واپس چلیں   پاکستان کی آواز > IT کی دنیا > کمپیوٹر کی باتیں > کمپیوٹر سیکورٹی



کمپیوٹر سیکورٹی کمپیوٹر سیکورٹی


سٹکس نیٹ - سادیاتی جنگ کا ایک محرک

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-10-11, 03:53 PM   #1
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: ریاض، سعودی عرب
مراسلات: 142
کمائي: 3,449
شکریہ: 14
102 مراسلہ میں 312 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post سٹکس نیٹ - سادیاتی جنگ کا ایک محرک

سٹکس نیٹ - سادیاتی جنگ کا ایک محرک

جون 2010ء میں ’’سٹکس نیٹ‘‘ ( Stuxnet) نامی ایک کمپیوٹر وائرس عالمی سطح پر بڑے نیوکلئیر بجلی گھروں، فضائی ٹریفک کنٹرول نظاموں اور بڑے کارخانوں کے ڈیٹا خانوں میں بہت مخفی طور پر تاک لگائے پایا گیا۔ یہ دوسرے وائرسز سے 20 گنا زیادہ طاقتور تھا۔ اِس کی کئی مختلف قابلیتیں تھیں۔ اس کی ایک قابلیت جوہری ری ایکٹرز میں دباؤ بند کرنے یا تیل کے پائپ لائنوں کو منقطع کرنے کی تھی اور یہ کام کرنے کے دوران یہ وائرس اُس نظام کے چلانے والے ماہرین کو یہ بتاتا تھا کہ سب کچھ معمول کے مطابق ہے!!۔۔
دوسرے وائرسز کی طرح سٹکس نیٹ کوئی جعلی سیکیورٹی اجازت استعمال نہیں کرتا تھا (جو وائرسز کو نظام میں داخل ہونے میں مدد کرتی ہے)، بلکہ سٹکس نیٹ کے پاس بالکل قانونی اور معتمد سیکیورٹی اجازت تھی، اور یہ اجازت نامے دُنیا کے کئی معروف ترین ٹیکنالوجی کمپنیوں سے چُرائے گئے تھے، اِن کمپنیوں میں Realtek بھی شامل ہے۔
اِس وائرس نے سیکیورٹی کی اُن خامیوں سے بھرپور فائدہ اُٹھایا جن سے نظام کے بنانے والے واقف نہیں ہوتے۔ اِن خامیوں کو ’’صفر ایّام‘‘ یعنی zero days کہا جاتا ہے اور بہت ہی طاقتور اور کامیاب وائرسز اِن صفر ایّام کا فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ ایک صفر یوم کی تفصیلات کو چور بازار (black market) میں تقریباً 100,000 ڈالرز کے عوض بیچا جاسکتا ہے۔ کسی وائرس میں صرف ایک صفر یوم کی تفصیلات کا موجود ہونا بہت بڑی بات سمجھی جاتی ہے جبکہ سٹکس نیٹ نے تقریباً 20 صفر ایّام کا فائدہ اُٹھایا! ۔۔ لیکن کسی نظام میں داخل ہونے کے بعد یہ وائرس فوراً فعال نہیں ہوتا تھا، بلکہ اِس کے کوڈ میں ایک مخصوص ہدف تھا۔ اُس ہدف کے بغیر یہ وائرس بے حس و حرکت رہتا تھا یعنی اُس نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا تھا۔ اور وہ ہدف کیا تھا؟: ’’ایران کے جوہری افزودہ گھر‘‘! ۔۔۔ جوہری افزودہ گھر کے نظام میں پہنچنے کے بعد وائرس نے اپنے سرور (جو کہ ملائشیاء میں نصب کیا گیا تھا) سے رابطہ کرکے اُسے اپنے ہدف پر پہنچنے کے بارے میں پیغام ارسال کیا، جس کے بعد اُس سرور سے جوہری افزودہ گھر کے پورے نظام کو کنٹرول کیا جاتا رہا۔ سٹکس نیٹ ایک مکمل طور پر کوڈ سے بنا ہتھیار تھا۔
واشنگٹن کے ایک بین الاقوامی سیکیورٹی اِدارے کا کہنا ہے کہ اِس وائرس نے ایران کے شہر نطنز میں موجود جوہری افزودہ گھر کے تقریباً 1000 نابذات (centrifuges) بند کئے ہونگے۔ نومبر 2010ء میں بین الاقوامی جوہری توانائی کی ایجنسی (جو کہ اقوام متحدہ کا ایک اِدارہ ہے) نے کہا کہ ایران نے تفصیلات دیئے بغیر اپنے جوہری تنصیبات پر کام روک دیا ہے۔ کئی ماہرین نے سٹکس نیٹ کو اس کا موجب قرار دیا۔ چند ماہ قبل ایرانی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ بوشہر میں نوتعمیرشدہ جوہری بجلی گھر پر ایک وائرس نے حملہ کردیا ہے اور اِس کی وجہ سے اگر بجلی گھر کو چالو کردیا گیا تو پورے ایران میں بجلی معطل ہوسکتی ہے۔ ایرانی حکومت اِس بات کا بھی اِقرار کرچکی ہے کہ وائرس حملے کے ذریعے اُن کے جوہری افزودہ گھروں کا ڈیٹا (ایران سے باہر) کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
اِس وائرس کے پیچھے کون ہے؟ اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں سوائے افواہوں کے۔ کچھ کہتے ہیں کہ اِس کا خالق اسرائیل ہے کیونکہ اِس کے کوڈ میں عبرانی بائبل کے کئی حوالے ملتے ہیں۔ دوسرے کہتے ہیں کہ امریکی حکومت اِس کی تخلیق اور آزمائش میں ملوث تھی۔ وائرس کب بنا تھا؟ اور کتنا عرصہ کام کرتا رہا؟ اِس بارے میں بھی شکوک و شبہات ہیں۔ ایک اسرائیلی صحافی کے مطابق اسرائیلی فوج کے ایک جنرل اِس وائرس کی دریافت کے چند ماہ بعد ریٹائر ہوئے جن کی الوداعی تقریب کے دوران اُن کی کاوِشوں کی فہرست میں سٹکس نیٹ کو بھی دِکھایا گیا تھا۔
سب سے اہم سوال شاید یہ نہ ہو کہ ’’کس نے اِس کو تخلیق کیا؟‘‘ بلکہ اہم سوال یہ ہے کہ ’’کون اِس کی تخلیقِ نَو کرے گا؟‘‘ کیونکہ یہ وائرس بمع اِس کے مآخذ کوڈ کے انٹرنیٹ پر مفت دستیاب ہے، کوئی بھی اِس کو ڈاؤنلوڈ کرکے اس میں تبدیلی کرکے استعمال کرسکتا ہے۔ کوئی اندازہ نہیں کہ مستقبل میں اِس کو کون اور کس لئے استعمال کرے گا!
چند روز قبل بالکل سٹکس نیٹ کی ساخت کا ایک نیا وائرس دریافت ہوا جسے ڈوکو کا نام دیا گیا۔ ڈوکو وائرس کا کوڈ سٹکس نیٹ وائرس کے کوڈ سے بالکل ملتا جُلتا ہے۔ گوکہ ڈوکو کا کوڈ ابھی پوری طرح جانچا نہیں جاسکا ہے تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس کو کسی خاص ہدف کو نشانہ بنانے کی بجائے دُنیا کے بڑے کمپیوٹر نظاموں کی نگرانی کرکے اُن کا ڈیٹا کسی خاص مقام پر منتقل کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔
سٹکس نیٹ اور ڈوکو کی دریافت سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں: پہلی بات یہ کہ دُنیا میں ایک سادیاتی جنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور دوسری یہ کہ کمپیوٹر نظامات کو کبھی بھی مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

Last edited by محبوب عالم; 27-10-11 at 07:28 PM. وجہ: اضافۂ متن
محبوب عالم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محبوب عالم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-10-11), ونودراتھور (27-10-11), wajee (27-10-11), رضی (27-10-11), عبیداللہ عبید (24-11-11)
پرانا 27-10-11, 04:56 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-10-11, 05:11 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,204
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نئی انفارمیشن بہت خطرناک وائرس ہے یہ
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-10-11, 08:46 PM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default



محققین کو ایک نئے خطرناک کمپیوٹر وائرس کا پتہ چلا ہے۔ جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے میں استعمال ہونے والے وائرس کی نئی شکل بھی ہو سکتا ہے۔

اس کی شناخت سٹكس نیٹ کے نام سے کی جا رہی ہے اور اس کے خطرے سے دنیا بھر کی حکومتوں کو متنبہ کر دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ پہلے موجود کسی وائرس کی نئی شکل بھی ہو سکتی ہے۔

سٹكس نیٹ ایک انتہائی پیچیدہ قسم کا کمپیوٹر وائرس تھا اور اسے گزشتہ سال ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں جاسوسی اور نیوکلیئر پروگرام میں رخنہ ڈالنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

ابھی تک کسی نے اس نئے وائرس کو بنانے والے یا والوں کو کوئی نشاندہی نہیں کی ہے۔ لیکن اس کے بارے میں انگلیاں اسرائیل اور امریکہ کی طرف اٹھ رہی ہیں۔

خطرہ بننے والے اس نئے وائرس کا پتہ چلانے والوں نے اسے نام ڈُوكو کا نام دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے مستقبل میں خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے سٹکس نیٹ جیسے حملے کیے جا سکیں گے۔

اس کا نام ڈُوکو اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ ایسی فائلیں بناتا ہے جن کے شروع میں ڈی کیو لگا ہوتا ہے.

اس وائرس کا انکشاف سیمینٹک نامی ایک سکیورٹی فرم نے کیا ہے۔ جسے اِس کے بارے میں ایک ایسے ادارے نے بتایا جس کے لیے مذکورہ فرم سکیورٹی کا کام کرتی ہے۔

سیمینٹک نے اس کے بعد یورپ کے کئی ملکوں میں لگے کمپیوٹر سسٹموں سے اس وائرس سے بننے والی فائلوں کے نمونے جمع کیے اور ان کا تجزیہ کیا۔

ابتدائی تجزیوں سے یہ بات سامنے آئی کہ ڈُوکو سے بننے والی فائلیں سٹکس نیٹ سے بننے والی فائلوں سے بہت ملتی جُلتی ہیں اور ان کا کوڈ تقریباً سٹكس نیٹ کی طرح کا ہی ہے جس سے ایسا لگتا ہے کہ دونوں وائرسوں کو بنانےوالے ایک ہی ہیں یا اس وائرس کے لیے سٹکس نیٹ کی فائلوں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

لیکن سٹیکس نیٹ کے برخلاف ڈُوکو میں کوئی ایسا کوڈ نہیں ہے جس کا تعلق صنعتی نظام کے کنٹرول سے ہو۔ اس کے علاوہ یہ از خود اپنی نقلیں تیار نہیں کرتا۔

اس سے یہ مطلب نکالا گیا ہے کہ یہ وائرس خاص طرح کے مقاصد اور نشانوں کے لیے بنایا گیا ہے اور اس سے خاص اداروں اور ان کے اثاثوں کو ہی نشانہ بنایا جائے گا۔

سٹكس نیٹ وائرس نے ساری دنیا میں سائبر جنگ کا نیا دور شروع کر دیا تھا اور اس کے بعد تمام حکومتیں اپنے ضروری نظاموں کی حفاظت کو زیادہ موثر بنانے کے اقدامات کرنے لگیں۔

اس واقعے کے بعد حکومتیں ایک دوسرے کے یہاں جاسوسی کرنے اور سائبر دہشت گردی جیسے مسئلے پر باہمی مذاکرات کرنے کی ضرورت محسوس کرنے لگی تھیں۔

مذکورہ فرم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈُوکو وائرس خود کو متاثر ہونے والے کمپیوٹر سسٹم سے چھتیس دنوں میں خود ہی الگ کر لیتا ہے۔

اس سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس دوران وہ ایسی خفیہ معلومات جمع کرتا ہوگا جن کی مدد سے مستقبل میں دوسرے سائبر حملے کیے جا سکتے ہوں۔

سیمینٹک کے چیف ٹیکنیکل آفیسر گریگ ڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ ڈُوکو کے کوڈ بہت ہی جدید نوعیت کے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ کسی شوقیہ کام کرنے والے شخص کا کام نہیں، یہ کسی بہت ہی تیز دماغ ٹیکنالوجی کا کام ہے اور اس کا مطلب عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ اسے کسی نے کسی خاص مقصد کے پیش نظر بنایا ہے‘۔

اس کے باوجود ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ وائرس کسی حکومت کی سرپرستی میں بنایا جانے والا وائرس ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور سیاسی مقصد ہے۔

ایران نے سٹیکس نیٹ حملے کے بعد یہ اعتراف کیا تھا کہ اس وائرس کے نتیجے میں سینٹری فیوجز تخریب کاری کا نشانہ بنے تھے حالانکہ سٹکس نیٹ کے اثرات کو بڑی حد تک ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (27-10-11), wajee (27-10-11), عبیداللہ عبید (24-11-11)
پرانا 27-10-11, 08:59 PM   #5
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سٹکسنیٹ
وکیپیڈیا سے

سٹکس نیٹ (stuxnet) اسرائیل اور امریکہ کا بنایا شمارندی کُرم ہے جو م س ونڈوز سے جُڑے سیمنز کے بنائے صنعتی تظبیط کاروں پر حملہ کرتا ہے۔ اس کُرم کا بنیادی مقصد ایران کی جوہری تنصیبات میں سیمنز تظبیط استعمال کرنے والے یورینیئم افزودگی آلات کو ناکارہ بنانا تھا۔ سیمنز نے امریکی سائنسدانوں کو اپنے تظبیطی نظام کی خامیوں سے آگاہ کیا اور بھر پور عملی تعاون کیا جس کا فائدہ اٹھا کر سٹکسنیٹ کُرم تیار کیا گیا۔ ایران کے یورینیئم افزودگی نابذہ پاکستان کے مشہور سائنسدان عبد القدیر خان کے طراح پر مبنی ہیں اور اسطرح کے نابذہ اسرائیلی اور امریکی سائنسدانوں کے پاس بھی موجود تھے۔ اسطرح اسرائلی سائنسدانوں نے حملے سے پہلے ان نابذہ پر تحربہ کر کے یقینی بنایا کہ کُرم مطلوبہ کام انجام دے پائے گا۔[1] یہ کُرم تنصیانت میں کام کرنے والے ملازمین کے ذاتی استعمال شدہ ونڈوز شمارندوں میں سے کائناتی سلسلی حافلہ پر منتقل ہو جاتا ہے اور اس وسیلہ سے تنصیبات کے اندر پہنچ جاتا ہے جہاں لاپرواہ ملازم انہیں صنعتی آلات سے جُڑے شمارندوں میں لگا کر انہیں عدوی کر دیتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس کُرم نے کئی ایرانی آلات کو تباہ کر دیا۔ ایران کے علاوہ پاکستان، بھارت، اور انڈونیشیا کے صنعتی مراکز میں بھی اس کُرم کے حملہ سے نقصان کی اطلاعات ملی ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس حملہ کے بعد سیادی جنگیات ایک حقیقت بن گئی ہے۔
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (27-10-11), wajee (27-10-11)
پرانا 27-10-11, 09:53 PM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ کونسی زبان میں آرٹیکل ہے؟ اردو کے قریب کی کوئی زبان لگ رہی ہے
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-10-11), رضی (27-10-11)
پرانا 27-10-11, 10:06 PM   #7
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وکیپیڈیا پر اردودانوں کی افراط ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (27-10-11)
جواب

Tags
color, green, market, ہوتا, ہے۔, کنٹرول, کمپیوٹر, ٹریفک, یوم, وائرس, چور, مفت, مکمل, مطابق, آزمائش, ایران, اقوام متحدہ, انٹرنیٹ, بے, ثبوت, شہر, طور, طاقتور, عالمی, صفر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا نیٹ بک لیپ ٹاپ کا متبادل ہو سکتی ہے؟ یاسر عمران مرزا Ask Experts ماہرین کی رائے 31 26-04-11 05:55 AM
ایران کا جوہری بجلی گھر اور یورنیم افزدوں کرنے کا کارخانہ سٹکسنیٹ وائر س کا اصل ہد ف تھے:رپورٹ جاویداسد خبریں 1 24-09-10 07:25 PM
اپنے رائیٹ کلک کو کسٹمائز کریں شازل سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست 18 18-06-08 02:31 PM
آئندہ حکومت مسلم لیگ کی ہی بنے گی،فضل الرحمن سے پنجاب میں بھی سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے،پرویزالٰہی عبدالقدوس خبریں 0 03-12-07 02:37 PM
ذاتی کمپیوٹر یا نیٹ ورک کا انتخاب کشورناہید کمپیوٹر کی باتیں 6 29-07-07 08:50 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger