واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > کفروشرک



کفروشرک کفروشرک


فتنہ تکفیر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-10-11, 02:44 PM   #1
فتنہ تکفیر
حیدر حیدر آف لائن ہے 12-10-11, 02:44 PM

1935 کی بات ہے کہ ہندوستان میں دو نامور بزرگوں کے خلاف بعض مشہور علما کرام نے کفر کا فتویٰ دے دیا تھا۔ اس موقع پر ترجمان القران میں حسب ذیل اشارات لکھے گئے تھے ۔جن کے خلاف فتویٰ دیا گیا اور جنہوں نے کفر کا فتویٰ دیا اور یہ مضمون لکھنے والے صاحب کا انتقال ہو چُکا ہے ۔اس لیے اس مضمون کو یونی کوڈ شکل میں پیش کرنے کا مقصد اُس پرانی بحث کو تازہ کرنا مقصود نہیں بلکہ محض فائدہ عام پیش نظر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
مسلمانوں کے دور انحطاط میں جہاں اور بہت سے فتنے پیدا ہوئے ہیں وہاں ایک بڑا اور خطرناک فتنہ ایک دوسرے کو کافر اور فاسق ٹھہرانے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے کا بھی ہے۔ لوگوں نے اسلام کے سیدھے سادھے عقائد میں موشگافیاں کیں اور قیاس و تاویل سے ان کے اندر بہت سے ایسے فروع اور جزئیات پیدا کر لیے جو ایک دوسرے سے مختلف اور متضاد تھے اور جن کی کوئی تصریح کتاب و سنت میں نہ تھی یا اگر تھی بھی تو اللہ اور اس کے رسول نے ان کو کوئی اہمیت نہ دی تھی۔ پھر ان اللہ کے بندوں نے (اللہ انہیں معاف فرمائے) اپنے وضع کردہ فروعی مسائل کے ساتھ اتنا اہتمام کیا کہ انہی پر ایمان کا مدار ٹھہرا دیا ، انکی بیناد دپر اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، بیسیوں فرقے بنا دئیے ، اور ہر ہر فرقے نے ایک دوسرے کو کافر، فاسق، گمراہ، دوزخی اور خدا جانے کیا کیا کہہ ڈالا۔ حالانکہ کفر اور اسلام کے درمیان اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین میں ایک واضح خط امتیا کھینچ دیا تھا اور کسی کو یہ حق نہ دیا تھا کہ اپنے اختیار سے جس چیز کو چاہیں کفر اور جسے چاہے اسلام ٹھہرا لیں۔ اس فتنے کی محرک خواہ تنگ نظری ہو نیک نیتی کے ساتھ یا خود غرضی اور حسد اور نفسانیت ہو بدنیتی کے ساتھ بہر حال اس نے مسلمانوں کی جماعت کو جتنا نقصان پہنچایا ہے ، شاید کسی اور چیز نے نہیں پہنچایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں تک کسی شخص کے درحقیقت مومن یا غیر مومن ہونے کا تعلق ہے اس کا فیصلہ کرنا تو کسی انسان کا کام نہیں۔یہ معاملہ تو براہ راست خدا سے تعلق رکھتا ہے اور وہی اس کا فیصلہ قیامت کے روز فرمائے گا۔ رہے بندے تو انکے فیصلہ کرنے کی چیز اگر کوئی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ خدا اور اس کے رسول نے ملت اسلام کے جو امتیازی نشانات بتائے ہیں ان کے لحاظ سے کون شخص سرحد اسلام کے اندر ہے اور کون اس سے باہر نکل گیا ہےْ۔اس غرض کے لیے جو چیزیں ہم کو بنائے اسلام کی حیثیت سے بتائی گئی ہیں وہ یہ ہیں :
‘‘اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرے اور زکواۃ دے اور رمضان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے اگر وہاں تک پنچنے کی استطاعت رکھتا ہو’’ (مسلم۔ابو داود۔ترمذی۔نسائی)
‘‘مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکواۃ دیں۔ جب وہ ایسا کردیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں بچا لیں گے الا یہ کہ اسلام کا کوئی حق ان کے خلاف قائم ہو اور ان کا حساب عزو جل کے ذمے ہے’’ (بخاری،احمد۔مسلم)
یہ ہیں اسلامی سوسائٹی کے سرحدی نشانات۔ جو لوگ ان سرحدوں کے اندر ہیں ہم کو حکم ہے کہ ان کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کریں انہیں ملت سے خارج کرنے کا کسی کو حق نہیں اور جو لوگ ان سرحدو ں سے باہر نکل گئے ہوں ان کے ساتھ ہم کو وہی معاملہ کرنا چاہیے جو ‘‘حق الاسلام’’ کے لحاظ سے واجبی ہو۔ دونوں صورتوں میں ہم باطن کا حساب لگانے کے مجاز نہیں ہیں۔ ہمارا کام صرف ظاہر کو دیکھنا ہے اور ہم کیا ، اس معاملے میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ظاہر کو ہی دیکھا ہے۔ چناچہ بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے کُچھ رقم نبی ﷺ کی خدمت میں بھیجی اور حضور نے اسے چار آدمیوں پر تقسیم کر دیا ۔ اس پر حاضرین میں سے ایک شخص بول اُٹھا ‘‘یا رسول اللہ خدا سے ڈرائیے’’۔ حضور نے فرمایا ‘‘افسوس تیرے حال پر ۔ روئے زمین پر بسنے والوں میں سے مجھ سے زیادہ کس کو سزاوار ہے کہ خدا سے ڈرے؟’’۔ حضرت خالد اس موقع پر موجود تھے ۔انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اسے قتل نہ کر دوں۔ فرمایا ‘‘نہیں شاید کہ وہ نماز پڑھتا ہو’’ ۔ انہوں نے عرض کی کہ کتنے ہی نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ‘‘مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دل کھول کر اور پیٹ چاک کر کے دیکھوں’’
اسی طرح ایک روایت ہے کہ انصار میں سے ایک صاحب ایک مرتبہ نبی ﷺ سے راز میں بات کر رہے تھے ۔اتنے میں حضور ﷺ نے باآواز بلند فرمایا ‘‘کیا وہ شخص لا الہ الا اللہ کی شہادت نہیں دیتا؟’’ انصاری نے عرض کی ‘‘جی ہاں یا رسول اللہ ، مگر اس کی شہادت دکا کوئی اعتبار نہیں’’۔ حضور ﷺ نے فرمایا ‘‘کیا وہ محمد کو اللہ کا رسول نہیں مانتا؟’’۔ انصاری نے پھر عرض کی ‘‘ جی ہاں اقرار تو کرتا ہے مگر اس کی شہادت کا کوئی اعتبار نہیں’’ ۔ حضور ﷺ نے پھر فرمایا ‘‘کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟’’ ۔ انہوں نے عرض کی ‘‘جی ہاں ، پڑھتا ہے، مگر اس کی نماز کا کوئی اعتبار نہیں’’۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ‘‘ایسے لوگوں کو قتل کرنے سے اللہ نے مجھے منع فرمایا ہے’’
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب یہ کتنی بڑی زیادتی کی بات ہے کہ جو مسلمان خدا اور رسول کے بتائے ہوئے ایمانیات پر اعتقاد کا اقرار کرتا ہو اور مذکورہ بالا تصریحٓت کے مطابق اسلام کی سرحدوں کے اندر ہو ، اسے کوئی شخص خارج از ملت قرار دے بیٹھے۔ یہ جسارت بندوں کے مقابلے میں نہیں خدا کے مقابلہ میں ہے۔ درحقیقت یہ خدا سے معارضہ ہے۔ جس کے حق میں خدا کا قانون مسلمان ہونے کا فیصلہ کرتا ہے اس کے حق میں ایک بندہ خدا کفر کا فیصلہ صادر کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نہایت سختی کے ساتھ تکفیر و تفسیق سے منع فرمایا ہے اور یہاں تک فرما دیا ہے کہ جو شخص کسی کو کافر کہے گا درآنحالیکہ وہ حقیقت میں کافر نہ ہوا تو وہ کفر کا فتویٰ خود تکفیر کرنے والے کی طرف پلٹ آئے گا۔
‘‘جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو کافر کہے گا تو یہ قول دونوں میں سے کسی ایک پر ضرور پڑے گا’’ بخاری
جب کبھی ایک شخص دوسرے پر فسق یا کفر کی تہمت لگائے گا تو وہ تمہت اسی پر پلٹ آئے گی اگر وہ شخص جس پر تہمت لگائی گئی ہے درحقیقت کافر یا فاسق نہ ہو’’ بخاری
جس شخص نے کسی کو کافر یا دشمن خدا کہہ دیا درآنحالیکہ وہ شخص ایسا نہ تھا تویہ قول خود قائل پر ضرور پلٹ جائے گا’’ مسلم
‘‘جس نے کسی مومن پر لعنت کی اس نے گویا اسے قتل کر دیا اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی اس نے گویا اُسے قتل کر دیا ’’بخاری
اس طرح کی تکفیر و تفسیق محض ایک فرد ہی کے حق پر دست درازی نہیں ہے بلکہ ایک اجتماعی جرم بھی ہے ۔ یہ پوری اسلامی سوسائٹی کے خلاف ایک زیادتی ہے اور اس سے مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی سخت نقصان پہنچتا ہے۔اس کی وجہ تھوڑے سے غور سے بآسانی سمجھ میں آ سکتی ہے۔
اسلامی معاشرے اور غیر اسلامی معاشروں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ غیر اسلامی معاشرے رنگ نسل زبان اور وطن کے رشتوں پر قائم ہوئے ہیں اور ان کے بر عکس اسلامی معاشرے کا قیام صرف دین کے رشتے پر ہوا ہے ۔غیر اسلامی معاشروں میں عقائد و افکار کے اختلاف سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، اس لیے کہ خیالات اور اعتقادات کا اختلاف ان کے افراد کو اس رشتے سے خارج نہیں کرتا جو نسل یا وطن یا زبان یا رنگ کی وحدت سے قائم ہوتا ہے۔ باطن میں خواہ زمین و آسمان کا تفاوت ہو جائے، لیکن خون کا تعلق منقطع نہیں ہو سکتا، نہ وطن کا رشتہ کٹ سکتا ہے ، نہ زبان کا رابطہ منفک ہو سکتا ہے ، نہ رنگ کی وحدت میں کوئی فرق آ سکتا ہے۔ اس لیے اختلاف عقائد سے غیر مسلم معاشروں کو کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ لیکن اسلام میں جو چیز مختلف نسلوں ، مختلف رنگوں ، مختلف زبانوں اور مختلف ملکوں کے افراد کو جوڑ کر ایک قوم بناتی ہے وہ عقیدے کی وحدت کے سوا اور کچھ نہیں ہے یہاں عقیدہ ہے سب کُچھ ہے ۔نسل، رنگ، زبان اور وطن کُچھ بھی نہیں۔ لہذا جو شخص دین اور اعتقاد کے رشتے کو کاٹتا ہے وہ دراصل اللہ کی اُس رسی پر قینچی چلاتا ہے جس نے ایک خدا کی پرستش کرنے والوں اور ایک رسول کو ماننے والوں اور ایک کتاب پر ایمان لانے والوں کو ایک دوسرے سے وابستہ کیا ہے۔اسلام میں کسی شخص یا گروہ کو کافر کہہ دینے کے معنی صرف یہی نہیں ہیں کہ اس کے اعتقاد اور نیت پر حملہ کیا گیا ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلامی معاشرے اور اس کے ایک فرد یا چند افراد کے درمیان برادری، محبت ، معاشرت ، معاملت اور تعاون باہمی کے جتنے رشتے تھے، سب کاٹ دئیے گئے اور امت مسلمہ کے جسم سے ایک جزو سیا متعدد اعضا کو کاٹ پھینک دیا گیا ہے۔
یہ فعل اگر حکم خدا وندی اور رسول کے مطابق ہو تو یقینا حق ہے ۔ اس صورت میں سڑے ہوئے عضو کو کاٹ کر پھینک دینا ہے اسلام کے ساتھ سچی خیر خواہی ہے۔ لیکن اگر قانون الہی کی رو سے وہ عضو سڑا ہوا نہ ہو، محض ظلما کاٹ ڈالا جائے تو یہ ظلم خود اس عضو سے بڑھ کر اس جسم پر ہو گا جس سے وہ کاٹا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے رشتہ دینی کے احترام کی سخت تاکید فرمائی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
‘‘جو شخص (اظہار اسلام کے لیے ) تم کو سلام کرے تو اس کو (بلاتحقیق) نہ کہہ دیا کرو کہ تم مومن نہیں ہو’’ النسا 94)
حدیث میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ ایک سریہ میں ایک شخص نے مسلمانوں کو دیکھ کر کہا السلام علیکم لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ مگر ایک مسلمان نے یہ گمان جان کر کہ اس نے محض جان بچانے کے لیے کملہ پڑھا ہے اسے قتل کر دیا۔ نبی ﷺ کو اس کا علم ہوا تو حضور ﷺ اس پر سخت ناراض ہوئے اور اس مسلمان سے باز پرس کی ۔اس نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ اس شخص نے محض ہماری تلوار سے بچنے کے لیے کلمہ پڑھ دیا تھا۔ اس پر سرکار دو جہان نے فرمایا ‘‘کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟’’
ایک صحابی نے پوچھا کہ اھر ایک شخص مجھ پر حملہ کر کے میرا ہاتھ کاٹ ڈالے اور جب میں اس پر حملہ کروں تو وہ کلمہ پڑھ لے تو کیا ایسی حالت میں ، میں اس کو قتل کرسکتا ہوں؟ حضور ﷺ نے فرمایا ‘‘نہیں’’ صحابی نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ اس نے تو میرا ہاتھ کاٹ دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کے باوجود تم اس کو نہیں مار سکتے ۔ اگر تم نے اس کو مارا تو وہ اس مرتبے پر جس میں تم اس کے قتل سے پہلے تھے اور تم اس مرتبے میں ہو جاو گے جس میں وہ لا الہ الا اللہ کہنے سے پہلے تھا۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص کسی کافر پر نیزہ تانے اور جب سنان اس کے حلق تک پہنچ جائے اس وقت وہ لا الہ الا اللہ کہہ دے تو مسلمان کو لازم ہے وہ وہ فورا اپنا نیزہ واپس کھینچ لے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر۔
یہ سب اس لیے ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کی قوت اور جمعیت کا قیام رابطہ دینی کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔ اگر مسلمانوں میں اس رابطے کا احترام نہ ہو اور وہ بات بات پر اس کو کاٹنے بیٹھ جائیں تو امت کا سارا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا اور اس قوم کی کوئی اجتامعی قوت باقی ہی نہ رہے گی۔ جو باطل پرستوں کے مقابلہ میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے اور خیر و تقویٰ کی طرف دعوت دینے کے لیے قائم کی گئی ہےْ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا منشا یہ نہیں کہ تکفیر و تفسیق سے مطلقا پرہیز کیا جائے حتیٰ کہ اگر کوئی شخص صریح کفریات بکنے اور لکھنے لگے تب بھی اس کو مسلمان کہا اور سمجھا جاتا رہے۔ یہ منشا نہ کتاب و سنت کی مندرجہ بالا نصوص کا ہے اور نہ ہماری پچھلی گذارشات کا۔ اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے؟ کسی مسلمان کو اسلام سے خارج کرنا جس قدر نقصان دہ ہے ، کسی کافر کو اسلامی جمعیت میں شامل کرنا یا رکھنا اس سے کُچھ کم نقصان دہ نہیں ہے۔ لیکن جس بات پر ہم زور دینا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ مسلمان کی تکفیر کے معاملے میں انتہا درجہ کی احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے ، اتنی ہی احتیاط جتنی ایک شخص کے قتل کے فتویٰ صادر کرنے میں ملحوظ رکھی جاتی ہے۔ہر شخص جو مسلمان ہے اور لا الہ الا اللہ کا قائل ہے اس کے حق میں یہی گمان ہونا چاہیے کہ اس کے دل میں ایمان ہے ۔ اگر وہ کوئی ایسی بات کرتا ہے جس میں کفر کا شائبہ پایا جاتا ہو تو اس کے حق میں یہ امید رکھنی چاہیے کہ اس نے کفر کے ارادے سے ایسی بات نہ کی ہو گی۔ بلکہ محض جہل اور نا سمجھی سے ایسی بات کی ہو گی۔ اس لیے سنتے ہی کفر کا فتویٰ نہ جڑ دینا چاہیے بلکہ عمدہ طریقے سے بات سمجھانی چاہیے۔ اگر وہ پھر بھی نہ مانے اور اپنی بات پر اصرار کرے تو اس بات کو جس پر وہ اصرار دکر رہا ہے کتاب اللہ پر پیش کر کے دیکھا جائے کہ آیا وہ کفر و ایمان کے درمیان فرق کرنے والی صریح نصوص کے خلاف ہے یا نہیں؟ اور اس شخص کے زیر بحث قول یا فعل میں کسی تاویل کی گنجائش ہے یا نہیں؟ اگر صریح نصوص کے خلاف نہ ہو اور تاویل کی گنجائش ہو تو کفر کا حکم نہیں لگایا جا سکتا ۔ زیادہ سے زیادہ اس شخص کو گمراہ کہا جا سکتا ہے اور وہ بھی اُس خاص مسئلہ میں نہ کہ بالکلیہ۔ البتہ اگر اس کا اعتقاد نص صریح کے خلاف ہو اور وہ شخص یہ معلوم کرنے کے بعد بھی کہ اس کا اعتقاد کتاب اللہ کی تعلیم کے خلاف ہے، اپنی بات پر قائم رہے اور اس کے قول کی کوئی مناسب تاویل بھی نہ کی جا سکتی ہو تو ایسی صورت میں مسئلہ کی نوعیت کا لحاظ کرتے ہوئے فسق یا کفر کا حکم لگایا جا سکتا ہےْ۔ لیکن اس پر بھی اندراج و مراتب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔تمام جُرم اور تمام مجرم یکساں نہیں ہیں۔ ان میں بھی فرق مراتب ہوتا ہے اور انصان کا تقاضا یہ ہے کہ اس فرق کو ملحوظ رکھ کر سزا تجویز کی جائے۔ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا یقینا بے انصافی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسا کہ ہم ابتدا میں بیان کر آئے ہیں کفر و اسلام کا ایک پہلو باطنی ہے اور ایک ظاہری۔ باطن کا تعلق انسان کے دل سے اور نیت سے ہے اور ظاہر کا تعلق اس کی زبان اور عمل سے۔ ہم ایک حد تک آدمی کے قول و فعل سے بھی اس کی قلبی حالت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ مگر یہ محض قیاس و گمان ہو گا، علم و یقین نہ ہو گا۔ اور علم و یقین کے بغیر صرف قیاس و گمان کی بنا پر کسی کے ایما ن و کفر کا فیصلہ کر ڈالنا یقینا ظلم ہو گا۔ اگرچہ ایسا فیصلہ نفس الامر کے مطابق ہی کیوں نہ ہو۔ لہذا حق یہی ہےکہ ایمان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے ۔کیونکہ اُس کے سوا کوئی نہیں جان سکتا کہ کس کے دل میں ایمان ہے اور کس کے دل میں ایمان نہیں ہے
‘‘بے شک رب تیرا ہی جانتا ہے کہ کون اُس کے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور وہی جانتا ہے کہ کون ہدایت پر ہے’’ (النجم:30)
ہماری نظر صرف ظاہر تک جا سکتی ہے اور ظاہری قول و افعال کو دیکھ کر ہم رائے قائم کر سکتے ہیں کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جو شخص ظاہر میں جہالت و نادانی سے کفریات بک رہا ہو ، باطن میں ایک سچا اور پکا مومن ہو اور اس کے دل میں خدا اور رسول کی محبت بہت سے واعظوں اور مرشدوں سے بڑھ کر ہو۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ جو شخص زور و شور کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کرتا ہو اور بظاہر احکام شریعت کی پابندی میں کوئی کمی بھی نہ کرتا ہو ، درحقیقت وہ محض ایک ریا کار منافق ہو۔ لہذا ظاہر کی بنا پر کسی کے کفر کا فیصلہ کرتے ہوئے انسان کو خدا کی پکڑ سے بہت ڈرنا چاہہے۔ ایسا فیصلہ صادر کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچ لینا چاہیے کہ ہم کیسی ذمہ داری اپنے سر لے رہے ہیں اور کیا معقول وجود موجود ہیں جن کی بنا پر اس ذمہ داری سے بچنے کی نسبت اس کا بار اُٹھا لینا ہمارے لیے زیادہ بہتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ظاہر ہے کہ انسانوں کی طبعیتیں، استعدادیں اور عقلی صلاحتیں مختلف ہیں۔ بعض لوگ نہایت سادہ لوح ہوتے ہیں ۔ ایک سیدھی سادی بات کو اجمالی طور پر مان لیتے ہیں۔ تفصیلات اور باریکیوں کو سمجھنے کی نہ ان میں قابلیت ہوتی ہے اور نہ وہ ان کے طالب وہوتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض لوگوں میں غور و فکر کا مادہ ہوتاہے۔ اجمال سے انکی تشفی نہیں ہوتی۔ تفصیلات ڈھونڈتے ہیں۔ نہیں ملتیں تو تخیل سے پیدا کر لیتے ہیں۔ پھر غور و فکر کرنے والوں کے رحجانات اور مدارج عقلی بھی مختلف ہیں۔ کسی کا میلان شک کی طرف ہوتا ہے اور کسی کا یقین کی طرف۔ کوئی مادیات و محسوسات پر فریفتہ ہے اور کوئی معقولات پر۔ کوئی بات کی تہ تک پہنچ جاتا ہے اور کوئی بیچ کی راہوں پر بھٹک کر رہ جاتا ہے۔ کوئی حقیقت پسند ہوتا ہے اور کسی کو وہم و خیال کی وادیوں میں گھومنا ہی اچھا معلوم ہوتا ہے۔غرض ، نظر و فکر کے بہت سے راستے ہیں جن کو انسانی اذہان اپنی اپنی اُفتاد طبع کے مطابق اختیار کرتے ہیں۔ اور کسی انسان کو یہ مطالبہ کرنے کا حق بھی نہیں ہے کہ اس کی اپنی افتاد طبع اور اس کا اپنا مذاق و رحجان ہی سب انسانوں کے لیے معیار قرار پائے جس کے مطابق ڈھل جانا سب پر فرض ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
جس خدا نے اسلام کو تمام نوع انسانی کی ہدایت کے لیے نازل کیا ہے اس سے بڑھ کر انسانی طبعیتوں کے ان اختلافات کو جاننے والا اور ان کی رعایت ملھوظ رکھنے والا اور کون ہو سکتا ہے؟یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے دین کی بنیاد ایسے سادہ اور مجمل عقائد پر رکھی جنیں ایک کم عقل عہقان سے لے کر ایک نکتہ سنج فلسفی اور ایک حقیقت طلب سائنٹسٹ تک سب قبول کر سکتے ہیں۔ ان عقائد کی سادگی اور ان کا اجمال ہی وہ چیز ہے جس نے ان کو ایک عالمگیر انسانی مذہب کے لیے بنیادی اصول بننے کے قابل بنایا ہے۔ جو شخص غور و فکر کی صلاحیت نہیں رکھتا اس کے لیے صرف اتنا مان لینا ہی کافی ہے کہ ایک خدا ہے ، محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، قرآن اس کی کتا ب ہے اور قیامت کے روز ہمیں اس کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور جو شخص غور و فکر کی قوت رکھتا ہے اس کے لیے اسی اجمال میں اتنی وسعتیں ہیں کہ وہ اپنی استعداد اور اپنے رحجانات کے مطابق جستجوئے حقیقت کے لیے بے شمار راہوں پر جا سکتا ہے ، جتنی دور چاہے جا سکتا ہے ، ساری عمر اسی جستجو میں کھپا رہ سکتا ہے ، بغیر اس کے کہ کسی مقام پر پہنچ کر وہ کہہ سکے کہ جو کُچھ جاننا تھا وہ میں جان چُکا ہوں۔
پھر ایک سوچنے والا آدمی اپنی فکر و تلاش کے لیے چاہے کوئی راہ اختیار کرے اور خواہ کتنی ہی دور تک چلا جائے ، بہر حال جب تک وہ ان حدود کے اندر چل رہا ہے جو کلام اللہ نے اسلام اور کفر کے درمیان کھینچ دی ہیں ، وہ دائرہ ایمان سے خارج نہیں قرار دیا جاسکتا، اگرچہ اس کے ذہن کی جولانیوںسے ہم کو کتنا ہی اختلاف ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں پہنچ کر ہم ذرا سا غور کریں تو بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ اسلام میں فرقوں کی پیداوار کس طرح ہوئی ہے۔ قرآن و حدیث میں ضروریات دین کے متعلق جو سادہ اور مختصر باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔اور کہیں کہیں ان کی تفصیل میں جو لطیف اشارے دئیے گئے ہیں، ان کو سمجھنے کے لیے لوگوں نے اپنی عقلی استعدادوں اور اپنے طبیعی رحجانات کی بنا پر مختلف راہیں اختیار کیں اور ان کے تفصیلی فہم کے لئے قیاس و استدلال کے ذریعے سے الگ الگ جزئیات اور فروع ایجاد کر لیے۔ اس حد تک تو کوئی مضایقہ نہ تھا اوراس میں کوئی خرابی بھی نہ تھی کہ ایک گروہ صرف اپنے مسلک کو حق سمجھتا اور دوسرے گروہوں سے بحث کر کے ا ن کو اپنے مسلک کی طرف لانے کی کوشش کرتا۔ لیکن غضب یہ ہوا کہ لوگوں نے بے جا تشدد برت کر اپنے اپنے قیاسی و تاویلی عقائد کو بھی اصول و ضروریات دین میں شامل کر لیا اور پھر ہر ایک گروہ نے ان تمام گروہوں کی تکفیر شروع کر دی جو اس کے استنباطی عقائد کے منکر تھے۔ یہیں سے حرب عقائد کی ابتدا ہوئی ہے۔ اور یہی اس ظلم کا نقطہ اغاز ہے۔ یہ صحیح ہے کہ عقائد کے باب میں قیاسات و تاویلات سے جو راہیں اخیتار کی گئی ہی ان میں سے بہت سی راہیں غلط ہیں۔ لیکن ہر غلطی لازما کفر ہی نہیں ہے۔ غلطی کو غلطی کہنا اور اس کا ارتکاب کرنے والے کو گمراہ اور غلط کار سمجھنا اور اس کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرنا بلاشبہ جائز امر ہے۔ لیکن جب تک کوئی شخص اُس نفس حقیقت کا انکار نہیں کرتا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کا حکم دیا ہے اس کو کافر کہنا کسی طرح بھی جائز نہیں ، خواہ اس کی گمراہیاں کتنی ہی بڑھ گئی ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
افسوس ہے کہ مدتوں کی چلی ہوئی اس روش کو چھوڑنے پر ہمارے علمائے کرام کسی طرح راضی نہیں ہوتے۔ انہوں نے اصل اور فرع، نص اور تاویل کے فرق کو نظر انداز کر دیا ہے۔ و ان فروع کو بھی اصول بنا بیٹھے ہیں جن کو انہوں نے خود یا ان کے اسلان نے اپنے مخصوص فہم کی بنا پر اخذ کیا ہے ۔ وہ ان تاویلات کو بھی نصوص کے درجے میں رکتھے ہیں جو نصوص سے معانی اخذ کرنے میں ان کے گروہ نے اختیار کی ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنے فروع اور اپنی تاویلات کے منکر کو بھی اسی طرح کافر قرار دیتے ہیں ، جس طرح اصول اور نصوص کے منکر کو قرار دیا جاتا ہے ۔ اس کھینچ تان اور بے اعتدالی نے پہلے تو اسلامی جمعیت میں صرف تفرقہ ہی پیدا کیا تھا مگر اب دیکھ رہے ہیں کہ علما کی یہ کافر گری مسلمانوں کے دلوں میں نہ صرف علما کی طرف سے ، بلکہ خود اُس مذہب کی طرف سے بھی بدگمانیاں پیدا کر رہی ہیں جس کی نمائیندگی یہ علما کر رہے ہیں۔ روز بروز علما کا اقتدارمسلمانوں پر سے اُٹھتا چلا جا رہا ہے۔ ان کی باتیں سن کر دل مذہب کی طرف راغب ہونے کے بجائےاس سے دور بھاگنےلگے ہیں۔ مذہبی مجالس اور مذہبی تحریروں کے متعلق یہ عام خیال پیدا ہو گیا ہے کہ ان میں فضول جھگڑوں کے سوا کُچھ نہیں ہوتا۔ ۔اس غلبہ کفر و فسق کے زمانے میں عام مسلمانوں کو مذہبی علوم کی واقفی بہم پہنچانے کا اگر کوئی ذریعہ ہو سکتا تھا تو وہ یہ تھا کہ علمائے دین پر لوگوں کو اعتماد ہوتا اور وہ ان کی تحریروں اور تقریروں سے فائدہ اُٹھاتے۔ مگر افسوس کہ ان کی فرقہ بندی کی لڑائیوں اور ان تکفیر کے مشغلوں سے یہ ایک ذریعہ بھی ختم ہوا جا رہا ہے او یہ مسلمانوں میں مذہب سے عام ناواقفیت اور گمراہی پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ۔ کاش! ہمارے علمااپنی غلطی محسوس کریں اور اسلامی اور مسلمانوں پر نہیں پر خود اپنے اوپر ہی رحم کر کے اس روش سے باز آ جائیں ۔ جس نے ان کو اپنی قوم میں اس قدر رسوا کر دیا ہے ، درآنحالیکہ یہی وہ قوم تھی جو کبھی ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتی تھی۔

ترجمان القرآن۔ :1935: سید مودودی

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 181
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (14-10-11), منتظمین (12-10-11), آبی ٹوکول (12-10-11), ابرارحسین (13-10-11), احمد نذیر (12-10-11), بلال الراعی (12-10-11), سیفی خان (12-10-11), سحر (12-10-11), عبداللہ حیدر (12-10-11)
جواب

Tags
فرض, گمان, پسند, نماز, نظر, مقابلہ, منافق, ممکن, محبت, مسائل, معلوم, ایمان, اللہ, انسان, اسلام, اسلامی, بھائی, تلاش, تعلیم, جرم, خون, خدا, رمضان, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:12 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger