واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > کفروشرک



کفروشرک کفروشرک


جشن میلاد النبی ناجائز کیوں ؟ اور جلوس اہلحدیث اور جشن دیوبند کا جواز کیوں ؟

Like Tree1Likes

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-09-11, 11:28 PM  
جشن میلاد النبی ناجائز کیوں ؟ اور جلوس اہلحدیث اور جشن دیوبند کا جواز کیوں ؟
ملک اظہر ملک اظہر آن لائن ہے 20-09-11, 11:28 PM

جشن میلاد النبی ناجائز کیوں ؟ اور جلوس اہلحدیث اور جشن دیوبند کا جواز کیوں ؟
از: پاسبان مسلک رضا ، نباض قوم،
مولانا ابوداؤد محمد صادق قادری رضوی
امیر جماعت رضائے مصطفٰی پاکستان گوجرنوالہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


وَاِن تعدو نِعمَۃَ اللّٰہ ِ لَا تَحصُو ھَا۔

اور اگر اللہ کی نعمتوں کو گنو تو شما ر نہ کرسکوگے ۔ پارہ نمبر 12 رکوع نمبر 17

بے شک اللہ تعالیٰ کی نعمتیں لاتعداد اور بے حساب اور حد شمار سے باہر ہیں ، مگر ان سب نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت بلکہ تمام نعمتوں کی جان ، جان ِ جہان و جانِ ایمان حضور پر نور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات ہے ، جن کے طفیل باقی سب نعمت و انعامات ہیں ، اعلیٰ حضرت مجددّ دین و ملت مولانا امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی نے فرمایا :۔

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے

اس لئے اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑھ کر ، سب سے زیادہ اور بہت ہی اہتمام و تاکید کے ساتھ آپ کی ذات بابرکات کے بھیجنے کا احسان ظاہر فرمایا ۔ لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم ۔ بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا ، مسلمانوں پر کہ ان میں انہی سے ایک رسول بھیجا ۔ (پ 14 ، رکوع 8 ) چونکہ ایمانداروں پر سب سے بڑی نعمت کا سب سے بڑا احسان ظاہر فرمایا ہے ، اس لئے اہل ایمان اس کی سب سے بڑھ کر قدرو منزلت جانتے ہیں اور اس کا سب سے زیادہ شکر ادا کرتے ہیں اور جس ماہ یوم میں اس احسان و نور و نعمت کا ظہور ہوا ، اس میں اس کا بالخصوص چرچا و مظاہرہ کرتے ہیں، اس لئے کہ مولیٰ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جابجا اپنی نعمتوں کی تذکیر تشکر اور ذکر اذکار کا حکم فرمایا ہے ، خاص طور پر سورۃ الضحیٰ میں ارشاد ہوا ہے ۔ واما بنعمۃ ربک فحدث ۔ ( اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔پ 30 رکوع 18 ۔) پھر بطور خاص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے نعم اللہ ہونے کا بیان اور ناشکری و ناقدری کرنے والے بے دینوں کا رد فرمایا ۔ الم تر الی الذین بدلو انعمۃ اللہ کفراََ۔ ( کیا تم نے انہیں نہ دیکھا ، جنہوں نے اللہ کی نعمت نا شکری سے بدل دی ۔ پ 13 رکوع 17 ۔) بخاری شریف و دیگر تفاسیر میں سید المفسرین حضرت عبد اللہ ابن عباس و حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :: کہ ناشکری کرنے والے کفار ہیں ۔ ومحمدنعمۃ اللّٰہ ۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نعمت ہیں ( بخاری شریف جز ثالث صفحہ 6 ) جب اللہ کے فرمان اور قرآن سے ثابت ہوگیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے خاص نعمت ہیں جس پر اللہ نے اپنے خاص احسان کا ذکر فرمایا اور پھر نعمت کا چرچا کرنے کا بھی حکم دیا تو اب کون مسلمان و اہل ایمان ہے جو آپ کی ذات بابرکات ، نور کے ظہور اور دنیا میں جلوہ گری و تشریف آوری کی خوشی نہ منائے ، شکر ادا نہ کرے اور سب سے بڑی نعمت کا سب سے بڑھ کر چرچا و مظاہرہ پسند نہ کرے اور نعمت عظمٰی کے خصوصی شکرانہ اور چرچا و مظاہرہ کے لئے جشن عید میلا النبی صلی اللہ علیہ وسلم مولود شریف اور یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس مبارک پر برا منائے اور زبان طعن دراز کرے ۔ مفسر قرآن حضرت مفتی احمد یار خاں مرحوم نے کیا خوب فرمایا ہے :۔

حبیب حق ہیں خدا کی نعمت بنعمۃ ربک فحدث
یہ فرمان مولٰی پر عمل ہے جو بزم مولد سجارہے ہیں

رحمت کے خوشی :۔

قرآن ہی میں یہ بھی بیان ہے کہ ( تم فرماؤ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر چاہیے ، کہ خوشی کریں ، وہ ان کی سب دھن دولت سے بہتر ہے )۔ پ 11 رکوع 11 ۔جس طرح اوپر نعمت کا چرچا کرنے کا ذکر ہوا ہے ، اسی طرح یہاں فضل و رحمت پر خوشی منانے کا بیان ہے اور کون مسلمان نہیں جانتا کہ اللہ کا سب سے بڑا فضل اور سب سے بڑی رحمت بلکہ جانِ رحمت اور رحمۃ اللعالمین (پ17 رکوع 7 ) آپ کی ذاتِ بابرکات ہے یہاں فضل و رحمت سے اگر کوئی بھی چیز مراد لی جائے تو یقینا وہ بھی آپ ہی کا صدقہ وسیلہ اور طفیل ہے ، لہذا آپ بہر صورت بدرجہ اولیٰ فضل الہٰی و رحمت خداوندی اور نعمۃ اللہ ہونے کا مصداق کامل ہیں ، کیونکہ دونوں جہان میں آپ کا ہی سب فیضان ہے اور آپ کی خوشی منانا ، چرچا و مظاہرہ کرنا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان و فرمان خداوندی کے تحت و اس کے مطابق ہے ، نہ کہ معاذ اللہ اس کے مخالف و منکر اور شرک و بدعات ۔

خدا کا شکر نعمت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رفعت ہے
یہ دونوں کی اطاعت ہے قیام محفل مولد
حصول فیض و رحمت ہے نزول خیر و برکت ہے
حصول عشق حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے قیام محفل مولد
نہ اس میں رفع سنت ہے نہ شرک و کفر بدعت ہے
یہ رد شرک و بدعت ہے قیام محفل مولد

یوم ولادت کی اہمیت :۔

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر شریف (سوموار) کا روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا : فیہ ولدت وفیہ انزل علیہ ۔ یعنی اسی دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔ (مشکوۃ شریف صفحہ 179 ) اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور یوم نزول قرآن کی اہمیت اور اس دن کی یادگار منانا اور شکر نعمت کے طور پر روزہ رکھنا ثابت ہوا جیسے ہفتہ وار دنوں کے حساب سے یوم ولادت و یوم نزول قرآن کی یادگار اہمیت ہے ویسے ہی سالانہ تاریخ کے حساب سے بھی یوم ولادت و یوم نزول قرآن کی اہمیت و امت میں مقبولیت ہے ، جس طرح نزول قرآن کا دن پیر 27 رمضان المبارک کو سالانہ یادگار منائی جاتی ہے ، اسی طرح یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دن پیر 12 ربیع الاوّل میں ہونے کے باعث اہل اسلام میں ماہ ربیع الاوّل و 12 ربیع الاوّل کی سالانہ یادگار منائی جاتی ہے ۔ بلکہ امام احمد بن محمد قسطلانی شارح بخاری اور شیخ محقق علامہ عبد الحق محدّث دہلوی شارح مشکوٰۃ ( رحمۃ اللہ علیہما ) جیسے محدثین نے نقل فرمایا کہ امام احمد بن حنبل جیسے امام واکابر علماءامت نے تصریح کی ہے کہ شب میلاد شب قدر سے افضل ہے ۔ نیز فرمایا جب آدم علیہ السلام کی پیدائش کے دن جمعۃ المبارک میں مقبولیت کی ایک خاص ساعت ہے تو سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد کی ساعت کے متعلق تیرا کیا خیال ہے ۔( اس کی شان کا کیا عالم ہوگا)۔(زرقانی شرح مواہب جلد 1 صفحہ135.136 ۔ مدارج النبوت جلد 2 صفحہ 13 ) اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی کیا خوب ترجمانی کی ۔

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

لفظ عید کی تحقیق :۔

مذکورہ ارشادات کی روشنی میں مزید عرض ہے کہ بفرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جمعۃ المبارک آدم علیہ السلام کی پیدائش کا دن بھی ہے اور عید کا دن بھی ہے بلکہ عند اللہ عید الاضحٰی اور عید الفطر سے بھی بڑا دن ہے ۔( مشکوٰۃ شریف صفحہ 123/140 ) ملخصاََ لہذا جب سیدنا آدم علیہ السلام کی پیدائش کا دن عید کا دن بلکہ دونوں عیدوں سے بڑھ کر ہوسکتا ہے تو سیدنا سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کا یوم پیدائش عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں ہوسکتا ؟ جب کہ سب کچھ آپ کا ہی فیضان ، آپ کے دم قدم کی بہار اور آپ ہی کے نور کا ظہور ہے ۔

ہے انہی کے دم قدم سے باغ عالم میں بہار
وہ نہ تھے عالم نہ تھا گروہ نہ ہوں عالم نہیں

صحابہ کا فتویٰ :۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت الیوم اکملت لکم دینکم ۔ تلاوت فرمائی ۔ تو ایک یہودی نے کہا : اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے ۔ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا :: یہ آیت نازل ہی اسی دن ہوئی جس دن دو عیدیں تھیں ۔(یوم جمعہ اور یوم عرفہ ) مشکوٰۃ شریف صفحہ 121 ۔۔ مرقات شرح مشکوۃ میں اس حدیث کے تحت طبرانی وغیرہ کے حوالہ سے بالکل یہی سوال و جواب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے ، مقام غور ہے کہ دونوں جلیل القدر صحابہ نے یہ نہیں فرمایا ، کہ اسلام میں صرف عید الفطر اور عید الاضحی مقرر ہیں اور ہمارے لئے کوئی تیسری عید منانا بدعت و ممنوع ہے ۔ بلکہ یوم جمعہ کے علاوہ یوم عرفہ کوبھی عید قرار دے کر واضح فرمایا کہ واقعی جس دن اللہ کی طرف سے کوئی خاص نعمت عطا ہو خاص اس دن بطور یادگار عید منانا ، شکر نعمت اور خوشی کا اظہار کرنا جائز اور درست ہے علاوہ ازیں جلیل القدر محدث ملا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری نے اس موقع پر یہ بھی نقل فرمایا کہ ہر خوشی کے دن کے لئے لفظ عید استعمال ہوتا ہے ، الغرض جب جمعہ کا عید ہونا ، عرفہ کا عید ہونا ، یوم نزول آیت کا عید ہونا ہر انعام و عطا کے دن کا عید ہونا اور ہر خوشی کے دن کا عید ہوناواضح و ظاہر ہوگیا تو اب ان سب سے بڑھ کر یوم عید میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عید ہونے میں کیا شبہ رہ گیا ۔ جو سب کی اصل و سب مخلوق سے افضل ہیں ۔ مگر :

آنکھ والے تیرے جلووں کا نظارہ دیکھے
دیدہ ء کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے

قرآن کی تائید :

عیسٰی ابن مریم نے عرض کی : اے اللہ ! اے رب ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار ۔ کہ وہ دن ہمارے لئے عید ہوجائے اگلوں او ر پچھلوں کی ۔(پارہ 7 آیت 114 سورہ المائدہ )
سبحان اللہ !! جب مائدہ اور من و سلویٰ جیسی نعمت کا دن عید کا دن قرار پایا ۔ تو سب سے بڑی نعمت یوم عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عید ہونے میں کیا شک رہا ؟

محدثین کا بیان :

امام احمد بن محمد قسطلانی علامہ محمد بن عبد الباقی زرقانی اور شیخ محقق علامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ دعائیہ بیان نقل فرمایا : فرحم اللہ امراءاتخذ لیالی شھر مولدہ المبارک اعیادہ ۔ اللہ اس شخص پر رحم فرمائے ، جو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماہ میلاد کی راتوں کو عیدوں کی طرح منائے ۔(زرقانی شرح المواہب جلد اول صفحہ 139 ۔ ماثبت من السنۃ صفحہ 60 ) دیکھئے ایسے جلیل القدر محدثین نے نہ صرف ایک دن بلکہ ماہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب راتوں کو عید قرار دیا ہے اور عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ منانے والوں کے لئے دعائے رحمت بھی فرمائی ہے ، جس دن کی برکت سے ربیع الاول کی راتیں بھی عیدیں قرار پائیں ۔ 12 ربیع الاول کا وہ خاص دن کیونکر عید قرار نہ پائے گا ؟ بلکہ امام دادودی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ مکہ مکرمہ میں آپ کی ولادت کی جگہ مسجد حرام کے بعد سب سے افضل ہے اور اہل مکہ عیدین سے بڑھ کر وہاں محافل میلاد کا انعقاد کرتے تھے ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس مبارک جگہ محفل میلاد میں حاضری اور مشاہدہ ءانوار کا ذکر فرمایا ۔( جواہر البحار جلد سوم صفحہ 1154 فیوض الحرمین صفحہ 27 )

مفسرین کا اعلان : ۔

امام ابن حجر مکی علیہ الرحمۃ نے امام فخر الدین رازی ( صاحب تفسیر کبیر) نے نقل فرمایا کہ جس شخص نے میلاد شریف کا انعقاد کیا اگرچہ عدم گنجائش کے باعث صرف نمک یا گندم یا ایسی ہی کسی چیز سے زیادہ تبرک کا اہتمام نہ کرسکا ۔ برکت ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا شخص نہ محتاج ہوگا نہ اس کا ہاتھ خالی رہے گا ۔ (النعمۃ الکبرٰی صفحہ 9 ) مفسر قرآن علامہ اسماعیل حقی نے امام سیوطی امام سبکی ، امام بن حجر عسقلانی ، امام ابن حجر ، امام سخاوی ، علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہم جیسے اکابر علمائے امت سے میلاد شریف کی اہمیت نقل فرمائی اور لکھا ہے کہ میلاد شریف کا انعقاد آپ کی تعظیم کے لئے ہے ،اور اہل اسلام ہر جگہ ہمیشہ میلاد شریف کا اہتمام کرتے ہیں ۔( تفسیر روح البیان جلد 9 صفحہ 56 )۔

12 ربیع الاول پر اجما ع امت :۔

امام قسطلانی ، علا مہ زرقانی ، علامہ محمد بن عابدین شاکی کے بھتیجے علامہ احمد بن عبد الغنی دمشقی ، علامہ یوسف نہبانی اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہم نے تصریح فرمائی کہ امام المغازی محمد بن اسحاق وغیرہ علماءکی تحقیق ہے کہ یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم 12 ربیع الاول ہے ۔ علامہ ابن کثیر نے کہا یہی جمہور سے مشہور ہے اور علامہ ابن جوزی اور علامہ ابن جزار نے اس پر اجماع نقل کیا ہے ۔ اس لئےکہ سلف و خلف کا تمام شہروں میں 12 ربیع الاول کے عمل پر اتفاق ہے ۔ بالخصوص اہل مکہ اسی موقع پر جائے ولادت باسعادت پر جمع ہوتے اور اس کی زیارت کرتے ہیں ۔ ملخصاََ (زرقانی شرح مواہب جلد 1 صفحہ 132 ۔ جواہر البحار جلد 3 صفحہ 1147 ۔ماثبت من السنۃ صفحہ 57 ۔ مدارج النبوت صفحہ 14)

واقعہءابولہب : ۔

جلیل القدر آئمہ محدثین نے نقل کیا ہے کہ ابولہب نے اپنی لونڈی ثوبیہ سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری سن کر اسے آزاد کردیا ، جس کے صلہ میں بروز پیر اس کے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے اور انگلی سے پانی چوسنا میسر آتا ہے ، جب کافر کا یہ حال ہے تو عاشق صادق مومن کے لئے میلاد شریف کی کتنی برکات ہوں گی ؟ ( بخاری جلد 3 صفحہ 243 ، مع شرح زرقانی صفحہ 139 ماثبت بالسنہ صفحہ 60 )

ملک اظہر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 259
شکریہ: 447
126 مراسلہ میں 516 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2695
14 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (21-09-11), کنعان (22-09-11), کاشف اکرم وارثی (20-09-11), گلاب خان (23-09-11), مفتی (24-09-11), مہتاب (24-09-11), ملک زوالفقار (24-09-11), محمدعدنان (21-09-11), آبی ٹوکول (21-09-11), اویسی (23-09-11), احمد نذیر (21-09-11), اعجازلاثانی (23-09-11), شعبان نظامی (07-02-12), عرفان مسلم (25-09-11)
پرانا 24-09-11, 02:13 AM   #46
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 45
کمائي: 878
شکریہ: 179
24 مراسلہ میں 64 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ناصر نعمان مراسلہ دیکھیں
ملک مظہر بھائی آپ ہماری بات کا مفہوم نہ سمجھ سکے ۔۔۔۔ آپ سے گذارش ہے کہ دوبارہ دیہان سے ہماری عبارت ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔ ہم نے 12 ربیع الاول کی تاریخ کی تصدیق کے لئے حوالاجات نہیں مانگے تھے ۔۔۔۔ بلکہ ہم نے واضح طور پر ’’اصل اختلاف کسی خاص دن کو عید متعین کرکے مختلف معمولات کا اہتمام کرنے پر ہے ‘‘ لکھا تھا
اس کے بعد ہم نے درج ذیل عبارت لکھی ۔۔
لہذا قائلین عید کا بزرگان دین کے محافل ذکر ولادت پر حوالاجات سے 12 ربیع الاول کو عید پر استدلال درست نہیں ۔۔۔۔ کیوں کہ دلیل عام ہے اور دعوی خاص ہے ۔۔۔۔ اور یہ چیز اصول و قاعدے کے خلاف ہے
ہاں البتہ قائلین کے پاس خاص 12 ربیع الاول کے حوالے سے بزرگان دین کے عید میلادالنبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم منانے کے حوالاجات ہیں تو ضرور پیش کریں ۔۔۔۔ پھر ان پر غور و فکر ہوسکتا

آپ سے گذارش ہے کہ براہ مہربانی جواب دینے میں‌ جلدی نہ فرمائیں
پہلے بات کو سمجھیں‌ اس کے بعد جواب عنایت فرمائیں ۔جزاک اللہ


رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنكَ.
المائدة، 5 : 114
’’اے اﷲ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے خوانِ (نعمت) نازل فرما دے کہ (اس کے اُترنے کا دن) ہمارے لیے عید ہوجائے ہمار ے اگلوں کے لیے (بھی) اور ہمارے پچھلوں کے لیے (بھی) اور (وہ خوان) تیری طرف سے نشانی ہو۔‘‘

قرآن مجید نے اس آیت میں نبی کی زبان سے یہ تصور دیا ہے کہ جس دن اﷲ تعالیٰ کی نعمت اُترے اس دن کو بطور عید منانا اس نعمت کے شکرانے کی مستحسن صورت ہے۔

لہٰذا جب سابقہ اُمتیں معمولی سی نعمت پر شکر بجا لاتی تھیں تو اُمت مسلمہ پر بہ درجۂ اَتم لازم آتا ہے کہ وہ اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خوشی منا کر اس عظیم ترین نعمت کا شکر شرحِ صدر کے ساتھ بجا لائے، کیوں کہ ایسا کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے خود دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے :
وَاذْكُرُواْ نِعْمَتَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا.
’’اور اپنے اوپر (کی گئی) اﷲ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی پس تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے۔‘‘
آل عمران، 3 : 103
بلاشبہ یہ اﷲ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ اس نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے بندوں کے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیا۔ جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے ان کو ایک دوسرے کا غم خوار بنا دیا۔ ان کی نفرتوں اور عداوتوں کو محبتوں اور مروّتوں سے بدل دیا۔ حقیقتاً یہ نعمت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے تصدق سے عالمِ انسانیت کو نصیب ہوئی، اس نعمت کا مبداء و مرجع بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اَقدس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس دنیا میں تشریف لانا اور لوگوں کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاکر حلقہ بگوش ہونا اور خون کے پیاسوں کا باہم شیر و شکر ہونا اس اَمر کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم رحمتِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کے موقع پر بارگاہِ خداوندی میں سراپا تشکر بن جائیں۔

اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرکے ان پر شکر بجا لانا صرف اُمتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی پر واجب نہیں بلکہ سابقہ اُمتوں کو بھی یہی حکم تھا۔ بنی اسرائیل سے فرمایا گیا :
يَا بَنِي إِسْرَآئِيلَ اذْكُرُواْ نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَO
’’اے اولادِ یعقوب! میرے وہ اِنعام یاد کرو جو میں نے تم پر کیے اور یہ کہ میں نے تمہیں (اُس زمانے میں) سب لوگوں پر فضیلت دیo‘‘
البقرة، 2 : 47

اگر ہم اللہ تعالیٰ کے اِحسانات پر شکر ادا نہیں کر سکتے اور اپنی تاریخ کے اہم واقعات کو اچھی روایات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل نہیں کر سکتے تو بعید نہیں کہ آنے والی نسلیں اﷲ کے ان احسانات سے بے خبر ہو جائیں اور ان کی نظروں سے اس دن حاصل ہونے والی نعمت کی قدر و منزلت بھی محو ہو جائے۔ لہٰذا حکمِ اِلٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ سال بھر تواﷲ تعالیٰ کا عام شکر بجا لایا جاتا رہے لیکن جب وہ دن آئے۔ جس دن اﷲ تعالیٰ نے آزادی کی نعمت اَرزانی فرمائی۔ تو خصوصی طور پر خوشیوں کا اِظہار کیا جائے تاکہ وہ دن جشن کی حیثیت اختیار کر جائے اور آئندہ نسلوں پر اس دن کی حقیقت کھل کر واضح ہو جائے۔ پس اگر آزادی کی نعمت پر شکر منانا قرآن سے ثابت ہے تو اُس ذاتِ اَقدس کی آمد کی خوشی منانا کیوں جائز و مستحسن نہ ہوگا جو وجہ تخلیقِ کائنات ہیں اور جن کے توسل اور تصدّق سے تمام نعمتیں عطا کی گئیں۔
آیت میں مذکور اَلفاظ۔ ’’اَوَّلِنَا‘‘ اور ’’اٰخِرِنَا‘‘۔ میں کلمہ ’’نَا‘‘ اِس اَمر کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ نعمت کی خوشیاں وہی منائے گا جو اس نعمت کے شکر میں ہمارے ساتھ شریک ہوگا، اور جو اس خوشی میں ہمارے ساتھ شریک نہیں اس کا عید منانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ یہاں قرآن نے لوگوں کے دلوں کے اَحوال پرکھنے کے لیے ایک معیار دے دیا ہے۔ وہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت تھی اور یہ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ مائدہ کی عارضی نعمت تھی اور یہاں ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائمی نعمت ہے لیکن یہاں ہمارے لیے بھی وہی معیار ہے کہ جب ماہِ ربیع الاول میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کا دن آئے اور عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سعید ساعتیں ہم پر طلوع ہوں تو دیکھنا ہے کہ ہم میں سے کون اپنے دلوں کو خوشیوں اور مسرتوں کا گہوارہ بنا لیتا ہے اور اپنے آپ کو ’’اَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا‘‘ میں شامل کر لیتا ہے۔ اگر اس کے برعکس میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کسی کادل خوشی سے لبریز نہ ہو بلکہ دل میں ہچکچاہٹ، شکوک و شبہات اور کینے کی سی کیفیت پیدا ہو تو اسے چاہئے کہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے۔ کیوں کہ یہ انتہائی خطرناک بیماری ہے اور اس سے اجتناب دولتِ ایمان کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیوا اور اُمتی ہو کر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت پر خوشیاں نہ منائے۔
میلاد مبارک پر دلائل طلب کرنا اور اس کے عدمِ جواز پر بحث و مناظرہ کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے تقاضوں کے منافی ہے، محبت کبھی دلیل کی محتاج نہیں ہوتی۔ لہٰذا جب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا مبارک مہینہ آئے تو ایک مومن کی قلبی کیفیت یہ ہونی چاہیے کہ خوشیاں منانے کے لیے اُس کا دل بے قرار اور طبیعت بے چین ہو جائے، اسے یوں لگے کہ اس کے لیے کائنات کی ساری خوشیاں ہیچ ہیں اور میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی ہی حقیقی خوشی ہے۔ وہ محسوس کرے کہ اس دن کائنات کی ساری خوشیاں سمٹ کر اس کے دامن میں آگری ہیں۔ اس سے بڑھ کر اس کے لیے مسرت و شادمانی کا اور کون سا موقع ہوگا، وہ تو اس خوشی سے بڑھ کر کائنات میں کسی خوشی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشیاں منانے کا حکمِ خداوندی

اﷲ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی نعمتوں کا شکر بجا لانے کا ایک مقبولِ عام طریقہ خوشی و مسرت کا اِعلانیہ اظہار ہے۔ میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے! یہ وہ نعمتِ عظمیٰ ہے جس کے لیے خود ربِ کریم نے خوشیاں منانے کا حکم فرمایا ہے :
قُلْ بِفَضْلِ اللّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُواْ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَO
’’فرما دیجئے : (یہ سب کچھ) اللہ کے فضل اور اُس کی رحمت کے باعث ہے (جو بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تم پر ہوا ہے) پس مسلمانوں کو چاہئے کہ اس پر خوشیاں منائیں، یہ (خوشی منانا) اس سے کہیں بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیںo‘‘
يونس، 10 : 58
اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کا رُوئے خطاب اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے کہ اپنے صحابہ اور ان کے ذریعے پوری اُمت کو بتا دیجئے کہ ان پر اللہ کی جو رحمت نازل ہوئی ہے وہ ان سے اس امر کی متقاضی ہے کہ اس پر جس قدر ممکن ہو سکے خوشی اور مسرت کا اظہار کریں، اور جس دن حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ کی صورت میں عظیم ترین نعمت اُنہیں عطا کی گئی اسے شایانِ شان طریقے سے منائیں۔ اس آیت میں حصولِ نعمت کی یہ خوشی امت کی اجتماعی خوشی ہے جسے اجتماعی طور پر جشن کی صورت میں ہی منایا جاسکتا ہے۔ چوں کہ حکم ہوگیا ہے کہ خوشی مناؤ، اور اجتماعی طور پر خوشی عید کے طور پر منائی جاتی ہے یا جشن کے طور پر۔ لہٰذا آیہ کریمہ کا مفہوم واضح ہے کہ مسلمان یومِ ولادتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘ کے طور پر منائیں۔
اخیر میں ایک مصرعہ کہنا چاہتا ہوں کے.کسی شا عر نے کہا ہے .
نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربی ا لاول
ملک زوالفقار آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے ملک زوالفقار کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (24-09-11), مفتی (24-09-11), مہتاب (24-09-11), ملک اظہر (25-09-11), حیدر (28-09-11)
پرانا 24-09-11, 02:17 AM   #47
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 259
کمائي: 5,659
شکریہ: 447
126 مراسلہ میں 516 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ناصر نعمان مراسلہ دیکھیں
ملک مظہر بھائی آپ ہماری بات کا مفہوم نہ سمجھ سکے ۔۔۔۔ آپ سے گذارش ہے کہ دوبارہ دیہان سے ہماری عبارت ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔ ہم نے 12 ربیع الاول کی تاریخ کی تصدیق کے لئے حوالاجات نہیں مانگے تھے ۔۔۔۔ بلکہ ہم نے واضح طور پر ’’اصل اختلاف کسی خاص دن کو عید متعین کرکے مختلف معمولات کا اہتمام کرنے پر ہے ‘‘ لکھا تھا
اس کے بعد ہم نے درج ذیل عبارت لکھی ۔۔
لہذا قائلین عید کا بزرگان دین کے محافل ذکر ولادت پر حوالاجات سے 12 ربیع الاول کو عید پر استدلال درست نہیں ۔۔۔۔ کیوں کہ دلیل عام ہے اور دعوی خاص ہے ۔۔۔۔ اور یہ چیز اصول و قاعدے کے خلاف ہے
ہاں البتہ قائلین کے پاس خاص 12 ربیع الاول کے حوالے سے بزرگان دین کے عید میلادالنبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم منانے کے حوالاجات ہیں تو ضرور پیش کریں ۔۔۔۔ پھر ان پر غور و فکر ہوسکتا

آپ سے گذارش ہے کہ براہ مہربانی جواب دینے میں‌ جلدی نہ فرمائیں
پہلے بات کو سمجھیں‌ اس کے بعد جواب عنایت فرمائیں ۔جزاک اللہ
جواب :
محبوبان خدا کی یادگاری کے لیے دن مقرر کرنا بے شک جائز ہے ۔حدیث میں ہے:

کان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یا تی قبور شہداء اُحد علی راس کل حول ۔۳؂نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہر سال کے اختتام پر شہدائے احد کی قبروں پر تشریف لاتے تھے۔(ت)

( ۳ ؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ ۱۳/ ۲۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۳/ ۱۷۰)

شاہ عبدالعزیز صاحب نے اسی حدیث کو اعراس اولیاء کرام کے لیے مستند مانا، اور شاہ ولی اﷲ صاحب نے کہا:ازینجاست حفظ اعراس مشائخ ۔۱؂مشائخ کے عرس منانا اس حدیث سے ثابت ہے (ت)
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذالک فلیفرحوا ،یعنی جب اللہ پاک تم پر فضل فرمائے اور رحمت نازل فرمائے تو اس پر خوشی کرو اور عیدیں مناؤ۔اور آپ قرآن شریف میں پڑھ کر آئے ہیں کہ وماارسلنک الا رحمة للعلمین جس ذات مقدس کو سارے جہانوں کے لیے عموماً،اور مومنین کے لیے خصوصاً رحمت کرکے بھیجا گیا،
12 ربیع الاول یوم ولادت کو عید منانے کی اصل سورہ مائدہ کی آیت: 114ہے، جس میں عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:
ترجمہ: ''اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے(کھانوں کا) ایک دستر خوان نازل کر جو ہمارے پہلے اور پچھلے (سب کیلئے) عید بن جائے۔''
اس آیت کی رو سے نعمت پانے کے دن کو عید قرار دینا ثابت ہے۔
نیز 12 ربیع الاول کے روز سیرت کانفرنسیں اور دیگر سینکڑوں خالص دینی کام اپنی مخصوص صورت کے ساتھ سنت نبوی و سنت صحابہ سے ثابت نہیں، اسی طرح بے شمار کاموں کی تاریخ اور وقت سب فرقوں کے لوگ خود مقرر کرتے ہیں جیسا کہ تبلیغی اجتماعات کی تاریخ تعلیم کیلئے نظام الاوقات، نماز کی جماعت کیلئے گھڑی کے مطابق روزانہ ایک ہی ٹائم، نکاح کا وقت اور تاریخ وغیرہ۔ اور کوئی بھی اسے بدعت قرار نہیں دیتا حالانکہ یہ نظام الاوقات سنت نبوی و سنت صحابہ سے ثابت نہیں لوگ خود بناتے ہیں۔
تو انصاف یہی ہے کہ تعلیم وتبلیغ کے دیگر پروگراموں کی طرح میلاد شریف میں بھی نئی ہیئت کذائیہ (مخصوص انداز) اور 12 ربیع الاول یا کسی اور تاریخ کے تعین سے بدعت کا ارتکاب لازم نہیں آتا۔
ملک اظہر آن لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (24-09-11), مفتی (24-09-11), مہتاب (24-09-11), ملک زوالفقار (24-09-11), حیدر (28-09-11)
پرانا 24-09-11, 02:33 AM   #48
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 259
کمائي: 5,659
شکریہ: 447
126 مراسلہ میں 516 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فکری مراسلہ دیکھیں
حضور نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ کر ،۔میلاد منانے کا طریقہ سمھجا دیا ھے ھمیں بھی یہ ھی طریقہ اپنانا چاھے میلاد منانے والا پہلا آدمی موصل کا بادشاہ تھا،۔ جسکا نام مظفر الدین کوکری بن اربل المتوفی 630 ھ تھا اسنے 604ھ میں یہ ایجاد کیا اور اسکا ساتھی ایک مولوی تھا جسنے میلاد پر کتاب لکھکر اسے دی اسکا نام عمر بن وحیہ تھا کتاب لکھنے پر بادشاہ نے ایک ھزار پونڈ عطا کیے،۔،۔،۔،۔ اور یہ مولوی ائمہ دین اور سلف کی شان میں گستاخی کرتا بڑا احمق انسان تھا لسان المیزان ص 296ج 4 و امام احمد بن محمد مصری کی القول المعتمد فی عمل مولد اور علامہ ذھبی کی دول الاسلام ص103ج2
نفس ذکر ولادت مندوب ھے مگر جو آجکل میلاد کےنام پر ہورہا ھے وہ قابل مزمت ھے
اشعار پڑھے جاتے ھیں سوھنا آیا تے سج گے گلیاں بازار حالنکہ حضور نے مبغوض جگہ بازار کو قرار دیا ھم اس کے سجانے میں دن رات لگادیتے ھیں
بعض جگہ تو میلاد کی نماز پڑھی گی ڈھول بجا کر گھوڑے سیالکوٹ میں نچاے گے ایک عورت عربی لباس میں بٹھا کر اسکی گود میں بچہ دے کر حلیمہ والا نقشہ پیش کیا گیا
علما کی ذمیداری ھے ان معاملات کی اصلاح ہونی چاھے
جواب٭ شاہ اربل ملک مظفر ابو سعید کی وفات 630 ہجری میں ہوئی۔ محدث ابن جوزی (المتوفیٰ 597ھ) فرماتے ہیں:
'' زمانہ قدیم سے اہل حرمین شریف ( مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ) مصر یمن شام اور تمام عرب ممالک اور مشرق و مغرب کے مسلمانوں کا معمول رہا ہے کہ وہ ربیع الاول کا چاند دیکھتے ہی میلاد شریف کی محفلیں منعقد کرتے، خوشیاں مناتے، غسل کرتے، عمدہ لباس زیب تن کرتے، قسم قسم کی زیبائش وآرائش کرتے، خوشبو لگاتے، ان ایام میں خوب خوشی
ومسرت کا اظہار کرتے، حسب توفیق نقد وجنس لوگوں پر خرچ کرتے، میلاد، شریف پڑھنے اور سننے کا اہتمام بلیغ کرتے، اور اس کی بدولت بڑا ثواب اور عظیم کامیابیاں حاصل کرتے۔ میلاد کی خوشی منانے کے مجربات سے یہ کہ جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے سال بھر کثرت سے خیر و برکت، سلامتی و عافیت، رزق ومال میں زیادتی، اور شہروں میں امن و امان اور گھر بار میں سکون و قرار رہتا۔'' حوالہ کیلئے : ''بیان المیلاد النبوی'' صفحہ: 57، 58۔

محدث ابن جوزی نے جو کہ شاہ اربل کے ہم عصر ہوئے بلکہ شاہ اربل سے 33سال پہلے وفات پائی، لکھ رہے ہیں کہ قدیم زمانہ سے مکہ مکرمہ مدینہ منورہ اور روئے زمین کے مسلمان ماہ ربیع الاول میں میلاد مناتے ہیں اور اس سے قسم قسم کی برکات حاصل کرتے ہیں۔ اس سے روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ شاہ اربل میلاد کا موجد نہیں تھا، انہوں نے صرف اربل میں میلاد کا آغاز کیا، جبکہ پوری دنیا میں اس سے پہلے قدیم زمانہ سے میلاد منانا مروج تھا۔
ملک اظہر آن لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
مفتی (24-09-11), مہتاب (24-09-11), ملک زوالفقار (24-09-11), آبی ٹوکول (29-09-11), حیدر (28-09-11)
پرانا 24-09-11, 10:46 AM   #49
Senior Member
 
مفتی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 540
کمائي: 7,068
شکریہ: 489
308 مراسلہ میں 689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جشن میلاد النبی ناجائز کیوں ؟ اور جلوس اہلحدیث اور جشن دیوبند کا جواز کیوں ؟

تمام مسلمانوں کو اسلام علیکم
ملک اظہر صاحب ہم آپکو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں
زبردست تحقیقی اور علمی مضمون شیئر کرنے پر مبارک قبول فرمائیں ، آپکا پیش کردہ مضمون دو حصوں پر مشتمل ہے
1- جشن میلاد النبی ناجائز کیوں ؟
اور
2- جلوس اہلحدیث اور جشن دیوبند کا جواز کیوں ؟
پہلے سوال کا شافی جواب متعدد مرتبہ دیا جا چکا مگر دوسرے سوال کا جواب آج تک نہیں مل سکا آخر کیوں ؟ ہے کوئی جو جلوس اہلحدیث اور جشن دیوبند اور وہ بھی ہندوؤں کے ساتھ منانے کا جواز پیش کر سکے ؟

"کیا یہ قرآن و حدیث میں ہے"
"کیا یہ صحابہ نے کیا"
"یہ کہاں لکھا ہے"
ہر بات پر یہ سوال پوچھنے والے یہ بتا سکتے ہیں کہ ہنود سے دوستی کرنے کا ذکر قرآن میں کہاں ہے؟ کس حدیث میں مذکور ہے؟ امریکہ لعین کو ظاہری کوسنے دینے والے اور کبھی کبھی اس آیت کریمہ
اقتباس:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤی اَوْلِیَآءَ ۘ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمْ فَاِنَّہ مِنْہُمْ اِنَّ اللہَ لَا یَہۡدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿مائدہ۵۱﴾
اے ایمان والو یہود و نصارٰی کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے بے شک اللّٰہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا ۔
کا حوالہ دے کر امریکہ سے دشمنی ظاہر کرنے والوں کو ہندو اپنے سے کیوں لگتے ہیں؟ کیا یہ کفار میں شامل نہیں؟ قرآن و حدیث میں کہاں ہے کہ مسلمان کہلانے والے اپنی مجلسوں میں ہنود سے اشلوک پڑھوائیں ؟ ایک حیاء باختہ عورت کو مسلمانوں کی محفل کا مہمان خصوصی بنانا کہاں لکھا ہے؟؟؟
خدارا! ٹھنڈے دماغ سے سوچئیے اور اپنے ایمان کی فکر کرتے ہوئے درست راہوں کا انتخاب کیجئے ، خدائے بزرگ و برتر ہم سب کو ہدائت دے اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے
__________________
کعبے کے بَدرُالدّجٰی تم پہ کروڑوں درود ♥ شافع روزِ جزا تم پہ کروڑوں درود
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا ♥ جب نہ خدا ہی چُھپا تم پہ کروڑوں درود

صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم
مفتی آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے مفتی کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (24-09-11), مہتاب (24-09-11), ملک اظہر (25-09-11), ملک زوالفقار (24-09-11), حیدر (28-09-11)
پرانا 24-09-11, 03:53 PM   #50
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اعجازلاثانی مراسلہ دیکھیں
آپ نے اپنی طرف سے اچھی کوشش کی ہے آپ اس کو عبادت سمجھ کر نہیں مناتے کیونکہ آپ نے عبادت کرنے کے انتظامات تو ہندؤوں کیلئے کیئے ہوتے ہیں اور وہ ہی آکر مہمان نوازی سے مستفید ہوتے ہوئے منتر وغیرہ پڑھتے ہیں آپ تو بس خراج تحسین ہی پیش کرتے ہو
لاثانی صاحب آپ کا انداز بہت خوبصورت ہے جناب آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں آپ بھی تشریف لائیں اور محمان نوازی سے مستفید ہو

Last edited by نبیل خان; 24-09-11 at 04:30 PM.
نبیل خان آف لائن ہے  
نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (28-09-11)
پرانا 24-09-11, 09:27 PM   #51
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,685
شکریہ: 873
1,315 مراسلہ میں 2,843 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نبیل خان مراسلہ دیکھیں
لاثانی صاحب آپ کا انداز بہت خوبصورت ہے جناب آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں آپ بھی تشریف لائیں اور محمان نوازی سے مستفید ہو
لگتا ہے پرشاد کی لت پڑ گئی ہے
مہتاب آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (24-09-11), حیدر (28-09-11)
پرانا 25-09-11, 01:14 AM   #52
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,892
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ملک اظہر مراسلہ دیکھیں
جواب :
محبوبان خدا کی یادگاری کے لیے دن مقرر کرنا بے شک جائز ہے ۔حدیث میں ہے:
کان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یا تی قبور شہداء اُحد علی راس کل حول ۔۳؂نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہر سال کے اختتام پر شہدائے احد کی قبروں پر تشریف لاتے تھے۔(ت)
( ۳ ؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ ۱۳/ ۲۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۳/ ۱۷۰)
شاہ عبدالعزیز صاحب نے اسی حدیث کو اعراس اولیاء کرام کے لیے مستند مانا، اور شاہ ولی اﷲ صاحب نے کہا:ازینجاست حفظ اعراس مشائخ ۔۱؂مشائخ کے عرس منانا اس حدیث سے ثابت ہے (ت)
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذالک فلیفرحوا ،یعنی جب اللہ پاک تم پر فضل فرمائے اور رحمت نازل فرمائے تو اس پر خوشی کرو اور عیدیں مناؤ۔اور آپ قرآن شریف میں پڑھ کر آئے ہیں کہ وماارسلنک الا رحمة للعلمین جس ذات مقدس کو سارے جہانوں کے لیے عموماً،اور مومنین کے لیے خصوصاً رحمت کرکے بھیجا گیا،
12 ربیع الاول یوم ولادت کو عید منانے کی اصل سورہ مائدہ کی آیت: 114ہے، جس میں عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:
ترجمہ: ''اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے(کھانوں کا) ایک دستر خوان نازل کر جو ہمارے پہلے اور پچھلے (سب کیلئے) عید بن جائے۔''
اس آیت کی رو سے نعمت پانے کے دن کو عید قرار دینا ثابت ہے۔
نیز 12 ربیع الاول کے روز سیرت کانفرنسیں اور دیگر سینکڑوں خالص دینی کام اپنی مخصوص صورت کے ساتھ سنت نبوی و سنت صحابہ سے ثابت نہیں، اسی طرح بے شمار کاموں کی تاریخ اور وقت سب فرقوں کے لوگ خود مقرر کرتے ہیں جیسا کہ تبلیغی اجتماعات کی تاریخ تعلیم کیلئے نظام الاوقات، نماز کی جماعت کیلئے گھڑی کے مطابق روزانہ ایک ہی ٹائم، نکاح کا وقت اور تاریخ وغیرہ۔ اور کوئی بھی اسے بدعت قرار نہیں دیتا حالانکہ یہ نظام الاوقات سنت نبوی و سنت صحابہ سے ثابت نہیں لوگ خود بناتے ہیں۔
تو انصاف یہی ہے کہ تعلیم وتبلیغ کے دیگر پروگراموں کی طرح میلاد شریف میں بھی نئی ہیئت کذائیہ (مخصوص انداز) اور 12 ربیع الاول یا کسی اور تاریخ کے تعین سے بدعت کا ارتکاب لازم نہیں آتا۔
محترم جناب ملک مظہر بھائی لوگوں‌ کا اپنی سہولت کے مطابق مختلف محافل منعقد کرنے کے لئے کسی دن کو متعین کرنا
اور
آپ حضرات کا کسی دن کو مذہبی طور پر متعین کرکے تقریبات کرنا اور مذہبی تہوار کی صورت میں محافل منعقد کرنے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے
کیوں کہ لوگوں کا اپنی محافل کو اپنی سہولت کے مطابق کوئی دن متعین کرنا دین کا حصہ نہیں سمجھا جاتا
جبکہ 12 ربیع الاول کو آپ حضرات نے دین کا حصہ سمجھ کر متعین کیا ہوا ہے
مزید سمجھنے کے لئے آپ کے سامنے وضاحت پیش خدمت ہے ۔۔۔۔ امید ہے کہ آپ خصوصی غور فکر فرما کر جواب عنایت فرمائیں گے ۔جزاک اللہ
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کی رات کو دوسری راتوں سے نماز اور قیام کے لئے خاص نہ کرو اور جمعہ کے دن کو دوسرے دنوں سے روزہ کے لئے خاص نہ کرو .مگر ہاں کوئی روزے رکھتا ہے اور جمعہ کا دن بھی اس میں آجائے تو الگ بات ہے .(صحیح مسلم ج 1 ص 361)
اس صحیح روایت سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی فضیلت نماز جمعہ کی وجہ سے ہے محض اس فضیلت کے سبب جمعہ کی رات کو نماز وغیرہ کے لئے اور دن کو روزہ کے لئے خاص کرنا صحیح نہیں .

علامہ ابو اسحق شاطبی رحمتہ اللہ علیہ بدعات کی تعین اور تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
انہی بدعات میں سے کیفیت مخصوصہ اور ہیئات معینہ کا التزام ہے جیسے کہ ہئیت اجتماع کے ساتھ ایک آواز پر ذکر کرنا (پھر آگے فرمایا)اور اُنہی بدعات میں سے خاص اوقات کے اندر ایسی عبادات معینہ کا التزام کرلینا بھی ہے جن کے لئے شریعت مطہرہ نے وہ اوقات مقرر نہیں کئے ہیں‘‘(الاعتصام ج 1 ص 34)

اور دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ :
’’جب شریعت نے کسی چیز کی ترغیب دی ہو مثلا ذکر اللہ،سو اگر ایک قوم اس کا التزام کرلے کہ ایک زبان ہوکر ایک آواز سے وہ کر کرتی ہے یا دیگر اوقات کے علاوہ کسی معلوم اور مخصوص وقت کے اندر وہ ذکر کرتی ہے تو شریعت کی ترغیب اس معین تخصیص اور التزام پر ہرگز دلالت نہیں کرتی بلکہ اس کے خلاف دلالت کرتی ہے ‘‘(الاعتصام ج 1 ص 335)

مشہور فقیہ ابو حنیفہ ثانی علامہ زین العابدین ابن نجیم المصری الحنفی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 970 ھ)لکھتے ہیں :
’’اس لئے کہ جب ذکر اللہ کی جب کسی ایک ہی وقت کے ساتھ تخصیص کا قصد کرلیاگیا اور دوسرے وقت میں وہ نہ ہوا یا کسی شے کے ساتھ ذکر اللہ کو مخصوص کر لیا گیا دوسری چیز کے ساتھ ، وہ خاص نہ کیا گیا تو وہ مشروع نہ ہوگا کیوں کہ اس کے متعلق شریعت میں کوئی تخصیص نہیں آئی لہاذا وہ خلاف شرع ہوگا‘‘(بحر الرائق ج 2 ص 159)
علامہ موصوف بھی یہی بتلانا چاہتے ہیں کہ گو اللہ تعالیٰ کا ذکر ایک بڑی عبادت ہے لیکن جب شریعت نے اس کو کسی خاص وقت کے ساتھ یا جہر یا اخفاء یا اجتماع و انفراد وغیرہ کسی خاص کیفیت اور ہیئت کے ساتھ مخصوص نہیں کیا تو اس کو اپنی طرف سے کسی خاص وقت یا کسی خاص کیفیت کے ساتھ متعین کردینا غیر مشروع ہوگا بلکہ تحریف دین ہوگا .اس لئے شریعت نے ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا .

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں :
’’اس فقیر کا عمل بھی اسی پر ہے کہ کسی دن کو کسی دن پر ترجیح نہیں دیتا ،تاوقتیکہ اُس کی ترجیح شارع سے معلوم نہ کرلے . جیسا کہ جمعہ اور رمضان وغیرہ کی ترجیح شارع سے معلوم ہوچکی ہے‘‘(مکتوبات حصہ چہارم ص 67)

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کا خلاصہ ہے کہ :
ان کا گذر مسجد میں ذاکرین کی ایک جماعت پر ہوا جس میں ایک شخص کہتا تھا کہ 100 مرتبہ اللہ اکبر پڑھو تو حلقہ نشین لوگ کنکریوں پر سو مرتبہ تکبیر کہتے .پھر وہ کہتا 100 مرتبہ لاالہ الااللہ پڑھو تو وہ سو بات تہلیل پڑھتے پھر وہ کہتا کہ 100 مرتبہ سبحان اللہ پڑھو.تو وہ 100 مرتبہ سنگریزوں پر تسبیح پڑھتے .حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم ان سنگریزوں اور کنکریوں پر کیا پڑھتے تھے?وہ کہنے لگے کہ ہم تکبیر و تہلیل و تسبیح پڑھتے رہے ہیں .آپ نے فرمایا کہ ’’تم ان کنکریوں پر اپنے گناہ شمار کیا کرو .میں اس کا ضامن ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کچھ بھی ضایع نہ ہوگا .تعجب ہے تم پر اے امت محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم ،کیا ہی جلدی تم ہلاکت میں پڑ گئے ہو ،ابھی حضرات صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین) تم میں بکثرت موجود ہیں ،اور ابھی تک جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پرانے نہیں ہوئے اور ابھی تک آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے برتن نہیں ٹوٹے (آگے فرمایا)اندریں حالات تم بدعت اور گمراہی کا دروازہ کھولتے ہو(مسند دارمی ص 38 قلت بسند صحیح )
اور صاحب مجالس الابرارحضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کا حوالا دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ہر اس شخص کے متعلق ایسا ہی کہنا چاہیے (کہ وہ بدعت کا مرتکب ہے)جو خالص بدنی عبادات میں کوئی ایسی صفت اور ہیئت پیدا کرے جو حضرات صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے زمانہ میں نہ تھی‘‘(مجالس الاابرار ص 123)

کیوں کہ اس طرح صفت اور ہیئت پیدا کرنے کی وجہ سے دین بدل جائے گا اور اسی کا نام تحریف دین ہے .

چناچہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی تحریف دین کے اسباب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اور ان اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ تشدد اختیار کرلیا جائے جن کے متعلق شریعت نے حکم نہیں دیا .مثلا کوئی دوامی طور پر روزہ رکھے اور قیام کرے اور عزلت نشینی اختیار کرلے اور نکاح چھوڑدے اور مثلا یہ کہ سنتوں اور مستحبات کا ایسا التزام کرلے جیسے کہ واجبات کا کیا جاتا ہے (پھر فرمایا)کہ ایسا متعمق یا متشدد کسی قوم کا معلم یا رئیس بن جاتا ہے تو قوم یہ خیال کرلیتی ہے کہ اس کا یہ عمل شرع کا حکم اور اس کا پسندیدہ امر ہے ‘‘(حجتہ اللہ ج 1 ص 120)

یہی وجہ ہے کہ قانون الٰہی نے نے انسانوں کو اپنی مرضی پر نہیں چھوڑا .عبادت اور معاملات حتی کہ حکومت اور سلطنت کے احکام میں بھی ان کو پابند کردیا ہے تاکہ وہ اپنی اہواء اور خواہشات کے تحت اللہ تعالیٰ کے دین کا حلیہ نہ بگاڑ دیں.

اورحافظ ابن دقیق رحمتہ اللہ علیہ روافض عید غدیر کی تردید کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
’’شعیوں نے جو تیسری عید جس کو عید غدیر کہتے ہیں ایجاد کی ہے .اس کے لئے اجتماع اور اس کے بطور شعائر کے قائم کرنے پر جو مخصوص وقت اور خاص ہئیت کے ساتھ کی جاتی ہے کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہے اسی کے قریب یہ بات بھی ہے کہ کوئی عبادت شریعت میں کسی خاص طریقہ پر ثابت ہو ، اور بعض لوگ اس کے اندر کچھ تغیر کردیں اور خیال یہ کریں کہ یہ بھی عموم کے نیچے داخل ہے تو ان کاایسا خیال صحیح اور درست نہ ہوگا کیوں کہ عبادت کے اندر تعبدی طریقہ غالب ہے اور اس کا ماخذ (جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے)سے اطلاع پائے بغیر معلوم نہیں ہوتا‘‘(محصلہ)(احکام الااحکام ج 1 ص 51)

امید ہے بھائی کہ آپ کو اس ساری تفصیل کے بعد باآسانی سمجھ آرہا ہوگا کہ 12 ربیع الاول کو عید میلاد النبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو متعین کرنے میں اور لوگوں کا اپنی سہولت کے مطابق اپنی محافل منعقد کرنے میں‌ کیا فرق ہے ؟؟؟
یعنی جو عمل حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں ممکن ہوسکتا ہو اور حضور اکرام صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہو ...... اور وہ ہی عمل صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے دور مبارک میں ممکن ہوسکتا ہو اور باجود صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی حضور اکرام صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت اور قدم قدم پراپنی جان و مال ومتاع نثار کرنے کا جذبہ رکھتے ہوتے ہوئے بھی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے نہ عمل کیا ہو ...... اور اس کے بعد خیر القرون حضرات تابعین کرام تبع تابعین کرام کے دور میں وہی عمل ممکن ہوسکتا ہو جنہوں نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے براہ راست دینی تعلیم حاصل کی دینی احکامات سیکھے..... لیکن اس کے باوجود بھی حضرات تابعین کرام اور تبع تابعین کرام نے عمل نہ کیا ہو ......

تو پھر آپ حضرات کا 12 ربیع الاول کو عید متعین کرنا کیا معنی رکھتا ہے ?

12 ربیع الاول کو میلاد منانے کے حامی قرآن اور سنت سے 12 ربیع الاول کو میلاد کے انعقاد پر دلائل پیش کرکے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ?

ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں ..... اور غور کریں ......

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے ۔آمین

Last edited by ناصر نعمان; 25-09-11 at 01:31 AM.
ناصر نعمان آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
فکری (25-09-11), نبیل خان (25-09-11), حیدر (28-09-11)
پرانا 25-09-11, 05:26 PM   #53
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہتاب مراسلہ دیکھیں
لگتا ہے پرشاد کی لت پڑ گئی ہے
آپ بھی محروم نہیں رہیں گے تشریف تو لائیں جی

جناب: اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنا چاہیے ِِِِِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ
نبیل خان آف لائن ہے  
نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (28-09-11)
پرانا 25-09-11, 06:19 PM   #54
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,685
شکریہ: 873
1,315 مراسلہ میں 2,843 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ناصر نعمان مراسلہ دیکھیں
12 ربیع الاول کو آپ حضرات نے دین کا حصہ سمجھ کر متعین کیا ہوا ہے
مزید سمجھنے کے لئے آپ کے سامنے وضاحت پیش خدمت ہے ۔۔۔۔ امید ہے کہ آپ خصوصی غور فکر فرما کر جواب عنایت فرمائیں گے ۔جزاک اللہ
12 ربیع الاول سیّد الانبیاء حضرت محمد مُصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلیہ واصحابہ وبارک وسلم کی اس دُنیا میں تشریف آوری کا دن ہے اور اس دن کو اللہ تعالٰی نے بھی مقرر فرمایا ہے اس امرِ خدا وندی پر اس دن کو مقرر کرنے کا الزام اللہ پاک کو دینے کی جرات ہے کسی میں؟؟؟

اللہ تعالٰی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کی خوشی منانے والے ایک کافر کو اس عمل کے بدلے میں دن مقرر فرما کر عذاب میں تخفیف فرماتا ہے
ابو لہب جو ایک مشہور کافراور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسبی رشتہ میں چچا تھا۔جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارک ہو ئی تو ابو لہب کی لونڈی( کنیز) ثویبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشخبری اپنے مالک ابو لہب کو سنائی تو ابولہب نے اسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو اپنی غلامی سے آزاد کر دیا۔
جب ابو لہب مر گیا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی نے اسے خواب میں دیکھا اوراس کا حال دریافت کیا، تو اس نے کہاکہ کفر کی وجہ سے دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہوں مگرہاں اتنی بات ضرور ہے کہ ہر پیر کے دن میرے عذاب میں کچھ تخفیف(کمی) ہوجاتی ہے اور جس انگلی سے میں نے اشارہ کرکے اپنی لونڈی ثویبہ کو غلامی سے آزادکیاتھا،اس انگلی سے مجھے(پانی وغیرہ) پلایا جاتاہے۔
(صحیح بخاری، فتح الباری)
اور حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے محبت دین کا نہیں ایمان کا حصہ ہے
مغزِ قرآں، روحِ ایماں ، جانِ دیں ہست حُبِّ رحمۃ للعلمین


حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے والد محترم حضرت شاہ عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ” میں میلاد شریف کے دنوں میں ہرسال حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد شریف کی خوشی میں کھانا پکوایاکرتا تھالیکن ایک سال مجھے سوائے بھنے ہوئے چنوں کے اور کچھ مجھے میسرنہیں ہوا۔ چنانچہ میں نے وہی بھنے ہوئے چنے لوگوں میں تقسیم کردیئے۔اسی رات کو خواب میں مجھے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی تو میں نے دیکھا کہ وہی بھنے ہوئے چنے حضورسید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھے ہوئے ہیں اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے بہت خوش نظر آرہے ہیں“۔ (الدرالثمین: صفحہ 8 )

شیخ المشائخ حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی علیہ الرحمۃ(متوفی1317ھ) فرماتے ہیں کہ”اور مشرب(طریقہ) فقیر کایہ ہے کہ محفل مولد(میلاد) میں شریک ہوتا ہوں بلکہ ذریعہ برکات سمجھ کرہر سال منعقد کرتا ہوں اور قیام میں لطف ولذت پاتاہوں“۔ (فیصلہ ہفت مسئلہ:ص5)

حاصل کلام یہ ہے کہ تمام عالم اسلام میں ماہ ربیع الاوّل میں محافل میلادکا انعقاد اور خوشی ومسرت کا اظہار کرنا،انواع واقسام کے صدقہ وخیرات کرنااور دعوت طعام کا اہتمام کرناوغیرہ ہمیشہ سے مسلمانوں کا محبوب طرزِعمل رہاہے۔

اقتباس:
اس صحیح روایت سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی فضیلت نماز جمعہ کی وجہ سے ہے محض اس فضیلت کے سبب جمعہ کی رات کو نماز وغیرہ کے لئے اور دن کو روزہ کے لئے خاص کرنا صحیح نہیں
بھائی صاب آپ روزہ کیلئے ایک دن مخصوص کرنا گوارا نہیں کرتے جبکہ مسلمانوں کے پیارے آقا و مولا (صلی اللہ علیہ وسلم) ہر پیر کو روزہ رکھ کر اپنا یوم ولادت مناتے تھے جیسا کہ حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں، بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں پیر کے روزے کے بارے میں دریافت کیا گیا (کیونکہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ‌ پیر کو روزہ رکھتے تھے) تو ارشاد فرمایا، “اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی روز مجھ پر وحی نازل ہوئی۔“ (صحیح مسلم شریف ص591 حدیث‌198۔(1162) دارابن حزم بیروت)

اس کے بعد بھائی صاب نے ذکر کے متعلق کاپی پیسٹ کیا ہے جو کہ موضوع سے متعلقہ نہیں ہے اس لئے اس کو فی الحال چھوڑ دیا جاتا ۔
بھائی صاحب اس کے بعد رقم طراز ہیں

اقتباس:
چناچہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی تحریف دین کے اسباب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اور ان اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ تشدد اختیار کرلیا جائے جن کے متعلق شریعت نے حکم نہیں دیا .مثلا کوئی دوامی طور پر روزہ رکھے اور قیام کرے اور عزلت نشینی اختیار کرلے اور نکاح چھوڑدے اور مثلا یہ کہ سنتوں اور مستحبات کا ایسا التزام کرلے جیسے کہ واجبات کا کیا جاتا ہے (پھر فرمایا)کہ ایسا متعمق یا متشدد کسی قوم کا معلم یا رئیس بن جاتا ہے تو قوم یہ خیال کرلیتی ہے کہ اس کا یہ عمل شرع کا حکم اور اس کا پسندیدہ امر ہے ‘‘(حجتہ اللہ ج 1 ص 120)
تو جناب نہ ہم دوامی طور پر روزہ رکھتے ہیں ، نہ مستقل قیام کرتے ہیں ، نہ عزلت نشینی اختیار کئے ہوئے ہیں اور الحمد اللہ میں بچوں والا ہوں یعنی نکاح کو نہیں چھوڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ کوئی حکم ہو تو فرمادیں

عالم اسلام کے تمام مسلمان بارہ ربیع الاوّل کو یہ عظیم الشان اور ایمان افروز تہوار جشن عید میلادُ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سے مناتے چلے آرہے ہیں اور جب تک یہ دنیا قائم ودائم ہے اور ایک بھی مسلمان روئے زمین پرباقی ہے، یہ جشن عید میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح عقیدت ومحبت، خوشی ومسرت اورپوری آب وتاب کے ساتھ منایاجاتا رہے گا اور اہل ایمان میلاد شریف کی برکتوں، رحمتوں اور دنیوی واُخروی سعادتوں سے فیض یاب ہوتے رہیں گے۔
صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی
جنہیں سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
خدا اہلسنّت کو آباد رکھے
محمد کا میلاد ہو تا رہے گا

صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مفتی مراسلہ دیکھیں
1- جشن میلاد النبی ناجائز کیوں ؟
اور
2- جلوس اہلحدیث اور جشن دیوبند کا جواز کیوں ؟
پہلے سوال کا شافی جواب متعدد مرتبہ دیا جا چکا مگر دوسرے سوال کا جواب آج تک نہیں مل سکا آخر کیوں ؟ ہے کوئی جو جلوس اہلحدیث اور جشن دیوبند اور وہ بھی ہندوؤں کے ساتھ منانے کا جواز پیش کر سکے ؟

"کیا یہ قرآن و حدیث میں ہے"
"کیا یہ صحابہ نے کیا"
"یہ کہاں لکھا ہے"
ہر بات پر یہ سوال پوچھنے والے یہ بتا سکتے ہیں کہ ہنود سے دوستی کرنے کا ذکر قرآن میں کہاں ہے؟ کس حدیث میں مذکور ہے؟ امریکہ لعین کو ظاہری کوسنے دینے والے اور کبھی کبھی اس آیت کریمہ

کا حوالہ دے کر امریکہ سے دشمنی ظاہر کرنے والوں کو ہندو اپنے سے کیوں لگتے ہیں؟ کیا یہ کفار میں شامل نہیں؟ قرآن و حدیث میں کہاں ہے کہ مسلمان کہلانے والے اپنی مجلسوں میں ہنود سے اشلوک پڑھوائیں ؟ ایک حیاء باختہ عورت کو مسلمانوں کی محفل کا مہمان خصوصی بنانا کہاں لکھا ہے؟؟؟
خدارا! ٹھنڈے دماغ سے سوچئیے اور اپنے ایمان کی فکر کرتے ہوئے درست راہوں کا انتخاب کیجئے ، خدائے بزرگ و برتر ہم سب کو ہدائت دے اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے
ابھی تک مفتی صاحب کے سوال کا جواب باقی ہے


ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں ..... اور غور کریں ......
12 ربیع الاول کو میلاد منانے کے منکر اپنے آپ کو کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے ۔آمین
__________________
اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو (جس کی بدولت تمہیں اس کا قُرب حاصل ہو ) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (المائدہ 35)
ندامت میں جھکے ہوئے سر سے اطاعت میں جھُکا ہوا سر بہتر ہے
مہتاب آن لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
مفتی (26-09-11), ملک اظہر (26-09-11), ملک زوالفقار (28-09-11), آبی ٹوکول (25-09-11), حیدر (28-09-11)
پرانا 25-09-11, 06:43 PM   #55
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,685
شکریہ: 873
1,315 مراسلہ میں 2,843 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نبیل خان مراسلہ دیکھیں
آپ بھی محروم نہیں رہیں گے تشریف تو لائیں جی

جناب: اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنا چاہیے ِِِِِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ
عید الاالضحٰے قریب ہے اور ہم نے گائے کی قربانی کرنی ہے سوچ کر جواب دیجئے گا
امید ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے
مہتاب آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
مفتی (26-09-11), حیدر (28-09-11)
پرانا 25-09-11, 09:11 PM   #56
Senior Member
مقبول
 
فکری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 185
کمائي: 3,102
شکریہ: 504
155 مراسلہ میں 421 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
کا حوالہ دے کر امریکہ سے دشمنی ظاہر کرنے والوں کو ہندو اپنے سے کیوں لگتے ہیں؟ کیا یہ کفار میں شامل نہیں؟ قرآن و حدیث میں کہاں ہے کہ مسلمان کہلانے والے اپنی مجلسوں میں ہنود سے اشلوک پڑھوائیں ؟ ایک حیاء باختہ عورت کو مسلمانوں کی محفل کا مہمان خصوصی بنانا کہاں لکھا ہے؟؟؟
خدارا! ٹھنڈے دماغ سے سوچئیے اور اپنے ایمان کی فکر کرتے ہوئے درست راہوں کا انتخاب کیجئے ، خدائے بزرگ و برتر
بھائی کرسمس پر گرجا گھر جاکر کیک کاٹنے والوں کا بھی خیال رکھیں،۔،،۔،عورت تو حجرت نظام الدین کے 678 سالانہ عرس میں بھی موجود تھی گدی نشین نے سر پر چادر ڈالی رروزنامہ جنگ لاہور 4فروری1983،۔ کیا خیال ھے عورت وھی ھے،
فکری آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے فکری کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (26-09-11), حیدر (28-09-11)
پرانا 25-09-11, 09:43 PM   #57
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,892
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہتاب مراسلہ دیکھیں
12۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب مہتاب صاحب ہم آپ کو جواب دینے سے معذرت چاہتے ہیں

Last edited by ناصر نعمان; 25-09-11 at 09:56 PM.
ناصر نعمان آف لائن ہے  
ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (28-09-11)
پرانا 26-09-11, 12:10 AM   #58
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عید میلاد النبی ﷺکے بارے میں چند اعتراضات کے جوابات

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين
أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمان الرحيم

عید میلاد النبی ﷺکے بارے میں چند اعتراضات کے جوابات


اعتراض:عیدیں تو اسلام میں صرف دو ہی ہیں ایک عید الفطر اور دوسری عید الاضحی، یہ تیسری عید یعنی عید میلاد النبی ﷺکہاں سے آگئی؟
جواب: لغت میں عید ایسی چیز کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے، اور کیونکہ یہ دونوں مذہبی تہوار ہر سال آتے ہیں اس لیے ان کو عید کہتے ہیں، پھر مجازاً اسے خوشی کے موقع کے لیے بھی استعمال کرنے لگے۔
آئیے اب یہ دیکھتے ہیں کہ کیا خوشی کے ان دو اَیام کے علاوہ کسی دوسرے دن کو عید کہنا جائز ہے یا نہیں؟
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا کہ اے امیرالمومنین آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نزول کے دن کو ضرور عید مناتے، فرمایا کون سی آیت ؟
اس نے آیت ''الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ''[المائدۃ:03] پڑھی آپ نے فرمایا میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس کے مقامِ نُزول کو بھی پہچانتا ہوں وہ مقام عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا۔
(صحيح بخاري، کتاب الإيمان، باب زيادة الإيمان ونقصانه)
آپ کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لئے وہ دن عید ہے ۔
ترمذی شریف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے آپ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا آپ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن ۲ دو عیدیں تھیں جمعہ و عرفہ ۔(سنن الترمذي، کتاب تفسيرآن، باب ومن سورة المائدة)
یوں عید الفطر اور عید الاضحی کے علاوہ سال میں 53 عیدیں ہوئیں، 52جمعہ اور 1یوم عرفہ،تو ان 53عیدوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
جس دن نعمت حاصل ہو اس دن عیدمنانا انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے، قرآن حکیم میں ہے : حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کی
: اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا،
اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے (کھانوں کا) ایک دستر خوان نازل کر جو ہمارے پہلے اور پچھلے (سب کیلئے) عید بن جائے"۔[سورۃ البقرۃ:91]
معلوم ہوا کہ نزول نعمت کے دن عید اور جشن منانے کی اصل قرآن مجید میں موجود ہے، اسی قرآنی اُصول کے تحت اللہ کریم کی سب سے بڑی نعمت اور رحمت حضور سید عالم ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری کے دن عید منانا شرعاً جائز و مستحسن ہے۔

اعتراض: اس دن عید الفطر والاضحی کی طرح نماز کیوں نہیں پڑھتے؟

جواب: ہم اسے شرعی عید نہیں سمجھتے بلکہ عرفی عید کے طور پر مناتے ہیں کیونکہ خوشی کے موقع کو عرفِ عام میں عید سے تعبیر کرتے ہیں جیسے آپ نے ابھی سنا کہ دین کی تکمیل کے دن کو حضرت سیدنا عمر اور حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عید کہا، یونہی حضرت عیسی روح اللہ علیہ السلام نے نزول نعمت کے دن کو عید فرمایا۔ مزید یہ کہ جب اللہ کا فضل ورحمت حاصل ہو اس دن خوشی منانے کا حکم خود اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن عظیم میں دیا:
"قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُون،
تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پہ چاہیے کہ خوشی کریں کہ وہ ان کے سب دَھن دولت سے بہتر ہے"[سورۃ یونس:58]

اللہ اکبر!رحمت خداوندی پر خوشی منانے کا حکم خودقرآن حکیم دے رہا ہے اور کیا کوئی ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بڑھ کر بھی کوئی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے؟ دیکھئے قرآن مقدس صاف صاف لفظوں میں اعلان کر رہا ہے:"وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، یعنی ہم نے آپ کو سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجا"۔[سورۃ الانبیاء:107]
ان سب باتوں کے باوجود کیا پھر بھی ہم سرکار مدینہ ﷺ کی ولادت کے دن عید نہ منائیں؟ آخر کیوں؟

اعتراض: یہ تو عیسائیوں کی نقل ہے، جیسے وہ کرسمس مناتے ہیں ویسے ہی آپ لوگ عید میلاد النبی ﷺ مناتے ہیں، اور حدیث پاک میں ہے:"مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ"، جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہیں میں سے ہے۔(سنن أبي داود، کتاب اللباس، باب في لبس الشهرة)
جواب::پہلی بات یہ کہ عید میلاد کو کرسمس ڈے سے مشابہت دینا ہی درست نہیں کیونکہ مشابہت تو اس وقت ہوتی جبکہ ہم بھی کرسمس ڈے مناتے، دوم یہ کہ ہر مشابہت ناجائز بھی نہیں ہوا کرتی، آئیے یہاں میں آپ کو ایسی مثال پیش کرتا ہوں جس میں نبی کریم ﷺنے یہودیوں کو ایک فعل کرتے دیکھا اور فرمایا کہ ہمیں زیادہ حق حاصل ہے کہ ہم یہ کام کریں تو ناصرف خود وہ کام کیا بلکہ اسے کرنے کا بھی حکم دیا:
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺجب مدینہ منورہ تشریف لائے، تو یہودیوں کو عاشورا کا روزہ رکھتے پایا، تو فرمایا:"یہ روزہ کیسا؟"عرض کی:یہ بڑا عظیم دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کو ان کے دشمن (فرعون)سے نجات دی، تو موسیٰ علیہ السلام نے بطور شکرانہ روزہ رکھا(تو ہم بھی روزہ رکھتے ہیں)، ارشاد فرمایا: موسی ٰ علیہ السلام کی موافقت کرنے میں بہ نسبت تمہارے ہم زیادہ حق دار ہیں، تو سرکار مدینہ ﷺنے خود بھی روزہ رکھا اور اس روزے کا حکم بھی دیا۔(
صحيح بخاري، کتاب الصوم، باب صيام يوم عاشوراء)
اب کیا کہیں گے؟ کیا نبی کریم ﷺنے یہودیوں کی مشابہت اختیار کی (معاذ اللہ)۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسا کام کرنے میں کوئی حرج نہیں جس سے قرآن وحدیث میں منع نہ کیا گیا ہو، اب قرآن و حدیث میں کہیں آپ عید میلاد کی ممانعت دیکھا دیں تو ہم اسے فوراً ترک کر دیں گے۔

اعتراض:عید میلاد النبی ﷺ منانے کی دلیل کیا ہے جبکہ مروَّجہ طریقہ کار کے مطابق یہ کام نبی کریم ﷺ نے نہیں کیا اور نہ ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان سے یہ ثابت ہے؟

جواب: عید میلاد النبیﷺمنانا یقیناً ثواب ہےاور اس کے جواز کے لیےاتنا کافی ہے کہ قرآن و حدیث میں کہیں اس کام سے منع نہیں کیا گیا، اور احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ جو چیز منع نہ کی گئی اور وہ قرآن وحدیث کے مخالف بھی نہ ہو تو وہ جائز ہوا کرتی ہے، اور یہ مسلّمہ قاعدہ ہے:"اَلأصلُ فِي الأشْيَاءِ إبَاحَة"،یعنی چیزوںمیں اصل اباحت ہے، جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے، چنانچہ بزار نے حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ عزوجل وﷺنے فرمایا:''اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی کتاب میں حلال فرمایا وہ حلال ہے اور جسے حرام فرمایا وہ حرام ہے اور جس کے بارے میں سکوت فرمایا تو وہ معاف ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی عافیت کو قبول کرو، بے شک اللہ عزوجل کی یہ شان نہیں کہ وہ کوئی چیز بھولے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:"وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا، یعنی تمہارا رب بھولنے والا نہیں" [مریم:64] (بزار نے کہا: اس کی اسناد صالح ہیں اور حاکم نے اس کی تصحیح فرمائی) (مسند البزار، مسند أبي الدرداء رضي الله تعالی عنه)
دار قطنی نے حضرت سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ رسول کریمﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض کو لازم کیا، تم لوگ ان کو ضائع نہ کرو اور کچھ حدود مقرر فرمائیں تو ان حدوں سے تجاوز نہ کرو اور کچھ چیزیں حرام فرمائیں تو ان سے باز رہو اور کچھ چیزوں کے بارے میں سکوت (یعنی خاموشی) فرمایا، تم پر رحمت کرتے ہوئے بغیر نسیان (یعنی بھولنے) کے، تو ان کے بارے میں بحث نہ کرو۔
(سنن الدرقطني، کتاب الرضاع)
اعتراض: عید میلاد النبی ﷺمنانا بدعت ہے، اورحدیث پاک میں ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے؟

جواب: بدعت دو طرح کی ہے، بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:"جو کوئي اسلام ميں اچھا طريقه جاري کرے اسے اس کا ثواب ملے گا اور ان لوگوں کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گےاور ان کے ثواب میں سے کچھ کم نہ ہوگا ، یونہی جو کوئی اسلام میں برا طریقہ جاری کرے اسے اپنے عمل کا گناہ بھی ہوگا اور ان لوگوں کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے اور ان کے گناہ میں کچھ کمی نہ ہوگی۔
(صحيح مسلم ، كتاب العلم، باب من سن سنة حسنة)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ دین میں کوئی نیا اچھا کام شروع کرنا باعث ثواب جاریہ ہے، اور ایسا کام بدعت حسنہ کہلاتا ہے، اور اگر کوئی ایسا نیا کام جاری کیا جو قرآن وحدیث کے مخالف ہو تو وہ برا ہے اور بدعت سیئہ کہلاتا ہے۔ اگر آپ اس کا انکار کریں اور يه کہیں كه ہر بدعت بري ہے تو صرف اس بات کا جواب دے دیجئے کہ حضرت سيدنا عمر رضی اللہ تعاليٰ عنہ نے باجماعت تراویح کے بارے میں فرمایا: نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ، یہ کیا ہی اچھی بدعت ہے۔(صحيح بخاري، کتاب صلاة التراويح، باب فضل من قام رمضان)
کیا باجماعت تراویح (جسے حضرت سيدنا عمر رضي الله تعاليٰ عنہ بدعت فرما رہے ہیں)گمراہی اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے؟

اعتراض: صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عید میلاد النبی ﷺ کیوں نہیں منائی؟ کیا آپ ان سے زیادہ عاشق رسول ہیں؟ یا کیا یہ آیات و اَحادیث انہیں معلوم نہ تھیں؟

جواب:اس کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ اولاً: توقرآن و حدیث میں کسی کام کے حرام یا ناجائز ہونے کی یہ دلیل بیان نہیں کی گئی کہ اگر وہ کام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نہیں کیا تو وہ ناجائز ہے۔ ثانیاً: آپ کا یہ اعتراض تو خود صحابہ کرام و سلف صالحین پر وارد ہو تا ہے، کیوں کچھ کام وہ ہیں جو نبی کریم ﷺنے تو نہیں کیے مگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے وہ کام کیے، یوں آپ کے اُصول کے مطابق ان پر یہ اعتراض ہو گا کہ کیا اس کام کی اہمیت نبی کریم ﷺکو معلوم نہ تھی، کیا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ان سے زیادہ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے تھے؟ ایسے بہت سے افعال ہیں جنہیں نبی کریم ﷺنے تو ترک فرمایا لیکن صحابہ کرام علیہم الرضوان نے وہ کام سسرانجام دیئے، اس کی مشہور ترین مثال صحابہ کرام علیہم الرضوان کا قرآن پاک کو ایک مُصحَف میں جمع کرنا ہے، کیا صحابہ کرام پر یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے یہ کام کیوں کیا جبکہ نبی کریم ﷺنے ایسا نہیں کیا؟ اور کیا وہ اس کام کی اہمیت کو رسول کریم ﷺسے زیادہ جانتے تھے؟ ہرگز نہیں، تو اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ،یا صحابہ کرام علیہم الرضوان کا کسی کام کو نہ کرنا اس کام کے ناجائز ہونے کی دلیل نہیں۔

اعتراض:12 ربيع الاول تو نبي كريم ﷺكي وفات كا دن هے تو اس دن عید منانا کیسا؟

جواب:اول تو یہ کہ 12 ربیع الاول کو نبی کریم ﷺکے یوم وفات ہونے کے بارے میں جملہ روایات ضعیف ہیں اور پھر علم تقویم کی رو سے بھی 12 ربیع الاول کو رسول پاک ﷺ کا یوم وفات ممکن نہیں،کیونکہ اَحادیث صحیحہ سے دو باتیں ثابت ہیں:
1: 10هجري میں حجۃ الوَداع میں یوم عرفہ یعنی 9ذوالحجہ جمعۃ المبارک کا دن تھا۔
2: رسول الله ﷺکا وصال سوموار کے روز ماہ ربیع الاول میں ہوا۔
اب 9ذوالحجہ10هجري اور ماہ ربیع الاول کے درمیان محرم اور صفر دو ہی مہینے آتے ہیں، لہذا ذوالحجہ، محرم اور صفر تینوں مہینوں کو جس طرح بھی شمار کریں، یعنی چاہیں تو تینوں ماہ تیس دن کے، دو ماہ تیس دن کے، ایک ماہ اُنتیس دن کاایک ماہ تیس دن کا ، دو ماہ انتیس کےیا پھر تینوں ماہ انتیس دن کے، کسی بھی صورت میں 12ربیع الاول سوموار کے دن نہیں بن سکتی۔ بلکہ 12ربیع الاول 11ہجری میں بالترتیب اتوار، ہفتہ، جمعہ یا جمعرات میں سے کسی ایک دن بنے گی، لہذا شارح بخاری حافظ ابن حَجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے 12ربیع الاول يوم وفات والي روايت كو عقل و نقل کے خلاف قرار دیا ہےاور 2ربیع الاول والی روایت کو ترجیح دی ہے۔
جب 12ربیع الاول کے دن نبی پاک ﷺ کی وفات ثابت نہیں تو اعتراض سرے سے ختم ہو جاتا ہے۔اور اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ 12ربیع الاول حضور ﷺکا یوم وصال ہے تو بھی اس دن عید میلاد منانے میں کوئی امر مانع نہیں،کیونکہ حدیث پاک میں ہے : "ہمیں شوہر کے سوا کسی وفات پانے والے پر تین دن کے بعد سوگ (غم)منانے سے منع کیا گیا"۔(صحيح البخاري، کتاب الحيض، باب الطيب للمرأة عند غسلها من المحيض)
اس حديث پاک سے ثابت ہوا کہ وفات کے بعد سوگ منانا شرعاً صرف تین دن تک جائز ہے، لہذا ہر سال نبی کریم ﷺکے وصال کے دن سوگ منانا شرعاً ناجائز ہے جبکہ حضورﷺکی تشریف آوری کے دن خوشی منانے کی شرعاً کوئی حد نہیں، ہر سال جائز ہے۔
مزيد يه كه حدیث پاک میں جمعہ کی فضیلت کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بیان ہوا کہ اس دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن آپ کی وفات ہوئی،(سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة والسنة، باب في فضل الجمعة) ليكن شريعت ميں جمعہ کے دن سوگ منانے کا حکم نہیں بلکہ جمعہ کو يوم عید قرار ديا گیا، جیسا حدیث نبوی میں ہے:"إِنَّ هَذَا يَوْمُ عِيدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ، یعنی بے شک یہ جمعہ عید کا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے مسلمانوں کے لیے یوم عید بنایاہے"۔(سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة والسنة، باب ما جاء في الزينة يوم الجمعة)
اب بتائیے کہ جس دن آدم علیہ السلام فوت ہوئے کیا اس دن کو عید کہنا درست ہے؟ اور اس دن خوشی منانی چاہیےیا غم کرنا چاہیے؟ اور کیا بیوہ کے علاوہ کسی کو تین دن سے زیادہ سوگ جائز ہے ؟
مزید یہ کہ اَنبیاء کرام علیہم السلام ہم جیسے نہیں بلکہ ان کا تووصال بھی امت کے لیے باعث رحمت ہوتا ہےجیسا کہ اَحادیث مبارکہ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے ، چنانچہ:
نبی کریم ﷺنے فرمایا:"اللہ عزوجل جس امت پر رحمت کا ارادہ فرماتا ہے تو ان کے نبی کو ان کی ہلاکت سے پہلے وصال عطا فرماتا ہے اور اسے امت کے لیے شفیع بناتا ہے، اور جب کسی امت کی ہلاکت کا ارادہ فرماتا ہےتو انہیں ان کے نبی کے سامنے عذاب میں مبتلا کرتا ہے اور اس کی آنکھوں کو ان کی ہلاکت کے سبب قرار بخشتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اس کا کہنا نہ مانا"۔(صحيح مسلم، کتاب الفضائل، باب إذا أراد الله رحمة أمة۔۔۔)
ایک دوسری حدیث پاک میں نبی کریم ﷺنے فرمایا: "میری ظاہری حیات تمہارے لیے سراپا خیر ہے تمہیں کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو اس کے لیے حکم آجاتا ہے اور میرا وصال بھی تمہارے لیے سراپا خیر ہے (کیونکہ)تمہارے اعمال میری بارگاہ میں پیش کئے جاتے رہیں گے، جب اچھے کام دیکھوں گا تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کروں گا اور جب بُرے اعمال دیکھوں گا تو تمہارے لیے اللہ سے مغفرت وبخشش مانگوں گا"۔
(مسند البزّار، مسند عبد الله بن مسعود رضی الله تعالیٰ عنه)
تو اگر 12 ربیع الاول کو نبی کریم ﷺکا یوم وصال مان بھی لیں تب بھی اس دن خوشی ماننے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ خود حدیث پاک میں آپ ﷺکی حیات و ظاہری وفات دونوں ہمارے لیےباعث خیر فرمایا گیا۔
هذا ما ظهر لي والله أعلم بالصواب وما علينا إلا البلاغ
لا تنسوا في صالح دعائكم

بشکریہ حسنین رضا القلم فورم
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
11 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (26-09-11), کنعان (26-09-11), کاشف اکرم وارثی (27-09-11), مفتی (26-09-11), ملک اظہر (26-09-11), ملک زوالفقار (26-09-11), محمدعدنان (27-09-11), اجمل (05-02-12), اعجازلاثانی (06-02-12), حیدر (28-09-11), شعبان نظامی (07-02-12)
پرانا 26-09-11, 03:02 AM   #59
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 259
کمائي: 5,659
شکریہ: 447
126 مراسلہ میں 516 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

[QUOTE=ناصر نعمان;458404][FONT="Jameel Noori Nastaleeq"]محترم جناب ملک مظہر بھائی لوگوں‌ کا اپنی سہولت کے مطابق مختلف محافل منعقد کرنے کے لئے کسی دن کو متعین کرنا
اور
آپ حضرات کا کسی دن کو مذہبی طور پر متعین کرکے تقریبات کرنا اور مذہبی تہوار کی صورت میں محافل منعقد کرنے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے
کیوں کہ لوگوں کا اپنی محافل کو اپنی سہولت کے مطابق کوئی دن متعین کرنا دین کا حصہ نہیں سمجھا جاتا
جبکہ 12 ربیع الاول کو آپ حضرات نے دین کا حصہ سمجھ کر متعین کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


حضرت شاہ احمد سعید مجددی دہلوی علیہ الرحمہ اسماعیل دہلوی کے میلاد پر اعتراضات کے جواب میں فرماتےہیں
میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دلائل پوچھنے والو۔۔۔ یاد رکھو! میلاد شریف کی محفل میں آپ کی کمال شان پر دلالت کرنے والی آیات، صحیح احادیث، ولادتِ باسعادت، معراج شریف ، معجزات اور وفات کے واقعات کا بیان کرنا ہمیشہ سے بزرگانِ دین کا طریقہ رہا ہے لہٰذا تمہارے انکار کی ضد کے سوا کوئی وجہ نہیں۔ اگر تم مسلمان ہو اور محبوب رب العالمین سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال سننے کا شوق ہے تو پاس آؤ اور (ہم سے احوالِ مصطفی) سنو تمہیں پتہ چلے کہ ہمارا دعویٰ حقیت پر مبنی ہے، محفل میلاد دراصل وعظ و نصیحت ہے اس کے لئے جو کان لگائیں اور متوجہ ہوں، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔
نصیحت کرو بے شک نصیحت مومنین کیلئے مفید ہے۔ ہمارے زمانہ کے جہلاء، جو اپنے آپ کو ''پڑھا لکھا'' اور ''صالحین'' سمجھتے ہیں کے وعظ کی طرح نہ ہو جو انبیاء، اولیاء کی توہین اور مومنین کی غیبت کا مجموعہ ہوتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں غیبت سے منع کیا ہے۔ ارشاد ہے:۔ ''ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی اپنے مرے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ تمہیں ہر گز گوارا نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔'' جاہل واعظ خود گمراہ ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں خود برباد ہوئے، دوسروں کو برباد کرتے ہیں، اپنے آپ سے بے خبر چند بے وقوف، شر پسند اور متکبر اگر چراغ تک پہنچتے ہیں تو ہوا بن جاتے ہیں (یعنی چراغ ہدایت کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں) اور دماغ تک پہنچتے ہیں تو دھواں ہوجاتے ہیں۔ (یعنی اس کو تاریک کرنے کی کوشش کرتے ہیں) اللہ تعالیٰ ان سے بچائے۔ ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کا ہی ذکر ہے۔
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''میرے پاس جبرائیل آئے اور کہا بے شک میرا اور آپ کا رب فرماتا ہے، آپ جانتے ہیں میں نے آپ کا ذکر کیسے بلند کیا؟ میں نے کہا اللہ عزوجل بہتر جانتا ہے۔ (جبرائیل نے ) کہا اللہ فرماتا ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے، آپ کا میرے ساتھ ذکر کیا جائے۔ ابن عطا سے روایت ہے کہ میں نے (اللہ نے) آپ کے ساتھ اپنے ذکر کو تکمیل ایمان کا ذریعہ بنایا ، ابنِ عطاء ہی سے روایت ہے کہ میں آپ کو اپنا ذکر بنادیا جس نے آپ کا ذکر کیا اس نے میرا ذکر کیا (شفاء)۔ (ان دلائل کے ہوتے ہوئے) جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر سے روکے وہ شیطانی لشکر سے ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے نفرت ہے کیونکہ مومنِ صادق تو ذکر محبوب کا مشتاق ہوتا ہے اور ذکر محبوب سے لذت پاتا ہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے

اَعِدْ ذِکْرَ نُعْمَانٍ لَنَا اِنَّ ذِکْرَہ، ۔۔۔۔۔۔ ہُوَا لْمِسْکُ مَا کَرَّ رتَہ، یَتَضَوَّعْ
ہمارے سامنے نعمان کا بکثرت زکر کر، بلا شبہ اس کا ذکر جتنی دفعہ کرو گے کستوری کی طرح مہکے گا


1۔ حضرت مجدد الف ثانی پر بہتان کا رد .

اے سائل! تونے حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی علیہ الرحمۃ کے متعلق کہا ہے آپ محفل میلاد سے منع فرماتے تھے، تیرا یہ قول قطعاً غلط ہے ہمارے امام اور قبلہ نے گانے کی مجلس میں حاضر ہونے سے منع کیا ہے اگرچہ اس مجلس میں قرآن کی تلاوت و نعتیہ قصائد پڑھے جائیں، حضرت امام ربانی نے قرآن و حدیث کے پڑھنے سے منع نہیں فرمایا، جیسا کہ حضرت امام ربانی کی مراد سے بے خبر لوگوں نے گمان کرلیا ہے۔ اس قسم کی بات حضرت امام ربانی پر بہت بڑا بہتان ہے

حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ مکتوبات کی تیسری جلد میں فرماتے ہیں کہ اچھی آواز سے صرف قرآن مجید اور نعت و منقبت کے قصائد پڑھنے میں کیا حرج ہے؟ منع تو یہ ہے کہ قرآن کے حروف کو تبدیل و تحریف کیا جائے اور مقامات نغمہ کا التزام کرنا اور الحان کے طریق سے آواز کو پھیرنا اور اس کے مناسب تالیاں بجانا جو کہ شعر میں بھی ناجائز ہیں اگر ایسے طریقہ سے مولود پڑھیں کہ قرآنی کلمات میں تحریف واقع نہ ہو اور قصائد پڑھنے میں شرائط مذکورہ متحقق نہ ہوں اور اس کو بھی صحیح غرض سے تجویز کریں تو پھر کون سی رکاوٹ ہے؟ پس معلوم ہوا کہ حضرت مجدد کی جو عبارات میلاد کے منکر بطور دلیل پیش کرتے ہیں اس عبارت سے حضرت مجدد کی مراد یہ ہے کہ ، ''قصائد و نعت خوانی میں نغمہ کا التزام کرنا الحان کے طریق سے آواز کو پھیرنا اور اس کے مناسک تالیاں بجانا منع ہے۔'' جیسا کہ حضرت کی مذکورہ عبارت سے بالکل ظاہر ہے، مخالفین نے غلط سمجھا ہے۔ حضرت امام نے مطلقاً محفل میلاد کو منع نہیں فرمایا پس حق ثابت ہوگیا۔ سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے اورپنا کھوٹا سکہ رائج کرنے کیلئے اس فرقہ باطلہ نے ایک نیا طریقہ نکالا ہے ہمارے بزرگوں کو بدنام کرتے ہیں کہتے ہیں فلاں بزرگ نے یوں لکھا ، فلاں نے لکھا اللہ تعالیٰ ان جھوٹ سے پاک ہے۔

2۔ فضیلتِ جمعہ کا سبب یومِ تخلیقِ آدم علیہ السلام ہے .


جمعہ کے دن کی خاص اَہمیت اور فضیلت کی بناء پر اسے سید الایام کہا گیا ہے۔ اس دن غسل کرنا، صاف ستھرے یا نئے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا اور کاروبارِ زندگی چھوڑتے ہوئے مسجد میں اِجتماع عام میں شریک ہونا اُمورِ مسنونہ ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنے کا بھی حکم دیا ہے۔

حضرت اَوس بن اَوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

إن من أفضل أيامکم يوم الجمعة، فيه خلق آدم، وفيه قبض، وفيه النفخة، وفيه الصعقة، فأکثروا عليّ من الصلاة فيه، فإن صلاتکم معروضة علي.

’’تمہارے دنوں ميں سب سے افضل دن جمعہ کا ہے، اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی ولادت ہوئی (یعنی اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت ہوئی اور آپ کو لباسِ بشریت سے سرفراز کیا گیا)، اس روز اُن کی روح قبض کی گئی، اور اِسی روز صور پھونکا جائے گا۔ پس اس روز کثرت سے مجھ پر درود شریف بھیجا کرو، بے شک تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔‘‘

1. أبو داؤد، السنن، کتاب الصلاة، باب تفريع أبواب الجمعة وفضل يوم الجمعة وليلة الجمعة، 1 : 275، رقم : 1047
2. أبو داؤد، السنن، أبواب الوتر، باب في الاستغفار، 2 : 88، رقم : 1531
3. ابن ماجه، السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب في فضل الجمعة، 1 : 345، رقم : 1085
4. نسائي، السنن، کتاب الجمعة، باب إکثار الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يوم الجمعة، 3 : 91، رقم : 1375
5. نسائي، السنن الکبري، باب الأمر بإکثار الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يوم الجمعة، 1 : 519، رقم : 1666
6. دارمي، السنن، 1 : 445، رقم : 1572
7. ابن ابي شيبة، المصنف، 2 : 253، رقم : 8697
8. طبراني، المعجم الکبير، 1 : 216، رقم : 589
9. بيهقي، السنن الکبري، 3 : 248، رقم : 5789
10. بيهقي، السنن الصغري، 1 : 372، رقم : 634
11. هيثمي، موارد الظمان إلي زوائد ابن حبان، 1 : 146، رقم : 55045

جمعۃ المبارک کے سلسلہ میں کیے جانے والے تمام تر اِنتظامات وہ ہیں جو میلاد کے حوالہ سے بھی کیے جاتے ہیں، مثلاً غسل کرنا، خوشبو لگانا، ایک جگہ جمع ہونا، کاروبار ترک کرنا اور مسجد میں حاضری دینا۔ ان کے علاوہ بھی بعض امور کا تذکرہ کتب حدیث میں موجود ہے۔ جمعہ کے دن یہ سارا اہتمام درحقیقت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام بھیجنے کے حوالہ سے ہے اور اس دن کو کثرتِ درود و سلام کے لیے اس لیے چنا گیا کہ یہ حضرت آدم علیہ السلام کا یومِ میلاد ہے۔ جیسا کہ پہلےبیان کیا گیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادگرامی ہے :

فأکثروا عليّ من الصلاة فيه.

’’پس اس روز کثرت سے مجھ پر درود شریف بھیجا کرو۔‘‘

اِس دن عاشقانِ رسول درود شریف کا اِجتماعی ورد کرتے ہیں اور اس دن محفل میلاد اور محفلِ صلوٰۃ و سلام کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ سو یہ دن جہاں ایک طرف میلادِ سیدنا آدم علیہ السلام کے لیے خاص ہے تو دوسری طرف درود و سلام کے ذکر کی نسبت سے میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بھی ہے۔ اس طرح بہ یک وقت یہ دن جدماجد اور فرزند اَمجد دونوں کے لیے اِظہارِ مسرت کا مژدہ بردار بن گیاہے۔

3۔سوال: تو پھر آپ حضرات کا 12 ربیع الاول کو عید متعین کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟
جواب: اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو اپنی نعمت عظمٰی ۱۲ ربیع الاول کو عطا فرمائی تو اس نعمت کا شکر ادا کرنے اور اس پر خوشی منانے کے لیے اسی دن سے بہتر اور کون سا دن ہو سکتا ہے حیرت کی بات ہے کہ آیت قرآنی اور حدیث پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ھم نے دن مقرر کرنے کا جواز پیش کیا اور آپ نجانے کیوں اسے قبول فرمانے میں ہچکچا رہے ہیں مکرر لکھتا ہوں قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے

رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنكَ
المائدة، 5 : 114

’’اے اﷲ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے خوانِ (نعمت) نازل فرما دے کہ (اس کے اُترنے کا دن) ہمارے لیے عید ہوجائے ہمار ے اگلوں کے لیے (بھی) اور ہمارے پچھلوں کے لیے (بھی) اور (وہ خوان) تیری طرف سے نشانی ہو۔‘‘

قرآن مجید نے اس آیت میں نبی کی زبان سے یہ تصور دیا ہے کہ جس دن اﷲ تعالیٰ کی نعمت اُترے اس دن کو بطور عید منانا اس نعمت کے شکرانے کی مستحسن صورت ہے

کان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یا تی قبور شہداء اُحد علی راس کل حول ۔۳؂نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہر سال کے اختتام پر شہدائے احد کی قبروں پر تشریف لاتے تھے۔
آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ہر سال کے اختتام پر شہدائے احد کی قبروں پر تشریف لے جانا لوگوں کی سہولت کے واسطے نہ تھا
حافظ ابو الفضل ابن حجر نے حدیث سے ایک ضابطہ کا استخراج فرمایا ہے فرماتے ہیں کہ: ''حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف تشریف لائے تو وہاں کے یہودیوں کو عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا تو ان سے دریافت فرمایا کہ تم عاشورہ کا روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ دن نہایت مقدس ہے مبارک ہے اسی دن اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق فرمایا اور موسیٰ کو نجات بخشی اور ہم تعظیماً اس دن کا روزہ رکھتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہم موسیٰ کا دن منانے میں تم سے زیادہ حقدار ہیں پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔'' معلوم ہوا جس دن اللہ تعالیٰ کی کسی خاص نعمت کا نزول ہو یا کسی مصیبت سے نجات ہو نہ صرف اسی دن بلکہ ہر سال اس تاریخ کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ ۔

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه : إن رجلا من اليهود قال له : يا أمير المومنين! آية في کتابکم تقرؤونها، لو علينا معشر اليهود نزلت، لاتّخذنا ذلک اليوم عيدًا، قال : أي آية؟ قال : (اَلْيَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِيْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْکُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِيْناً) قال عمر : قد عرفنا ذلک اليوم، والمکان الذي نزلت فيه علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، وهو قائم بعرفة يوم جمعة.

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : ایک یہودی نے اُن سے کہا : اے امیر المومنین! آپ اپنی کتاب میں ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں کہ اگر وہ آیت ہم گروہِ یہود پر اُترتی تو ہم اس کے نزول کا دن عید بنا لیتے۔ آپ نے پوچھا : کون سی آیت؟ اس نے کہا : (آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو (بہ طورِ) دین (یعنی مکمل نظامِ حیات کی حیثیت سے) پسند کر لیا)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس دن اور جس جگہ یہ آیت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی ہم اس کو پہچانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس وقت جمعہ کے دن عرفات کے مقام پر کھڑے تھے۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، کتاب الإيمان، باب زيادة الإيمان ونقصانه، 1 : 25، رقم : 45
2. بخاري، الصحيح، کتاب المغازي، باب حجة الوداع، 4 : 1600، رقم : 4145
3. بخاري، الصحيح، کتاب تفسير القرآن، باب قوله : اليوم أکملت لکم دينکم، 4 : 1683، رقم : 4330
4. بخاري، الصحيح، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، 6 : 2653، رقم : 6840
5. مسلم، الصحيح، کتاب التفسير، 4 : 2313، رقم : 3017
6. ترمذي، الجامع الصحيح، أبواب تفسير القرآن، باب من سورة المائدة، 5 : 250، رقم : 3043
7. نسائي، السنن، کتاب الإيمان، باب زيادة الإيمان، 8 : 114، رقم : 5012

اِس حدیث میں قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ یہودی نے سوال کیا کہ اگر تکمیلِ دین کی یہ آیت ہم پر اترتی تو ہم اس کے نزول کا دن عید کے طور پر مناتے، آپ ایسا کیوں نہیں کرتے؟ اُنہیں مغالطہ تھا کہ شاید مسلمان اِسے عام دن کے طور پر ہی لیتے ہیں۔ یہاں جواب بھی اسی نوعیت کا ہونا چاہیے تھا، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے :

قد عرفنا ذلک اليوم، والمکان الذي نزلت في

’’ہم اُس دن اور مقام کو خوب پہچانتے ہیں جہاں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔‘‘

وہ دن جمعہ اور حج کا تھا اور وہ جگہ جہاں آیت کا نزول ہوا عرفات کا میدان تھا۔ ظاہراً سوال اور جواب کے مابین کوئی ربط اور مطابقت دکھائی نہیں دیتی لیکن درحقیقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا جواب سوال کے عین مطابق ہے۔ آپ صنے عرفہ اور یوم الجمعہ کے الفاظ سے ہی اس کا مکمل جواب دے دیا اور اشارۃً بتا دیا کہ یومِ حج اور یوم جمعہ دونوں ہمارے ہاں عید کے دن ہیں۔ ہم انہیں سالانہ اور ہفتہ وار عید کے طور پر مناتے ہیں۔ پس یہودی کا اس جواب سے خاموش رہنا اور دوبارہ سوال نہ کرنا بھی اس اَمر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وضاحت کے بعد لاجواب ہو کر رہ گیا تھا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جواب کو مکمل وضاحت قرار دیتے ہوئے حافظ ابنِ حجر عسقلانی (773۔ 852ھ) تبصرہ کرتے ہیں :

عندي أن هذه الرواية اکتفي فيها بالإشارة.

’’میرے نزدیک اس روایت میں اِشارہ کرنے پر ہی اِکتفا کیا گیا ہے۔‘‘

عسقلاني، فتح الباري، 1 : 105، رقم :45


جشنِ میلاد کی بابت پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے حافظ عسقلانی (773۔ 852ھ) نے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کی بنیاد ان اَحادیث کو بنایا ہے جو ’’صحیحین‘‘ میں متفقہ طور پر روایت ہوئیں۔
ان احادیث میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو ملنے والی عظیم نعمت اور فتح پر اِظہارِ تشکر کرنے اور اس دن کو عید کے طور پر منانے کی تائید و توثیق فرماتے ہوئے اس عمل کو اپنی سنت کا درجہ دے دیا۔ جب رسولِ معظم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے، کیا اس دن سے زیادہ کوئی اور بڑی نعمت ہوسکتی ہے؟ پھر کیا وجہ ہے کہ یومِ میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عید کے طور پر نہ منایا جائے!
حافظ ابن حجر عسقلانی (773۔ 852ھ) کے موقف کی تائید اِمام سیوطی (849۔ 911ھ) نے ’’الحاوی للفتاوی (ص : 205، 206)‘‘ میں کی ہے۔
حافظ عسقلانی نے صومِ عاشورہ سے جو اِستدلال کیا ہے اس میں باوجود اس کے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کامیابی گزشتہ زمانہ کے معین یومِ عاشورہ کو ہوئی تھی مگر پورے سال میں صرف اسی روز کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ اس نعمت کا شکر ہر سال اسی روز ادا کیا جائے۔ اس سے ثابت ہے کہ گو یہ واقعہ کا اعادہ نہیں مگر اس کی برکت کا اِعادہ ضرور ہوتا ہے جس پر دلیل یہ ہے کہ ہر پیر کے روز ابو لہب کے لیے میلاد کی برکت کا اعادہ ہوتا ہے۔
گر نہ بیند بروز شپر ٭ چشمہ آفتاب راچہ گناہ
اگر کوئی اندھا ہے تو اس میں سورج کا کیا گناہ ہے؟ اگر الو دن کو نہ دیکھ سکے تو سورج کے چشمہ کا کیا گناہ ہے؟

تاریخ کے آئینے میں سابقہ اور موجودہ اَقوام کے حالاتِ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات ایک ناقابلِ تردید حقیقت نظر آتی ہے کہ ہر دور کے لوگ اپنے مشاہیر کے اَیام بڑی دھوم دھام سے ایک جشن کی صورت میں مناتے چلے آئے ہیں۔ آج بھی اقوامِ عالم اپنے قومی و روحانی پیشواؤں اور بانیانِ مملکت کا یومِ ولادت سرکاری سطح پر مناتی ہیں۔ پاکستان میں بھی ہر سال 23 مارچ، 14 اگست، 9 نومبر اور 25 دسمبر کے دن بالترتیب یومِ جمہوریہ پاکستان، یومِ آزادی، یومِ اِقبال اور یوم قائد اعظم کے طور پر منائے جاتے ہیں۔ علیٰ ھذا القیاس عرب اور دیگر اَقوامِ عالم اپنے بادشاہوں اور قومی سطح کے رہنماؤں کی یاد ہر سال باقاعدگی سے مناتی ہیں، بلکہ عرب ممالک میں تو حکمرانوں کی تاج پوشی کا دن العید الوطنی کے نام سے معروف ہے۔
یاد رکھیے! زندہ قومیں اپنے رہنما کا دن نہیں بھولتیں۔ کیا ہم انکا دن منانا چھوڑدیں جنکے صدقے ہمیں نعمت ملی، نماز، روزہ، حج، زکوة، قرآن، کلمہ یہاں تک کہ رحمٰن جل جلالہ کی معرفت بھی ہمیں اپنے سرکارصلی اللہ علیہ وسلم سے ملی۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یوم ولادت باسعادت بھی ایک ایسا ہی عظیم دن ہے جس پر اِظہارِ تشکر اور اِظہارِ مسرت ہوتا آرہا ہے اور اسے یوم عید کے طور پر منانے کی روایت قائم ہے، اور اس کی اصل قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ اس پر اعتراض کی وجوہات کا تعلق حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اَقدس کے حوالہ سے بعض لوگوں کی مخصوص قلبی کیفیت سے ہے، ورنہ ان خوشیوں کی تقریبات پر کوئی اِعتراض سراسر بلاجواز ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری دنیائے انسانیت کے لیے ایک ایسا انقلاب لے کر آئے جس کی عالم گیریت اور آفاقیت پر کبھی دو آراء نہیں ہو سکتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیروکاروں نے اپنے عظیم ہادی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غیر فانی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر انسانی تہذیب و تمدن کے ایسے مینار روشن کیے اور ہمہ گیر معاشی و معاشرتی ترقی کی وہ مثالیں قائم کیں جس کی نظیر پوری تاریخِ عالم پیش نہیں کر سکتی۔ اِس لیے اُمتِ مسلمہ پر بہ درجۂ اَولیٰ لازم ہے کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میلاد مبارک منانے میں اَقوامِ عالم میں کسی سے پیچھے نہ رہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا عظیم ترین دن اس طرح منائیں کہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے اس شعر کی تفسیر عملی طور پر نظر آنے لگے :


قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اِسمِ محمد سے اُجالا کر دے

(اِقبال، کلیات (اُردو)، بالِ جبریل : 207)
ہمیں معلوم ہے کہ جن کے دلوں پر اللہ تعالی مہر لگا دیتا ہے وہ دلائل کو نہیں مانتے اور جنہوں نے نہ ماننے کی قسم کھا رکھی ہے وہ ان مدلل جوابات میں سے بھی کیڑے نکالیں گے مگر مقصد صرف اتنا ہے کہ ہمارے مسلک اہل سنت سے تعلق رکھنے والے بھائی اپنا ایمان مضبوط رکھیں اور اپنے سچے مسلک کی حقانیت پر ناز کریں۔ اللہ تبارک وتعالی سے دعا ہے کہ وہ جان کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے تمام مسلمانوں کی جان و مال، عزت و آبرو بالخصوص عقیدے اور ایمان کی حفاظت فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

Last edited by ملک اظہر; 27-09-11 at 01:16 AM.
ملک اظہر آن لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
مہتاب (26-09-11), ملک زوالفقار (26-09-11), آبی ٹوکول (26-09-11), اجمل (05-02-12), حیدر (28-09-11), شعبان نظامی (07-02-12)
پرانا 26-09-11, 06:44 PM   #60
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہتاب مراسلہ دیکھیں
عید الاالضحٰے قریب ہے اور ہم نے گائے کی قربانی کرنی ہے سوچ کر جواب دیجئے گا
امید ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے
توانوں سلام اے جی
کیونکہ میرے اللہ کا یہی حکم ہے

Last edited by نبیل خان; 26-09-11 at 06:48 PM.
نبیل خان آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
حیدر (28-09-11), سیفی خان (28-09-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
پیارے, پاکستان, پسند, قدم, قرآن, نظر, مکہ, مجید, مسجد, ایمان, اللہ, اسلام, اعلیٰ, جواب, جلد, جمعۃ المبارک, حکم, حال, خدا, روزہ, رمضان, شخص, عشق, صدقہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیالکوٹ میں دوبھائیوں کاقتل،فردوس عاشق نے اپنے بیان کی وضاحت کردی گلاب خان خبریں 3 26-08-10 06:41 AM
موبائل فون کمپنیوں کی طرف سے اضافی 5٪ سروس چارجز فرحان دانش موبائلز معلومات اور جائزہ 5 20-06-09 09:43 PM
روس : ایک سال میں307 فوجیوں نے خودکشی کرلی ابن جلال خبریں 0 11-10-08 02:54 PM
کراچی :میڈیا پرپابندیوں اورجیو کی بندش کیخلاف مظاہرے کرنیوالے صحافیوں پر وحشیانہ لاٹھی چارج،180گرفتار،رات گئے رہائی خرم شہزاد خرم خبریں 0 21-11-07 08:11 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:11 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger