|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1897
|
||||
| 15 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (15-12-10), Aurangzeb Yousaf (27-11-10), saimali (25-11-10), فیصل ناصر (25-11-10), یاسر عمران مرزا (24-11-10), مرزا عامر (24-11-10), مسلم بھائی (27-11-10), ابن آدم (10-12-10), ارشد کمبوہ (25-11-10), حیدر (30-11-10), رضی (10-12-10), طلحہ (24-11-10), عبدالقدوس (11-12-10), عبداللہ آدم (24-11-10), عروج (23-12-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ایک شخص کے ہاتھ میں پیتل کا چھلہ دیکھا آپ علیہ السلام نے اس سے دریافت کیا یہ کیا ہے اس نے عرض کی کمزوری سے نجات کے لیے پہنا ہے آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اسے اتار دو اس لیے کہ یہ تمہیں کمزوری کے علاوہ کچھ نہ دےگا اور اگر اسے پہنے ہوئے مرگیا تو تم کبھی نجات نہ پاؤ گے۔مسند احمد اس حدیث میں نبی علیہ السلام نے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ اگر اس کو پہنے ہوئے مرگیا تو کبھی نجات نہ پاو گے، اور آپ نے اوپر ایک حدیث پڑھی ہے کہ جس میں دم کا ذکر کیا گیا تھا جو کہ دورِ جاہلیت کا تھا اس کے خلافِ شرع الفاظ کو ختم کرکے باقی کو قائم رکھا مگر یہاں آپ دیکھیں کہ اس کی بالکل ہی اجازت نہیں دی گئی ہے اور جس شخص نے وہ چھلہ پہنا تھا وہ مسلم تھا مگر ابھی اس معاملے کو جائز سمجھ کر چھلہ پہنے ہوئے تھا مگر آپ علیہ السلام نے اس کی ممانعت فرمادی اب تاقیامت اس کی ممانعت ہی ہے،چھلہ بھی تعویذ کی طرح ہوتا ہے جو پہناجاتا ہےتعویذ وہ ہوتا ہے کہ جس پر قرآن کی آیات یا کچھ اور لکھ کر گلے میں لٹکایا جاتا ہے اور چھلہ یا کڑا وہ ہوتا ہے جس پر دم کیا جاتا ہے اور پھر اس کو پہنا جاتا ہے اور اس چھلے پر توکل کیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ ہم کو شفاء دے گا جبکہ ایسا قرآن و سنت کے سرتاسر خلاف ہے۔ مسند احمد میں ہی ایک اور روایت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کی ہے کہ نبی علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ جس شخص نے تعویز باندھا اللہ اس کا مقصد پورا نہ کرے اور جس نے کوڑی گلے میں لٹکائی اللہ اس کو آرام نہ دے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جس نے تعویذ باندھا اس نے شرک کیا۔ رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ میرے بعد اے رویفع ہو سکتا ہے کہ تم زیادہ عرصہ زندہ رہو تم لوگوں سے کہہ دینا کہ جس کسی نے ڈاڑھی میں گرھیں ڈال دیں یا گھوڑے کے گلے میں تانت ڈالا یا جس نے استنجاء کیا جانور کی لید یا ہڈی سے تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے برَی ہے۔ سنن نسائی:جلد سوم:باب:داڑھی کو موڑ کر چھوٹا کرنا حضرت ابوبشیر انصاری خبر دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض سفروں میں سے کسی سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا نمائندہ بھیجا حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابوبکر کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ لوگ اپنی اپنی سونے کی جگہوں پر تھےآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی آدمی کسی اونٹ کی گردن میں کوئی تانت کا قلادہ یا ہار نہ ڈالے سوائے اس کے کہ اسے کاٹ دیا جائے امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اس طرح نظر لگنے کی وجہ سے کرتے تھے۔ صحیح مسلم:جلد سوم:باب:اونٹ کی گردن میں تانت کے قلادہ ڈالنے کی کراہت کے بیان میں ۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی بیوی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرے گردن میں دھاگہ پڑا ہوا دیکھا توپوچھا یہ کیاہے ؟ میں نے کہا یہ دھاگہ ہے جس پر میرے لئے منتر پڑھا گیا ہے (یعنی منتروں کے ذریعہ اس دھاگے کا گنڈہ بنوا کر میں نے اپنے گلے میں ڈال لیا ہے ) زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (یہ سن کر ) اس دھاگے کو (میری گردن سے ) نکال لیا اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور پھر کہا کہ اے عبد اللہ کے گھر والو ، تم شرک سے بے پرواہ ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بلا شبہ منتر منکے ، اورٹوٹکے شر ک ہیں ۔ میں نے کہا آپ یہ بات کس طرح کہہ رہے ہیں (یعنی آپ گویا منتر سے اجتناب کرنے اور توکل کو اختیار کرنے کی تلقین کررہے ہیں جب کہ مجھ کو منتر سے بہت فائدہ ہواہے ) چنانچہ میری آنکھ (درد کے سبب ) نکلی پڑی تھی اور میں فلاں یہودی کے ہاں آیا جایا کرتی تھی اس یہودی نے جب منتر پڑ ھ کر آنکھ کو دم کیا توآنکھ کو آرام مل گیا ۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ (یہ تمہاری نادانی وغفلت ہے ) اور وہ درد اس کا اچھا ہوجانا منتر کے سبب سے نہیں تھا بلکہ (حقیقت میں ) وہ شیطان کا کام تھا ،شیطان تمہاری آنکھ کو کونچتا تھا (جس سے تمہیں درد محسوس ہوتا تھا) پھر جب منتر پڑھاگیا تو (چونکہ وہ ایک شیطان کا کام تھا اس لئے ) شیطان نے کونچنا چھوڑ دیا ، تمہارے لئے وہ دعا بالکل کافی تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے کہ ۔ اذھب الباس رب الناس واشف انت الشافی لاشفا ء الا شفائک شفاء لا یغادر سقما (یعنی اے لوگوں کے پروردگار توہماری بیماری کو کھودے اور شفا عطا فرما (کیونکہ ) توہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے علاوہ شفا نہیں ہے ، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے ! ۔" (ابو داؤد ) مشکوۃ شریف:جلد چہارم:باب:ٹوٹکہ کی ممانعت ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کے ہاتھ میں گنڈا::دم کیا ہوا دھاگہ:: بندھا ہوا دیکھا جو اس نے بخار دور کرنے کے لیے باندھا تھا آپ اس دھاگے کو کاٹ دیا اور قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی حضرت عیسی ابن حمزہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت عبداللہ بن عکیم کے پاس گیا تو دیکھا کہ ان کا بدن سرخی کی بیماری میں مبتلا تھا میں نے کہا کہ آپ تعویذ کیوں نہیں باندھ لیتے؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کام سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص کوئی چیز لٹکاتا ہے یا (باندھتا ہے ) تواسی چیز کے سپر د کردیا جاتا ہے۔ " (ابو داؤد ) وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ ١٠٦ ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں ۔یوسف:۱۰۶ مشکوۃ شریف:جلد چہارم:باب:جھاڑ پھونک وغیرہ توکل کے منافی ان سب احادیث کا مطالعہ کرنے سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ دم درود کیا جاسکتا ہے قرآن کی آیات سے بےشک قرآن میں لوگوں کے لیے شفاء ہے اور یہ شفاء دلوں کی بیماریوں اور جسم کی بیماریوں کے لیے بھی ہے، مگر اس کا طریقہ ہم نے وہی لینا ہے جو نبی علیہ السلام نے ہم کو بتایا ہے اپنے پاس سے کوئی نیا طریقہ نہیں بنانا جو کہ بدعت ہوگی بلکہ تعویذ کا باندھنا انسان کو شرک کا مرتکب بنا دیتا ہے اور جب کہ سنت طریقہ یہی ہے کہ قرآن کی آیات کا دم کیا جائے نہ کہ قرآن کی آیات کو لکھ کر یا ان آیات کو ہندسوں میں لکھ کر گلے میں باندھا جائے، بلکہ میں آیات کو ہندسوں::علم الاعداد:: میں لکھ کر گلے میں ڈالنے کو دوگنی گمراہی سمجھتا ہوں کیونکہ اس شخص نے قرآن کے الفاظ کو بدلا ہے اور ان آیات کو ایسے طریقے سے لکھا ہے جو کہ جہالت سے کم نہیں ہے کیونکہ یہ قرآن کو بدلنے کے برابر ہے کہ ہندسوں میں سورت فاتحہ لکھ کر کہا جائے کہ یہ قرآن کی سورت فاتحہ لکھی ہوئی ہے یہ طریقہ جاہل عجمیوں کا ہےجو قرآن و حدیث کے علم سے بےبہرا تھے یا وہ دین اسلام میں اپنی اپنی مرضی کرکے دین کو بدلنا چاہتے تھے جیسا کہ ایسا ہوچکا ہے کہ لوگ ہر ایسی بات کو جو قرآن اور صحیح حدیث کے خلاف بھی کیوں نہ جاتی ہو اسلام سمجھتے ہیں اور اس پر ایسے ہی عمل کیا جاتا ہے جیسے اس کام کا حکم نبی علیہ السلام نے دیا ہو۔ اللہ ہم سب کو جدید اور قدیم ہر طرح کی جہالتوں اور گمراہیوں سے بچائے اور قرآن و سنت کا پابند بنائے آمین۔ Last edited by محمد عاصم; 16-12-10 at 05:56 PM. |
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (15-12-10), saimali (25-11-10), فیصل ناصر (25-11-10), مرزا عامر (24-11-10), مسلم بھائی (22-12-10), ابوسعد (11-12-10), ابن آدم (10-12-10), ارشد کمبوہ (25-11-10), حیدر (30-11-10), عبداللہ آدم (24-11-10), عروج (23-12-10) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
عاصم بھائی......................تمیمہ کا مطلب آپ نے تعویذ کیا ہے جبکہ دوسری طرف کے علماء اس کا ترجمہ تعویذ کرنا ہی غلط فرماتے ہیں!!!
اور کافی اختاف ہے اس مسئلے میں. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
عبداللہ بھائی آپ بتائیں ناں کہ تمیمہ کا کیا معنی کیا جاتا ہے؟؟؟
باقی بات پھر کرونگا ان شاءاللہ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (25-11-10), فیصل ناصر (25-11-10), مرزا عامر (25-11-10), مسلم بھائی (22-12-10), معاذ بن عدنان (17-01-11), ارشد کمبوہ (25-11-10), عبداللہ آدم (25-11-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
عبداللہ آدم بھائی ابھی تک آپ نے تمیمہ کا معنی نہیں بتایا کہ تعویذ کے علاوہ کیا معنی کیا جاتا ہے؟؟؟
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
تعویز سے بندے کو تسلی ہوجاتی ہے۔
|
|
|
|
| محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا | ارشد کمبوہ (10-12-10) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,804
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
عاصم بھائی ابھی ٹائم بہت تھوڑا ہے۔ مراسلہ بعد میں آکر پڑھوں گا۔ مختصر بتادیں کہ دورنبوت میں کاتب تعویذ کون تھا۔ شکریہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (23-01-11), معاذ بن عدنان (17-01-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تعویذکے معاملہ میں حدود کو پھلانگ دیا گیا ہے اور واقعی یہ کام ایک منافع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کرچکا ہے،جس میں منافع تو سارے کا سارا تعویذ کی دکان کھولنے والوں کاہےلیکن دوسری طرف اگر دیکھا جائےتو تعویذ لینے والوں کو عقیدہ کے لحاظ سے بہت نقصانات اٹھانا پڑتے ہیں اور وہ خدائے وحدہ لاشریک کے بجائے کاغذ کے ان ٹکڑوں پر اعتماد کرنے لگتے ہیں۔ ہمیں بحیثیت ایک مسلمان کے یہ معلوم کرنا چاہئیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل اس سلسلہ میں کیا رہا۔احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے معلوم ہو تاہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو شیطان سے پناہ مانگنے کی دعائیں سکھایا کرتے تھے،اور اس طرح سے ہر شخصکا براہ راست اپنے رب سے تعلق جوڑا کرتے تھےاس لئے ہمیں کوئی واضح حدیث ایسی نہیں ملتی جس میں یہ بیان کیا گیا ہوکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چند ایک صحابہ کو دعائیں سکھائیں اور باقی حضرات سے فرمادیا کہ آپ لوگ ان سے تعویذ بنوالیا کریں۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استخارہ صحابہ کو سکھایا کرتے تھے اور سکھانے میں اتنا اہتمام فرماتے کہ صحابہ کرام فرماتے ہیں،"جیسے ہمیں قران کی کو ئی سورت سکھا رہے ہوں"یہ نہیں کیا کہ چند بڑے حضرات کو استخارہ سکھایا ہو اور باقیوں سے یہ فرمادیا ہو کہ آپ لوگ بھی ان سے استخارہ "نکلوالیا"کریں۔
لیکن ہم نے اس کو بھی کاروبار بنادیا اور جگہ جگہ استخارہ کی "دکانیں"کھل گئیں جہاں نہ صرف یہ کہ سادہ لوح لوگوں کو بے وقوف بناکر لوٹا جاتا ہے بلکہ ان کا اپنے رب سے تعلق بھی کمزور کردیاجاتاہے۔ اب سوال پید اہوتا ہے کہ اگر کسی کو پڑھنا نہ آتاہو یا وہ دعاؤںکو یاد نہ کرسکتاہو تو ایسا شخص کیا کرے۔ اس کا حل ہمیں احادیث مبارکہ میں مل جاتا ہے۔حدیث ملاحظہ فرمائیے۔ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ اَن رسول اللہِ صلّی اللہُ علیہ وسلم قال:اِذا فزِعَ اَحدُکم فی النومِ فلیقُلۡ ؛اَعُوۡذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامّاتِ مِنۡ غَضَبِہ وَعِقَابِہ وَشَرِّ عِبَادِہ وَمِنۡ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِیۡنِ وَاَنۡ یَحۡضُرُوۡنَ؛ فانھا لن تضرہ،وکان عبداللہ بن عمرو یعلمھا من بلغ من ولدہ و من لم یبلغ منھم کتبھا فی صک ثم علقھا فی عنقہ،(رواہ ابوداؤد والترمذی وھذا لفظہ)۔۔۔۔۔۔(مشکو ۃ المصابیح صفحہ ۲۱۷) ترجمہ ؛۔عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور (ان کے واسطے سے) اپنے داد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی خواب میں ڈرجائے تو وہ یہ کلمات پڑھے؛اَعُوۡذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامّاتِ مِنۡ غَضَبِہ وَعِقَابِہ وَشَرِّ عِبَادِہ وَمِنۡ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِیۡنِ وَاَنۡ یَحۡضُرُوۡنَ؛تو شیاطین اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے گا،اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ یہ کلمات اپنے بالغ بچوں کو تو سکھادیتے تھے اور نابالغ بچوں کے لئے ایک پرچہ میں لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے۔ اس حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچوں اور ان پڑھ بالغوں کے لئے صحیح تعویذ بنانے کی گنجائش ہے،اور تعویذکو جائز بتانے والوں کی دلیل بھی یہی حدیث مبارک ہے،لیکن اس کےساتھ ساتھ چند اور بھی شرائط کا لحاظ لازمی ہےحافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ بخاری شریف کی شرحمیں فرماتے ہیں؛ وقد اَجمعَ العلماءُ علی جواز الرقی عند اجتماع ثلثۃ شروط 1)ان یکون بکلام اللہ تعالی وباَسمائہ وصفاتہ(2)وباللسان العربی اَو بما یُعرف معناہ من غیرہ(3) واَن یعتقد اَن الرقیۃ لاتؤثر بذاتھا بل بذات اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔(فتح الباری شرح صحیح البخاری10/195 حدیث نمبر5735)ترجمہ:۔علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ تعویذ 3شرائط کے ساتھ جائز ہے1۔اللہ تعالیٰ کے کلام،اس کے اسماء یا صفات کی ہو،2۔عربی زبان میں ہو اور اگر کسیاور زبان میں ہو تو اس کا ترجمہ معلوم ہو،3۔تعویذ استعمال کرنے والے کا عقیدہ یہ ہو کہ تعویذ میں بذات خود کوئی اثر نہیں بلکہ اس میں اثر اللہ تعالیٰ نے ڈالا ہے۔ اسکی تائید بھی مسلم شریف کی اس حدیث سے ہوتی ہے۔کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاباۡس بالرّقی ما لم یکن فیہ شرکٌ؛ یعنی تعویذ میں کوئی حرج نہیں جب تک اسمیں شرکیہ الفاظ نہ ہوں۔ اس لئے کوشش کرنی چاہئیے کہ قرآنی دعاؤں اور مسنون اذکار کو اپنایا جائے او ر حتی الامکان تعویذ گنڈے سے بچاجائے اور اگر کبھی کوئی شدیدضرورت پیش آئے تو کسی مستند عالم سے رجوع کیا جائے۔ اللہ تعالی ہم سب کو سیدھی راہ چلائے۔ Last edited by ابوسعد; 12-12-10 at 06:29 AM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ابوسعد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() |
ماشاءاللہ ابوسعید بھائی آپ نے اچھی تحریر لکھی ہے مگر پہلے آپ نے تعویذ کے خلاف لکھا اور آخر میں اس کے حق میں ایک اثر اور ایک حدیث دی ہے، جہاں تک اثر کا تعلق ہے اس کی تحقیق کر کے اس پر بات کرونگا اور جو حدیث آپ نے پیش کی ہے کہ
اقتباس:
باقی بات بعد میں ہوگی ان شاءاللہ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (28-02-11), مسلم بھائی (22-12-10), معاذ بن عدنان (17-01-11), عبداللہ آدم (26-12-10), عبداللہ حیدر (14-12-10) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (28-02-11), فیصل ناصر (12-12-10), مسلم بھائی (22-12-10), ارشد کمبوہ (07-01-11), عبداللہ آدم (26-12-10), عبداللہ حیدر (14-12-10) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
1۔عاصم بھائی!شاید آپ نے میری تحریر توجہ سے نہیں پڑھی میں نے تعویذکے خلاف نہیں لکھا بلکہ اس کو کاروبار بنانے کے خلاف لکھا مقصد یہ تھا کہ عام حالات میں ،اور پڑھے لکھے لوگوں کو تو مسنون اوراد واذکار بتلائے جائیں اور نابالغ بچوں اور دیگر ان پڑھ لوگوں کو ضرورت کے وقت تعویذ بناکر دے دیا جائے تو اس میں حرج نہیں۔
البتہ شرائط (جو میری پہلی تحریر میں ذکر ہیں)کا لحاظ ضروری ہے۔ 2۔دوسری بات آپ نے کہا کہ رقی کا ترجمہ تعویذ ہے؟ آپ کے توجہ دلانے پر میں نے اس کو بھی دیکھا۔اور اس وقت دو کتابیں میسر آئیں جن میں اس کے بارے میں لکھا ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباری شرح بخاری میں لکھاہے۔ "قولہ(باب الرقٰی)بضم الرا وبالقاف مقصور:جمع رقۡیۃ'بسکون القاف'،یقال رقَی 'بالفتح' فی الماضی،یرقِی'بالکسر' فی المستقبل،ورقِیتُ فلانا 'بکسرالقاف'اَرقِیہ واَسترقِی 'طلب الرقۡیہ،والجمیع بغیر ھمز،وھو بمعنی التعویذ'بالذال المعجمۃ۔(فتح الباری شرح صحیح البخاری،کتاب الطب،باب32،حدیث نمبر5735) ترجمہ:۔رُقی ،را کے پیش اور قاف(کھڑا زبر) کے ساتھ،رُقۡیۃٌ کی جمع ہے(قاف کے سکون کے ساتھ)ماضی میں رَقَی،مستقبل میں یَرۡقِیۡ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ تعویذ کے معنی میںہے۔ مصباح اللغات میں ہے: الرقۡیَۃ،منتر،افسوں،تعویذ ،جمع رُقٰی ورُقۡیات ورُقَیات،صفحہ 291 3۔بھائی عبداللہ آدم صاحب نے فرمایا تھا کہ دوسری طرف کے علماء "تمیمہ"کا معنی تعویذکرناہی غلط بتاتے ہیں،اس سلسلہ میں حافظ ابن حجر کا ارشاد ملاحظہ ہو فرماتے ہیں۔ "والتمائم جمع تَمِیۡمَۃٍ وھی خرز اَو قلادۃ تعلق فی الراس،کانوا فی الجاھلیۃ یعتقدون اَن ذالک یدفع الآفات۔(حوالہ بالاصفحہ 240) ترجمہ:۔ تمائم ،تمیمۃکی جمع ہے اور یہ ان گھونگوں یا ہار کو کہا جاتاہے جو سر میں باندھے جاتے تھے،جاہلیت کے زمانہ میں لوگو کا یہ عقیدہ تھا کہ آفات کو دور کردیتے ہیں۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ابوسعد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,134
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پیارے جب تعویزکیخلاف نہیں توبحث کس بات کی۔رہی بات کاروباربنانے کی تو یہ کام کرنےشیطان بیٹھےہیں۔وہ جادو والے شرکیہ الفاظ کےتعویزات دیتےہیں انکےاشتہارات شائع ہوتے ہیں اس کفر وشرک کیخلاف آواز کوئی بلندنہیں کرتا۔جتنے ڈبہ پیروں کےاشتہارات آتے ہیں یہ سب شیطان کےپجاری ہیں۔یہ لوگوں کے گھربرباد کرتےہیں۔ہرکام سوفیصدگارنٹی کیساتھ یہ خودایک قسم کا کفر ہے۔کیونکہ بغیرمسئلہ پریشانی جانےاتنا بڑا دعوی جیسےانکو وحی ہو گئی۔ان ڈبہ پیروں،جادوگروں اورشیطانی عاملوں نےمعاشرےکی بربادی میں بہت کردار اداکیا ہے۔کئی گھرانوں کی تباہی میں ان لوگوں کاہاتھ ہے۔
کئی بڑے تعلیم یافتہ لوگ بھی ایسے گندےکاموں کے ذریعےاپنےہی رشتہ داروں کے گر تباہ کرواتے ہیں۔کسی کے ناجائز اور حرام کام کیوجہ سے حلال اورجائز کام کو حرام نہیں قرار دیاجاتا۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے غیاث کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (14-12-10), مسلم بھائی (22-12-10), معاذ بن عدنان (17-01-11), ابوسعد (13-12-10), عبداللہ آدم (26-12-10), عروج (23-12-10) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
ابو سعد بھائی میں نے کافی جواب لکھ لیا ہوا ہے مگر وقت نہ ملنے کی وجہ سے ابھی مکمل نہیں کر سکا امید ہے کہ آج رات کو مکمل کر کے جواب پوسٹ کرونگا ان شاءاللہ
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
بسم اللہ الرحمن الرحیم حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا حَتَّی نَزَلُوا عَلَی حَيٍّ مِنْ أَحْيَائِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ فَلُدِغَ سَيِّدُ ذَلِکَ الْحَيِّ فَسَعَوْا لَهُ بِکُلِّ شَيْئٍ لَا يَنْفَعُهُ شَيْئٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلَائِ الرَّهْطَ الَّذِينَ نَزَلُوا لَعَلَّهُ أَنْ يَکُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَيْئٌ فَأَتَوْهُمْ فَقَالُوا يَا أَيُّهَا الرَّهْطُ إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ وَسَعَيْنَا لَهُ بِکُلِّ شَيْئٍ لَا يَنْفَعُهُ فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْکُمْ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ نَعَمْ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْقِي وَلَکِنْ وَاللَّهِ لَقَدْ اسْتَضَفْنَاکُمْ فَلَمْ تُضَيِّفُونَا فَمَا أَنَا بِرَاقٍ لَکُمْ حَتَّی تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا فَصَالَحُوهُمْ عَلَی قَطِيعٍ مِنْ الْغَنَمِ فَانْطَلَقَ يَتْفِلُ عَلَيْهِ وَيَقْرَأُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَکَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَانْطَلَقَ يَمْشِي وَمَا بِهِ قَلَبَةٌ قَالَ فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمْ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ اقْسِمُوا فَقَالَ الَّذِي رَقَی لَا تَفْعَلُوا حَتَّی نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَذْکُرَ لَهُ الَّذِي کَانَ فَنَنْظُرَ مَا يَأْمُرُنَا فَقَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرُوا لَهُ فَقَالَ وَمَا يُدْرِيکَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ثُمَّ قَالَ قَدْ أَصَبْتُمْ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَکُمْ سَهْمًا فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَکِّلِ بِهَذَا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت سفر کے لئے روانہ ہوئی یہاں تک کہ عرب کے ایک قبیلہ میں پہنچی اور ان لوگوں سے چاہا کہ مہمانی کریں انہوں نے مہمانی کرنے سے انکار کر دیا اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا لوگوں نے ہر طرح کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا تو ان میں سے بعض نے کہا کہ تم اگر ان لوگوں کے پاس جاتے جو اترے ہیں تو شاید ان میں کسی کے پاس کچھ ہو چناچہ وہ لوگ آئے اور ان سے کہنے لگے کہ اے لوگو! ہمارے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے اور ہم نے ہر طرح کی تدبیریں کیں لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا کیا تم میں سے کسی کو کوئی تدبیر معلوم ہے ان میں سے بعض نے کہا ہاں اللہ کی قسم میںجھاڑ پھونک کرتا ہوں لیکن ہم نے تم لوگوں سے مہمانی طلب کی لیکن تم نے ہماری مہمانی نہیں کی اس لئے اللہ کی قسم میں جھاڑ پھونک نہیں کروں گا جب تک کہ ہمارے لئے اس کا معاوضہ نہ کرو چناچہ انہوں نے بکریوں کے ایک ریوڑ پر مصالحت کی یعنی اجرت مقرر کی ایک صحابی اٹھ کر گئے اور سورۃ الحمد پڑھ کر پھونکنے لگے اور فورا اچھا ہو گیا گویا کوئی جانور رسی سے کھول دیا گیا ہو اور وہ اس طرح چلنے لگا کہ اسے کوئی تکلیف ہی نہ تھی اس نے کہا کہ ان کو وہ معاوضہ دے دو جو ان سے طے کیا گیا تھا ان میں سے بعض نے کہا کہ ان بکریوں کو بانٹ لو جنہوں نے منتر پڑھا تھا انہوں نے کہا ایسا نہ کرو جب تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہ پہنچ جائیں اور آپ سے وہ واقعہ بیان کریں جو گزرا پھر دیکھیں کہ آپ کیا حکم، دیتے ہیں وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں کس طرح معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ ایک منتر ہے پھر فرمایا تم نے ٹھیک کیا تم تقسیم کرلو اور اس میں ایک حصہ میرا بھی لگاؤ اور یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے اور شعبہ نے کہا مجھ سے ابوبشر نے بیان کیا میں نے ابوالمتوکل سے یہ حدیث سنی ہے۔ صحیح بخاری:جلد اول:باب:قبائل عرب کو سورۃ فاتحہ پڑھ کرپھو نکنے کے عوض اجرت دئے جانے کا بیان اور ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا آپ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ اجرت لینے کے لائق اللہ کی کتاب ہے اور شعبی نے کہا کہ معلم شرط نہ کرے لیکن اگر کوئی چیزاسے دی جائے تو وہ اسے قبول کرے اور حکم نے کہا کہ میں نے کسی کے متعلق نہیں سنا کہ معلم کی اجرت کو مکروہ سمجھا ہو اور حسن نے دس درہم دئے اور ابن سیرین نے تقسیم کرنے والے کی اجرت میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا اور کہا سحت فیصلہ میں رشوت لینے کو کہا جاتا ہے اور لوگ اندازہ کرنے میں اجرت دیتے تھے ۔ اس حدیث میں واضح طور پر رُقی کا معنی منتر جھاڑ پھونک کے معانی میں آرہا ہے اگر یہاں رُقی کا معنی تعویذ کیا جائے تو آپ مجھے بتائیں گے کہ پھر اس ساری حدیث کا ترجمہ کس طرح کیا جائے گا؟؟؟ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ أَنْ يُسْتَرْقَی مِنْ الْعَيْنِ محمد بن کثیر، سفیان، معبد بن خالد، عبد اللہ بن شداد، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یا یہ بیان کیا کہ آپ نے نظر بد لگ جانے پر منتر پڑھ کر پھونکنے کا حکم دیا۔ صحیح بخاری:جلد سوم:نظر لگ جانے پر منتر پڑھنے کا بیان اس حدیث میں بھی جو لفظ بولا گیا ہے وہ يُسْتَرْقَی جس کے معنی منتر پھڑھنا ہے نہ کہ تعویذ لٹکانا، اور اگر آپ پھر بھی بضد ہیں تو پھر اس حدیث کا بھی اردو ترجمہ کریں۔ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَثَابِتٌ عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَقَالَ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ اشْتَکَيْتُ فَقَالَ أَنَسٌ أَلَا أَرْقِيکَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَلَی قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ شِفَائً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا مسدد، عبدالوارث، عبدالعزیز سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں اور ثابت، انس بن مالک کے پاس گئے تو ثابت نے کہا کہ اے ابوحمزہ! میں بیمار ہوگیا ہوں تو انس نے کہا کہ کیا میں تم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا منتر پڑھ دوں انہوں نے کہا کہ ہاں۔ انس نے پڑھا اے اللہ! لوگوں کے معبود، سختی دور کرنے والے شفاء دے تو ہی شفا دینے والا ہے ایسی شفا دے جو بیماری کو نہ چھوڑے۔ صحیح بخاری:جلد سوم:باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منتر پڑھنے کا بیان اور اس حدیث میں تو بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ رُقی کا معنی تعویذ نہیں بلکہ منتر ہے کیونکہ نبی علیہ السلام یہی دعا بیماروں پر پڑھا کرتے تھے اگر رُقی کا معنی تعویذ کیا جائے تو یہ نبی علیہ السلام پر جھوٹ باندھنا ہوگا کہ آپ بیماروں کو یہ تعویذ باندھا کرتے تھےجب کہ ایسا ایک بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے کہ نبی علیہ السلام نے کبھی کسی کو تعویذ باندھا ہو بلکہ ایسی احادیث ملتی ہیں جن میں تعویذ باندھنے کو شرک کہا گیا ہے جو کہ اوپر تحریر میں درج ہیں، اس طرح تو متضاد حدیثیں وجود میں آ جائیں گی جس سے منکرینِ حدیث کو ہی تقویت ملے گی۔ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ قَالَ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ قَالُوا وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هُمْ الَّذِينَ لَا يَکْتَوُونَوَلَا يَسْتَرْقُونَ وَعَلَی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُونَ فَقَامَ عُکَّاشَةُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتَ مِنْهُمْ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ یحیی بن خلف باہلی، معتمر، ہشام بن حسان، محمد بن سیرین، عمران فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ کون سے لوگ ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے کہ جو نہ داغ لگوائیں گے اور نہ منتر::دم::پڑھتے ہوں گے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوں گے عکاشہ یہ سن کر کھڑے ہوگئے عرض کی اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرمائیں اللہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے جو بغیر حساب جنت میں جائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم انہی میں سے ہو پھر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کر دے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا۔ صحیح مسلم:جلد اول:باب:بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں اب اس حدیث کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ رُقی کا معنی تعویذ کرنا ہی غلط اور باطل ہے یہ صرف اس لیے ایسا معنی کیا گیا ہے کہ تاکہ اس تعویذ سازی کے کاروبار کو تقویت دی جاسکے جب کہ یہ کام اسلام میں حرام ہے جس کی ممانعت نبی علیہ السلام نے خود کی ہےاب دوسرے باطل امور کو اسلام میں داخل کرنے کی ناپاک سازش کی جارہی ہے۔ اس حدیث میں بھی جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہوَلَا يَسْتَرْقُونَترجمہ: اور نہ منتر::دم::پڑھتے ہوں گے،اب اس کا معنی تعویذ لٹکانا کیسے کیا جائے گا؟؟؟ اب تمیمہ پر بات کرتا ہوں تمیمہ بمعنی تعویذ بھی ہے اور گھونگوں یا ہار کو بھی کہتے ہیں اس بارے میں جو احادیث اور اثار ملتے ہیں . حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی بیوی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرے گردن میں دھاگہ پڑا ہوا دیکھا توپوچھا یہ کیاہے ؟ میں نے کہا یہ دھاگہ ہے جس پر میرے لئے منتر پڑھا گیا ہے (یعنی منتروں کے ذریعہ اس دھاگے کا گنڈہ بنوا کر میں نے اپنے گلے میں ڈال لیا ہے ) زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (یہ سن کر ) اس دھاگے کو (میری گردن سے ) نکال لیا اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور پھر کہا کہ اے عبد اللہ کے گھر والو ، تم شرک سے بے پرواہ ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بلا شبہ منتر منکے ، اورٹوٹکے شر ک ہیں ۔ میں نے کہا آپ یہ بات کس طرح کہہ رہے ہیں (یعنی آپ گویا منتر سے اجتناب کرنے اور توکل کو اختیار کرنے کی تلقین کررہے ہیں جب کہ مجھ کو منتر سے بہت فائدہ ہواہے ) چنانچہ میری آنکھ (درد کے سبب ) نکلی پڑی تھی اور میں فلاں یہودی کے ہاں آیا جایا کرتی تھی اس یہودی نے جب منتر پڑ ھ کر آنکھ کو دم کیا توآنکھ کو آرام مل گیا ۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ (یہ تمہاری نادانی وغفلت ہے ) اور وہ درد اس کا اچھا ہوجانا منتر کے سبب سے نہیں تھا بلکہ (حقیقت میں ) وہ شیطان کا کام تھا ،شیطان تمہاری آنکھ کو کونچتا تھا (جس سے تمہیں درد محسوس ہوتا تھا) پھر جب منتر پڑھاگیا تو (چونکہ وہ ایک شیطان کا کام تھا اس لئے ) شیطان نے کونچنا چھوڑ دیا ، تمہارے لئے وہ دعا بالکل کافی تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے کہ ۔ اذھب الباس رب الناس واشف انت الشافی لاشفا ء الا شفائک شفاء لا یغادر سقما (یعنی اے لوگوں کے پروردگار توہماری بیماری کو کھودے اور شفا عطا فرما (کیونکہ ) توہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے علاوہ شفا نہیں ہے ، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے ! ۔" (ابو داؤد )
مشکوۃ شریف:جلد چہارم:باب:ٹوٹکہ کی ممانعت ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کے ہاتھ میں گنڈا::دم کیا ہوا دھاگہ:: بندھا ہوا دیکھا جو اس نے بخار دور کرنے کے لیے باندھا تھا آپ اس دھاگے کو کاٹ دیا اور قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ ١٠٦ ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں ۔یوسف:۱۰۶ حضرت عیسی ابن حمزہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت عبداللہ بن عکیم کے پاس گیا تو دیکھا کہ ان کا بدن سرخی کی بیماری میں مبتلا تھا میں نے کہا کہ آپ تعویذ کیوں نہیں باندھ لیتے ؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کام سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص کوئی چیز لٹکاتا ہے یا (باندھتا ہے ) تواسی چیز کے سپر د کردیا جاتا ہے۔ " (ابو داؤد ) مشکوۃ شریف:جلد چہارم:باب:جھاڑ پھونک وغیرہ توکل کے منافی میرے بھائی آپ ان اثار اور احادیث کو کہاں لے کر جائیں گےجن میں تعویذ کو واضح شرک کہا گیا ہے؟؟؟ دین میں وہی ہے جو ہمیں اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کے ارشادات میں ملتا ہے، اس لیے ہم کو وہی بات لینی چاہیے جو قرآن و صحیح حدیث سے ملے باقی کسی پر کوئی زور ذبردستی نہیں کی جاسکتی کہ وہ ہماری سوچ کے مطابق ہی کام کرئے مگر ہاں جہاں واضح قرآن کی آیت یا حدیث آ جائے وہاں کسی اور کی رائے، قیاس، گمان اور فہم نہیں چل سکتا، وہاں ایک مسلم کو وہی بات لینی چاہیے جو قرآن اور حدیث کی تعلیمات کے مطابق ہو۔ اللہ ہم سب کو قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (15-12-10), saimali (28-02-11), مسلم بھائی (22-12-10), معاذ بن عدنان (17-01-11), عبداللہ آدم (26-12-10), عروج (23-12-10) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی آپ تو وہی مرغی کی ایک ٹانگ لئے بیٹھے ہیں۔میری تحریر میں یہ بات کہاںتھی کہ "رُقَی" صرف تعویذکے معنی میں ہے او رجھاڑ پھونک،منتر،کے معنی میں نہیں،بل کہ اگر آپ میری تحریر کو دوبارہ غور سے غیر جانب دار ہو کر پڑھیں تو دیکھ لیں گے کہ "مصباح اللغات" کے حوالہ میں صاف "منتر،افسوں اور تعویذ" کے الفاظ ہیں،اور معاف کیجئے گامیں حافظ ابن حجر عسقلانی کے مقابلہ میں آپ کی "حدیث فہمی"کا اعتبار نہیں کر سکتا،مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ "رقیۃ"جھاڑ پھونک،منتر اور افسوں کو کہتے ہیں لیکن میں اس بات پر اصرار کرتا ہوں کہ "رقیۃ" تعویذ کوبھی کہتے ہیں اب چاہے آپ تعویذ کو اس کے عام معنی میں لیں یعنی "مَایُعَوّذُ بہ"یا اس سے خاص معنی مروج مراد لیں۔
رہی بات تمیمہ کی تو آپ نے جن احادیث مبارکہ کا حوالہ دیا ہے ان میں سے کسی ایک میں بھی یہذکر نہیں کہ کسی نے قرآنی دعاؤں،احادیث مبارکہ کے اندر منقول اوراد پر مشتمل کوئی "تعویذ" پہنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرمادیا بل کہ ممانعت جہاں بھی وارد ہوئی ہے وہ شرکیہ "تمائم "کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہے،اور تمیمہ کا معنی پہلے بتایا جاچکا ہے کہ "تعویذ"نہیں بلکہ "گھونگے اور ہار"ہے۔دوسری طرف حضرت عبداللہ بن عمرو کا عمل احادیثکی دعاؤں پر مشتمل تعویذ بنوانے اور استعمال کرنے کی واضح دلیل بھی ہے(جس سے آپ نے کوئی تعرض نہیں کیا) آپ کا کہنا ہے کہ اگر تعویذ کی اجازت دی جائے تو ان احادیث کا کیا جائے جن میں بقول آپ کئے "تعویذ" کی ممانعت ہے۔ تو اس کا جواب تو بالکل سیدھا سادا ہے کہ جن احادیثمیں "تعویذ" کی اجازت ہے اس سے وہ تعویذ مراد ہے جو قرآن وحدیث کی دعاؤں اور اللہ تعالی کے اسمائے مبارکہ پر مشتمل ہو اور جن احادیث میں ممانعت ہے اس سے وہ تعویذ مراد ہے جو کفریہ ،شرکیہ الفاظ پر مشتمل ہو یا ایسے الفاظ پر مشتمل ہو جن کے معنی معلوم نہ ہوں۔والعلم عنداللہ |
|
|
|
| ابوسعد کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (26-12-10) |
![]() |
| Tags |
| ہندو, پاک, قرآن, نظر, مکمل, موت, ممکن, مجید, معلوم, آج, اللہ, انسان, اسلام, بھائی, جلد, حکم, حدیث, حسن, خلاف, زمانہ, سفر, عقل, صحابہ, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| موجودہ عدالتی نظام کی شرعی حیثیت | عبداللہ آدم | عمومی بحث | 19 | 21-02-11 11:30 AM |
| مولود مروج کی شرعی حیثیت | sahj | عمومی بحث | 9 | 23-12-10 09:05 AM |
| خلافت و ملوکیت۔۔تاریخی و شرعی حیثیت | عبداللہ حیدر | کتاب گھر | 26 | 03-08-10 06:46 AM |
| جہیز کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ | علی عمران | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 24 | 24-02-09 01:59 AM |
| زرعی شعبہ کی اہمیت اور آئندہ انتخابات ؟,,,,معاشی حقائق…سکندر حمید لودھی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 29-10-07 10:23 AM |