واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > کفروشرک



کفروشرک کفروشرک


کفار کے مدد گار۔۔۔۔۔۔۔شریعت کی نظر میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-07-10, 11:39 PM   #1
کفار کے مدد گار۔۔۔۔۔۔۔شریعت کی نظر میں
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آف لائن ہے 16-07-10, 11:39 PM

کتاب اﷲ اور سنت رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کے بہت زیادہ دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ جو کافروں سے دوستی کرتا ہے ،مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد ومعاونت کرتا ہے اور کافروں کے ساتھ ہوکر مسلمانوں کے خلاف جنگ وقتال کرتا ہے وہ کافر ہے۔
اس موجودہ بحث وگفتگو میں ان شاء اللہ الرحمن اس موضوع پر قرآن مجید میں بیان کیے گئے دلائل کا ذکر کریں گے ۔ساتھ ساتھ علماء کرام اور مفسرین عظام کی اپنی اپنی کتب وتفاسیر میں ذکر کردہ مختصر تفسیر وتشریح بھی بیان کریں گے جس کا لب لباب یہ ہے کہ:
’’جو مسلمانوں کی بجائے کافروں سے دوستی کرتا ہے اورمسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد ومعاونت کرتا ہے، اس کا قرآن وسنت میں کیا حکم ہے“
قرآن حکیم میں ایک درجن سے زائد صریح آیات بینات اس سلسے میں وارد ہوئی ہیں جن میں سے صرف 5 آیات مفسرین کی تفسیر کے ساتھ پیش کی جارہی ہیں۔

دلیل اول:

اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں :
﴿یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الْیَہُودَ وَ النَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآء بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ وَ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہ مِنْہُمْ اِنَّ اﷲَ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ﴾ [المائدۃ=۵:۵۱]
’’اے اہل ایمان !یہود ونصارٰی کو دوست نہ بناؤ۔یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے گا وہ بے شک انہی میں سے ہے ۔بے شک اﷲ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہرگز ہدایت عطا نہیں فرماتا‘‘


امام ابن جریر طبری مذکورہ آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :

’’درست بات یہی ہے کہ اس آیت میں مسلمانوں کو جو عام حکم دیا گیا اس کو قیامت تک کے لیے عام ہی سمجھا جائے ……اگرچہ یہ بات اپنی جگہ بجاہے کہ یہ آیت ایک منافق کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔وہ منافق یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستیاں کرتا تھا۔اس کے دل میں یہ خوف سوار تھا کہ کہیں یہودیوں وعیسائیوں کی طرف سے مجھے ناگفتہ بہ اور ناساز گار حالات کا سامنا نہ کرنا پڑجائے۔یہی وجہ ہے کہ سورۃ المائدہ کی آیت :51کے بعد والی جو اگلی آیت ہے اس میں اﷲ تعالیٰ نے اس خوف کی وضاحت بھی فرمائی ہے ۔لہٰذا سورۃ المائدۃ کی آیت :52 میں اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

﴿ فَتَرَی الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْہِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَۃٌ فَعَسَی اﷲُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِہٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰی مَآ اَسَرُّوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ نٰدِمِیْنَ﴾
’’آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں (نفاق)کی بیماری ہے ۔وہ دوڑ دوڑ کر ان (یہودیوں اور عیسائیوں)میں گھس رہے ہیں ۔اور کہتے ہیں کہ ہمیں (ان کافروں کی طرف سے) خطرہ ہے۔ایسا نہ ہو کہ کوئی (المناک )حادثہ ہم پر پڑجائے ۔یہ بھی ممکن ہے کہ اﷲ تعالیٰ (مسلمانوں کو )فتح دے دے ۔یااپنے پاس سے کوئی اور چیز (جزیہ ،جلاوطنی یا قتل)لے آئے ۔پھر تو یہ اپنے دلوں میں چھپائی ہوئی باتوں پر (بُریطرح)نادم ہونے لگیں گے ‘‘

امام طبری رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں :’’ہمارے نزدیک یوں کہنا زیادہ مناسب اور درست ہے کہ اﷲ رب العزت نے تمام مسلمانوں کومنع کیا ہے ۔اس بات سے کہ وہ یہودیوں اور عیسائیوں کواپنے حمایتی ،مددگار اور حلیف (صلح وجنگ کے معاہدوں میں شریک )بنائیں،ان مومنوں کے خلاف جو اﷲ تعالیٰ پر اور اس کے آخری رسول جناب محمد صلی اﷲ علیہ و سلمپر ایمان رکھتے ہیں ۔اﷲ تعالیٰ نے اس بات سے بھی خبردار کیا ہے کہ جو مسلمان ۔اﷲ تعالیٰ ،اس کے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کو اور مومنوں کو چھوڑ کر ان کافروں کو اپنا حمایتی ،مددگار اور دوست بنائے گا پھر وہ ان یہودیوں اور عیسائی کافروں کی پارٹی کا ہی فرد گردانا جائے گا ۔گویایہ شخص اﷲ رب العالمین ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم اور مومنوں کے مدمقابل کافروں کی پارٹی اور جماعت کا ایک کارکن اور ورکر (worker)ہوگا۔اﷲ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اﷲ علیہ و سلم اس سے کلیتاً بیزار اور لاتعلق ہوں گے۔‘‘
’’زیر تفسیر آیت میں اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہ مِنْہُمْ﴾کامطلب و مفہوم یہ ہے کہ جو مومنوں کی بجائے یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی کرے گا وہ انہی میں سے ہوگا۔اللہ کے ہاں وہ یہودی اور عیسائی ہی شمار ہوگا۔)یعنی اﷲ تعالیٰ ارشاد فرمارہے ہیں کہ جو ان یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی رچائے گا اورمسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کرے گا ۔تو وہ ملت یہود او ر ملت نصارٰی کاایک فرد ہوگااور ان کے ہی مذہب پر کاربند سمجھا جائے گا ۔(ملت اسلامیہ اور مذہب اسلام سے وہ نکل جائے گا)
یہ بات بالکل واضح ہے کہ جب بھی کوئی شخص کسی سے محبت اور دوستی کے تعلقات قائم کرتاہے تو آخر وہ اس شخص کو ،اس کے دین کو اور اس کے نظریات اور مشن کو پسند کرتا ہے تو دوستانہ تعلقات قائم کرتا ہے ۔اگر کسی کو کسی شخص کے دین ومذہب اور نظریہ اور مشن سے اختلاف ہوگا تو وہ کیونکر اس سے دوستی قائم کرے گا ۔اسی اصول کے تحت اگر کوئی شخص کسی یہودی اور عیسائی کافر کو پسند کرتے ہوئے اور اس کے مذہب ودین کو پسند کرتے ہوئے دوستی اختیار کرتا ہے تو گویا وہ اس کے مخالفین (مسلمانوں)سے لازماً دشمنی اختیار کرے گا ۔اور ان سے ناراض ہوگا۔نتیجتاً جو حکم اور انجام یہودیوں اور عیسائیوں کا ہے وہی ان سے دوستیاں کرنے والے ان نام نہاد مسلمانوں کا بھی ہوگا۔‘‘
(تفسیر الطبری:۲۷۶/۶،۲۷۷)

امام ابن تیمیہ رحمہ اﷲ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

قََالَ اللّٰہُ تَعَالٰی ﴿وَ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ﴾ فَیُوَافِقْھُمْ وَ یُعِینُھُمْ ﴿فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ﴾ وَ قَالَ أَیْضًا فِی تَفْسِیر ھٰذِہِ الْآیۃ: وَالْمُفَسِّرُوْنَ مُتَّفِقُوْنَ عَلٰی أَنَّھَا نَزَلَتْ بِسَبَبِ قَوْمٍ مِمَّنْ کَانَ یُظْھِرُ الْاِسْلَامَ وَ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ خَاف أَنْ یَغْلِبَ أَھْلُ الاِسْلَام فَیُوَالِی الْکُفَّارَ مِنَ الْیَھُودِ وَالنَّصَارٰی وَ غَیْرِھِمْ لِلْخَوفِ الَّذِیْ فِیْ قُلُوْبِھِمْ لَا لاِعْتِقَادِھِمْ أَنَّ مُحَِمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَاذِبٌ وَأَنَّ الْیَھُودَ وَالنَّصَارٰی صَادِقُوْنَ‘‘
’’اﷲ تعالیٰ کے زیر تفسیر فرمان ﴿وَ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ﴾کامعنی ہے کہ ’’فَیُوَافِقْھُمْ وَ یُعِینُھُم‘‘۔
ترجمہ: یعنی جو یہودیوں اور عیسائیوں کی موافقت کرتا ہے اور ان کی مدد اور تعاون کرتا ہے تو ﴿فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ﴾وہ ان میں سے ہی شمار ہوگا۔‘‘امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں: تمام مفسرین کرام اس بات پر متفق ومتحد ہیں کہ :

مذکورہ بالا آیت کا شانِ نزول ایک ایسی قوم کے افراد سے متعلق ہے جو بظاہر اسلام کا دعوٰی اور اظہار کرتے تھے مگر ان کے دلوں میں یہ خوف جاگزیں تھاکہ اگر بالفرض اہل اسلام کافروں کے ہاتھوں شکست کھاگئے توپھر ہمارا کیا بنے گا ،ہم کدھر جائیں گے ۔بس اس خوف سے ہی وہ کلمہ پڑھنے کے باجوود یہودیوں ،عیسائیوں اور دیگر کافروں کے ساتھ بنارکھتے تھے ۔ان کے دوستانہ تعلقات کی بنیاد فقط وہ خوف تھا جو ان کے دل ودماغ پر بُری طرح سوار تھا۔کافروں سے دوستیاں کرنے والے اور ان سے بناکر رکھنے والوں کے دلوں میں یہ اعتقاد ونظریہ بالکل نہ تھا کہ (نعوذ باﷲ من ذلک)محمد صلی اﷲ علیہ و سلمجھوٹے پیغمبر ہیں اور یہود ونصارٰی سچے ہیں ۔‘‘
(مجموع الفتاوی:۱۹۳/۷،۱۹۴)

کفارکادوست انہی کی سوسائٹی کا ایک فرد ہے:

مشہور مفسر قرآن امام قرطبی رحمہ اللہ سورۃ المائدۃ کی آیت :۵۱ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’اﷲ تعالیٰ کے فرمان﴿وَ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ﴾کا مطلب ہے کہ یُعَضِّدُھُمْ عَلَی ْالْمُسْلِمِیْن۔ یعنی جو شخص بھی مسلمانوں کے خلاف کافروں کو قوت ،طاقت اور ہر طرح کی (لاجسٹک)سپورٹ فراہم کرتا ہے تو﴿فَاِنَّہ مِنْہُمْ﴾وہ انہی میں سے کاؤنٹ (Count)کیا جائے گا ۔گویا اللہ رب العزت نے بڑی وضاحت سے فرمادیا ہے کہ اس کے ساتھ وہی رویہ برتاجائے گا جو ان یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ برتا جائے گا ۔وہ شخص کسی مسلمان کے مال میں وراثت کا حقدار بھی نہیں ٹھہرے گانہ اس کے مرنے کے بعد اس کا مال مسلمان وارثوں میں تقسیم ہوگا۔اس لیے کہ وہ مرتد ہوچکا ہے یہ بھی ذہن نشین رہے کہ یہ حکم یا قیامِ قیامت جاری وساری ہے۔‘‘

مذکورہ آیت کی تفسیر میں امام قرطبی رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں :
’’فرمان الٰہی ﴿وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہ مِنْہُم﴾میں شرط بھی ہے اور جواب شرط بھی ہے۔یعنی اس فرمان ذیشان کا معنی ومفہوم یہ ہے کہ جس طرح یہودیوں اور عیسائیوں نے اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے ،اسی طرح اس نام نہاد کلمہ گومسلمان نے بھی اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول eکی مخالفت کی ہے ،جس طرح دنیا میں ان یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ دشمنی رکھنا واجب اور فرض ہے ۔اسی طرح اس کلمہ گو مسلمان سے بھی دشمنی رکھنا واجب اور فرض ہے جس طرح آخرت میں وہ یہودی اور عیسائی (یہودیت اور عیسائیت پر مرنے کی صورت میں )لازمی طورپر جہنم کی آگ کے مستحق قرار پائیں گے بالکل اسی طرح یہ کلمہ گو نام نہاد مسلمان بھی جہنم کی آگ کا مستحق قرار پائے گا۔الغرض وہ اب ان یہودیوں اور عیسائیوں کی سوسائٹی کا ایک فرد بن چکا ہے۔‘‘(تفسیر القرطبی:۲۱۷/۶)

فسق وفجور سے کفر وارتداد کی طرف:

سورۃ المائدۃ کی آیت نمبر:۵۱ او ر اس ضمن میں بیان کردہ علمائے تفسیر کی توضیحات وتشریحات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جو شخص کافروں سے دوستی کرتا ہے ،مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد کرتا ہے یا مسلمانوں کے خلاف ہونے والی جنگ میں کافروں کا ساتھ دیتا ہے وہ کافر ومرتد ہے ۔اس سے بڑھ کر جو شخص باقاعدہ کافروں کے لشکروں اور فوجوں کا پارٹنر (partner)بنتا ہے ،وہ فوجی قافلے اور لشکر جو اﷲ کے دین کے ساتھ جنگ کرنے کے درپے ہیں اور اس دینِ اسلام سے اﷲ کے بندوں کو روکنے کے ناپاک عزائم رکھتے ہیں ۔جن کی کاروائیوں میں حصہ لینے سے وہ کافروں کے کاغذوں اور فائلوں میں بڑے مفادات اور عالی شان پروٹوکولز بھی وصول کرتے ہیں ۔جو شخص بھی ان کافروں کا حامی ومددگار بنے گا ۔خواہ اس کی خاطر کتنی ہی مشقتیں اور تکلیفیں بھی اٹھائے ۔جہاد اور مجاہدین کے (بظاہر دہشت گردی کے)خلاف عالمی جنگ میں وہ اپنی زندگی کی تمام بہاریں ضائع کردے ۔وہ ان مشقتوں کو برداشت کرنے اور عمریں کھپانے کے باوجود اﷲ رب العزت کے ہاں کافرہی شمار ہوگا۔ہر چند کہ وہ نمازیں پڑھے ۔روزے بھی رکھے اوریہ دعوٰی بھی کرے کہ میں مسلم ہوں ۔بھلا وہ کون سی چیز ہے جو ان منافقین ومرتدین کو کافروں سے دوستی پر،ان کافروں کی بے لوث اطاعت پر،مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کافروں کا ساتھ دینے پر اور اﷲ کے دین کے مجاہدوں اور غازیوں کے دشمنی پر برانگیختہ کرتی ہے ۔ وہ چیز یہ ہے کہ کافروں کے ساتھ دوستانہ مراسم قائم کرنے سے پہلے بھی وہ فسق وفجور والی زندگی گزار رہے تھے اور اﷲ رب العزت کی اطاعت وفرمانبرداری سے نکلے ہوئے تھے ۔(لہٰذا ترقی یافتہ ہوتے ہوئے وہ فاسق وفاجر سے مرتد وکافرکے درجے پر پہنچ گئے )

علامہ قرطبی رحمہ اللہ تویہاں تک فرماتے ہیں :
’’قرآن مجید کی مذکورہ آیت کے آخری حصہ ﴿وَ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْن﴾ کے بارے میں مفسر قرآن سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے:
(( ھُوَ مُشْرِکْ مِثلُھُمْ ، لِأَنَّ مَنْ رَضِیَ بِالشِّرْکِ فَھُوَ مُشْرِکٌ))
’’جوکسی کافر ومشرک سے دوستی کرے گا وہ ان کی طرح کا ہی مشرک ہوگا ،اس لیے کہ جو شرک کو پسند کرتا ہے وہ بھی مشرک ہوتا ہے۔‘‘
(تفسیر القربی:۹۴-۹۳/۸)

دلیل دوم :

اﷲ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں :
﴿لاَ تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللہَ وَ رَسُوْلَہ وَ لَوْ کَانُوْآ ٰابَآءَ ہُمْ اَوْ اَبْنَآءَ ہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیْرَتَہُمْ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَہُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ وَ یُدْخِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ اُولٰٓئِکَ حِزْبُ اللہِ اَلٓاَ اِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُوْن﴾ [المجادلۃ=۵۸:۲۲]
’’اﷲ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے ۔گو وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یاان کے بھائی یا ان کے قبیلے کے (عزیز)ہی کیوں نہ ہوں۔یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اﷲ تعالیٰ نے ایمان لکھ دیا ہے۔جن کی تائید اپنی روح (یعنی خاص نصرت اور نور ایمان)سے کی ہے ۔اورجنھیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ۔جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے ۔اﷲ ان سے راضی ہے اور یہ اﷲ سے خوش ہیں ۔یہ اﷲ کی جماعت(پارٹی اور گروہ)ہے آگاہ رہو!بلاشبہ اﷲ کی جماعت والے ہی کامیاب لوگ ہیں ‘‘


حبِّ کفار سے معمور دل محبت الٰہی سے دور ہوتا ہے:

مذکورہ آیت کی تفسیر وتشریح کرتے ہوئے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
فَأَخْبَرَ أَنَّکَ لَا تَجِدُ مُؤْمِنًا یُوَادُّ الْمُحَادِّینَ لِلّٰہِ وَ رَسُوْلِہ، فَاِنَّ نَفْسَ الاِیْمَانِ یُنَافِیْ أَحَدُ الضِّدَّیْنِ الْآخِرَ، فَاِذَا وُجِدَ الاِیْمَانُ انْتَفَی ضِدُّہُ وَ ھُوَ مُوَالَاۃُ أَعْدَاءِ اللّٰہِ ۔ فَاِذَا کَانَ الرَّجُلُ یُوَالِی أَعْدَاءَ اللّٰہِ بِقَلْبِہ کَانَ ذٰلِکَ دَلِیلًا عَلٰی أَنَّ قَلْبَہ لَیْسَ فِیْہِ الاِیْمَانُ الوَجِبُ ۔ وَ مِثْلُہُ قَوْلُہُ تَعَالٰی فِی الْآیَۃِ الْأُخْرٰی : ﴿ تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْہُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَہُمْ اَنْفُسُہُمْ اَنْ سَخِطَ اﷲُ عَلَیْہِمْ وَ فِی الْعَذَابِ ہُمْ خٰلِدُوْنW وَ لَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَ النَّبِیِّ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَا اتَّخَذُوْہُمْ اَوْلِیَآءَ وَٰلکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ﴾ [المائدۃ=۵:۸۰،۸۱] فَذَکَرَ جُمْلۃً شَرْطِیَّۃً تَقْتَضِی أَنَّہ اِذَا وُجِدَ الشَّرْطِ انْتِفَاءَ الْمَشْرُوْطُ بِحَرْفِ ﴿لَوْ﴾ الَّتِیْ تَقْتَضِیْ مَعَ انْتِفَاءِ الشَّرْطِ انْتِفَاءَ الْمَشْرُوْط ، فَقَالَ:﴿وَ لَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَ النَّبِیِّ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَااتَّخَذُوْہُمْ اَوْلِیَآءَ وَٰلکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ﴾ فَدَلَّ عَلٰی أَنَّ الْاِیْمَانَ الْمَذْکُوْرَ یَنْفِیْ اتِّخَاذَھُمْ اَوْلِیَاءَ وَ یُضَادُّہُ وَ لَا یَجْتَمِعُ الاِیْمَانُ وَ اتِّخَاذُھُمْ أَوْلِیَاءَ فِی الْقَلبِ ۔ وَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ مَنِ اتَّخَذَھُمْ أَوْلِیَاءَ مَا فَعَلَ الاِیْمَانَ الْوَاجِبَ مِنَ الاِیْمَانِ بِاللّٰہِ وَالنَّبِیِّ وَمَا أُنْزِلَ اِلَیہِ‘‘
’’اﷲ تعالیٰ نے یہ بات بتائی ہے کہ آپ کوئی ایسا بندہ مومن نہیں پائیں گے کہ وہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کے مخالفین سے محبت کرتا ہو۔اس لیے کہ ایک بندہ مومن کا حقیقی ایمان اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کے کسی مخالف (کافر ومشرک)سے محبت ومودّت کی نفی کرتا ہے ۔جس طرح دومتضاد چیزیں ایک دوسرے کی وجود کی نفی کرتی ہیں ۔(جہاں پانی ہوتا ہے وہاں آگ نہیں ہوتی ۔جہاں عروج ہوتا ہے وہاں پستی نہیں ہوتی۔کیونکہ یہ چیزیں ایک دوسرے کی متضاد اور مقابل ہیں ۔)اس مسلم حقیقت سے معلوم ہوا کہ جس کسی بندۂ مومن کے دل میں ایمان ہوگا۔تو پھر اس دل میں اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کے دشمنوں سے محبت نہیں ہوسکتی ۔علیٰ ہذاالقیاس جب کوئی شخص اللہ تبارک وتعالیٰ کے دشمنوں سے محبت کی پینگیں بڑھاتا ہوگا تو اس کا یہ عمل خود بخود اس بات کی دلیل ہوگاکہ اس کا دل اس حقیقی ایمان سے خالی ہے جو ایمان اﷲ رب العالمین کے ہاں کامیابی دلاسکتا ہے۔
اسی فرمان کی طرح قرآن مجید میں ایک اور مقام پر سورۃ المائدہ کی آیات :۸۰،۸۱ میں اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں َ’’ان (اہل کتاب) میں سے بہت سے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وہ کافروں سے دوستیاں کرتے ہیں ۔جو کچھ انھوں نے اپنے لیے آگے بھیج رکھاہے وہ بہت برا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان سے ناراض ہوگااور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے ،اگر انھیں اﷲ تعالیٰ پر اور نبی صلی اﷲ علیہ و سلم پر اور جو کچھ اس (نبی)پر نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان ہوتا تو یہ کفار سے دوستیاں نہ کرتے ۔لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ۔‘‘اﷲ رب العزت نے مذکورہ بالاآیت میں جملہ شرطیہ بیان فرمایا ہے۔جملہ شرطیہ کے بارے میں یہ اصول ہے کہ اس میں ایک شرط ہوتی ہے اور ایک جزاء (مشروط)ہوتی ہے ۔اگر شرط ہوتو مشروط ہوتا ہے اگر شرط نہ ہو تو مشروط نہیں ہوتا۔یہ جملہ عام طور پر لغت عربی میں حرف’’لَوْ‘‘سے بیان کیا جاتا ہے اردوزبان میں حرف’’لَوْ‘‘کا معنی ’’اگر ‘‘ہوتا ہے۔
سورۃ المائدۃ کی آیت نمبر:۸۱ میں اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں :’’اور اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر،نبی صلی اﷲ علیہ و سلم پر اور جو کچھ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم پرنازل ہوا ہے اس پر ایمان ہوتا تو کافروں سے دوستیاں نہ لگاتے ،لیکن ان میں سے اکثر فاسق ہیں ‘‘اس جملہ شرطیہ سے معلوم ہواکہ اگر ان کے اندر واقعتا ایمان ہوتا تو یہ کافروں کو اپنا دوست نہ بناتے ۔یعنی ایمان اور کافروں سے دوستی ایک دوسرے کی ضد اور دومقابل چیزیں ہیں ۔اور ایک دوسرے کے دوبالکل الٹ یعنی متضاد چیزیں کبھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں ۔لہٰذا اﷲ اور رسول صلی اﷲ علیہ و سلم پر ایمان اور کافروں سے دوستی کبھی ایک میں اکٹھی نہیں ہوسکتی۔اگر کافروں سے دوستی ہے تو دل میں ایمان نہیں ،اگر دل میں ایمان ہے تو کافروں سے دوستی نہیں ہوگی ۔لہٰذا جو کافر کو دوست بنائے گا وہ ایمان کے ان لازمی تقاضوں کو کبھی پورا نہیں کرسکے گا ۔جو اﷲ تعالیٰ پر نبی صلی اﷲ علیہ و سلم پر اور نبی eپر نازل ہونے والی شریعت پر ایمان لانے کے بعد ایک مسلمان پر لاگوہوتے ہیں ۔‘‘
(مجموع الفتاوی:۱۷/۷، نیز ملاحظہ ہو تفسیر الطبری:۲۷/۲۸ ، تفسیر القرطبی:۷/۷،۳،۹ ۔ تفسیر ابن کثیر:۳۳۰/۴)

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے گذشتہ کلام کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ظاہر وباطن کے باہمی تعلق یگانت کو تسلیم کرنا لازم وضروری ہے ۔جو شخص کافروں سے دوستی کرتا ہے اور مومنوں کے خلاف کافروں کی مدد اور تعاون کرتا ہے وہ ظاہری طور پر بھی اور باطنی طور پر بھی گویا اندرونی اوربیرونی ہر اعتبار سے کافر ہے ۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے احکام حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں ۔جب کوئی کفار ومشرکین سے دوستی کرے گا تو اس کا یہ دوستی کرنا اس بات کو واضح کرے گا کہ اس کا دل ایمان سے فارغ اور خالی ہوچکا ہے۔

دلیل سوم:

اﷲ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں :
﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِہِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْہُدَی الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَہُمْ وَ اَمْلٰی لَہُمْW ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ کَرِہُوْا مَا نَزَّلَ اللہُ سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ وَ اﷲُ یَعْلَمُ اِسْرَارَہُم﴾ [سورۃ محمد=۴۷:۲۵،۲۶]
’’جو لوگ اپنی پیٹھ کے بل الٹے پھرگئے اس کے بعد کہ ان کے لیے ہدایت واضح ہوچکی یقینا شیطان نے ان کے لیے (ان کے برے اعمال کو )مزین کردیا ہے اور انھیں ڈھیل دلارکھی ہے ،یہ اس لیے کہ انہوں نے ان لوگوں سے جنھوں نے اﷲ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی کو برا سمجھا ،یہ کہا کہ ہم بھی عنقریب بعض کاموں میں تمہارا کہا مانیں گے ۔اور اﷲ تعالیٰ ان کی پوشیدہ باتیں خوب جانتا ہے‘‘

محبانِ کفار سے فرشتوں کا سلوک:

ان دوآیتوں کی تفسیر کرتے ہوئے امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

“اﷲ تعالیٰ کے فرمان :﴿اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِہِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْہُدَی﴾کامطلب یہ ہے کہ بلاشبہ وہ لوگ اپنی ایڑھیوں کے بل الٹے قدموں پیچھے (حالت کفرمیں )پلٹ گئے ،وہ گویا کافر ہوگئے ۔انتہائی افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ اس وقت حالت کفر میں واپس پلٹے جب دین حق اور صراطِ مستقیم ان لوگوں کے لیے بالکل واضح ہوگیا ۔انہوں نے واضح دلیل کو کھلی آنکھوں سے پہچان بھی لیا ۔پھر انہوں نے جانتے بوجھتے گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دے دی۔صرف اور صرف اﷲ کے حکم سے عناد اوربغض رکھتے ہوئے ۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:﴿ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ کَرِہُوْا مَا نَزَّلَ اﷲُ سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ وَاﷲُ یَعْلَمُ اِسْرَارَہُمْ)کامطلب ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ان منافقوں کو مہلت دے رکھی ہے اور ان کو کھلا چھوڑا ہوا ہے ۔جبکہ شیطان نے ان کے لیے ان کے امور ومعاملات کو بہت خوبصورت بناکر پیش کیا ہوا ہے۔اس صورت حال میں اﷲ تعالیٰ نے ان کو توفیق ہی عطانہیں کی کہ وہ ہدایت کو قبول کریں ۔ان کا بہت بڑا جرم یہ ہے کہ ان منافقوں نے ان کافر لوگوں سے جنھوں نے اﷲ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی اور شریعت (قرآن وسنت )کو ناپسند کیا ،کہا﴿سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ﴾ہم عنقریب بعض باتوں میں تمہاری پیروی کریں گے۔‘‘مطلب یہ ہے کہ ہم ان بعض باتوں میں تمہاری پیروی کرلیں گے جو اگرچہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کے احکام اور فرمودات کے خلاف ہوں ۔اﷲ تعالیٰ ایک دوسرے کی مدد ومعاونت کرنے والے ان دونوں گروپوں اور جماعتوں (منافقین اور کافرین)کے تمام خفیہ پروگراموں اور ارادوں سے باخبر ہے جو پروگرام اور ارادے اﷲ کے حکم کے خلاف ہیں اور یہ صرف آپس میں چھپ چھپا کر راز کے طور پر ایک دوسرے کے سامنے بیان کرتے ہیں ان پروگراموں اور ارادوں میں اﷲ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت اور اسکے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کی کھلی مخالفت ہوتی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ان پروگراموں اور عزائم کی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ۔جبکہ اﷲ تعالیٰ تو ان کے تمام خفیہ اور علانیہ معاملا ت سے آگاہ و آشنا ہے“۔

امام ابن کثیر رحمہ اللہ مذکورہ آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :

اللہ تعالیٰ کے فرمان:﴿اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِہِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْہُدَی﴾کا مطلب یہ ہے کہ بے شک وہ لوگ جو ایمان سے جدا ہوگئے اور کفر کی حالت کی طرف پلٹ گئے ۔اس کے بعد کہ اﷲ تعالیٰ نے ان کے لیے راہ ہدایت بھی واضح کردی ۔ان کے بارے میں فرماتے ہیں :﴿ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَہُمْ﴾کہ شیطان نے ان کے اس عمل کو بہت ہی خوبصورت ،حسین اور آراستہ وپیراستہ کرکے پیش کیا ہے ۔ان کے متعلق شیطان نے مزید یہ کیا کہ ﴿وَ اَمْلٰی لَہُمْ﴾یعنی شیطان نے ان کو دھوکہ دے رکھا ہے اور فریب میں مبتلاکررکھا ہے۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ بے شک وہ لوگ جو ایمان سے جدا ہوگئے اور کفر کی حالت کی طرف پلٹ گئے ۔اس کے بعد کہ اﷲ تعالیٰ نے ان کے لیے راہ ہدایت بھی واضح کردی ۔ان کے بارے میں فرماتے ہیں :﴿ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَہُمْ﴾کہ شیطان نے ان کے اس عمل کو بہت ہی خوبصورت ،حسین اور آراستہ وپیراستہ کرکے پیش کیا ہے ۔ان کے متعلق شیطان نے مزید یہ کیا کہ ﴿وَ اَمْلٰی لَہُمْ﴾یعنی شیطان نے ان کو دھوکہ دے رکھا ہے اور فریب میں مبتلاکررکھا ہے۔‘‘

اﷲ رب العزت نے اسی طرح کی بات سورۃ الانفال کی آیت :۵۰ میں بھی ارشاد فرمائی ہے ۔اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:﴿وَ لَوْ تَرٰٓی اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُواالْمَلٰٓئِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وَ اَدْبَارَہُمْ﴾’’ کاش !تو وہ منظر دیکھتا کہ جب فرشتے کافروں کی روحیں قبض کرتے ہیں ان کے چہروں پر اور ان کی پیٹھوں پر مارمارتے ہیں۔‘‘
اس سے ملتی جلتی بات اﷲ تعالیٰ نے سورۃ الانعام کی آیت:۹۳ میں بھی ارشاد فرمائی ہے ۔اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :﴿ وَ لَوْ تَرٰٓی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَراتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِکَۃُ بَاسِطُوْآ اَیْدِیْہِمْ اَخْرِجُوْآ اَنْفُسَکُمْ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ وَکُنْتُمْ عَنْ ٰاٰیتِہ تَسْتَکْبِرُوْنَ﴾’’اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب یہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے (مارنے کے لیے)اپنے ہاتھ بڑھارہے ہوں گے (اور ساتھ ساتھ کہہ رہے ہوں گے کہ)اپنی جانیں نکالو۔آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی ۔اس سبب سے کہ تم اﷲ تعالیٰ کے ذمہ جھوٹی باتیں لگاتے تھے اور تم اﷲ کی آیات سے تکبر کیا کرتے تھے۔
بالکل اسی طرح سورۂ محمد کی زیر تفسیر آیت:۲۸ میں اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ان کی جانیں سختی سے کیوں نکالی جاتی ہیں ،﴿ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اتَّبَعُوْا مَآ اَسْخَطَ اﷲَ وَ کَرِہُوْا رِضْوَانَہٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَہُمْ(اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایسی روش اختیار کی جس کی وجہ سے اُنھوں نے اﷲ کو ناراض کردیا اورانھوں نے اس کی رضامندی کو براجانا۔تونتیجتاًاﷲ تعالیٰ نے ان کے اعمال ہی رائیگاں قرار دے دیے۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر:۱۸۱/۴)

غور کیجیے!اس شخص کا کیاحال اورمعاملہ ہوگا جوبعض باتوں میں عملی طور پر ان کی فرمانبرداری اوراطاعت بجالاتا ہے اور اگر ایک شخص یا گروہ کافروں کی ہربات کو بلاچون وچرا مانتا چلا جائے اور جو کچھ کافر کہتے جائیں وہ تسلیم کرتا چلاجائے اور ان کے کہنے پر مسلمانوں اور بالخصوص مجاہدین اسلام کے خالف ہر ممکن بری فضائی اور بحری سہولت بصد ادب و احترام حاضر کر دے اس کے کفر وشرک اور ارتداد ونفاق کا کیا حال ہوگا؟


دلیل چہارم:

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ یَرُدُّوْکُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ کٰفِرِیْنَ﴾ [آل عمران=۳:۱۰۰]
’’اے ایمان والو!اگر تم اہل کتاب (یہود ونصارٰی )کی کسی جماعت کی باتیں مانوگے تو وہ تمہارے ایمان لانے کے بعد تمہیں مرتد اورکافر بنادیں گے۔‘‘
’’تم اقرار کے باجووکافر ہوجاؤگے‘‘:

شَیْخُ المُفَسِّرِیْن ابن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ،اس آیت کریمہ کی تفسیر و تشریح یہ ہے کہ:

’’اے وہ لوگو!جنھوں نے اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کا سچے دل سے کلمہ پڑھا اور نبی eان کے پاس اﷲ کی طرف سے جو شریعت لے کے آئے ،اس کا سچے دل سے اقرار کیا ،اگر تم اہل تورات اور اہل انجیل کی کسی ایسی جماعت کی اطاعت وپیروی کرنے لگ جاؤ جو خود کو کتاب (الٰہی)کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔تم اگر ان کی ہر اس معاملے میں پیروی کرتے جاؤ جو وہ تم سے کہتے جائیں تو لازماً وہ تم کو گمراہ کردیں گے اور تم کو اسلام سے پھیر کر مرتد بنادیں گے ۔تم اپنے رب کی طرف سے لانے والے اورمبعوث کیے جانے والے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کی تصدیق کے باوجود اور اپنے پروردگار کی طرف سے آئی ہوئی شریعت کا اقرارکرنے کے باوجود کافر ہوجاؤگے ۔
(تفسیر الطبری:۶۰/۷ ، تفسیر القرطبی:۱۵۵/۴)

دلیل پنجم:

اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں :
﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَرُدُّوْکُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَW﴾ [آل عمران=۳:۱۴۹]
’’اے ایمان والو!اگر تم کافروں کی باتیں مانوگے تووہ تمہیں ایڑیوں کے بل پلٹادیں گے ،یعنی تمہیں عنقریب مرتد بنادیں گے تم پھر نامراد ہوجاؤگے‘‘


محبتِ اغیار محرومی ایمان پر منتج ہے:

شَیْخُ المُفَسِّرِیْن امام ابن جریر طبریرحمہ اللہ مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :


’’اے وہ لوگو! جو اﷲ تعالیٰ کے تمام وعدوں کو ،اوامراور نواہی کو سچا جانتے اور مانتے ہو!﴿اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا﴾آیت کے اس حصے میں اﷲ تعالیٰ نے ﴿الَّذِیْنَ کَفَرُوْا﴾سے یہود ونصارٰی کے لوگ مراد لیے ہیں جنھوں نے پیغمبر آخرالزمان ختم الرسل جناب محمد eکی نبوت ورسالت کا انکار کیا ۔اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں :اگرتم ان یہودیوں اور عیسائیوں کی بات مانوگے ۔یعنی جس بات کا وہ تمہیں حکم دیں تم فوراً بجالاؤ اور جس کا م سے وہ تمہیں منع کردیں تم اس سے فوراً باز آجاؤ ۔اس معاملے میں تم ان کی رائے اور ان کے خیال کو قبول کرنے کواپنے لیے اعزاز سمجھو اور ہر اس معاملے میں تم ان کی نصیحت کو قبول کرلو جس کے بارے میں وہ کافر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ تمہاریخیر خواہ اور ہمدرد ہیں ۔توپھر یہ طرز عمل اور اطاعت گزاری ایمان لانے کے بعد (یعنی کلمہ پڑھنے کے باوجود)تمہیں مرتد بنادے گی ۔بلکہ مسلمان ہونے کے باوجود یہ اطاعت گزار تمہیں اﷲ تعالیٰ،اس کی آیات اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کے انکار پر برانگیختہ کردے گی۔۔بعدازاں اس کالازمی اور بدیہی نتیجہ یہ برآمد ہوگا کہ ﴿فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ﴾اپنے دین (یعنی اسلام )سے پھر جانے کی وجہ سے تم ہلاک اوربرباد ہوجانے والے ہوجاؤگے ،اپنے آپ کو گھاٹا اورنقصان پہنچابیٹھوگے ،اپنے دین سے بہک جاؤگے اورتمہادی دنیا بھی اور تمہاری آخرت بھی تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گی۔

اسی طرح امام ابن جریر طبریرحمہ اللہ نے امام السُّدّی سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَرُدُّوْکُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُم﴾سے مراد ہے کہ ’’ اِنْ تُطِیْعُوْا أَبَا سُفْیَانَ یَرُدُّوْکُمْ کُفَّارًا ‘‘ اگرتم نے ابوسفیان اور اس کے ماتحتوں اورحواریوں کی بات مان لی تو وہ ابوسفیان تم کو کافر بنادے گا۔(تفسیر الطبری:۲۷۶/۷،۲۷۷)
((چونکہ سیدنا ابو سفیان tپہلے پہل کفر کی زندگی میں تھے ۔پھر اﷲ تعالیٰ نے کفر کے اس بہت بڑے امام ،پیشوا اور لیڈر کو اسلام کی طرف آنے کی توفیق عطافرمادی۔الحمدلِلّٰہِ پھر اﷲ نے ان کے ہاتھوں دین کے غلبہ میں بہت زیادہ کام بھی لیا ۔مذکورہ بیان ان کی حالتِ کفر کے پیش نظر اور کافروں کے بہت بڑے لیڈر ہونے کے حوالہ سے دیاجارہاہے کہ ’’اگرتم ابوسفیان کی پیروی کروگے تو وہ تم کو بھی کافر بنادے گا۔‘‘))

ان کے علاوہ بھی کافی آیات اس مسئلے پر موجود ہیں‌لیکن امید ہے کہ یہی کافی ہونگی کیونکہ تھریڈ بھی کافی طوالت شکار ہوتا نظر آرہا ہے۔ضرورت پڑنے پر مزید بھی دلائل پیش کروں گا ۔ان شاء اللہ
یہ آیات ملاحظہ کرنے کے بعد اب ذہن میں لائیں کہ کون کون آج بھی امریکہ اور اس کے حواریوں کا مکمل مدد گار اور فرنٹ لائن اتحادی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور شریعت میں ان مددگاروں کا کیا مقام ہے۔
حتی الامکان کوئی بات اپنی طرف سے نہیں‌کہی گئی پھر بھی اگر اس میں‌کوئی غلط بات ہے تو وہ میری طرف سے ہے اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں اور صحیح بات تو اللہ ہی کی طرف سے توفیق کردہ ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں‌ اپنے دین کی مدد کی توفیق عطا فرمائیں یا کم از کم کفار کی مدد جیسے کفریہ اعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
آمین
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 3052
Reply With Quote
20 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (09-03-11), rana ammar mazhar (15-01-12), sahj (18-07-10), فیصل ناصر (17-07-10), کنعان (17-07-10), ھارون اعظم (16-07-10), یاسر عمران مرزا (17-07-10), موجو (14-03-11), محمد عاصم (17-07-10), محمدخلیل (17-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), آبی ٹوکول (17-07-10), احمد نذیر (23-11-11), احمد بلال (03-10-10), سحر (17-07-10), شمشاد احمد (27-10-10), شاہ جی 90 (17-07-10), عبداللہ حیدر (17-07-10), عروج (02-10-10)
پرانا 17-07-10, 02:10 AM   #2
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں

﴿ فَتَرَی الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْہِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَۃٌ فَعَسَی اﷲُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِہٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰی مَآ اَسَرُّوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ نٰدِمِیْنَ

’’آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں (نفاق) کی بیماری ہے۔ وہ دوڑ دوڑ کر ان (یہودیوں اور عیسائیوں) میں گھس رہے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہمیں (ان کافروں کی طرف سے) خطرہ ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی (المناک) حادثہ ہم پر پڑجائے ۔یہ بھی ممکن ہے کہ اﷲ تعالیٰ (مسلمانوں کو ) فتح دے دے ۔ یا اپنے پاس سے کوئی اور چیز (جزیہ ،جلاوطنی یا قتل) لے آئے۔ پھر تو یہ اپنے دلوں میں چھپائی ہوئی باتوں پر (بُریطرح) نادم ہونے لگیں گے ‘‘
السلام علیکم میرے بھائی عبداللہ آدم

اس آیت کا ترجمہ آپ نے کون سے علامہ مجدد کے کئے ہوئے قرآن ترجمہ سے لیا ھے ان کا نام اور لنک فراہم کر دیں تو بڑی نوازش ہو گی۔ اس کے بعد بھی اگر آپکی اجازت ہو گی تو میں مزید کچھ پوچھوں گا اور کچھ کہوں گا ورنہ نہیں۔

جزاک اللہ خیر۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-01-12), موجو (14-03-11), مرزا عامر (17-07-10), ابن آدم (17-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 03:46 AM   #3
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں

یہ آیات ملاحظہ کرنے کے بعد اب ذہن میں لائیں کہ کون کون آج بھی امریکہ اور اس کے حواریوں کا مکمل مدد گار اور فرنٹ لائن اتحادی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور شریعت میں ان مددگاروں کا کیا مقام ہے۔
[/SIZE][/COLOR]
بہت خوب عبداللہ بھائی اتنی اچھی معلومات کے شئر کرنے کا شکریہ کیا بھلا ہو ہو کہ آپ ساتھ میں اسلام کے ان غداروں کا حکم بھی واضح فرمادیتے کہ جو لوگ بھی یہودیوں اور عسائیو‌ں کے ایجنٹ ہیں بطور فرنٹ لائن اتحادی ان سب کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے وہ فاسق ہیں فاجر ہیں یا کافر ہیں اور اگر وہ لوگ حکمران ہیں تو پھر انکی حکومت کو تسلیم کرنا یا نہ کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے وغیرہ وغیرہ اور ساتھ ہی میں یہ بھی بتلا دیجیئے گا کہ کون کون شامل ہے ان دوستیوں میں آئی مین کون کونسے مسلم ممالک ۔ ۔ ۔ والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (09-03-11), موجو (14-03-11), محمدخلیل (17-07-10), مرزا عامر (17-07-10), ابن آدم (17-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 10:50 AM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی معلومات شئیر کی ہیں قرآن و اسکی تفسیر کی روشنی میں۔
تاہم سوال بعینہ وہیں موجود ہے کہ
1: کیا یہ امام صاحب کی اپنی رائے ہے کہ کفار کا ساتھ دینے والا بھی کافیر ہے یا اسکی کوئی دلیل قرآن و صحیح حدیث میں موجود ہے؟ کیونکہ یہ بہت بڑا معاملہ ہے کسی کو خارج از اسلام قرار دینا، اور اسکو محض چند علما کے کہنے پر نہیں مانا جا سکتا۔ اور جب تک نص سے ثابت نہ ہو محض تفسیر پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

2:دوسرا سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ صحیح مسلم میں تواتر کت ساتھ ایسی احادیث موجود ہیں جس میں حتیٰ کہ ظالم حکمران کی بھی طاعت کا حکم ہے۔ تو ایسے میں کیا عام مسلمانوں کی کوئی جماعت اٹھھ کر مشرکوں کا ساتھ دینے والے حکمران کے خلاف خروج کا اعلان کر سکتی ہے؟

3: بذات خود ایسی جماعت کے خروج کے بارے میں کیا مقام ہو گا جو درد دل رکھنے والے مسلمانوں کی نظر میں بھی مشکوک ہویعنی مسلمانوں کی اکثریت حکومت کے ساتھ ساتھ اس جماعت پر بھی اتبار نہ کرتے ہوں۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-01-12), کنعان (17-07-10), ھارون اعظم (17-07-10), موجو (14-03-11), مرزا عامر (17-07-10), ابن آدم (17-07-10), شمشاد احمد (27-10-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
کمائي نے حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
17-07-10 کنعان کسی کو خارج از اسلام قرار دینا محض چند علما کے کہنے پر نہیں مانا جا سکتا 10
پرانا 17-07-10, 10:55 AM   #5
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فساد فی الارض‌ برپا کرنے والے گروہ کے متعلق کیا خیال ہے؟ کیا ان کے خلاف کسی غیر مسلم کی مدد لی جا سکتی ہے؟
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-01-12), کنعان (17-07-10), موجو (14-03-11), مرزا عامر (17-07-10), ابن آدم (17-07-10), حیدر (17-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 11:35 AM   #6
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم میرے بھائی عبداللہ آدم

اس آیت کا ترجمہ آپ نے کون سے علامہ مجدد کے کئے ہوئے قرآن ترجمہ سے لیا ھے ان کا نام اور لنک فراہم کر دیں تو بڑی نوازش ہو گی۔ اس کے بعد بھی اگر آپکی اجازت ہو گی تو میں مزید کچھ پوچھوں گا اور کچھ کہوں گا ورنہ نہیں۔

جزاک اللہ خیر۔

والسلام
کنعان بھائی یہ مولانا محمد جونا گڑھی کا مشہور ترجمہ ہے۔سورہ المائدہ:آیت 52۔
بریکٹس میں اضافے ترجمے کا حصہ نہیں ہیں بلکہ بات سمجھانے کے لیے ہیں۔اگر آپ کو کوئی اعتراض ہے تو ضرور فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں چشم براہ ہوں۔

والسلام
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-01-12), sahj (18-07-10), موجو (14-03-11), محمد عاصم (09-03-11), مرزا عامر (17-07-10), ابن آدم (17-07-10), حیدر (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 11:54 AM   #7
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
بہت خوب عبداللہ بھائی اتنی اچھی معلومات کے شئر کرنے کا شکریہ کیا بھلا ہو ہو کہ آپ ساتھ میں اسلام کے ان غداروں کا حکم بھی واضح فرمادیتے کہ جو لوگ بھی یہودیوں اور عسائیو‌ں کے ایجنٹ ہیں بطور فرنٹ لائن اتحادی ان سب کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے وہ فاسق ہیں فاجر ہیں یا کافر ہیں اور اگر وہ لوگ حکمران ہیں تو پھر انکی حکومت کو تسلیم کرنا یا نہ کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے وغیرہ وغیرہ اور ساتھ ہی میں یہ بھی بتلا دیجیئے گا کہ کون کون شامل ہے ان دوستیوں میں آئی مین کون کونسے مسلم ممالک ۔ ۔ ۔ والسلام
جی عابد بھائی ایات بھی واضح ہیں اور ان کی تشریحات بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان تمام تشریحات میں ایسے لوگوں کو واجح طور پر ایمان سے خالی اور کافر قرار دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب آپ اور مجھ سے کیا کہلوانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حکومات کو تو پھر کیوں کر تسلیم کیا جا سکتا ہے جبکہ وہ ایسے کفریہ اعمال میں مبتلا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یقینا یہ ناجائز اور غیر اسلامی حکومتیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور دوستیوں میں تو آج کل ماشاءاللہ ہماری حکومت اور سعودی عرب سمیت بہت سے ممالک کی حکومتیں شامل ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ھائی لائٹ کیے گئے حصے میں ایک مرتبہ پھر لگا رہا ہوں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اگر انتہا پسند ہیں تو یہ لوگ ہیں میں نے تو ان کو کوٹ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

والسلام

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
[COLOR="Red"] ۔اﷲ تعالیٰ نے اس بات سے بھی خبردار کیا ہے کہ جو مسلمان ۔اﷲ تعالیٰ ،اس کے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کو اور مومنوں کو چھوڑ کر ان کافروں کو اپنا حمایتی ،مددگار اور دوست بنائے گا پھر وہ ان یہودیوں اور عیسائی کافروں کی پارٹی کا ہی فرد گردانا جائے گا ۔گویایہ شخص اﷲ رب العالمین ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم اور مومنوں کے مدمقابل کافروں کی پارٹی اور جماعت کا ایک کارکن اور ورکر (worker)ہوگا۔اﷲ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اﷲ علیہ و سلم اس سے کلیتاً بیزار اور لاتعلق ہوں گے۔‘‘
’’زیر تفسیر آیت میں اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہ مِنْہُمْ﴾کامطلب و مفہوم یہ ہے کہ جو مومنوں کی بجائے یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی کرے گا وہ انہی میں سے ہوگا۔اللہ کے ہاں وہ یہودی اور عیسائی ہی شمار ہوگا۔)یعنی اﷲ تعالیٰ ارشاد فرمارہے ہیں کہ جو ان یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی رچائے گا اورمسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کرے گا ۔تو وہ ملت یہود او ر ملت نصارٰی کاایک فرد ہوگااور ان کے ہی مذہب پر کاربند سمجھا جائے گا ۔(ملت اسلامیہ اور مذہب اسلام سے وہ نکل جائے گا)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں: تمام مفسرین کرام اس بات پر متفق ومتحد ہیں کہ :

مذکورہ بالا آیت کا شانِ نزول ایک ایسی قوم کے افراد سے متعلق ہے جو بظاہر اسلام کا دعوٰی اور اظہار کرتے تھے مگر ان کے دلوں میں یہ خوف جاگزیں تھاکہ اگر بالفرض اہل اسلام کافروں کے ہاتھوں شکست کھاگئے توپھر ہمارا کیا بنے گا ،ہم کدھر جائیں گے ۔بس اس خوف سے ہی وہ کلمہ پڑھنے کے باجوود یہودیوں ،عیسائیوں اور دیگر کافروں کے ساتھ بنارکھتے تھے ۔ان کے دوستانہ تعلقات کی بنیاد فقط وہ خوف تھا جو ان کے دل ودماغ پر بُری طرح سوار تھا۔کافروں سے دوستیاں کرنے والے اور ان سے بناکر رکھنے والوں کے دلوں میں یہ اعتقاد ونظریہ بالکل نہ تھا کہ (نعوذ باﷲ من ذلک)محمد صلی اﷲ علیہ و سلمجھوٹے پیغمبر ہیں اور یہود ونصارٰی سچے ہیں ۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’اﷲ تعالیٰ کے فرمان﴿وَ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ﴾کا مطلب ہے کہ یُعَضِّدُھُمْ عَلَی ْالْمُسْلِمِیْن۔ یعنی جو شخص بھی مسلمانوں کے خلاف کافروں کو قوت ،طاقت اور ہر طرح کی (لاجسٹک)سپورٹ فراہم کرتا ہے تو﴿فَاِنَّہ مِنْہُمْ﴾وہ انہی میں سے کاؤنٹ (Count)کیا جائے گا ۔گویا اللہ رب العزت نے بڑی وضاحت سے فرمادیا ہے کہ اس کے ساتھ وہی رویہ برتاجائے گا جو ان یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ برتا جائے گا ۔وہ شخص کسی مسلمان کے مال میں وراثت کا حقدار بھی نہیں ٹھہرے گانہ اس کے مرنے کے بعد اس کا مال مسلمان وارثوں میں تقسیم ہوگا۔اس لیے کہ وہ مرتد ہوچکا ہے یہ بھی ذہن نشین رہے کہ یہ حکم یا قیامِ قیامت جاری وساری ہے۔‘‘

مذکورہ آیت کی تفسیر میں امام قرطبی رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں :
’’فرمان الٰہی ﴿وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہ مِنْہُم﴾میں شرط بھی ہے اور جواب شرط بھی ہے۔یعنی اس فرمان ذیشان کا معنی ومفہوم یہ ہے کہ جس طرح یہودیوں اور عیسائیوں نے اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے ،اسی طرح اس نام نہاد کلمہ گومسلمان نے بھی اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول eکی مخالفت کی ہے ،جس طرح دنیا میں ان یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ دشمنی رکھنا واجب اور فرض ہے ۔اسی طرح اس کلمہ گو مسلمان سے بھی دشمنی رکھنا واجب اور فرض ہے جس طرح آخرت میں وہ یہودی اور عیسائی (یہودیت اور عیسائیت پر مرنے کی صورت میں )لازمی طورپر جہنم کی آگ کے مستحق قرار پائیں گے بالکل اسی طرح یہ کلمہ گو نام نہاد مسلمان بھی جہنم کی آگ کا مستحق قرار پائے گا۔الغرض وہ اب ان یہودیوں اور عیسائیوں کی سوسائٹی کا ایک فرد بن چکا ہے۔‘‘(تفسیر القرطبی:۲۱۷/۶)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔

علامہ قرطبی رحمہ اللہ تویہاں تک فرماتے ہیں :
’’قرآن مجید کی مذکورہ آیت کے آخری حصہ ﴿وَ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْن﴾ کے بارے میں مفسر قرآن سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے:
(( ھُوَ مُشْرِکْ مِثلُھُمْ ، لِأَنَّ مَنْ رَضِیَ بِالشِّرْکِ فَھُوَ مُشْرِکٌ))
’’جوکسی کافر ومشرک سے دوستی کرے گا وہ ان کی طرح کا ہی مشرک ہوگا ،اس لیے کہ جو شرک کو پسند کرتا ہے وہ بھی مشرک ہوتا ہے۔‘‘
(تفسیر القربی:۹۴-۹۳/۸)

دلیل دوم :

اس جملہ شرطیہ سے معلوم ہواکہ اگر ان کے اندر واقعتا ایمان ہوتا تو یہ کافروں کو اپنا دوست نہ بناتے ۔یعنی ایمان اور کافروں سے دوستی ایک دوسرے کی ضد اور دومقابل چیزیں ہیں ۔اور ایک دوسرے کے دوبالکل الٹ یعنی متضاد چیزیں کبھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں ۔لہٰذا اﷲ اور رسول صلی اﷲ علیہ و سلم پر ایمان اور کافروں سے دوستی کبھی ایک میں اکٹھی نہیں ہوسکتی۔اگر کافروں سے دوستی ہے تو دل میں ایمان نہیں ،اگر دل میں ایمان ہے تو کافروں سے دوستی نہیں ہوگی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔

’’اے وہ لوگو!جنھوں نے اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کا سچے دل سے کلمہ پڑھا اور نبی صلی اللہ عیلہ و سلم ان کے پاس اﷲ کی طرف سے جو شریعت لے کے آئے ،اس کا سچے دل سے اقرار کیا ،اگر تم اہل تورات اور اہل انجیل کی کسی ایسی جماعت کی اطاعت وپیروی کرنے لگ جاؤ جو خود کو کتاب (الٰہی)کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔تم اگر ان کی ہر اس معاملے میں پیروی کرتے جاؤ جو وہ تم سے کہتے جائیں تو لازماً وہ تم کو گمراہ کردیں گے اور تم کو اسلام سے پھیر کر مرتد بنادیں گے ۔تم اپنے رب کی طرف سے لانے والے اورمبعوث کیے جانے والے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کی تصدیق کے باوجود اور اپنے پروردگار کی طرف سے آئی ہوئی شریعت کا اقرارکرنے کے باوجود کافر ہوجاؤگے ۔
(تفسیر الطبری:۶۰/۷ ، تفسیر القرطبی:۱۵۵/۴)/COLOR]
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-01-12), sahj (18-07-10), محمد عاصم (17-07-10), مرزا عامر (17-07-10), آبی ٹوکول (17-07-10), ابن آدم (17-07-10), حیدر (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 12:27 PM   #8
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
اچھی معلومات شئیر کی ہیں قرآن و اسکی تفسیر کی روشنی میں۔
تاہم سوال بعینہ وہیں موجود ہے کہ
1: کیا یہ امام صاحب کی اپنی رائے ہے کہ کفار کا ساتھ دینے والا بھی کافیر ہے یا اسکی کوئی دلیل قرآن و صحیح حدیث میں موجود ہے؟ کیونکہ یہ بہت بڑا معاملہ ہے کسی کو خارج از اسلام قرار دینا، اور اسکو محض چند علما کے کہنے پر نہیں مانا جا سکتا۔ اور جب تک نص سے ثابت نہ ہو محض تفسیر پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

2:دوسرا سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ صحیح مسلم میں تواتر کت ساتھ ایسی احادیث موجود ہیں جس میں حتیٰ کہ ظالم حکمران کی بھی طاعت کا حکم ہے۔ تو ایسے میں کیا عام مسلمانوں کی کوئی جماعت اٹھھ کر مشرکوں کا ساتھ دینے والے حکمران کے خلاف خروج کا اعلان کر سکتی ہے؟

3: بذات خود ایسی جماعت کے خروج کے بارے میں کیا مقام ہو گا جو درد دل رکھنے والے مسلمانوں کی نظر میں بھی مشکوک ہویعنی مسلمانوں کی اکثریت حکومت کے ساتھ ساتھ اس جماعت پر بھی اتبار نہ کرتے ہوں۔
بدر بھائی میں باری باری آپکے جوابات دینے کی کوشش کرتا ہوں:

1۔امام صاحب سے آپکی مراد میں نہیں سمجھ سکا،واضح کر دیں کیونکہ کئی ایک ائمہ کے اقوال مذکور ہیں۔۔۔۔۔۔جزاک اللہ۔
بات یہ ہے کہ قرآن کی تشریح ہم سلف صالحین سے ہی لیتے ہیں جن میں ائمہ تفسیر شامل ہیں،
اور اس مسئلے میں جیسا کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول میں نے نقل کیا ہے کہ تمام علماء کا اتفاق ہے۔۔۔۔۔

‘امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں: تمام مفسرین کرام اس بات پر متفق ومتحد ہیں کہ :

مذکورہ بالا آیت کا شانِ نزول ایک ایسی قوم کے افراد سے متعلق ہے جو بظاہر اسلام کا دعوٰی اور اظہار کرتے تھے مگر ان کے دلوں میں یہ خوف جاگزیں تھاکہ اگر بالفرض اہل اسلام کافروں کے ہاتھوں شکست کھاگئے توپھر ہمارا کیا بنے گا ،ہم کدھر جائیں گے ۔بس اس خوف سے ہی وہ کلمہ پڑھنے کے باجوود یہودیوں ،عیسائیوں اور دیگر کافروں کے ساتھ بنارکھتے تھے ۔ان کے دوستانہ تعلقات کی بنیاد فقط وہ خوف تھا جو ان کے دل ودماغ پر بُری طرح سوار تھا۔کافروں سے دوستیاں کرنے والے اور ان سے بناکر رکھنے والوں کے دلوں میں یہ اعتقاد ونظریہ بالکل نہ تھا کہ (نعوذ باﷲ من ذلک)محمد صلی اﷲ علیہ و سلمجھوٹے پیغمبر ہیں اور یہود ونصارٰی سچے ہیں ۔‘‘
(مجموع الفتاوی:۱۹۳/۷،۱۹۴)

اور نص تو بالکل صریح ہے: وَ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہ مِنْہُمْ
تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے گا وہ بے شک انہی میں سے ہے ۔

2۔جی ابلکل ایسی احادیث موجود ہیں،اور اہل سنت کا موقف بھی یہی ہے کہ ظالم حکمرانوں کی اطاعت کی جائے، ۔۔۔۔۔۔۔۔یہی حدیث کے الفاظ بھی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔البتہ خروج ایک علیحدہ بحث ہے اور اس کے اپنے لوازم و تقاضے ہیں اور کوئ بھی ایک گروہ ایسا کرنے کا یقینا مجاز نہیں ہے۔

3۔تیسر سوال خود اپنے اندر جواب رکھتا ہےکہ ایسا خروج یقینا بے وقوفی ہوگی اور یہ بے وقوفی علماء کے حق کو چھپانے کا نتیجہ ہوا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا علماء ہم سے زیادہ ان آیات اور ان کی تفسیر،توضیح اور تشریح کو نہیں جانتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بھی اللہ کی ایات کو اکثر علماء چھپاتے ہیں،
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جذباتی لوگ جو ان کی سمجھ میں آتا ہے کر گزرتے ہیں چاہے وہ ٹھیک ہو یا غلط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

والسلام
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-01-12), sahj (18-07-10), محمد عاصم (17-07-10), مرزا عامر (17-07-10), حیدر (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 12:32 PM   #9
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
فساد فی الارض‌ برپا کرنے والے گروہ کے متعلق کیا خیال ہے؟ کیا ان کے خلاف کسی غیر مسلم کی مدد لی جا سکتی ہے؟
اس پر کوئی شرعی دلیل میرے علم میں نہیں،آپ علم رکھتے ہیں تو بتا دیں یا کوئی بھی اور بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔

ویسے سعودیہ نے فساد فی الارض کے خلاف مدد لی تھی نتیجہ یہ ہوا کہ اج بھی امریکہ وہاں سے جانے کا نام نہیں لے رہا حلانکہ انہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔

اب پاکستان بھی مدد لے رہا ہے تو یہاں بھی یہی کچھ ہونا شروع ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس اونٹ کی طرح جسے سر اندر کرنے دیں تو تھوڑی دیر بعد ادمی خیمے سے باہر ہوتا ہے اور اونٹ صاحب اندر۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-01-12), sahj (18-07-10), ھارون اعظم (17-07-10), محمد عاصم (17-07-10), مرزا عامر (17-07-10), حیدر (17-07-10), شمشاد احمد (27-10-10)
پرانا 17-07-10, 12:41 PM   #10
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فساد فی الارض برپا کرنے والوں‌کے متعلق قرآن کیا کہتا ہے کچھ وضاحت کر دیں اور ان کی سزا کیا تجویز کی گئی ہے؟
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-01-12), محمد عاصم (17-07-10), مرزا عامر (17-07-10), ابن آدم (17-07-10), حیدر (17-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 01:04 PM   #11
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
حکومات کو تو پھر کیوں کر تسلیم کیا جا سکتا ہے جبکہ وہ ایسے کفریہ اعمال میں مبتلا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یقینا یہ ناجائز اور غیر اسلامی حکومتیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور دوستیوں میں تو آج کل ماشاءاللہ ہماری حکومت اور سعودی عرب سمیت بہت سے ممالک کی حکومتیں شامل ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ بھائی میں ان معاملے کو دوستی نہیں بلکہ غلامی سمجھتا ہوں دوستی وہ ہوتی ہے جو برابر کے مقام پر ہو کہ دونوں ایک دوسرے کی غمی خوشی میں شریک ہوں اور جو صرف کمزور کو دبانے اور اپنا حکم چلانے تک ہو وہ دوستی نہیں غلامی ہوتی ہے۔
ماشاءاللہ آپ کا مضمون اچھا ہے میں نے ابھی مکمل تو نہیں پڑھا جتنا پڑھا ہے مجھے تو کوئی غلط بات نظر نہیں آئی۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-01-12), sahj (18-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), حیدر (17-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 03:25 PM   #12
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
کنعان بھائی یہ مولانا محمد جونا گڑھی کا مشہور ترجمہ ہے۔ سورہ المائدہ:آیت 52۔
بریکٹس میں اضافے ترجمے کا حصہ نہیں ہیں بلکہ بات سمجھانے کے لیے ہیں۔ اگر آپ کو کوئی اعتراض ہے تو ضرور فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں چشم براہ ہوں۔

والسلام

السلام علیکم عبداللہ آدم بھائی

میں ایک عام سا مسلمان ہوں کسی بھی دینی مدرسہ سے میری کوئی تعلیم نہیں ھے مگر پھر بھی ہر اچھے اور برے کی تمیز ھے۔ قرآن مجید اللہ سبحان تعالی کی کتاب ھے جو آخری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی جن مسلمان ہستیوں کو ان کے علم کی بدولت اختیار ملا انہوں نے ہی اس قرآن مجید کے تراجم کئے بھلے ان میں انہوں نے (بریکٹ) کا استعمال کیا یا نہیں کیا دونوں طریقے سے قبول کئے جاتے ہیں۔

قرآن ترجمہ محمد جونا گڑھی کا ہو یا کسی بھی ہو جب بھی اسے نقل کیا جائے گا تو جیسا اس کا اصل ہی پیش کیا جائے گا کسی بھی مسلمان کو یہ اختیار حاصل نہیں ھے کہ وہ صرف اور صرف اپنی بات سمجھانے کے لئے کسی کے قرآن ترجمہ کو نقل کرے اور اس ترجمہ میں اپنی عقل سے اضافہ کرے بھلے وہ (بریکٹ) میں ہی کیوں نہ ہو، ہاں یہ ضرور ھے کہ وہ اسے ترجمہ سے اپنی بات جو وہ سمجھانا چاہتا ھے اس کی تشریح کر سکتا ھے۔ عبداللہ بھائی آپ تو شائد کسی دینی مدارس سے منسلک ہیں اب آپ بتائیں کہ آپ کسی کے قرآن ترجمہ میں کسی بھی صورت میں‌ اضافہ کر سکتے ہیں اور کیوں؟ اور کیا اس کی اجازت ھے؟

قرآن مجید کے ترجمہ نقل کرتے وقت یا لکھتے وقت "ایرر" کسی سے بھی ہو سکتا ھے یہ کوئی گناہ نہیں اور معلوم ہونے پر بندہ پھر بھی اللہ سبحان تعالی سے معافی ضرور مانگتا ھے، مگر جان بوجھ کر یا اپنی بات سمجھانے کے لئے کسی کے کئے ہوئے ترجمہ میں اضافہ کرنا شائد اس کی کہیں بھی معافی نہ ہو، اس لئے آپ کا کردار اب میری نظر میں مشکوک ہو گیا ھے۔



اقتباس:
مولانا محمد جونا گڑھی کا مشہور ترجمہ عبداللہ آدم کی اضافیت/ امینڈمنٹ کے ساتھ

﴿ فَتَرَی الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْہِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَۃٌ فَعَسَی اﷲُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِہٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰی مَآ اَسَرُّوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ نٰدِمِیْنَ ﴾

’’ آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں (نفاق) کی بیماری ہے۔

وہ دوڑ دوڑ کر ان (یہودیوں اور عیسائیوں) میں گھس رہے ہیں۔

اور کہتے ہیں کہ ہمیں (ان کافروں کی طرف سے) خطرہ ہے۔

ایسا نہ ہو کہ کوئی (المناک) حادثہ ہم پر پڑ جائے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ ﷲ تعالیٰ (مسلمانوں کو ) فتح دے دے ۔

یا اپنے پاس سے کوئی اور چیز (جزیہ ،جلاوطنی یا قتل) لے آئے۔

پھر تو یہ اپنے دلوں میں چھپائی ہوئی باتوں پر (بُریطرح) نادم ہونے لگیں گے ‘‘

سورہ المائدہ 5 : آیت 52
عبداللہ آدم بھائی آپ نے جو یہ عبارت (ان کافروں کی طرف سے) کا اضافہ کیا ھے پوری آیت اگر پڑھیں تو اس سے ساری آیت کا مفہوم ہی بدل گیا ھے۔ اور یہ آپ کو سمجھ نہیں آئے گا کیوں کہ آپ نے اپنی سوچ کے مطابق اسے بدلا ھے مگر کسی کاری قرآن سے آپ اس کی تصدیق کروا لیں اس کے بعد بھی اگر سمجھ آئے یا نہ آئے پھر بھی اپنی پوسٹ ایڈٹ کر کے محمد جونا گڑھ کا جو اصل ترجمہ ھے اسے ٹھیک کر دیں۔ اور جو آپ سمجھانا چاہتے ہیں اس کی تشریح پیش کریں۔ ابھی جو آپ نے مجھ سے سوال کے بدلے میں یہ دھاگہ بنا کر لگایا ھے اس پر بات کرنا ابھی باقی ھے۔

نوٹ: ہو سکتا ھے جو میں نے آپ کو سمجھایا ھے، سمجھ آنے پر شائد وہ بعد میں ڈیلیٹ کر دوں۔
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-01-12), مرزا عامر (17-07-10), حیدر (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 04:33 PM   #13
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
2:دوسرا سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ صحیح مسلم میں تواتر کےساتھ ایسی احادیث موجود ہیں جس میں حتیٰ کہ ظالم حکمران کی بھی طاعت کا حکم ہے۔ تو ایسے میں کیا عام مسلمانوں کی کوئی جماعت اٹھ کر مشرکوں کا ساتھ دینے والے حکمران کے خلاف خروج کا اعلان کر سکتی ہے؟
بدر بھائی وہ احادیث جن میں امیر یا خلیفہ کی اطاعت کا ذکر ہے وہ آپ ان موجودہ حکمرانوں پر نہ لگائیں اور دوسری بات یہ کہ اللہ کے نبی علیہ السلام نے ایسے خلیفہ کے خلاف بھی بغاوت کی اجازت دی ہے جو :::عام مسلمانوں میں نماز پڑھنا جھوڑ دے::: اور دوسرا اس سے کفر بواح سرزد ہوجائے تو اس پر میں نے ایک موضوع اسلام میں بیعت کس کی ہے؟ میں بھی بات کی ہے وہاں سے ہی کاپی کر کے یہاں پیسٹ کرتا ہوں۔

کسی خلیفہ کی بیعت توڑنا کبیرا گناہوں میں سے ہے کہ جس کو جاہلیت بھی کہا گیاہے تو اس کا مطلب کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ خلیفہ اسلام میں کوئی ایسی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کی ہر بات کو قبول کرنا فرض ہے اگر نہ مانی تو گناہ ملے گا تو اس بات کی وضاحت کے لیے نبی علیہ السلام کے فرمان پیش کرتا ہوں جس سے اس مسئلے کی وضاحت بھی ہوجائے گی ان شاءاللہ

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ایک شخص کو امیر مقرر کیا اس نے آگ سلگائی اور لوگوں کو حکم دیا کہ اس میں داخل ہو جاؤ، چناچہ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونا چاہا، اور بعض نے کہا ہم تو آگ سے بچنے کے لئے اسلام لائے ہیں لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حال بیان کیا تو جن لوگوں نے اس آگ میں داخل ہونا چاہا تھا ان سے آپ نے فرمایا کہ اگر تم لوگ اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اس میں رہتے اور لوگوں سے فرمایا کہ گناہ میں اطاعت نہ کرو، اطاعت صرف نیکی میں ہے۔
صحیح بخاری:جلد سوم:باب:امام کا حکم سننے اور اطاعت کرنے کا بیان جب تک کہ گناہ کا کام نہ ہو

اسماعیل، ابن وہب، عمرو، بکیر، بسر بن سعید، جنادہ بن ابی امیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ عبادہ بن صامت کے پاس گئے وہ بیمار تھے، ہم لوگوں نے کہا اے اللہ کے بندے آپ اصلاح کردیں آپ کوئی حدیث بیان کریں جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو تاکہ اللہ آپ کو اس کا نفع پہنچائے، انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم لوگوں کو بلایا اور ہم نے آپ کی بیعت کی آپ نے جن باتوں کی ہم سے بیعت لی وہ یہ تھیں، کہ ہم بیعت کرتے ہیں اس بات پر ہم اپنی خوشی اور اپنے غم میں اور تنگدستی اور خوشحالی، اور اپنے اوپر ترجیح دئیے جانے کی صورت میں سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور خلیفہ سے نزاع نہیں کریں گے لیکن اعلانیہ کفر پر، جس پر اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔
صحیح بخاری:جلد سوم: کتاب: احکام کے بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خِيَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَکُمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْکُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَکُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَکُمْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ لَا مَا أَقَامُوا فِيکُمْ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ وُلَاتِکُمْ شَيْئًا تَکْرَهُونَهُ فَاکْرَهُوا عَمَلَهُ وَلَا تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے اماموں میں سے بہتر وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں اور وہ تمہارے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور تم ان کے لئے دعاۓ مغفرت کرتے ہو اور تمہارے خلیفہ میں سے برے خلیفہ وہ ہیں جن سے تم دشمنی رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہوں اور تم انہیں لعنت کرو اور وہ تمہیں لعنت کریں عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول کیا ہم انہیں تلوار کے ساتھ قتل نہ کردیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں اور جب تک اپنے حاکموں میں کوئی ایسی چیز دیکھو جسے تم ناپسند کرتے ہو تو اس کے اس عمل کو ناپسند کرو اور اطاعت وفرمانبرداری سے ہاتھ مت کھینچو۔
صحیح مسلم:جلد سوم:باب : اچھے اور برے حاکموں کے بیان میں
ان ارشادات سے واضح ہوا کہ اطاعت صرف معروف کاموں میں ہے یعنی جو کام قرآن و صحیح حدیث سے ثابت ہو اس کو کرنا لازمی ہے اور ایسے کام کا حکم کہ جو قرآن و حدیث کے خلاف ہو اس کو نہ سننا ہے اور نہ ہی اس پر عمل کرنا ہے یعنی کہ خلیفہ کی اطاعت قرآن و حدیث کے ساتھ مشروط ہے۔ دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ اگر امام خلیفہ عام مسلمانوں میں نماز قائم کرنا چھوڑ دے اور یا اس سے کوئی کفر بواح:::واضح کفر:::سرزد ہوجائے اور وہ توبہ نہ کرئے اور نہ ہی خلافت کو چھوڑئے تو اس کے خلاف بغاوت کرنا بھی جائز ہے بلکہ بغاوت کرنا فرض بن جاتا ہے۔
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), آصف وسیم (22-09-10), حیدر (17-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 05:40 PM   #14
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
اس پر کوئی شرعی دلیل میرے علم میں نہیں،آپ علم رکھتے ہیں تو بتا دیں یا کوئی بھی اور بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔

ویسے سعودیہ نے فساد فی الارض کے خلاف مدد لی تھی نتیجہ یہ ہوا کہ اج بھی امریکہ وہاں سے جانے کا نام نہیں لے رہا حلانکہ انہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔

اب پاکستان بھی مدد لے رہا ہے تو یہاں بھی یہی کچھ ہونا شروع ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس اونٹ کی طرح جسے سر اندر کرنے دیں تو تھوڑی دیر بعد ادمی خیمے سے باہر ہوتا ہے اور اونٹ صاحب اندر۔۔۔۔۔۔۔۔
سعودیہ نے فساد فی الارض کے خلاف مدد بھی لی تو کس سے۔ بڑے فساد فی الارض پھیلانے والے سے - اور بیٹھ گیا سعودیہ کے شہر دمام میں- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا کہ مدینہ اور مکہ پر حملہ کرنے کے لئیے مشرق کی طرف سے دجال کا لشکرایسے گدھے پر اڑتا ہوا آئے گا جس کے کان پھیلے ہوئے ہونگے یعنی جیٹ طیارے لیکن فرشتے اسے دمشق کی طرف موڑ دینگے جہاں حضرت عیسٰی نمودار ہونگے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ دمام اسی جگہ ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا تھا
آپ لوگوں کو ماشاءاللہ کافی علم ہے تو کوئی شخص قیامت کی نشانیوں کے بارے میں تھریڈ کیوں نہیں کھولتا۔ میں نے جو جو نشانیاں سنی ہیں اس کے مطابق تو قیامت لگتا ہے سر پر منڈلا رہی ہے۔ لیکن بات آ جاتی ہے حوالہ جات کی وہ میرے پاس نہیں ہیں-
اللہ تعالٰی ہم پر رحم کرے اور اس مشکل وقت کو آسان کر دے-
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-01-12), sahj (18-07-10), محمد عاصم (17-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), حیدر (17-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 05:56 PM   #15
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مرزا بھائی نبی پاک کا اشارہ جس جگہ کی طرف تھا وہ علاقہ دمام نہیں۔ وہ جگہ اسرائیل میں ہے۔ مجھے اس جگہ کا نام بھول رہا ہے۔ مزے کی بات ہے اسرائیل اس غیر معروف جگہ پر ایک ائیر پورٹ بھی بنا چکا ہے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (17-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (24-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
جواب

Tags
پہچان, پسند, قرآن, نظر, مکمل, موت, موجودہ, منافق, منافقین, ممکن, مجید, محبت, معلوم, ایمان, اللہ, امریکہ, بھائی, جواب, جرم, حکم, خوش, خلاف, دعا, زندگی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اسلام میں بیعت کس کی ہے؟ محمد عاصم متفرقات 69 29-03-11 11:41 PM
یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم The Great احمد فراز 0 28-08-09 03:38 PM
شریعت میں ہلدی کی رسم کا کیا حکم ہے؟ sahj مذہبی مسائل اور ان کا حل 87 22-07-09 10:00 PM
کالعدم نفاذشریعت محمدی نے سوات میں قائم امن کیمپ ختم کردیا رضی خبریں 0 10-04-09 01:57 AM
ملاکنڈ حصّے میں شریعت محمد الیاس خبریں 57 04-04-09 07:34 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:12 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger