واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > کفروشرک



کفروشرک کفروشرک


توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 1::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-12-07, 05:21 PM  
توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 1::::
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 18-12-07, 05:21 PM

السلام علیکم ،
چند دِن پہلے توحید کے تعارفی رواں خاکہ جات ارسال کیے تھے ، جِن پر کسی قسم کا کوئی جواب موصول نہیں ایسا لگتا ہے یا تو کسی نے ادھر توجہ ہی نہیں کی ، یا جس جس نے دیکھا وہ پہلے ہی جانتا تھا یا اس کے لیے کوئی ضروری یا اہم بات وہاں میسر نہیں تھی ، اللہ ہی بہتر جانے ،
توحید کی دعوت کا ہمشیہ ایسا ہی استقبال ہوتا ہے ، اور دعوت دینے والا بہر حال اپنے رب کی رضا کے لیے دعوت دیتا رہتا ہے ،
پس ، اگلے رواں خاکہ جات ، جن میں مختصر طور پر کسی کی زندگی میں سے توحید کو ختم کر دینے والے کاموں کا ذَکر ہے ارسال کر رہا ہوں ، انشا اللہ ان کے بعد توحید کو کم کر دینت والے کاموں کا تعارف ارسال کروں گا
السلام علیکم

Attached Thumbnails
f_chart_4_shirk_1_2.jpg  


عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 6936
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (01-01-10), shafresha (24-03-10), نورالدین (02-03-10), مون لائیٹ آفریدی (12-07-08), مباح (05-03-10), محمد عاصم (02-05-10), مسلم بھائی (28-05-10), ارشد کمبوہ (21-10-10), شریف (03-03-10), عارف اقبال (24-03-10), عبداللہ آدم (12-03-10)
پرانا 30-03-10, 06:02 PM   #196
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عادل بھائی کے مراسلہ 172 مختصر جواب

مراسلہ 172
اقتباس:
عُلماء نے اُس حدیث سے جو """ تنزیہہ """ کا حکم اخذ کیا ہے ، وہ کیا ہے عابد بھائی ؟؟؟؟؟
کس کی """ تنزیہہ """ کا حُکم ہے اور کس کام سے """ تنزیہہ """ کا حکم ہے ؟؟؟؟؟
کیا اللہ کی ذات و اسماء کو شرک سے منزہہ کرنے کے لیے نہیں ؟؟؟؟؟
یعنی با الفاظ دیگر """ شرک فی الاسماء و الصفات """سے منزہہ رہنے کے لیے نہیں ؟؟؟؟؟
عادل بھائی اس حدیث سے علماء نے کیا مراد لی ہے اور کس چیز کو کس شئے کی تنزیہہ قرار دیا ہے وہ ہم اوپر فتح الباری کے حوالہ سے نقل کر آئے آپ سے التماس ہے کہ اسکا ترجمہ حرف بحرف ہماری اور قارئین کی آسانی کے لیے مرحمت فرما دیں جزاک اللہ خیرا جاری ہے ۔ ۔

نوٹ :- اور یہ ترجمہ کرنے کے لیے آپ بلا شبہ ہمارے دلائل کے درمیان مخل ہوسکتے ہیں مگر فقط ترجمہ کی حد تک شکریہ ۔ ۔

Last edited by آبی ٹوکول; 30-03-10 at 10:03 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-03-10, 06:13 PM   #197
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عادل بھائی کے مراسلہ 172 تا 174 کا مختصر جواب

مراسلہ 172
اقتباس:
بھائی میرے ، اللہ کے کلام میں سے احکام منطق کی بنا پر اخذ نہیں کیے جاتے ، کیا ہوا میرے بھائی کو ، یہ """ ظاہریت """ کیوں ؟؟؟؟؟
عُلماء نے اُس حدیث سے جو """ تنزیہہ """ کا حکم اخذ کیا ہے ، وہ کیا ہے عابد بھائی ؟؟؟؟؟
کس کی """ تنزیہہ """ کا حُکم ہے اور کس کام سے """ تنزیہہ """ کا حکم ہے ؟؟؟؟؟
کیا اللہ کی ذات و اسماء کو شرک سے منزہہ کرنے کے لیے نہیں ؟؟؟؟؟
یعنی با الفاظ دیگر """ شرک فی الاسماء و الصفات """سے منزہہ رہنے کے لیے نہیں ؟؟؟؟؟
عادل بھائی بلاشبہ اللہ کے کلام سے احکامات فقط منطق کی رو سے اخذ نہیں کیے جاسکتے مگر میرے بھائی یہ تمام علوم و فنون یعنی منطق ،لغت صرف و نحو اور اس جیسے دیگر علوم و فنون وغیرہ خود قرآن و سنت کی تحصیل اور پھر قرآن و سنت سے احکامات کے اخذ کے لیے بنیاد ہیں سو اس اعتبار سے یہ علوم فنون موقوف علیہ ہیں لہزا قرآن و سنت کی تفہیم ان علوم کی تحصیل پر موقف ہے اور یہی وجہ کہ تمام مکاتب فکر اسلامی مدارس میں یہ تمام علوم وفنون اول پڑھائے جاتے ہیں کیونکہ بغیر ان علوم کی تحصیل کے براہ راست قرآں و سنت سے مسائل کا استنباط و استخراج حقیقت میں بیت بڑے فتنہ و فساد کا باعث ہوگا لہذا یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ اسلام میں ان میں سے ہر ایک علم و فن پر باقاعدہ سے شخصیات کا تخصص ہے اور اسلام نے اس حوالے سے بڑے بڑے ائمہ پیدا کیے ہیں کہ جن میں سے ہر ایک کی اپنی جگہ پر باقاعدہ طور پر مستقل حیثیت و اتھارٹی ہے ۔ ۔

مراسلہ نمبر 173

اقتباس:
اور """ تخصیص الکتاب بالسنۃ ::: قران کے احکام میں سے سنّت کے مطابق تخصیص کرنا """ فقہا ء کے ہاں معروف و مقبول ہے ،
آپ نے ایک اور فلسفہ بیان کیا ، اور کچھ اس طرح بیان کیا کہ پڑھنے والے کو ایک علمی قانون محسوس ہو ، فرمایا :::
بلا شبہ عادل بھائی آپ نے بالکل درست فرمایا یہاں پر ہم سے اصول لکھنے میں تسامح ہوا اللہ پاک آپکو جزائے خیر دے کہ آپ نے ہماری توجہ اس امر کی طرف دلوائی بلاشبہ صحیح ثابت شدہ خبر واحد کے ساتھ قرآن پاک کے عموم کی تخصیص اور مطلق کی تقیید واقع ہوسکتی ہے اور اسکے بےشمار نظائر ہیں ۔ ۔
اور مراسلہ نمبر174
اقتباس:
عابد بھائی شاید جلدی یا جوش میں آپ کو یاد نہیں رہا کہ صحیح مُسلم کے ابواب کے عناوین امام مسلم رحمہُ اللہ کے مقرر کیے ہوئے نہیں ہیں ، بلکہ صحیح معلومات کے مطابق امام النووی رحمہُ اللہ کے مقرر کیے ہوئے ہیں ، اور آپ کو یہ بھی پتہ ہو گا کہ امام النووی رحمہُ اللہ مسلکاً شافعی تھے اور شافعی مسلک میں عموماً """ اوامر """ کو """ استحباب """ پر اور """ نواہی """ کو """ تنزیہہ """ پر محمول کیا جاتا ہے ، اور صحیح مسلم کے ابواب میں یہ چیز بہت واضح طور پر نظر آتی ہے ،لہذا باب کے عنوان میں وہ مدلول نہیں جس کا آپ نے استخراج فرما کر اس قدرخوش ہوئے اور پر جوش ہوئے کہ""" حدیث مبارک کو بھونڈی دلیل """ کہہ دیا ، اور اس فرمان کی تو شاید وہ تاویل بھی نہ ہو سکے جو آپ نے اپنے مراسلہ رقم 169 میں پیش کی اور میں نے اس کا کچھ جواب مراسلہ رقم 171 میں دیا ہے
،
بالکل بجا فرمایا آپ نے عادل بھائی مسلم شریف پر ابواب کا اضافہ امام نووی شافعی علیہ رحمہ نے فرمایا مگر اتنا عرض کردوں یہاں پر ہماری بحث عقیدہ کے باب میں ہورہی ہے اور عقیدہ میں چاروں ائمہ اور انکے پیروکار متفق ہیں اسی لیے سب اہل سنت والجماعت کہلواتے ہیں ۔ میں نے چونکہ ہرقسم کے طعن و تشنیع و طنز سے اپنے مراسلات کو پاک رکھنا ہے لہزا فقط اتنا عرض کروں گا میرے بھائی کہ تحریم کی تقسیم مکروہ تحریمی و تنزیہی میں کبھی بھی عقیدہ کے باب میں نہیں ہوا کرتی بلکہ احکام و مسائل میں ہوتی ہے لہزا امام نوووی علیہ رحمہ کا ان الفاط کو خلاف ادب قرار دینا اور اس پر باقاعدہ باب قائم کرنا اس امر کی نشانی ہے کہ ان کے نزدیک بھی ان الفاظ سے شرک ثابت نہیں ہوتا کیونکہ شرک تو شرک ہی ہوتا ہے اور حرام قطعی ہوتا ہے اس میں تنزیہہ وغیرہ کا سوال ہی نہیں ۔ ۔ ۔
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 30-03-10, 07:27 PM   #198
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عادل بھائی کے مراسلہ نمبر ا175 کا جواب

اقتباس:
اور اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان مبارک بھی آپ کی خدمت میں ڈرتے ڈرتے پیش کرنا چاہتا ہوں کہ کہیں اس پر بھی بطلان کا حکم وارد نہ ہوجائے ،
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ کا فرمان ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب فرمایا اور ارشاد فرمایا ((((( أَيُّهَا الناس قد فَرَضَ الله عَلَيْكُمْ الْحَجَّ فَحُجُّوا ::: اے لوگو اللہ نے تُم پر حج کرنا فرض کیا ہے لہذا تُم لوگ حج کرو )))))
ایک صحابی رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کیا """ کیا ہر سال (حج کرنا ہے فرض؟) """
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم خاموش رہے ،
اُس شخص نے تین بار اپنا سوال دہرایا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((((( لو قُلت ُ نَعم لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ::: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو( تُم لوگوں پر ہر سال حج کرنا )فرض ہو جاتا اور تُم لوگ (ہر سال حج)نہ کر سکتے )))))
اور مزید اِرشاد فرمایا (((((دَعُونِي ما تَرَكْتُكُمْ إنما أهلك من كان قَبْلَكُمْ سؤالهم وَاخْتِلَافِهِمْ على أَنْبِيَائِهِمْ فإذا نَهَيْتُكُمْ عن شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ وإذا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ::: میں جس معاملے میں تُم لوگوں کو چھوڑ دوں اُس کے بارے میں مجھے چھوڑ دیا کرو (یعنی سوال مت کیا کرو)تُم لوگں سے پہلے والوں کو اُن کے اپنے انبیاء سے سوال کرنے اوراُن پر اختلاف کرنے نے ھلاک کیا ، لہذا ، جب میں تُم لوگوں کو کسی چیز سے منع کروں تو اُس سے باز رہو ، اور جب میں تُم لوگوں کو کوئی حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اُس پر عمل کرو ))))) صحیح مُسلم /کتاب الحج /باب 73 ، صحیح البخاری /کتاب الاعتصام بالکتاب و السُنّۃ /باب 2 ، میں صرف آخری حصہ مروی ہے ،
عابد بھائی اس حدیث مبارک پر غور فرمایے ، اس میں آپ کے بیان کردہ بہت سے فلسفوں کا انکار ہے ، ان کی بات ان شاء اللہ ان سے متعلق گفتگو میں کروں گا
جی میرے بھائی اس حدیث پر جتنا چاہے جس مرضی اینگل سے غور فرما لیں یہ حدیث ہمارے مؤقف کی دلیل تو بن سکتی ہے جب کہ اس سے آپ کے مؤقف کا سراسر بطلان ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ ہمارا مؤقف ہے کہ جس کام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسم کرنے کا حکم دیں وہ کرنا ہے اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہنا ہے اور جس کا ذکر نہ کریں وہ معاف ہے اور جائز ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ اس صحابی نے جب بار بار ہر سال حج کی فرضیت کا پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ ۔لو قُلت ُ نَعم لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ۔ ۔ترجمہ کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہرسال حج فرض ہوجاتا اور تم نہ کرپاتے ۔ لہذا آپ نے " ہاں " نہیں کہا دوسرے لفظوں میں آپ نے ہر سال حج لازم کرنے کا حکم نہیں دیا لہزا یہ ہر سال حج کے فرض نہ ہونے کی دلیل ہے لیکن اگر کوئی چاہے تو آج بھی ہر سال حج کرسکتا ہے مگر اس کا فقط پہلا حج فرض کے درجے میں ہوگا باقی سب حج مباح کے درجے میں جائز ہونگے ۔ ۔
اور یہی ہمارا دعوٰی ہے کہ اس مخصوص مقام پر آپ کا ہر سال حج ادا کرنے کو فرض نہ قرار دینا اسکی (یعنی حج کی) ہر سال کی فرضیت کی نفی تو کرتا ہے مگر اس کے جواز کی نفی نہیں کرتا ۔۔
لہزا جس طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں " ہاں " کہہ دیتا تو تو ہر سال فرض ہوجاتا تو یہ ہماری دلیل ہے کہ جس طرح سے فرض کے لیے آپکا حکم
بطور " ہاں " کہ ضروری ہے بالکل اسی طریقے سے حرام کے لیے بھی آپکا حکم
بطور " ناں " کہ ضروری ہے اور جس بات پر آپ سکوت فرمائیں یعنی مطلقا ترک فرمائیں وہ معاف ہے اور اس پر قرینہ اسی حدیث کے یہ الفاظ ہیں کہ "جو چیز میں ترک کردوں تم بھی اس میں مجھ کو چھوڑ دیا کرو کہ تم سے پہلی امتیں بھی کثرت سوال کے باعث ہلاک ہوئیں " ۔ ۔ یہاں پر اگر غور کیا جائے تو پہلی امتوں کا کثرت سوال کی وجہ سے ہلاک ہونا مطلقا فقط زائد سوالات کی ہی وجہ سے نہ تھا بلکہ ان کے سوال پوچھنے کے بعد جب اللہ تعالٰی کی طرف سے مزید حدود وقیود نازل ہوا کرتی تھیں اور وہ ان حدود و قیود کی رعایت نہیں کرپاتے تھے تو ایسے میں ان کا ان حدود و قیود کی پابندی نہ کرنا جو کہ خود انہی کے سوالات کی وجہ سے نازل ہوئیں تھیں حالانکہ ان کے سوال کرنے سے پہلے وہ معاف تھیں لیکن جب وہ اللہ نے ان پر ظاہر فرما دیں تو اب وہ انھے ناگوار گزریں اور وہ انکی رعایت نہ کرسکنے کے باعث ہلاک ہوئے جیسا کہ قوم بنی اسرائیل کا گائے کہ ذبح کا واقعہ سورہ بقرہ میں تفصیلا مذکور ہے کہ کس طرح سے بنی اسرائیل سوال در سوال کرتے چلے گئے اور یوں ان کے لیے ایک مخصوص گائے کا حصول و ذبح کس قدر دشوار ٹھرا ۔ ۔ ۔



اقتباس:
اس گفتگو کے موضوع تک محدود رہتے ہوئے کہتا ہوں کہ صرف یہ کہتا ہوں کہ جس کام سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے منع فرمایا ہو اس میں کسی بہانے یا حیل و حجت کے ذریعے کسی منطق کسی فلسفے کی بنیاد پر ، یا کسی بھی طورراہ فرار اختیار کرنے کی اجازت نہیں رکھی گئی ، لیکن جس کام کو کرنے کا حُکم فرمایا ہے اس میں یہ نرمی کر دی کہ اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو ، ممانعت والے حُکم پر بہر صورت عمل ہی کرنا ہے ،

میرے بھائی ہم نے بھی یہ کہیں نہیں کہا کہ جس کام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہوا س کو مختلف حیلوں اور بہانوں سے انجام دیا جائے باقی یہ ایک الگ بات ہے اور یہ آپ بھی اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ہر امر کا تقاضا وجوب کے درجہ میں نہیں ہوتا اور بالکل اسی طرح ہر نہی کا تقاضا بھی حرام کے درجہ میں نہیں ہوتا ہے لہزا یہی وجہ ہے کہ تمام کی تمام امت مسلمہ کے فقہاء نے متفقہ طور پر اصول فقہ میں امر و نواہی کے مختلف مدارج بیان کیئے ہیں کہ جن میں سے سے فرض ،واجب، سنت موکدہ و غیر موکدہ اور اسی طرح حرام مکروہ تحریمی و تنزیہی کے مدارج ہیں ۔ ۔درجہ بدرجہ ۔ ۔ ۔ اگر ہر امر کا تقاضا وجوب ہی ٹھرے اور ہر نہی کا تقاضا حرام ہی ٹھرے تو پھر ان شرعی اصطلاحات کی فرض واجب سنت اور حرام مکروہ تحریمی و تنزیہی میں تقسیم چہ معنٰی دارد؟؟؟؟؟؟؟؟

اقتباس:
عابد بھائی ، آپ جانتے ہی ہوں گے کہ """ علم الاصول الفقہ """ میں مقرر ہے کہ """ الامر یقتضی الوجوب اِلا أن یصرفہُ صارف ::: حُکم کا تقاضا وجوب ہوتا ہے سوائے اِس کے کہ کوئی اورپھیرنے والا (یعنی قران و صحیح سُنّت کی نص یا فہم صحابہ )اسےمُقام ءِ وجوب سے پھیر دے """
پس کسی بھی حُکم کو اس کی بنیادی حیثیت سے ہٹانے کے لیے کوئی """ قرینہ """ درکار ہوتا ہے ، حکم کسی کام کرنے کا ہو یا نہ کرنے کا ، یعنی امر ہو یا نہی ہو ،
جی تو ہم یہ سیکھ رہے ہیں کہ کسی نہی ، یعنی کام نہ کرنے کے حُکم کو کو کراہت یا تقسیم مزید کے تحت کراہتء تحریمی ، یا کراہتء تنزیہی پر محمول کرنے کے لیے کوئی قرینہ چاہیے ہوتا ہے ، ،، جومیری ذکر کردہ حدیث مبارک ((((( ،،،،، ولا يَقُلْ أحدكم عَبْدِي أَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَايَ وَفَتَاتِي وَغُلَامِي ::: ،،،،، تُم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میرا بندہ ، میری بندی بلکہ یہ کہے کہ میرا نوجوان خدمتگارغُلام، میری نوجوان باندی اور میرا چھوٹا خدمتگار ))))) کے لیے میسر نہیں ، لہذا اس میں مذکور ممانعت کو وجوب کی بجائے کسی اور درجے پر محمول کرنے کی کوئی صورت نہیں ، بلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا اس کے مطابق عمل اس بات کی مزید تاکید کرتا ہے کہ کسی انسان کے نام غیر اللہ کی بندگی والا ، بندگی کے اظہار والا نہیں ہونا چاہیے ،

اصول فقہ کا قاعدہ اپنی جگہ بالکل درست مگر مجھے افسوس ہے کہ بھائی آپکو حدیث میں وارد شدہ ممانعت کو حرام سے نچلے درجہ کی ممانعت لینے کا کوئی قرینہ نہیں ملا جب کہ امام ابن حجر عسقلانی کو ہماری پیش کردہ آیت نظر آگئی اور انھوں نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے قرآن کے ان الفاظ کو (قرینہ جانتے ہوئے ) حدیث میں وارد شدہ ممانعت کہ مکروہ تنزیہی ہونے کا فتوٰی دیا ۔ ۔ حالانکہ آپ ایسے ناموں کو حرام سے بھی بڑھ کر شرک قرار دے چکے ہیں اور دلیل بھی اسی حدیث سے لا رہے ہیں کہ جس سے امام ابن حجر مکروہ تنزیہی ثابت کررہے ہیں ۔ ۔ ۔جاری ہے

Last edited by آبی ٹوکول; 30-03-10 at 10:11 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (30-03-10), عبداللہ آدم (30-03-10)
پرانا 30-03-10, 07:56 PM   #199
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
یہ مراسلہ سابقہ پانچ مراسلات سے پیوستہ ہے

عابد بھائی ، میرا حسنء ظن یہی ہے کہ آپ کو عربی کے """عبد """ اور """ غلام """ اردو کے """ غلام """ کا معنی اور مفہوم سمجھنے میں کچھ گڑ بڑ ہو رہی ہے ورنہ جان بوجھ کر تو آپ ایسا نہیں کر رہے ہوں گے ،
بھائی میں نے اُس حدیث مبارک کا جو ترجمہ کیا تھا کہ :::
((((( ،،،،، ولا يَقُلْ أحدكم عَبْدِي أَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَايَ وَفَتَاتِي وَغُلَامِي ::: ،،،،، تُم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میرا بندہ ، میری بندی بلکہ یہ کہے کہ میرا نوجوان خدمتگارغُلام، میری نوجوان باندی اور میرا چھوٹا خدمتگار )))))
بتایے تو حدیث کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا """ غلام """ کہلانا کہاں ہے ،؟؟؟؟؟ و لا حول و لا قوۃ الا باللہ ،
اگر کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ، یا کسی اور بزرگ و مقدس ہستی کا خدمتگار کہلانا ہے تو وہ ایسا لفظ استعمال کرے جس میں نہ تو بندگی کی نسبت کا کوئی شائبہ ہو اور نہ ہی اُس کی ملکیت والا غلام ہونے کا ، بلکہ خدمتگاری کا ذکر ہو لہذا """ خادم رسول """ رکھا جا سکتا ہے ،
اگر آپ کو حدیث مبارک میں استعمال شدہ لفظ """ غُلام """ کی وجہ سے یہ خوش فہمی ہوئی ہے کہ آپ اسی حدیث مبارک کے ذریعے میرے فہم کو باطل ثابت کر رہے ہیں اور یہ ثابت کر رہے ہیں کہ """""" اس حدیث میں صاف طور پر وارد ہوا کہ عبد کی بجائے غلام کہہ لیا کرو """"""" تو میرے بھائی کیا آپ ہمیں یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ عربی کے """ غلام """ کا اردو ترجمہ کیا ہو گا ؟؟؟؟؟
اور اردو کے """ غُلام """ کا عربی ترجمہ کیا ہو گا
؟؟؟؟؟
میں اپنے حسنء ظن کو دہراتا ہوں کہ آپ کو عربی کے """عبد """ اور """ غلام """ اردو کے """ غلام """ کا معنی اور مفہوم سمجھنے میں کچھ گڑ بڑ ہو رہی ہے ورنہ جان بوجھ کر تو آپ ایسا نہیں کر رہے ہوں گے ،
جی میں آپ کے طرف سے ان مذکورہ بالا دو سوالات کے جواب کا منتظر رہوں گا ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
جاری ہے ، و السلام علیکم۔
وعلیکم السلام بھائی آپ یہاں پر خوامخواہ میں بات کو عربی اور اردو کے تراجم میں الجھا رہے ہیں حالانکہ قرآن سب کے لیے آیا چاہے کوئی اردو دان ہو یا عربی دان اور یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ اردو زبان مخلتف زبانوں کا مرقع ہے کہ جس میں عربی اور فارسی سر فہرست ہیں لہذا یہاں پر عربی کے غلام اور اردو کے بندہ یا پھر اردو کے غلام اور عربی کے عبد کی کیا بحث ؟؟؟؟؟
پھر بھی اگر آپکو بڑا شوق ہے اردو لغت سے ان تمام الفاظ کا معنی دیکھنے کا تو ہم درج زیل میں آپ اور قارئین کی سہولت کے لیے آن لائن اردو لغت سے حوالہ جات مہیا کردیتے ہیں ۔ ۔
پہلے لفظ بندہ کے اردو میں معنی ۔ ۔
فارسی زبان میں 'بستن' مصدر سے اسم مشتق ہے جس کا فعل مضارع 'بندد' ہوتا ہے اسی سے 'بند' ہے اصل لفظ اسم فاعل کے طور پر مستعمل ہے۔ اردو میں 1649ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

(کسی کی) عبادت کرنے والا، پوجنے والا، پرستش کرنے والا، (کسی کو) ماننے والا، عبد۔
غلام، نوکر، مطیع، فرمانبردار۔
عاجز، نیازمند، ناچیز، خاکسار (بطور انکسار خود متکلم کے لیے
اندھی تقلید کرنے والا، (غلاموں کی طرح) پابند۔
لطیفہ :- ہمارے ہاں ہمارے پنجابی میں یعنی ہمارے پنجاب میں بھی اکثر عورتیں اپنے شوہر کو اپنا بندہ کہتی ہے ہاہاہااہ للوز
شخص، آدمی۔
آنلائن حوالہ
اب لفظ عبد کے معنٰی ۔ ۔
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے 1707ء کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔
آنلائن ربط
بندہ، غلام، تابعدار، خدمت گزار، خدا کا بندہ۔
اب لفظ غلام کے معنٰی ۔
زرخرید چھوکرا جو بے تنخواہ گھر کا کام کاج کرے، زرخرید نوکر جو کسی عمر کا ہو۔
آنلائن ربط
اب مجھے بتائیں کے مذکورہ بالا تمام الفاط کے معنٰی میں کتنا کوئی فرق ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟
جب ہم پہلے ہی عرض کرچکے کہ عربی میں لفظ عبد مشترک المعنی ہے لہذا شرعی اعتبار سے لفظ عبد کے قرآن و سنت میں حتمی معنٰی کے تعین لیے یہی قرینہ ہے کہ جب اسکی اضافت غیر اللہ کی جانب ہو تو اسکا معنٰی عبد بمعنی غلام کے اور جب اللہ کی طرف ہوتو عبد بمعنی بندہ کے ہونگے ۔ ۔ ۔۔جاری ہے

Last edited by آبی ٹوکول; 30-03-10 at 10:18 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-03-10, 08:41 PM   #200
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عادل بھائی کے مراسلہ 178 کا جواب

اقتباس:
[COLOR="Magenta"]میرے چھوٹے بھائی ، کسی انسان کو خرید لینے سے یا کسی طور اس کا مالک بن جانے سے مالک کو مرتبہ الوہیت حاصل نہیں ہوتا ،یہی تو میں آپ کو اتنی دیر سے سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں ، اور اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے غلاموں کو """ عبد """ کہنے سے اور مالکوں کو """رب """ کہنے سے منع فرمایا ہے ، یہ تفیسر اور شرح ہے اس آیت مبارکہ کی جس کو آپ نے مختلف قسم کی تاویلات کے ذریعے ٹالنے کی کوشش کی ہے ، اس کے بارے میں بات ان شاء اللہ اس کے جواب میں ہو گی ،
و الحمد للہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم میری بات کی ہی دلیل ہے
پیارے بڑے بھائی آپکے مراسلہ نمبر115 میں ہمارے مراسلہ نمبر 86 کے جواب میں جو دلیل آپ نے پیش کی تھی یعنی ۔ ۔درج زیل ۔ ۔
اقتباس:
قران اور صحیح احادیث مبارکہ میں جہاں کہیں """ عبد """ کی نسبت غیر اللہ سے مذکور ملتی ہے وہ زر خرید غلاموں کی بات ہوتی ہے ، """ العبید المملوک """
اس پر ہمارا ایسا کہنا کہ ۔ ۔۔
اقتباس:
میں پوچھتا ہوں جناب سے کہ کیا کسی بندے کو خرید لینے سے اور اسے اپنا غلام بنا لینے سے کسی بھی انسان کو مالکانہ حقوق کے ساتھ ساتھ آیا مرتبہ الوہیت(معاذاللہ) حاصل ہوجاتا ہے کہ جناب کو زرخرید غلام کی نسبت لفظ عبد کے استعمال پر کوئی اعتراض نہیں

یہ آپکی دلیل کا نقص بیان کرنا تھا ۔ ۔ ۔ یعنی ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ لفظ عبد کی بندہ کی طرف نسبت جائز نہیں بلکہ یہ شرک ہے اور دوسری طرف آپ اسی لفظ عبد کو زر خرید غلام کے حق میں جائز کہتے ہیں ؟؟؟ ایں چہ بو العجبی است؟ تو اسی پر ہم نے یہ نقص وارد کیا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب زرخرید غلام کی باری آتی ہے تو اس کی نسبت آپ کو لفظ عبد کہنا جائز لگتا ہے آیا آپ کے نزدیک نعوذباللہ من ذالک زرخرید غلام کو مرتبہ الوہیت حاصل ہے ؟؟؟
یہ نقص تھا میرے بھائی آپکی دلیل کا اس لیے کہ جو امر ایک جگہ شرک وہ ہرجگہ شرک ہی ہوگا یہ نہیں کہ ایک امر ایک جگہ شرک اور دوسری جگہ عین توحید بن جائے کیونکہ یہ دونوں ایکدوسرے کی ضد ہیں جہاں شرک پایا جائے گا وہاں سے توحید کی نفی ہوگی اور جہاں توحید پائی جائے گی وہاں پر شرک کا شائبہ تک نہ ہوگا اور یہ بھی کہ توحید اور شرک دونوں عقائد سے متعلقہ ہیں لہزا ان کا تحقق بھی عقائد کے اعتبار سے ہوگا ۔ ۔ ۔
لہذا جب آپ کہتے ہیں کہ کسی کو بھی غیراللہ کا عبد کہنا جائز نہیں کیونکہ یہ اللہ کی الوہیت میں شرک ہے تو اس کسی میں ہر فرد شامل ہے چاہے وہ آزاد ہو یا زرخرید غلام اب یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی آزاد فرد کی نسبت اگر غیر اللہ کی جانب کردی جائے تو وہ شرک ٹھرے جبکہ اس کے مقابلے میں زرخرید غلام کی نسبت اس کے آقا کی طرف لفظ عبد سے کی جائے تو وہ جائز ٹھرے

کیونکہ اصلا ہر شئے کا مالک حقیقی اللہ ہی لہزا اس بندے کا مالک بھی وہی ہے کہ جسکی نسبت اس کے آقا کی طرف لفظ عبد سے کی جارہی ہے اور اس بندے کے آقا کا بھی مالک حقیقی اللہ ہی ہے ۔ ۔ ۔اور یہ ایک ایسی بدیہی بات ہے کہ جو ہر ادنٰی عقل والا سمجھ سکتا ہے چہ جائیکہ آپ جیسے صاحب علم کو ابھی تک سمجھ میں نہیں آرہی ۔ ۔ ۔جاری ہے
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-03-10, 09:22 PM   #201
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
عابد بھائی میں اللہ سبحانہ ُ و تعالیٰ کا بندہ ہوں کسی خدا کا نہیں ، براہ مہربانی آئیندہ مجھے اس طرح مخاطب مت فرمایے گا ، جزاک اللہ خیرا ، [/COLOR][/B][/SIZE]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام پیارے بھائی برصغیر پاک و ہند میں علم حدیث کو متعارف کروانے والا سید گھرانہ میری مراد شاہ عبدالحق علیہ رحمہ اور آپکے تمام خانوادہ کہ جن میں شاہ ولی اللہ ،شاہ عبدالعزیز وغیرہ شامل ہیں یہ سب اللہ کو خدا کہتے اور لکھتے آئے ۔ ۔ آپ نہ ہی تو علم میں ان سے بڑے ہیں نہ ہی فضل و مرتبہ میں لہذا عقل مند راہ اشارہ کافی است ۔ ۔ ۔
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-04-10, 10:04 PM   #202
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
امید ہے ان شاء اللہ آپ با خیر و عافیت ہوں گے ،
بھائی عابد عنایت ، کیا آپ اپنے جوابات مکمل کر چکے ہیں ؟؟؟
و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہوتا, کوئی, قران, نام, مجید, معلوم, اکبر, اللہ, انشا, بھائی, توحید, جواب, حکم, حال, خبر, خدا, زندگی, سوچ, عقل, علی, عالم, صفات, صفت, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 2:::: عادل سہیل کفروشرک 8 02-02-12 06:18 PM
توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: کفر اکبر ::: عادل سہیل کفروشرک 6 05-03-10 07:21 PM
پانچ چیزیں اخترحسین ایس ایم ایس 1 18-10-09 07:00 PM
پانچ چیزیں میاں شاہد اسلام اور معاشرہ 0 01-06-09 10:32 AM
پانچ چیزیں ابو عمار پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 07-10-07 10:03 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:11 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger