واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > کفروشرک



کفروشرک کفروشرک


چار سوالات اور منکر آحادیث

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-09-11, 12:31 PM   #1
چار سوالات اور منکر آحادیث
کاشف اکرم وارثی کاشف اکرم وارثی آف لائن ہے 15-09-11, 12:31 PM

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

اسلام و علیکم۔

کچھ دنوں سے اس فورم پر غامدی صاحب کے حوالہ سے ایک بحث چھٹری ھوئی ھے جو کہ ختم ھونے کا نام ھی نھیں لے پا رھی۔ ان میں کچھ یوذرز ایسے بھی ھیں جو کہ بظاھر اپنے آپ کو عاشقء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہلواتے ھیں لیکن اصل میں وہ منکر آحادیث کے فرقہ سے تعلق رکھتے ھیں۔ آج جو کالم میں آپ سے شئیر کرنے جارھا ھوں وہ میرے ایک بھت ھی دوست ،بھائی،اور استاد جناب عشرت اقبال وارثی نے لکھا ھے جو کہ ان یوذر کے لیے ھے جو دعواے تو بڑے بڑے کرتے ھیں لیکن اندر سے کھوکھلے ھیں۔
۔-----------------------------------------------------------------------------
چار سوالات اور منکر حِدیث لاجواب
,, خیر اور شر کا معرکہ اُسی دِن سے شروع ہوگیا تھا جب اللہ کریم نے شرف وعزت کا تاج سیدنا آدم صفی اللہ علیہ السلام کے سر پر سجا دیا تھا۔ اِس معرکے میں فرشتوں نے سر نیاز جھکا دیا جسکی بدولت اُن کے حصے میں خیر کی سعادت آئی جبکہ شیطان ِ لعین نے سر جھکانے کو غُلامی سے تعبیر کیا اور اپنے وجود کو اللہ کے نبی علیہ السلام سے بہتر ثابت کرنے کیلئے منطقی دلیلوں اور سوال و جواب میں اُلجھ گیا جسکی وجہ سے حُکم خُدا کی نافرمانی کا مُرتکب ہو کر شر کی اَتاہ گہرائیوں میں جا پڑا۔

جسکے بعد مخلوق دو حِصوں میں تقسیم ہوگئی ایک خیر کی طلبگار تُو دوسری شر کی مددگار۔ سیدنا آدم علیہ السلام کی دُنیا میں آمد کیساتھ ہی شیطان نے اپنی ذریت میں اضافے کی راہ ہموار کرنی شروع کردی اور یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ باعث تخلیق کائینات سرورِ انبیاءَمحبوبِ رَبِّ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر تمام جہانوں میں نوید سحر کی خُوشبو کی طرح پھیلنے لگی تیرگی چھٹنے لگی ۔آتشکدے بجھنے لگے۔ بُت اُوندھے مُنہ گرنے لگے ۔


کلام مُصفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک مردہ دِلوں میں توحید کی روح پھونکنے لگی جس کی وجہ سے لوگ جوق در جوق شر سے اپنے دامنوں کو چُھڑا چُھڑا
کر خیر اور پاکیزگی کے دامن میں سِمٹ سِمٹ کر مغفرت کی اُمید پر رِحمتوں کے سائے میں پناہ تلاش کرنے لگے ۔


شیطان لعین کو جب اپنی ہزاروں برس کی محنت بے ثمر نظر آنے لگی تو وہ دیوانوں کی طرح واویلا مچانے لگا۔ ناکامی اور حسرت سے اپنے سر پہ خاک ڈالنے لگا۔


تب اُ س نے دو سِمتوں میں محاذِ جنگ کھولنے کا اِرادہ کیا ۔ جسکے ذریعے سے ایک جانب وہ اپنی ذریت کو ایمان کی دولت سے محفوظ رکھنے کی ناکام سعی میں مصروف تھا تُو دوسری جانب ایسے لوگوں کی تلاش میں سرگرداں تھا جو دِینِ رِحمت کے گھنے سائے میں آخرت کی ٹھنڈی چھاؤں کے بھی طلبگار تھے لیکن ابھی تک اپنے نفس کی غلامی کا شکار تھے اور انا پرستی کے عفریت کے زیردام تھے۔


چُونکہ شیطان لعین پر یہ راز آشکار ہُوچُکا تھا کہ اگر کوئی بات اللہ کریم کی ناراضگی کا باعث بن سکتی ہے تُو وہ یہی بات ہے کہ اللہ کریم کے انبیاءَ کرام علیہم السلام کی برابری کا دعوی کردِیا جائے جب سیدنا آدم علیہ السلام کی برابری کا دعوٰی ابلیس کو لعنت کا طوق پہنا سکتا ہے ۔تو جِسے اللہ کریم کے محبوب ہونے کا شرف حاصل ہوجائے اور کوئی اُنکی برابری کا دعویٰ کرے گا تو کیوں اُسکی دُنیا اور عُقبیٰ خراب نہ ہُوگی۔ پس شیطانِ لعین کو ایسے لوگوں کے دِلوں میں (سب سے پہلے اپنی خُودی اپنی عزت کا اِحساس پیدا کرنا ضروری تھا)۔ جسکے بعد ہی وہ اپنے غلیظ خیالات کی آبیاری سےمُنافقین کے دِل و دِماغ میں تعفن پیدا کرسکتا تھا۔


سو اُس نے چند ایسے لوگوں کو ڈھونڈ نِکالا جِسمیں رہیس المنافقین عبداللہ بن اُبی اور ذوالخویصرہ کے نام نُمایاں ہیں شیطان لعین اِن لوگوں کے دِلوں میں یہ بات ڈالنے میں کامیاب ہوگیا ۔ کہ مُحمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور تُم لوگوں میں کوئی فرق نہیں ( وہ بھی تُمہارے جیسے انسان ہیں) بس فرق ہے تو اِتنا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔

اور چُونکہ مُحَّمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بعثت کا مقصد صرف اِتنا ہے کہ اللہ عزوجل کا پیغام تُم تک پُہنچادیا جائے لِہذا اُنکے پیغام کو قبول کر لیا جائے اور نبی اکرم صلی اللہُ علیہ وسلم کی دیگر تعلیمات یا آیات قران کی تشریح کو پس پُشت ڈال دِیا جائے۔


اللہ کریم شیطان لعین کی اِن حرکات اور چال کو دیکھ رہا تھا اور جانتا تھا کہ مستقبل میں بھی ذوالخویصرہ کی معنوی اولاد اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیزاری کا نعرہ بلند کرے گی لِہذا اللہ کریم نے جا بجا قران مجید میں اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اِحکامات کے ذریعہ سے شیطان کے مکر و فریب کی چال کو اُلٹ ڈالا۔

لہذا قران مجید میں صلواۃ کا حُکم ضرور دیا گیا لیکن طریقہ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر چھوڑ دِیا گیا کہ جِس طرح میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم ادا کریں تُم انکی پیروی کرتے چلے جاؤ۔

زکواۃ صاحب نصاب پر فرض کردی گئی لیکن اسکی شرح کا فیصلہ انبیاءَ کے سالار صلی اللہ علیہ وسلم کی صوابدید پر چھوڑ دِیا گیا۔

حج کی ادائیگی کا حُکم نافذ کردِیا گیا لیکن حج کس طرح کرنا ہے یہ مدنی مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع پر منحصر رہا ۔


الغرض دین کے تمام ستونوں کو کریم آقا علیہ الصلواۃ والسلام کی ادا سے مشروط کردِیا گیا کیونکہ اللہ کریم علیم و خبیر ہے ازل سے جانتا ہے کہ مخلوق میں کُچھ نادان اور ظالم لوگ ،، اطاعت مُصطٰفی صلی اللہ علیہ وسلم کو غُلامی سے تعبیر کریں گے اور فرائض و واجبات سے جان چھڑانے کیلئے سُنت محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے جان چھڑانے کیلئے،، اطاعت صرف اللہ کی،، کا نعرہ بُلند کریں گے۔

لیکن میرے رَبّ عزوجل نے شیطان اور اُسکی ذریت کا مکر اپنی تدبیر سے اُنہی پر اُلٹ دِیا اور قران کریم میں اُن لوگوں کو قیامت تک کیلئے ارشاد فرمادیا ۔
قُل اِن کُنتم تُحبونَ اللہ فاتبعونی یحببکمُ اللہ
(سورہ آلِ عمران۔31)۔

ترجمہ ،، آپ فرمادیجئے اگر تُم اللہ تعالی سے مُحبت رکھتے ہُو تو میری اتباع کرو اللہ تعالی تُم سے مُحبت کرے گا

گُویاکہ ارشاد فرمایاجا رہا ہے،، اے مجھ سے مُحبت کا دعوی کرنے والو۔ اے عبداللہ کہلوا کر بھی میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے بغاوت کا عَلَم بُلند کرنے والو ۔اگر تُم سچے ہُو اور واقعی مُجھ سے مُحبت کرتے ہو تو پہلے میرے مکی مدنی محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی غُلامی کا پٹّہ اپنی گردنوں میں ڈال لُو اور جب تُم یہ پٹہ اپنی گردنوں میں ڈال لو گے تُو پھر تُمہیں مجھ سے مُحبت کا دعویٰ نہیں کرنا پڑے گا بلکہ میں خُود تُم سے مُحبت کرونگا اسکے سِوا تُمہارے پاس کوئی راہ نہیں کہ میری مُحبت پاسکو میرے عشق کے دعوے کرسکو سُنو اگر تُم نے میرے مِحبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو چھوڑ کر میری مُحبت کا دعوی کیا تُو تُم جھوٹے ہُو کیونکہ میرے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کے بِنا میرے اطاعت ہرگز نہ کرپاؤ گے۔


قارئین محترم منکرین حدیث کا فتنہ کوئی نئی بات نہیں اِس فتنے کا موجد ذوالخویصرہ تھا جو کہ ایک بے ادب اور گُستاخ انسان تھا جسکے متعلق بُخاری شریف میں دس سے زائد اَحادیث مبارکہ موجود ہیں اِسی ذوالخویصرہ کی جماعت کو ابتدا میں خارجی جماعت بھی کہا گیا۔ اِسی جماعت کے لوگوں نے اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرائیں اور جنگ کا ماحول پیدا کرتے رہے۔ جنگ جمل اور جنگ صفین بھی انہی کی ناپاک سازش کا شاخسانہ تھی۔
کئی مشہور اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت انہی بد بختوں کے ہاتھ سے ہُوئی یہ جماعت اپنے سِوا تمام مسلمانوں بشمول صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو اسلام سے خارج سمجھتی تھی اور آج تک اِسی ذوالخویصرہ کی معنوی اولاد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے کردار پر شکوک اور شبہات کی کیچڑ اچھالتی ہے ۔

منکرین حدیث خارجیوں کے عقائد۔

اطاعت صرف اللہ کی۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور کُتب سیرت کی اہمیت کا انکار( کیونکہ اُنکی نظر میں وہ غیر معتبر ہیں)

صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین) ظالم تھے (معاذ اللہ)

اولیاءَاللہ سے تعلق رکھنے کو ناجائز سمجھتے ہیں۔

اپنے سِوا رُوئے زمین کے تمام مسلمانوں کو کافر اور مشرک سمجھتے ہیں۔

جِس سے کبیرہ گُناہ سرزد ہوجائے اُسے گنہگار نہیں بلکہ کافر سمجھتے ہیں۔

قران مجید میں جو آیات کافروں کیلئے نازل ہُوئیں اُنہیں مسلمانوں پر تھوپنے میں فخر محسوس کرتے ہیں

قارئین محترم الحمد للہِ عزوجل پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جِسمیں کروڑوں جانثارانِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم رہتے ہیں جسکی وجہ سے اِن خارجین اور منکرین حدیث کی کبھی اتنی ہمت نہیں ہُوئی کہ وہ عوام کے سامنے اپنے غلیظ عقائد کا برملا اظہار کرسکیں اور اگر کوئی انتہائی درجہ کا بے وقوف اگر ایسی کوئی حِماقت کر بیٹھے تو ہم نے اُسکا حشر بھی دیکھا ہے۔

اسلئے یہ لوگ اپنے عقائد کا اظہار صرف وہاں کرتے ہیں جہاں اِنہیں مکمل یقین ہُوتا ہے کہ سامنے والے کو بالکل بھی دین اسلام سے متعلق کوئی آگاہی نہیں ہے یا پھر انٹرنیٹ پر اپنے مقام کو خُفیہ رکھتے ہُوئے تبلیغ کا کام کرتے ہیں یہاں بھی وہ اپنا اصل مقام یا رابطہ کا طریقہ ظاہر نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایسی صورت میں کوئی غازی علم الدین ، ممتاز قادری ، یا عامر چیمہ شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انکے گُستاخانہ عقائد کی وجہ سے اِنہیں عبرتناک موت کےانجام سے ہمکنار کرتے ہُوئے جہنم واصل کر سکتا ہے۔


انشاءَ اللہ عزوجل اگلی قسط میں وہ چار سوال پیش کرونگا جسکا جواب کوئی مُنکرِ حدیث اپنی تمام ذریت اور شیطانی لشکروں کی مدد سے بھی نہیں دے پائے گا
اسلئے( چار سوالات اور منکر حدیث حصہ دوئم )بھی ضرور پڑہیئے گا تاکہ کبھی زندگی میں اگر آپکا سامنا کسی مُنکر حدیث سے ہوجائے تو انہی چار سوالات کے ذریعے سے اِن گُستاخوں کو لاجواب کر سکیں

قارئین مُحترم گُذشتہ ڈھائی برس کے دوران میرا چند ایک منکرینِ حدیث کے ساتھ مباحثہ ہُوا ہے حالانکہ یہ میری فیلڈ نہیں ہے لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ گیدڑ کی جب موت آتی ہے تب وہ شہر کی جانب رُخ کرلیتا ہے بس اِسی طرح کچھ منکر میری جانب دوڑے چلے آتے ہیں اور میرے نا چاہنے کے باوجود بھی مجھے اکثر اِس بحث میں گھسیٹ لیا جاتا ہے مگر الحمدُ للہ میرے سوالات کی ترتیب کُچھ اِس طرح کی ہے کہ بَفضلِ خُدا آخری سوال پوچھنے سے قبل ہی منکرینِ حدیث ایسے غائب ہوجاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اور شاذ و ناذ ہی کِسی ایسے ڈھیٹ و بے شرم سے واسطہ پڑتا ہے جو دلیل نہ ہونے کے باوجود بھی اپنی خِفت مِٹانے کیلئے کسی نادان بچے کی طرح اڑ جاتا ہے جِسے کوئی لاکھ سمجھائے کہ بیٹا روٹی چاند کے برابر نہیں ہُوتی مگر وہ یہی رٹ لگائے رہتا ہے کہ اگر چاند روٹی سے بڑا ہے تو مجھے ماپ کر دِکھاؤ۔

حالانکہ شارحین حدیث نے تمام اَحادیث کو لکھنے میں نہایت کمالِ احتیاط سے کام لیا ہے اور احادیث مُبارکہ کو لکھنے سے پہلے خُوب چھان پھٹک کے بعد ہی تحریر فرمایا اسما الرجال کا علم دریافت فرمایا تاکہ احادیث مبارکہ میں غلو نہ ہونے پائے کیونکہ

اِن نفوسِ قدسیہ کے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مبارکہ ہمیشہ نظروں کے سامنے رہتی تھی۔ مفہوم ،، کہ جس نے مجھ سے کوئی جھوٹی بات منسوب کی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے،،

اور اگر کہیں کوئی راوی اعمال میں کمزور نطر آتا تُو نیچیے راوی کے ضعیف ہونے کا تذکرہ بھی ضرور فرماتے یہ اُنکی دیانتداری کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ فرماتے تب آج کسی کو یہ معلوم ہی نہ ہُوتا کہ کس حدیث کا راوی ضعیف ہے اور کسکا راوی حسن ہے۔

اور ان تمام شارحین حدیث کے تقوی و پرہیز گاری کی قسمیں آج بھی دُنیا بھر کے کروڑوں مسلمان کھاتے ہیں اور یہ تمام نُفوسِ قدسیہ علم الحدیث میں اتھارٹی تسلیم کئے جاتے ہیں جبکہ منکرین حدیث کی تعداد مٹھی بھر شر انگیز لوگوں پر مبنی ہے جنکی نہ کوئی تعلیمی قابلیت ہے اور نہ ہی کوئی علمی مقام اسلئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے رہنماوں کی وہی پوزیشن ہے جو ماہر طبیبوں کے سامنے کسی عطائی معالج کی ہوتی ہے بس فرق اتنا ہے کہ عطائی ڈاکٹر کی دوائی سے جان جانے کا خطرہ رہتا ہے جبکہ ان عطائی مُلاؤں کی صحبت کی وجہ سے مومن کی سب سے قیمتی شئے ایمان خطرے میں رہتی ہے۔

اگر کبھی زندگی میں کوئی مُنکرِ حدیث آپ سے نیٹ کی دُنیا میں ٹکرا جائے(کیونکہ سامنے آنے کی ہمت شائد ہی کوئی کرپائے)اور چرب زُبانی سے یہ ثابت کرنا چاہے کہ اسلام کی بُنیاد صرف قران مجید سے رہنمائی کی صورت میں ہے اور اَحادیث مبارکہ کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔

تب آپ بھی اِن سوالات کو اِسی ترتیب سے معلوم کرلیجئے گا انشاءَ اللہ منکرِ حدیث وہاں سے ایسے غائب ہوگا جیسے لاحول پڑھنے سے شیطان غائب ہوجاتا ہے

نوٹ
ایک بات کا ضرور دھیان رکھیئے گا جب تک آپکو آپکے سوال کا جواب نہ مِل جائے آپ کسی دوسری جانب متوجہ ہرگز نہ ہویئے گا کیونکہ اِن سوالات کو دیکھتے ہی وہ منکر حدیث ٹاپک(موضوع) کا رُخ موڑنے کی کوشش ضرور کرے گا کیونکہ دُنیا کے کسی منکر حدیث کے پاس ان سوالوں کا جواب ہی موجود نہیں ہے اس لئے اُسکی کوشش یہی رہے گی کہ دورانِ مباحثہ کوئی دوسری بحث شروع ہوجائے لیکن آپکا اصرار یہی ہُونا چاہیئے کہ پہلے اصول کیمطابق میرے سوالوں کا جواب دے دُو اُسکے بعد ہی دوسری بحث کی ابتدا ہوگی اگر آپ نے میرے بتائے ہوئے طریقہ پر عمل کیا تُو انشاءَ اللہ عزوجل وہ منکر حدیث یا تُو اپنے عقائد سے تائب ہوجائے گا یا موقع سے ذلیل ہوکر اپنے انجام کو پُہنچے گا ۔

پہلا سوال،
کیا قرانِ مجید کی کسی ایک آیت کے انکار سے کُفر لازم آتا ہے یا نہیں؟

منکر حدیث اس بات کا اقرار کرے گا کہ ہاں قران کی کسی ایک آیت کا اِنکار بھی کُفر ہے

دوسرا سوال،
کیا قرانِ مجید میں اتباعِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آیتیں موجود ہیں یا نہیں ؟

منکر حدیث اقرار کرے گا کہ ہاں اتباعِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آیات قرانِ مجید میں موجود ہیں ۔ اگر منکرِ حدیث انکار کرے تب پہلے سوال کی روشنی میں خُود کافر ہوجائے گا ۔تب آپ خود کوئی ایک آیت پیش کردیں جیسے سورہ آل عمران کی آیت نمبر31 اور آیت نمبر32
قُلْ اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللہُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوۡبَکُمْ ؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ

اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللّٰہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللّٰہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے

قُلْ اَطِیۡعُوا اللہَ وَالرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْکٰفِرِیۡنَ
تم فرمادو کہ حکم مانو اللّٰہ اور رسول کا پھر اگر وہ منھ پھیریں تو اللّٰہ کو خوش نہیں آتے کافر ۔

تیسرا سوال،

جب اتباع کی آیت کو مان لیا جائے تب یہ معلوم کریں کہ وہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کس طرح سے کرے گا کیونکہ کسی کی تابعداری تب ہی کی جاسکتی ہے جب کہ جسکی تابعداری کی جارہی اُسکے معمولات زندگی کا علم ہُو اُسکی سیرت اُسکا کردار اُسکے احکامات اُسکی خُواہش، وہ کس بات پر خوش ہوتا ہے اور اُسے کیا چیز ناپسند ہے یہ سب باتیں معلوم ہُو ۔

قارئین محترم یہاں آکر منکر حدیث ہوسکتا ہے کہ راہِ فرار حاصل کرلے یا یہ بھی ممکن ہے کہ جو شخص ابھی تک احادیث مبارکہ پر تنقید کررہا تھا خُود کوئی حدیث پیش کر بیٹھے میرے ساتھ یہ لطیفہ کئی مرتبہ ہو چُکا ہے کہ اس سوال کے جواب میں خُود منکر حدیث ایک حدیث اماں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کرنے بیٹھ جاتے ہیں کہ جب آپ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ،، کیا تُم نے قران نہیں پڑھا۔ اسلئے وہ منکر حدیث آپ کو دھوکہ دینے کیلئے کہے گا کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے کیلئے قران کافی ہے ۔ کیونکہ الحمد سے لیکر والناس تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت موجود ہے۔

چُوتھا سوال،
بھائی پہلی بات تو یہ کہ جب آپ اَحادیث مبارکہ کو مانتے ہی نہیں تب آپ دلیل یا جواب میں حدیث کیسے پیش کرسکتے ہیں اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ احادیث مبارکہ کا استعمال آپکی نظر میں بھی جائز ہے ورنہ آپ خُود کیسے حدیث پیش کرسکتے ہیں

تیسری بات یہ جو آپ نے کہا کہ الحمد سے لیکر والناس تک حضور علیہ السلام کی سیرت موجود ہے یہ بزرگان دین کا قول مبارک ہے یا قران مجید کی آیت ہے اگر یہ بزرگان دین کا قول ہے تو بھی آپ اس قول کو جواز میں پیش نہیں کرسکتے تھے کیونکہ آپ لوگ تو اولیاءَ اللہ کے اقوال کو مانتے ہی نہیں پھر اپنی دلیل میں اقوال کیسے پیش کرسکتے ہیں ۔

لیکن ہم پھر بھی تُمہارے جواب کو قبول کرلیتے ہیں۔ کہ تمام سیرتِ مُصطفٰی ﷺ قران مجید میں موجود ہے۔ اب چونکہ دعوی آپ کی جانب سے کیا گیا ہے کہ حضور علیہ السلام کی تمام سیرت قران مجید میں موجود ہے جسمیں ہمیں کوئی شک نہیں لیکن یہ مُسلم اصول ہے کہ جو دعویٰ کرتا ہے دلیل بھی وہی فراہم کرتا ہے

اور سیرت کے معنٰی ہیں سوانح عُمری یعنی زندگی کے حالات اور واقعات۔

اب ایک طرف قران کہتا ہے کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع بھی کرو اور اطاعت بھی کرو۔

جبکہ دوسری جانب مُنکرینِ حدیث کا دعوی ہے کہ اللہ کریم کے محبوب اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور اطاعت کیلئے سیرت مُصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور اَحادیث نبوی ﷺ کی ضرورت نہیں کیونکہ قران مجید میں تمام سیرت مُصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہے

اگر حُضور علیہ السلام کی سیرت جاننے کیلئے کُتب اَحادیث کی ضرورت نہیں اور تمام سیرت مُصطفی قران ہی میں موجود ہے تو۔۔

تو میرا تمام منکرین حدیث سے سوال ہے کہ ۔۔۔

سوال نمبر ۱حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الصلواۃ کسطرح ادا فرمایا کرتے تھے

سوال نمبر 2 حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الصلواۃ الفجر ، ظہر ، عصر ، مغرب ، عشا ، اور تہجد کی کتنی رکعت ادا فرماتے تھے۔

سوال نمبر 3 حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارکانِ الصلواۃ میں کیا کیا تلاوت فرماتے۔

سوال نمبر 4 حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الصلواۃ کا اختتام کیسے فرماتے اور بعد الصلواۃ کیا عمل فرماتے

منکرین ِ حدیث کو اِن تمام سوالات کے جوابات قران مجید سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ثابت کرنے ہیں کیونکہ قران مجید فرقان حمید میں حُکم اطاعت اور حُکم اتباع بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ہے

میرا تمام دُنیا کے منکرین حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو چیلنج ہے کہ اپنی تمام ذُریت کو جمع کر لیجئے تمام شیطانی قوتوں کو جمع کرلیجئے مگر ان سوالوں کے جواب نہ تُم سے بن پائیں گے اور نہ ہی تُمہارے معنوی باپ ذوالخویصرہ کے پاس اِن سوالات کے جوابات تھے ۔

قارئین مُحترم میں پھر آپکی خِدمت میں عرض کرونگا کہ جب آپ سیرت مُصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ سوالات کریں گے تُو ہوسکتا ہے کہ اس طرح کی باتوں سے آپکو اُلجھانے کی کوشش کی جائے کہ جناب بچہ اپنے والدین سے نماز سیکھتا ہے یا آپ سعودیہ چلے جائیں اور وہاں سے نماز سیکھ لیں یا پھر کیا آپ نے نماز ڈائریکٹ حدیث پڑھ کر سیکھی وغیرہ وغیرہ۔

اب میں اِن تمام سوالات کے جوابات بھی لکھے دیتا ہُوں کہ حِکمت مومن کی گُمشدہ میراث ہے لیکن مومن کی فراست کا مقابلہ کوئی ابن جہل و ذوالخویصرہ کر ہی نہیں سکتا

دُنیا کا ہر بچہ اپنے والدین کا مکلف ہوتا ہے تو تمام دینی اور دُنیاوی حرکات و سکنات اُنہی کو دیکھ کر سیکھتا ہے اسی واسطے اگر کوئی غلطی والدین کو دیکھ کر کرلے تو اسکا عتاب اُس بچہ پر نہیں بلکہ والدین پر ہُوگا۔

لیکن جونہی وہ بچہ بالغ ہوجائے گا تب دین کا علم سیکھنا اُس پر فرض ہوجائے گا۔

لہذا اگر کسی جگہہ والدین کو نماز کے ارکان معلوم نہیں اور وہ غلط سلط نماز ادا کرتے ہیں جسکی وجہ سے بچہ بھی غلط طریقے سے نماز پڑھتا ہے ۔ تو بالغ ہونے کے بعد وہ نوجوان یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں تو ایسے ہی نماز پڑھوں گا جیسے میرے والدین پڑھتے ہیں۔

کیونکہ قرانِ مجید میں اللہ کریم ایسے سرکش لوگوں کیلئے ارشاد فرماتا ہے۔

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ قَالُوۡا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُہُمْ لَا یَعْقِلُوۡنَ شَیۡئًا وَّلَا یَہۡتَدُوۡنَ

اور جب ان سے کہا جائے اللّٰہ کے اتارے پر چلو تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت
سورہ البقرہ آیت نمبر 170

اسلئے اب یہ مت کہنا کہ ہم نماز سعودیوں کو دیکھ کر پڑہتے ہیں یا اپنے ماں باپ کو دیکھ کر پڑہتے ہیں کیونکہ نہ ہی دین کے معاملے میں قران مجید میں ماں باپ کی اطاعت کا حُکم ہے اور نہ ہی سعودیوں کی اتباع کا حُکم ہے اور ویسے بھی سعودی
عرب کی اتباع کرنے سے پہلے یہ ضرور جان لو کہ سعودی بھی منکرین حدیث سے اُتنی ہی نفرت کرتے ہیں جتنی دُنیا بھر میں پھیلے ایک ارب سے زائد مسلمان کرتے ہیں۔

اور ہمیں اس بات میں قطعی دلچسپی نہیں کہ آپ نماز کسکو دیکھ کر پڑھ رہے ہیں ہماری دلچسپی تو صرف اس بات میں ہے کہ آپکو اتباع رسول اور اطاعت مُصطفٰی صلی اللہ علیہ قبول ہے یا نہیں اور اگر ہے تو آپ طریقہ نماز میں اس اتباع کو کہاں سے لیتے ہیں

اگر قران مجید سے حضور علیہ السلام کے نماز پرھنے کا طریقہ نِکالا ہے تو بس ہمیں بھی وہ آیت بتادیں جسمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ادائیگی نماز کا طریقہ لکھا ہے ورنہ ثابت ہوجائے گا کہ تمام منکرین حدیث دُنیا کے سب سے بڑے جھوٹے ہیں۔

اور دُنیا کے تمام منکرین حدیث اور اُنکی ذریت کو میرا چیلنج ہے کہ وہ قیامت تک نہ میرے سوالوں کے جواب لا سکیں گے اور نہ ہی خُود کو سچا ثابت کر پائیں گے کیونکہ ( منکر حدیث صرف حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرتے بلکہ انکار حدیث کی وجہ سے کئی قرانی آیات کا بھی انکار کرتے ہیں) اسلئے میرا اگلا کالم اِسی موضوع پر ہُوگا،، کیا انکار حدیث نبوی ﷺ کے بعد کوئی مسلمان رِہ سکتا ہے،، میں قران مجید کی روشنی میں دلائل سے ثابت کرونگا کہ انکار حدیث نبوی ﷺ دراصل انکار قران مجید ہے اس لئے کوئی منکر حدیث مسلمان ہو ہی نہیں سکتا۔

تمام قارئین سے مدنی التجا ہے کہ میرے لئے بھی دُعا فرمائیں گرمیوں کی آمد کیساتھ ہی عارضہ جگر میں گرفتار ہُوں جسکی وجہ سے لکھنے لکھانے کا معاملہ بھی کافی حد تک موقوف ہے اللہ کریم تمام مسلمانوں کے ایمان ، جان ، مال کی حَفاظت فرمائے
(آمین بجاہِ النبی الامین وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم)

Attached Thumbnails
1.jpg   2.jpg   3.jpg   4.jpg   6.jpg  



Last edited by کاشف اکرم وارثی; 20-09-11 at 04:54 PM..

کاشف اکرم وارثی
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 69
شکریہ: 118
55 مراسلہ میں 154 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1186
4 قاری/قارئین نے کاشف اکرم وارثی کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (15-09-11), نبیل خان (15-09-11), احمد نذیر (16-09-11), حسن قادری (15-09-11)
پرانا 15-09-11, 12:32 PM   #2
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 69
کمائي: 1,443
شکریہ: 118
55 مراسلہ میں 154 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

--------------------------------------
Attached Thumbnails
7.jpg  
کاشف اکرم وارثی آف لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے کاشف اکرم وارثی کا شکریہ ادا کیا
فکری (15-09-11), فاروق سرورخان (16-09-11), ننھا بچہ (15-09-11), نبیل خان (15-09-11), احمد نذیر (16-09-11), حسن قادری (15-09-11)
پرانا 15-09-11, 03:32 PM   #3
Senior Member
مقبول
 
فکری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 185
کمائي: 3,102
شکریہ: 504
155 مراسلہ میں 421 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ھی اچھے سولات ھیں جزاک اللہ
فکری آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے فکری کا شکریہ ادا کیا
پرانا 15-09-11, 03:54 PM   #4
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,135
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب منکروں کے لے کافی ھیں
حسن قادری آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا
پرانا 15-09-11, 04:43 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ان سوالات کا جواب نہیں دیں گے بلکہ گول کر جائیں گے
نبیل خان آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
پرانا 15-09-11, 06:47 PM   #6
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Aug 2011
مقام: TOBA TEK SINGH
عمر: 28
مراسلات: 6
کمائي: 70
شکریہ: 14
3 مراسلہ میں 3 بارشکریہ ادا کیا گیا
hum2234 کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں hum2234 کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ان کے مسلک کا کیا نام ھے
hum2234 آف لائن ہے  
hum2234 کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 15-09-11, 07:49 PM   #7
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 69
کمائي: 1,443
شکریہ: 118
55 مراسلہ میں 154 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : hum2234 مراسلہ دیکھیں
ان کے مسلک کا کیا نام ھے
ان میں سر فیرسہت پرویزی فرقہ ھے۔
کاشف اکرم وارثی آف لائن ہے  
کاشف اکرم وارثی کا شکریہ ادا کیا گیا
نبیل خان (17-09-11)
پرانا 15-09-11, 08:52 PM   #8
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس طرح کسی کے بارے میں بھی الزام تاشیاں کرنے سے کیا حاصل ہوگا
غامدی صاحب کے بارے میں اسطرح کی رائے پیش کرنے سے پہلے کم از کم اپنا علمی قد ان سے زیادہ نہیں تو ان کے برابر تو کرلیں

وارثی صاحب جو صفحات آپ نے پیش کئے ہیں وہ پڑھے بھی نہیں جارہے
بہتر ہوگا کے اس کو یونی کوڈ میں لکھ کر یہاں لگائیں تا کے معلوم تو ہوسکے لکھا کیا ہے

کاپی پیسٹ میں تو آپ کے مسلک کے خلاف بھی بہت سا مواد اور صفحات مل جائیں گے
اور ان پر واہ واہ کرنے والے بھی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
9 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (18-09-11), فاروق سرورخان (16-09-11), کنعان (20-09-11), پاکستانی (16-09-11), نورالدین (20-09-11), مرزا عامر (16-09-11), بلال الراعی (16-09-11), حیدر (17-09-11), رضی (18-09-11)
پرانا 15-09-11, 10:57 PM   #9
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-09-11), نبیل خان (17-09-11), ابرارحسین (17-09-11), حیدر (17-09-11)
پرانا 15-09-11, 11:55 PM   #10
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 69
کمائي: 1,443
شکریہ: 118
55 مراسلہ میں 154 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
اس طرح کسی کے بارے میں بھی الزام تاشیاں کرنے سے کیا حاصل ہوگا
غامدی صاحب کے بارے میں اسطرح کی رائے پیش کرنے سے پہلے کم از کم اپنا علمی قد ان سے زیادہ نہیں تو ان کے برابر تو کرلیں

وارثی صاحب جو صفحات آپ نے پیش کئے ہیں وہ پڑھے بھی نہیں جارہے
بہتر ہوگا کے اس کو یونی کوڈ میں لکھ کر یہاں لگائیں تا کے معلوم تو ہوسکے لکھا کیا ہے

کاپی پیسٹ میں تو آپ کے مسلک کے خلاف بھی بہت سا مواد اور صفحات مل جائیں گے
اور ان پر واہ واہ کرنے والے بھی
محترم فیصل صاحب میں نے کسی پر الزام تراشی نہیں کی بلکہ فرد جرم عائد کی ھی۔ اور یونی کوڈ میں بھی مواد آپ کو خاصل ھو جاوے گا۔ ڈونٹ یو وری۔ ھمارے مسلک الحمداللہ بریلوی ھے اس کے بارے میں جو آپ کا من چاھیں لے کر آجائیں۔ اور اللہ عزوجل سے دعا ھے کہ ھمارا قد ان جیسوں کے برابر کبھی بھی نا ھو ۔۔ آمین یا رب العالمین

گر کوئی بات بگڑ جائے تو نادانوں سے
ھم الجھتے نہیں آئینہ دکھا دیتے ھیں



کاشف اکرم وارثی آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے کاشف اکرم وارثی کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (16-09-11), پاکستانی (16-09-11), حیدر (17-09-11)
پرانا 16-09-11, 06:14 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

برادر محترم سوالات یونی کوڈ میں‌لکھ دیجئے ۔ جب تک سوالات پڑھے نہیں جائیں‌گے ، جواب کیسے دیا جاسکتا ہے ؟؟؟
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (20-09-11), پاکستانی (16-09-11), بلال الراعی (16-09-11), حیدر (17-09-11)
پرانا 16-09-11, 08:16 PM   #12
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 69
کمائي: 1,443
شکریہ: 118
55 مراسلہ میں 154 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
برادر محترم سوالات یونی کوڈ میں‌لکھ دیجئے ۔ جب تک سوالات پڑھے نہیں جائیں‌گے ، جواب کیسے دیا جاسکتا ہے ؟؟؟
ان شاء اللہ میں ایک دو روز میں اس کو یونی کوڈ میں ٹرانسفر کرتا ھوں ۔ کیوں کہ عشرت بھائی جن کا یہ کالم ھیں میرے خیال سے انھوں کے پاس بھی یونی کوڈ میں محفوظ نہیں ۔ ویسے پورا کالم پڑھا جارھا ھے۔ اگر کوشیش کی جاے۔
کاشف اکرم وارثی آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے کاشف اکرم وارثی کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (17-09-11), حیدر (17-09-11)
پرانا 17-09-11, 07:06 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تھوڑی سی تکلیف آپ کیجئے ۔۔۔۔ اللہ تعالی آپ کو اس کی جزائے خیر عطا فرمائیں
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (17-09-11)
پرانا 17-09-11, 08:40 AM   #14
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اصل حصے کا یونی کوڈ ترجمہ کر دیتا ہوں۔ یاران نقطہ داں کے لیے۔کیونکہ اس دنیا میں سب سے ویلا بندہ میں ہی ہوں۔

"ایک بات کا دھیان ضرور ریکھے کا جب تک آپکو آپکے سوال کا جواب نہ مل جائے آپ کسی دوسری جانت متوجہ ہرگز مت ہوئے گا۔ کیونکہ اس سوالات کو دیکھتے ہی وہ منکر حدیث ٹاپک کا رُخ موڑنے کی کوشش ضرور کرے گا کیونکہ دنیا کے کسی منکر حدیث کے پاس ان سوالوں کا جواب موجود ہی نہیں ہے۔ اس لیے اسکی کوشش یہی رہے گی کہ دوران مباحثہ کوئی دوسری بحث شروع ہو جائے لیکن آپ کا اصرار یہی ہونا چاہی کہ پہلےب اصول کے مطابق میرے سوالوں کا جواب دو اسکے بعد ہی دوسری بحث کی ابتدا ہو گی۔ اگر آپ نے میرے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کیا تو انشا اللہ عزو جل وہ منکر حدیث یا تو اپنے عقائد سے تائب ہو جائے گا یا موقع پر ذلیل ہو کر انجام کو پہنچے گا

پہلا سوال: کیا قرآن مجید کی کسی ایک آیت کے انکار سے کفر لازم آتا ہے یا نہیں؟

منکر حدیث اس بات کا اقرار کرے گا کہ ہاں قرآن کی کسی ایک آیت کا انکار بھی کُفر ہے۔

دوسرا سوال: کیا قرآن مجید میں اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آیتیں موجود ہیں یا نہیں؟
منکر حدیث اقرار کرے گا کہ ہاں اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آیات قرآن میں موجود ہیں۔ اگر منکر حدیث انکار کر تب پہلے سوال کی روشنی میں وہ خؤد کافر ہو جائے گا۔ تب آپ خود کوئی ایک آیت پیش کر دیں جیسے سورہ آل عمران کی آیت نمبر 31 اور 32

"اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اھگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاو۔ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے"

" تما فرما دو کہ حکم اللہ اور رسول کا پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خؤش نہیں آتے کافر"

تیسرا سوال
جب اتباع کی آیت کو مان لیا جائے تب معلوم کریں کہ وہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کس طرح سے کرے گا کیونکہ کسی کی تابعداری تب ہی کی جا سکتی ہے جب کہ جس کی تابعداری کی جا رہی ہو اس کے معمولات زندگی کا علم ہو ،اُسکی سیررت، اسکا کردار، اسکی خؤاہش، وہ کس بات پر خوش ہوتا ہے، کیا چیز اسے ناپسند ہے، یہ سب معلوم ہوں

قارئین محترم یہاں آ کر منکر حدیث ہو سکتا ہے کہ راہ فرار اختیار کر لے یا یہ بھی ممکن ہے کہ جو شخص ابھی تک احادیث مبارکہ پر تنقید کر رہا تھا خؤد کوئی حدیث پیش کر بیٹھے۔ میرے ساتھ یہ لطیفہ کئی مرتبہ ہو چُکا ہے کہ اس سوال کے جواب میں خود منکر حدیث اماں عائشہ سے روایت کرنے بیٹھ جاتے ہیں کہ جب آپ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا‘‘ اس لیے منکر حدیث آپ کو دھوکہ دینے کے لیے کہے گا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے کے لیے قرآن کافی ہے۔ کیونکہ الحمد للہ سے لیکر والناس تک حضور اکرم کی سیرت موجود ہے

چوتھا سوال:
بھائی پہلی بات تو یہ کہ جب آپ احآدیث مبارکہ کو مانتے ہی نہیں تب آپ دلیل جواب میں حدیث کیسے پیش کر سکتے ہیں اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ احآدیث مبارکہ کا استعمال آپکی نظر میں جائز بھی ہے ورنہ آپ خود کیسے حدیث پیش کر سکتے تھے۔

تیسری بات جو آپ نے کہا کہ الحمد سے لے کر والناس تک حضور اکرم کی سیرت موجود ہے یہ بزرگان دین کا قول مبارک ہے یا قرآن مجید کی آیت ہے ؟ اگر یہ بزرگان دین کا قول ہے تو بھی آپ اس قول کو جواز کے طور پر پیش نہیں کر سکتے کیونکہ آپ لوگ تو اولیا اللہ کے اقوال کو مانتے ہی نہیں نہیں پھر اپنی دلیل میں اقوال کیسے پیش کر سکتے ہیں؟

لیکن ہم پھر بھی تمہارے جواب کو قبول کتے ہیں کہ تمام سیرت قرآن میں موجود ہے۔ اب چونکہ دعویٰ آپ کی جانب سے کیا گیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سیرت قرآن میں موجود ہے جسمیں ہمیں کوئی شک نہیں لیکن یہ اصول مسلم ہے کہ جو دعویٰ کرتا ہے ، دلیل بھی وہی فراہم کرتا ہے۔
اور سیرت کے معنیٰٰ ہیں سوانح عمری یعنی زندگی کے حالات اور واقعات

اب ایک طرف قرآن کہتا ہے کہ میرے محبوب کی اتباع بھی کرو اور اطاعت بھی کرو۔

جبکہ دوسری طرف منکرین حدیث کا دعویٰ ہے کہ اللہ کریم کے محبوب اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور اطاعت کے لیے سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور احادیث نبوی کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ قرآن مجید میں تمام سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہے ۔

اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت جاننے کے لیے کتب احادیث کی ضرورت نہیں اور تمام سیرت مصطفی قرآن ہی میں موجود ہے تو۔۔۔۔

تو تمام منکریں حدیث سے سوال ہے کہ۔۔۔۔

سوال نمبر ایک: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کس طرح ادا فرماتے تھے
سوال نمبر دو: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارکان الصلواۃ میں کیا کیا تلاوت فرماتے تھے؟
سوالنمبر تین: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الصلواۃ الفجر، ظہر، عصر ، مغرب ، عشا اور تہجد کی کتنی رکعت ادا فرماتے تھے
سوال نمبر 4: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الصلواۃ کا اختتام کیسے فرماتے اور بعد الصلواۃ کیا عمل فرماتے؟

منکریں حدیث کو ان تمام سوالات کے جوابات قرآن مجید سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ثابت کرنے ہیں۔ ‘‘

اصل پیراگراف ختم ہوا۔ !

شکریہ
حیدر آف لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-09-11), فاروق سرورخان (17-09-11), کامران اقبال (18-09-11), پاکستانی (19-09-11), احمد نذیر (18-09-11), رضی (18-09-11), عبداللہ آدم (17-09-11)
پرانا 17-09-11, 10:09 AM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
پہلا سوال: کیا قرآن مجید کی کسی ایک آیت کے انکار سے کفر لازم آتا ہے یا نہیں؟
قرآن حکیم کی ہر آیت حکم او ر فرض ہے لہذا قرآن حکیم کی کسی آیت سے انکار نہیں‌کیا جاسکتا۔ ایسا انکار کفر ہے ۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
دوسرا سوال: کیا قرآن مجید میں اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آیتیں موجود ہیں یا نہیں؟
اللہ تعالی نے رسول اکرم کے اتباع اور اطاعت کا واضح‌اور صاف حکم دیا ہے اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ یہ اطاعت کس طرح‌کی جائے گی ۔ اس بارے میں‌آیات کے ریفرنس و حوالہ جات آئندہ مراسلے میں‌۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
تب آپ خود کوئی ایک آیت پیش کر دیں جیسے سورہ آل عمران کی آیت نمبر 31 اور 32
"اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاو۔ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے"
رسول اکرم کی فرمانبرداری کیا ہے ۔ اس پر آیات کا حوالہ آئندہ مراسلے میں ۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
" تم فرما دو کہ حکم اللہ اور رسول کا پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خؤش نہیں آتے کافر"
یہ آیت ایمان والوں کے لئے نہیں‌ہے بلکہ کفار کے لئے ہے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
تیسرا سوال
جب اتباع کی آیت کو مان لیا جائے تب معلوم کریں کہ وہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کس طرح سے کرے گا کیونکہ کسی کی تابعداری تب ہی کی جا سکتی ہے جب کہ جس کی تابعداری کی جا رہی ہو اس کے معمولات زندگی کا علم ہو ،اُسکی سیررت، اسکا کردار، اسکی خؤاہش، وہ کس بات پر خوش ہوتا ہے، کیا چیز اسے ناپسند ہے، یہ سب معلوم ہوں
ایمان لانے کا طریقہ ، اتباع اور تابعدادی کا طریقہ قرآن کس طور تعلیم فرماتا ہے ‌، اس پر آیات کا حوالہ آئندہ مراسلے میں‌۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
قارئین محترم یہاں آ کر منکر حدیث ہو سکتا ہے کہ راہ فرار اختیار کر لے یا یہ بھی ممکن ہے کہ جو شخص ابھی تک احادیث مبارکہ پر تنقید کر رہا تھا خؤد کوئی حدیث پیش کر بیٹھے۔ میرے ساتھ یہ لطیفہ کئی مرتبہ ہو چُکا ہے کہ اس سوال کے جواب میں خود منکر حدیث ام المومنین عائشہ سے روایت کرنے بیٹھ جاتے ہیں کہ جب آپ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا‘‘ اس لیے منکر حدیث آپ کو دھوکہ دینے کے لیے کہے گا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے کے لیے قرآن کافی ہے۔ کیونکہ الحمد للہ سے لیکر والناس تک حضور اکرم کی سیرت موجود ہے
روایات کی دو اقسام ہیں ۔ وہ جو قرآن کے اصولوں‌کے مطابق ہیں اور جو کہ قرآن کے اصولوں کے مخالف ہیں۔ لہذا وہ لوگ جو فرمان نبوی کو قبول کرتے ہیں‌لیکن خلاف قرآن منسوب شدہ روایات کو قبول نہیں‌کرتے ۔ ان پر یہ بات کس طور عائید ہوتی ہے وہ سمجھ سے باہر ہے۔ اس نکتہ میں‌کوئی سوال نہیں۔ بلکہ ایک خیال آرائی ہے کہ یاتو سب روایات مانو یا پھر کوئی نہیں‌مانو۔۔۔۔ گویا "خفیہ پیغام"‌ ی ہہے کہ کتب روایات پر من و عن ایمان لے آؤ۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
چوتھا سوال:
بھائی پہلی بات تو یہ کہ جب آپ احآدیث مبارکہ کو مانتے ہی نہیں تب آپ دلیل جواب میں حدیث کیسے پیش کر سکتے ہیں اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ احآدیث مبارکہ کا استعمال آپکی نظر میں جائز بھی ہے ورنہ آپ خود کیسے حدیث پیش کر سکتے تھے۔
تیسری بات جو آپ نے کہا کہ الحمد سے لے کر والناس تک حضور اکرم کی سیرت موجود ہے یہ بزرگان دین کا قول مبارک ہے یا قرآن مجید کی آیت ہے ؟ اگر یہ بزرگان دین کا قول ہے تو بھی آپ اس قول کو جواز کے طور پر پیش نہیں کر سکتے کیونکہ آپ لوگ تو اولیا اللہ کے اقوال کو مانتے ہی نہیں نہیں پھر اپنی دلیل میں اقوال کیسے پیش کر سکتے ہیں؟
لیکن ہم پھر بھی تمہارے جواب کو قبول کرتے ہیں کہ تمام سیرت قرآن میں موجود ہے۔ اب چونکہ دعویٰ آپ کی جانب سے کیا گیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سیرت قرآن میں موجود ہے جسمیں ہمیں کوئی شک نہیں لیکن یہ اصول مسلم ہے کہ جو دعویٰ کرتا ہے ، دلیل بھی وہی فراہم کرتا ہے۔
اور سیرت کے معنیٰٰ ہیں سوانح عمری یعنی زندگی کے حالات اور واقعات

اب ایک طرف قرآن کہتا ہے کہ میرے محبوب کی اتباع بھی کرو اور اطاعت بھی کرو۔

جبکہ دوسری طرف منکرین حدیث کا دعویٰ ہے کہ اللہ کریم کے محبوب اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور اطاعت کے لیے سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور احادیث نبوی کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ قرآن مجید میں تمام سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہے ۔

اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت جاننے کے لیے کتب احادیث کی ضرورت نہیں اور تمام سیرت مصطفی قرآن ہی میں موجود ہے تو۔۔۔۔

تو تمام منکریں حدیث سے سوال ہے کہ۔۔۔۔

سوال نمبر ایک: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کس طرح ادا فرماتے تھے
سوال نمبر دو: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارکان الصلواۃ میں کیا کیا تلاوت فرماتے تھے؟
سوالنمبر تین: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الصلواۃ الفجر، ظہر، عصر ، مغرب ، عشا اور تہجد کی کتنی رکعت ادا فرماتے تھے
سوال نمبر 4: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الصلواۃ کا اختتام کیسے فرماتے اور بعد الصلواۃ کیا عمل فرماتے؟

منکریں حدیث کو ان تمام سوالات کے جوابات قرآن مجید سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ثابت کرنے ہیں۔ ‘‘
چوتھا سوال ایک طویل بیان اور منطق ہے جس کی بنیاد کھوکھلی ہے۔ یہ ان آیات سے واضح‌ ہو جائے گا جو اتباع اور اطاعت رسول کا حکم دیتی ہیں‌۔
اس چوتھے سوال کا جواب ہم تیسرے سوال کے جواب کے بعد دیں‌گے ۔۔۔

-- آپ‌نے اور ہم نے دونوں‌نے مان لیا کہ اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق -- اتبا ع اور اطاعت رسول اکرم صلعم ---- ہم پر فرض‌ہے ۔ اب ہمارا سوال ہے (‌جس کا جواب ہم یہاں‌دیکھیں‌گے )‌ کہ اللہ تعالی کا فرمان قرآن حکیم کس طرح‌ ہم کو رسول اکرم صلعم کی اطاعت اور اتباع کا طریقہ بتاتا ہے ؟

ایک ممکنہ جواب :
اے ایمان والو ! یاد کرو وہ وقت جب کئی نئے نائب رسول آئیں گے جو بزرگ نبی محمد کی سنی سنائی سیرت کو جمع کریں‌گے تم ان جملہ سنی سنائی روایات پر ایمان لے آنا۔۔۔ یہ روایات لکھی ہوئی نہیں‌ بلکہ دلوں میں راسخ‌ہونگی ۔۔۔ جس کسی نے ان روایات کی کتب کی ایک بھی روایت سے انکار کیا ، اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ یقیناً اللہ حکمت اور غضب والا ہے ۔۔

مندرجہ بالاء‌ آیت یا روایت مشرکین کی طرف سے پیش کی جاتی ہے ۔ لیکن یہ قرآن یا حدیث دونوں‌ میں‌ ان آنے والئے نائب رسول یا نبیوں‌کا نام نہیں‌ملتا اور نا ہی یہ حکم ملتا ہے ۔۔۔

اب سوال یہ ہے کہ "اللہ یا اس کے رسول میں سے یہ حکم کس نے دیا کہ ان کتب پر کامل ایمان رکھنا ہے ؟؟"

تو کیا یہ اچھا نا ہوگا کہ ہم قرآن حکیم سے اتباع رسول اور اطاعت رسول کے احکامات تلاش کریں؟؟؟؟

آئندہ مراسلے میں اتباع رسول اور اطاعت رسول کیا ہے ؟ قرآن حکیم سے اس کا جواب انشاء اللہ ۔۔۔۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-09-11), پاکستانی (19-09-11), بلال الراعی (19-09-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
فورم, کالم, کرتے, ھوں, ھے, وسلم, لیکن, لے, نام, چار, آج, اپنے, اقبال, اللہ, اندر, استاد, بڑے, بحث, تعلق, ختم, دوست, رسول, سوالات, عشرت, غامدی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا عروج شاعر مشرق علامہ اقبال 9 15-05-11 01:07 PM
سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے گلاب خان خبریں 0 09-12-10 05:22 AM
بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ حیدر خبریں 6 13-08-09 11:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:12 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger