واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > کفروشرک



کفروشرک کفروشرک


جشن میلاد النبی ناجائز کیوں ؟ اور جلوس اہلحدیث اور جشن دیوبند کا جواز کیوں ؟

Like Tree1Likes

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-09-11, 11:28 PM   #1
جشن میلاد النبی ناجائز کیوں ؟ اور جلوس اہلحدیث اور جشن دیوبند کا جواز کیوں ؟
ملک اظہر ملک اظہر آن لائن ہے 20-09-11, 11:28 PM

جشن میلاد النبی ناجائز کیوں ؟ اور جلوس اہلحدیث اور جشن دیوبند کا جواز کیوں ؟
از: پاسبان مسلک رضا ، نباض قوم،
مولانا ابوداؤد محمد صادق قادری رضوی
امیر جماعت رضائے مصطفٰی پاکستان گوجرنوالہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


وَاِن تعدو نِعمَۃَ اللّٰہ ِ لَا تَحصُو ھَا۔

اور اگر اللہ کی نعمتوں کو گنو تو شما ر نہ کرسکوگے ۔ پارہ نمبر 12 رکوع نمبر 17

بے شک اللہ تعالیٰ کی نعمتیں لاتعداد اور بے حساب اور حد شمار سے باہر ہیں ، مگر ان سب نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت بلکہ تمام نعمتوں کی جان ، جان ِ جہان و جانِ ایمان حضور پر نور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات ہے ، جن کے طفیل باقی سب نعمت و انعامات ہیں ، اعلیٰ حضرت مجددّ دین و ملت مولانا امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی نے فرمایا :۔

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے

اس لئے اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑھ کر ، سب سے زیادہ اور بہت ہی اہتمام و تاکید کے ساتھ آپ کی ذات بابرکات کے بھیجنے کا احسان ظاہر فرمایا ۔ لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم ۔ بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا ، مسلمانوں پر کہ ان میں انہی سے ایک رسول بھیجا ۔ (پ 14 ، رکوع 8 ) چونکہ ایمانداروں پر سب سے بڑی نعمت کا سب سے بڑا احسان ظاہر فرمایا ہے ، اس لئے اہل ایمان اس کی سب سے بڑھ کر قدرو منزلت جانتے ہیں اور اس کا سب سے زیادہ شکر ادا کرتے ہیں اور جس ماہ یوم میں اس احسان و نور و نعمت کا ظہور ہوا ، اس میں اس کا بالخصوص چرچا و مظاہرہ کرتے ہیں، اس لئے کہ مولیٰ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جابجا اپنی نعمتوں کی تذکیر تشکر اور ذکر اذکار کا حکم فرمایا ہے ، خاص طور پر سورۃ الضحیٰ میں ارشاد ہوا ہے ۔ واما بنعمۃ ربک فحدث ۔ ( اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔پ 30 رکوع 18 ۔) پھر بطور خاص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے نعم اللہ ہونے کا بیان اور ناشکری و ناقدری کرنے والے بے دینوں کا رد فرمایا ۔ الم تر الی الذین بدلو انعمۃ اللہ کفراََ۔ ( کیا تم نے انہیں نہ دیکھا ، جنہوں نے اللہ کی نعمت نا شکری سے بدل دی ۔ پ 13 رکوع 17 ۔) بخاری شریف و دیگر تفاسیر میں سید المفسرین حضرت عبد اللہ ابن عباس و حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :: کہ ناشکری کرنے والے کفار ہیں ۔ ومحمدنعمۃ اللّٰہ ۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نعمت ہیں ( بخاری شریف جز ثالث صفحہ 6 ) جب اللہ کے فرمان اور قرآن سے ثابت ہوگیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے خاص نعمت ہیں جس پر اللہ نے اپنے خاص احسان کا ذکر فرمایا اور پھر نعمت کا چرچا کرنے کا بھی حکم دیا تو اب کون مسلمان و اہل ایمان ہے جو آپ کی ذات بابرکات ، نور کے ظہور اور دنیا میں جلوہ گری و تشریف آوری کی خوشی نہ منائے ، شکر ادا نہ کرے اور سب سے بڑی نعمت کا سب سے بڑھ کر چرچا و مظاہرہ پسند نہ کرے اور نعمت عظمٰی کے خصوصی شکرانہ اور چرچا و مظاہرہ کے لئے جشن عید میلا النبی صلی اللہ علیہ وسلم مولود شریف اور یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس مبارک پر برا منائے اور زبان طعن دراز کرے ۔ مفسر قرآن حضرت مفتی احمد یار خاں مرحوم نے کیا خوب فرمایا ہے :۔

حبیب حق ہیں خدا کی نعمت بنعمۃ ربک فحدث
یہ فرمان مولٰی پر عمل ہے جو بزم مولد سجارہے ہیں

رحمت کے خوشی :۔

قرآن ہی میں یہ بھی بیان ہے کہ ( تم فرماؤ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر چاہیے ، کہ خوشی کریں ، وہ ان کی سب دھن دولت سے بہتر ہے )۔ پ 11 رکوع 11 ۔جس طرح اوپر نعمت کا چرچا کرنے کا ذکر ہوا ہے ، اسی طرح یہاں فضل و رحمت پر خوشی منانے کا بیان ہے اور کون مسلمان نہیں جانتا کہ اللہ کا سب سے بڑا فضل اور سب سے بڑی رحمت بلکہ جانِ رحمت اور رحمۃ اللعالمین (پ17 رکوع 7 ) آپ کی ذاتِ بابرکات ہے یہاں فضل و رحمت سے اگر کوئی بھی چیز مراد لی جائے تو یقینا وہ بھی آپ ہی کا صدقہ وسیلہ اور طفیل ہے ، لہذا آپ بہر صورت بدرجہ اولیٰ فضل الہٰی و رحمت خداوندی اور نعمۃ اللہ ہونے کا مصداق کامل ہیں ، کیونکہ دونوں جہان میں آپ کا ہی سب فیضان ہے اور آپ کی خوشی منانا ، چرچا و مظاہرہ کرنا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان و فرمان خداوندی کے تحت و اس کے مطابق ہے ، نہ کہ معاذ اللہ اس کے مخالف و منکر اور شرک و بدعات ۔

خدا کا شکر نعمت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رفعت ہے
یہ دونوں کی اطاعت ہے قیام محفل مولد
حصول فیض و رحمت ہے نزول خیر و برکت ہے
حصول عشق حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے قیام محفل مولد
نہ اس میں رفع سنت ہے نہ شرک و کفر بدعت ہے
یہ رد شرک و بدعت ہے قیام محفل مولد

یوم ولادت کی اہمیت :۔

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر شریف (سوموار) کا روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا : فیہ ولدت وفیہ انزل علیہ ۔ یعنی اسی دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔ (مشکوۃ شریف صفحہ 179 ) اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور یوم نزول قرآن کی اہمیت اور اس دن کی یادگار منانا اور شکر نعمت کے طور پر روزہ رکھنا ثابت ہوا جیسے ہفتہ وار دنوں کے حساب سے یوم ولادت و یوم نزول قرآن کی یادگار اہمیت ہے ویسے ہی سالانہ تاریخ کے حساب سے بھی یوم ولادت و یوم نزول قرآن کی اہمیت و امت میں مقبولیت ہے ، جس طرح نزول قرآن کا دن پیر 27 رمضان المبارک کو سالانہ یادگار منائی جاتی ہے ، اسی طرح یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دن پیر 12 ربیع الاوّل میں ہونے کے باعث اہل اسلام میں ماہ ربیع الاوّل و 12 ربیع الاوّل کی سالانہ یادگار منائی جاتی ہے ۔ بلکہ امام احمد بن محمد قسطلانی شارح بخاری اور شیخ محقق علامہ عبد الحق محدّث دہلوی شارح مشکوٰۃ ( رحمۃ اللہ علیہما ) جیسے محدثین نے نقل فرمایا کہ امام احمد بن حنبل جیسے امام واکابر علماءامت نے تصریح کی ہے کہ شب میلاد شب قدر سے افضل ہے ۔ نیز فرمایا جب آدم علیہ السلام کی پیدائش کے دن جمعۃ المبارک میں مقبولیت کی ایک خاص ساعت ہے تو سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد کی ساعت کے متعلق تیرا کیا خیال ہے ۔( اس کی شان کا کیا عالم ہوگا)۔(زرقانی شرح مواہب جلد 1 صفحہ135.136 ۔ مدارج النبوت جلد 2 صفحہ 13 ) اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی کیا خوب ترجمانی کی ۔

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

لفظ عید کی تحقیق :۔

مذکورہ ارشادات کی روشنی میں مزید عرض ہے کہ بفرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جمعۃ المبارک آدم علیہ السلام کی پیدائش کا دن بھی ہے اور عید کا دن بھی ہے بلکہ عند اللہ عید الاضحٰی اور عید الفطر سے بھی بڑا دن ہے ۔( مشکوٰۃ شریف صفحہ 123/140 ) ملخصاََ لہذا جب سیدنا آدم علیہ السلام کی پیدائش کا دن عید کا دن بلکہ دونوں عیدوں سے بڑھ کر ہوسکتا ہے تو سیدنا سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کا یوم پیدائش عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں ہوسکتا ؟ جب کہ سب کچھ آپ کا ہی فیضان ، آپ کے دم قدم کی بہار اور آپ ہی کے نور کا ظہور ہے ۔

ہے انہی کے دم قدم سے باغ عالم میں بہار
وہ نہ تھے عالم نہ تھا گروہ نہ ہوں عالم نہیں

صحابہ کا فتویٰ :۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت الیوم اکملت لکم دینکم ۔ تلاوت فرمائی ۔ تو ایک یہودی نے کہا : اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے ۔ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا :: یہ آیت نازل ہی اسی دن ہوئی جس دن دو عیدیں تھیں ۔(یوم جمعہ اور یوم عرفہ ) مشکوٰۃ شریف صفحہ 121 ۔۔ مرقات شرح مشکوۃ میں اس حدیث کے تحت طبرانی وغیرہ کے حوالہ سے بالکل یہی سوال و جواب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے ، مقام غور ہے کہ دونوں جلیل القدر صحابہ نے یہ نہیں فرمایا ، کہ اسلام میں صرف عید الفطر اور عید الاضحی مقرر ہیں اور ہمارے لئے کوئی تیسری عید منانا بدعت و ممنوع ہے ۔ بلکہ یوم جمعہ کے علاوہ یوم عرفہ کوبھی عید قرار دے کر واضح فرمایا کہ واقعی جس دن اللہ کی طرف سے کوئی خاص نعمت عطا ہو خاص اس دن بطور یادگار عید منانا ، شکر نعمت اور خوشی کا اظہار کرنا جائز اور درست ہے علاوہ ازیں جلیل القدر محدث ملا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری نے اس موقع پر یہ بھی نقل فرمایا کہ ہر خوشی کے دن کے لئے لفظ عید استعمال ہوتا ہے ، الغرض جب جمعہ کا عید ہونا ، عرفہ کا عید ہونا ، یوم نزول آیت کا عید ہونا ہر انعام و عطا کے دن کا عید ہونا اور ہر خوشی کے دن کا عید ہوناواضح و ظاہر ہوگیا تو اب ان سب سے بڑھ کر یوم عید میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عید ہونے میں کیا شبہ رہ گیا ۔ جو سب کی اصل و سب مخلوق سے افضل ہیں ۔ مگر :

آنکھ والے تیرے جلووں کا نظارہ دیکھے
دیدہ ء کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے

قرآن کی تائید :

عیسٰی ابن مریم نے عرض کی : اے اللہ ! اے رب ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار ۔ کہ وہ دن ہمارے لئے عید ہوجائے اگلوں او ر پچھلوں کی ۔(پارہ 7 آیت 114 سورہ المائدہ )
سبحان اللہ !! جب مائدہ اور من و سلویٰ جیسی نعمت کا دن عید کا دن قرار پایا ۔ تو سب سے بڑی نعمت یوم عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عید ہونے میں کیا شک رہا ؟

محدثین کا بیان :

امام احمد بن محمد قسطلانی علامہ محمد بن عبد الباقی زرقانی اور شیخ محقق علامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ دعائیہ بیان نقل فرمایا : فرحم اللہ امراءاتخذ لیالی شھر مولدہ المبارک اعیادہ ۔ اللہ اس شخص پر رحم فرمائے ، جو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماہ میلاد کی راتوں کو عیدوں کی طرح منائے ۔(زرقانی شرح المواہب جلد اول صفحہ 139 ۔ ماثبت من السنۃ صفحہ 60 ) دیکھئے ایسے جلیل القدر محدثین نے نہ صرف ایک دن بلکہ ماہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب راتوں کو عید قرار دیا ہے اور عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ منانے والوں کے لئے دعائے رحمت بھی فرمائی ہے ، جس دن کی برکت سے ربیع الاول کی راتیں بھی عیدیں قرار پائیں ۔ 12 ربیع الاول کا وہ خاص دن کیونکر عید قرار نہ پائے گا ؟ بلکہ امام دادودی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ مکہ مکرمہ میں آپ کی ولادت کی جگہ مسجد حرام کے بعد سب سے افضل ہے اور اہل مکہ عیدین سے بڑھ کر وہاں محافل میلاد کا انعقاد کرتے تھے ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس مبارک جگہ محفل میلاد میں حاضری اور مشاہدہ ءانوار کا ذکر فرمایا ۔( جواہر البحار جلد سوم صفحہ 1154 فیوض الحرمین صفحہ 27 )

مفسرین کا اعلان : ۔

امام ابن حجر مکی علیہ الرحمۃ نے امام فخر الدین رازی ( صاحب تفسیر کبیر) نے نقل فرمایا کہ جس شخص نے میلاد شریف کا انعقاد کیا اگرچہ عدم گنجائش کے باعث صرف نمک یا گندم یا ایسی ہی کسی چیز سے زیادہ تبرک کا اہتمام نہ کرسکا ۔ برکت ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا شخص نہ محتاج ہوگا نہ اس کا ہاتھ خالی رہے گا ۔ (النعمۃ الکبرٰی صفحہ 9 ) مفسر قرآن علامہ اسماعیل حقی نے امام سیوطی امام سبکی ، امام بن حجر عسقلانی ، امام ابن حجر ، امام سخاوی ، علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہم جیسے اکابر علمائے امت سے میلاد شریف کی اہمیت نقل فرمائی اور لکھا ہے کہ میلاد شریف کا انعقاد آپ کی تعظیم کے لئے ہے ،اور اہل اسلام ہر جگہ ہمیشہ میلاد شریف کا اہتمام کرتے ہیں ۔( تفسیر روح البیان جلد 9 صفحہ 56 )۔

12 ربیع الاول پر اجما ع امت :۔

امام قسطلانی ، علا مہ زرقانی ، علامہ محمد بن عابدین شاکی کے بھتیجے علامہ احمد بن عبد الغنی دمشقی ، علامہ یوسف نہبانی اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہم نے تصریح فرمائی کہ امام المغازی محمد بن اسحاق وغیرہ علماءکی تحقیق ہے کہ یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم 12 ربیع الاول ہے ۔ علامہ ابن کثیر نے کہا یہی جمہور سے مشہور ہے اور علامہ ابن جوزی اور علامہ ابن جزار نے اس پر اجماع نقل کیا ہے ۔ اس لئےکہ سلف و خلف کا تمام شہروں میں 12 ربیع الاول کے عمل پر اتفاق ہے ۔ بالخصوص اہل مکہ اسی موقع پر جائے ولادت باسعادت پر جمع ہوتے اور اس کی زیارت کرتے ہیں ۔ ملخصاََ (زرقانی شرح مواہب جلد 1 صفحہ 132 ۔ جواہر البحار جلد 3 صفحہ 1147 ۔ماثبت من السنۃ صفحہ 57 ۔ مدارج النبوت صفحہ 14)

واقعہءابولہب : ۔

جلیل القدر آئمہ محدثین نے نقل کیا ہے کہ ابولہب نے اپنی لونڈی ثوبیہ سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری سن کر اسے آزاد کردیا ، جس کے صلہ میں بروز پیر اس کے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے اور انگلی سے پانی چوسنا میسر آتا ہے ، جب کافر کا یہ حال ہے تو عاشق صادق مومن کے لئے میلاد شریف کی کتنی برکات ہوں گی ؟ ( بخاری جلد 3 صفحہ 243 ، مع شرح زرقانی صفحہ 139 ماثبت بالسنہ صفحہ 60 )

ملک اظہر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 259
شکریہ: 447
126 مراسلہ میں 516 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2695
14 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (21-09-11), کنعان (22-09-11), کاشف اکرم وارثی (20-09-11), گلاب خان (23-09-11), مفتی (24-09-11), مہتاب (24-09-11), ملک زوالفقار (24-09-11), محمدعدنان (21-09-11), آبی ٹوکول (21-09-11), اویسی (23-09-11), احمد نذیر (21-09-11), اعجازلاثانی (23-09-11), شعبان نظامی (07-02-12), عرفان مسلم (25-09-11)
پرانا 20-09-11, 11:30 PM   #2
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بلا وجہ کی فالتو بحث اور وقت کا نقصان الگ ۔
مرزا عامر آف لائن ہے  
9 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (21-09-11), فیصل ناصر (21-09-11), کاشف اکرم وارثی (20-09-11), بلال الراعی (21-09-11), حیدر (21-09-11), رضی (21-09-11), سیفی خان (21-09-11), شھزادباجوہ (22-09-11), عبداللہ آدم (23-09-11)
پرانا 20-09-11, 11:54 PM   #3
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 69
کمائي: 1,443
شکریہ: 118
55 مراسلہ میں 154 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ ۔۔۔۔ ملک اظہر صاحب بھت ھی مفصل کالم۔ اللہ عزوجل قلم میں اور ذور عطا فرماے۔۔
اب دیکھیں گا یہاں شرک شرک شرک اور بدعت کے فتوئ لگنا شروّع ھوجاوے گے۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا جشن منانا میں کوئی اعتراض نہیں لیکن جو طریقہ اجکل شروع ھو گیا ھے یہ ناقابل ء برداشت ھے۔ بس اسی کا سہارہ لے کر دوسرے فرقہ والے انگلی اٹھانے کی جرت کرڈالتے ھیں۔
کاشف اکرم وارثی آف لائن ہے  
9 قاری/قارئین نے کاشف اکرم وارثی کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (21-09-11), فکری (25-09-11), قاسمی (25-09-11), نبیل خان (22-09-11), مہتاب (24-09-11), آبی ٹوکول (21-09-11), احمد نذیر (21-09-11), حیدر (21-09-11), حسن قادری (21-09-11)
پرانا 20-09-11, 11:55 PM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایویں ہی ضد بازی ہے اور کچھ نہیں
محمدخلیل آن لائن ہے  
8 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (21-09-11), مفتی (24-09-11), مہتاب (24-09-11), آبی ٹوکول (21-09-11), احمد نذیر (21-09-11), اعجازلاثانی (23-09-11), حیدر (21-09-11), رضی (21-09-11)
پرانا 21-09-11, 12:34 AM   #5
Senior Member
مقبول
 
بلال الراعی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: Gujrat
عمر: 27
مراسلات: 195
کمائي: 5,882
شکریہ: 821
158 مراسلہ میں 527 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال الراعی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کاشف اکرم وارثی مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ ۔۔۔۔ ملک اظہر صاحب بھت ھی مفصل کالم۔ اللہ عزوجل قلم میں اور ذور عطا فرماے۔۔
اب دیکھیں گا یہاں شرک شرک شرک اور بدعت کے فتوئ لگنا شروّع ھوجاوے گے۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا جشن منانا میں کوئی اعتراض نہیں لیکن جو طریقہ اجکل شروع ھو گیا ھے یہ ناقابل ء برداشت ھے۔ بس اسی کا سہارہ لے کر دوسرے فرقہ والے انگلی اٹھانے کی جرت کرڈالتے ھیں۔
تو میرے بھائ جشن ولادت‌کے نام پر جو ٹؤپی ڈرامے ھماری عوام کرتی ھے اُن کے بارے میں‌آپ کے علماء لب کشائ کیوں‌نھیں‌ کرتے۔۔۔۔۔کھیں‌اُن کی روزی روٹی بند ھونے کا حطرہ تو نھیں؟
__________________
اللّٰھُمَّ صَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَماَصَلَّيتَ عَلٰی اِبْرَاھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِيمَ اِنَّكَا حَمِيدُمَّجِيدُُُ --
اَلَّھُمَّ بَارِك عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکتَ عَلٰی اِبرَا ھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبرَاھِيمَ اِنَّكَ حَمِيدُ مَّجِيدُُُ
بلال الراعی آن لائن ہے  
9 قاری/قارئین نے بلال الراعی کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (21-09-11), فکری (25-09-11), قاسمی (25-09-11), نبیل خان (22-09-11), حیدر (21-09-11), حسن قادری (21-09-11), سیفی خان (21-09-11), شھزادباجوہ (22-09-11), غلام خان (23-09-11)
پرانا 21-09-11, 06:16 AM   #6
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,514
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ولادت ِ رسول پر ہر ایمان والے کو خوشی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ بس خوشی کا طریقہ اپنا اپنا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ویسے عید میلا د النبی کے جلوس میں نبی کے نام پر جو ””” اعمال “““ ہوتے ہیں کیا واقعی ان کا ہمارے نبی ‌ کے ساتھ کوئی تعلق ہے ۔ ۔ ۔؟

میں سمجھتا ہوں کہ علماء بریلی کو اس کے بارے میں آواز ضرور بلند کرنی چاہیئے
کہ اگر جلوس ہی نکالنا ہے تو اس میں شرعی حدود کا بھی لحاظ رکھنا چاہیئے ۔ ۔ ۔
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/
سیفی خان آف لائن ہے  
13 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
فکری (23-09-11), فیصل ناصر (21-09-11), کاشف اکرم وارثی (27-09-11), قاسمی (25-09-11), نبیل خان (22-09-11), مرزا عامر (21-09-11), آبی ٹوکول (21-09-11), احمد نذیر (21-09-11), بھائی (23-09-11), حیدر (21-09-11), حسن قادری (21-09-11), شھزادباجوہ (22-09-11), عبداللہ آدم (23-09-11)
پرانا 21-09-11, 11:49 AM   #7
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,135
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر شریف (سوموار) کا روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا : فیہ ولدت وفیہ انزل علیہ ۔ یعنی اسی دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔ (مشکوۃ شریف صفحہ 179 )
مسئیلہ حل ہو گیا حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے میلاد منانے کا طریقہ بیان کردیا کیا ھم اسطرح میلاد منانتے ھیں اگر اسدن عید ھے تو روزہ کیسا اگر روزہ ھے تو عید نھیں،۔،۔،۔، میلاد النبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کا دن خوشی کا دن ھے مگر اسی طرح جسطرح حضور نے روزہ رکھ کر منائی ناکہ سڑکوں ہر جلوس کی شکل اور آجکل تو یہ بھت ھی غلط روشپر چل رھا ھے کہیں حضور کی اونٹی قصوا نکالی جارھی ھے اور کہیں ڈھول کیساتھ اور لڑکوں نے موٹر سائیل کا سالنسر نکال کر جلوس نکالا اور ایک جگہ انڈین گانے لگاکر رقص کیا گیا علما کی ذمداری ھے اسکی اصلاح کرئیں
حسن قادری آف لائن ہے  
15 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا
bashirahmed98 (21-09-11), dxbgraphics (21-09-11), فکری (23-09-11), فیصل ناصر (21-09-11), کاشف اکرم وارثی (21-09-11), گلاب خان (23-09-11), قاسمی (25-09-11), نبیل خان (22-09-11), مرزا عامر (21-09-11), آبی ٹوکول (21-09-11), احمد نذیر (21-09-11), حیدر (21-09-11), سیفی خان (21-09-11), شھزادباجوہ (22-09-11), شعبان نظامی (28-12-11)
پرانا 21-09-11, 04:21 PM   #8
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 69
کمائي: 1,443
شکریہ: 118
55 مراسلہ میں 154 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بلال الراعی مراسلہ دیکھیں
تو میرے بھائ جشن ولادت‌کے نام پر جو ٹؤپی ڈرامے ھماری عوام کرتی ھے اُن کے بارے میں‌آپ کے علماء لب کشائ کیوں‌نھیں‌ کرتے۔۔۔۔۔کھیں‌اُن کی روزی روٹی بند ھونے کا حطرہ تو نھیں؟
بھائی میرے اتنا لال پیلا نہیں ھوا کرتے ۔ اجکل ویسے ھی دل کی بیماری بھت عام ھے۔ لب کشائی کے لیے آپ کے علما کو جو چھوڑ دیا گیا ھے۔ روزی روٹی دینے والا اللہ عزوجل کی ذات ھے ۔ معاذ اللہ اگر آپ جیسوں کے علما کے ھاتھ میں ھوتی تو کتنی ھے اس دنیا سے رخصت ھو چکے ھوتے۔
کاشف اکرم وارثی آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے کاشف اکرم وارثی کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (22-09-11), محمدعدنان (25-09-11), اعجازلاثانی (23-09-11), حیدر (21-09-11), غلام خان (23-09-11)
پرانا 21-09-11, 04:31 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 762
کمائي: 15,424
شکریہ: 2,138
583 مراسلہ میں 1,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کاشف اکرم وارثی مراسلہ دیکھیں
بھائی میرے اتنا لال پیلا نہیں ھوا کرتے ۔ اجکل ویسے ھی دل کی بیماری بھت عام ھے۔ لب کشائی کے لیے آپ کے علما کو جو چھوڑ دیا گیا ھے۔ روزی روٹی دینے والا اللہ عزوجل کی ذات ھے ۔ معاذ اللہ اگر آپ جیسوں کے علما کے ھاتھ میں ھوتی تو کتنی ھے اس دنیا سے رخصت ھو چکے ھوتے۔
میرے خیال میں آپ کو مثبت طریقے سے جواب دینا چاہیئے تھا ۔
dxbgraphics آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے dxbgraphics کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (22-09-11), بلال الراعی (22-09-11), حیدر (21-09-11)
پرانا 21-09-11, 04:51 PM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انداز تخاطب مناسب نہیں ہے۔ احتیاط برتی جائے۔

شکریہ
حیدر آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (22-09-11), بلال الراعی (22-09-11)
پرانا 21-09-11, 08:41 PM   #11
Senior Member
مقبول
 
فکری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 185
کمائي: 3,102
شکریہ: 504
155 مراسلہ میں 421 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
مسئیلہ حل ہو گیا حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے میلاد منانے کا طریقہ بیان کردیا کیا ھم اسطرح میلاد منانتے ھیں
حضور نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ کر ،۔میلاد منانے کا طریقہ سمھجا دیا ھے ھمیں بھی یہ ھی طریقہ اپنانا چاھے میلاد منانے والا پہلا آدمی موصل کا بادشاہ تھا،۔ جسکا نام مظفر الدین کوکری بن اربل المتوفی 630 ھ تھا اسنے 604ھ میں یہ ایجاد کیا اور اسکا ساتھی ایک مولوی تھا جسنے میلاد پر کتاب لکھکر اسے دی اسکا نام عمر بن وحیہ تھا کتاب لکھنے پر بادشاہ نے ایک ھزار پونڈ عطا کیے،۔،۔،۔،۔ اور یہ مولوی ائمہ دین اور سلف کی شان میں گستاخی کرتا بڑا احمق انسان تھا لسان المیزان ص 296ج 4 و امام احمد بن محمد مصری کی القول المعتمد فی عمل مولد اور علامہ ذھبی کی دول الاسلام ص103ج2
نفس ذکر ولادت مندوب ھے مگر جو آجکل میلاد کےنام پر ہورہا ھے وہ قابل مزمت ھے
اشعار پڑھے جاتے ھیں سوھنا آیا تے سج گے گلیاں بازار حالنکہ حضور نے مبغوض جگہ بازار کو قرار دیا ھم اس کے سجانے میں دن رات لگادیتے ھیں
بعض جگہ تو میلاد کی نماز پڑھی گی ڈھول بجا کر گھوڑے سیالکوٹ میں نچاے گے ایک عورت عربی لباس میں بٹھا کر اسکی گود میں بچہ دے کر حلیمہ والا نقشہ پیش کیا گیا
علما کی ذمیداری ھے ان معاملات کی اصلاح ہونی چاھے
فکری آف لائن ہے  
8 قاری/قارئین نے فکری کا شکریہ ادا کیا
گلاب خان (23-09-11), قاسمی (25-09-11), نبیل خان (22-09-11), آبی ٹوکول (21-09-11), حیدر (22-09-11), حسن قادری (21-09-11), سیفی خان (21-09-11), شھزادباجوہ (22-09-11)
پرانا 21-09-11, 09:14 PM   #12
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 69
کمائي: 1,443
شکریہ: 118
55 مراسلہ میں 154 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : dxbgraphics مراسلہ دیکھیں
میرے خیال میں آپ کو مثبت طریقے سے جواب دینا چاہیئے تھا ۔
جی اوکے ۔۔ معذرت چاھتاھوں۔۔۔
کاشف اکرم وارثی آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے کاشف اکرم وارثی کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (22-09-11), احمد نذیر (23-09-11), بلال الراعی (22-09-11), حیدر (22-09-11), غلام خان (23-09-11)
پرانا 22-09-11, 12:18 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 259
کمائي: 5,659
شکریہ: 447
126 مراسلہ میں 516 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر کسی کے نزدیک مروجہ محافل میلاد صرف اس وجہ قابل اعتراض ہیں کہ ان میں غلط روایات موضوع احادیث اور غلو سے بھر پور نعتیں پڑھی جاتی ہیں تو میری ان سے گزارش ہے کہ وہ ایسی محافل میلاد منعقد کروا کر مثال قائم کریں کہ جن میں
چلو بسم اللہ کریں لوگوں کو صحیح میلاد شریف کا طریقہ بتا دیں آپ کو اس کا اجر ملے گا
یہ بھی ناں سہی تو جونعتیں صحابہ کرام نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھی ہیں یا فقط صرف وہ اشعار جو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا کرتے تھے صرف وہی اشعار لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنا دیا کریں (( سارا طریقہ تو میں نے بتلا دیا ہے)) اس طرح مثال توقائم کریں آپ کے اس عمل کے نتیجہ میں جتنے لوگ بھی مروجہ محافل میلاد ترک کر کے آپ کے بتلائے ہوئے طریقہ پر محافل میلاد منعقد کریں گے تو اس کا ثواب اور اجر ملے گا انشاءاللہ
اور یہ تو حقیقت ہے کہ اگر کوئی انسان کوئی غلط کام کرتا ہے مثلاًایک آدمی غلط طریقہ سے نماز ادا کرتا ہے تو اس کو یا تو صحیح طریقہ سمجھایا جائے یا اس کے سامنے صحیح طریقہ نماز ادا کر کےبطور مثال پیش کی جائے نہ کی اس کی نماز کے خلاف محاز آرائی شروع کر دی جائے۔
میری بھی گزارش ہے کہ جن کو مروجہ محافل میلاد پر اعتراض ہے تو وہ غیر معترضانہ محافل میلاد کو متعارف کروا سبق دیں کہ صحیح محافل میلاد اس طرح ہوتی ہیں۔
ملک اظہر آن لائن ہے  
16 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (22-09-11), khuram (09-04-12), فکری (23-09-11), کاشف اکرم وارثی (27-09-11), گلاب خان (23-09-11), مفتی (24-09-11), مہتاب (24-09-11), محمدعدنان (25-09-11), آبی ٹوکول (22-09-11), احمد نذیر (23-09-11), اعجازلاثانی (24-09-11), حیدر (22-09-11), سیفی خان (22-09-11), شھزادباجوہ (22-09-11), شعبان نظامی (28-12-11), عرفان مسلم (22-09-11)
پرانا 22-09-11, 07:07 AM   #14
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,514
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ملک اظہر مراسلہ دیکھیں
اگر کسی کے نزدیک مروجہ محافل میلاد صرف اس وجہ قابل اعتراض ہیں کہ ان میں غلط روایات موضوع احادیث اور غلو سے بھر پور نعتیں پڑھی جاتی ہیں تو میری ان سے گزارش ہے کہ وہ ایسی محافل میلاد منعقد کروا کر مثال قائم کریں کہ جن میں
چلو بسم اللہ کریں لوگوں کو صحیح میلاد شریف کا طریقہ بتا دیں آپ کو اس کا اجر ملے گا
یہ بھی ناں سہی تو جونعتیں صحابہ کرام نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھی ہیں یا فقط صرف وہ اشعار جو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا کرتے تھے صرف وہی اشعار لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنا دیا کریں (( سارا طریقہ تو میں نے بتلا دیا ہے)) اس طرح مثال توقائم کریں آپ کے اس عمل کے نتیجہ میں جتنے لوگ بھی مروجہ محافل میلاد ترک کر کے آپ کے بتلائے ہوئے طریقہ پر محافل میلاد منعقد کریں گے تو اس کا ثواب اور اجر ملے گا انشاءاللہ
اور یہ تو حقیقت ہے کہ اگر کوئی انسان کوئی غلط کام کرتا ہے مثلاًایک آدمی غلط طریقہ سے نماز ادا کرتا ہے تو اس کو یا تو صحیح طریقہ سمجھایا جائے یا اس کے سامنے صحیح طریقہ نماز ادا کر کےبطور مثال پیش کی جائے نہ کی اس کی نماز کے خلاف محاز آرائی شروع کر دی جائے۔
میری بھی گزارش ہے کہ جن کو مروجہ محافل میلاد پر اعتراض ہے تو وہ غیر معترضانہ محافل میلاد کو متعارف کروا سبق دیں کہ صحیح محافل میلاد اس طرح ہوتی ہیں۔
جی ایسی محافل بھی ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ماہ ربیع الاول میں ۔ ۔ ۔ ۔
ان کے عنوان چونکہ شان مصطفیٰ سیرت النبی شافع محشر مشن آمد مصطیٰ و غیرہ ہوتے ہیں اور میلاد النبی نہیں ہوتے اس لیئے وہ شاید آپ کے علم میں نہ آسکیں ۔
سیفی خان آف لائن ہے  
9 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (22-09-11), فکری (23-09-11), کاشف اکرم وارثی (27-09-11), نبیل خان (22-09-11), احمد نذیر (23-09-11), حیدر (22-09-11), حسن قادری (22-09-11), شھزادباجوہ (22-09-11), غلام خان (23-09-11)
پرانا 22-09-11, 11:56 AM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فکری مراسلہ دیکھیں
حضور نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ کر ،۔میلاد منانے کا طریقہ سمھجا دیا ھے ھمیں بھی یہ ھی طریقہ اپنانا چاھے میلاد منانے والا پہلا آدمی موصل کا بادشاہ تھا،۔ جسکا نام مظفر الدین کوکری بن اربل المتوفی 630 ھ تھا اسنے 604ھ میں یہ ایجاد کیا اور اسکا ساتھی ایک مولوی تھا جسنے میلاد پر کتاب لکھکر اسے دی اسکا نام عمر بن وحیہ تھا کتاب لکھنے پر بادشاہ نے ایک ھزار پونڈ عطا کیے،۔،۔،۔،۔ اور یہ مولوی ائمہ دین اور سلف کی شان میں گستاخی کرتا بڑا احمق انسان تھا لسان المیزان ص 296ج 4 و امام احمد بن محمد مصری کی القول المعتمد فی عمل مولد اور علامہ ذھبی کی دول الاسلام ص103ج2
نفس ذکر ولادت مندوب ھے مگر جو آجکل میلاد کےنام پر ہورہا ھے وہ قابل مزمت ھے
اشعار پڑھے جاتے ھیں سوھنا آیا تے سج گے گلیاں بازار حالنکہ حضور نے مبغوض جگہ بازار کو قرار دیا ھم اس کے سجانے میں دن رات لگادیتے ھیں
بعض جگہ تو میلاد کی نماز پڑھی گی ڈھول بجا کر گھوڑے سیالکوٹ میں نچاے گے ایک عورت عربی لباس میں بٹھا کر اسکی گود میں بچہ دے کر حلیمہ والا نقشہ پیش کیا گیا
علما کی ذمیداری ھے ان معاملات کی اصلاح ہونی چاھے
جزاک اللہ فکری بھائی : میں سمجھتا ہوں کہ وہ انسان مسلمان ہی نہیں جو آقا دو جہاں نبی مکرم سید دوعالم ساقی کوثر شافی محشر رحمت اللعٰلمین صلی اللہ عیہ وسلم کی ولادت با سعادت پہ خوش نہ ہو
فرق اور اختلاف اس دن کے منانے پہ ہے کوئی روزہ اور درود شریف پڑھتے ہوئے گزار دیتا ہے اور کوئی ڈھول اور موٹر سائیکل کے جلوس کے ساتھ راہ گزرتی گاڑیوں اور راہ گیروں کو تنگ کرتے ہوئے
نبیل خان آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
فکری (23-09-11), حیدر (22-09-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
پیارے, پاکستان, پسند, قدم, قرآن, نظر, مکہ, مجید, مسجد, ایمان, اللہ, اسلام, اعلیٰ, جواب, جلد, جمعۃ المبارک, حکم, حال, خدا, روزہ, رمضان, شخص, عشق, صدقہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیالکوٹ میں دوبھائیوں کاقتل،فردوس عاشق نے اپنے بیان کی وضاحت کردی گلاب خان خبریں 3 26-08-10 06:41 AM
موبائل فون کمپنیوں کی طرف سے اضافی 5٪ سروس چارجز فرحان دانش موبائلز معلومات اور جائزہ 5 20-06-09 09:43 PM
روس : ایک سال میں307 فوجیوں نے خودکشی کرلی ابن جلال خبریں 0 11-10-08 02:54 PM
کراچی :میڈیا پرپابندیوں اورجیو کی بندش کیخلاف مظاہرے کرنیوالے صحافیوں پر وحشیانہ لاٹھی چارج،180گرفتار،رات گئے رہائی خرم شہزاد خرم خبریں 0 21-11-07 08:11 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:12 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger