پھر ہمارے کیئے گئے سوالات پر آپ کے جوابات کی روشنی میں اگر ہمارا اور آپکا اتفاق ہوگیا تو فبھا وگرنہ ہم پھر سے اسلام کے قانون اباحت کی توضیح بیان کردیں گے اور آپکو کسی بھی قسم کہ سوالات کی اجازت ہوگی لیکن شرط یہ ہوگی وہاں گفتگو فقط اصول اباحت پر ہوگی کوئی بھی فریق خلط مبحث نہیں کرے گا اگر آپکو یہ تمام باتیں منظور ہیں تو بسم اللہ کیجیئے والسلام

Last edited by آبی ٹوکول; 23-03-10 at 05:11 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (14-02-12), کنعان (23-03-10), اویسی (24-03-10), حیدر Rehan (24-03-10), عبداللہ آدم (23-03-10)
پرانا 23-03-10, 11:49 PM   #167
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مجھے اعتراض اسلام کے قانون اباحت پر نہیں آپ کے اس نظریے پر ہے کہ اس قانون میں عبادات بھی شامل ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصل بات دین میں ہر نئے (((((((عمل)))))کے بدعت ہونے نا نہ ہونے کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
بہرحال آپ کی بات ٹھیک ہے کہ اس پر ایک علیحدہ تھریڈ میں بات ہونی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کل پیپرز کا سیزن ہے تو فارغ ہو کر مستقل ایک موضوع پوسٹ کر دوں گا ۔ان شاءاللہ۔

والسلام
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (14-02-12)
پرانا 24-03-10, 02:47 PM   #168
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میری انتظامیہ سے گذارش ہے کہ برائے مہربانی اس تھریڈ میں اصل موضوع سے ہٹ کر جتنے بھی مراسلے ہیں ان سب کو کسی الگ تھریڈ میں جمع کردیا جائے تاکہ یہان پر اصل موضوع پر بحث ہوسکے اور میری اویسی بھائی اور ساہج بھائی سے بھی گذارش ہے کہ پلیز یہاں پر فضول بحث نہ کریں والسلام

Last edited by آبی ٹوکول; 24-03-10 at 03:37 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (14-02-12), فیصل ناصر (24-03-10), حیدر Rehan (25-03-10)
پرانا 24-03-10, 09:24 PM   #169
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
یہ دلیل ہے قران پاک میں سے ، بھائی عابد عنایت ، اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق عطاء فرمائی تو ان تفاسیر میں سے مکمل نصوص ترجمے کے ساتھ اِن شاء اللہ تعالیٰ ایک الگ دھاگے میں ذکر کروں گا ،
اسلام علیکم عادل سہیل بھائی سب سے پہلے تو دیر سے جواب دینے پر معذرت خواہ ہوں امید ہے آپ عذر قبول فرمائیں گے اب آتا ہوں آپ کی پیش کردہ قرآنی دلیل کی طرف ۔ ۔ ۔
سب سے پہلے تو آپکی یہ دلیل پڑھ کر مجھے بہت ہی افسوس ہوا عادل بھائی آپکی پیش کردہ اس دلیل سے یہ صاف پتا چلتا ہے کہ آپکو اصول تفسیر سے زرا بھی شغف نہیں رہا ۔ ۔ ۔
میرے بھائی میں نے آپ کے سامنے قرآن پاک کی صریح اور واضح آیت بطور دلالۃ النص کہ رکھی کہ جس میں لفظ عبد کی نسبت غیر اللہ (یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسری آیت میں غلاموں کی نسبت ان کے مالکوں کی طرف صریحا لفظ عبد کے ساتھ ) کی گئی ہے اور یہ دلالۃ النص اتنی واضح اور اتنی صریح کہ اس کے مقابل میں کسی اسرائیلی روایت کی کوئی حیثیت نہیں اور خاص طور پر اس وقت کہ جب اس اسرائیلی روایت سے عصمت انبیاء کا عقیدہ مجروح ہورہا ہو ۔ ۔ ۔
میرے بھائی میں ہم بار بار کہہ چکے کہ آپ کا دعوٰی ہے کہ غلام رسول اور عبد الرسول نام رکھنا اللہ پاک کی الوہیت میں شرک ہے لہذا آپکو معلوم ہونا چاہیے کہ شرک کیا ہے؟؟؟؟؟؟

شرک ایک ایسا حرام فعل ہے کہ جو بندے کو کافر و مشرک بنا دیتا ہے اور اصولی قاعدہ یہ ہے کہ حرام کا ثبوت نص قطعی سے دیا جاتا ہے ۔ ۔ مگر آپ ابھی تک ایک بھی نص صریح بطور ثبوت دعوٰی نہیں پیش کرسکے اس پر طرفہ یہ ہے کہ آپ نہ صرف ایک شئے کا حرام ہونا ثابت کررہے بلکہ آپ کا دعوٰی تو اس بھی بڑھ کر کفر اور شرک کا ہے اس لیے آپ کو سوچنا چاہیے کہ ایک مخصوص فعل کو شرک کہنے کے لیے آپکو کس قسم کی دلیل کی ضرورت ہوگی ۔ ۔ ۔
یاد رہے کہ ہم نے قرآن پاک میں سے دو نصوص قطیعہ پیش کی ہیں جن میں سے ایک تو اس قدر جلی ہے کہ اس میں صریحا غیراللہ کی جانب لفظ عبد کی نسبت ہے اور ہماری یہ دونوں دلیلیں قرآن کے الفاظ (دلالۃ النص ) ہیں نہ کہ کوئی تفسیری قول کیونکہ یہ ایسی واضح ہیں کہ انکی کوئی دوسری تاویل کی ہی نہیں جاسکتی سوائے اس تاویل کہ جو کہ ہم نے پیش کی ۔ ۔ ۔
اب آتے ہیں آپکی پیش کی گئی تفسیر کی طرف ۔ ۔ ۔ ۔
اقتباس:
تفیسر ابن کثیر ، تفیسر القرطبی ، تفیسر الطبری،تفسیر التسھیل لعلوم التزیل اور تفیسر بحر العلوم ، وغیرہ میں اس آیت مبارکہ کی تفیسر میں آپ کو وضاحت سے یہ ملے گا کہ اس آیت مبارکہ میں میاں بیوی کے جس شرک کا ذکر کیا گیا ہے وہ شرک اللہ کے ناموں میں کیے جانے والا شرک ہے ،
یعنی """ الأسماءالتعبدیۃ ::: عبادت والے نام """ ایسے نام جن میں بندے کی بندگی نسبت اللہ کے ساتھ ظاہر ہو ، اُن ناموں میں شرک ہے اور وہ یہ ہے کہ ایسے نام رکھے جائیں جن میں بندے کی بندگی کی نسبت اللہ کے علاوہ کسی بھی اور کی طرف ظاہر ہو
جی بالکل درست یہ تفسیر ہرگز ہمارے معارض نہیں کیونکہ یہ آیت مشرکین کی بابت نازل ہوئی اور کون نہیں جانتا کہ مشرکین اپنے خود ساختہ معبودوں کی پوجا یعنی عبادت کیا کرتے تھے اس لیے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وہ (یعنی مشرکین) اپنے ہاں پیدا ہونے والے بچے کے نام کی نسبت جب اپنے جھوٹے معبود کی طرف کرتے تھے تو وہاں لفظ عبد بمعنی بندگی ہی کے استعمال کرتے تھے اور بالفرض اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ وہ مشرکین بھی اپنے بچوں کے ناموں کی جو نسبت اپنے معبودوں کی طرف کیا کرتے تھے یعنی عبدالعزٰی اور عبد المنات وغیرہ اس نسبت سے انکی مراد بھی فقط عبد بمعنٰی غلام ہوا کرتی تھی تو تب بھی انکا یہ فعل شرک ہی ہوگا وہ اس لیے کہ جب انھوں نے اللہ کے سوا غیر اللہ کو اپنا معبود تسلیم کرلیا یعنی ایک سے زائد الٰہ تسلیم کرلیئے تو اب وہ انکے لیے جو بھی عمل کریں گے چاہے وہ تعظیم کی نیت سے ہو یا عبادت کی نیت سے ہر دونوں صورتوں میں شرک ہے وہ اس لیے کہ انھوں نے غیر الٰہ کو الٰہ جانا اب اس کی چاہے عبادت کریں یا تعظیم دونوں صورتوں میں وہ مشرک ہی ہیں۔ لہذا کسی مسلمان سے یہ ہرگز متصور نہیں کہ جب وہ کلمہ لا الٰہ الا اللہ پڑھ لے تو پھر وہ کسی غیر خدا کی پوجا بھی کرے لہزا مسلمان جو غلام رسول یا عبد الرسول نام رکھتے ہیں وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں تعظیم میں رکھتے ہیں نہ کہ کسی بھی مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ آپ کو (معاذاللہ ) معبود سمجھتا ہو ۔اور ہم پہلے بھی واضح کرچکے کہ شرک نام ہے عقیدہ کا نہ کہ کسی بھی فعل کو براہ راست شرک کہا جاسکتا ہے اور عقیدہ باطن میں ہوتا ہے جو بغیر بندے کہ خود بتلائے کوئی دوسرا نہیں جان سکتا اور اعمال بلاشبہ عقیدہ سے نمو پاتے ہیں جبکہ عقیدہ اعمال سے نمو ہرگز نہیں پاتا ۔ ۔ ۔ ۔

اقتباس:
اورتفسیر القرطبی میں یہ عبارت بھی :::
(((((واختلف العلماء في تأويل الشرك المضاف إلى آدم وحواء وهي الثالثة قال المفسرون كان شركا في التسمية والصفة لا في العبادة والربوبية وقال أهل المعاني إنهما لم يذهبا إلى أن الحارث ربهما بتسميتهما ولدهما عبد الحارث ،،،،، ::: عُلماء اُس شرک کی تفسیر میں مختلف ہیں جس شرک کی نسبت آدم اور حواء (علیہما السلام ) کی طرف کی گئی (کہ) اُن دونوں نے نام رکھنے میں اور صفت میں شریک بنایا نہ عبادت اور ربوبیت میں اور اھل معانی کا کہنا ہے کہ اُن دونوں نے اپنے بیٹے کا نام عبدالحارث یہ سمجھ کر نہیں رکھاکہ حارث اُن کا رب ہے ،،،،، ))))) یہ تاویل اس صورت میں ہے جب یہ بات ثابت ہو کہ یہ واقعہ آدم اور حواء علہیا السلام کا ہے تو چونکہ انبیاء علیہم السلام ہی معصوم ہیں لہذا اُن سے شرک سرزد ہونا ممکن نہیں

اول تو آپ نے تفسیر قرطبی کی عبارت پوری پیش نہیں کیونکہ اگر آپ پوری عبارت پیش کردیتے تو یہ آپکی بات کی بجائے ہمارے مؤقف کی دلیل بن جاتی خیر ہم آپ سے حسن ظن رکھتے ہوئے اسے آپ کا تسامح سمجھتے ہیں نہ کے جان بوجھ کر یہ فعل آپ سے سرزد ہوا لیجیئے تفسیر قرطبی سے پیش کردہ آپ کے اقتباس کی مکمل عبارت ۔ ۔
الثالثة ـ قال المفسرون: كان شِرْكاً في التسمية والصفة، لا في العبادة والربوبية. وقال أهل المعاني: إنهما لم يذهبا إلى أن الحارث ربهما بتسميتهما ولدهما عبد الحارث، لكنهما قصدا إلى أن الحارث كان سبب نجاة الولد فسمّياه به كما يسمِّي الرجل نفسه عبد ضيفه على جهة الخضوع له، لا على أن الضيف ربُّه؛ كما قال حاتم:وإني لَعبد الضّيف ما دام ثاوياً وما فيّ إلاّ تِيكَ من شِيمة العبدِ
اس عبارت میں خط کشیدہ الفاظ بڑی توجہ کے حامل ہیں اس تاویل کہ مطابق اگر بفرض محال یہ تسلیم کرلیا جائے کہ مزکورہ قصہ واقعی ہی میں حضرت آدم و حوا کا ہے تو مصنف نے جو تاویل کی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ لفظ عبد کی نسبت حضرت آدم و حوا نے جو غیر اللہ کی طرف کی اس سے مراد بندگی والا عبد نہ تھا بلکہ وہاں لفظ عبد کی نسبت حارث کی طرف فقط اس سبب سے تھی کہ حارث ان کے بیٹے کی خیریت کا سبب بنا ۔ ۔ ۔
مصنف نے اس تاویل کی زریعے حضرت آدم و حوا کو شرک سے بری کیا ہے اور شرک سے بری کرنے کے لیے مصنف نے جو نکتہ بیان کیا ہے وہی اصل میں ہمارا مؤقف ہے یعنی مصنف کا یہ کہنا کہ یہاں نام میں جو حارث کی طرف نسبت ہے وہ اسے رب سمجھتے ہوئے نہیں یعنی الٰہ سمجھتے ہوئے نہیں یعنی آدم و حوا نے اس حارث کی بندگی نہیں کیونکہ یہاں لفظ عبد بندگی والا نہیں ہے بلکہ آدم و حوا نے حارث کو اپنا محسن سمجھتے ہوئے تعظیم سے اسکی طرف اپنے بچے کے نام کی نسبت کی لہزا یہاں لفظ عبد بجائے بندگی کے تعظیم کے معنوں میں ہوگا اور یہی ہمارا مؤقف ہے وگرنہ اگر فقط نام میں اشتراکیت ہی کی وجہ سے شرک لازم آتا تو پھر مصنف کو اول تو یہ تاویل کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی وہ سیدھا سیدھا لکھ دیتا کہ چونکہ شرکیہ نام رکھا سو شرک کا وقوع پایا گیا قطع نظر اس کے یہ قصہ صحیح ہو یا غلط، جیسا کہ آپ نے بھی لکھا یہ یہ تاویل اس وقت درست ہے جب کہ یہ قصہ صحیح ہو ۔ لہزا جب آپکو بھی برصحت قصہ یہ تاویل قبول ہے تو پھر یہ تاویل آپکے موقف کی نفی کررہی ہے ۔ ۔ فاعتبروا یا اولی البصار ۔ ۔ ۔

اقتباس:
اس کے بعد ان شاء اللہ تعالیٰ اُس حدیث مبارک کے بارے میں بات کروں گا جس کو آپ نے اپنے زعم میں معاذ اللہ """ باطل """ قرار دے لیا ہے

پیارے بڑے بھائی ہم نے ہرگز حدیث کا بطلان نہیں کیا اور یہ آپ بھی جانتے ہیں پھر نہ جانے کیوں ہمارے خلاف ایسے الفاظ لکھ کر آپ لوگوں کے ذہنوں میں ہمارا کیا تاثر پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔ آپکو معلوم ہے کہ ہم نے حدیث کا رد نہیں کیا بلکہ اس حدیث سے جو آپکی مراد اور جو مفھوم آپ لے رہے تھے ہم نے خود اسی حدیث کے الفاظ کو دلیل بناتے ہوئے آپ کے مفھوم و مراد کا بطلان ثابت کیا ۔ ۔ ۔ ۔
کیونکہ آپ کا دعوٰی تھا غلام رسول اور عبدالرسول دونوں ہی شرک ہیں جبکہ اسکی دلیل کہ بطور جو حدیث آپ نے پیش کی اس کے الفاظ میں لفظ غلام کی اجازت تھی سو ایک ایسی حدیث آپ کے دعوٰی کی کیسے دلیل بن سکتی ہے کہ جسکی مکمل عبارت آپکے مکمل دعوٰی کی تصدیق نہ کرئے کیا آپ نے (معاذاللہ) یہودیوں والا طریق اپنانا ہے کہ آدھی عبارت سے دلیل اور آدھی کو چھوڑ دیا جو اپنے خلاف ہو ۔ ۔ ۔ ۔
آخر میں ہم اپنے قارئین کرام کے لیے ایک بار سے تمام موضوع پر ہونے والی اپنی اور عادل بھائی کی بحث کے ضمن میں تمام دلائل کا خلاصہ پیش کردیتے ہیں تاکہ اصل نفس مسئلہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے قارئین اس بحث سے مستفید ہوسکیں ۔ ۔
بھائی عادل سہیل کا دعوٰی :- غلام رسول اور عبدالرسول نام رکھنا اللہ کی الوہیت میں شرک ہے ۔۔
دعوٰی کی دلیل :- دعوٰی کی اول تو کوئی دلیل نہ تھی اور ہمارے اصرار پر جب دلیل آئی بھی تو اول وہ حدیث کہ جس کا متن خود غلام کہنے کی اجازت دے رہا تھا لہذا وہ ان کے مکمل دعوٰی کی دلیل ہرگز نہیں بن سکتی پھر قرآنی آیت کی صورت میں جو دلیل عادل سہیل بھائی نے دی وہ بھی ایک ضعیف اسرائیلی روایت کو پیش کیا انھوں نے ہماری پیش کردہ واضح قرآنی آیت کے مقابلے میں ہماری دلیل جو کہ دلالۃ النص ہے اس کے مقابلے میں ایک ایسے تفسیری قول سے دلیل پکڑنا جو کہ شدید ضعیف اور عصمت انبیاء کے عقیدہ کو مسخ کردینے والا ہو ہرگز عادل بھائی کو زیبا نہ تھا مگرررررر خیر ہم نے اس تفسیر کو بھی واضح کردیا اور اسکی ہماری دلیل کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے اس کو بھی واضح کردیا ۔ ۔ ۔آخر میں عادل بھائی سے چند سوالات مزکورہ مسئلہ کی ضمن میں ۔ ۔
سوال نمبرایک :- اگر فقط غلام رسول اور عبد الرسول نام رکھنا ہی الوہیت میں شرک ہے تو اس کی کوئی واضح دلیل بطور ثبوت پیش کریں ؟؟؟؟
سوال نمبر دو :- اگر فقط نام میں پائی جانے والی ظاہری نسبت کی اشتراکیت ہی کسی کو مشرک ثابت کرتی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ خود قرآن نے غیراللہ کی جانب اسی ظاہری نسبت کو استعمال کیا ؟؟؟ جیسا کہ عبادکم کے الفاظ اس پر دال ہیں ۔ ۔ ۔
والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (24-03-10), حیدر Rehan (25-03-10), عبداللہ آدم (24-03-10)
پرانا 24-03-10, 09:44 PM   #170
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی عابد عنایت ،
الحمد للہ آپ کا جواب میری توقع کے عین مطابق ہے ،
میرے بھائی ، اگر آپ اللہ کےکلام پاک میں بچے کے نام میں غیر اللہ کی طرف بندگی کی نسبت کو شرک قرار دینا بھی سجھائی نہیں دیتا تو اس سے بڑھ کر اور تجاھل کیا ہو گا !!!
کیا خوب نکتہ سرإئی فرمائی ہے کہ یہ آیت مشرکین کے بارے میں تھی لہذا اس میں موجود ناموں کے شرک کا حکم مسلمانوں کے لیے نہیں ، بھائی آپ کے فہمء دین میں سوائے اس کے اور کچھ دکھائی نہیں دیتا کہ آپ اپنے چند مخصوص عقإئد کی تصحیح کے لیے ہر بات کی ایسی تاویل کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں جو آپ کی مددگار ہو سکے ، اور دوسروں پر کم علمی کا الزام تسلسل سے لگاتے ہیں ، جبکہ آپ کی باتوں میں جو علم ہے وہ بھی خوب نکھر کر سامنے آ رہا ہے ،
عابد بھائی ، دوسروں کے بارے میں اس قسم کی باتوں اور خود ستإئشی سے گریز کیا کیجیے ، یقین کیجیے آپ جو کچھ پیش کر رہے ہیں وہ محض منطق پر مبنی ہے ،
تفسیر قرطبی کی پوری عبارت پیش کر کے آپ نے اپنے موقف کی کوئی تإئید حاصل نہیں کی ، بلکہ جو میں نے مختصرا لکھا اسی کی مزید وضاحت ہو گئی ،
آج میں کوشش کرتاہوں کہ آپ کے سابقہ مراسلات کا جواب ارسال کروں ، ان شاء اللہ ،
رہا آپ کا یہ آخری مراسلہ رقم 169 تو میرے بھائی اس میں آپ کے اختیار کردہ کچھ کے مطابق سوائے تاویلات کے اور کچھ نہیں ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (24-03-10), نورالدین (25-03-10), آبی ٹوکول (24-03-10)
پرانا 24-03-10, 11:20 PM   #171
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: پہلا حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم قارٕئین اس مراسلے کو میرے سابقہ مراسلات کا تمتہ سمجھیے ، یہ جواب ان شاء اللہ کٕی مراسلات پر مشتمل ہو گا ، جو بھائی یا بہن یہ گفتگو پڑھ رہے ہیں ان سے گذارش ہے کہ سارے مراسلات ان کے تسلسل کے مطابق پڑھیں ،
محترم بھائی عابد عنایت ،
سب سے پہلے میں آپ کے جواب پر شکریہ ادا کرتا ہوں ، اور دوسرا آپ سے پیشگی معذرت خواہ ہوں کہ شاید کہیں میرا لب و لہجہ کچھ تلخی مائل ہو ،
عابد بھائی آپ نے اپنے آخری مراسلہ رقم 169 میں لکھا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں

پیارے بڑے بھائی ہم نے ہرگز حدیث کا بطلان نہیں کیا اور یہ آپ بھی جانتے ہیں پھر نہ جانے کیوں ہمارے خلاف ایسے الفاظ لکھ کر آپ لوگوں کے ذہنوں میں ہمارا کیا تاثر پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔ آپکو معلوم ہے کہ ہم نے حدیث کا رد نہیں کیا بلکہ اس حدیث سے جو آپکی مراد اور جو مفھوم آپ لے رہے تھے ہم نے خود اسی حدیث کے الفاظ کو دلیل بناتے ہوئے آپ کے مفھوم و مراد کا بطلان ثابت کیا ۔ ۔ ۔ ۔
عابد بھائی میں آپ کی توجہ اسی طرف مبذول کروانا چاہتا تھا کہ الفاظ کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے ، خاص طور پر جب دینی معاملات کے بارے میں گفتگو کی جا رہی ہو ،
اسی مناسبت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان بھی سنتے چلیے ((((( اِذا أنت صلیتَ قصلِ صلاۃ مودع و اترُک طلب کثیر من الحاجات ، فانہ فقر حاضر ، و اجمع الیأس مما فی أیدی الناس قانہ ھو الغنیٰ ، و انظُر اِلیٰ ما تعتذِرُ منہُ مِن القول و الفعل فأجتنبہ ::: جب تُم نماز پڑھو تو آخری نماز سمجھ کر پڑھو ، اور زیادہ ضروریات طلب کرنا چھوڑ دو کیونکہ یہ (زیادہ طلب کرنا) غربت ہے ، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اُس (کو حاصل کرنے سے ) مایوسی اختیار کیے رہو ، یہی تونگری ہے ، اور باتوں اور کاموں میں سے اُس کا خیال رکھو ، جس کے لیے بعد میں معذرت کرنا پڑے ، پس ایسی باتوں اور کاموں سے باز رہو ))))) المعجم الکبیر للطبرانی ،
امید ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان مبارک آپ کے ذہن میں رہے گا ،
اب میں آپ کے اس مراسلے کی طرف آتا ہوں جس میں آپ کے نئے قول کے مطابق آپ نے حدیث میں سے پہی میرے مفہوم کا بطلان ثابت کیا ہے ، و لا حول و لا قوۃ الا باللہ ، جب انسان اس قدر خوش فہمیوں میں رہنے لگے تو خیر کی امید کم ہونے لگتی ہے ، بہرحال چلیے آپ کے اس مراسلے کو لے کر چلتے ہیں :::
عابد بھائی شاید یہ آپ کی جذباتیت ہی ہے جو آپ خود کو اس قابل سمجھے کہ اپنے چند فلسفیانہ اقوال کو صحیح ثابت شدہ حدیث مبارک کو باطل ثابت کرنا خیال فرما لیا ، اور پھر صفائی پیش کرتے ہوئے یہ زعم کیا کہ اسی حدیث مبارک میں سے ہی آپ نے میرے مفہوم کو باطل ثابت کر دیا ،
میں اس حدیث مبارک والے مراسلے کو ایک دفعہ پھر یہاں نقل کر رہا ہوں تا کہ قارئین کو مطالعے کے لیے سارا معاملہ ایک ہی جگہ میسر ہو جائے :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
ریحان بھائی ، اور ان کے جیسی سوچ رکھنے والے دوسرے بھإئیوں کو لفظ """ عبد """ اور لفظ """ مولا """ اور لفظ """ رب """ کے معانی اور مفاہیم کے بارے میں اتنا تو پتہ ہونا ہی چاہیے کہ ان الفاظ کے مختلف مفاہیم ہیں ، جو الفاظ کے سیاق و سباق کے مطابق سمجھے جاتے ہیں ،
اللہ کے علاوہ کسی اور کے ساتھ """عبدیت""" کی نسبت کرنا درست نہیں ، اس کے بارے میں کوئی کچھ بھی کہتا، لکھتا ، پڑھتا ، سناتا ، لکھواتا ، پڑھاتا رہے ہمارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ حکم مبارک فیصلہ ہے کہ ((((( لَا يَقُلْ أحدكم أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ اسْقِ رَبَّكَ وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلَايَ ولا يَقُلْ أحدكم عَبْدِي أَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَايَ وَفَتَاتِي وَغُلَامِي ::: تُم سے کوئی بھی ( اپنے غلام یا باندی ) کو یہ نہ کہے کہ اپنے رب کو کھانا پیش کرو ، اپنے رب کو پانی پیش کرو اپنے رب کو وضو کرواو اور (بلکہ ) یہ کہے میرا سردار میرا آقا اور تُم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میرا بندہ ، میری بندی بلکہ یہ کہے کہ میرا نوجوان خدمتگارغُلام، میری نوجوان باندی اور میرا چھوٹا خدمتگار ))))) صحیح البُخاری/ کتاب العتق / باب ۱۷ ، صحیح مُسلم /کتاب الالفاظ مِن الادب و غیرھا /باب ۳ ،
ہمیں اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین میں ہی یہ قید بھی ملتی ہے کہ کسی کو """ سید """ ، اور """مولا """ کہنے کی اجازت صرف زرخرید غُلاموں کو اپنے مالکوں کے لیے تھی ،
قران اور صحیح احادیث مبارکہ میں جہاں کہیں """ عبد """ کی نسبت غیر اللہ سے مذکور ملتی ہے وہ زر خرید غلاموں کی بات ہوتی ہے ، """ العبید المملوک """
میں ریحان بھائی کے ایک مراسلے کے جواب میں اُن سے """ یہاں """ یہ گذارش کر چکا ہوں :::
""""""" لیکن جب معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ناموں کے ساتھ عبدیت کی نسبت ظاہر کرتے ہوئے نام رکھنے کا ہو تو پھر اللہ سبحانہُ و تعالیٰ کے ناموں میں سے جو نام بھی اختیار کیا جإئے گا وہ اسی طرح معرف صورت میں استعمال کیا جإے گا جس طرح اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اللہ کے نام بتائے ہیں ،
کسی بھی ایسے کام میں داخل ہونے سے گریز کرنا ضروری ہے جو شبہات کا سبب ہوں اور جن کی ظاہری صورت کسی غلطی یا گناہ جیسی ہو ، اس بات کو سمجھنے کے لیے ، یا یوں کہیے کہ میری اس بات کی دلیل کے طور پر ذرا غور تو کیجیے گا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے ، تابعین تبع تابعین اور خود امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ ُ کی اولاد میں سے کتنے صاحبان کا نام """ عبد العلی """ تھا ؟؟؟ اور ذرا دیکھیے اور مجھے بھی بتایے کے مسلمانوں میں قدیم و جدید کتنے """ عبد العلی """ نام والے رہے ہیں اور ہیں ؟؟؟ """""""
اور اب مزید پوچھتا ہوں ، اُن سے اور ان کے جیسے خیالات رکھنے والے تمام بھائیوں سے کہ اگر قران پاک اور حدیث مبارکہ میں عبدیت کی نسبت کسی غیر اللہ کی طرف دکھائی دینے سے وہ مفہوم میسر ہو جو آپ صاحبان کو سمجھایا گیا ہے تو میرے بھائیو ، تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، تابعین تبع تابعین ، اُن کی اولادوں میں ، خیال رہے میں اولاد کی بات کر رہا ہوں صدیوں بعد اُن کی نسل میں منسوب کسی شخص کی نہیں ، جی تو یہ سب اور وہ سب جنہیں کسی بھی طور آل رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم میں سمجھا جاتا ہے ، وہ سب جنہیں کسی بھی طور اہل بیت میں سمجھا جاتا ہے ، اور خاص طور پر خود امیر المومنین علی رضی اللہ عنہم کی اولاد میں سے کسی کا نام """ عبد علی """ تو کیا """ عبد العلی """ ہی دکھا دیجیے ، یا """ عبد الرسول """ یا """ عبد النبی """ ، یا """ عبد محمد """ دکھا دیجیے ،
بھائیو ، معاذ اللہ ، کیا اُن میں سے کسی کو قران کی سمجھ نہ تھی ؟؟؟یا احادیث کی سمجھ نہ تھی ؟؟؟ یا معاذ اللہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے ، یا علی رضی اللہ عنہ ُ سے محبت نہ تھی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
بھائیو ، یہ کیسے ہوا کہ صدیاں گذرنے کے بعد لوگوں کو قران کے وہ معانی سمجھ آگئے ، اور اللہ کے ساتھ بندگی کی نسبت جوڑنے کی بجائے غیر اللہ سے جوڑنے کی اجازت سمجھ آگئی
بھائیو ، اللہ کے واسطے بلا ثبوت کہانیوں اور ذاتی افکار پر مبنی ، اور صرف لغت کے قواعد کے مطابق اخذ کیے گئے مفاہیم کی بنا پر اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ سمجھنے کی کوشش کبھی درستگی تک نہیں پہنچا سکتی ،

تھانوی صاحب کے حوالے سے لغت کی قلابازیاں دکھاتے ہوئے ((((( لا تقنطوا )))) والی آیات کا جو مفہوم پیش کیا گیا ہے اس سے تو ((((( رحمۃ اللہ ))))) میں اللہ کا ذکر نہ ہوا بلکہ ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
بھائی عابد عنایت ایک دو روز پہلے آپ نے نظمء قران کے بارے میں ایک بہت اچھی بات کی تھی ، میں صرف یاد دہانی کرواتے ہوئے یہ گذارش کرنا چاہتا ہوں کہ ((((( لا تقنطوا )))) والی آیت مبارکہ کے سیاق و سباق پر بھی غور فرمایے اور اس کے بعد جس رب کی طرف توبہ کرتے ہوئے پلٹنے ، اور جس کے طرف سے کچھ نازل ہونے کا ذکر فرمایا گیا ہے ، لغت کے اعتبار سے یہ رب تو وہی ہونا چاہیے جس کی طرف ((((( یا عبادی ))))) میں متکلم کی ضمیر راجع ہے !!!!!!!!!!!!! تو وہ کونسا رب ہوا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
و السلام علیکم۔
میری طرف سے اللہ تعالیٰ کے ناموں اور صِفات کی توحید کے منافی نام رکھنے کو شرک کہنے کی دلیل قران پاک اور حدیث مبارک سے ہو گئی اور اُن دلائل کو صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے فعل سے سمجھنے کی بات بھی ہو گئی ، پھر میں نے قرانی دلیل کی مزید وضاحت پیش کی جسے آپ نے بقول آپ کے ہی """ کوسنے """ والے انداز میں مختلف فلسفوں کی بنا پر رد کیا ہے ، ان شاء اللہ اُس کا جواب اپنی جگہ پر دیا جائے گا ،
جی تو عابد بھائی ان مراسلات میں میرے سوالات کے جواب میں آپ نے ایک فلسفہ بیان کیا ، جس کی کوئی دلیل میسر نہیں کہ :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
مجھے بہت افسوس ہے میرے بھائی کہ اپ باربار خلط مبحث کرکے نفس مسئلہ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ اہل علم سے یہ ہرگز مخفی نہیں کہ صحابہ کرام کا کسی کام کو نہ کرنا یعنی ترک کسی بھی کام کی حرمت کی دلیل نہیں صحابہ تو کُجا خود سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کو ترک کرنا اس کی حرمت کی دلیل نہیں اور میدان استدلال میں اس قسم کے دلائل پیش کرنا خجالت کی نشانی ہے ۔ ۔
عابد بھائی ، آپ کے اس فلسفے کے """مفاسد """ بہت""" ظاہری """ ہیں ، اور اس کا سبب آپ نے اپنے اس مراسلہ میں ظاہر کیا ہے جو آپ نے حدیث کی تعریف اور اقسام کے بارے میں ارسال کیا ،
جب یہ فسلفہ ظاہر ہوا تو اللہ کے بندوں نے اس کا علمی محاسبہ کیا اور """ سُنّت """ کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے یہ بتایا کہ """ فعلی سُنّت """ میں """ سُنّت فعلیہ """ اور """ سُنّت ترکیہ """ ہوتی ہیں ، اِن شاء اللہ اس کا بیان الگ پیش کروں گا ،
عابد بھائی اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کچھ معاملات کے بارے میں چند یک طرفہ بنیادی معلومات رکھتے ہیں لیکن ان چند یک طرفہ معلومات کی بنا پرآپ کو یہ حق نہیں ملتا کہ آپ اپنے مخالف مخاطبین پر طعن و تشنیع کرتے رہیں ، اور چند گاڑھے گاڑھے الفاظ بول کر خود کو عالم اور دوسروں کو جاھل ثابت کرنے کی کوشش میں ادب ، مروت اور حِلم کو خیر باد کہتے ہوئے دوسرے مسلمانوں کی حق تلفی کرنے لگیں ،
کہا جاتا ہے """ الحلم بالتحلم و العلم بالتعلم ::: حِلم اس پر علم پیرا ہونے کی کوشش سے آتا ہے اور عِلم اُس کو حاصل کرنے کی کوشش سے ملتا ہے """
اور ، کہا جاتا ہے """ اقتضاء العِلم العمل ::: عِلم کا تقاضا (اُس پر ) عمل کرنا ہے """ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آپ جس علم کا اظہار فرما رہے اس پر عمل کا ظہور آپ کی طرف سے نہیں ہو رہا ،
آپ جس طرح مسلسل دوسروں کے ساتھ سخت کلامی اور غیر مناسب رویے سے پیش آ رہے ہیں میرے لیے بھی اپنے رویے پر برقرار رہنا مشکل ہو رہا ہے ،
کیا میں یہ توقع کروں کہ آپ مجھے میرے موجودہ رویے پر قائم رہنے میں مدد دیں گے ؟؟؟

بھائی میرے ، آپ نے میری بیان کردہ حدیث مبارک کو اپنے مزعوم دعوے کے مطابق باطل ثابت کرنے کی کوشش میں ایک جگہ فرمایا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
آپ نے دعوٰی تو یہ کیا کہ غلام رسول اور عبدالنبی وغیرہ نام رکھنا الوہیت میں شرک ہے مگر اس کی دلیل آپ قرآن سے نہ دے سکے آپکو چاہیے تھا کہ قرآن سے کوئی ایسی آیت پیش کرتے کہ جس سے یہ ثابت ہوتا کہ ایسے نام رکھنا شرک جلی ہے مگر افسوس کہ آپ ایسا نہ کرسکے آپ نے دعوٰی تو بڑے دڑلے سے کردیا مگر دلیل ایک بھی نہ دے سکے اور جو دی وہ بھی اتنی بودھی کے اس کا بطلان ہم آگے جاکر واضح کریں گے ۔ ۔ ۔ ان شاء اللہ العزیز ۔ ۔
[/COLOR]
عابد بھائی قران سے دلیل ہو چکی جس کے لیے اللہ کی طرف سے یہ ہوتا نظر نہیں آ رہا کہ وہ آپ کی سمجھ میں آ سکے ، ان شاء اللہ اس کے بارے میں آپ نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس کا جواب بھی دیا جایا گا ، فی الحال آپ کے اُس دعویٰ ء کی طرف چلتے ہیں جس میں آپ نے بزعم خود حدیث شریف کی دلیل کو بودی اور باطل قرار دے لیا ہے ،
آپ نے فرمایا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
[COLOR="Blue"]اچھا تو یہ دلیل رقم فرمائی ہے جناب نے ؟؟؟ اول تو کسی بھی مستند مفسر کے حوالہ سے اس حدیث کا سورہ نور کی مذکورہ آیت کی تفسیر ہونا ثابت فرمائیں ثانیا اگر ایسا نہیں کرسکتے تو کیا جناب کو معلوم نہیں کہ دلائل سے استدلال کا اصولی طریقہ کار کیا ہے ؟؟؟؟؟؟
میرے بھائی اگر کوئی حدیث کسی معاملے کسی مسئلے کا حکم بیان کرنے والی ہو اور اسی مسئلے سے متعلق آیت کی تفسیر میں کسی مفسر نے اس کا ذکر نہ کیا ہو تو کیا اُس حدیث مبارک میں موجود حُکم """ باطل """ ہو گیا ؟؟؟
جی عابد بھائی ، ماشاء اللہ اصول و قواعد ء استدلال کے بارے میں بھی آپ کے علم کی انفرادیت واضح ہو رہی ہے ، کیا ہی بھلا ہوتا کہ اگر آپ کو یہ محسوس ہو رہا تھا کہ مجھے """ دلائل سے استدلال کا اصولی طریقہ کار """معلوم نہیں تو بھائی یوں لٹھ مارنے کی بجائے وہ طریقہ کار ہی بیان کر دیتے ، جس طرح آپ نے """ دو ادلہ میں تعارض """ ہونے کی صورت میں اُن میں توفیق کروانے کے بارے میں بیان فرمایا ہے ، خیر ،،،،،، قدر اللہ ما شاء ،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،
جاری ہے ،،،،،،،،،،،،،،
تمام قارئین کرام سے معذرت کے ساتھ درخواست ہے آپ کے جوابات اور مراسلات کو کچھ دیر تک روک رکھیے ، مجھے عابد بھائی کے فرامین کا جواب مکمل کر لینے دیجیے تا کہ ساری گفتگو ایک تسلسل میں موجود رہے ، جزاکم اللہ خیرا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (25-03-10), آبی ٹوکول (24-03-10), عبداللہ آدم (24-03-10), عبداللہ حیدر (26-03-10)
پرانا 24-03-10, 11:38 PM   #172
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: دوسرا حصہ ::::

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ سابقہ مراسلہ سے پیوستہ ہے ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
ہم نے قرآن کی آیت نقل کی اور آپ اس کے معارض میں حدیث نقل فرما رہے اور وہ بھی ایک ایسی حدیث جو کہ ایک الگ کونٹیسٹ میں آئی ہے کہ جس سے آپ کا مدعا ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا بلکہ اگر حدیث کے الفاظ پر بنظر غائر توجہ کی جائے تو اس حدیث سے ہمارا مؤقف ثابت ہورہا ہے اور آپ کے مؤقف کی نفی ثابت ہورہی ہے ۔۔
ہمارا مؤقف تھا کہ عبد النبی یا عبد الرسول وغیرہ نام رکھنا جائز ہے اور ہم نے بطور دلیل قرآن پاک میں سے دو آیات کو پیش کیا جس میں سے پہلی آیت جو کہ ہم نے پیش فرمائی اس سے منطقی اعتبار سے ہمارا مؤقف ثابت ہورہا تھا جبکہ دوسری آیت میں تو واضح الفاظ ہیں اور وہ آیت ہمارے مدعا کی بڑی صریح دلیل ہے کہ اس میں خود اللہ پاک نے لفظ عبد کی نسبت غیر اللہ یعنی مخلوق کی جانب فرمائی ہے ۔ ۔ ۔
لہزا یہی وجہ ہے کہ جو حدیث آپ نے پیش فرمائی محدثین اس حدیث کو قرآنی آیت کے مقابلے میں ہرگز پیش نہیں کرتے بلکہ جو ظاہری تعارض ہے بھی اس کو رفع کرنے کے لیے اور قرآن و حدیث میں باہم تطبیق دینے کے لیے اس حدیث کو تعلیم و ادب پر محمول فرماتے ہیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ جو حکم نقل کرتے ہیں وہ تنزیہہ کا ہے نہ کہ تحریم و شرک کا ؟؟؟؟؟؟؟؟
بھائی جی ، تعارض کے بارے میں ان شاء اللہ ابھی تھوڑی دیر بعد بات کروں گا ، فی الحال آپ کے منقولہ بالا کلام کے جواب میں کچھ گذارشات پیش کرتا ہوں جن میں سے سب سے پہلی یہ ہے کہ ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فعل اُس کے بندوں کے لیے دلیل نہیں ہوتا کہ جو اللہ نے اپنی مخلوق کے بارے میں کہا بندے بھی وہ کہہ سکیں ،
بھائی میرے ، اللہ کے کلام میں سے احکام منطق کی بنا پر اخذ نہیں کیے جاتے ، کیا ہوا میرے بھائی کو ، یہ """ ظاہریت """ کیوں ؟؟؟؟؟
عُلماء نے اُس حدیث سے جو """ تنزیہہ """ کا حکم اخذ کیا ہے ، وہ کیا ہے عابد بھائی ؟؟؟؟؟
کس کی """ تنزیہہ """ کا حُکم ہے اور کس کام سے """ تنزیہہ """ کا حکم ہے ؟؟؟؟؟
کیا اللہ کی ذات و اسماء کو شرک سے منزہہ کرنے کے لیے نہیں ؟؟؟؟؟
یعنی با الفاظ دیگر """ شرک فی الاسماء و الصفات """سے منزہہ رہنے کے لیے نہیں ؟؟؟؟؟
یہاں پھر وہی کہنا پڑتا ہے جسے آپ عقلی دلیل کہہ چکے ہیں ، جبکہ وہ عقلی دلیل نہیں اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حجت ہے یعنی فہم الصحابہ رضی اللہ عنہم ، جی ، تو اگر معاملہ صرف اتنا سا ہی ہوتا جتنا آپ کی منطق کرشمہ ساز کو سجھائی دے رہا ہے تو بھائی ہمیں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی اولادوں میں """ عبدالرسول """ اور """ عبدالنبی """ اور """ عبد ابو بکر """ """ عبد عُمر """ قسم کے نام کثرت سے نظر آتے ، لیکن ایسا نہیں ہے ،
کیا معاذ اللہ انہیں وہ منطق سمجھ نہیں آئی تھی جو آپ کو یا جن کی آپ پڑھ سن کر یہ سب """ نچوڑ """ پیش کرتے ہیں ، آگئی ، و ما بعد الحق الا الضلال ::: اور حق واضح ہو جانے کے بعد گمراہی کے علاوہ اور کیا بچتا ہے ،
عابد بھائی فہم صحابہ رضی اللہ عنہم حجت ہے ، لیکن شاید آپ کے ہاں نہیں کیونکہ آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ترکء فعل کو بھی حجت نہیں مانتے ، صرف اسے حجت مانتے ہیں جو آپ نے کہیں سے پڑھ سن لیا ہے ، و لا حول و لا قوۃ الا باللہ ،
""""""" ::: صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے فہم کی حجیت ::: """""""
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (25-03-10), عبداللہ حیدر (26-03-10)
پرانا 24-03-10, 11:49 PM   #173
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: تیسرا حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ سابقہ دو مراسلات سے پیوستہ ہے ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
اور اصول بھی یہی ہے کہ جب بظاہر شریعہ کہ دو ادلہ کا تعارض واقع ہو تو اول ان دونوں میں تطبیق کی کوشش کی جائے اور اگر تطبیق کی کوئی صورت نہ قائم ہوسکے تو پھر قرآن کو افق حاصل ہے حدیث پر کیونکہ ہم نے جو قرآن کی آیت نقل کی وہ اپنے عموم پر اور قرآن پاک وہ الفاظ بڑے صریح اور واضح اور عمومی ہیں کہ ۔ ۔ ۔
عابد بھائی اللہ ہی جانے کہ آپ کے ہاں """ تعارض """ کی تعریف کیا ہو گی ، لغتاً اور اصطلاحاً تو """ تعارض """ کا مفہوم کسی کے مخالف ہوتے ہوئے اس کے آڑے آنا ہوتا ہے ،
اس مفہوم کے مطابق تو یقیناً وہی کچھ کیا جاتا ہے جوآپ نے لکھا لیکن محترم بھائی اُس صورت میں جب کوئی """ تعارض """ ہو ، میں نے جو حدیث مبارک پیش کی وہ آپ کی پیش کردہ سورت النور کی آیت کی""" معارض """ نہیں ، بلکہ اس کی تخصیص کرنے والی ہے ، اس کی بات ابھی کرتا ہوں ، ان شاء اللہ ،
اور """ تخصیص الکتاب بالسنۃ ::: قران کے احکام میں سے سنّت کے مطابق تخصیص کرنا """ فقہا ء کے ہاں معروف و مقبول ہے ،
آپ نے ایک اور فلسفہ بیان کیا ، اور کچھ اس طرح بیان کیا کہ پڑھنے والے کو ایک علمی قانون محسوس ہو ، فرمایا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
ہم نے جو قرآن کی آیت نقل کی وہ اپنے عموم پر اور قرآن پاک وہ الفاظ بڑے صریح اور واضح اور عمومی ہیں کہ ۔ ۔ ۔
’’اور نکاح کر دو اپنوں میں ان کا جوبے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا۔
یہاں لفظ بندہ کی نسبت عمومی اور مطلق ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے کسی مطلق کی تقیید یا تخصیص کسی خبر واحد سے نہیں کی جاسکتی کیونکہ قرآن کی آیت اپنے ثبوت اور اپنے مدلول پر استدلال دونوں میں قطعی الثبوت اور قطعی الدلاۃ ہے ۔ ۔ ۔
محترم عابد بھائی اگر ضرورت ہوئی تو ان شاء اللہ تعالیٰ """ عمومی """ اور """مطلق""" کے بارے میں بھی بات کر لیں گے ، فی الحال اتنا کہوں گا کہ """ لا یصح اطلاق اسم العموم مُطلقا ًعلی المُطللق ::: کسی مطلق کو مطلقا عمومی کہنا درست نہیں """ ، اور آپ نے ایسا ہی کیا ہے ،
اور کچھ اسی طرح کا معاملہ یہ بھی ہے کہ""" التقید یقع علی المُطلق و لیس علی العام ، فَیُخَص العام و لا یُقید ::: تقید مطلق پر واقع ہوتا ہے عمومی پر نہیں ، پس عمومی میں سے تخصیص کی جاتی ہے تقید نہیں """ ، لیکن آپ نے مطلق کی تخصیص کرنے کا ذکر فرمایا ہے جو کہ """ اصولی """ طور پر درست نہیں ہوتا !!!
اور دوسری بات جو اس پہلی سے کہیں زیادہ بعید از حق ہے اور حیرت کا باعث ہے اور وہ یوں کہ ماشاء اللہ آپ بڑی علمی اور فقہی اصطلاحات کا ذکر فرماتے ہیں ، اور یہاں بھی ایساہی کیا ہے ، لیکن شاید ان پر غور نہیں کرتے ، یا اُن کے بارے میں کچھ یک طرفہ محدودمعلومات ہی حاصل کی ہیں ،
جی تو دوسری بات یہ میرے بھائی ،کہ یہ کہاں سے سیکھا ہے آپ نے کہ """ کسی مطلق کی تقیید یا تخصیص کسی خبر واحد سے نہیں کی جاسکتی کیونکہ قرآن کی آیت اپنے ثبوت اور اپنے مدلول پر استدلال دونوں میں قطعی الثبوت اور قطعی الدلاۃ ہے ۔۔۔ """
آپ کے اس منقولہ بالا فرمان میں سے """ پر استدلال """ بالکل غیر متعلق اور اضافی الفاظ ہیں ، جو آپ کی اس عبارت کو سلجھانے کی بجائے الجھانے والی بنا رہے ہیں یوں لکھا جانا چاہیے تھا کہ """ قرآن کی آیت اپنے ثبوت اور اپنے مدلول دونوں میں قطعی الثبوت اور قطعی الدلاۃ ہے ۔۔۔ """
خیر یہ اس وقت ہمارا موضوع نہیں ، آپ براہ مہربانی کچھ وضاحت اس بارے میں فرما دیجیے کہ ،
آپ کا یہ فرمان کیا مطلق ہے ؟؟؟ یا اس پر کوئی قید ہے ؟؟؟
آپ کا یہ فرمان کیا عام ہے ؟؟؟ یا اس کی کوئی تخصیص ہے ؟؟؟
کیا عجیب یک طرفہ تماشا ہے عابد بھائی ، ایک طرف تو یہ کہہ رہے ہیں کہ :::
""" کسی مطلق کی تقیید یا تخصیص کسی خبر واحد سے نہیں کی جاسکتی کیونکہ قرآن کی آیت اپنے ثبوت اور اپنے مدلول پر استدلال دونوں میں قطعی الثبوت اور قطعی الدلاۃ ہے ۔۔۔ """
اور دوسری طرف عقائد اور عبادات ، احکام اور معاملات سب ہی میں ، کسی خبر واحد کے بھی بغیر ہی سب جو من چاہے """ احداث """ اور """ بدعات """ کو جائز قرار دیے چلے جا رہے ہیں ،
عابد بھائی جی تو چاہ رہا ہے کہ اب میں بھی یہاں کوئی ایسا جملہ یا فقرہ کسوں جو ناطقہ بگریباں ہونے کی طرف توجہ کروائے ، لیکن ان شاء اللہ میں ایسا نہیں کروں گا ، بس یہ گذارش کروں گا کہ براہ مہربانی کسی معاملے میں کوئی حکم صادر فرمانے سے پہلے ہر طرف سے معلومات حاصل کیا کیجیے ، اور یہ یقین رکھیے کہ حق اُن لوگوں میں محصور نہیں جن کا آپ مطالعہ کرتے ہیں یا کر چکے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (25-03-10), آبی ٹوکول (24-03-10), عبداللہ حیدر (26-03-10)
پرانا 24-03-10, 11:59 PM   #174
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: چوتھا حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ سابقہ تین مراسلات سے پیوستہ ہے
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
لہزا یہی وجہ ہے کہ امام مسلم نے بھی اس حدیث کو نقل کرتے وقت تحریم کا نہیں بلکہ آداب الفاط کا باب باندھا ہے
عابد بھائی شاید جلدی یا جوش میں آپ کو یاد نہیں رہا کہ صحیح مُسلم کے ابواب کے عناوین امام مسلم رحمہُ اللہ کے مقرر کیے ہوئے نہیں ہیں ، بلکہ صحیح معلومات کے مطابق امام النووی رحمہُ اللہ کے مقرر کیے ہوئے ہیں ، اور آپ کو یہ بھی پتہ ہو گا کہ امام النووی رحمہُ اللہ مسلکاً شافعی تھے اور شافعی مسلک میں عموماً """ اوامر """ کو """ استحباب """ پر اور """ نواہی """ کو """ تنزیہہ """ پر محمول کیا جاتا ہے ، اور صحیح مسلم کے ابواب میں یہ چیز بہت واضح طور پر نظر آتی ہے ،لہذا باب کے عنوان میں وہ مدلول نہیں جس کا آپ نے استخراج فرما کر اس قدرخوش ہوئے اور پر جوش ہوئے کہ""" حدیث مبارک کو بھونڈی دلیل """ کہہ دیا ، اور اس فرمان کی تو شاید وہ تاویل بھی نہ ہو سکے جو آپ نے اپنے مراسلہ رقم 169 میں پیش کی اور میں نے اس کا کچھ جواب مراسلہ رقم 171 میں دیا ہے ،
عابد بھائی ، اگر آپ کو اپنی ذاتی """ فقہ """ کے بارے میں اتنا ہی حسنءظن ہے تو بھی آپ کو یوں کہنا چاہیے تھا کہ """ اس حدیث سے جو حکم آپ نے اخذ کیا ایسا کرنا بھونڈا پن ہے """ یا اسی قسم کی کوئی بھی بات کہہ کر آپ مجھ پر غصہ نکالتے نہ کہ جوش جذبات اور زعم ء فقہ میں حدیث مبارک کو بھونڈا کہتے ، و لا حول ولا قوۃ الا باللہ ،
امید ہے میری ان گذارشات کو آپ """ کوسنوں """ میں شمار نہیں فرمائیں گے ،
اور نہ ہی """ خلط مبحث """ کا فتویٰ صادر فرمائیں گے ،
میں پوری کوشش کر رہا ہوں کہ آپ کے فرامین میں موجود موضوعات سے باہر بات نہ ہو ، اور نہ ہی میری اور آپ کی گفتگو کے محلء نزاع سے خروج صادر ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
جاری ہے ، و السلام علیکم۔

Last edited by عادل سہیل; 25-03-10 at 12:01 AM. وجہ: عنوان کا اضافہ
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (25-03-10), آبی ٹوکول (25-03-10), عبداللہ آدم (25-03-10), عبداللہ حیدر (26-03-10)
پرانا 25-03-10, 12:20 AM   #175
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: پانچواں حصہ ::::

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ سابقہ چار مراسلات سے پیوستہ ہے ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
لہزا اس حدیث سے زیادہ سے زیادہ خلاف ادب اور مکروہ تنزیہہ کا حکم ثابت ہوگا بر خلاف آپکے دعوٰی کے کہ آپ کا دعوٰی شرک و تحریم کا ہے اور کسی تنزیہی ممانعت سے شرک ثابت کرنا کس قدر بھونڈی دلیل ہے اور علمی میدان میں اس کی کیا حیثیت ہوتی ہے یہ ایک مبتدی طالب علم بھی جانتا ہے
عابد بھائی آپ مسلکاً شافعی ہیں یا اپنی بات کی درستگی کے لیے اُن کی بات کو دلیل بنا رہے ہیں یا کوئی اور سبب ہے ، میں اس بات کی کھوج نہیں چاہتا ،
اور نہ ہی آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ """ تنزیہی ممانعت """ کیا ہوتی ہے ؟؟؟
صرف اپنی کہی ہوئی چند باتیں پھر دہرا کر آپ کے اگلے فرمان کی چلتا ہوں :::
""""""" عُلماء نے اُس حدیث سے جو """ تنزیہہ """ کا حکم اخذ کیا ہے ، وہ کیا ہے عابد بھائی ؟؟؟؟؟
کس کی """ تنزیہہ """ کا حُکم ہے اور کس سے """ تنزیہہ """ کا حکم ہے ؟؟؟؟؟
کیا اللہ کی ذات و اسماء کو شرک سے منزہہ کرنے کے لیے نہیں ؟؟؟؟؟
یعنی با الفاظ دیگر """ شرک فی الاسماء و الصفات """سے منزہہ رہنے کے لیے نہیں ؟؟؟؟؟ """""""
اور اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان مبارک بھی آپ کی خدمت میں ڈرتے ڈرتے پیش کرنا چاہتا ہوں کہ کہیں اس پر بھی بطلان کا حکم وارد نہ ہوجائے ،
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ کا فرمان ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب فرمایا اور ارشاد فرمایا ((((( أَيُّهَا الناس قد فَرَضَ الله عَلَيْكُمْ الْحَجَّ فَحُجُّوا ::: اے لوگو اللہ نے تُم پر حج کرنا فرض کیا ہے لہذا تُم لوگ حج کرو )))))
ایک صحابی رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کیا """ کیا ہر سال (حج کرنا ہے فرض؟) """
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم خاموش رہے ،
اُس شخص نے تین بار اپنا سوال دہرایا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((((( لو قُلت ُ نَعم لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ::: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو( تُم لوگوں پر ہر سال حج کرنا )فرض ہو جاتا اور تُم لوگ (ہر سال حج)نہ کر سکتے )))))
اور مزید اِرشاد فرمایا (((((دَعُونِي ما تَرَكْتُكُمْ إنما أهلك من كان قَبْلَكُمْ سؤالهم وَاخْتِلَافِهِمْ على أَنْبِيَائِهِمْ فإذا نَهَيْتُكُمْ عن شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ وإذا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ::: میں جس معاملے میں تُم لوگوں کو چھوڑ دوں اُس کے بارے میں مجھے چھوڑ دیا کرو (یعنی سوال مت کیا کرو)تُم لوگں سے پہلے والوں کو اُن کے اپنے انبیاء سے سوال کرنے اوراُن پر اختلاف کرنے نے ھلاک کیا ، لہذا ، جب میں تُم لوگوں کو کسی چیز سے منع کروں تو اُس سے باز رہو ، اور جب میں تُم لوگوں کو کوئی حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اُس پر عمل کرو ))))) صحیح مُسلم /کتاب الحج /باب 73 ، صحیح البخاری /کتاب الاعتصام بالکتاب و السُنّۃ /باب 2 ، میں صرف آخری حصہ مروی ہے ،
عابد بھائی اس حدیث مبارک پر غور فرمایے ، اس میں آپ کے بیان کردہ بہت سے فلسفوں کا انکار ہے ، ان کی بات ان شاء اللہ ان سے متعلق گفتگو میں کروں گا
اس گفتگو کے موضوع تک محدود رہتے ہوئے کہتا ہوں کہ صرف یہ کہتا ہوں کہ جس کام سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے منع فرمایا ہو اس میں کسی بہانے یا حیل و حجت کے ذریعے کسی منطق کسی فلسفے کی بنیاد پر ، یا کسی بھی طورراہ فرار اختیار کرنے کی اجازت نہیں رکھی گئی ، لیکن جس کام کو کرنے کا حُکم فرمایا ہے اس میں یہ نرمی کر دی کہ اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو ، ممانعت والے حُکم پر بہر صورت عمل ہی کرنا ہے ،
عابد بھائی ، آپ جانتے ہی ہوں گے کہ """ علم الاصول الفقہ """ میں مقرر ہے کہ """ الامر یقتضی الوجوب اِلا أن یصرفہُ صارف ::: حُکم کا تقاضا وجوب ہوتا ہے سوائے اِس کے کہ کوئی اورپھیرنے والا (یعنی قران و صحیح سُنّت کی نص یا فہم صحابہ )اسےمُقام ءِ وجوب سے پھیر دے """
پس کسی بھی حُکم کو اس کی بنیادی حیثیت سے ہٹانے کے لیے کوئی """ قرینہ """ درکار ہوتا ہے ، حکم کسی کام کرنے کا ہو یا نہ کرنے کا ، یعنی امر ہو یا نہی ہو ،
جی تو ہم یہ سیکھ رہے ہیں کہ کسی نہی ، یعنی کام نہ کرنے کے حُکم کو کو کراہت یا تقسیم مزید کے تحت کراہتء تحریمی ، یا کراہتء تنزیہی پر محمول کرنے کے لیے کوئی قرینہ چاہیے ہوتا ہے ، ،، جومیری ذکر کردہ حدیث مبارک ((((( ،،،،، ولا يَقُلْ أحدكم عَبْدِي أَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَايَ وَفَتَاتِي وَغُلَامِي ::: ،،،،، تُم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میرا بندہ ، میری بندی بلکہ یہ کہے کہ میرا نوجوان خدمتگارغُلام، میری نوجوان باندی اور میرا چھوٹا خدمتگار ))))) کے لیے میسر نہیں ، لہذا اس میں مذکور ممانعت کو وجوب کی بجائے کسی اور درجے پر محمول کرنے کی کوئی صورت نہیں ، بلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا اس کے مطابق عمل اس بات کی مزید تاکید کرتا ہے کہ کسی انسان کے نام غیر اللہ کی بندگی والا ، بندگی کے اظہار والا نہیں ہونا چاہیے ،
عابد بھائی اس حدیث پاک کے الفاظ مبارک کے مدلول کی طرف توجہ فرمایے ، کہ کہاں عموم ہے اور کہاں تخصیص ؟؟؟ کہاں عموم ہے اور کہاں استثناء ؟؟؟ کہاں اطلاق ہے اور کہاں تقید ؟؟؟
جی ذرا یہ بھی بتایے گا کہ کہیں یہ حدیث مبارک اللہ کے فرمان ((((( وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ::: اور جو کچھ (حُکم ) تمہیں رسول دے وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع کرے اُس سے باز آجاؤ اور اللہ (کی ناراضگی اور عذاب )سے بچو ، بے شک اللہ تعالیٰ بہت سخت سزا دینے والا ہے ))))) سے تعارض تو نہیں رکھتی ؟؟؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (25-03-10), آبی ٹوکول (25-03-10), عبداللہ حیدر (26-03-10)
پرانا 25-03-10, 12:38 AM   #176
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: چَھٹا حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
یہ مراسلہ سابقہ پانچ مراسلات سے پیوستہ ہے
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
پھر میں یہ کہتا ہوں کہ آپکا تو دعوٰی ہے کہ غلام رسول نام رکھنا بھی شرک ہے جبکہ آپکی بیان کردہ اس حدیث میں صاف طور پر وارد ہوا کہ عبد کی بجائے غلام کہہ لیا کرو اور اب جب کوئی اس حدیث ہی کی رو سے خود کو رسول کا غلام کہلوائے تو کیا معاذ اللہ وہ کافر و مشرک ہوگیا ؟اناللہ وانا الیہ راجعون [/COLOR]
واہ واہ سبحان اللہ کیا دلیل ہے اور کیا ہی عجیب بھونڈی اور الٹی منطق ہے
عابد بھائی ، میرا حسنء ظن یہی ہے کہ آپ کو عربی کے """عبد """ اور """ غلام """ اردو کے """ غلام """ کا معنی اور مفہوم سمجھنے میں کچھ گڑ بڑ ہو رہی ہے ورنہ جان بوجھ کر تو آپ ایسا نہیں کر رہے ہوں گے ،
بھائی میں نے اُس حدیث مبارک کا جو ترجمہ کیا تھا کہ :::
((((( ،،،،، ولا يَقُلْ أحدكم عَبْدِي أَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَايَ وَفَتَاتِي وَغُلَامِي ::: ،،،،، تُم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میرا بندہ ، میری بندی بلکہ یہ کہے کہ میرا نوجوان خدمتگارغُلام، میری نوجوان باندی اور میرا چھوٹا خدمتگار )))))
بتایے تو حدیث کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا """ غلام """ کہلانا کہاں ہے ،؟؟؟؟؟ و لا حول و لا قوۃ الا باللہ ،
اگر کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ، یا کسی اور بزرگ و مقدس ہستی کا خدمتگار کہلانا ہے تو وہ ایسا لفظ استعمال کرے جس میں نہ تو بندگی کی نسبت کا کوئی شائبہ ہو اور نہ ہی اُس کی ملکیت والا غلام ہونے کا ، بلکہ خدمتگاری کا ذکر ہو لہذا """ خادم رسول """ رکھا جا سکتا ہے ،
اگر آپ کو حدیث مبارک میں استعمال شدہ لفظ """ غُلام """ کی وجہ سے یہ خوش فہمی ہوئی ہے کہ آپ اسی حدیث مبارک کے ذریعے میرے فہم کو باطل ثابت کر رہے ہیں اور یہ ثابت کر رہے ہیں کہ """""" اس حدیث میں صاف طور پر وارد ہوا کہ عبد کی بجائے غلام کہہ لیا کرو """"""" تو میرے بھائی کیا آپ ہمیں یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ عربی کے """ غلام """ کا اردو ترجمہ کیا ہو گا ؟؟؟؟؟
اور اردو کے """ غُلام """ کا عربی ترجمہ کیا ہو گا
؟؟؟؟؟
میں اپنے حسنء ظن کو دہراتا ہوں کہ آپ کو عربی کے """عبد """ اور """ غلام """ اردو کے """ غلام """ کا معنی اور مفہوم سمجھنے میں کچھ گڑ بڑ ہو رہی ہے ورنہ جان بوجھ کر تو آپ ایسا نہیں کر رہے ہوں گے ،
جی میں آپ کے طرف سے ان مذکورہ بالا دو سوالات کے جواب کا منتظر رہوں گا ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
جاری ہے ، و السلام علیکم۔

Last edited by عادل سہیل; 26-03-10 at 02:24 AM. وجہ: عنوان کا اضافہ
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (25-03-10), نورالدین (25-03-10), آبی ٹوکول (25-03-10), عبداللہ آدم (25-03-10), عبداللہ حیدر (26-03-10)
پرانا 25-03-10, 01:57 PM   #177
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔۔
عادل سہیل میرے سوال کا جواب کہ کئی بار کرچکا ہوں۔۔۔۔۔

قرآن میں کم از کم دس بار تو اللہ نے اپنا نام علی لکھا ۔۔۔۔۔پھر بھی اپ نے اپنے بےتکی منطق و قیاس اور رائے کو دلیل بناتے ہوئے کہ کہا کہ کیسے صابت کیا جائے گا کہ لوگوں نے جو عبدالعی اور غلام علی رکھے ہیں وہ نسبت اللہ کی طرف ہے یا مولا علی (ع) کی طرف ہے ) اس لیے یہ عبدلعلی اور غلام علی نام رکھنے والہ کافر اور مشرک اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔

قرآن میں اللہ نے حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم کو روف اور کریم اور رحیم کے نام سے بھی ایات پیش کی ہیں اب اپکا اور اپکے ان کم علم علما کا اور بد عقل ساتھیوں کا کیا خیال ہے ؟؟

جب اللہ کا ایک نام علی ہوتے ہوئے اپ نے کہا کہ عبدالعی نام رکھنے والہ کافر ہے
کیا اللہ کا ایک نام روف نہی ہے؟ تو کیا عبدالروف نام رکھنے والہ بھی کافر قرار دیں گئے ؟


کیا اللہ کا ایک نام کریم نہی ہے ؟ تو کیا اپ کے علما عبدالکریم نام رکھنے والے کو بھی اسلام سے خارج قرار دیں گئے؟
کیا اللہ کا ایک نام رحیم بھی ہے تو کیا اپ کے جیسے اور بے علم شخص اس بات کی مخالفت کریں گئے کہ عبدالرحیم نام رکھنے والہ کافر ہے مشرک ہے اسلام سے خارج ہے؟؟

کیونکہ یہاں بھی وہی بات ہے کہ پتا نہی کسی شخص نے اپنا نام حضرت علی (ع) کی نسبت سے رکھا ہے یا اللہ کی نسبت سے رکھا ہے۔یا اب یہ کہ کیا پتا کسی شخص نے اپنا نام عبدلرحیم ، عبدلکریم یا عبدلروف نام رکھ تو لیا ہے مگر نسبت کس کی طرف ہے ۔۔۔۔ اللہ کی طرف یہ حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم کی طرف
لوگوں نے اپنے نام ( عبدلروف ، عبدلکریم ، عبدلرحیم ) نام اللہ کی نسبت سے رکھے ہیں یا حضرت محمد (ص) کی نسبت سے؟
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
اویسی (25-03-10)
پرانا 26-03-10, 02:39 AM   #178
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: ساتواں حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ میرے سابقہ چھ مراسلات سے پیوستہ ہے ،
میں نے سب محترم قارئین سے گذارش کی تھی کی تھی کہ جب تک میں بھائی عابد کے لیے جوابات مکمل نہ کر لوں اس وقت تک آپ صاحبان اپنے مراسلات روکے رکھیے ، تا کہ بات کا تسلسل برقرار رہے ، جن بھائیوں نے میری درخواست منظور کی اللہ انہیں جزائے خیر سے نوازے ،
بھائی ریحان حیدر نے میری گذارش کو قابل اعتناء نہیں سمجھا اور اپنا مراسلہ جسے شاید وہ کوئی بڑی جاندار دلیل خیال کیے ہوئے ہیں پھر سے ارسال کر کے بات کا تسلسل خراب کر دیا ،
[B][SIZE="5"]بھائی ریحان حیدر ، جب بھائی عابد جن سے براہ راست گفتگو ہو رہی ہے ، میرے مراسلات مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور دوسرے بھائی بھی ، تو آپ کو ایسا ہی کرنا چاہیے تھا ، بہر حال اب ایک دفعہ پھر گذارش کرتا ہوں کہ کچھ صبر فرمایے ، ان شاء اللہ بھائی عابد عنایت کے لیے جوابات مکمل ہونے کے بعد آپ کے اس مراسلے کا جواب بھی ارسال کروں گا ، باذن اللہ تعالیٰ ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی عابد عنایت کے مراسلے کی طرف واپس چلتا ہوں ،
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
میں پوچھتا ہوں جناب سے کہ کیا کسی بندے کو خرید لینے سے اور اسے اپنا غلام بنا لینے سے کسی بھی انسان کو مالکانہ حقوق کے ساتھ ساتھ آیا مرتبہ الوہیت(معاذاللہ) حاصل ہوجاتا ہے کہ جناب کو زرخرید غلام کی نسبت لفظ عبد کے استعمال پر کوئی اعتراض نہیں کیا آیا وہ غلام جو کہ خریدا گیا ہے کیا اس کا بھی حقیقی مالک اللہ ہی نہیں جو کہ ا سکے مالک کا بھی مالک ہے لاحوال ولا قوۃ
میرے چھوٹے بھائی ، کسی انسان کو خرید لینے سے یا کسی طور اس کا مالک بن جانے سے مالک کو مرتبہ الوہیت حاصل نہیں ہوتا ، یہی تو میں آپ کو اتنی دیر سے سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں ، اور اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے غلاموں کو """ عبد """ کہنے سے اور مالکوں کو """رب """ کہنے سے منع فرمایا ہے ،
یہ تفیسر اور شرح ہے اس آیت مبارکہ کی جس کو آپ نے مختلف قسم کی تاویلات کے ذریعے ٹالنے کی کوشش کی ہے ، اس کے بارے میں بات ان شاء اللہ اس کے جواب میں ہو گی ،
و الحمد للہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم میری بات کی ہی دلیل ہے ،
عابد بھائی میں نے تو یہ لکھا تھا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
اللہ کے علاوہ کسی اور کے ساتھ """عبدیت""" کی نسبت کرنا درست نہیں ، اس کے بارے میں کوئی کچھ بھی کہتا، لکھتا ، پڑھتا ، سناتا ، لکھواتا ، پڑھاتا رہے ہمارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ حکم مبارک فیصلہ ہے کہ ((((( لَا يَقُلْ أحدكم أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ اسْقِ رَبَّكَ وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلَايَ ولا يَقُلْ أحدكم عَبْدِي أَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَايَ وَفَتَاتِي وَغُلَامِي ::: تُم سے کوئی بھی ( اپنے غلام یا باندی ) کو یہ نہ کہے کہ اپنے رب کو کھانا پیش کرو ، اپنے رب کو پانی پیش کرو اپنے رب کو وضو کرواو اور (بلکہ ) یہ کہے میرا سردار میرا آقا اور تُم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میرا بندہ ، میری بندی بلکہ یہ کہے کہ میرا نوجوان خدمتگارغُلام، میری نوجوان باندی اور میرا چھوٹا خدمتگار ))))) صحیح البُخاری/ کتاب العتق / باب ۱۷ ، صحیح مُسلم /کتاب الالفاظ مِن الادب و غیرھا /باب ۳ ،
ہمیں اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین میں ہی یہ قید بھی ملتی ہے کہ کسی کو """ سید """ ، اور """مولا """ کہنے کی اجازت صرف زرخرید غُلاموں کو اپنے مالکوں کے لیے تھی ،
قران اور صحیح احادیث مبارکہ میں جہاں کہیں """ عبد """ کی نسبت غیر اللہ سے مذکور ملتی ہے وہ زر خرید غلاموں کی بات ہوتی ہے ، """ العبید المملوک """
اور آپ بات کو کیا بنا رہے ہیں ،
عابد بھائی میں نے تو غلاموں کو اپنے مالک کو """سید""" اور """ مولا """ کہنے کی اجازت کی بات کی ہے جو کہ حدیث مبارک میں منصوص ہے ، نہ کہ """غُلام """ کو مالک کا """ عبد """ کہنے کی ،
اور یہ بھی وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ """ قران اور صحیح احادیث مبارکہ میں جہاں کہیں """ عبد """ کی نسبت غیر اللہ سے مذکور ملتی ہے وہ زر خرید غلاموں کی بات ہوتی ہے ، """ العبید المملوک """ """
اس بات میں سے زیادہ سے زیادہ آپ یہ اس بات کا """جواز""" نکال سکتے ہیں کہ صرف اور صرف کسی """ مملوک یعنی غلام """ کو اس کے مالک کا """ عبد """ کہہ کر ذِکر کیا جا سکتا ہے ، لیکن،
یہ جواز بھی قابل عمل نہیں رہتا کیونکہ اس مذکورہ بالا حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بڑی صراحت کے ساتھ اس سے بھی منع فرما دیا ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے ممانعت کے حکم پر عمل کرنے کا معاملہ کس قدر شدید ہے اس کا ذکر میں سابقہ مراسلات میں سے ایک میں کر چکا ہوں ،
اس کے علاوہ سب سے اہم بات جس کی طرف (میرے حسنء ظن کے مطابق ) آپ متوجہ نہیں ہیں ، یا ، عام فہم کے مطابق جس کی طرف سے آپ قصداً صرفءِ نظر کر رہے ہیں اور قارئین کو بھی اس کی طرف توجہ دینے روکنے کی کوشش میں مختلف تاویلات پیش کر رہے ہیں ،
وہ ہے ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا فہم ، اور ان کا عمل ، جی اجتماعی طور پر صحابہ رضی اللہ عنہم اجعمین کی جماعت کا فہم اور عمل حجت ہے ، آپ اس کو ماننے کو تیار نہیں اور صرف کسی ایک یا چند ایک شخصیات جو کہ بلا شک و شبہہ کسی بھی طور ، کسی بھی محل میں ، کسی بھی معاملے میں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین میں کسی ایک کے بھی عشر عشیر تک نہیں ہو سکتے ،
جی اسے آپ عقلی دلیل کہتے ہیں تو کہتے رہیے ، ہم اسے قرانی دلیل کے مطابق مانتے ہیں ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے حکم کے مطابق ، اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے لیے اللہ کی طرف سے تقویٰ کے لیے اُن کے دِلوں کے امتحان لینے کے بعد چنیدہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے اس پر یوں عمل کیا کہ پھر کسی """ مملوک ، غلام """کو بھی """ عبد """ نہ کہا ،
جی عابد بھائی ، ہم آپ سے یہ طلب کرتے ہیں کہ ساری کتابیں کھنگال لیجیے ، کہیں کسی صحیح روایت میں یہ دکھا دیجیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، تابعین تبع تابعین أئمہ اربعہ ، اور دیگر أئمہ اور عُلماء رحمہم اللہ جمعیاً نے کہیں کسی """ مملوک ، غلام """ کو """ عبد""" کہا ، لکھا ہو ،
اللہ کی طرف سے ایسے نام جن میں اللہ کے علاوہ کسی اور کے ساتھ بندگی کی نسبت ظاہر ہو ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے ممانعت ہونے کی بنا پر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے """ مملوک ، غلام """ کو """ عبد """ کہنے کی بجائے """مولیٰ """ کہا ،
تفاسیر القران ، کتب احادیث ، کتب الرجال ، کتب الطبقات ، کتب الانساب ، کتب البلدان ، کتب التاریخ ، کتب اصول الفقہ ، کتب الفقہ ، کتب علوم الحدیث ، ساری کتابیں چھان لیجیے ، ان شاء اللہ یہی ملے گا کہ """مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم """ ، اور اسی طرح """ مولیٰ ابن عباس """ ، """مولاۃ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما """ وغیرہ وغیرہ ، کہیں نام ہونا تو درکنار """ مملوک ، غلام """ کے لیے بھی """ عبد الرسول ، یا عبدالنبی ، یا أمۃ عائشہ ، یا عبد علی ، یا عبد الحسین """ وغیرہ نہیں ملے گا ،
اور نہ ہی ان قرون الخیر میں کہیں """ عبدیت """ کی نسبت غیر اللہ کے ساتھ ظاہر کرنے والا کوئی نام ملے گا ، بعد میں اگر کہیں کسی کا کوئی ایسا نام نظر آئے بھی تو وہ کسی ایسے فرقے یا مسلک سے منسلک شخص کو ہوتا ہے جو اپنی سوچ و عقل کو قران پاک اور حدیث مبارک سمجھنے کی کسوٹی سمجھنے والے ہوتے ہیں ، یا جن کا دین تخیلاتی غائب شخصیات کے پاس سے آتا ہے ، بلا دلیل قصوں اور کہانیوں پر مبنی ہے ،
آپ کے تما م تر واجب الاداء ادب کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر آپ یا کوئی بھی اور کسی فلسفے،منطق ، خود ساختہ کسی قانون اور خود فہمی کی بنا پر یا کسی بھی اور سبب سے یہ کہے ، لکھے ، یا عملاً یہ ظاہر کرے کہ اس کی عقل اور سمجھ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی سے زیادہ قران پاک اور حدیث مبارک اور مراد اللہ اور مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو جاننے والی ہے تو میں ، اور ان شاء اللہ ہر حقیقی """ اہل سُنّت و الجماعت """ایسےکسی بھی عمل کو مردود سمجھتے ہیں ، جو صحیح ثابت شدہ سُنّت مبارکہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال کے مطابق نہیں ، کیونکہ ایسا کرنا ہی """ اہل سُنّت و الجماعت """ کہلانے کا تقاضا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
جاری ہے ، و السلام علیکم۔

Last edited by عادل سہیل; 26-03-10 at 02:42 AM.
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (26-03-10), عبداللہ حیدر (26-03-10)
پرانا 26-03-10, 02:54 AM   #179
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::: گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: آٹھواں حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ میرے سابقہ سات مراسلات سے پیوستہ ہے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
کیا ہوگیا ہے آپ ظاہر پرستوں کی عقل کو ؟ سچ ہی کہا کسی نے کہ خدا جب دین لیتا ہے تو حماقت آہی جاتی ہے یعنی عام طور پر تو کوئی بھی کسی کو غیراللہ کا عبد نہیں کہہ سکتا کیونکہ اس سے عقیدہ توحید مجروح ہوتا مگر جب کوئی کسی شخص کو خرید کر اپنا غلام کر لے تو اب وہ خدا کی الوہیت میں شریک ہوگیا اب اس کی نسبت اس کے غلام کو عبد کہنا جائز ہوگیا لاحول ولا قوۃ
عابد بھائی ، اس کا جواب سابقہ مراسلے میں ملاحظہ فرمایے ، یہ سب آپ کی سمجھ داری کا کھلا ثبوت ہے یا معاذ اللہ اپنے خیالات کی تصحیح کی عمداً لیکن غلط کوشش کا ، اور جزاک اللہ خیرا اپنی سوچ وفکر کے مطابق ایک لقب عطاء فرمانے پر ، یہ بھی آپ کے فہم کو واضح کرنے والا ہے ، ان شاء اللہ ، اہل ظاہر اور اہل باطن کے بارے میں بات پھر کبھی سہی ،
اللہ آپ کو معاف فرمائے ، بھائی جی ، میں ظاہر پرست نہیں اللہ پرست ہوں ، اور اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کی پرستش اسی طرح کرتا ہوں جس طرح اس نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بتایا ہے ، کسی فلسفے یا منطق یا خود ساختہ سوچ اور رائے کی بنیاد پر نہیں ہو سکتا ہے آپ کے ہاں پرستش کا معنی کچھ اور ہوتا ہو لیکن ہمارے ہاں پرستش کا معنی عبادت ہے ، لہذا میرے بھائی اپنے الفاظ استعمال کرنے سے پہلے ان کے بارے میں اچھی طرح سے سوچ لیا کیجیے کہ آپ کس پر کیا فتویٰ صادر فرما رہے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ، والسلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (26-03-10), آبی ٹوکول (26-03-10)
پرانا 26-03-10, 03:00 AM   #180
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::: گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: نواں حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ میرے سابقہ آٹھ مراسلات سے پیوستہ ہے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
میرا تو آپ لوگوں کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے لاحول ولا قوۃ اوہ خدا کے بندے مان کیوں نہیں لیتے کہ شرک عقیدہ کا نام ہے اور عقیدہ کہتے ہیں انسان کے کسی بھی عمل کے پیچھے اس نظریہ کو کہ جس پر وہ سختی سے کاربند ہو نہ کہ عقیدہ کسی ظاہری عمل کا نام ہے
عابد بھائی ، ماتم اگر جائز ہوتا تو میں بھی آپ کے فرامین اور فلسفوں پر کرتا ،ذرا دیکھیے کہ یہاں اس منقولہ بالا اقتباس میں آپ نے کیا فتویٰ صادر فرمایا ہے اور یہاں اِس منقولہ ذیل اقتباس میں کیا فتویٰ صادر فرمایا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
شرک ایک ایسا حرام فعل ہے کہ جو بندے کو کافر و مشرک بنا دیتا ہے
اب آپ شاید افعال و اعمال کی اقسام کی بات کریں ،،،،، لیکن ،،،،، خیرررررررررررررررر ،،،،،
چلیے یوں بھی کر دیکھیے کہ کچھ تخصیص ، کچھ تقید، کچھ تفسیری اصول ، کسی طور ان دونوں میں موافقت فرما دیجیے
اور میرے چھوٹے بھائی ، آپ نے تین دفعہ """ لا حول و لا قوۃ """ کا اعتراف کیا ہے لیکن یہ واضح نہیں فرمایا کہ کس کے لیے کر رہے ہیں ؟؟؟ کیا اس میں بھی کسی غیر اللہ کی شراکت کا جواز لیے بیٹھے ہیں ؟؟؟
عابد بھائی میں اللہ سبحانہ ُ و تعالیٰ کا بندہ ہوں کسی خدا کا نہیں ، براہ مہربانی آئیندہ مجھے اس طرح مخاطب مت فرمایے گا ، جزاک اللہ خیرا ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ، والسلام علیکم۔

Last edited by عادل سہیل; 26-03-10 at 03:07 AM. وجہ: عنوان کا اضافہ
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (26-03-10), آبی ٹوکول (26-03-10), عبداللہ آدم (26-03-10)
جواب

Tags
ہوتا, کوئی, قران, نام, مجید, معلوم, اکبر, اللہ, انشا, بھائی, توحید, جواب, حکم, حال, خبر, خدا, زندگی, سوچ, عقل, علی, عالم, صفات, صفت, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 2:::: عادل سہیل کفروشرک 8 02-02-12 06:18 PM
توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: کفر اکبر ::: عادل سہیل کفروشرک 6 05-03-10 07:21 PM
پانچ چیزیں اخترحسین ایس ایم ایس 1 18-10-09 07:00 PM
پانچ چیزیں میاں شاہد اسلام اور معاشرہ 0 01-06-09 10:32 AM
پانچ چیزیں ابو عمار پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 07-10-07 10:03 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:11 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger