واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > کفروشرک



کفروشرک کفروشرک


توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 1::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-12-07, 05:21 PM  
توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 1::::
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 18-12-07, 05:21 PM

السلام علیکم ،
چند دِن پہلے توحید کے تعارفی رواں خاکہ جات ارسال کیے تھے ، جِن پر کسی قسم کا کوئی جواب موصول نہیں ایسا لگتا ہے یا تو کسی نے ادھر توجہ ہی نہیں کی ، یا جس جس نے دیکھا وہ پہلے ہی جانتا تھا یا اس کے لیے کوئی ضروری یا اہم بات وہاں میسر نہیں تھی ، اللہ ہی بہتر جانے ،
توحید کی دعوت کا ہمشیہ ایسا ہی استقبال ہوتا ہے ، اور دعوت دینے والا بہر حال اپنے رب کی رضا کے لیے دعوت دیتا رہتا ہے ،
پس ، اگلے رواں خاکہ جات ، جن میں مختصر طور پر کسی کی زندگی میں سے توحید کو ختم کر دینے والے کاموں کا ذَکر ہے ارسال کر رہا ہوں ، انشا اللہ ان کے بعد توحید کو کم کر دینت والے کاموں کا تعارف ارسال کروں گا
السلام علیکم

Attached Thumbnails
f_chart_4_shirk_1_2.jpg  


عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 6936
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (01-01-10), shafresha (24-03-10), نورالدین (02-03-10), مون لائیٹ آفریدی (12-07-08), مباح (05-03-10), محمد عاصم (02-05-10), مسلم بھائی (28-05-10), ارشد کمبوہ (21-10-10), شریف (03-03-10), عارف اقبال (24-03-10), عبداللہ آدم (12-03-10)
پرانا 26-03-10, 03:18 AM   #181
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::: گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: دسواں حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
یہ مراسلہ میرے سابقہ نو ۹ مراسلات سے پیوستہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
سیدھی سی بات ہے کہ لفظ عبد جب بندوں کی نسبت خود قرآن میں استعمال ہوا ہے تو اس لفظ کا وہاں پر ترجمہ بندگی کے بجائے غلامی کیا جائے گا مگر آپ نے بندگی تو درکنار غلامی کو بھی شرک قرار دے دیا اب بندہ جائے تو کدھر کو جائے انا للہ وانا الیہ راجعون سچ ہے ابلیسی توحید کے دام میں بندہ یوں ہی گرفتار ہوتا کہ پھر نہ جائے رفتن نہ پائے رفتن ۔ ۔ ۔ ۔
بہت اچھے عابد بھائی ،جی قران میں جہاں اللہ تعالی ٰ نے لفظ """ عبد """کی نسبت بندوں سے کی ہے وہاں اس """ عبد """ کا ترجمہ """ غُلام ::: اس مفہوم میں کہ ایسی شخصیت جو اُس بندے کی ملکیت ہو جس کی ملکیت اس غلام پر سے ظاہر کی جا رہی ہے """ ، اور اس مفہوم میں لفظ """ غُلام """ کا استعمال صرف اس کے """ مالک """ کے ساتھ اُس کی """ غُلامی """ کی نسبت ظاہر کرنے کے لیے کیا جائے گا ،
اور یہ نسبت ظاہر کرنے کے لیے خیر القرون کے لوگوں ، یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین تبع تابعین رحمہم اللہ ، اور ان کے بعد اُمت کے أئمہ کرام رحمہم اللہ کے اقوال و افعال کو دیکھا جائے گا کہ انہوں نے اس """ غلامی """ کو """ عبد """ کہہ لکھ کر ظاہر کیا ، یا """مولیٰ """ ؟؟؟
اُردُو میں """ غلام قادر """ کا معنی اور مفہوم یہی نکلے گا کہ """ قادر کا غُلام """ اور اُردُو میں بھی """ غُلام """ سے مراد زرخرید ، یا کسی بھی اور طرح زیر ملکیت شخص ہی لیا جاتا ہے، لہذا کسی ایسے شخص کو کسی اور کا غلام کہنا جبکہ حقیقتا وہ اس کا مملوک نہیں ایک جھوٹ کے علاوہ اور کیا ہے ؟؟؟؟؟؟؟
اس کے بعد آپ نے جو لکھا کہ """ مگر آپ نے بندگی تو درکنار غلامی کو بھی شرک قرار دے دیا """
کیا ا ٓپ کے اس """منطوق """ کا یہی """ مفہوم """ نہیں بنتا کہ """ عابد بھائی تو (غیر اللہ سے) بندگی (کی نسبت ظاہر کرنے ) کو بھی شرک نہیں سمجھتے """
اور اگر آپ اسے """ کوسنا """ تعبیر نہ فرمائیں تو آپ کے ہی الفاظ میں تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ عرض کروں کہ """ اِنّا لِلّہِ و اِنّا اِلیہِ رَاجِعُون ، سچ ہے ابلیسی تاویلات اور تعظیم کے دام میں بندہ یوں ہی گرفتار ہوتا کہ پھر نہ جائے رفتن نہ پائے رفتن """"
یہاں تک آپ کے اس مراسلے کا جواب مکمل ہوا ، جس میں آپ نے بزعم خود ایک حدیث پاک کا بطلان ثابت کیا تھا ، اور پھر بعد میں یہ فرما دیا کہ اِس سے آپ کی مراد اُس حدیث سے لیا گیا میرا مفہوم باطل ثابت کرنا تھا ،
الحمد للہ ،
ان شاء اللہ تعالیٰ ہر عقل سلیم والے پر یہ واضح ہو جائے گا کہ اللہ کے مقرر کردہ راستے کے مطابق ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے اقول و افعال کے خلاف قران پاک اور سُنّت مبارکہ کی تاویلات کرنا باطل ہے یا اُن رضی اللہ عنہم اجمعین کے اقوال و افعال کے مطابق قران پاک اور سُنّت مبارکہ کو سمجھنا ۔ و السلام علیکم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ، ان شاءاللہ عابد بھائی کے مراسلہ رقم 169 کا جواب بھی ایک دو دن میں مکمل کر دوں گا ،
جو بھائی میرے درخواست پر اپنے جوابات روکے ہوئے ہیں میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ اللہ انہیں بہترین اجر عطاء فرمائے، و السلام علیکم۔

Last edited by عادل سہیل; 26-03-10 at 03:20 AM. وجہ: آخری پیرا گراف کا اضافہ
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (27-03-10), فیصل ناصر (26-03-10), کنعان (27-03-10), نورالدین (26-03-10), آبی ٹوکول (26-03-10), عبداللہ آدم (26-03-10), عبداللہ حیدر (26-03-10)
پرانا 27-03-10, 12:09 AM   #182
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::: گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: گیارہواں حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ میرے سابقہ دس مراسلات سے پیوستہ ہے اور بھائی عابد عنایت کے مراسلے رقم 169 کے جواب میں پہلا مراسلہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم عادل سہیل بھائی سب سے پہلے تو دیر سے جواب دینے پر معذرت خواہ ہوں امید ہے آپ عذر قبول فرمائیں گے اب آتا ہوں آپ کی پیش کردہ قرآنی دلیل کی طرف ۔ ۔ ۔
سب سے پہلے تو آپکی یہ دلیل پڑھ کر مجھے بہت ہی افسوس ہوا عادل بھائی آپکی پیش کردہ اس دلیل سے یہ صاف پتا چلتا ہے کہ آپکو اصول تفسیر سے زرا بھی شغف نہیں رہا ۔ ۔ ۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
عابد بھائی ، معذرت والی کوئی بات نہیں ، بقول آپ کے اس بیماری یعنی وقت کی کمی کے ہم سب ہی شکار ہیں ،
میرے بھائی ، افسوس کرنے پر شکریہ قبول فرمایے ، کیا ہی بھلا ہوتا کہ آپ کچھ """ اصول تفیسر """ بھی بیان فرما دیتے جن کے بارے میں آپ کا یہ خیال ہوا کہ مجھے ان سے ذرا بھی شغف نہیں رہا ،
شاید آپ کے بیان کردہ """ اصول الفقہ """ کی طرح """اصول التفیسر """ سے بھی کچھ مستفید ہونے کا موقع مل جاتا ، اور قارئین کو بھی پتہ چل جاتا کہ عابد بھائی جس طرح """ا صول الفقہ """ پر ید طولیٰ رکھتے ہیں اسی طرح """ اصول التفسیر """ پر بھی رکھتے ہیں ، بہر حال قدر اللہ ما شاء و فعل ،،،،،،،،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ، و السلام علیکم۔

Last edited by عادل سہیل; 27-03-10 at 12:18 AM. وجہ: عنوان کا اضافہ ، اور ایک جگہ عابد کی بجائے عباد لکھا تھا اس کی تصحیح
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (27-03-10), کنعان (27-03-10), نورالدین (27-03-10), آبی ٹوکول (27-03-10)
پرانا 27-03-10, 12:16 AM   #183
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::: گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: بارہواں حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ میرے سابقہ گیارہ مراسلات سے پیوستہ ہے اور بھائی عابد عنایت کے مراسلے رقم 169 کے جواب میں دوسرا مراسلہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
میرے بھائی میں نے آپ کے سامنے قرآن پاک کی صریح اور واضح آیت بطور دلالۃ النص کہ رکھی کہ جس میں لفظ عبد کی نسبت غیر اللہ (یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسری آیت میں غلاموں کی نسبت ان کے مالکوں کی طرف صریحا لفظ عبد کے ساتھ ) کی گئی ہے اور یہ دلالۃ النص اتنی واضح اور اتنی صریح کہ اس کے مقابل میں کسی اسرائیلی روایت کی کوئی حیثیت نہیں اور خاص طور پر اس وقت کہ جب اس اسرائیلی روایت سے عصمت انبیاء کا عقیدہ مجروح ہورہا ہو ۔ ۔ ۔
عابد بھائی ، آپ کے """ اصول التفیسر ""' سے واقفیت کا پتہ اُس مراسلے سے بھی چلتا ہے جس کا آپ منقولہ بالا اقتباس میں ذکر فرما رہے ، یعنی وہ مراسلہ جس میں آپ نے تھانوی صاحب غفر اللہ لہ ، کی پیش کردہ ایک تفسیر کا حوالہ دیا تھا ، اور """ اصول التفیسر """ کے بنیادی اصولوں کے خلاف اُس تفیسر کو دلیل بنانے کی کوشش کی کہ اُس میں آپ کے خیالات کی تائید ہوتی ہے ،
کیا خیال ہے تھانوی صاحب کے بزرگوں میں سے اگر کسی بزرگ کے فرامین میں سے کچھ ایسا پیش کروں جو اس کے خلاف ہو تو آپ اسے قبول فرمائیں گے ،
کیا عجیب بات عابد بھائی ، """ اصول التفیسر """ میں محض لغت کے مطابق تفسیر کرنے کا مُقام آپ کو یاد نہیں رہا جو تھانوی صاحب کی تفیسر کی لغوی تفیسر کے مطابق """ عبدیت """ کی نسبت """ غیر اللہ سے کرنا مان لیا ؟؟؟
میں نے تھانوی صاحب غفر اللہ لہُ کی تفیسر والے مراسلے کے جواب میں جو لکھا تھا ایک دفعہ پھر اسے یہاں نقل کر دیتا ہوں تا کہ آپ کے لیے بھی یاد تازہ ہو جائے اور دیگر قارئین کرام کو بھی پیچھے جا کر اسے ڈھونڈنے کی زحمت نہ کرنا پڑے ،
آپ نے لکھا تھا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم دونوں طرف سے بہت افراط و تفریط ہوچکا حقیقت یہ ہے کہ عبد النبی یا عبدالرسول یا پھر غلام نبی یا غلام رسول وغیرہ نام رکھنا اسلام میں جائز ہے اور دلیل اس امر کی یہ ہے کہ اللہ پاک سورہ الزمر کی آٰیت نمبر 53 میں فرماتے ہیں کہ ۔ ۔
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُO
ترجمہ:- آپ فرما دیجئے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے! تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے، وہ یقینا بڑا بخشنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہےo
اس آیت کی تفسیر میں مولوی اشرف علی تھانوی صاحب نے جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم درج زیل ہے ۔ ۔
مرجع ضمیر متکلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور قرینہ بھی اسی معنٰی کا ہے کہ‌آگے فرمایا ۔۔۔ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۔ ۔ ۔اگر مرجع اس کا اللہ تعالٰی ہوتا تو فرماتا من رحمتی تاکہ عبادی کے ساتھ مناسبت ہوتی ۔ ۔اشرف علی تھانوی شمائم امدادیہ ۔ ۔
یہاں ضمیر متکلم جو عبادی میں مضاف الیہ واقع ہوئی اس کا مصداق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور علامہ تھانوی نے اس پر جو قرینہ بتلایا وہ یہ ہے کہ اگر میرے بندوں میں اللہ پاک کی طرف نسبت ہوتی تو پھر آگے فرماتا میری رحمت سے مایوس نہ ہونا تاکہ دونوں جگہ مضاف الیہ ضمیر متکلم ہوتی اور باہم تناسب پایا جاتا ۔ ۔ ۔
حق یہ ہے کہ اگر لفظ عبد کی نسبت اللہ کے کسی برگزیدہ بندہ کی طرف کی جائے تو وہ بمعنی غلام کے ہوگی اور اگر لفظ عبد کی نسبت اللہ کی طرف کی جائے تو وہ بمعنی عبد ہی کے ہوگی کیونکہ عربی زبان میں لفط عبد مشترک المعنٰی ہے لہزا قرآن پاک میں سے اس کہ معنٰی کا حتمی تعین کرتے وقت قرینہ کا لحاظ کیا جائے گا ۔ ۔ والسلام
اور میں نے جواباً لکھا تھا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
بھائیو ، یہ کیسے ہوا کہ صدیاں گذرنے کے بعد لوگوں کو قران کے وہ معانی سمجھ آگئے ، اور اللہ کے ساتھ بندگی کی نسبت جوڑنے کی بجائے غیر اللہ سے جوڑنے کی اجازت سمجھ آگئی ،
بھائیو ، اللہ کے واسطے بلا ثبوت کہانیوں اور ذاتی افکار پر مبنی ، اور صرف لغت کے قواعد کے مطابق اخذ کیے گئے مفاہیم کی بنا پر اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ سمجھنے کی کوشش کبھی درستگی تک نہیں پہنچا سکتی ،

تھانوی صاحب کے حوالے سے لغت کی قلابازیاں دکھاتے ہوئے ((((( لا تقنطوا )))) والی آیات کا جو مفہوم پیش کیا گیا ہے اس سے تو ((((( رحمۃ اللہ ))))) میں اللہ کا ذکر نہ ہوا بلکہ ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
بھائی عابد عنایت ایک دو روز پہلے آپ نے نظمء قران کے بارے میں ایک بہت اچھی بات کی تھی ، میں صرف یاد دہانی کرواتے ہوئے یہ گذارش کرنا چاہتا ہوں کہ ((((( لا تقنطوا )))) والی آیت مبارکہ کے سیاق و سباق پر بھی غور فرمایے اور اس کے بعد جس رب کی طرف توبہ کرتے ہوئے پلٹنے ، اور جس کے طرف سے کچھ نازل ہونے کا ذکر فرمایا گیا ہے ، لغت کے اعتبار سے یہ رب تو وہی ہونا چاہیے جس کی طرف ((((( یا عبادی ))))) میں متکلم کی ضمیر راجع ہے !!!!!!!!!!!!! تو وہ کونسا رب ہوا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
و السلام علیکم۔
لیکن آپ کی طرف سے میرے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا گیا !!!
نہ کسی """ اصول الفقہ """ کی روشنی میں ، نہ کسی """اصول التفسیر """ کی روشنی میں ،
عربی میں ""' عبد ""' کتنے بھی معانی رکھتا ہو ، اللہ نے ہی غیر اللہ کی طرف نسبت کی صورت میں شرک قرار دیا ، اور کہہ چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو بات جس طرح فرمائی ہر بات اسی طرح کہنے کا حق اس کے بندوں کو نہیں ، اس کے لیے ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ اور فہم صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی حدود میں رہ کر سمجھنا ہوتا ہے ، اور واضح ہو چکا کہ غیر اللہ کے ساتھ """ عبدیت """ کی نسبت ظاہر کرنے والے نام اور پکار کا استعمال اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ممنوع قرار دے دیا ،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (27-03-10), کنعان (27-03-10), نورالدین (27-03-10), آبی ٹوکول (27-03-10), عبداللہ آدم (27-03-10), عبداللہ حیدر (27-03-10)
پرانا 27-03-10, 12:45 AM   #184
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::: گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: تیرہواں حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ میرے سابقہ بارہ مراسلات سے پیوستہ ہے اور بھائی عابد عنایت کے مراسلے رقم 169 کے جواب میں تیسرا مراسلہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
میرے بھائی میں نے آپ کے سامنے قرآن پاک کی صریح اور واضح آیت بطور دلالۃ النص کہ رکھی کہ جس میں لفظ عبد کی نسبت غیر اللہ (یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسری آیت میں غلاموں کی نسبت ان کے مالکوں کی طرف صریحا لفظ عبد کے ساتھ ) کی گئی ہے اور یہ دلالۃ النص اتنی واضح اور اتنی صریح کہ اس کے مقابل میں کسی اسرائیلی روایت کی کوئی حیثیت نہیں اور خاص طور پر اس وقت کہ جب اس اسرائیلی روایت سے عصمت انبیاء کا عقیدہ مجروح ہورہا ہو ۔ ۔ ۔
محترم عابد بھائی ،آپ اُس آیت مبارکہ کی جس طرح """ اصول التفسیر ""' کے مطابق تاویل کر رہے ہیں اس کا جواب گذر چکا ، کہ اُس آیت مبارکہ میں قطعا اس بات کی کوئی دلیل نہیں جو آپ """ اصول التفیسر """ کے مطابق اخذ فرما کر کسی غیر اللہ کے ساتھ بندگی کی نسبت ظاہر کرنے کے لیے دِکھا رہے ہیں ،
عابد بھائی ، میری برادارنہ نصیحت ہے کہ بات کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچا کیجیے ،بھائی میرے ، میں نے کہاں اور کونسی اسرائیلی روایت کو اِس یا کسی بھی آیت مبارکہ کے مقابل استعمال کیا ہے ،
اللہ کا خوف کیجیے ، جذبات کی روانی میں اس قدر مت بہا کیجیے کہ جھوٹے الزامات سرزد ہونے لگیں ،
میرا خیال ہے کچھ اظہار افسوس مجھے بھی کرنا ہی چاہیے ، عابد بھائی ، وہ روایت جس کی طرف آپ اشارہ فرما رہے ہیں، میں نے مراسلہ رقم ۱۴۸ میں اس کے بارے میں یہ لکھا تھا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
جی اس آیت مبارکہ کی تفیسر میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ واقعہ آدم اور حواء علیہما السلام کے بارے میں ہے ، لیکن اس روایت کو علماء نے درست نہیں مانا ، اس کی تمام تفصیل آسانی سے مسیر تفیسر ابن کثیر میں دیکھی جا سکتی ہے ، جہاں کافی لمبی گفتگو کے بعد امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ یہ واقعہ آدم اور حواء علیہما السلام کا نہیں ہے ،
اس میں کہاں ہے یا میرے لکھے ہوئے میں کہیں بھی یہ کہاں ہے کہ میں نےاُس روایت کو کسی آیت مبارکہ کے مقابلے میں پیش کر کے کسی بھی معاملے کی دلیل بنایا ہو ، لا حول ولا قوۃ الا باللہ ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (27-03-10), نورالدین (27-03-10), آبی ٹوکول (27-03-10), عبداللہ حیدر (27-03-10)
پرانا 27-03-10, 12:53 AM   #185
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::: گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: چودہواں حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ میرے سابقہ دس تیرہ مراسلات سے پیوستہ ہے اور بھائی عابد عنایت کے مراسلے رقم 169 کے جواب میں چوتھا مراسلہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
میرے بھائی میں ہم بار بار کہہ چکے کہ آپ کا دعوٰی ہے کہ غلام رسول اور عبد الرسول نام رکھنا اللہ پاک کی الوہیت میں شرک ہے لہذا آپکو معلوم ہونا چاہیے کہ شرک کیا ہے؟؟؟؟؟؟
شرک ایک ایسا حرام فعل ہے کہ جو بندے کو کافر و مشرک بنا دیتا ہے اور اصولی قاعدہ یہ ہے کہ حرام کا ثبوت نص قطعی سے دیا جاتا ہے ۔ ۔ مگر آپ ابھی تک ایک بھی نص صریح بطور ثبوت دعوٰی نہیں پیش کرسکے اس پر طرفہ یہ ہے کہ آپ نہ صرف ایک شئے کا حرام ہونا ثابت کررہے بلکہ آپ کا دعوٰی تو اس بھی بڑھ کر کفر اور شرک کا ہے اس لیے آپ کو سوچنا چاہیے کہ ایک مخصوص فعل کو شرک کہنے کے لیے آپکو کس قسم کی دلیل کی ضرورت ہوگی ۔ ۔ ۔
عابد بھائی ، ایک دفعہ پھر جزاک اللہ خیرا ، ایک اچھا مشورہ دینے پر ،
لیکن تھوڑا سا غور فرمایے ، کہ ،
آپ تو خود بھی """ شرک """ کی تعریف کرنے میں مضطرب ہیں ،جیسا کہ سابقہ مراسلات میں دِکھا چُکا ہوں ایسا نہ ہوتا تو آپ سے ہی کہتا کہ """ کوسنے """ کی بجائے مجھے اور دیگر قارئین کو بتا دیجیے کہ """ شرک """ کیا ہے ؟؟؟؟؟؟ لیکن ،،،،،،،،،،،،،،، اگر میں یہ کہوں کہ ناطقہ سر بگریباں ہے تو بے جا نہ ہوگا ،
ظاہر ہے جب یہ حال ہو گا تو """ نص صریح """ بھی کچھ اور ہی سمجھائی دے گی ،
میرے پیارے چھوٹے بھائی ، اللہ تعالی ٰ کا فرمان ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا فرمان ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے فعل کے مطابق پیش کر چکا ہوں ، اور اس کے بارے میں کافی بات ہو چکی جس کا اعادہ ضروری نہیں ، اللہ کرے کہ آپ کو یہ سمجھ میں آ جائے کہ """ نص صریح """ کے """ مدلول """ کو لغت اور منطق کے مطابق نہیں سمجھا جانا چاہیے ، """ اصول التفیسر """ میں آپ نے یقیناً یہ پڑھا ہی ہو گا کہ قران پاک کی تفسیر کہاں سے اور کس طرح سمجھی جانی چاہیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (27-03-10), کنعان (27-03-10), نورالدین (27-03-10), آبی ٹوکول (27-03-10), عبداللہ حیدر (27-03-10)
پرانا 27-03-10, 01:13 AM   #186
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::: گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: پندرہواں حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ میرے سابقہ دس چودہ مراسلات سے پیوستہ ہے اور بھائی عابد عنایت کے مراسلے رقم 169 کے جواب میں پانچواں مراسلہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
یاد رہے کہ ہم نے قرآن پاک میں سے دو نصوص قطیعہ پیش کی ہیں جن میں سے ایک تو اس قدر جلی ہے کہ اس میں صریحا غیراللہ کی جانب لفظ عبد کی نسبت ہے اور ہماری یہ دونوں دلیلیں قرآن کے الفاظ (دلالۃ النص ) ہیں نہ کہ کوئی تفسیری قول کیونکہ یہ ایسی واضح ہیں کہ انکی کوئی دوسری تاویل کی ہی نہیں جاسکتی سوائے اس تاویل کہ جو کہ ہم نے پیش کی ۔ ۔ ۔
اب آتے ہیں آپکی پیش کی گئی تفسیر کی طرف ۔ ۔ ۔ ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
آپ کی ان مکرر باتوں کا جواب سابقہ مراسلات میں ہو چکا ، آپ کے فرمان کے ،مطابق آپ کے اس جواب کی طرف چلتے ہیں جو آپ نے میری پیش کردہ تفسیر کے بارے میں پیش کیا ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
جی بالکل درست یہ تفسیر ہرگز ہمارے معارض نہیں کیونکہ یہ آیت مشرکین کی بابت نازل ہوئی اور کون نہیں جانتا کہ مشرکین اپنے خود ساختہ معبودوں کی پوجا یعنی عبادت کیا کرتے تھے اس لیے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وہ (یعنی مشرکین) اپنے ہاں پیدا ہونے والے بچے کے نام کی نسبت جب اپنے جھوٹے معبود کی طرف کرتے تھے تو وہاں لفظ عبد بمعنی بندگی ہی کے استعمال کرتے تھے اور بالفرض اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ وہ مشرکین بھی اپنے بچوں کے ناموں کی جو نسبت اپنے معبودوں کی طرف کیا کرتے تھے یعنی عبدالعزٰی اور عبد المنات وغیرہ اس نسبت سے انکی مراد بھی فقط عبد بمعنٰی غلام ہوا کرتی تھی تو تب بھی انکا یہ فعل شرک ہی ہوگا وہ اس لیے کہ جب انھوں نے اللہ کے سوا غیر اللہ کو اپنا معبود تسلیم کرلیا یعنی ایک سے زائد الٰہ تسلیم کرلیئے تو اب وہ انکے لیے جو بھی عمل کریں گے چاہے وہ تعظیم کی نیت سے ہو یا عبادت کی نیت سے ہر دونوں صورتوں میں شرک ہے وہ اس لیے کہ انھوں نے غیر الٰہ کو الٰہ جانا اب اس کی چاہے عبادت کریں یا تعظیم دونوں صورتوں میں وہ مشرک ہی ہیں۔ لہذا کسی مسلمان سے یہ ہرگز متصور نہیں کہ جب وہ کلمہ لا الٰہ الا اللہ پڑھ لے تو پھر وہ کسی غیر خدا کی پوجا بھی کرے لہزا مسلمان جو غلام رسول یا عبد الرسول نام رکھتے ہیں وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں تعظیم میں رکھتے ہیں نہ کہ کسی بھی مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ آپ کو (معاذاللہ ) معبود سمجھتا ہو ۔اور ہم پہلے بھی واضح کرچکے کہ شرک نام ہے عقیدہ کا نہ کہ کسی بھی فعل کو براہ راست شرک کہا جاسکتا ہے اور عقیدہ باطن میں ہوتا ہے جو بغیر بندے کہ خود بتلائے کوئی دوسرا نہیں جان سکتا اور اعمال بلاشبہ عقیدہ سے نمو پاتے ہیں جبکہ عقیدہ اعمال سے نمو ہرگز نہیں پاتا ۔ ۔ ۔ ۔
واہ عابد بھائی ، آپ کے """ اصول التفیسر """ میں شاید کہیں """ تفیسر بالرائی """ یا """ تفیسر بالمنطق """ یا """ تفیسر بالفلسفہ """بھی ہو گا جو یہ باتیں لکھ ماری ہیں ،
محترم ہم نے جو تھوڑا سا """ اصول التفسیر """ میں جھانکا ہے ، اور جو تھوڑا سا """ علم الاصول الفقہ """ پر نظر کی ہے تووہاں ہمیں یہ اصول ملا """""" الاعتبار بعموم اللفظ لا بخصوص السبب ::: آیات (میں موجود احکام و مسائل کو سمجھنے کے لیے ) آیات کے سببء نزول پر اعتبار نہیں کیا جاتا بلکہ آیات کے الفاظ کے عموم پر کیا جاتا ہے """"" ،
لہذا یہ آیت کے مشرکوں کے بارے میں نازل ہوئی یا کسی اور کے بارے میں ، اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمودہ الفاظ واضح """ صریح الدلالۃ """ ہونے کی صورت میں غیر اللہ سے بندگی کی نسبت والا نام رکھنے کو """ شرک """ بتا رہے ہیں ، کیا شاندار """ تفیسر بالفلسفہ """ ہے کہ یہ معاملہ یا مسئلہ مشرکین کا ہے اگر مسلمان ایسا نام رکھے تو کوئی حرج نہیں ، انا للہ و انا الیہ راجعون ،
اس فلسفہ میں مزید قوت پیدا کرنے کے لیے """رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محبت اور تعظیم """ کا خوبصورت عنوان پیش کیا گیا ، ارے بھائی میرے یہ کیسی محبت ہے جس میں محبوب کی نافرمانی کی جاتی ہے ،
کہتا ہوں کہ :::
نہیں نہیں یہ محبت نہیں جمع خرچ ہے ز ُبانی
وہ کیا محبت ہوئی جس میں ہو محبوب کی نافرمانی
حُب و وفاء کو دِی صحابہ نے نئی تب و تابِ جاودانی
اور تُمہارا عِشق ہے اُن کے عمل سے رُوگردانی

بھائی میرے ، کیا """ عبد الرسول """ اور """ عبدالنبی """ نام رکھ کر اپنی محبت اور تعظیم کے اظہار کا خیال صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، تابعین تبع تابعین ، أئمہ اربعہ اور دیگر أئمہ رحمہم اللہ جمعیاً میں سے کسی کو نہیں آیا ؟؟؟؟؟
اور بعد میں کچھ لوگوں کو """ ابلیسی تعظیم """ کے مطابق یہ سوجھ گیا اور وہ خود کو صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، تابعین تبع تابعین ، أئمہ اربعہ اور دیگر أئمہ رحمہم اللہ جمعیاً سے زیادہ قران پاک اور سُنّت مبارکہ سمجھنے والے سمجھنے لگے ،
((((( وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيراً ::: اور جو اُس کے لیے ہدایت واضح ہو جانے کے بعد بھی رسول کو الگ کرے اور المومنین کے علاوہ کسی اور کی راہ پر چلے ہم اس کو اسی طرف پھیردیں گے جِس طرف وہ پِھرا اور اس جہنم سے مِلا دیں گےاور (کیا ہی )بُری راہ ہے ))))) سورت النساء /آیت 115،
بھائی پہلے بھی کہہ چکا ہوں اب پھر کہتا ہوں کہ :::
""""""" اگر آپ یا کوئی بھی اور کسی فلسفے،منطق ، خود ساختہ کسی قانون اور خود فہمی کی بنا پر یا کسی بھی اور سبب سے یہ کہے ، لکھے ، یا عملاً یہ ظاہر کرے کہ اس کی عقل اور سمجھ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی سے زیادہ قران پاک اور حدیث مبارک اور مراد اللہ اور مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو جاننے والی ہے تو میں ، اور ان شاء اللہ ہر حقیقی """ اہل سُنّت و الجماعت """ایسےکسی بھی عمل کو مردود سمجھتے ہیں ، جو صحیح ثابت شدہ سُنّت مبارکہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال کے مطابق نہیں ، کیونکہ ایسا کرنا ہی """ اہل سُنّت و الجماعت """ کہلانے کا تقاضا ہے ۔ """""""
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ، ان شاء اللہ باقی کل ، اور پوری کوشش کروں گا کہ کل میرے طرف سے بھائی عابد عنایت کے فرامین کے لیے جوابات مکمل کر سکوں ، و السلام علیکم ۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (27-03-10), کنعان (27-03-10), نورالدین (27-03-10), آبی ٹوکول (27-03-10), عبداللہ آدم (27-03-10), عبداللہ حیدر (27-03-10)
پرانا 27-03-10, 10:21 PM   #187
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::: گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: سولہواں حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ میرے سابقہ پندرہ مراسلات سے پیوستہ ہے اور بھائی عابد عنایت کے مراسلے رقم 169 کے جواب میں چَھٹا مراسلہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
اول تو آپ نے تفسیر قرطبی کی عبارت پوری پیش نہیں کیونکہ اگر آپ پوری عبارت پیش کردیتے تو یہ آپکی بات کی بجائے ہمارے مؤقف کی دلیل بن جاتی خیر ہم آپ سے حسن ظن رکھتے ہوئے اسے آپ کا تسامح سمجھتے ہیں نہ کے جان بوجھ کر یہ فعل آپ سے سرزد ہوا لیجیئے تفسیر قرطبی سے پیش کردہ آپ کے اقتباس کی مکمل عبارت ۔ ۔
الثالثة ـ قال المفسرون: كان شِرْكاً في التسمية والصفة، لا في العبادة والربوبية. وقال أهل المعاني: إنهما لم يذهبا إلى أن الحارث ربهما بتسميتهما ولدهما عبد الحارث، لكنهما قصدا إلى أن الحارث كان سبب نجاة الولد فسمّياه به كما يسمِّي الرجل نفسه عبد ضيفه على جهة الخضوع له، لا على أن الضيف ربُّه؛ كما قال حاتم:وإني لَعبد الضّيف ما دام ثاوياً وما فيّ إلاّ تِيكَ من شِيمة العبدِ
اس عبارت میں خط کشیدہ الفاظ بڑی توجہ کے حامل ہیں اس تاویل کہ مطابق اگر بفرض محال یہ تسلیم کرلیا جائے کہ مزکورہ قصہ واقعی ہی میں حضرت آدم و حوا کا ہے تو مصنف نے جو تاویل کی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ لفظ عبد کی نسبت حضرت آدم و حوا نے جو غیر اللہ کی طرف کی اس سے مراد بندگی والا عبد نہ تھا بلکہ وہاں لفظ عبد کی نسبت حارث کی طرف فقط اس سبب سے تھی کہ حارث ان کے بیٹے کی خیریت کا سبب بنا ۔ ۔ ۔
مصنف نے اس تاویل کی زریعے حضرت آدم و حوا کو شرک سے بری کیا ہے اور شرک سے بری کرنے کے لیے مصنف نے جو نکتہ بیان کیا ہے وہی اصل میں ہمارا مؤقف ہے یعنی مصنف کا یہ کہنا کہ یہاں نام میں جو حارث کی طرف نسبت ہے وہ اسے رب سمجھتے ہوئے نہیں یعنی الٰہ سمجھتے ہوئے نہیں یعنی آدم و حوا نے اس حارث کی بندگی نہیں کیونکہ یہاں لفظ عبد بندگی والا نہیں ہے بلکہ آدم و حوا نے حارث کو اپنا محسن سمجھتے ہوئے تعظیم سے اسکی طرف اپنے بچے کے نام کی نسبت کی لہزا یہاں لفظ عبد بجائے بندگی کے تعظیم کے معنوں میں ہوگا اور یہی ہمارا مؤقف ہے وگرنہ اگر فقط نام میں اشتراکیت ہی کی وجہ سے شرک لازم آتا تو پھر مصنف کو اول تو یہ تاویل کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی وہ سیدھا سیدھا لکھ دیتا کہ چونکہ شرکیہ نام رکھا سو شرک کا وقوع پایا گیا قطع نظر اس کے یہ قصہ صحیح ہو یا غلط، جیسا کہ آپ نے بھی لکھا یہ یہ تاویل اس وقت درست ہے جب کہ یہ قصہ صحیح ہو ۔ لہزا جب آپکو بھی برصحت قصہ یہ تاویل قبول ہے تو پھر یہ تاویل آپکے موقف کی نفی کررہی ہے ۔ ۔ فاعتبروا یا اولی البصار ۔ ۔ ۔
عابد بھائی ، حسن ظن کے لیے جزاک اللہ خیرا ،
بھائی جی ، تسامح !!! چہ معنی دارد !!!
قریبی ترین درست بات یہ لگتی ہے کہ آپ تساھل کہنا چاہتے تھے ، تو ایسا نہیں ہے پیارے عابد بھائی ، میں نے تفیسر القرطبی کی عبارت میں سے اتنا حصہ پیش کیا تھا جو ہمارے زیر بحث موضوع کے بارے میں فیصلہ کن تھا ،
آپ نے جو یہ میری پیش کردہ عبارت کے سیاق و سباق کے ساتھ عبارت نقل فرمائی ہے اس میں سے بھی ایسی کوئی بات نہیں ملتی جو آپ کی """ تفسیر بالفلسفہ """ کی مددگار ہو ،
اور نہ ہی میری کسی بات کا رد اس میں ملتا ہے ، و للہ الحمد ، میں نے لکھا تھا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
تفسیر القرطبی ، اور تفسیر الطبری میں یہ عبارت مکتوب ہے :::
((((( ففعلوا فذلك حين يقول الله """جعلا له شركاء فيما آتاهما""" يعني في التسمية :::تو انہوں یہ وہ کام کر لیا جو کہ اللہ نے یوں بتایا """ تو اُن دونوں کو جو اللہ نے دیا اُس میں اُن دونوں نے اللہ کے لیے شریک بنا لیے"""یعنی نام رکھنے میں (شرک کیا ) )))))
اورتفسیر القرطبی میں یہ عبارت بھی :::
(((((واختلف العلماء في تأويل الشرك المضاف إلى آدم وحواء وهي الثالثة قال المفسرون كان شركا في التسمية والصفة لا في العبادة والربوبية وقال أهل المعاني إنهما لم يذهبا إلى أن الحارث ربهما بتسميتهما ولدهما عبد الحارث ،،،،، ::: عُلماء اُس شرک کی تفسیر میں مختلف ہیں جس شرک کی نسبت آدم اور حواء (علیہما السلام ) کی طرف کی گئی (کہ)اُن دونوں نے نام رکھنے میں اور صفت میں شریک بنایا نہ عبادت اور ربوبیت میں ، اور اھل معانی کا کہنا ہے کہ اُن دونوں نے اپنے بیٹے کا نام عبدالحارث یہ سمجھ کر نہیں رکھاکہ حارث اُن کا رب ہے ،،،،، )))))یہ تاویل اس صورت میں ہے جب یہ بات ثابت ہو کہ یہ واقعہ آدم اور حواء علہیا السلام کا ہے تو چونکہ انبیاء علیہم السلام ہی معصوم ہیں لہذا اُن سے شرک سرزد ہونا ممکن نہیں ،
جی تو میرے بھائی، اس اقتباس کےآخری حصے کو بغور پڑھیے ، میں نے بھی وہی کچھ لکھا ہے جو آپ میرے لکھے پر رد کے طور پر لکھ رہے ہیں ، یعنی صحیح بات یہی ہے کہ یہ واقعہ آدم اور حواء علیہا السلام کا نہیں ،
میری اور آپ کی بات میں فرق اتنا ہے کہ میں نے مختصراً تفاسیر میں بیان کردہ بحث کا خلاصہ لکھا اور آپ پوری عبارت کو لے آئے ، اور پھر اپنی ذاتی رائے سے ایک اور مفہوم نکال لیا جو آپ کے عقائد کو تقویت دے سکے پس فرمایا :::
""""""" یعنی مصنف کا یہ کہنا کہ یہاں نام میں جو حارث کی طرف نسبت ہے وہ اسے رب سمجھتے ہوئے نہیں یعنی الٰہ سمجھتے ہوئے نہیں یعنی آدم و حوا نے اس حارث کی بندگی نہیں کیونکہ یہاں لفظ عبد بندگی والا نہیں ہے بلکہ آدم و حوا نے حارث کو اپنا محسن سمجھتے ہوئے تعظیم سے اسکی طرف اپنے بچے کے نام کی نسبت کی لہزا یہاں لفظ عبد بجائے بندگی کے تعظیم کے معنوں میں ہوگا اور یہی ہمارا مؤقف ہے """""""
الحمد للہ جو بھید کھولنے والا اور راز آشکار کرنے والا ہے ، ارے چھوٹے بھائی یہ کیا آپ رب اور الہ کا فرق بھی نہیں‌جانتے ، یا جانتے بوجھتے ہوئے روا نہیں رکھتے ، شاید آپ کے ہاں """ علم الاصول """ یا """ اصول التفسیر """ کا کوئی اصول ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہوگا !!!!!
یا شاید کوئی """ دلالۃ النص """ ایسی ہو گی جس کا """ مدلول """ رب کو الہ قرار دیتا ہو ،
معاف کیجیے گا یہ """ کوسنے """ نہیں ، صرف آپ سے کچھ """ علم الاصول """ اور کچھ """ اصول التفیسر """ اور کچھ """ دلالۃ النصوص """ اور کچھ """ مدلول """ ، اور کچھ """ توحید الربوبیۃ """ اور کچھ """ توحید الالوہیۃ """ وغیرہ سمجھنےکے لیے عرض کیا ہے ،

بھائی میرے آپ اسے تعظیم کہیے یا کچھ اور اللہ پاک نے اسے """ شرک """ کہا ہے ،
آپ نے یہاں پھر کچھ ایسا کام کیا جو یہ کہنے کا سبب بنتا ہے کہ یا تو آپ کو سمجھ نہیں آئی یا آپ سمجھ کر بھی سجھنا نہیں چاہ رہے ، کسی شاعر نے خوب کہا ہے کہ :::
اِن کُنتَ لا تَدری فتلک المُصیبۃ
واِن کُنتَ تدری فالمصیبۃ أعظم

اگر تُم نہیں جانتے تو یہ ہی مصیبت ہے
اور اگر تم جانتے ہو تو یہ بڑی مصیبت ہے

کیا آپ کو یہ نظر نہیں آیا """""""جعلا له شركاء فيما آتاهما""""""" يعني في التسمية """""" اور یہ بھی """"""كان شركا في التسمية والصفة """""""، !!!!! ؟؟؟؟؟
عابد بھائی ، جہاں تک آپ نے تفسیر القرطبی میں سے عبارت نقل کی ہے اس کے آگے والی باتیں کیوں نقل نہیں کیں جو آپ کے فلسفے کی نفی کرتی ہیں کہ :::
""""""" وقال قوم إن هذا راجع إلى جنس الآدميين والتبيين عن حال المشركين من ذرية آدم عليه السلام وهو الذي يعول عليه فقوله جعلا له يعني الذكر والأنثى الكافرين ويعني به الجنسان ودل على هذا ((((( فتعالى الله عما يشركون ))))) ولم يقل يشركان وهذا قول حسن وقيل المعنى هو الذي خلقكم من نفس واحدة من هيئة واحدة وشكل واحد وجعل منها زوجها أي من جنسها فلما تغشاها يعني الجنسين وعلى هذا القول لا يكون لآدم وحواء ذكر في الآية فإذا آتاهما الولد صالحا سليما سويا كما أراداه صرفاه عن الفطرة إلى الشرك فهذا فعل المشركين قال علیہ الصلاۃ و السلام ((((( ما من مولود إلا يولد على الفطرة ))))) في رواية ((((( على هذه الملة أبواه يهودانه وينصرانه ويمجسانه ))))) قال عكرمة لم يخص بها آدم ولكن جعلها عامة لجميع الخلق بعد آدم وقال الحسين بن الفضل وهذا أعجب إلى أهل النظر لما في القول الأول من المضاف من العظائم بنبي الله آدم وقرأ أهل المدينة وعاصم شركا على التوحيد وأبو عمرو وسائر أهل الكوفة بالجمع على مثل فعلاء جمع شريك وأنكر الأخفش سعيد القراءة الأولى وهي صحيحة على حذف المضاف أي جعلا له ذا شرك مثل واسأل القرية فيرجع المعنى إلى أنهم جعلوا له شركاء
"""""""
""""""" و التبین عن حال المشرکین من ذرية آدم عليه السلام ::: اور آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے مشرکوں کے حال کے بارے میں بیان ہے """""" یعنی جن جن لوگوں نے یہ کام کیا اور کریں گے وہ مشرکوں میں شمار ہیں ، ایسا نہیں کہ اگر کوئی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اُمت میں ہو کر ایسا کام کرے گا تو اُس کا یہ کام شرک میں شامل نہیں ہو گا ، فأعتبروا یا أولیٰ الأبصار ،
""""""" ھذا فعل المشرکین ::: یہ مشرکوں کا کام ہے """""" یعنی ایسا کام کرنے والے مشرک تھے اور ہیں خواہ کلمہ گو ہوں یا نہ ہوں ،
اب میں یہاں وہ کچھ نہیں کہوں گا جو کچھ آپ نے فرمایا کہ :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
کیا آپ نے (معاذاللہ) یہودیوں والا طریق اپنانا ہے کہ آدھی عبارت سے دلیل اور آدھی کو چھوڑ دیا جو اپنے خلاف ہو
کیونکہ مجھے ایسا کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہر قاری کو ان شاء اللہ سمجھ آجائے گا کہ کس نے یہودیوں کی طرح کچھ بات اپنا لی اور کچھ چھوڑ دی ، اور کس نے الفاظ کا ہیر پھیر کر کے اپنی بات کو درست کرنے کی کوشش کی ، اللہ آپ کو معاف فرمائے ، آیے دیکھتے ہیں کہ پوری کی پوری عبارات بھی الحمد للہ میری بات کی ہی دلیل ہیں ،
بھائی عابد ، میں نے کچھ اور تفاسیر کے نام بھی لکھے تھے کیا ہی بھلا ہوتا کہ آپ سب تفاسیر کا مطالعہ فرما لیتے ،
یہ لیجیے کچھ عبارات تفسیر الطبری میں سے بھی نقل کرتا ہوں :::
""""""" ففعلوا فذلك حين يقول الله جعلا له شركاء فيما آتاهما يعني في التسمية
وقال آخرون بل المعني بذلك رجل وامرأة من أهل الكفر من بني آدم جعلا لله شركاء من الآلهة والأوثان حين رزقهما ما رزقهما من الولد
وقالوا معنى الكلام هو الذي خلقكم من نفس واحدة وجعل منها زوجها ليسكن إليها فلما تغشاها أي هذا الرجل الكافر حملت حملا خفيفا فلما أثقلت دعوتما الله ربكما
قالوا وهذا مما ابتدى ء به الكلام على وجه الخطاب ثم رد إلى الخبر عن الغائب كما قيل هو الذي يسيركم في البر والبحر حتى إذا كنتم في الفلك وجرين بهم بريح طيبة
وقد بينا نظائر ذلك بشواهده فيما مضى قبل
ذكر من قال ذلك
حدثنا بن وكيع قال ثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن جعلا له شركاء فيما آتاهما قال كان هذا في بعض أهل الملل ولم يكن بآدم
حدثنا محمد بن عبد الأعلى قال ثنا محمد بن ثور عن معمر قال قال الحسن عني بهذا ذرية آدم من أشرك منهم بعده
يعني بقوله فلما آتاهما صالحا جعلا له شركاء فيما آتاهما
حدثنا بشر بن معاذ قال ثنا يزيد قال ثنا سعيد عن قتادة قال كان الحسن يقول هم اليهود والنصارى رزقهم الله أولادا فهودوا ونصروا
قال أبو جعفر وأولى القولين بالصواب قول من قال عني بقوله فلما آتاهما صالحا جعلا له شركاء في الاسم لا في العبادة وأن المعني بذلك آدم وحواء لإجماع الحجة من أهل التأويل على ذلك
"""""""
بھائی جی ، اب غور فرمایے کہ اس آیت مبارکہ میں میاں بیوی کا اپنی اولاد کا نام غیر اللہ کی بندگی والا رکھنے کے عمل کو اللہ نے شرک قرار دیا ہے ، اور یہ آدم اور حواء علیہما السلام کا نہ ہونا آپ کی بات کی دلیل نہیں کیونکہ اس صور ت میں بھی اس کی بیان کی گئی مختلف تفاسیر میں سے سے زیادہ قریب حقیقت تفسیر یہ بیان کی گئی کہ یہ بات آدم و حواء علیہما السلام کی اولاد میں سے ایسا کرنے والوں کے لیے ہے ، خواہ وہ کافروں میں سے ہوں یا مسلمانوں میں سے ، اور خواہ کسی کو محسن سمجھتے ہوئے اور اس کی تعظیم کرتے ہوئے اس کی بندگی والے نام کا اظہار کیا جائے ،
اس عمل کو اللہ نے شرک قرار دیا ، پس اگر کوئی مسلمان ایسا کرے گا تو یہ عمل اُس کی مسلمانی کی وجہ سے جائز نہ وہ جائے گا ،
ویسے آپ کی منطق بھی عجیب ہے ، مجھ پر تو آپ نے اعتراض کیا تھا کہ :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
میں پوچھتا ہوں جناب سے کہ کیا کسی بندے کو خرید لینے سے اور اسے اپنا غلام بنا لینے سے کسی بھی انسان کو مالکانہ حقوق کے ساتھ ساتھ آیا مرتبہ الوہیت(معاذاللہ) حاصل ہوجاتا ہے کہ جناب کو زرخرید غلام کی نسبت لفظ عبد کے استعمال پر کوئی اعتراض نہیں کیا آیا وہ غلام جو کہ خریدا گیا ہے کیا اس کا بھی حقیقی مالک اللہ ہی نہیں جو کہ ا سکے مالک کا بھی مالک ہے لاحوال ولا قوۃ
اور فرمایا تھا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
کیا ہوگیا ہے آپ ظاہر پرستوں کی عقل کو ؟ سچ ہی کہا کسی نے کہ خدا جب دین لیتا ہے تو حماقت آہی جاتی ہے یعنی عام طور پر تو کوئی بھی کسی کو غیراللہ کا عبد نہیں کہہ سکتا کیونکہ اس سے عقیدہ توحید مجروح ہوتا مگر جب کوئی کسی شخص کو خرید کر اپنا غلام کر لے تو اب وہ خدا کی الوہیت میں شریک ہوگیا اب اس کی نسبت اس کے غلام کو عبد کہنا جائز ہوگیا لاحول ولا قوۃ
اور اب خود کسی محسن کی تعظیم کرنے کے لیے کسی انسان کا نام اس محسن کی بندگی کی نسبت والا رکھنا جائز قرار دے رہے ہیں ، اسے کہتے ہیں """ ابلیسی تعظیم """ ، اسی تعظیم کے شاخسانوں میں غیر اللہ کو سجدہ کرنا بھی جائز قرار دیا جانا ہے ، فأعتبروا یا اولیٰ الأبصار ، ناطقہ سر بگریباں ہے،،،،،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ، و السلام علیکم۔

Last edited by عادل سہیل; 27-03-10 at 10:36 PM. وجہ: کچھ الفاظ کی درستگی اور کچھ کا اضافہ
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (28-03-10), کنعان (27-03-10), نورالدین (29-03-10), آبی ٹوکول (28-03-10), عبداللہ حیدر (28-03-10)
پرانا 27-03-10, 11:25 PM   #188
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::: گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: سترہواں حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ میرے سابقہ سولہ مراسلات سے پیوستہ ہے اور بھائی عابد عنایت کے مراسلے رقم 169 کے جواب میں ساتواں مراسلہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں

پیارے بڑے بھائی ہم نے ہرگز حدیث کا بطلان نہیں کیا اور یہ آپ بھی جانتے ہیں پھر نہ جانے کیوں ہمارے خلاف ایسے الفاظ لکھ کر آپ لوگوں کے ذہنوں میں ہمارا کیا تاثر پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔ آپکو معلوم ہے کہ ہم نے حدیث کا رد نہیں کیا بلکہ اس حدیث سے جو آپکی مراد اور جو مفھوم آپ لے رہے تھے ہم نے خود اسی حدیث کے الفاظ کو دلیل بناتے ہوئے آپ کے مفھوم و مراد کا بطلان ثابت کیا ۔ ۔ ۔ ۔
کیونکہ آپ کا دعوٰی تھا غلام رسول اور عبدالرسول دونوں ہی شرک ہیں جبکہ اسکی دلیل کہ بطور جو حدیث آپ نے پیش کی اس کے الفاظ میں لفظ غلام کی اجازت تھی سو ایک ایسی حدیث آپ کے دعوٰی کی کیسے دلیل بن سکتی ہے کہ جسکی مکمل عبارت آپکے مکمل دعوٰی کی تصدیق نہ کرئے کیا آپ نے (معاذاللہ) یہودیوں والا طریق اپنانا ہے کہ آدھی عبارت سے دلیل اور آدھی کو چھوڑ دیا جو اپنے خلاف ہو ۔ ۔ ۔ ۔
محترم چھوٹے بھائی ، آپ کا یہ عذر گو کہ بہت دیر سے ظاہر ہوا ، لیکن ہم نے قبول کر لیا ، اور اس قبولیت کے ساتھ جوابات کے اس سلسلے کے پہلے جواب میں آپ کے لیے ایک نصیحت بھی پیش کر چکے ہیں،
چھوٹے بھیا ، آپ بزعم خود اپنے فلسفوں کی بنا پر اپنے ہی تئیں کسی کا بھی بطلان """ ثابت """ کرتے رہیے ، ہماری حجت اللہ کی مقرر کردہ کسوٹیاں ہیں ، """ اللہ کا کلام مبارک """ ، """ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سُنّت مبارکہ """ اور بالکل """ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال """کے مطابق پیش کر چکے ہیں ،
آپ بھی اللہ کے کلام پاک کو ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ کو جیسے مرضی تاویلات کی روشنی میں سمجھیے،
ہم تو """ اللہ کا کلام مبارک """ اور """ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سُنّت مبارکہ """ بالکل """ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال """کے مطابق سمجھتے ہیں کیونکہ الحمد للہ ہم """ اہل سُنّت و الجماعت """ ہیں ، لہذا نہ تو کسی صحیح ثابت شدہ سُنّت مبارکہ کی اپنی من مانی تاویل کرتے ہیں اور نہ ہی کسی آیت مبارکہ اور سُنّت مبارکہ کو سمجھنے کے لیے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، و للہ الحمد و المنۃ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
جاری ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (28-03-10), عبداللہ حیدر (28-03-10)
پرانا 27-03-10, 11:42 PM   #189
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::: گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: آٹھارواں حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ میرے سابقہ سترہ مراسلات سے پیوستہ ہے اور بھائی عابد عنایت کے مراسلے رقم 169 کے جواب میں آٹھواں مراسلہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
آخر میں ہم اپنے قارئین کرام کے لیے ایک بار سے تمام موضوع پر ہونے والی اپنی اور عادل بھائی کی بحث کے ضمن میں تمام دلائل کا خلاصہ پیش کردیتے ہیں تاکہ اصل نفس مسئلہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے قارئین اس بحث سے مستفید ہوسکیں ۔ ۔
بھائی عادل سہیل کا دعوٰی :- غلام رسول اور عبدالرسول نام رکھنا اللہ کی الوہیت میں شرک ہے ۔۔
دعوٰی کی دلیل :- دعوٰی کی اول تو کوئی دلیل نہ تھی اور ہمارے اصرار پر جب دلیل آئی بھی تو اول وہ حدیث کہ جس کا متن خود غلام کہنے کی اجازت دے رہا تھا لہذا وہ ان کے مکمل دعوٰی کی دلیل ہرگز نہیں بن سکتی پھر قرآنی آیت کی صورت میں جو دلیل عادل سہیل بھائی نے دی وہ بھی ایک ضعیف اسرائیلی روایت کو پیش کیا انھوں نے ہماری پیش کردہ واضح قرآنی آیت کے مقابلے میں ہماری دلیل جو کہ دلالۃ النص ہے اس کے مقابلے میں ایک ایسے تفسیری قول سے دلیل پکڑنا جو کہ شدید ضعیف اور عصمت انبیاء کے عقیدہ کو مسخ کردینے والا ہو ہرگز عادل بھائی کو زیبا نہ تھا مگرررررر خیر ہم نے اس تفسیر کو بھی واضح کردیا اور اسکی ہماری دلیل کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے اس کو بھی واضح کردیا ۔ ۔ ۔
میرے عابد بھائی ، یہ سب کچھ لکھنے سے پہلے کچھ تو خیال کرتے کہ آپ کس قدر غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں ، ہم نے کسی ضعیف روایت سے کچھ استدلال نہیں کیا ، بلکہ اس روایت کی کمزوری کا بیان پیش کیا اور آیت مبارکہ کا """ صریح النص والدلالۃ مدلول """ ایک صحیح ثابت شدہ حدیث مبارک اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین، تابعین تبع تابعین اور أئمہ کرام رحمہم اللہ جمعیاً کے عمل کی روشنی میں پیش کیا ، اور آپ نے اپنے فلسفے پیش کیے اور ہمیں """ کوسنے """ دیے ، جزاک عند اللہ ، ،
آپ نے """ عبد """ اور """ غلام """ کے استعمال کا جوفلسفہ ظاہر کیا اُس کی حقیقت ہم ظاہر کر چکے ، اس فلسفے میں یا تو آپ کی لا علمی عیاں ہے یا پھر جان بوجھ کر سچ کو دبانے کی کوشش ،
آپ کی پیش کردہ آیت میں سےجو لغت کے پیچ دے کر ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اس کی وضاحت ہمارے سابقہ مراسلات میں گذر چکی ہے ، اسے توجہ سے بار بار پڑھیے ، اور ہمیں بھی کچھ بتایے کہ کون سے """اصول التفیسر """ کے مطابق """ صریح الدلالۃ """ الفاظ کو چھوڑ کر ،صحیح ثابت شدہ حدیث مبارک کو چھوڑ کر ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین، تابعین تبع تابعین اور أئمہ کرام رحمہم اللہ جمعیاً کی عملی تفیسر کو چھوڑ کر لغت کی خمیدہ روی اختیار کرنا درست ہوتا ہے ؟؟؟؟؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ، و السلام علیکم۔

Last edited by عادل سہیل; 27-03-10 at 11:47 PM. وجہ: عنوان کا اضافہ
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (28-03-10), نورالدین (29-03-10), آبی ٹوکول (28-03-10), عبداللہ حیدر (28-03-10)
پرانا 28-03-10, 12:00 AM   #190
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::: گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: اُنیسواں حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ میرے سابقہ اٹھارہ مراسلات سے پیوستہ ہے اور بھائی عابد عنایت کے مراسلے رقم 169 کے جواب میں نواں مراسلہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں

آخر میں عادل بھائی سے چند سوالات مزکورہ مسئلہ کی ضمن میں ۔ ۔
سوال نمبرایک :- اگر فقط غلام رسول اور عبد الرسول نام رکھنا ہی الوہیت میں شرک ہے تو اس کی کوئی واضح دلیل بطور ثبوت پیش کریں ؟؟؟؟
ہم واضح ترین دلائل پیش کر چکے ہیں ، اوربار بار کہی ہوئی بات پھر کہتے ہیں کہ اللہ کے کلام مبارک ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سُنّت مبارکہ کو فہم ءِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے مطابق سمجھیے ،
جس کام کو واضح طور پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک قرار دیا اسے فلسفوں اور اصطلاحات کے نام ظاہر کر کر توحید میں شامل نہیں کیا جا سکتا ،
عابد بھائی جن اماموں نے وہ اصطلاحات وضع کی ہیں جن کا کہیں کسی طورآپ نے کچھ نام پتہ جان لیا ہے ، انہی أئمہ رحمہم اللہ کی کتابوں میں جا دیکھیے کہ وہ اصطلاحات کس کس صورت میں کیا کیا مفاہیم رکھتی ہیں ، بھائی جی ہمیں ایسی گاڑھی گاڑھی اصطلاحات کے نام لے لے کر ڈرایے مت ، اگر ان کے بارے میں کچھ سِکھانا چاہتے ہیں تو پیشگی شکریے کے ساتھ ہم نئی مجالس و محافل میں آپ سے مستفید ہونا اپنے لیے باعث شرف سمجھتے ہیں ، جِس طرح کہ اِن شاء اللہ دس بارہ دن بعد آپ کے بیان کردہ """ سنت کے معنی ، تعریف اقسام اور جہات """ اور """ حقیقت بدعت """ میں ہوں گے ، باذن اللہ تعالیٰ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (28-03-10), نورالدین (29-03-10), آبی ٹوکول (28-03-10), عبداللہ آدم (28-03-10), عبداللہ حیدر (28-03-10)
پرانا 28-03-10, 01:09 AM   #191
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::: گذشتہ سے پیوستہ ، عابد بھائی کے لیے جواب ::: بیسواں (آخری) حصہ ::::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہ مراسلہ میرے سابقہ اُنیس مراسلات سے پیوستہ ہے اور بھائی عابد عنایت کے مراسلے رقم 169 کے جواب میں دسواں مراسلہ ہے ، اور الحمد للہ بھائی عابد کے سابقہ مراسلات کے جوابات کے سلسلے میں آخری مراسلہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
سوال نمبر دو :- اگر فقط نام میں پائی جانے والی ظاہری نسبت کی اشتراکیت ہی کسی کو مشرک ثابت کرتی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ خود قرآن نے غیراللہ کی جانب اسی ظاہری نسبت کو استعمال کیا ؟؟؟ جیسا کہ عبادکم کے الفاظ اس پر دال ہیں ۔ ۔ ۔
والسلام
برادرءمن ، قران نہیں کہتا ، قران میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ، کیا آپ قران کے مخلوق ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں !!!!! ؟؟؟؟؟؟؟
بھائی میرے ، نام کی شراکت ہی اس عمل کو شرک قرار دینے کا سبب بنی ہے ، تمام تر تفاسیر میں وضاحت سے یہ بیان میسر ہے کہ """ شرکا فی التسمیۃ ::: اُن دونوں نے نام رکھنے میں شرک کیا """ ،
نام کی اشتراکیت کےمعاملے میں """ امام محمد بن عمر الرازی""" کی """التفسیر الکبیر """میں سے ان کی بات نقل کر رہا ہوں بغور پڑھیے ،
""""""" الوجه الرابع في التأويل أن نقول سلمنا صحة تلك القصة المذكورة إلا أنا نقول إنهم سموا بعبد الحرث لأجل أنهم اعتقدوا أنه إنما سلم من الآفة والمرض بسبب دعاء ذلك الشخص المسمى بالحرث وقد يسمى المنعم عليه عبداً للمنعم يقال في المثل أنا عبد من تعلمت منه حرفاً ورأيت بعض الأفاضل كتب على عنوان كتابة عبد وده فلان قال الشاعر ،
وإني لعبد الضيف ما دام ثاويا
ولا شيمة لي بعدها تشبه العبدا
فآدم وحواء عليهما السلام سميا ذلك الولد بعبد الحرث تنبيهاً على أنه إنما سلم من الآفات ببركة دعائه وهذا لا يقدح في كونه عبد الله من جهة أنه مملوكه ومخلوقه إلا أنا قد ذكرنا أن حسنات الأبرار سيئات المقربين فلما حصل الاشتراك في لفظ العبد لا جرم صار آدم عليه السلام معاتباً في هذا العمل بسبب الاشتراك الحاصل في مجرد لفظ العبد فهذا جملة ما نقوله في تأويل هذه الآية
"""""""
لیجیے عابد بھإئی آپ کی طرف سے ظاہری نسبت کی اشتراکیت والی ایک لفظی حجت بھی ختم ہوئی ، اور ہماری کسی بات سے نہیں تفسیر کے ایک امام کے قول سے ختم ہوئی ، میرا خیال ہے ہمارے ساتھ ساتھ آپ بھی یہ تو مانیں گے ہی کہ ان امام صاحب کو تو """ اصول التفیسر """ کا کچھ پتہ ہو گا ہی ، اور کچھ نہ کچھ سوجھ بوجھ """ علم اصول الفقہ """ کی بھی رکھتے ہی ہوں گے ، انہوں نے نام کے اس شرک کو صرف نام میں اشتراک ہونے کی بنا پر ہی شرک سمجھایا ہے اور کہا کہ اگر یہ واقعہ آدم علیہ السلام کے بارے میں سچا مان لیا جإئے تو بھی یہ اشتراک ہی ان کے قابل عتاب بننے کا سبب ہوا، یعنی میرے پیارے عابد بھائی ، یہ واقعہ سچا نہیں تو بھی یہ کام یعنی نام میں نسبت کا اشتراک جو کہ """ عِلت """ ہے کی موجودگی میں حُکم بھی برقرار ہی رہے گا ، """ علم اصول الفقہ """ میں آپ نے تو ضرور ہی پڑھا ہو گا کہ """ الحُکم المبنی علی العِلۃ لا یزال ما زالت العِلۃ موجودۃ و اِن زالت العِلۃ زال الحُکم ::: :::جو حُکم کسی عِلت پر مبنی ہوتا ہے وہ اس وقت تک موجود رہتا ہے جب تک وہ عِلت ،موجود رہتی ہے ، اور اگر عِلت ختم ہو جائے تو حُکم بھی ختم ہو جاتا ہے""" ( اگر ان الفاظ میں نہیں تو کچھ اور الفاظ میں یہ اصول پڑھا تو ہو گا ہی ) لہذا جب تک عِلت برقرار ہے حکم بھی برقرار ہے ، اور وہ عِلت نام کی ظاہری اشتراکیت بھی ہے ، و للہ الحمد و المنۃ
عابد بھائی ، بڑی وضاحت سے یہ بتایا جا چکا ہے کہ اس آیت میں بیان کردہ واقعہ کسی ایک خاص میاں بیوی کا نہیں ، لیکن نام کا اشتراک ہی اس عمل کو شرک قرار دینے کا سبب ہوا ، اب آپ یہ مت سمجھیے کہ یہاں بھی امام الرازی نے یہ بیان اس لیے کیا ہے کہ یہ اگر یہ واقعہ آدم اور حواء علیہما السلام کا ہو تو ، جی نہیں ، بھائی ، یہ واقعہ ، واقعہ تھااور ہے پس کسی سے بھی یہ عمل سرزد ہو اللہ نے نام کے اس اشتراک کو """ شرک """ قرار دیا ہے ،
ایک دفعہ پھر عرض کرتے چلیں کہ """ آپ اللہ کے کلام پاک کو ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ کو جیسے مرضی تاویلات کی روشنی میں سمجھیے، ہم """ اللہ کا کلام مبارک """ اور """ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سُنّت مبارکہ """ بالکل """ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال """کے مطابق سمجھتے ہیں کیونکہ الحمد للہ ہم """ اہل سُنّت و الجماعت """ ہیں ، لہذا نہ تو کسی صحیح ثابت شدہ سُنّت مبارکہ کی اپنی من مانی تاویل کرتے ہیں اور نہ ہی کسی آیت مبارکہ اور سُنّت مبارکہ کو سمجھنے کے لیے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، و للہ الحمد و المنۃ """
یہاں تک ہماری طرف سے بھائی عابد عنایت کے مراسلات کے جوابات مکمل ہوئے ، و للہ الحمد ، و ما توفیق الا باللہ ،
ہم بھائی عابد عنایت کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں کہ کوئی جواب دینے میں ہماری بات مکمل ہونے تک کا انتظار کیا ، اور یوں ہماری بات کا تسلسل برقرار رہنے میں ہماری مدد فرمائی ،
اور ان شاء اللہ امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے جوابات بھی ایک اچھے تسلسل میں اور بات بات کے مطابق پیش کریں گے ،

اور سب سے اہم بات یہ کہ ہم بھائی عابد عنایت سے اپنے اسلوب کے خلاف کچھ ترش روئی سے بات کرنے پر معذرت خواہ ہیں ، امید کرتے ہیں کہ بھائی عابد اس معذرت کو قبول فرمائیں گے ، اس کا سبب ہم اپنے جوابات کے آغاز میں ہی ذکر چکے ہیں ،
بھائی عابد کے ساتھ ساتھ میں اُن تمام بھائیوں کا بھی شکر گذار ہوں جنہوں نے میری درخواست قبول کرتے ہوئے میری بات کو تسلسل سے مکمل کرنے کی مہلت دی ، جزاکم اللہ خیرا،
بھائی ریحان حیدر صاحب کے مراسلے کا جواب باقی رہ گیا ، ان شاء اللہ دس بارہ دن بعد پیش کروں گا ، اگر اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے اس سے مہلت عطا فرما دی تو اس سے پہلے ہی پیش کر دوں گا ،
امید ہے بھائی ریحان حیدر بھی یہ عذر قبول کر لیں گے ، میں نے بھائی عابد کے لیے جوابات بھی کافی جلدی میں لکھے ہیں اور اسی لیے اکثر عربی عبارات کا ترجمہ نہیں کر پایا ۔ و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (28-03-10), کنعان (28-03-10), نورالدین (29-03-10), آبی ٹوکول (28-03-10), عبداللہ آدم (28-03-10), عبداللہ حیدر (28-03-10)
پرانا 28-03-10, 03:27 PM   #192
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم عادل سہیل بھائی !
سب سے پہلے تو آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے اپنے انتہائی قیمتی وقت میں کچھ وقت نکال کر اس موضوع کو آگے بڑھایا اور اپنے دلائل بخوبی مکمل کیئے اللہ پاک آپکو اسکی جزاء دے ۔ ۔ ۔اسکے بعد آتا ہوں آپکے مراسلہ نمبر 171 کے درج زیل پیراگراف کی طرف ۔۔
اقتباس:
آپ جس طرح مسلسل دوسروں کے ساتھ سخت کلامی اور غیر مناسب رویے سے پیش آ رہے ہیں میرے لیے بھی اپنے رویے پر برقرار رہنا مشکل ہو رہا ہے ،
کیا میں یہ توقع کروں کہ آپ مجھے میرے موجودہ رویے پر قائم رہنے میں مدد دیں گے ؟؟؟
آپکے یہ الفاظ پڑھکر مجھے انتہائی دکھ ہوا اور حیرت بھی ہوئی ۔ ۔ ۔
یہ سچ ہے کہ جب ہماری بات شروع ہوئی تھی تو ابتدا میں، میں نے جارحانہ رویہ اپنایا تھا مگر پھر آپ اور نورالدین بھائی کی سرزنش کہ بعد سے میں نے کسی بھی مراسلے میں دوبارہ وہی رویہ نہیں اپنایا بلکہ میرا جو آخری مراسلہ 169 ہے کہ جس کے بعد سے آپ نے انتہائی طویل مراسلت کا سلسلہ یہاں شروع کیا اس میں سے آپ ایک بھی ایسا لفظ دکھا دیں کہ جس میں دشنام طرازی ہو ۔ ۔
یا پھر باالخصوص آپ سے اور باالعموم دیگر احباب سے سخت کلامی کی گئی ہو مجھے حیرت ہوئی کہ آپ کو ایک دم سے کیا ہوگیا؟؟؟؟ اور میں نے ایسا کیا کہہ دیا کہ آپکو یہ سب الفاظ لکھنے کی ضرورت پیش آئی ؟؟؟؟؟ خیر اگر آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ میں مسلسل سخت کلامی کیئے جارہا ہوں تو میں آپ سے اور تمام احباب سے ایک بار پھر معذرت خواہ ہوں ۔ ۔
اس مراسلہ کہ بعد میرے تمام تر مراسلہ جات میں فقط آپکی گفتگو کا علمی رد ہوگا دیگر کچھ نہیں ہوگا لہذا میں آپکے فقط انھی مراسلات کو جواب دوں گا کہ جن میں آپ نے کچھ علمی گفتگو کی ہے میرے میری ذات کے بارے میں آپکے جتنے بھی الفاظ ہیں بمع آپکے پند و نصائح کہ ان میں سے میں کسی کا بھی جواب نہیں دوں گا اور آخر میں میری آپ سمیت تمام قارئین کرام سے اور باالخصوص انتظامیہ سے گذارش ہوگی کہ برائے مہربانی اب اس گفتگو میں اور کوئی نہ بولے فقط مجھے اور عادل بھائی کو بات واضح کرنے دیں والسلام شکریہ ۔ ۔ ۔
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
sahj (28-03-10), نورالدین (29-03-10), اویسی (30-03-10), حیدر Rehan (29-03-10), عبداللہ آدم (28-03-10)
پرانا 28-03-10, 05:45 PM   #193
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عادل سہیل بھائی کے مراسلہ 171 کا جواب (پہلا حصہ)

اسلام علیکم !
عادل سہیل بھائی آپ اپنے مراسلہ نمبر 171میں رقم طراز ہیں کہ ۔ ۔
اقتباس:
میری طرف سے اللہ تعالیٰ کے ناموں اور صِفات کی توحید کے منافی نام رکھنے کو شرک کہنے کی دلیل قران پاک اور حدیث مبارک سے ہو گئی اور اُن دلائل کو صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے فعل سے سمجھنے کی بات بھی ہو گئی ، پھر میں نے قرانی دلیل کی مزید وضاحت پیش کی جسے آپ نے بقول آپ کے ہی """ کوسنے """ والے انداز میں مختلف فلسفوں کی بنا پر رد کیا ہے ، ان شاء اللہ اُس کا جواب اپنی جگہ پر دیا جائے گا
،
تو آئیے قارئین کرام دیکھتے ہیں کہ اول عادل بھائی نے قرآن سے کیا دلیل دی ہے ۔؟

اقتباس:
((((( فَلَمَّآ آتَاهُمَا صَالِحاً جَعَلاَ لَهُ شُرَكَآءَ فِيمَآ آتَاهُمَا فَتَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ::: پس جب اللہ نے ان دونوں کو نیک بیٹا دیا تو انہوں نے اُس میں اللہ کے لیے شریک بنا لیے جو اللہ نے انہیں دیا تھا اور اللہ اس سے بلند ہے جسے وہ شریک بناتے ہیں ))))) سورت الاعراف / آیت ۱۹۰ ،

جی تو عادل بھائی آپ نے اپنے دعوٰی " کہ عبدالرسول اور غلام رسول نام رکھنا الوہیت میں شرک ہے " کہ ثبوت میں سورہ اعراف کی آیت نمبر 190 سے دلیل دی ماشاء اللہ ۔ ۔ ۔
تو آئیے قارئین کرام اول اس دعوٰی کا اور پھر اسکی دلیل کا تحقیقی جائزہ لیں ۔ ۔
میرے بھائی دعوٰی آپکا خاص ہے یعنی آپ یہ کہتے ہیں کہ جو کوئی بھی چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم وہ اگر اپنے نام کی نسبت کسی بھی غیر اللہ کی طرف لفظ عبد سے کرے گا تو وہ مشرک ہوگا اور بطور دلیل جو آیت آپ پیش فرما رہے ہیں وہ اس دعوٰی کے مقابلے میں عام ہے یعنی دعوٰی خاص اور دلیل عام یہ تو ابتدا سے ہی بات غلط ہوگی ۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ آپ کا دعوٰی ہے لفظ عبد کی نسبت مطلقا غیراللہ کے ساتھ شرک ہے اور یہ دعوٰی دعوٰی خاص ہے یعنی آپ کو لفظ عبد کی نسبت غیر اللہ کے ساتھ کسی بھی معنوں میں قابل قبول نہیں بلکہ آپ کے نزدیک وہ ہر حال میں شرک ہے تو آپکو چاہیے تھا کہ قرآن پاک سے کوئی ایسی صریح آیت پیش فرماتے کہ جو آپکے اس دعوٰی خاص کی دلیل ہوتی کہ جس میں صریحا یہ کہا گیا ہوتا کہ لفظ عبد کی غیر اللہ کی طرف مطلقا نسبت بھی شرک ہے ۔ ۔ ۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ پورا قرآن پاک آپ کے اس دعوٰی خاص کی دلیل سے خالی ہے بلکہ اس کے بالکل برعکس قرآن میں لفظ عبد مطلقا غیر اللہ کی نسبت سے استعمال ہوا ہے ۔ ۔ ۔
اب آتا ہوں آپکی پیش کردہ آیت کی طرف ۔ ۔ اول آیت کے الفاظ ۔ ۔فَلَمَّآ آتَاهُمَا صَالِحاً جَعَلاَ لَهُ شُرَكَآءَ فِيمَآ آتَاهُمَا فَتَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ۔ ۔ ۔ ۔ ترجمہ ۔ ۔ ۔پس جب اللہ نے ان دونوں کو نیک بیٹا دیا تو انہوں نے اُس میں اللہ کے لیے شریک بنا لیے جو اللہ نے انہیں دیا تھا اور اللہ اس سے بلند ہے جسے وہ شریک بناتے ہیں ۔ ۔
قارئین کرام دیکھ سکتے ہیں آیت میں مجرد شرک کی مذمت ہے آیت کے الفاظ میں ہرگز اس بات کی کوئی وضاحت یا تصریح نہیں کہ مشرکین کا وہ شرک کیا تھا ؟؟ یعنی آیت کے الفاظ شرک کی مزمت تو کررہے ہیں مگر وہ شرک کونسا والا شرک تھا اور ان کن لوگوں کا شرک تھا اس بات کی کوئی تصریح آیت کے الفاظ میں نہیں یعنی آیت کے الفاظ میں نہ تو دلالۃ النص کے اعتبار سے اور نہ ہی عبارۃ النص کے اعتبار اس بات کی وضاحت ہے کہ مشرکین کا وہ شرک کونسا شرک تھا ۔ ۔ ۔ ۔لہذا یہی وجہ ہے کہ شرک کی اس قسم کو واضح کرنے کے لیے مفسرین نے تفسیری اقوال جمع کیے اور پھر آپ نے بھی وہیں سے یعنی تفسیری اقوال سے دلیل پکڑی ۔۔۔
جبکہ ہم نے جو آیت پیش کی ۔ ۔ ۔ قال اﷲ تعالٰی ۔ ۔ وانکحوا الایامٰی منکم والصّٰلحین من عبادکم وامائکم ۔ ۔ ۔ قارئین کرام دیکھ سکتے ہیں کہ اس آیت کے الفاظ میں مطلقا اللہ پاک نے لوگوں کے غلاموں کو لوگوں کا عبد فرمایا ۔ ۔ ۔
اب ایک طرف خود اللہ پاک ہیں جو کہ عمومی الفاظ میں مطلقا غلاموں اور باندیوں کو ان کے آقا کا عبد قرار دے رہے ہیں اور دوسری طرف ہمارے عادل سہیل بھائی ہیں جو کہ سورہ اعراف کی آیت نمبر 190 کی تفسیر سے یہ ثابت کررہے ہیں کہ لفظ عبد کی مطلقا نسبت غیر اللہ کی طرف شرک ہے ۔۔ ۔
چلیئے ایک منٹ کے لیے عادل سہیل بھائی کا دعوٰی مان لیتے ہیں اور اس آیت سے ان کے استدلال کی درستگی کو بھی تسلیم کرلیتے ہیں تو پھر اب اس گتھی کو کون سلجھائے ؟ کہ ایک طرف قرآن پاک میں اللہ پاک خود لفظ عبد کی نسبت غیراللہ کی طرف کرتا ہے اور دوسری طرف اسی قرآن پاک میں لفظ عبد کی فقط غیراللہ کی طرف نسبت کو شرک فی الاسماء بھی قرار دیتا ہے ۔ ۔ ۔؟؟؟
اب قرآن کی ان دونوں آیات میں جو تعارض واقع ہوا ہے اس کو کیسے دور کیا جائے گا اس کا جواب عادل سہیل بھائی ہی دیں گے ؟؟؟؟
اور ہمیں معلوم ہے کہ عادل سہیل بھائی نے کیا جواب دینا ہے ۔ ۔ عادل سہیل بھائی نے یہی کہنا کہ جو عبید زرخرید ہوں ان پر لفظ عبد کا اطلاق درست ہے انکے علاوہ میں شرک ہے ۔۔ یہ کتنی بد عقلی کی بات ہے کہ اس کا مضر ہونا ہر ادنٰی عقل والے پر بھی ظاہر ہے کیونکہ جب دعوٰی یہ ہو کہ لفظ عبد کی مطلقا غیراللہ کی طرف نسبت شرک ہے تو پھر ہر حال میں شرک ہوگی کیونکہ شرک مجرد کسی فعل کا نام نہیں بلکہ نظریہ بمعنی عقیدہ کا نام ہے لہزا جب ہم کسی کو مشرک قرار دیتے ہیں تو ا سکے عقیدہ و نظریہ کی وجہ سے قرار دیتے اور وجہ اسکے عقیدہ میں پائی جانے والی وہ خرابی ہوتی ہے کہ جس میں وہ ایک غیر اللہ کو اللہ کا کوئی ایسا حق دیئے بیٹھا ہوتا ہے کہ جو حق فقط اللہ ہی کے ساتھ مختص ہے جیسے معبود ہونا اور اسکی صفات کا مستقل ہونا سو اس لحاظ سے شرک کا تحقق فقط نیت کی تقسیم سے کیا جائے گا کیونکہ جب کوئی مسلمان جو کہ مومن و موحد ہے جب وہ اپنے آپ کو غلام رسول یا عبدالرسول کہلوائے گا تو اس میں قائل کا موحد ہونا ہی اصل قرینہ ٹھرے گا اور اسکی نیت کا اعتبار کیا جائے گا اور اسکے خود کو عبد الرسول کہلوانے کو مجاز پر محمول کیا جائے گا کہ ایسے اسناد مجاز عقلی ہوا کرتے ہیں ۔ ۔ ۔
اور قرآن میں انکی بکثرت مثالیں ہیں ۔ ۔ جیسے حضرت جبریل امین علیہ الصلٰوۃ والسلام نے حضرت مریم سے کہا :انما انا رسول ربک لِاَھَبَ لَکِ غلاماً زکیّا ترجمہ ۔-۔میں تو تمہارے رب کابھیجاہوا ہوں اس لئے کہ میں تم کوایک ستھرا بیٹادوں ۔ ۔ ۔اسی طرح اللہ پاک فرماتاہے کہ ۔ ۔ ان الحکم الا ﷲ کہ حکم صرف اللہ ہے اور ایک اور جگہ خود قرآن پاک ہے کہ ۔ ۔فابعثوا حکما من اھلہ وحکما من اھلھا ۔ ۔ تو پھر ایک حکم مرد کے خاندان میں سے، اور ایک حکم عورت کے خاندان میں سے مقررکرو ۔ ۔ ۔ ۔ان دونوں آیات میں سے اول الذکر آیت میں حضرت جبرائل کا بیٹا دینے کو اپنی طرف نسبت کرنا مجاز عقلی ہے حالانکہ حقیقت میں اللہ ہی اولاد دیتا ہے اور اسی طرح دوسری‌ آیت میں جو مرد اور عورت کے خاندان والوں میں سے ایک ایک فرد کو حکم بنانے کا کہا جارہا ہے اس سے مراد حقیقی حاکم نہیں بلکہ مجازی طور پر گھر کے بڑے لوگ ہیں جو کہ فیصلہ کرسکیں ۔ ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن پاک کی فقط ایک آیت کو لیکر اس پر بغیر سوچے سمجھے شرک کا حکم لگادینا ہمیشہ سے خارجیت کا شیوہ رہا ہے کہ انھوں ان الحکم الا للہ سے معاذ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مشرک قرار دے دیا تھا ۔ ۔ یعنی انھے قرآن میں ان الحکم الاللہ تو نظر آ گیا مگر ۔فابعثوا حکما من اھلہ وحکما من اھلھا کی نص نظر آئی ۔ ۔ ۔ اوریہ کہ ہماری پیش کردہ آیت پاک میں لفظ عبد کی غیراللہ کی طرف نسبت قرآن پاک کے مجاز عقلی کی ایک عمدہ مثال ہے کیونکہ مجاز عقلی ( علم معانی) کو کہتے ہیں کہ ایسا جملہ جس میں فعل یا معنی فعل کو ایسی چیز کی طرف نسبت کریں جو اس کے ساتھ متصف نہ ہو مثلاً فعل مصروف ہو تو غیر مفعول بہ کی طرف نسبت کی جائے۔ یا پھر کلام میں کسی فعل کی اسناد ایسے فاعل کی طرف منسوب کی جائیں جو کہ حقیقت میں اس فعل کا فاعل نہ ہو اور ایسی چیز کو مفعول بہ بنایا جائے جو کہ غیر مفعول بہ ہو اور ایسا ان دونوں کے درمیان کسی مشابہت کے تعلق کی وجہ سے کیا جاتا ہے جیسا کہ علمائے کرام تصریح مثالوں سے واضح کرتے ہیں کہ ۔ ۔ انبت الربیع البقل وحکم علی الدھر (بہار نے سبزہ اگایا اوردہرنے مجھ پر حکم کیا اور اسی طرح کہا جاتا ہے کہ بادشاہ نے محل بنایا حالانکہ بنانے والے مزدور اور راج ہوتے ہیں ۔ ۔ اگر بہار نے سبزہ اگایا کہنے والا مومن ہوگا تو اس کا ایسا کہنا مجازی عقلی ہے اور وہ ایسا کہنے کے باوجود موحد و مومن ہی رہے گا جبکہ اگر کوئی دہریہ ایسا کہے تو اس کا ایسا کہنا صریحا شرک ہے کہ کیونکہ دہریہ زمانے کو مستقل بالذات اور مؤثر حقیقی مانتا ہے لہزا دونوں کی ایک ہی جیسی بات میں فرق فقط نیت سے کیا جائے گا اور نیت کو ماپنے کا قرینہ اسلام اور دہریہ ہونا ٹھرایا جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ہے والسلام

Last edited by آبی ٹوکول; 28-03-10 at 05:56 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (28-03-10), اویسی (28-03-10), حیدر Rehan (29-03-10), عبداللہ آدم (29-03-10)
پرانا 28-03-10, 06:21 PM   #194
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عادل بھائی کے مراسلہ نمبر 171 کا جواب (دوسرا حصہ)

اقتباس:
میرے بھائی اگر کوئی حدیث کسی معاملے کسی مسئلے کا حکم بیان کرنے والی ہو اور اسی مسئلے سے متعلق آیت کی تفسیر میں کسی مفسر نے اس کا ذکر نہ کیا ہو تو کیا اُس حدیث مبارک میں موجود حُکم """ باطل """ ہو گیا ؟؟؟
جی عابد بھائی ، ماشاء اللہ اصول و قواعد ء استدلال کے بارے میں بھی آپ کے علم کی انفرادیت واضح ہو رہی ہے ، کیا ہی بھلا ہوتا کہ اگر آپ کو یہ محسوس ہو رہا تھا کہ مجھے """ دلائل سے استدلال کا اصولی طریقہ کار """معلوم نہیں تو بھائی یوں لٹھ مارنے کی بجائے وہ طریقہ کار ہی بیان کر دیتے ، جس طرح آپ نے """ دو ادلہ میں تعارض """ ہونے کی صورت میں اُن میں توفیق کروانے کے بارے میں بیان فرمایا ہے ، خیر ،،،،،، قدر اللہ ما شاء
نہیں میرے بھائی ایسا ہرگز نہیں اور نہ ہی ہم نے ایسا کہا کہ اگر کوئی حدیث کسی معاملے کسی مسئلے کا حکم بیان کرنے والی ہو اور اسی مسئلے سے متعلق آیت کی تفسیر میں کسی مفسر نے اس کا ذکر نہ کیا ہو تو نتیجتا اس حدیث سے اخذ ہونے والا حکم بھی باطل ہوجائے گا بلکہ اس کے برعکس ہم نے تو یہ عرض کی تھی کہ جس حدیث سے آپ لفظ عبد کی ممانعت ثابت فرمارہے ہیں وہ اگر ہماری پیش کردہ قرآنی آیت کے معارض ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مفسرین اسے قرآن کی اس آیت کے مقابل میں ذکر نہیں کرتے ؟ یعنی ایک حدیث سے جو حکم آپ اخذ کررہے ہیں یعنی لفظی اشتراک کے باعث شرک کا پھر کیا وجہ ہے کہ مفسرین اس حدیث سے وہی حکم اخذ نہیں کرتے ؟؟؟؟؟ اور رہ گئی تو ادلہ کے تعارض کی بات تو محدثین و مفسرین کس طرح سے ادلہ کے تعارض کو دور کرتے ہیں زیل میں آپ خود دیکھ لیجیئے ۔ ۔ ۔
یہ فتح الباری ۔ ۔

باب كَرَاهِيَةِ التَّطَاوُلِ عَلَى الرَّقِيقِ وَقَوْلِهِ عَبْدِي أَوْ أَمَتِي حذف التشكيل

وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ وَقَالَ عَبْدًا مَمْلُوكًا وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَى الْبَابِ وَقَالَ مِنْ فَتَيَاتِكُمْ الْمُؤْمِنَاتِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ وَ اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ عِنْدَ سَيِّدِكَ وَمَنْ سَيِّدُكُمْ

الشرح‏:‏

قوله‏:‏ ‏(‏باب كراهية التطاول على الرقيق‏)‏ أي الترفع عليهم، والمراد مجاوزة الحد في ذلك، والمراد بالكراهة كراهة التنزيه‏.‏

قوله ‏(‏عبدي أو أمتي‏)‏ أي وكراهية ذلك من غير تحريم، ولذلك استشهد للجواز بقوله تعالى‏:‏ ‏(‏والصالحين من عبادكم وإمائكم‏)‏ وبغيرها من الآيات والأحاديث الدالة على الجواز، ثم أردفها بالحديث الوارد في النهي عن ذلك، واتفق العلماء على أن النهي الوارد في ذلك للتنزيه، حتى أهل الظاهر، إلا ما سنذكره عن ابن بطال في لفظ الرب‏

اب چاہیں تو اس پوری عبارت کا یا پھر خط کشیدہ الفاظ کا ترجمہ آپ قارئین کرام کے لیے کردیں تو سب کو بات سمجھ میں آجائے کہ امام ابن حجر نے کس طرح سے آیت اور حدیث کا باہمی تعارض رفع فرمایا ہے ۔ ۔ باقی اس تشریح کو ہم آگے چل کر اس کے اصل مقام پر بھی بیان فرمائیں گے ۔ ۔ ۔ والسلام جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (28-03-10), اویسی (28-03-10), حیدر Rehan (29-03-10)
پرانا 30-03-10, 05:36 PM   #195
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عادل بھائی کے مراسلہ اور 171 کا جواب (دوسرا حصہ )

اسلام علیکم معزز قارئین کرام آج سے ہم محترم عادل سہیل بھائی کے مراسلات کے جوابات کا سلسلہ ایک بار سے شروع کررہے ہیں درج زیل میں آپ کہ مراسلہ نمبر 171 میں سے اقتباس کا جواب نقل کیا جاتا ہے ۔ ۔

اقتباس:
عابد بھائی ، آپ کے اس فلسفے کے """مفاسد """ بہت""" ظاہری """ ہیں ، اور اس کا سبب آپ نے اپنے اس مراسلہ میں ظاہر کیا ہے جو آپ نے حدیث کی تعریف اور اقسام کے بارے میں ارسال کیا ،
جب یہ فسلفہ ظاہر ہوا تو اللہ کے بندوں نے اس کا علمی محاسبہ کیا اور """ سُنّت """ کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے یہ بتایا کہ """ فعلی سُنّت """ میں """ سُنّت فعلیہ """ اور """ سُنّت ترکیہ """ ہوتی ہیں ، اِن شاء اللہ اس کا بیان الگ پیش کروں گا
جی عادل بھائی ہم ان شاء اللہ اپنے دعوٰی پر قائم ہیں اور ایک بار پھر سے اپنے دعوٰی کی مزید توضیح کرتے ہوئے دہرا دیتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہ کسی بھی شئے یا امر سے " مطلقا ترک " کو کبھی بھی کسی بھی محدث نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی " سنت ترکیہ " سے تعبیر نہیں فرمایا اور نہ ہی یہ مطلقا سنت کی کوئی مستقل قسم ہے اگر ہوتی تو اصول کی کتابوں میں تمام بڑے بڑے محدثین اس کا بھی سنت قولیہ اور فعلیہ اور تقریریہ کی طرح اندراج و ارقام فرماتے ۔ ۔
رہ گئے وہ خاص مقام کہ جہاں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مروجہ امور کو " عمدا ترک " فرمایا تو ایسا ترک "ترک عمد " کہلاتا ہے لہذا "ترک عمد " اور" مطلقا ترک " ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اول "ترک عمد " اپنے مخصوص مقام میں خود ثبوت کا محتاج ہوا کرتا ہے لہزا جب کسی خاص مقام پر بعض مخصوص افعال سے آپ کا "عمدا ترک " ثابت ہوجائے تو اسے بلا شبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( اس مخصوص مقام میں) "سنت ترکیہ " سے تعبیر کرسکتے ہیں ۔ کیونکہ عمدا ترک کرنا ہی اصل میں سنت ترکیہ کہلائے جانے کے لائق ہے نہ کہ "مطلقا ترک " ۔ کہ جسے آپ لوگ " سنت ترکیہ " قرار دے رہے ہیں ۔ کیونکہ کسی موضع یعنی مقام مخصوص میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مروجہ امور کو عمدا ترک کرنا ہی حقیقت میں ترک ہے اور اگر غور و تدبر کیا جائے تو یہ ایک طرح سے " نھی" کی ہی ایک قسم ہے لہزا اصول یہی ہے کہ ایسے میں ترک (عمد) کا ثبوت دیا جائے گا لہذا اگر کسی مقام مخصوص پر آپ سے بعض مخصوص افعال کا (عمدا) ترک ثابت ہو جائے تو بلا شبہ ایسے امور کو "سنت ترکیہ " سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اور اگر ایسے ترک پر تدبر کیا جائے تو یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ مقام مخصوص پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی مروجہ فعل سے عمدا اجتناب حقیقت میں ترک نہیں بلکہ " نہی " کی ہی ایک قسم ہے ۔۔۔۔ب
حرحال اس کے تفصیلی دلائل ہم متعلقہ تھریڈ میں عرض کریں گے ۔ ۔ جاری ہے ۔ ۔ ۔

Last edited by آبی ٹوکول; 17-08-10 at 08:54 AM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہوتا, کوئی, قران, نام, مجید, معلوم, اکبر, اللہ, انشا, بھائی, توحید, جواب, حکم, حال, خبر, خدا, زندگی, سوچ, عقل, علی, عالم, صفات, صفت, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 2:::: عادل سہیل کفروشرک 8 02-02-12 06:18 PM
توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: کفر اکبر ::: عادل سہیل کفروشرک 6 05-03-10 07:21 PM
پانچ چیزیں اخترحسین ایس ایم ایس 1 18-10-09 07:00 PM
پانچ چیزیں میاں شاہد اسلام اور معاشرہ 0 01-06-09 10:32 AM
پانچ چیزیں ابو عمار پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 07-10-07 10:03 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:11 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger