واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > کفروشرک



کفروشرک کفروشرک


ستارے، لکیریں، جادو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-10-08, 02:22 AM  
ستارے، لکیریں، جادو
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 14-10-08, 02:22 AM

ستارے، لکیریں، جادو حقیقت کیا ہے…؟
نورین ظفرخان
آج مادی ترقی کے عروج کو پہنچا ہوا انسان اپنے ذہن کے تاریک گوشوں میں زمانہ جاہلیت کی کیسی کیسی عادات، خیالات، توہمات اور افکار چھپاتے ہوئے ہے اس کی ایک جھلک آپ کو روزمرہ زندگی میں ان عنوانات کے تحت مل سکتی ہے جو آج تقریبًا ہر میگزین کا جزو لاینفک بن چکے ہیں مثلا:
1۔ ستاروں کی چال 2۔ ستارے کیا کہتے ہیں
3۔ آپ اور ستارے 4۔ یہ ہفتہ کیسا رہے گا
یہ وہ عنوانات ہیں جن کے تحت ہر اخبار، میگزین، رسالے اور ٹی وی چینل پر مضمون اور پروگرام لکھے اور پیش کئے جاتے ہیں۔ انسانی فطرت میں ہمیشہ یہ تجسس رہا ہے کہ وہ اپنے آنے والے حالات و واقعات سے آگاہی حاصل کرنا چاہتا ہے اور انسان کے اسی تجسس سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے اسے زوال کے راستے پر دھکیل دیا۔ ماہرین فلکیات نے سورج کے مدار میں گردش کرتے چند ستارے دریافت کئے ان کے نام رکھے۔ یہ شائد ان کا عروج تھا اور زوال تب شروع ہوا جب کچھ لوگوں نے خود کو(Astrologer۔ ماہر نجوم) کہا اور ان ستاروں کو انسانی زندگیوں سے منسوب کر دیا۔ اور لوگوں کو بتایا جانے لگا کہ اگر آپ فلاں تاریخ کو پیدا ہوئے ہیں تو آپ فلاں ستارے کے زیرِ اثر ہیں۔ اگر آپ فلاں تاریخ کو پیدا ہوئے ہیں تو فلاں ستارہ آپ کا حاکم ہے اگر آپ فلاں ستارے کے زیرِ اثر ہیں تو آپ میں یہ یہ خوبیاں اور یہ یہ خامیاں پائی جاتی ہیں اگر آپ کا حاکم ستارہ فلاں ہے تو آپ زندگی میں اتنے فیصد کامیاب اور اتنے فیصد ناکام ہوں گے۔ لوگوں نے اس بات کو یوں قبول کیا جیسے وہ اسی کے منتظر ہوں۔ حالات کب بہتر ہوں گے…؟ شادی کب ہو گئی…؟ تعلیم کتنی حاصل کر سکیں گے…؟ نوکری کب ملے گی…؟ اولاد کب ہو گی…؟ آئندہ زندگی کیسے گزرے گی…؟
یہ وہ سوالات ہیں جو لوگ کسی Artrologeسے بکثرت پوچھتے ہیں یہ انسانی ذہن کا زوال ہے۔ انسان نے اپنی سوچ اور عقل پر تالے لگا دیئے اور وہ خود سے لاکھوں میل دور ایک ان دیکھے ستارے کو اپنے حالات و واقعات کا مالک سمجھنے لگا۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ایک بے جان اور عارضی چمک والا ستارہ کیا اتنی قوت و طاقت رکھتا ہے کہ انسان کی پوری زندگی اس کے تابع ہو جائے اس سارے سلسلے میں ہم رب کو کیا درجہ دے رہے ہیں؟ وہ ربِ واحد جس نے انسان کو تخلیق کیا جس نے انسان کو دنیا میں بھیجا۔ جوانسان کے ہر عمل کودیکھ رہا ہے وہ رب جو انسان کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا کیا اس رب کو ہم نے صرف پانچ نمازوں تیس روزوں اور ایک حج کے لیے اپنا رب مانا…؟ اور باقی پوری زندگی کے معاملات ان بے جان ستاروں کے ساتھ باندھ لیے ہیں۔ کیا ہم نے اپنی تقدیر کی ڈور رب کی بجائے ستاروں کے ہاتھ میں تھما دی ہے؟ ہم نبی آخر الزماں کی امت ہوتے ہوئے بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کا سا اعتقاد اپنے ذہنوں میں پال رہے ہیں۔ ستاروں کی حقیقت کیا ہے آئیے قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔
”اور نشانیاں بتائیں اور بعض لوگ ستاروں سے راستہ معلوم کرتے ہیں۔“ (النحل:۱۴)
”اور بے شک ہم نے آسمانِ دنیا کو ستاروں کے ساتھ زینت دی“۔(الصفات:۴)
حدیث مبارکہ ہے:۔
ستاروں میں تاثیر ماننا کفر ہے
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللّهِ صَلاَةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ السَّمَاءِ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ. فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟» قَالُوا: الله وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ. فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ الله وَرَحْمَتِهِ، فَذٰلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ. وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذٰلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ (صحیح المسلم حدیث نمبر193۔ کتاب الایمان باب کفر من قال مطرنا بالنوء)

''زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی جبکہ رات کو بارش ہو چکی تھی۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے:
''کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟''
صحابہ نے کہا '' اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔''
فرمایا:
''(اللہ تعالیٰ نے) ارشاد فرمایا ہے کہ میرے بندوں میں سے کچھ مومن ہوگئے ہیں اور کچھ کافر۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اور رحمت سے بارش ہوئی ہے وہ مجھ پر ایمان لایا اور جس نے کہا کہ یہ بارش فلاں فلاں برج کے اثر سے ہوئی ہے اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور ستاروں پر ایمان لایا۔''

بے شک قیامت کا علم اللہ کے پاس ہی ہے وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے بطنوں میں کیا کچھ ہے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور نہ ہی کوئی جانتا ہے کہ وہ کس زمین پر مرے گا۔ اللہ ہی ہے جو کچھ جاننے والا اور بڑا خبردار ہے۔ (لقمان:۳۴)
کتابِ ہدایت کی ان روشن آیات اور حدیثِ مبارکہ کو پڑھنے کے بعد ہمیں فیصلہ خود کرنا ہے کہ کیا ہم ستاروں پر یقین رکھنے والوں میں سے ہیں یا ایک اللہ پر کامل ایمان رکھنے والوں میں سے…؟
جولوگ اپنے ستارے کھوجنے میں ناکام رہے انہیں شیطان نے ایک دوسری راہ دکھا کر زوال کے اندھیروں میں ڈال دیا۔ ستاروں سے مایوس ہو کر لوگوں نے اپنی قسمت، تقدیر اور معاملاتِ زندگی کو اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں ڈھونڈنا شروع کر دیا اور یوں آج دست شناسی Palmistry باقاعدہ ایک علم کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ انفرادی حیثیت سے لے کر اجتماعی ملکی، غیر ملکی اور حتیٰ کہ کائناتی سطح تک کے معاملات، واقعات اور حادثات کے متعلق پیش گوئیاں کی جاتی ہیں اس علم سے متعلق لاکھوں، کروڑوں کی تعداد میں کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔جس چیز کو ہم علم سمجھ کر سیکھ اور قبول کر رہے ہیں وہ حقیقتاً ہمارے ایمان کی عمارت کو کھوکھلا کر رہی ہے ہم اپنے آپ کو رب کی رضا پر راضی کرنے کی بجائے ہاتھ کی آڑی ترچھی لکیروں میں زندگی کے پیغامات ڈھونڈ رہے ہیں ہم اپنے ایمان کی دولت ہاتھ کی لکیروں پر لٹا رہے ہیں ایسا نہ ہو کہ کہیں ہم ایک دن خالی ہاتھ رہ جائیں اگر ہاتھ کی لکیریں اتنی ہی اہم ہیں تو ذرا سوچئے کہ جن لوگوں کے ہاتھ نہیں ہیں تو کیا وہ بغیر تقدیر اور قسمت کے زندگی گزار رہے ہیں؟
آج ہر گلی محلے میں آپ کو کوئی نہ کوئی ایسا شخص ضرور مل جائے گا جو ہاتھ دیکھتا ہو گا اور شہروں میں تو ان کی اس قدر بھر مار ہے کہ سڑک کے کنارے قطار در قطار بیٹھے نظر آتے ہیں اور لوگوں کا ایک ہجوم ان کے سامنے اپنے ہاتھ پھیلائے نظر آتا ہے ذرا سوچئے اگر واقعی لکیروں سے قسمت سنور سکتی ہے تو یہ نجومی یوں سڑکوں پر چند روپوں کی خاطر نہ بیٹھے ہوتے وہ سب سے پہلے اپنے حالات بہتر کرتے ان نجومیوں کے ساتھ ساتھ فال نکالنے والے بھی مختلف کارڈز سجائے اور کوئی پرندہ لیے بیٹھے ہوئے ہیں ایمان کے خاتمے کا ہر طرح کا سامان موجود ہے اور رب کی ذات سے نا امید بے وقوف لوگ جوق در جوق ایمان کی دولت سے محروم ہو رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”نیز ہر وہ چیز بھی حرام ہے جس میں فال کے تیروں سے تم اپنی قسمت معلوم کرو۔ یہ سب گناہ کے کام ہیں۔“ (المائدہ:۳)
ارشادِ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہے کہ
”جو شخص غیب کی خبریں بتانے والے کے پاس جائے اور اس سے کچھ پوچھے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔“ (مسلم)
مزید فرمایاکہ
”جو کسی کاہن کے پاس جا کر دریافت کرے اور پھر اسے سچا سمجھے تو اس نے اس سے اظہارِ براء ت کیا جو محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر نازل ہوا۔“ (ابوداؤد)
ہماری تقدیر ہمارے ہاتھ کی لکیروں میں نہیں بلکہ اس رب کے ہاتھ میں ہے جو اس کائنات اور ہمارے وجود کا خالق و مالک ہے…
ہمارے ملک میں شائع ہونے والے اخبارات اور رسائل، جادوسے متعلق اشتہارات کو اس طرح شیطانی حربوں سے مزیّن کرکے شائع کرتے ہیں جیسے بہت ہی دینی اور فلاحی کام سر انجام دے رہے ہوں۔ محض چند سکّوں کی خاطر وہ رب کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود بھی ایک کفریہ عمل کر رہے ہیں اور لوگوں کو بھی اس کی دعوت دے رہے ہیں ان اشتہارات کی ذرا سی جھلک ملاحظہ فرمائیں۔
عامل پروفیسر پیر زادہ…!
انٹرنیشنل ایوارڈ یافتہ
ہر مسئلہ کا حل تعویذوں کا اثر، جادو ٹونہ، محبت میں ناکامی، اولاد کا نہ ہونا، شوہر کو راہِ راست پر لانا، بچھڑے ہوئے کو ملانا، بچوں کی شادی، باہر کا سفر، اولاد کی نافرمانی، انعامی چانس، دشمنی ہونا، امتحان میں کامیابی، رشتوں کی بندش، مایوسی گناہ ہے جو چاہو گے مل جائے گا۔
یہ اور اس جیسے کتنے ہی اشتہار ہم روز اخباروں میں پڑھتے ہیں یہ ہیں وہ عامل بابے جو لوگوں کے اندر سے ایمان کی روشنیاں ختم کر کے ان میں کفر اور گمراہی کے اندھیرے بھر رہے ہیں۔ جو خدا کی زمین پر خدا کے لوگوں کو خدا کی راہ سے ہٹا کر شیطان کی راہ پر لگا رہے ہیں۔
ہمارے ارد گرد بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اپنی زندگی میں آنے والی مشکلات، تکالیف اور مصائب کو جادو کے اثر سے منسوب کرتے ہیں۔ اگر کسی پر کوئی ذرا سی بھی تکلیف آ جائے تو اس کی دہائی شروع ہو جاتی ہے کہ مجھ پر کسی دشمن نے جادو کر دیا ہے اگر وہ خود یہ بات نہ سوچے اور نہ کہے تو اس کے عزیز رشتہ دار اُسے فوراً یہی راہ دکھاتے ہیں کہ کسی سے تعویذ دھاگہ کر واؤ تم پر یقینا کسی نے کچھ کر دیا ہے”کسی نے کچھ کر دیا ہے“ کا جملہ ہمارے معاشرے میں اس حد تک مقبول ہو چکا ہے کہ مرد و خواتین ذرا سی تکلیف پر سب سے پہلے اسی جملے کے ذریعے اپنے خدشے کا اظہار کرتے ہیں۔
ان لوگوں نے شائد کبھی رب کی اس بات کو پڑھا اور سمجھا ہی نہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے
”اگراللہ تمہیں کسی قسم کے نقصان سے دو چار کرے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے اور اگر وہ تمہیں خیر عطا فرمائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ (الانعام:۱۷)
بعض لوگ شائد یہ خیال کر رہے ہوں کہ ہم جادو پر یقین نہیں رکھتے یا یہ کہ جادو ہونے کو نہیں مانتے ایسی بات نہیں ہے جادو اور جنات کا وجود آیات اور احادیث سے ثابت ہے اور ہم ان کے ہونے کو مانتے بھی ہیں لیکن معاشرے میں بڑھتے ہوئے ان عامل باباؤں اور ہر طرف سے اٹھتی جادو، جادو کی پکار سے ہمیں اختلاف ہے۔ اور یہ اختلاف ہمیں ذاتی وجہ سے نہیں بلکہ آیات اور احادیث کی روشنی میں جان لینے کے بعد ہے۔
حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہے
ابنِ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا کہ نجومی کاہن ہے اور کاہن جادو گر ہے اور جادو گر کافر ہے۔“ (بخاری)
تمام حقیقت ہمارے سامنے ہے اور یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ کیا ہم آنکھیں بند کئے شیطانی راستے پر چلتے ہوئے کفریہ عمل کر کے کافر بنتے ہیں اور دنیا و آخرت کی ناکامی سمیٹتے ہیں یا ایمان کے نور کی روشنی میں رب کائنات پر بھروسہ اور توکل کر کے دنیا و آخرت کی کامیابی اور بھلائی حاصل کرتے ہیں یہ فیصلہ کل نہیں بلکہ آج اور ابھی کرنا ہے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے کہ
”زمین اور آسمان کا غیب اللہ ہی کے پاس ہے اور تمام کام اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے پھر اس کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔“ (ہود:۱۲۳)
اس آیت سے واضح ہو جاتا ہے کہ ہر طرح کے غیب کا علم صرف ایک ہستی کے قبضہ قدرت میں ہے کسی انسان، فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ رب تعالیٰ کی صفات میں حصہ دار بنے۔
لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اسی ایک رب کی عبادت کرو اور پھر اسی رب پر بھروسہ بھی۔
لیکن صد افسوس کہ آج ہم عبادت تو رب کی کرتے ہیں اور بھروسہ غیر اللہ پر رکھتے ہیں۔
اللہ کے نیک اور پسندیدہ لوگ وہ ہیں جن پر کوئی مصیبت یا تکلیف آتی ہے تو وہ یہ نہیں کہتے کہ ہمارے ستارے کی گردش کی وجہ سے ایسا ہوا ہے وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ ہاتھ کی لکیر کی وجہ سے ہم پر یہ مصیبت آئی ہے اور وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ ہم پر کسی نے جادو کر دیا ہے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہماری جانیں رب کے ہاتھ میں ہیں تکلیفیں اسی کی طرف سے ہیں اور سکھ بھی اسی کی طرف سے ہیں اور اسی پر ہمارا بھروسہ اور توکل ہے۔
وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللهِ وَ کَفٰی بِاللهِ وَکِيْلًا “۔
آئیے اس دعا کو اپنی زندگیوں میں شامل کر کے اللہ کے پسندیدہ لوگوں میں سے ہو جائیں…!
(ماہنامہ طیبات)

Last edited by عبداللہ حیدر; 14-10-08 at 02:32 PM..

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2671
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
abeera (19-11-08), Miss Khan (26-10-11), shafresha (28-06-09), پیاسا (31-10-08), میاں شاہد (31-10-08), منتظمین (14-10-08), ابن جلال (15-10-08), راجہ اکرام (01-01-10), راجہ صاحب (22-04-09), سیپ (14-10-08), عبدالقدوس (14-10-08)
پرانا 28-06-09, 02:40 AM   #16
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,191
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہاں استعمال کرنے پر "کمی" بھی ہوسکتی ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 28-06-09, 04:14 AM   #17
Member
اجنبی
 
ابو محمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 31
کمائي: 1,017
شکریہ: 115
30 مراسلہ میں 68 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
ماشااللہ
دو صفحوں کا مراسلہ لکھ کر فرماتے ہیں لکھنا نہیں آتا
اسلام علیکم و رحمتہ اللہ بھائی میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ لکھنا نہیں آتا مطلب یہ ھے کہ کوئی آسان طریقہ نہیں پتا جس کے ذریعے سے اپنی بات جلد از جلد لکھ سکوں ورنہ تو بندہ قلم اور قلم کا ھی دھنی ھے معذرت تلوار کا ذکر نہیں کر سکتا کیونکہ حالات ناساز ھیں
ابو محمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ابو محمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (28-06-09), عبداللہ حیدر (01-07-09)
پرانا 28-06-09, 04:24 AM   #18
Member
اجنبی
 
ابو محمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 31
کمائي: 1,017
شکریہ: 115
30 مراسلہ میں 68 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
ابو محمد بھائی، اللہ تعالیٰ سےمیرے لیے دعا کیا کریں کہ وہ اس حقیر سی خدمت کو اپنی بارگاہ میں‌قبول فرما لے۔ اسلام علیکم و رحمتہ اللہ بھائی عبداللہ حیدر آپ کی خدمت تو ماشاءاللہ بہت اعلٰی ھے بس بندہ حقیر ھے
ابو محمد آف لائن ہے   Reply With Quote
ابو محمد کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 28-06-09, 04:29 AM   #19
Member
اجنبی
 
ابو محمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 31
کمائي: 1,017
شکریہ: 115
30 مراسلہ میں 68 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی، آپ کچھ وضاحت کریں گے کہ آپ کونسا طریقہ استعمال کرتے ہیں؟ میں اپنے مراسلے عمومًا ورڈ پراسیسرز مثلًا مائیکروسافٹ ورڈ یا اوپن آفس رائٹر میں تیار کرتا ہوں اور پھر فورم کے خاص ٹولز کی مدد سے فارمیٹنگ کے بعد پوسٹ کر دیتا ہوں۔ اس کام کے لیے ایک آف لائن ایڈیٹر بھی میسر ہے۔ آپس کی بات ہے کچھ احباب کا خیال ہے کہ میرا تعلق "کسی ادارے" سے ہے جس کی وجہ سے مجھے لکھنے میں‌مدد ملتی رہتی ہے۔ بھائی فورم پر جو quick replayھے اُسی پر اپنی زور آزمائی کرتا رھتا ھوں mouse کے ذریعے ا ب پ ت کو دبا دبا کر اگر سب اسی طرح لکھتے ھیں تو شاباش ھے آپ کی ھمتوں اور اُنگلیوں کو
ابو محمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-06-09, 04:30 AM   #20
Member
اجنبی
 
ابو محمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 31
کمائي: 1,017
شکریہ: 115
30 مراسلہ میں 68 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی، آپ کچھ وضاحت کریں گے کہ آپ کونسا طریقہ استعمال کرتے ہیں؟ میں اپنے مراسلے عمومًا ورڈ پراسیسرز مثلًا مائیکروسافٹ ورڈ یا اوپن آفس رائٹر میں تیار کرتا ہوں اور پھر فورم کے خاص ٹولز کی مدد سے فارمیٹنگ کے بعد پوسٹ کر دیتا ہوں۔ اس کام کے لیے ایک آف لائن ایڈیٹر بھی میسر ہے۔ آپس کی بات ہے کچھ احباب کا خیال ہے کہ میرا تعلق "کسی ادارے" سے ہے جس کی وجہ سے مجھے لکھنے میں‌مدد ملتی رہتی ہے۔ بھائی فورم پر جو quick replayھے اُسی پر اپنی زور آزمائی کرتا رھتا ھوں mouse کے ذریعے ا ب پ ت کو دبا دبا کر اگر سب اسی طرح لکھتے ھیں تو شاباش ھے آپ کی ھمتوں اور اُنگلیوں کو
ابو محمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-06-09, 05:02 AM   #21
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,191
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی ابو محمد آپ واقعی بہت محنت کرتے ہیں مان گیا
بھائی کوئیک رپلائی یا پھر Name:  reply.gif
Views: 104
Size:  1.3 KB کے ٹیب کو دبا کر ایک نئی ونڈو میں
اپنے کی بورڈ کو ہی استعمال کریں
لکھنے پر آپ کو اندازہ ہوگا کے یہاں کی بورڈ کے حروف اس طرح کام کرتے ہیں
Name:  urdu_phonetic_layout_normal.jpg
Views: 103
Size:  28.8 KB

Name:  urdu_phonetic_layout_shift.jpg
Views: 105
Size:  29.1 KB

کچھ دیر میں ہی آپ کو پریکٹس ہوجائے گی
انشااللہ
دعاؤں میں یاد رکھیں
فیصل ناصر
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

Last edited by فیصل ناصر; 28-06-09 at 05:07 AM.
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 01-01-10, 11:48 PM   #22
Senior Member
 
محمدمبشرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: اسلام آباد
عمر: 23
مراسلات: 1,442
کمائي: 21,476
شکریہ: 2,638
1,002 مراسلہ میں 2,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدمبشرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدمبشرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Thumbs down

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : خلیل مراسلہ دیکھیں
لیکن تھوڑا سا چھوٹا لکھ دیا کریں تاکہ کوئی پڑھ بھی سکے اب اتنا لمبا کون پڑھے؟؟؟
میں آپ کی بات سے متفق نہیں ذرا بھی نہیں

علم کے بارہ میں لیکن نہیں چلے گا!!!

Last edited by محمدمبشرعلی; 01-01-10 at 11:52 PM.
محمدمبشرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-01-10, 11:55 PM   #23
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,259
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

” وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللهِ وَ کَفٰی بِاللهِ وَکِيْلًا “۔

جزاک اللہ خیر بھائی
راجہ اکرام آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-01-10, 09:33 AM   #24
Senior Member
 
محمدمبشرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: اسلام آباد
عمر: 23
مراسلات: 1,442
کمائي: 21,476
شکریہ: 2,638
1,002 مراسلہ میں 2,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدمبشرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدمبشرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابو محمد مراسلہ دیکھیں
بھائی، آپ کچھ وضاحت کریں گے کہ آپ کونسا طریقہ استعمال کرتے ہیں؟ میں اپنے مراسلے عمومًا ورڈ پراسیسرز مثلًا مائیکروسافٹ ورڈ یا اوپن آفس رائٹر میں تیار کرتا ہوں اور پھر فورم کے خاص ٹولز کی مدد سے فارمیٹنگ کے بعد پوسٹ کر دیتا ہوں۔ اس کام کے لیے ایک آف لائن ایڈیٹر بھی میسر ہے۔ آپس کی بات ہے کچھ احباب کا خیال ہے کہ میرا تعلق "کسی ادارے" سے ہے جس کی وجہ سے مجھے لکھنے میں‌مدد ملتی رہتی ہے۔ بھائی فورم پر جو quick replayھے اُسی پر اپنی زور آزمائی کرتا رھتا ھوں mouse کے ذریعے ا ب پ ت کو دبا دبا کر اگر سب اسی طرح لکھتے ھیں تو شاباش ھے آپ کی ھمتوں اور اُنگلیوں کو
حضرت پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ آپ براؤزر کون سا استعمال کرتے ہیں،
آپ اوپیرہ کے علاوہ کوئی بھی استعمال کر سکتے ہو، مثلاً Fire Fox یا Chrome ،،
دوسری بات یہ کی ہم تو کی بوڑد کی مدد سے لکھتے ہیں

جیسے کہ

a سے ا
b سے ب
t سے ت
اور T سے ٹ
وغیرہ اور پھر وغیرہ وغیرہ۔ ۔ ۔ ۔
محمدمبشرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پسندیدہ, واقعات, قرآن, چینل, نوکری, نظر, محبت, معلوم, اللہ, انسان, انعامی, امتحان, بچوں, تعلیم, حکم, حدیث, خواتین, خلاف, خدا, دریافت, دعا, راستہ, عقل, عبادت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بلوچستان اور وزیرستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت ملے ہیں، وکی لیکس گلاب خان خبریں 0 09-12-10 05:18 AM
ستر فی صد پاکستانی ’فیس بک‘ پر مکمل پابندی چاہتے ہیں، پول ھارون اعظم خبریں 15 29-05-10 09:38 PM
پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں، صدربش ابن جلال خبریں 0 24-09-08 12:17 AM
دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مغربی ممالک پاکستان کی مدد کریں، اشرف قاضی خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 08:54 AM
غیر ملکی اخبارات کے مفروضے مسترد، جوہری اثاثے محفوظ ہیں، پاکستان عبدالقدوس خبریں 0 03-12-07 02:42 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:21 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger