![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 45
مراسلات: 938
کمائي: 6,210
ميرا موڈ:
شکریہ: 36
159 مراسلہ میں 247 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
انٹرنیٹ سیکیورٹی فرم سائمینٹک کے مطابق انٹرنیٹ سے منسلک جرائم پیسے بنانے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔
اپنی رپورٹ میں سائمینٹک نے ایسی چیزیں فروخت کرنے والی سائٹس کا حوالہ دیا ہے جہاں بینک اکاؤنٹس کی تفصیل اور کریڈٹ کارڈ تک فروخت کیے جاتے ہیں۔ ویب سائٹس پر حملے کرنے والا وہ سافٹ ویئر بھی فروخت ہوتا ہے جسے جرائم پیشہ افراد اپنے کاروبار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جرائم پیشہ افراد مائی سپیس اور فیسبک جیسی قابلِ اعتبار سائٹس کو دوسروں کے کمپیوٹروں پر حملے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے ٹیکنالوجی کے نامہ نگار نے کہا ہے کہ ابھی تک ہیکر صرف شرارتًا کمپیوٹر پر وائرس کے حملے کرتے تھے لیکن اب انہوں نے پیسے بنانے شروع کر دیے ہیں۔ اس حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب اس طرح کے حملے اربوں ڈالر کی صنعت بن چکے ہیں۔ اس میں ان آن لائن ڈسکشن بورڈز کا ذکر کیا گیا ہے جن میں ممبران ایسی معلومات خریدتے اور بیچتے ہیں جس سے دوسرے کی آئڈینٹٹی تھیفٹ یا شناخت کی چوری ممکن ہو سکتی ہے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق حالیہ دنوں میں اس طرح کی ایک سائٹ پر کچھ لوگ سو ملین ای میل اڈریسیسز سے لے کر بینک لاگ انز اور کریڈٹ کارڈز کی تفصیلات فروخت کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ ایسی کٹس بھی دستیاب ہیں جنہیں خریدنے والا بینکوں کی جعلی سائٹس بنا سکتا ہے تاکہ گاہکوں کو پھنسایا جا سکے۔ بی بی سی |
|
|
|
| چاچا کمال کا شکریہ ادا کیا گیا | عدنان (05-10-07) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() |
یہ بات بلکل درست ہے ایسا آجکل ہو رہا ہے ، خردوفروخت کے لئے Irc کو استعال کیا جارہا ہے ،
__________________
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
زبردست معلومات ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان ہیکرز کے پیچھے بھی بڑا ہاتھ انہی سکیورٹی فرمز کا ہوتا ہے۔ اگر نئے وائرس نہیں آئیں گے یا ہیکنگ نہیں ہوگی تو یہ بیچاری فرمز تو بیٹھ ہی جائیں گیں۔
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مراسلات: 76
کمائي: 258
شکریہ: 11
17 مراسلہ میں 54 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے آپ کی بات سے اختلاف ہے ،اکثر نامور ہیکرز کی خدمات سکیوڑٹی فرمز نے صرف سیکوڑٹی ٹیسٹنگ کے لیے حاصل کئیں ،نہ کہ نئے وائرس بنانے کے لیے۔اور ویسے بھی اگر آپ مشہور وائرسسز کی فہرست پر نظر ڈالیںتو یہ بات عیاںہے کہ اکثر وائرسسز ایسے افراد نے بنائے تھے جو اپنے مستقبل سے نا امید تھے۔یا معیاری تعلیم کے باوجود نوکری حاصل کرنے سےقاصر تھے۔نیز سکرپٹکڈی اور ہیکر میںٹھیک ٹھا ک فرق ہو تا ہے ۔
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
مراسلات: 14,176
کمائي: 2,206,359
ميرا موڈ:
شکریہ: 3,103
3,493 مراسلہ میں 6,174 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نصیر بھائی کی بات سے 100؏ متفق ہوں
|
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| فروخت, کارڈ, وائرس, لوگ, نوکری, نظر, ممکن, انٹرنیٹ, بھائی, تعلیم, سافٹ, شناخت, صنعت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| انٹرنیٹ کارڈ کے بغیر انٹرنیٹ استعمال کریں | محسن بٹ | Ask Experts ماہرین کی رائے | 21 | 02-03-10 04:53 PM |
| فائل ہوسٹنگ ایک منافع بحش کاروبار | زبیر | کیرئر کی راہنمائی | 12 | 29-12-09 12:40 PM |
| ہند و پاک میں بھائی چارے اور امن کا ایک بڑا قدم رفیع پیر تھیٹر کی پیش کش | عبدالقدوس | فلمی دنیا | 0 | 27-10-07 10:53 AM |
| ’افیون کے کاروبار کا سب سے بڑا مرکز‘ | چاچا کمال | خبریں | 0 | 27-08-07 12:17 PM |