واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > کفروشرک



کفروشرک کفروشرک


تعویز کی شرعی حیثیت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-11-10, 11:07 PM   #1
تعویذ کی شرعی حیثیت
محمد عاصم محمد عاصم آف لائن ہے 24-11-10, 11:07 PM

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہر طرح کی تعریفیں اللہ رب العالمین کو ہی سزاوار ہیں جس نےیہ سب کائناتیں صرف چھ۶دن میں بنائیں اوراس عظیم ذات کوزرہ سی بھی تھکن نہ ہوئی،اے اللہ تیری حمد ہو اتنی جتنے درختوں کے پتے ہیں،تیری حمد ہو اتنی جتنے دن اور راتیں ہیں،تیری حمد ہو اتنی جتنے سب کائناتوں میں موجود ذرات ہیں،اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں محمد علیہ السلام پرآپ کی آل رضی اللہ عنہم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر۔

کافی عرصہ سے اس مسئلے پر لکھنے کا پروگرام بنا ہوا تھا کہ یہ جو ہمارے معاشرے میں تعویذ سازی کا کام عام ہوا ہے اس کی اسلام میں کہاں تک اجازت ہے ؟یا کہ یہ کام اسلام کی اساس اور بنیاد کے خلاف ہے، اس سلسلے میں مختلف لوگوں کے ساتھ بات چیت ہوتی رہی کوئی اس کا تعلق اسلام سے چھوڑتا اور کوئی ہندو ازم کے ساتھ جھوڑتا اور ساتھ ساتھ خود بھی اس کے بارے میں مطالعہ جاری رکھا تو الحمدللہ یہ بات واضح ہوئی کہ تعویذ سازی کا تعلق کسی بھی طور سے اسلام کے ساتھ نہیں جھوڑا جاسکتا کچھ بھائی بہن کو میری یہ بات ناگوار گزری ہوگی مگر اس بات کی حقیقت کو جاننے کے لیے آپ سب سے التماس ہے کہ مضمون کو مکمل پڑھیں اور پھر اس پر اپنی رائے دیں کہ آیا میں صحیح سمجھا ہوں کہ غلط۔
ایک عام بندے کے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ آیا وہ کس کی بات کو مانے اور کس کی بات کو رَد کرئے تو اس کا ایک آسان کلیہ یہ ہے کہ آپ ہر کسی کی بات کو سنیں یا پڑھیں مگر بات اس کی مانی جائے جس کے پاس قرآن اور صحیح احادیث کے دلائل ہوں اور جو اپنی عقل پیش کرئے یا کسی اور انسان کی عقل کو پیش کرئے تو اس کی بات اس قابل نہیں کہ وہ مانی جائے کیونکہ دین قرآن اور صحیح حدیث میں ہے نہ کہ کسی کی عقل میں اللہ کے ارشادات ہیں کہ


وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا
اور تمہیں جو کچھ رسول علیہ السلام دیں لے لو، اور جس سے روکیں رک جاؤ۔۔۔۔۔الحشر:۷


وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ۝ۭاِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى Ć۝ۙ
اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔النجم:۴
اور نبی علیہ السلام کا ارشاد مبارک ہے کہ

حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں، جب تک تم انہیں پکڑے رہو گے ہر گز گمراہ نہیں ہوسکتے۔ وہ کتاب اللہ (قرآن مجید) اور سنت رسول ا اللہ (احادیث) ہیں۔" (موطا)
مشکوۃ شریف:جلد اول:
اس لیے ایک مسلم کے لیے قابلِ قبول بات اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کی بات ہی ہونی چاہیے، جس معاملے میں اللہ اور اس کا رسول علیہ السلام فیصلہ دے چکے ہوں اس کو چھوڑ کرکسی اور کی بات ہرگز ہرگز نہیں ماننی چاہیےکیونکہ یہی راہِ نجات ہے اس کے علاوہ دوسرے راستے گمراہی کے راستے ہیں ۔
آج ہمارے معاشرے میں تعویذ سازی کا کام باقائدہ ایک پرفیشنل کام بن چکا ہے اور بعض لوگ اس کے ذریعے دنیا کمانے میں لگے ہوئے ہیں اور عام لوگ اس کو دین سمجھ کر بجالا رہے ہیں اور بڑے پیر لوگ اس سے خوب پیسہ کما رہے ہیں، دنیا کا کوئی بھی کام ہو اس کا تعویذ آپ کو مل جائے گا اور دنیا میں کوئی بھی بیماری ہو اس کا تعویذ بنالیا گیا ہوا ہے بیماری جتنی بڑی ہوگی اس کے تعویذ کی قیمت بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
اولاد کو فرمابردار بنانے والا تعویذ۔
اور پھر اولاد کے لیے بھی تعویذ بنایا گیا ہے کہ جس سے والدین اولاد کی بات مانیں گے۔
شوہر کے لیے تعویذ کہ اس کی بیوی اس کی تابیدار رہے۔
اور بیوی کے لیے تعویذ کہ اس کا شوہر اس کا تابیدار بن کر رہے۔
اور شریکوں کے لیے بھی تعویذ موجود ہے جس سے شوہر اور بیوی میں ناراضگی پیدا کی جائے۔
آپ کو کالا یرکان ہے تو ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں اس کا بھی تعویذ آپ کو مل جائے گا۔:::یہ علیحدہ بات ہے جب یرکان بگڑ جاتا ہےتو پھر ڈاکٹر کے پاس بھاگے بھاگے جاتے ہیں مگر پھر دیر ہوچکی ہوتی ہے:::
اگر کسی کو کینسر ہے تو بھی تعویذ حاضر ہے۔
یعنی دنیا کی کوئی بھی بیماری ہو آپ کو یہ تعویذ ساز اس کا تعویذ ضرور بناکر دیں گیں۔
ایک اور حیران کن بات یہ کہ جب ان لوگوں سے اس کی دلیل مانگی جاتی ہے تو بجائے اس کے کہ یہ قرآن اور صحیح حدیث سے دلیل دیں کہتے ہیں کہ یہ تعویذ فلاں نے استعمال کیا تو اس کا کام بن گیا،فلاں نے فلاں بیماری کے لیے باندھا تو اس کو شفاء مل گئی اگر یہ جھوٹے تعویذ ہیں اور یہ غلط کام ہے تو اس سے شفاء کیوں ملتی ہے؟؟؟
تو یہ ہے ان کی سب سے بڑی دلیل، اب اگر ان کی یہ دلیل مان لی جائے تو اس طرح اور بھی بہت کچھ جائز ہوجائے گا مثلاً یہ کہ ہندو لوگ بھی یہ تعویذ سازی کا کام کرتے ہیں اور ہندو کو بھی ان تعویذوں سے بہت سے فوائد ملتے ہیں بیماروں کو شفاء ملتی ہے بےروزگاروں کو کام ملتا ہےاسی طرح ان کے ہاں بھی ہر بیماری کے لیے تعویذ بنایا جاتا ہے اور ہر مشکل کام کا تعویذ بنایا جاتا ہے تو اس انوکھی دلیل سے ہندوں کے تعویذ بھی صحیح ثابت ہوتے ہیں تو کیا پھر ایک ہندو کے بنائے تعویذ کو بھی پہنا جاسکتا ہے؟؟؟
اگر نہیں تو کیوں نہیں پہنا جاسکتا؟؟؟
اگر ہاں کہتے ہیں تو ہندوں کے مذہب کو کیوں غلط کہتے ہو؟؟؟
اصل میں جب بھی دین میں کوئی نئی بات داخل کی جائے گی تو بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے پھر چاہیے تو یہ ہوتا ہے کہ اس نئی بات کو چھوڑ دیا جائے کہ جس کی وجہ سے بگاڑ پیدا ہوا ہے مگر کیا اُلٹ جاتا ہے کہ اس بگاڑ کو ختم کرنے کے لیے غلط تاویلات اور جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو کہ مذید بگاڑ پیدا کرتی ہیں، اس لیے اگر بگاڑ ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس بگاڑ کی جڑ کاٹنی چاہیے کہ جس کی وجہ سے ایسا بگاڑ پیدا ہوا تھایعنی اس نئی بات کو جو دین میں داخل کی گئی ہے اس کو ختم کیا جائے تو پھر اصل دین باقی رہے گا اور بگاڑ اور گمراہیاں سب اپنی موت آپ مر جائیں گی ان شاءاللہ۔
اب آتا ہوں موضوع کی طرف اس موضوع پر کافی احادیث مل جاتی ہیں مگر میں نے کوشش کی ہے کہ صحیح احادیث سے ہی دلیل دی جائے اگر کوئی حدیث ضعیف ہو تو آگاہی فرمادیجیے گا، میں نے اس سلسلے میں جتنی بھی احادیث کا مطالعہ کیا ہے ان میں کہیں بھی تعویذ کو بازو اور ٹانگوں میں یاگلے میں باندھنے کی کوئی دلیل نہیں ملی بےشک تعویذ میں قرآن کی آیات ہی کیوں نہ لکھی گئی ہوں، صرف اس میں ایک چیز کی اجازت دی گئی ہے اور وہ ہے دم،جھاڑپھونک،منتر اور وہ بھی وہی جائز ہیں جن میں کوئی کفر ، شرک اور خلاف شریعت کوئی الفاظ نہ ہوں،
نبی کریم علیہ السلام کے ارشادات ہیں کہ
حضرت عوف ابن مالک اشجعی کہتے ہیں کہ ہم زمانہ جاہلیت میں جھاڑ پھونک کے ذریعہ دم کیا کرتے تھے (جب اسلام کا زمانہ آیا تو ) ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان منتر وں کے بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان منتروں کوپڑھ کر مجھ کو سناؤ جب تک ان میں شرک نہ ہو ان میں کوئی حرج نہیں دیکھتا ۔" (مسلم )
مشکوۃ شریف:جلد چہارم:باب:جھاڑپھونک کے ذریعہ علاج کرنے کی اجازت


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال غنیمت میں سے تھو ڑا بہت مجھے بھی دئیے جا نے کا حکم صا در فرمایا ۔ نیز (ایک مو قع پر ) میں نے آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا وہ منتر پڑھ کر سنا یا جو میں دیو انگی کے مریضوں پر پڑھا کر تا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس با رے میں در یا فت کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے بعض حصوں کو مو قو ف کر دینے اور بعض حصوں کو باقی رکھنے کا حکم دیا ۔ اس روایت کو تر مذ ی اور ابو داؤ د نے نقل کیا ہے ۔

مشکوۃ شریف:جلد سوم:باب:جس طرح غیرشرعی جھاڑ پھونک ناجائز ہے اسی طرح اس کی اجرت بھی حرام ہے

حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منتر پڑھنے اور پھونکنے سے منع فرما دیا توعمر و ابن حزم کے خاندان کے لوگ (جو منتروں کے ذریعہ جھاڑپھونک کرتے تھے ) حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہمارے پاس ایک منتر ہے جس کو ہم بچھو کے کاٹے پر پڑھا کرتے تھے اب آپ نے منتروں سے منع فرمادیا ہے اس کے بعد انہوں نے منتر کو پڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا (تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منتر کو درست یا غلط ہونے کا فیصلہ فرمائیں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (منتر کوسن کر) فرمایا کہ میں اس منتر میں کوئی حرج نہیں دیکھتا تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کونفع پہنچا سکے تو وہ ضرور نفع پہنچائے خواہ جھاڑپھونک کے ذریعہ اورخواہ کسی اور طرح سے بشرطیکہ اس میں کوئی خلاف شرع بات نہ ہو ۔" (بخاری ومسلم )

مشکوۃ شریف:جلد چہارم:باب:جھاڑپھونک کے ذریعہ علاج کرنے کی اجازت

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ایسا کوئی بھی دم جائز ہے جس میں کوئی شرکیہ الفاظ نہ ہوں، اور میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ بعض احادیث میں دم کی بھی ممانعت آئی ہے اور پھر اس کی اجازت کی بھی احادیث موجود ہیں ممکن ہے پہلے اس کی ممانعت تھی بعد میں اس کی اجازت دے دی گئی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ جہاں دم کی ممانعت ہے وہ بھی صرف اس لیے ہو کہ اس طرح اللہ پر توکل کم ہوتا ہو بہرحال جو بھی وجہ ہو اب دم کی اجازت ہے اس پر جو احادیث ہیں وہ پیش کردیتا ہوں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میری امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے جو منتر نہیں کراتے، شگون بد نہیں لیتے ہیں اور (اپنے تمام امور میں جن کا تعلق خواہ کسی چیز کو اختیار کرنے سے ہو یا اس کو چھوڑنے سے) صرف اپنے پرودگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (بخاری ومسلم)


مشکوۃ شریف:جلد چہارم:باب:جس طرح غیرشرعی جھاڑ پھونک ناجائز ہے اسی طرح اس کی اجرت بھی حرام ہے
حضرت مغیرہ ابن شعبہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے داغ دلوایا یا منتر پڑھوایا تو وہ تو کل سے بری ہوا ( احمد ترمذی ابن ماجہ )


مشکوۃ شریف:جلد چہارم:باب:جھاڑ پھونک وغیرہ توکل کے منافی
حضرت ابوخزامہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر ہم جھاڑپھونک کریں یا دوا دارو کریں اور پرہیز بھی کریں تو کیا یہ تقدیر الہی کو بدل سکتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ خود اللہ کی تقدیر میں شامل ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

جامع ترمذی:جلد اول:باب:جھاڑ پھونک اور ادویات
ابو النعمان، ابوعوانہ، ابوبشر، ابوالمتوکل، ابوسعید سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت سفر کے لئے روانہ ہوئی یہاں تک کہ عرب کے ایک قبیلہ میں پہنچی اور ان لوگوں سے چاہا کہ مہمانی کریں انہوں نے مہمانی کرنے سے انکار کر دیا اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا لوگوں نے ہر طرح کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا تو ان میں سے بعض نے کہا کہ تم اگر ان لوگوں کے پاس جاتے جو اترے ہیں تو شاید ان میں کسی کے پاس کچھ ہو چناچہ وہ لوگ آئے اور ان سے کہنے لگے کہ اے لوگو! ہمارے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے اور ہم نے ہر طرح کی تدبیریں کیں لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا کیا تم میں سے کسی کو کوئی تدبیر معلوم ہے ان میں سے کسی نے کہا ہاں اللہ کی قسم میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں لیکن ہم نے تم لوگوں سے مہمانی طلب کی لیکن تم نے ہماری مہمانی نہیں کی اس لئے اللہ کی قسم میں جھاڑ پھونک نہیں کروں گا جب تک کہ ہمارے لئے اس کا معاوضہ نہ کرو چناچہ انہوں نے بکریوں کے ایک ریوڑ پر مصالحت کی یعنی اجرت مقرر کی ایک صحابی اٹھ کر گئے اور سورۃ الحمد پڑھ کر پھونکنے لگے اور فورا اچھا ہو گیا گویا کوئی جانور رسی سے کھول دیا گیا ہو اور وہ اس طرح چلنے لگا کہ اسے کوئی تکلیف ہی نہ تھی اس نے کہا کہ ان کو وہ معاوضہ دے دو جو ان سے طے کیا گیا تھا ان میں سے بعض نے کہا کہ ان بکریوں کو بانٹ لو جنہوں نے منتر پڑھا تھا انہوں نے کہا ایسا نہ کرو جب تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہ پہنچ جائیں اور آپ سے وہ واقعہ بیان کریں جو گزرا پھر دیکھیں کہ آپ کیا حکم، دیتے ہیں وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں کس طرح معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ ایک منتر ہے پھر فرمایا تم نے ٹھیک کیا تم تقسیم کرلو اور اس میں ایک حصہ میرا بھی لگاؤ اور یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے اور شعبہ نے کہا مجھ سے ابوبشر نے بیان کیا میں نے ابوالمتوکل سے یہ حدیث سنی ہے۔

صحیح بخاری:جلد اول:باب:قبائل عرب کو سورۃ فاتحہ پڑھ کرپھو نکنے کے عوض اجرت دئے جانے کا بیان
عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بی بی ام سلمہ کے مکان میں گئے اور گھر میں ایک لڑکا رو رہا تھا لوگوں نے کہا اس کو نظر لگ گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دم کیوں نہیں کرتے اس کے لئے ۔


موطا امام مالک:جلد اول:باب:نظر کے منتر کا بیان
حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھاڑپھونک کے ذریعہ نظر بد ،ڈنک اور نملہ کا علاج کرنے کی اجازت دی ہے ۔" (مسلم )





مشکوۃ شریف:جلد چہارم:باب:جھاڑپھونک کے ذریعہ علاج کرنے کی اجازت
اسی طرح اور بھی دم کے متعلق احادیث موجود ہیں ان سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ بہتر عمل یہی ہے کہ انسان اللہ پر ہی بھروسہ رکھے مگر اگر کسی کا توکل اللہ پر کم ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ ایسے منتر سے دم کرواسکتا ہے جو شرک سے پاک ہو مگر گلے میں تعویذ لٹکانے اور ہاتھ یا پاوں میں دم کیا گیا دھاگہ باندھنے یا کڑا اور چھلہ پہننے کی کہیں بھی اجازت نظر نہیں آتی بلکہ اس کی ممانعت ہی ملتی ہے اب وہ احادیث پیش کرتا ہوں جن میں ان عملیات کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com

Last edited by محمد عاصم; 02-03-11 at 04:58 PM..

 
محمد عاصم's Avatar
محمد عاصم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1897
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (15-12-10), Aurangzeb Yousaf (27-11-10), saimali (25-11-10), فیصل ناصر (25-11-10), یاسر عمران مرزا (24-11-10), مرزا عامر (24-11-10), مسلم بھائی (27-11-10), ابن آدم (10-12-10), ارشد کمبوہ (25-11-10), حیدر (30-11-10), رضی (10-12-10), طلحہ (24-11-10), عبدالقدوس (11-12-10), عبداللہ آدم (24-11-10), عروج (23-12-10)
پرانا 24-11-10, 11:11 PM   #2
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default تعویذ کی شرعی حیثیت

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ایک شخص کے ہاتھ میں پیتل کا چھلہ دیکھا آپ علیہ السلام نے اس سے دریافت کیا یہ کیا ہے اس نے عرض کی کمزوری سے نجات کے لیے پہنا ہے آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اسے اتار دو اس لیے کہ یہ تمہیں کمزوری کے علاوہ کچھ نہ دےگا اور اگر اسے پہنے ہوئے مرگیا تو تم کبھی نجات نہ پاؤ گے۔مسند احمد
اس حدیث میں نبی علیہ السلام نے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ اگر اس کو پہنے ہوئے مرگیا تو کبھی نجات نہ پاو گے، اور آپ نے اوپر ایک حدیث پڑھی ہے کہ جس میں دم کا ذکر کیا گیا تھا جو کہ دورِ جاہلیت کا تھا اس کے خلافِ شرع الفاظ کو ختم کرکے باقی کو قائم رکھا مگر یہاں آپ دیکھیں کہ اس کی بالکل ہی اجازت نہیں دی گئی ہے اور جس شخص نے وہ چھلہ پہنا تھا وہ مسلم تھا مگر ابھی اس معاملے کو جائز سمجھ کر چھلہ پہنے ہوئے تھا مگر آپ علیہ السلام نے اس کی ممانعت فرمادی اب تاقیامت اس کی ممانعت ہی ہے،چھلہ بھی تعویذ کی طرح ہوتا ہے جو پہناجاتا ہےتعویذ وہ ہوتا ہے کہ جس پر قرآن کی آیات یا کچھ اور لکھ کر گلے میں لٹکایا جاتا ہے اور چھلہ یا کڑا وہ ہوتا ہے جس پر دم کیا جاتا ہے اور پھر اس کو پہنا جاتا ہے اور اس چھلے پر توکل کیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ ہم کو شفاء دے گا جبکہ ایسا قرآن و سنت کے سرتاسر خلاف ہے۔


مسند احمد میں ہی ایک اور روایت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کی ہے کہ نبی علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ جس شخص نے تعویز باندھا اللہ اس کا مقصد پورا نہ کرے اور جس نے کوڑی گلے میں لٹکائی اللہ اس کو آرام نہ دے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جس نے تعویذ باندھا اس نے شرک کیا۔


رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ میرے بعد اے رویفع ہو سکتا ہے کہ تم زیادہ عرصہ زندہ رہو تم لوگوں سے کہہ دینا کہ جس کسی نے ڈاڑھی میں گرھیں ڈال دیں یا گھوڑے کے گلے میں تانت ڈالا یا جس نے استنجاء کیا جانور کی لید یا ہڈی سے تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے برَی ہے۔
سنن نسائی:جلد سوم:باب:داڑھی کو موڑ کر چھوٹا کرنا
حضرت ابوبشیر انصاری خبر دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض سفروں میں سے کسی سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا نمائندہ بھیجا حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابوبکر کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ لوگ اپنی اپنی سونے کی جگہوں پر تھےآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی آدمی کسی اونٹ کی گردن میں کوئی تانت کا قلادہ یا ہار نہ ڈالے سوائے اس کے کہ اسے کاٹ دیا جائے امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اس طرح نظر لگنے کی وجہ سے کرتے تھے۔
صحیح مسلم:جلد سوم:باب:اونٹ کی گردن میں تانت کے قلادہ ڈالنے کی کراہت کے بیان میں ۔


حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی بیوی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرے گردن میں دھاگہ پڑا ہوا دیکھا توپوچھا یہ کیاہے ؟ میں نے کہا یہ دھاگہ ہے جس پر میرے لئے منتر پڑھا گیا ہے (یعنی منتروں کے ذریعہ اس دھاگے کا گنڈہ بنوا کر میں نے اپنے گلے میں ڈال لیا ہے ) زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (یہ سن کر ) اس دھاگے کو (میری گردن سے ) نکال لیا اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور پھر کہا کہ اے عبد اللہ کے گھر والو ، تم شرک سے بے پرواہ ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بلا شبہ منتر منکے ، اورٹوٹکے شر ک ہیں ۔ میں نے کہا آپ یہ بات کس طرح کہہ رہے ہیں (یعنی آپ گویا منتر سے اجتناب کرنے اور توکل کو اختیار کرنے کی تلقین کررہے ہیں جب کہ مجھ کو منتر سے بہت فائدہ ہواہے ) چنانچہ میری آنکھ (درد کے سبب ) نکلی پڑی تھی اور میں فلاں یہودی کے ہاں آیا جایا کرتی تھی اس یہودی نے جب منتر پڑ ھ کر آنکھ کو دم کیا توآنکھ کو آرام مل گیا ۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ (یہ تمہاری نادانی وغفلت ہے ) اور وہ درد اس کا اچھا ہوجانا منتر کے سبب سے نہیں تھا بلکہ (حقیقت میں ) وہ شیطان کا کام تھا ،شیطان تمہاری آنکھ کو کونچتا تھا (جس سے تمہیں درد محسوس ہوتا تھا) پھر جب منتر پڑھاگیا تو (چونکہ وہ ایک شیطان کا کام تھا اس لئے ) شیطان نے کونچنا چھوڑ دیا ، تمہارے لئے وہ دعا بالکل کافی تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے کہ ۔ اذھب الباس رب الناس واشف انت الشافی لاشفا ء الا شفائک شفاء لا یغادر سقما (یعنی اے لوگوں کے پروردگار توہماری بیماری کو کھودے اور شفا عطا فرما (کیونکہ ) توہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے علاوہ شفا نہیں ہے ، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے ! ۔" (ابو داؤد )
مشکوۃ شریف:جلد چہارم:باب:ٹوٹکہ کی ممانعت


ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کے ہاتھ میں گنڈا::دم کیا ہوا دھاگہ:: بندھا ہوا دیکھا جو اس نے بخار دور کرنے کے لیے باندھا تھا آپ اس دھاگے کو کاٹ دیا اور قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی
وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ ١٠٦؁
ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں ۔یوسف:۱۰۶
حضرت عیسی ابن حمزہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت عبداللہ بن عکیم کے پاس گیا تو دیکھا کہ ان کا بدن سرخی کی بیماری میں مبتلا تھا میں نے کہا کہ آپ تعویذ کیوں نہیں باندھ لیتے؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کام سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص کوئی چیز لٹکاتا ہے یا (باندھتا ہے ) تواسی چیز کے سپر د کردیا جاتا ہے۔ " (ابو داؤد )

مشکوۃ شریف:جلد چہارم:باب:جھاڑ پھونک وغیرہ توکل کے منافی

ان سب احادیث کا مطالعہ کرنے سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ دم درود کیا جاسکتا ہے قرآن کی آیات سے بےشک قرآن میں لوگوں کے لیے شفاء ہے اور یہ شفاء دلوں کی بیماریوں اور جسم کی بیماریوں کے لیے بھی ہے، مگر اس کا طریقہ ہم نے وہی لینا ہے جو نبی علیہ السلام نے ہم کو بتایا ہے اپنے پاس سے کوئی نیا طریقہ نہیں بنانا جو کہ بدعت ہوگی بلکہ تعویذ کا باندھنا انسان کو شرک کا مرتکب بنا دیتا ہے اور جب کہ سنت طریقہ یہی ہے کہ قرآن کی آیات کا دم کیا جائے نہ کہ قرآن کی آیات کو لکھ کر یا ان آیات کو ہندسوں میں لکھ کر گلے میں باندھا جائے، بلکہ میں آیات کو ہندسوں::علم الاعداد:: میں لکھ کر گلے میں ڈالنے کو دوگنی گمراہی سمجھتا ہوں کیونکہ اس شخص نے قرآن کے الفاظ کو بدلا ہے اور ان آیات کو ایسے طریقے سے لکھا ہے جو کہ جہالت سے کم نہیں ہے کیونکہ یہ قرآن کو بدلنے کے برابر ہے کہ ہندسوں میں سورت فاتحہ لکھ کر کہا جائے کہ یہ قرآن کی سورت فاتحہ لکھی ہوئی ہے یہ طریقہ جاہل عجمیوں کا ہےجو قرآن و حدیث کے علم سے بےبہرا تھے یا وہ دین اسلام میں اپنی اپنی مرضی کرکے دین کو بدلنا چاہتے تھے جیسا کہ ایسا ہوچکا ہے کہ لوگ ہر ایسی بات کو جو قرآن اور صحیح حدیث کے خلاف بھی کیوں نہ جاتی ہو اسلام سمجھتے ہیں اور اس پر ایسے ہی عمل کیا جاتا ہے جیسے اس کام کا حکم نبی علیہ السلام نے دیا ہو۔
اللہ ہم سب کو جدید اور قدیم ہر طرح کی جہالتوں اور گمراہیوں سے بچائے اور قرآن و سنت کا پابند بنائے آمین۔

Last edited by محمد عاصم; 16-12-10 at 05:56 PM.
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (15-12-10), saimali (25-11-10), فیصل ناصر (25-11-10), مرزا عامر (24-11-10), مسلم بھائی (22-12-10), ابوسعد (11-12-10), ابن آدم (10-12-10), ارشد کمبوہ (25-11-10), حیدر (30-11-10), عبداللہ آدم (24-11-10), عروج (23-12-10)
پرانا 24-11-10, 11:37 PM   #3
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عاصم بھائی......................تمیمہ کا مطلب آپ نے تعویذ کیا ہے جبکہ دوسری طرف کے علماء اس کا ترجمہ تعویذ کرنا ہی غلط فرماتے ہیں!!!

اور کافی اختاف ہے اس مسئلے میں.
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-11-10), محمد عاصم (25-11-10), مرزا عامر (25-11-10), ارشد کمبوہ (25-11-10)
پرانا 25-11-10, 12:07 AM   #4
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عبداللہ بھائی آپ بتائیں ناں کہ تمیمہ کا کیا معنی کیا جاتا ہے؟؟؟
باقی بات پھر کرونگا ان شاءاللہ
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (25-11-10), فیصل ناصر (25-11-10), مرزا عامر (25-11-10), مسلم بھائی (22-12-10), معاذ بن عدنان (17-01-11), ارشد کمبوہ (25-11-10), عبداللہ آدم (25-11-10)
پرانا 10-12-10, 05:22 PM   #5
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
عاصم بھائی......................تمیمہ کا مطلب آپ نے تعویذ کیا ہے جبکہ دوسری طرف کے علماء اس کا ترجمہ تعویذ کرنا ہی غلط فرماتے ہیں!!!

اور کافی اختاف ہے اس مسئلے میں.
عبداللہ آدم بھائی ابھی تک آپ نے تمیمہ کا معنی نہیں بتایا کہ تعویذ کے علاوہ کیا معنی کیا جاتا ہے؟؟؟
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
پرانا 10-12-10, 05:47 PM   #6
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تعویز سے بندے کو تسلی ہوجاتی ہے۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
ارشد کمبوہ (10-12-10)
پرانا 10-12-10, 07:53 PM   #7
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,804
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
عاصم بھائی ابھی ٹائم بہت تھوڑا ہے۔ مراسلہ بعد میں آکر پڑھوں گا۔
مختصر بتادیں کہ دورنبوت میں کاتب تعویذ کون تھا۔
شکریہ
ارشد کمبوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا
پرانا 11-12-10, 11:20 PM   #8
Senior Member
 
ابوسعد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مقام: فوق الارض
عمر: 36
مراسلات: 456
کمائي: 10,513
شکریہ: 1,763
319 مراسلہ میں 856 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابوسعد کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post تعویذ کی شرعی حیثیت

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تعویذ‌کے معاملہ میں حدود کو پھلانگ دیا گیا ہے اور واقعی یہ کام ایک منافع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کرچکا ہے،جس میں منافع تو سارے کا سارا تعویذ کی دکان کھولنے والوں کاہےلیکن دوسری طرف اگر دیکھا جائےتو تعویذ لینے والوں کو عقیدہ کے لحاظ سے بہت نقصانات اٹھانا پڑتے ہیں‌ اور وہ خدائے وحدہ لاشریک کے بجائے کاغذ کے ان ٹکڑوں پر اعتماد کرنے لگتے ہیں‌۔ ہمیں بحیثیت ایک مسلمان کے یہ معلوم کرنا چاہئیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل اس سلسلہ میں کیا رہا۔احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے معلوم ہو تاہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو شیطان سے پناہ مانگنے کی دعائیں سکھایا کرتے تھے،اور اس طرح سے ہر شخص‌کا براہ راست اپنے رب سے تعلق جوڑا کرتے تھےاس لئے ہمیں کوئی واضح حدیث ایسی نہیں ملتی جس میں یہ بیان کیا گیا ہوکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چند ایک صحابہ کو دعائیں سکھائیں اور باقی حضرات سے فرمادیا کہ آپ لوگ ان سے تعویذ بنوالیا کریں۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استخارہ صحابہ کو سکھایا کرتے تھے اور سکھانے میں اتنا اہتمام فرماتے کہ صحابہ کرام فرماتے ہیں‌،"جیسے ہمیں قران کی کو ئی سورت سکھا رہے ہوں"یہ نہیں کیا کہ چند بڑے حضرات کو استخارہ سکھایا ہو اور باقیوں سے یہ فرمادیا ہو کہ آپ لوگ بھی ان سے استخارہ "نکلوالیا"کریں۔
لیکن ہم نے اس کو بھی کاروبار بنادیا اور جگہ جگہ استخارہ کی "دکانیں"کھل گئیں جہاں نہ صرف یہ کہ سادہ لوح لوگوں کو بے وقوف بناکر لوٹا جاتا ہے بلکہ ان کا اپنے رب سے تعلق بھی کمزور کردیاجاتاہے۔
اب سوال پید اہوتا ہے کہ اگر کسی کو پڑھنا نہ آتاہو یا وہ دعاؤں‌کو یاد نہ کرسکتاہو تو ایسا شخص کیا کرے۔
اس کا حل ہمیں احادیث مبارکہ میں مل جاتا ہے۔حدیث ملاحظہ فرمائیے۔
عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ اَن رسول اللہِ صلّی اللہُ علیہ وسلم قال:اِذا فزِعَ اَحدُکم فی النومِ فلیقُلۡ ؛اَعُوۡذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامّاتِ مِنۡ غَضَبِہ وَعِقَابِہ وَشَرِّ عِبَادِہ وَمِنۡ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِیۡنِ وَاَنۡ یَحۡضُرُوۡنَ؛ فانھا لن تضرہ،وکان عبداللہ بن عمرو یعلمھا من بلغ من ولدہ و من لم یبلغ منھم کتبھا فی صک ثم علقھا فی عنقہ،(رواہ ابوداؤد والترمذی وھذا لفظہ)۔۔۔۔۔۔(مشکو ۃ المصابیح صفحہ ۲۱۷)
ترجمہ ؛۔عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور (ان کے واسطے سے) اپنے داد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی خواب میں ڈرجائے تو وہ یہ کلمات پڑھے؛اَعُوۡذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامّاتِ مِنۡ غَضَبِہ وَعِقَابِہ وَشَرِّ عِبَادِہ وَمِنۡ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِیۡنِ وَاَنۡ یَحۡضُرُوۡنَ؛تو شیاطین اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے گا،اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ یہ کلمات اپنے بالغ بچوں کو تو سکھادیتے تھے اور نابالغ بچوں کے لئے ایک پرچہ میں لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے۔
اس حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچوں اور ان پڑھ بالغوں کے لئے صحیح تعویذ بنانے کی گنجائش ہے،اور تعویذ‌کو جائز بتانے والوں کی دلیل بھی یہی حدیث مبارک ہے،لیکن اس کےساتھ ساتھ چند اور بھی شرائط کا لحاظ لازمی ہےحافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ بخاری شریف کی شرح‌میں فرماتے ہیں؛
وقد اَجمعَ العلماءُ علی جواز الرقی عند اجتماع ثلثۃ شروط1)ان یکون بکلام اللہ تعالی وباَسمائہ وصفاتہ(2)وباللسان العربی اَو بما یُعرف معناہ من غیرہ(3) واَن یعتقد اَن الرقیۃ لاتؤثر بذاتھا بل بذات اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔(فتح الباری شرح صحیح البخاری10/195 حدیث نمبر5735)
ترجمہ:۔علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ تعویذ 3شرائط کے ساتھ جائز ہے1۔اللہ تعالیٰ کے کلام،اس کے اسماء یا صفات کی ہو،2۔عربی زبان میں ہو اور اگر کسیاور زبان میں ہو تو اس کا ترجمہ معلوم ہو،3۔تعویذ استعمال کرنے والے کا عقیدہ یہ ہو کہ تعویذ میں بذات خود کوئی اثر نہیں بلکہ اس میں اثر اللہ تعالیٰ نے ڈالا ہے۔
اسکی تائید بھی مسلم شریف کی اس حدیث سے ہوتی ہے۔کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لاباۡس بالرّقی ما لم یکن فیہ شرکٌ؛

یعنی تعویذ میں کوئی حرج نہیں جب تک اسمیں شرکیہ الفاظ نہ ہوں۔
اس لئے کوشش کرنی چاہئیے کہ قرآنی دعاؤں اور مسنون اذکار کو اپنایا جائے او ر حتی الامکان تعویذ گنڈے سے بچاجائے اور اگر کبھی کوئی شدیدضرورت پیش آئے تو کسی مستند عالم سے رجوع کیا جائے۔
اللہ تعالی ہم سب کو سیدھی راہ چلائے۔

Last edited by ابوسعد; 12-12-10 at 06:29 AM.
ابوسعد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ابوسعد کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (12-12-10), مرزا عامر (12-12-10), معاذ بن عدنان (17-01-11), عبداللہ آدم (26-12-10)
پرانا 12-12-10, 09:20 AM   #9
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماشاءاللہ ابوسعید بھائی آپ نے اچھی تحریر لکھی ہے مگر پہلے آپ نے تعویذ کے خلاف لکھا اور آخر میں اس کے حق میں ایک اثر اور ایک حدیث دی ہے، جہاں تک اثر کا تعلق ہے اس کی تحقیق کر کے اس پر بات کرونگا اور جو حدیث آپ نے پیش کی ہے کہ
اقتباس:
اسکی تائید بھی مسلم شریف کی اس حدیث سے ہوتی ہے۔کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لاباۡس بالرّقی ما لم یکن فیہ شرکٌ؛

یعنی تعویذ میں کوئی حرج نہیں جب تک اسمیں شرکیہ الفاظ نہ ہوں۔
اس میں آپ نے رقی کا معنی تعویذ کیا ہے آپ پھر زرا اس پر توجہ دیں کہ واقع اس کا معنی تعویذ ہی ہے؟؟؟
باقی بات بعد میں ہوگی ان شاءاللہ
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (28-02-11), مسلم بھائی (22-12-10), معاذ بن عدنان (17-01-11), عبداللہ آدم (26-12-10), عبداللہ حیدر (14-12-10)
پرانا 12-12-10, 09:22 AM   #10
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ارشد کمبوہ مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
عاصم بھائی ابھی ٹائم بہت تھوڑا ہے۔ مراسلہ بعد میں آکر پڑھوں گا۔
مختصر بتادیں کہ دورنبوت میں کاتب تعویذ کون تھا۔
شکریہ
ارشد بھائی مجھے علم نہیں کہ دور نبوت میں کون کاتب تعویذ تھا، کاتب وحی کا تو سنا تھا کاتب تعویذ کا پہلی دفعہ سن رہا ہوں۔
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (28-02-11), فیصل ناصر (12-12-10), مسلم بھائی (22-12-10), ارشد کمبوہ (07-01-11), عبداللہ آدم (26-12-10), عبداللہ حیدر (14-12-10)
پرانا 12-12-10, 10:27 PM   #11
Senior Member
 
ابوسعد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مقام: فوق الارض
عمر: 36
مراسلات: 456
کمائي: 10,513
شکریہ: 1,763
319 مراسلہ میں 856 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابوسعد کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post رقیہ،تعویذ اور،تمیمہ

1۔عاصم بھائی!شاید آپ نے میری تحریر توجہ سے نہیں پڑھی میں نے تعویذ‌کے خلاف نہیں لکھا بلکہ اس کو کاروبار بنانے کے خلاف لکھا مقصد یہ تھا کہ عام حالات میں ،اور پڑھے لکھے لوگوں کو تو مسنون اوراد واذکار بتلائے جائیں اور نابالغ بچوں اور دیگر ان پڑھ لوگوں کو ضرورت کے وقت تعویذ بناکر دے دیا جائے تو اس میں حرج نہیں۔
البتہ شرائط (جو میری پہلی تحریر میں ذکر ہیں)کا لحاظ ضروری ہے۔


2۔دوسری بات آپ نے کہا کہ رقی کا ترجمہ تعویذ ہے؟
آپ کے توجہ دلانے پر میں نے اس کو بھی دیکھا۔اور اس وقت دو کتابیں میسر آئیں جن میں اس کے بارے میں لکھا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباری شرح بخاری میں لکھاہے۔
"قولہ(باب الرقٰی)بضم الرا وبالقاف مقصور:جمع رقۡیۃ'بسکون القاف'،یقال رقَی 'بالفتح' فی الماضی،یرقِی'بالکسر' فی المستقبل،ورقِیتُ فلانا 'بکسرالقاف'اَرقِیہ واَسترقِی 'طلب الرقۡیہ،والجمیع بغیر ھمز،وھو بمعنی التعویذ'بالذال المعجمۃ۔(فتح الباری شرح صحیح البخاری،کتاب الطب،باب32،حدیث نمبر5735)
ترجمہ:۔رُقی ،را کے پیش اور قاف(کھڑا زبر) کے ساتھ،رُقۡیۃٌ کی جمع ہے(قاف کے سکون کے ساتھ)ماضی میں رَقَی،مستقبل میں یَرۡقِیۡ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ تعویذ کے معنی میں‌ہے۔
مصباح اللغات میں ہے:
الرقۡیَۃ،منتر،افسوں،تعویذ ،جمع رُقٰی ورُقۡیات ورُقَیات،صفحہ 291
3۔بھائی عبداللہ آدم صاحب نے فرمایا تھا کہ دوسری طرف کے علماء "تمیمہ"کا معنی تعویذکرناہی غلط بتاتے ہیں،اس سلسلہ میں حافظ ابن حجر کا ارشاد ملاحظہ ہو فرماتے ہیں۔
"والتمائم جمع تَمِیۡمَۃٍ وھی خرز اَو قلادۃ تعلق فی الراس،کانوا فی الجاھلیۃ یعتقدون اَن ذالک یدفع الآفات۔(حوالہ بالاصفحہ 240)
ترجمہ:۔ تمائم ،تمیمۃ‌کی جمع ہے اور یہ ان گھونگوں یا ہار کو کہا جاتاہے جو سر میں باندھے جاتے تھے،جاہلیت کے زمانہ میں لوگو کا یہ عقیدہ تھا کہ آفات کو دور کردیتے ہیں۔
ابوسعد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ابوسعد کا شکریہ ادا کیا
پرانا 12-12-10, 11:06 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,134
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پیارے جب تعویزکیخلاف نہیں توبحث کس بات کی۔رہی بات کاروباربنانے کی تو یہ کام کرنےشیطان بیٹھےہیں۔وہ جادو والے شرکیہ الفاظ کےتعویزات دیتےہیں انکےاشتہارات شائع ہوتے ہیں اس کفر وشرک کیخلاف آواز کوئی بلندنہیں کرتا۔جتنے ڈبہ پیروں کےاشتہارات آتے ہیں یہ سب شیطان کےپجاری ہیں۔یہ لوگوں کے گھربرباد کرتےہیں۔ہرکام سوفیصدگارنٹی کیساتھ یہ خودایک قسم کا کفر ہے۔کیونکہ بغیرمسئلہ پریشانی جانےاتنا بڑا دعوی جیسےانکو وحی ہو گئی۔ان ڈبہ پیروں،جادوگروں اورشیطانی عاملوں نےمعاشرےکی بربادی میں بہت کردار اداکیا ہے۔کئی گھرانوں کی تباہی میں ان لوگوں کاہاتھ ہے۔
کئی بڑے تعلیم یافتہ لوگ بھی ایسے گندےکاموں کے ذریعےاپنےہی رشتہ داروں کے گر تباہ کرواتے ہیں۔کسی کے ناجائز اور حرام کام کیوجہ سے حلال اورجائز کام کو حرام نہیں قرار دیاجاتا۔
غیاث آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے غیاث کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (14-12-10), مسلم بھائی (22-12-10), معاذ بن عدنان (17-01-11), ابوسعد (13-12-10), عبداللہ آدم (26-12-10), عروج (23-12-10)
پرانا 14-12-10, 09:35 AM   #13
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ابو سعد بھائی میں نے کافی جواب لکھ لیا ہوا ہے مگر وقت نہ ملنے کی وجہ سے ابھی مکمل نہیں کر سکا امید ہے کہ آج رات کو مکمل کر کے جواب پوسٹ کرونگا ان شاءاللہ
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (28-02-11), فیصل ناصر (14-12-10), مسلم بھائی (22-12-10), عبداللہ آدم (26-12-10)
پرانا 14-12-10, 10:48 PM   #14
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا حَتَّی نَزَلُوا عَلَی حَيٍّ مِنْ أَحْيَائِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ فَلُدِغَ سَيِّدُ ذَلِکَ الْحَيِّ فَسَعَوْا لَهُ بِکُلِّ شَيْئٍ لَا يَنْفَعُهُ شَيْئٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلَائِ الرَّهْطَ الَّذِينَ نَزَلُوا لَعَلَّهُ أَنْ يَکُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَيْئٌ فَأَتَوْهُمْ فَقَالُوا يَا أَيُّهَا الرَّهْطُ إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ وَسَعَيْنَا لَهُ بِکُلِّ شَيْئٍ لَا يَنْفَعُهُ فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْکُمْ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ نَعَمْ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْقِي وَلَکِنْ وَاللَّهِ لَقَدْ اسْتَضَفْنَاکُمْ فَلَمْ تُضَيِّفُونَا فَمَا أَنَا بِرَاقٍ لَکُمْ حَتَّی تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا فَصَالَحُوهُمْ عَلَی قَطِيعٍ مِنْ الْغَنَمِ فَانْطَلَقَ يَتْفِلُ عَلَيْهِ وَيَقْرَأُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَکَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَانْطَلَقَ يَمْشِي وَمَا بِهِ قَلَبَةٌ قَالَ فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمْ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ اقْسِمُوا فَقَالَ الَّذِي رَقَی لَا تَفْعَلُوا حَتَّی نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَذْکُرَ لَهُ الَّذِي کَانَ فَنَنْظُرَ مَا يَأْمُرُنَا فَقَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرُوا لَهُ فَقَالَ وَمَا يُدْرِيکَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ثُمَّ قَالَ قَدْ أَصَبْتُمْ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَکُمْ سَهْمًا فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَکِّلِ بِهَذَا

ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت سفر کے لئے روانہ ہوئی یہاں تک کہ عرب کے ایک قبیلہ میں پہنچی اور ان لوگوں سے چاہا کہ مہمانی کریں انہوں نے مہمانی کرنے سے انکار کر دیا اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا لوگوں نے ہر طرح کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا تو ان میں سے بعض نے کہا کہ تم اگر ان لوگوں کے پاس جاتے جو اترے ہیں تو شاید ان میں کسی کے پاس کچھ ہو چناچہ وہ لوگ آئے اور ان سے کہنے لگے کہ اے لوگو! ہمارے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے اور ہم نے ہر طرح کی تدبیریں کیں لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا کیا تم میں سے کسی کو کوئی تدبیر معلوم ہے ان میں سے بعض نے کہا ہاں اللہ کی قسم میںجھاڑ پھونک کرتا ہوں لیکن ہم نے تم لوگوں سے مہمانی طلب کی لیکن تم نے ہماری مہمانی نہیں کی اس لئے اللہ کی قسم میں جھاڑ پھونک نہیں کروں گا جب تک کہ ہمارے لئے اس کا معاوضہ نہ کرو چناچہ انہوں نے بکریوں کے ایک ریوڑ پر مصالحت کی یعنی اجرت مقرر کی ایک صحابی اٹھ کر گئے اور سورۃ الحمد پڑھ کر پھونکنے لگے اور فورا اچھا ہو گیا گویا کوئی جانور رسی سے کھول دیا گیا ہو اور وہ اس طرح چلنے لگا کہ اسے کوئی تکلیف ہی نہ تھی اس نے کہا کہ ان کو وہ معاوضہ دے دو جو ان سے طے کیا گیا تھا ان میں سے بعض نے کہا کہ ان بکریوں کو بانٹ لو جنہوں نے منتر پڑھا تھا انہوں نے کہا ایسا نہ کرو جب تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہ پہنچ جائیں اور آپ سے وہ واقعہ بیان کریں جو گزرا پھر دیکھیں کہ آپ کیا حکم، دیتے ہیں وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں کس طرح معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ ایک منتر ہے پھر فرمایا تم نے ٹھیک کیا تم تقسیم کرلو اور اس میں ایک حصہ میرا بھی لگاؤ اور یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے اور شعبہ نے کہا مجھ سے ابوبشر نے بیان کیا میں نے ابوالمتوکل سے یہ حدیث سنی ہے۔



صحیح بخاری:جلد اول:باب:قبائل عرب کو سورۃ فاتحہ پڑھ کرپھو نکنے کے عوض اجرت دئے جانے کا بیان اور ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا آپ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ اجرت لینے کے لائق اللہ کی کتاب ہے اور شعبی نے کہا کہ معلم شرط نہ کرے لیکن اگر کوئی چیزاسے دی جائے تو وہ اسے قبول کرے اور حکم نے کہا کہ میں نے کسی کے متعلق نہیں سنا کہ معلم کی اجرت کو مکروہ سمجھا ہو اور حسن نے دس درہم دئے اور ابن سیرین نے تقسیم کرنے والے کی اجرت میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا اور کہا سحت فیصلہ میں رشوت لینے کو کہا جاتا ہے اور لوگ اندازہ کرنے میں اجرت دیتے تھے ۔



اس حدیث میں واضح طور پر رُقی کا معنی منتر جھاڑ پھونک کے معانی میں آرہا ہے اگر یہاں رُقی کا معنی تعویذ کیا جائے تو آپ مجھے بتائیں گے کہ پھر اس ساری حدیث کا ترجمہ کس طرح کیا جائے گا؟؟؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ أَنْ يُسْتَرْقَی مِنْ الْعَيْنِ


محمد بن کثیر، سفیان، معبد بن خالد، عبد اللہ بن شداد، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یا یہ بیان کیا کہ آپ نے نظر بد لگ جانے پر


منتر پڑھ کر پھونکنے کا حکم دیا۔
صحیح بخاری:جلد سوم:نظر لگ جانے پر منتر پڑھنے کا بیان



اس حدیث میں بھی جو لفظ بولا گیا ہے وہ يُسْتَرْقَی جس کے معنی منتر پھڑھنا ہے نہ کہ تعویذ لٹکانا، اور اگر آپ پھر بھی بضد ہیں تو پھر اس حدیث کا بھی اردو ترجمہ کریں۔



حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَثَابِتٌ عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَقَالَ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ اشْتَکَيْتُ فَقَالَ أَنَسٌ أَلَا أَرْقِيکَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَلَی قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ شِفَائً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا



مسدد، عبدالوارث، عبدالعزیز سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں اور ثابت، انس بن مالک کے پاس گئے تو ثابت نے کہا کہ اے ابوحمزہ! میں بیمار ہوگیا ہوں تو انس نے کہا کہ کیا میں تم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا منتر پڑھ دوں انہوں نے کہا کہ ہاں۔ انس نے پڑھا اے اللہ! لوگوں کے معبود، سختی دور کرنے والے شفاء دے تو ہی شفا دینے والا ہے ایسی شفا دے جو بیماری کو نہ چھوڑے۔



صحیح بخاری:جلد سوم:باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منتر پڑھنے کا بیان



اور اس حدیث میں تو بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ رُقی کا معنی تعویذ نہیں بلکہ منتر ہے کیونکہ نبی علیہ السلام یہی دعا بیماروں پر پڑھا کرتے تھے اگر رُقی کا معنی تعویذ کیا جائے تو یہ نبی علیہ السلام پر جھوٹ باندھنا ہوگا کہ آپ بیماروں کو یہ تعویذ باندھا کرتے تھےجب کہ ایسا ایک بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے کہ نبی علیہ السلام نے کبھی کسی کو تعویذ باندھا ہو بلکہ ایسی احادیث ملتی ہیں جن میں تعویذ باندھنے کو شرک کہا گیا ہے جو کہ اوپر تحریر میں درج ہیں، اس طرح تو متضاد حدیثیں وجود میں آ جائیں گی جس سے منکرینِ حدیث کو ہی تقویت ملے گی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ قَالَ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ قَالُوا وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هُمْ الَّذِينَ لَا يَکْتَوُونَوَلَا يَسْتَرْقُونَ وَعَلَی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُونَ فَقَامَ عُکَّاشَةُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتَ مِنْهُمْ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ


یحیی بن خلف باہلی، معتمر، ہشام بن حسان، محمد بن سیرین، عمران فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ کون سے لوگ ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے کہ جو نہ داغ لگوائیں گے اور نہ منتر::دم::پڑھتے ہوں گے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوں گے عکاشہ یہ سن کر کھڑے ہوگئے عرض کی اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرمائیں اللہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے جو بغیر حساب جنت میں جائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم انہی میں سے ہو پھر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کر دے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا۔



صحیح مسلم:جلد اول:باب:بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں



اب اس حدیث کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ رُقی کا معنی تعویذ کرنا ہی غلط اور باطل ہے یہ صرف اس لیے ایسا معنی کیا گیا ہے کہ تاکہ اس تعویذ سازی کے کاروبار کو تقویت دی جاسکے جب کہ یہ کام اسلام میں حرام ہے جس کی ممانعت نبی علیہ السلام نے خود کی ہےاب دوسرے باطل امور کو اسلام میں داخل کرنے کی ناپاک سازش کی جارہی ہے۔
اس حدیث میں بھی جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ
وَلَا يَسْتَرْقُونَترجمہ: اور نہ منتر::دم::پڑھتے ہوں گے،اب اس کا معنی تعویذ لٹکانا کیسے کیا جائے گا؟؟؟



اب تمیمہ پر بات کرتا ہوں تمیمہ بمعنی تعویذ بھی ہے اور گھونگوں یا ہار کو بھی کہتے ہیں اس بارے میں جو احادیث اور اثار ملتے ہیں .
حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی بیوی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرے گردن میں دھاگہ پڑا ہوا دیکھا توپوچھا یہ کیاہے ؟ میں نے کہا یہ دھاگہ ہے جس پر میرے لئے منتر پڑھا گیا ہے (یعنی منتروں کے ذریعہ اس دھاگے کا گنڈہ بنوا کر میں نے اپنے گلے میں ڈال لیا ہے ) زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (یہ سن کر ) اس دھاگے کو (میری گردن سے ) نکال لیا اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور پھر کہا کہ اے عبد اللہ کے گھر والو ، تم شرک سے بے پرواہ ہو،


میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بلا شبہ منتر منکے ، اورٹوٹکے شر ک ہیں ۔ میں نے کہا آپ یہ بات کس طرح کہہ رہے ہیں (یعنی آپ گویا منتر سے اجتناب کرنے اور توکل کو اختیار کرنے کی تلقین کررہے ہیں جب کہ مجھ کو منتر سے بہت فائدہ ہواہے ) چنانچہ میری آنکھ (درد کے سبب ) نکلی پڑی تھی اور میں فلاں یہودی کے ہاں آیا جایا کرتی تھی اس یہودی نے جب منتر پڑ ھ کر آنکھ کو دم کیا توآنکھ کو آرام مل گیا ۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ (یہ تمہاری نادانی وغفلت ہے ) اور وہ درد اس کا اچھا ہوجانا منتر کے سبب سے نہیں تھا بلکہ (حقیقت میں ) وہ شیطان کا کام تھا ،شیطان تمہاری آنکھ کو کونچتا تھا (جس سے تمہیں درد محسوس ہوتا تھا) پھر جب منتر پڑھاگیا تو (چونکہ وہ ایک شیطان کا کام تھا اس لئے ) شیطان نے کونچنا چھوڑ دیا ، تمہارے لئے وہ دعا بالکل کافی تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے کہ ۔ اذھب الباس رب الناس واشف انت الشافی لاشفا ء الا شفائک شفاء لا یغادر سقما (یعنی اے لوگوں کے پروردگار توہماری بیماری کو کھودے اور شفا عطا فرما (کیونکہ ) توہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے علاوہ شفا نہیں ہے ، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے ! ۔" (ابو داؤد )
مشکوۃ شریف:جلد چہارم:باب:ٹوٹکہ کی ممانعت



ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کے ہاتھ میں گنڈا::دم کیا ہوا دھاگہ:: بندھا ہوا دیکھا جو اس نے بخار دور کرنے کے لیے باندھا تھا آپ اس دھاگے کو کاٹ دیا اور قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی



وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ ١٠٦؁
ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں ۔یوسف:۱۰۶



حضرت عیسی ابن حمزہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت عبداللہ بن عکیم کے پاس گیا تو دیکھا کہ ان کا بدن سرخی کی بیماری میں مبتلا تھا میں نے کہا کہ آپ تعویذ کیوں نہیں باندھ لیتے ؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کام سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص کوئی چیز لٹکاتا ہے یا (باندھتا ہے ) تواسی چیز کے سپر د کردیا جاتا ہے۔ " (ابو داؤد )
مشکوۃ شریف:جلد چہارم:باب:جھاڑ پھونک وغیرہ توکل کے منافی



میرے بھائی آپ ان اثار اور احادیث کو کہاں لے کر جائیں گےجن میں تعویذ کو واضح شرک کہا گیا ہے؟؟؟
دین میں وہی ہے جو ہمیں اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کے ارشادات میں ملتا ہے، اس لیے ہم کو وہی بات لینی چاہیے جو قرآن و صحیح حدیث سے ملے باقی کسی پر کوئی زور ذبردستی نہیں کی جاسکتی کہ وہ ہماری سوچ کے مطابق ہی کام کرئے مگر ہاں جہاں واضح قرآن کی آیت یا حدیث آ جائے وہاں کسی اور کی رائے، قیاس، گمان اور فہم نہیں چل سکتا، وہاں ایک مسلم کو وہی بات لینی چاہیے جو قرآن اور حدیث کی تعلیمات کے مطابق ہو۔

اللہ ہم سب کو قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین

محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (15-12-10), saimali (28-02-11), مسلم بھائی (22-12-10), معاذ بن عدنان (17-01-11), عبداللہ آدم (26-12-10), عروج (23-12-10)
پرانا 15-12-10, 03:23 PM   #15
Senior Member
 
ابوسعد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مقام: فوق الارض
عمر: 36
مراسلات: 456
کمائي: 10,513
شکریہ: 1,763
319 مراسلہ میں 856 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابوسعد کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default تعویذ ،تمیمہ

بھائی آپ تو وہی مرغی کی ایک ٹانگ لئے بیٹھے ہیں۔میری تحریر میں یہ بات کہاں‌تھی کہ "رُقَی" صرف تعویذ‌کے معنی میں ہے او رجھاڑ پھونک،منتر،کے معنی میں نہیں‌،بل کہ اگر آپ میری تحریر کو دوبارہ غور سے غیر جانب دار ہو کر پڑھیں تو دیکھ لیں گے کہ "مصباح اللغات" کے حوالہ میں صاف "منتر،افسوں اور تعویذ" کے الفاظ ہیں،اور معاف کیجئے گامیں حافظ ابن حجر عسقلانی کے مقابلہ میں آپ کی "حدیث فہمی"کا اعتبار نہیں کر سکتا،مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ "رقیۃ"جھاڑ پھونک،منتر اور افسوں کو کہتے ہیں لیکن میں اس بات پر اصرار کرتا ہوں کہ "رقیۃ" تعویذ کوبھی کہتے ہیں اب چاہے آپ تعویذ کو اس کے عام معنی میں لیں یعنی "مَایُعَوّذُ بہ"یا اس سے خاص معنی مروج مراد لیں۔

رہی بات تمیمہ کی تو ‌آپ نے جن احادیث مبارکہ کا حوالہ دیا ہے ان میں سے کسی ایک میں بھی یہ‌ذکر نہیں کہ کسی نے قرآنی دعاؤں،احادیث مبارکہ کے اندر منقول اوراد پر مشتمل کوئی "تعویذ" پہنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرمادیا بل کہ ممانعت جہاں بھی وارد ہوئی ہے وہ شرکیہ "تمائم "کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہے،اور تمیمہ کا معنی پہلے بتایا جاچکا ہے کہ "تعویذ"نہیں بلکہ "گھونگے اور ہار"ہے۔دوسری طرف حضرت عبداللہ بن عمرو کا عمل احادیث‌کی دعاؤں پر مشتمل تعویذ بنوانے اور استعمال کرنے کی واضح دلیل بھی ہے(جس سے آپ نے کوئی تعرض نہیں کیا)
آپ کا کہنا ہے کہ اگر تعویذ کی اجازت دی جائے تو ان احادیث کا کیا جائے جن میں بقول آپ کئے "تعویذ" کی ممانعت ہے۔
تو اس کا جواب تو بالکل سیدھا سادا ہے کہ جن احادیث‌میں "تعویذ" کی اجازت ہے اس سے وہ تعویذ مراد ہے جو قرآن وحدیث کی دعاؤں اور اللہ تعالی کے اسمائے مبارکہ پر مشتمل ہو اور جن احادیث میں ممانعت ہے اس سے وہ تعویذ مراد ہے جو کفریہ ،شرکیہ الفاظ پر مشتمل ہو یا ایسے الفاظ پر مشتمل ہو جن کے معنی معلوم نہ ہوں۔والعلم عنداللہ
ابوسعد آف لائن ہے   Reply With Quote
ابوسعد کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
ہندو, پاک, قرآن, نظر, مکمل, موت, ممکن, مجید, معلوم, آج, اللہ, انسان, اسلام, بھائی, جلد, حکم, حدیث, حسن, خلاف, زمانہ, سفر, عقل, صحابہ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
موجودہ عدالتی نظام کی شرعی حیثیت عبداللہ آدم عمومی بحث 19 21-02-11 11:30 AM
مولود مروج کی شرعی حیثیت sahj عمومی بحث 9 23-12-10 09:05 AM
خلافت و ملوکیت۔۔تاریخی و شرعی حیثیت عبداللہ حیدر کتاب گھر 26 03-08-10 06:46 AM
جہیز کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ علی عمران مذہبی مسائل اور ان کا حل 24 24-02-09 01:59 AM
زرعی شعبہ کی اہمیت اور آئندہ انتخابات ؟,,,,معاشی حقائق…سکندر حمید لودھی خرم شہزاد خرم خبریں 0 29-10-07 10:23 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:12 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger