واپس چلیں   پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > کفروشرک



کفروشرک کفروشرک


انسانی زندگی پر ستاروں کے اثرات، قرآن و حدیث‌ کی روشنی میں

اس موضوع کے 21 جوابات دیےگئے ہیں اور اسے 1540 مرتبہ دیکھا گیا ہے
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-08-07, 10:08 AM   #1
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 3,201
کمائي: 35,183
شکریہ: 4,309
1,971 مراسلہ میں 5,497 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default انسانی زندگی پر ستاروں کے اثرات، قرآن و حدیث‌ کی روشنی میں

انسانی زندگی پر ستاروں کے اثرات، قرآن و حدیث‌ کی روشنی میں

ہمارے بہت سے مسلمان بھائی بہن ستاروں کے اثر کے قائل ہیں۔ ''آپ کا یہ ہفتہ کیسے گزرے گا'' جیسے سلسلے اخبارات میں مستقل حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک نجی ٹیلی وژن نے ملکی مستقبل کے بارے میں نجومیوں کی رائے کو خبروں کا حصہ بنا دیا۔ میں اس بارے میں وارد آیات اور احادیث بغیر کسی تبصرے کے پیش کر رہا ہوں۔ قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے وقت سورت کا نام اور آیت نمبر لکھی گئی ہے۔ جبکہ حدیث کے حوالہ جات میں حدیث نمبر کے ساتھ ساتھ ''کتاب'' اور ''باب'' بھی درج کر دیےگیے ہیں۔ علاوہ ازیں میں نے صرف صحیح البخاری اور صحیح المسلم کی روایات لکھی ہیں تاکہ کسی بھائی کے دل میں یہ شبہ پیدا نہ ہو کہ ضعیف یا موضوع روایات کو دلیل بنایا جا رہا ہے۔ ان دونوں کتابوں کی احادیث کے صحیح ہونے پر علماء کا اتفاق ہے۔


مستقبل کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ (سورۃ النمل۔65)

''فرمادیجئے کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں ان میں سے کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا سوائے اللہ کے''

اور فرمایا:

وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (الانعام۔59)

''اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بحروبر میں جو کچھ ہے وہ اس سے واقف ہے۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی ایسا دانہ نہیں جس سے وہ باخبر نہ ہو۔ خشک و تر سب ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔''

وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (لقمان۔ 34)

''کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ وہ کس زمین پر مرے گا۔ اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔''


ستاروں میں تاثیر ماننا کفر ہے


عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللّهِ صَلاَةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ السَّمَاءِ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ. فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟» قَالُوا: الله وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ. فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ الله وَرَحْمَتِهِ، فَذٰلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ. وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذٰلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ (صحیح المسلم حدیث نمبر193۔ کتاب الایمان باب کفر من قال مطرنا بالنوء)

''زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی جبکہ رات کو بارش ہو چکی تھی۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے:

''کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟''

صحابہ نے کہا '' اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔''

فرمایا:

''(اللہ تعالیٰ نے) ارشاد فرمایا ہے کہ میرے بندوں میں سے کچھ مومن ہوگئے ہیں اور کچھ کافر۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اور رحمت سے بارش ہوئی ہے وہ مجھ پر ایمان لایا اور جس نے کہا کہ یہ بارش فلاں فلاں برج کے اثر سے ہوئی ہے اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور ستاروں پر ایمان لایا۔''


عربی میں ''بنوء'' کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اردو میں اس کے لیے مختلف الفاظ مستعمل ہیں جیسے ''نچھتر، برج، طالع، نصیبہ، منزل'' وغیرہ۔ اصطلاح میں ان سے مراد وہ ستارے ہیں جن کے آثار و خواص لوگوں نے مقرر کر رکھے ہیں اور ان کو دیکھ کر نحوست یا خوش بختی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

''أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لا يَتْرُكُونَهُنَّ: الْفَخْرُ فِي الأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِي الأَنْسَابِ، وَالاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ''۔ (صحیح المسلم حدیث نمبر2114۔ کتاب الجنائز،باب التشديد في النياحة)

''میری امت میں جاہلیت کے چار کام ایسے ہیں جنہیں وہ نہیں چھوڑیں گے، حسب و نسب پر فخر کرنا، دوسروں کے نسب و خاندان پر طعنہ زنی کرنا، تاروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنا اور کسی مرنے والے پر بین کرنا۔''

صحیح البخاری میں صحابی رسول قتادہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے۔ کہ '' اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو تین چیزوں کے لیے بنایا ہے:

آسمان کی زینت کے لیے

شیاطین کو مارنے اور بھگانے کے لیے

بحر و بر میں راستہ معلوم کرنے کے لیے

جو شخص ان کے علاوہ ان میں کچھ اور سمجھتا ہے اس نے غلطی کی اور (ہر بھلائی سے ) اپنا حصہ برباد کر لیا۔''

نجومییوں سے کچھ پوچھنے کا گناہِ عظیم

مَنْ أَتَىٰ عَرَّافاً فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً (صحیح المسلم حدیث نمبر 5773۔ کتاب السلام، باب تحريم الكهانة وإتيان الكهان)

ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

'' جو (مستقبل کی باتیں) بتانے والے کسی (نجومی) کے پاس آیا اور اس سے کچھ پوچھا تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہو گی۔''


حدیث میں اصل لفظ 'عراف'' استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان کی مستند لغت ''لسان العرب'' میں اس کا مطلب ''الـمُنَـجِّم'' بتایا گیا ہے یعنی ''نجومی یا ستاروں کے ذریعے مستقبل کا حال بتانے والا۔''
نجومیوں کی کچھ باتیں سچ کیوں ہوتی ہیں

قَالَتْ عَائِشَةُ : سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللّهِ عَنِ الْكُهَّانِ؟ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّهِ : «لَيْسُوا بِشَيْءٍ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَاناً الشَّيْءَ يَكُونُ حَقًّا. قَالَ رَسُولُ اللّهِ : «تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْجِنِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّي. فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَة، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ (مسلم حدیث نمبر 5769۔ کتاب السلام باب تحریم الکھانۃ و اتیان الکھان)

اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کاہنوں(نجومیوں) کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ''وہ کچھ نہیں ہیں'' (یعنی ان کی کوئی حیثیت نہیں اور کسی اعتبار کے لائق نہیں ہیں)۔ لوگوں نے کہا '' اے اللہ رسول! ان کی بعض باتیں سچ نکلتی ہیں (اس کی کی وجہ ہے)''۔ انہوں نے فرمایا کہ ''وہ سچی بات وہی ہے جس کو کوئی جن (فرشتوں کی بات چیت کے دوران) اُڑا لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ڈال دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر وہ اس میں اپنی طرف سے اور سو جھوٹ ملاتے ہیں (اور لوگوں سے کہتے ہیں)۔ہمیں چاہیے کہ اپنے عقیدے قرآن و حدیث کے مطابق رکھیں اور ہر قسم کی گمراہیوں سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
مندرجہ ذیل 18 صارفین نے عبداللہ حیدر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
abdullh ali (05-06-09), arslansun (11-03-09), Farrukh (19-08-08), sajidali (27-11-08), فیصل ناصر (04-02-09), پیاسا (19-08-08), پاکستانی (18-09-07), نورالدین (09-03-10), میاں شاہد (20-08-08), مون لائیٹ آفریدی (20-08-08), محمدمبشرعلی (02-01-10), مسلم (13-06-08), waseemsv (04-02-09), تفسیر حیدر (19-08-08), حسن مغل (27-11-08), راجہ صاحب (21-04-09), زین خان (27-11-08), عبدالله (09-10-08)
کمائي نے عبداللہ حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
27-11-08 میاں شاہد http://pak.net/showthread.php?t=3673 350
09-09-08 محمد کاشف حبیب دستیاب نہیں 200
پرانا 16-08-07, 12:08 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 46
مراسلات: 3,011
کمائي: 43,829
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,297
2,173 مراسلہ میں 5,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ خیر بھائی عبداللہ حیدر ایک مراسلہ میں نے بھی ارسال کیا ہے ، ذرا اُس پر بھی نظر فرما کر اپنی رائے سے بہرہ ور فرمائیے

Last edited by عبداللہ حیدر; 15-06-08 at 01:19 AM.
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (09-03-10)
پرانا 19-08-07, 01:17 PM   #3
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 39
کمائي: 129
شکریہ: 5
11 مراسلہ میں 19 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب حیدر بھائی۔

آللہ آپ کے علم میں اضافہ فرمائے، آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔
بلال عباسی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
بلال عباسی کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (09-03-10)
پرانا 07-09-07, 07:30 PM   #4
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مراسلات: 1
کمائي: 16
شکریہ: 0
ایک مراسلہ میں 3 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ا تنا کچھ جا ننے کے باوجود ھم لوگ اللہ سے کیوں مدد نہیں ما نگتے۔جن کو اپنے مستقبل کا پتہ نہی ہوتا ان سے آپنے مستقبل کے بارے میں پوچھتے ہیں۔اللہ پر یقین رکہں اور اسی سے مدد مانگیں۔اللہ ہم سب کو اللہ اورقرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین۔اور حیدر بھائی آپ کا ارٹیکل بہت اچھا ھے ۔اللہ اپ کو جزاءے خیر عطا فرماءے۔آمین
Atif Mahmood Siddiqi آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 3 صارفین نے Atif Mahmood Siddiqi کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
کنعان (17-10-09), نورالدین (09-03-10), محمدمبشرعلی (02-01-10)
پرانا 24-10-07, 12:12 PM   #5
Senior Member
 
عائشہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 500
کمائي: 1,923
شکریہ: 10
127 مراسلہ میں 201 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: انسانی زندگی پر ستاروں کے اثرات، قرآن و حدیث‌ کی روشنی میں

عبداللہ حیدر صاحب بہت ہی اچھا لکھا ہے بہت مفید اور معلوماتی تحریر ہے۔ ۔ ۔اور تحریر کا انداز بہت ہی عمدہ ہے۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 15-06-08 at 01:20 AM.
عائشہ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عائشہ کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (09-03-10)
پرانا 05-12-07, 05:34 PM   #6
Junior Member
اجنبی
 
رحیم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Lahore
مراسلات: 21
کمائي: 119
شکریہ: 12
6 مراسلہ میں 16 بارشکریہ ادا کیا گیا
رحیم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: انسانی زندگی پر ستاروں کے اثرات، قرآن و حدیث‌ کی روشنی میں

عبداللہ صاحب، بےشک آپ نے ٹھیک لکھا ہے۔ اصل میں یہ باتیں علم نجوم کی حوصلہ شکنی کرتی ھیں لیکن اس کی حقیقت جھٹلاتی نہیں۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 15-06-08 at 01:20 AM.
رحیم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 05-12-07, 09:12 PM   #7
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5
کمائي: 16
شکریہ: 1
2 مراسلہ میں 4 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: انسانی زندگی پر ستاروں کے اثرات، قرآن و حدیث‌ کی روشنی میں

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رحیم مراسلہ دیکھیں
عبداللہ صاحب، بےشک آپ نے ٹھیک لکھا ہے۔ اصل میں یہ باتیں علم نجوم کی حوصلہ شکنی کرتی ھیں لیکن اس کی حقیقت جھٹلاتی نہیں۔
Bhai, mere mazmoon ki headings ko dubara dekh len. Allah ke nabi sallalla ho alai e wa aalehe wasallam ne starun main taseer man ne ko kufr qrar dia ha or najumiun k pas jane se sakhti se mana farmaya.Quran o Hadith k wazeh ahkam k bad ham musalmanun ka rishta is ilm se cut gia. Hamen koi srokar nahe k is k hone ya na hone ki behas main pren.agr esa ilm mojod ho b jis se future ki batun ke bare ghair tabee treqe se maloom karne ki koshesh ki jae to wo haram ha.ap ne parha ho ga k ese logun ko satan ki madad hasil hoti ha.is lia ye aik shetani ilm ha.

Last edited by عبداللہ حیدر; 15-06-08 at 01:20 AM.
qaseemhaider آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 2 صارفین نے qaseemhaider کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
abeera (19-11-08), نورالدین (09-03-10)
پرانا 05-12-07, 10:04 PM   #8
Junior Member
اجنبی
 
رحیم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Lahore
مراسلات: 21
کمائي: 119
شکریہ: 12
6 مراسلہ میں 16 بارشکریہ ادا کیا گیا
رحیم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: انسانی زندگی پر ستاروں کے اثرات، قرآن و حدیث‌ کی روشنی میں

عبداللہ صاحب، آپ میری بات کو غلط لے گئے۔ آپ کی بات ٹھیک ھے کہ نجومیوں سے پوچھنا اور اس پر یقین کرنا گناہ ہے۔ لیکن میری کچھ وضاحتیں ھیں۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو۔

پہلا یہ کہ حضرت ادریس علیہ السلام کو یہ علم بتور معجزہ عطا ھوا۔
اور جو آجکل کا نجوم ھے وہ ھاروت و ماروت نام کے دو فرشیتے لوگوں کو سکھا تے تھے۔ جن کا ذکر قرآن میں یے۔
گویا یہ علم ھے پر شیطانی نہیں۔ ان باتوں کی مکمل تفصیل میں بمہ حوالہ جلد یی اسی مراسلے میں کروں گا۔ میری باتوں کو غلط نہ لیجیے گا۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 15-06-08 at 01:20 AM.
رحیم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 06-12-07, 06:19 PM   #9
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 3,201
کمائي: 35,183
شکریہ: 4,309
1,971 مراسلہ میں 5,497 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: انسانی زندگی پر ستاروں کے اثرات، قرآن و حدیث‌ کی روشنی میں

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رحیم مراسلہ دیکھیں
عبداللہ صاحب، آپ میری بات کو غلط لے گئے۔ آپ کی بات ٹھیک ھے کہ نجومیوں سے پوچھنا اور اس پر یقین کرنا گناہ ہے۔ لیکن میری کچھ وضاحتیں ھیں۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو۔

پہلا یہ کہ حضرت ادریس علیہ السلام کو یہ علم بتور معجزہ عطا ھوا۔
اور جو آجکل کا نجوم ھے وہ ھاروت و ماروت نام کے دو فرشیتے لوگوں کو سکھا تے تھے۔ جن کا ذکر قرآن میں یے۔
گویا یہ علم ھے پر شیطانی نہیں۔ ان باتوں کی مکمل تفصیل میں بمہ حوالہ جلد یی اسی مراسلے میں کروں گا۔ میری باتوں کو غلط نہ لیجیے گا۔
بھائی اول تو معذرت قبول کیجیے کہ میں آپ کا مدعا نہ سمجھ سکا۔ میرے علم میں نہیں ہے کہ قرآن و حدیث میں‌کہیں یہ ذکر ہو کہ ادریس علیہ السلام کو ایسا کوئی علم عطا کیا گیا تھا۔ آپ کے حوالے کا انتظار رہے گا۔
قرآن کریم میں ادریس علیہ السلام کا ذکر کچھ یوں ہے:
واذکر فی الکتٰب ادریس انہ کان صدیقا نبیا (سورۃ مریم)
"اور اس کتاب میں میں ادریس علیہ السلام کا ذکر کیجیے، وہ بڑے سچے انسان اور نبی تھے"۔
و اسماعیل و ادریس و ذالکفل کل من الصالحین (الانبیا)
"اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل (علیہم السلام) سب صالحین میں سے تھے"
آپ کی طرف سے مزید تفصیل کا انتظار رہے گا۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 15-06-08 at 01:21 AM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 6 صارفین نے عبداللہ حیدر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
abeera (19-11-08), Farrukh (19-08-08), نورالدین (09-03-10), میاں شاہد (20-08-08), مون لائیٹ آفریدی (20-08-08), waseemsv (04-02-09)
پرانا 19-08-08, 06:04 PM   #10
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 82
کمائي: 2,877
شکریہ: 57
47 مراسلہ میں 160 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: جواب: انسانی زندگی پر ستاروں کے اثرات، قرآن

السلام و علیکم
عبد اللہ بھائی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے رحیم بھائی کا سوال ہاروت اور ماروت کے بارے میں‌کچھ کہنا چاہوں گا۔

سُوۡرَةُ البَقَرَة
وَٱتَّبَعُواْ مَا تَتۡلُواْ ٱلشَّيَـٰطِينُ عَلَىٰ مُلۡكِ سُلَيۡمَـٰنَ‌ۖ وَمَا ڪَفَرَ سُلَيۡمَـٰنُ وَلَـٰكِنَّ ٱلشَّيَـٰطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحۡرَ وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلۡمَلَڪَيۡنِ بِبَابِلَ هَـٰرُوتَ وَمَـٰرُوتَ‌ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنۡ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٌ۬ فَلَا تَكۡفُرۡ‌ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهِۦ‌ۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِ‌ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡ‌ۚ وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَٮٰهُ مَا لَهُ ۥ فِى ٱلۡأَخِرَةِ مِنۡ خَلَـٰقٍ۬‌ۚ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦۤ أَنفُسَهُمۡ‌ۚ لَوۡ ڪَانُواْ يَعۡلَمُونَ (١٠٢)

اور انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جو شیطان سلیمان علیہ السلام کی بادشاہت کے وقت پڑھتے تھے اور سلیمان نے کفر نہیں کیا تھا لیکن شیطانوں نے ہی کفر کیا لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اس کی بھی جو شہر بابل میں ہاروت و ماروت دوفرشتوں پر اتارا گیا تھا اور وہ کسی کو نہ سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے ہم تو صرف آزمائش کے لیے ہیں تو کافر نہ بن پس ان سے وہ بات سیکھتے تھے جس سے خاوند اور بیوی میں جدائی ڈالیں حالانکہ وہ اس سے کسی کو الله کے حکم کے سوا کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے اور سیکھتے تھے وہ و ان کو نقصان دیتی تھی اورنہ نفع اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جس نے جادو کو خریدا اس کے لیے آخرت میں کچھ حصہ نہیں اور وہ چیز بہت بری ہے جس کے بدلہ میں انہوں نے اپنے آپ کو بیچا کاش وہ جانتے (۱۰۲)

مترجم: احمد علی
حوالہ: http://www.quranexplorer.com/Quran/Default.aspx

تو ان آیات سے صاف ظاہر ہے، کہ جو علم ھاروت اور ماروت سکھاتے تھے، وہ اللہ کے حُکم سے تھا وہ جادو تھا اور وہ آزمائیش کے طور پر بھیجے گئے تھے۔ اور وہ لوگوں کو پہلے بتا دیتے تھے کہ ہم تو آزمائش کے لیئے بھیجے گئے ہیں تم ان میں نہ پڑو۔۔۔۔۔۔ اور یہ بھی، کہ ھاروت اور ماروت کا علم، علم نجوم نہیں ، بلکہ جادو تھا اور جو دراصل شیطانی علم ہے۔۔

آزمائش دراصل کی ہی ایسے جاتی ہے کہ آپ کو برائی پر اختیار دے دیا جاتا ہے، اور آزمایا جاتا ہے کہ یہ بندہ اب برائی کا انتخاب کرتا ہے، یا اچھائی کا۔
جب اختیار ہی نہ ہو، تو پھر آزمائیش کیسی؟

اُمید ہے اس سے بات واضح ہو گئی ہوگی۔
واللہ اعلم
Farrukh آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 8 صارفین نے Farrukh کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
abeera (19-11-08), کنعان (17-10-09), نورالدین (09-03-10), میاں شاہد (20-08-08), مون لائیٹ آفریدی (20-08-08), waseemsv (04-02-09), شاہد جمیل حفیظ (27-11-08), عبدالله (09-10-08)
پرانا 19-08-08, 06:10 PM   #11
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 82
کمائي: 2,877
شکریہ: 57
47 مراسلہ میں 160 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: انسانی زندگی پر ستاروں کے اثرات، قرآن و حدیث

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رحیم مراسلہ دیکھیں
عبداللہ صاحب، بےشک آپ نے ٹھیک لکھا ہے۔ اصل میں یہ باتیں علم نجوم کی حوصلہ شکنی کرتی ھیں لیکن اس کی حقیقت جھٹلاتی نہیں۔

اس سلسلے میں عبداللہ بھائی پہلے ہی یہ حدیث فراہم کر چُکے ہیں:

نجومیوں کی کچھ باتیں سچ کیوں ہوتی ہیں

قَالَتْ عَائِشَةُ : سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللّهِ عَنِ الْكُهَّانِ؟ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّهِ : «لَيْسُوا بِشَيْءٍ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَاناً الشَّيْءَ يَكُونُ حَقًّا. قَالَ رَسُولُ اللّهِ : «تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْجِنِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّي. فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَة، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ (مسلم حدیث نمبر 5769۔ کتاب السلام باب تحریم الکھانۃ و اتیان الکھان)

اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کاہنوں(نجومیوں) کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ''وہ کچھ نہیں ہیں'' (یعنی ان کی کوئی حیثیت نہیں اور کسی اعتبار کے لائق نہیں ہیں)۔ لوگوں نے کہا '' اے اللہ رسول! ان کی بعض باتیں سچ نکلتی ہیں (اس کی کی وجہ ہے)''۔ انہوں نے فرمایا کہ ''وہ سچی بات وہی ہے جس کو کوئی جن (فرشتوں کی بات چیت کے دوران) اُڑا لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ڈال دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر وہ اس میں اپنی طرف سے اور سو جھوٹ ملاتے ہیں (اور لوگوں سے کہتے ہیں)۔ہمیں چاہیے کہ اپنے عقیدے قرآن و حدیث کے مطابق رکھیں اور ہر قسم کی گمراہیوں سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
Farrukh آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 5 صارفین نے Farrukh کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
abeera (19-11-08), نورالدین (09-03-10), میاں شاہد (20-08-08), مون لائیٹ آفریدی (20-08-08), waseemsv (04-02-09)
پرانا 19-08-08, 06:27 PM   #12
Senior Member
 
پیاسا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 27
مراسلات: 1,824
کمائي: 1,919
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,712
822 مراسلہ میں 1,600 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: انسانی زندگی پر ستاروں کے اثرات، قرآن و حدیث

آللہ آپ کے علم میں اضافہ فرمائے، آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔عبداللہ حیدر
پیاسا آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 3 صارفین نے پیاسا کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
نورالدین (09-03-10), میاں شاہد (20-08-08), waseemsv (04-02-09)
پرانا 19-08-08, 10:03 PM   #13
Senior Member
 
تفسیر حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,715
کمائي: 23,829
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,293
952 مراسلہ میں 1,743 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: انسانی زندگی پر ستاروں کے اثرات، قرآن و حدیث

جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 2 صارفین نے تفسیر حیدر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
نورالدین (09-03-10), میاں شاہد (20-08-08)
پرانا 20-08-08, 08:49 AM   #14
Senior Member
 
مون لائیٹ آفریدی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 308
کمائي: 2,376
ميرا موڈ:
شکریہ: 727
123 مراسلہ میں 213 بارشکریہ ادا کیا گیا
مون لائیٹ آفریدی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں مون لائیٹ آفریدی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: انسانی زندگی پر ستاروں کے اثرات، قرآن و حدیث

جزاک اللہ خیر۔ عبداللہ حیدر بھائی اور Farrukh بھائی
مون لائیٹ آفریدی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 2 صارفین نے مون لائیٹ آفریدی کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
نورالدین (09-03-10), میاں شاہد (20-08-08)
پرانا 20-08-08, 10:30 AM   #15
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: الکمونیا
مراسلات: 9,610
کمائي: 115,628
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,421
3,760 مراسلہ میں 7,472 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: انسانی زندگی پر ستاروں کے اثرات، قرآن و حدیث


ماشا اللہ، سبحان اللہ

آپ نے بہت عمدہ اور بہترین باتیں پیش کی ہیں
اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین
آپ کا بہت بہت شکریہ
میاں شاہد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 2 صارفین نے میاں شاہد کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
نورالدین (09-03-10), waseemsv (04-02-09)
جواب

Bookmarks

Tags
color, کتابوں, قرآن, لوگ, نماز, معلوم, معجزہ, اللہ, اردو, بھائی, جھوٹ, حال, حدیث, خوش, دوست, دل, راستہ, زندگی, ستارے, شخص, صبح, صحیح, صحابی, صدیقہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 0 05-01-08 02:33 PM
بارھویں تاریخ کی روشنی کے نام خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 0 05-01-08 12:32 PM
اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق گزارا جائے، مولانا الیاس قادری خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 11:08 AM
حدیث‌ کے بارے میں چند بنیادی باتیں عبداللہ حیدر علوم حدیث 1 29-10-07 05:44 PM
ممتاز فلمی ستاروں کے ایک درجن بچوں کی فلمی دنیا میں آمد عبدالقدوس فلمی دنیا 0 26-10-07 06:48 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:44 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO 3.3.0
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2010,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger