| کفروشرک کفروشرک |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 11 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (01-01-10), shafresha (24-03-10), نورالدین (02-03-10), مون لائیٹ آفریدی (12-07-08), مباح (05-03-10), محمد عاصم (02-05-10), مسلم بھائی (28-05-10), ارشد کمبوہ (21-10-10), شریف (03-03-10), عارف اقبال (24-03-10), عبداللہ آدم (12-03-10) |
|
|
#196 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مراسلہ 172
اقتباس:
نوٹ :- اور یہ ترجمہ کرنے کے لیے آپ بلا شبہ ہمارے دلائل کے درمیان مخل ہوسکتے ہیں مگر فقط ترجمہ کی حد تک شکریہ ۔ ۔ Last edited by آبی ٹوکول; 30-03-10 at 10:03 PM. |
|
|
|
|
|
|
#197 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مراسلہ 172
اقتباس:
مراسلہ نمبر 173 اقتباس:
اور مراسلہ نمبر174 اقتباس:
بالکل بجا فرمایا آپ نے عادل بھائی مسلم شریف پر ابواب کا اضافہ امام نووی شافعی علیہ رحمہ نے فرمایا مگر اتنا عرض کردوں یہاں پر ہماری بحث عقیدہ کے باب میں ہورہی ہے اور عقیدہ میں چاروں ائمہ اور انکے پیروکار متفق ہیں اسی لیے سب اہل سنت والجماعت کہلواتے ہیں ۔ میں نے چونکہ ہرقسم کے طعن و تشنیع و طنز سے اپنے مراسلات کو پاک رکھنا ہے لہزا فقط اتنا عرض کروں گا میرے بھائی کہ تحریم کی تقسیم مکروہ تحریمی و تنزیہی میں کبھی بھی عقیدہ کے باب میں نہیں ہوا کرتی بلکہ احکام و مسائل میں ہوتی ہے لہزا امام نوووی علیہ رحمہ کا ان الفاط کو خلاف ادب قرار دینا اور اس پر باقاعدہ باب قائم کرنا اس امر کی نشانی ہے کہ ان کے نزدیک بھی ان الفاظ سے شرک ثابت نہیں ہوتا کیونکہ شرک تو شرک ہی ہوتا ہے اور حرام قطعی ہوتا ہے اس میں تنزیہہ وغیرہ کا سوال ہی نہیں ۔ ۔ ۔ |
|||
|
|
|
| آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (30-03-10) |
|
|
#198 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور یہی ہمارا دعوٰی ہے کہ اس مخصوص مقام پر آپ کا ہر سال حج ادا کرنے کو فرض نہ قرار دینا اسکی (یعنی حج کی) ہر سال کی فرضیت کی نفی تو کرتا ہے مگر اس کے جواز کی نفی نہیں کرتا ۔۔ لہزا جس طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں " ہاں " کہہ دیتا تو تو ہر سال فرض ہوجاتا تو یہ ہماری دلیل ہے کہ جس طرح سے فرض کے لیے آپکا حکم بطور " ہاں " کہ ضروری ہے بالکل اسی طریقے سے حرام کے لیے بھی آپکا حکم بطور " ناں " کہ ضروری ہے اور جس بات پر آپ سکوت فرمائیں یعنی مطلقا ترک فرمائیں وہ معاف ہے اور اس پر قرینہ اسی حدیث کے یہ الفاظ ہیں کہ "جو چیز میں ترک کردوں تم بھی اس میں مجھ کو چھوڑ دیا کرو کہ تم سے پہلی امتیں بھی کثرت سوال کے باعث ہلاک ہوئیں " ۔ ۔ یہاں پر اگر غور کیا جائے تو پہلی امتوں کا کثرت سوال کی وجہ سے ہلاک ہونا مطلقا فقط زائد سوالات کی ہی وجہ سے نہ تھا بلکہ ان کے سوال پوچھنے کے بعد جب اللہ تعالٰی کی طرف سے مزید حدود وقیود نازل ہوا کرتی تھیں اور وہ ان حدود و قیود کی رعایت نہیں کرپاتے تھے تو ایسے میں ان کا ان حدود و قیود کی پابندی نہ کرنا جو کہ خود انہی کے سوالات کی وجہ سے نازل ہوئیں تھیں حالانکہ ان کے سوال کرنے سے پہلے وہ معاف تھیں لیکن جب وہ اللہ نے ان پر ظاہر فرما دیں تو اب وہ انھے ناگوار گزریں اور وہ انکی رعایت نہ کرسکنے کے باعث ہلاک ہوئے جیسا کہ قوم بنی اسرائیل کا گائے کہ ذبح کا واقعہ سورہ بقرہ میں تفصیلا مذکور ہے کہ کس طرح سے بنی اسرائیل سوال در سوال کرتے چلے گئے اور یوں ان کے لیے ایک مخصوص گائے کا حصول و ذبح کس قدر دشوار ٹھرا ۔ ۔ ۔ اقتباس:
میرے بھائی ہم نے بھی یہ کہیں نہیں کہا کہ جس کام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہوا س کو مختلف حیلوں اور بہانوں سے انجام دیا جائے باقی یہ ایک الگ بات ہے اور یہ آپ بھی اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ہر امر کا تقاضا وجوب کے درجہ میں نہیں ہوتا اور بالکل اسی طرح ہر نہی کا تقاضا بھی حرام کے درجہ میں نہیں ہوتا ہے لہزا یہی وجہ ہے کہ تمام کی تمام امت مسلمہ کے فقہاء نے متفقہ طور پر اصول فقہ میں امر و نواہی کے مختلف مدارج بیان کیئے ہیں کہ جن میں سے سے فرض ،واجب، سنت موکدہ و غیر موکدہ اور اسی طرح حرام مکروہ تحریمی و تنزیہی کے مدارج ہیں ۔ ۔درجہ بدرجہ ۔ ۔ ۔ اگر ہر امر کا تقاضا وجوب ہی ٹھرے اور ہر نہی کا تقاضا حرام ہی ٹھرے تو پھر ان شرعی اصطلاحات کی فرض واجب سنت اور حرام مکروہ تحریمی و تنزیہی میں تقسیم چہ معنٰی دارد؟؟؟؟؟؟؟؟ اقتباس:
اصول فقہ کا قاعدہ اپنی جگہ بالکل درست مگر مجھے افسوس ہے کہ بھائی آپکو حدیث میں وارد شدہ ممانعت کو حرام سے نچلے درجہ کی ممانعت لینے کا کوئی قرینہ نہیں ملا جب کہ امام ابن حجر عسقلانی کو ہماری پیش کردہ آیت نظر آگئی اور انھوں نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے قرآن کے ان الفاظ کو (قرینہ جانتے ہوئے ) حدیث میں وارد شدہ ممانعت کہ مکروہ تنزیہی ہونے کا فتوٰی دیا ۔ ۔ حالانکہ آپ ایسے ناموں کو حرام سے بھی بڑھ کر شرک قرار دے چکے ہیں اور دلیل بھی اسی حدیث سے لا رہے ہیں کہ جس سے امام ابن حجر مکروہ تنزیہی ثابت کررہے ہیں ۔ ۔ ۔جاری ہے Last edited by آبی ٹوکول; 30-03-10 at 10:11 PM. |
|||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | کنعان (30-03-10), عبداللہ آدم (30-03-10) |
|
|
#199 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
پھر بھی اگر آپکو بڑا شوق ہے اردو لغت سے ان تمام الفاظ کا معنی دیکھنے کا تو ہم درج زیل میں آپ اور قارئین کی سہولت کے لیے آن لائن اردو لغت سے حوالہ جات مہیا کردیتے ہیں ۔ ۔ پہلے لفظ بندہ کے اردو میں معنی ۔ ۔ فارسی زبان میں 'بستن' مصدر سے اسم مشتق ہے جس کا فعل مضارع 'بندد' ہوتا ہے اسی سے 'بند' ہے اصل لفظ اسم فاعل کے طور پر مستعمل ہے۔ اردو میں 1649ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔ (کسی کی) عبادت کرنے والا، پوجنے والا، پرستش کرنے والا، (کسی کو) ماننے والا، عبد۔ غلام، نوکر، مطیع، فرمانبردار۔ عاجز، نیازمند، ناچیز، خاکسار (بطور انکسار خود متکلم کے لیے اندھی تقلید کرنے والا، (غلاموں کی طرح) پابند۔ لطیفہ :- ہمارے ہاں ہمارے پنجابی میں یعنی ہمارے پنجاب میں بھی اکثر عورتیں اپنے شوہر کو اپنا بندہ کہتی ہے ہاہاہااہ للوز شخص، آدمی۔آنلائن حوالہ اب لفظ عبد کے معنٰی ۔ ۔ عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے 1707ء کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔ آنلائن ربط بندہ، غلام، تابعدار، خدمت گزار، خدا کا بندہ۔ اب لفظ غلام کے معنٰی ۔ زرخرید چھوکرا جو بے تنخواہ گھر کا کام کاج کرے، زرخرید نوکر جو کسی عمر کا ہو۔ آنلائن ربط اب مجھے بتائیں کے مذکورہ بالا تمام الفاط کے معنٰی میں کتنا کوئی فرق ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟ جب ہم پہلے ہی عرض کرچکے کہ عربی میں لفظ عبد مشترک المعنی ہے لہذا شرعی اعتبار سے لفظ عبد کے قرآن و سنت میں حتمی معنٰی کے تعین لیے یہی قرینہ ہے کہ جب اسکی اضافت غیر اللہ کی جانب ہو تو اسکا معنٰی عبد بمعنی غلام کے اور جب اللہ کی طرف ہوتو عبد بمعنی بندہ کے ہونگے ۔ ۔ ۔۔جاری ہے Last edited by آبی ٹوکول; 30-03-10 at 10:18 PM. |
|
|
|
|
|
|
#200 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
یہ آپکی دلیل کا نقص بیان کرنا تھا ۔ ۔ ۔ یعنی ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ لفظ عبد کی بندہ کی طرف نسبت جائز نہیں بلکہ یہ شرک ہے اور دوسری طرف آپ اسی لفظ عبد کو زر خرید غلام کے حق میں جائز کہتے ہیں ؟؟؟ ایں چہ بو العجبی است؟ تو اسی پر ہم نے یہ نقص وارد کیا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب زرخرید غلام کی باری آتی ہے تو اس کی نسبت آپ کو لفظ عبد کہنا جائز لگتا ہے آیا آپ کے نزدیک نعوذباللہ من ذالک زرخرید غلام کو مرتبہ الوہیت حاصل ہے ؟؟؟ یہ نقص تھا میرے بھائی آپکی دلیل کا اس لیے کہ جو امر ایک جگہ شرک وہ ہرجگہ شرک ہی ہوگا یہ نہیں کہ ایک امر ایک جگہ شرک اور دوسری جگہ عین توحید بن جائے کیونکہ یہ دونوں ایکدوسرے کی ضد ہیں جہاں شرک پایا جائے گا وہاں سے توحید کی نفی ہوگی اور جہاں توحید پائی جائے گی وہاں پر شرک کا شائبہ تک نہ ہوگا اور یہ بھی کہ توحید اور شرک دونوں عقائد سے متعلقہ ہیں لہزا ان کا تحقق بھی عقائد کے اعتبار سے ہوگا ۔ ۔ ۔ لہذا جب آپ کہتے ہیں کہ کسی کو بھی غیراللہ کا عبد کہنا جائز نہیں کیونکہ یہ اللہ کی الوہیت میں شرک ہے تو اس کسی میں ہر فرد شامل ہے چاہے وہ آزاد ہو یا زرخرید غلام اب یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی آزاد فرد کی نسبت اگر غیر اللہ کی جانب کردی جائے تو وہ شرک ٹھرے جبکہ اس کے مقابلے میں زرخرید غلام کی نسبت اس کے آقا کی طرف لفظ عبد سے کی جائے تو وہ جائز ٹھرے کیونکہ اصلا ہر شئے کا مالک حقیقی اللہ ہی لہزا اس بندے کا مالک بھی وہی ہے کہ جسکی نسبت اس کے آقا کی طرف لفظ عبد سے کی جارہی ہے اور اس بندے کے آقا کا بھی مالک حقیقی اللہ ہی ہے ۔ ۔ ۔اور یہ ایک ایسی بدیہی بات ہے کہ جو ہر ادنٰی عقل والا سمجھ سکتا ہے چہ جائیکہ آپ جیسے صاحب علم کو ابھی تک سمجھ میں نہیں آرہی ۔ ۔ ۔جاری ہے |
|||
|
|
|
|
|
#201 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وعلیکم السلام پیارے بھائی برصغیر پاک و ہند میں علم حدیث کو متعارف کروانے والا سید گھرانہ میری مراد شاہ عبدالحق علیہ رحمہ اور آپکے تمام خانوادہ کہ جن میں شاہ ولی اللہ ،شاہ عبدالعزیز وغیرہ شامل ہیں یہ سب اللہ کو خدا کہتے اور لکھتے آئے ۔ ۔ آپ نہ ہی تو علم میں ان سے بڑے ہیں نہ ہی فضل و مرتبہ میں لہذا عقل مند راہ اشارہ کافی است ۔ ۔ ۔
|
|
|
|
|
|
#202 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
امید ہے ان شاء اللہ آپ با خیر و عافیت ہوں گے ، بھائی عابد عنایت ، کیا آپ اپنے جوابات مکمل کر چکے ہیں ؟؟؟ و السلام علیکم۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہوتا, کوئی, قران, نام, مجید, معلوم, اکبر, اللہ, انشا, بھائی, توحید, جواب, حکم, حال, خبر, خدا, زندگی, سوچ, عقل, علی, عالم, صفات, صفت, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: شرک اکبر 2:::: | عادل سہیل | کفروشرک | 8 | 02-02-12 06:18 PM |
| توحید کو ختم کرنے والے کام اور چیزیں ::: کفر اکبر ::: | عادل سہیل | کفروشرک | 6 | 05-03-10 07:21 PM |
| پانچ چیزیں | اخترحسین | ایس ایم ایس | 1 | 18-10-09 07:00 PM |
| پانچ چیزیں | میاں شاہد | اسلام اور معاشرہ | 0 | 01-06-09 10:32 AM |
| پانچ چیزیں | ابو عمار | پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) | 0 | 07-10-07 10:03 AM |