|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,239
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
انٹرنیٹ نے دنیا بھر میں جس’ڈاٹ کام کلچر‘ کو جنم دیا ہے اس کا ایک واضح جزو ’ای کامرس‘ یعنی انٹرنیٹ اور ویب سائٹس کی مدد سے تجارت یا خرید فروخت ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی انیس فرری سنہ 2010 کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی (اکتوبر۔دسمبر09) میں ’ای پیمنٹس‘ یعنی آن لائن رقم کی ادائیگی کے حجم اور قدر بالترتیب چار اعشاریہ چار چھ ملین اور چار اعشاریہ ایک ٹریلین روپے تھے۔ سنہ دو ہزار میں جب حکومتی سطح پر پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس پر کام کا آغاز ہوا تو ای کامرس کے حوالہ سے بینکاری کے شعبہ میں واضح پیش رفت اور تبدیلیوں کی توقع کی گئی تھی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر سنہ 2009 تک ملک میں بینکوں کی آن لائن شاخوں کی تعداد چھ ہزار پانچ سوستاسی تھی۔ اس کے علاوہ دسمبر2009 تک ملک میں چھ بینک صارفین کو موبائل فون کے ذریعہ رقم کی ادائیگی اور منتقلی کی سہولت فراہم کر رہے تھے اور موبائل بینکاری کے ذریعہ منتقل ہونے والی رقم کے حجم اور قدر بالترتیب سات ہزار پانچ سو تینتالیس ملین اور تین سو اکیاسی ملین روپے ریکارڈ کی گئی۔ انٹرنیٹ ویب سائٹ کے ذریعہ رقم وصول کرنے کے لیے انٹرنیٹ مرچنٹ اکاؤنٹ درکار ہوتا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے انٹرنیٹ مرچنٹ اکاؤنٹ کے قواعد وضوابط کا اجراء سن دو ہزار دو میں کر دیا تھا مگر پاکستان میں اب تک صرف سٹی بینک کو ان ا کاؤنٹس کا اجراء کرنے کی اجازت حاصل ہے اور اسٹیٹ بینک کے مطابق گذشتہ سال کے آخر تک ملک میں صرف بیس مرچنٹ اکاؤنٹ تھے۔ پاکستان کی آن لائن بینکاری کا نظام، کریڈٹ کارڈ اور انٹرنیٹ صارفین کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے انٹرنیٹ مرچنٹ اکاؤنٹس کی یہ تعداد انتہائی قلیل ہے۔ پاکستان میں ای کامرس ویب سائٹس ڈیزائن اور تیار کرنے والی ایک کمپنی، بائنری وائبز کے ڈائریکٹر فاروق کمال کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں آن لائن سٹور یا ای کامرس سائٹ شروع کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ انٹرنیٹ مرچنٹ اکاؤنٹ کا حصول ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سٹی بینک کی جانب سے رائج کردہ قواعد و شرائط نیا کاروبار شروع کرنے والے بیشتر لوگوں کے لیے موزوں نہیں بلکہ ان سے کچھ پرانے لوگ بھی گھبراتے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں انٹرنیٹ کے ذریعہ پیسوں کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والی سروس’پے پال‘ پاکستان میں کام نہیں کرتی ہے اور بیرونِ ملک موجود انٹرنیٹ مرچنٹ سروسز کی خدمات لینے سے بیوپاری کے منافع میں کمی آتی ہے اس لیے لوگ ان سے دور رہتے ہیں‘۔ جہاں یہ وجوہات پاکستان میں آن لائن سٹورز میں کمی کا سبب بنی ہیں وہیں فاروق کمال کے خیال میں انٹرنیٹ پر خریداری کرنے کے لیے پاکستانی صارفین کے پاس اعتماد اور وسائل کی بھی کمی ہے۔ ان کے مطابق ’اکثر پاکستانی انٹرنیٹ پر خریداری کرنے سے اس لیے بھی گھبراتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ وہ اس طرح کسی دھوکے یا جعل سازی کا شکار نہ بن جائیں، اس کے علاوہ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اگر دکان میں جا کر وہ جس چیز کو دیکھ یا چھو نہیں سکتے ہے یا جس دکان کا پتا ان کے پاس نہیں ہے اس پر بھروسا کس طرح کیا جاسکتا ہے‘۔ فاروق کمال کے مطابق ’دوسری جانب پاکستانی انٹرنیٹ صارفین میں سے بیشتر لوگ کم عمر یا نوجوان ہیں جو انٹرنیٹ اور نئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے میں تو کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے مگر ان کے پاس کریڈٹ کارڈ موجود نہیں اور اس کے بغیر پاکستان میں انٹرنیٹ پر خریداری نہیں کی جا سکتی‘۔ لبرٹی بکس پاکستان میں گذشتہ پچاس سال سے کتب فروشی کے کاروبار سے منسلک ہے۔ کمپنی کی برانڈ منیجر شرمین حسین کے مطابق گو کمپنی کی ویب سائٹ سن انیس سو پچانوے چھیانوے کے لگ بھگ شروع کی گئی تھی مگر اس کے ذریعہ کتابوں کی فروخت کا آغاز سن دو ہزار کے قریب ہوا جب پاکستان میں انٹرنیٹ کا شعور بڑھنے لگا تھا۔ شرمین حسین نے بتایا کہ گو ویب سائٹ کے ذریعہ خريدی گئی کتابوں کی قیمت یا تو سامان کوصارف تک پہنچاتے ہوئے وصول کی جا سکتی ہے یا پھر خریدار کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ آن لائن ادائیگی کا انتخاب بھی کر سکتا ہے۔ شرمین کے مطابق کچھ عرصہ سے ان کے زیادہ تر ویب صارفین کریڈٹ کارڈ استعمال کرنا پسند کر رہے ہیں۔ تاہم شرمین کے مطابق اب بھی ان کے آن لائن صارفین کی تعداد دکان پر آ کر خریداری کرنے والے افراد کی نسبت کہیں کم ہے۔ ان کے مطابق اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں، پہلی تو یہ کہ لوگوں میں آن لائن خریداری کرنے کا شعور ابھی کم ہے اور دوسری یہ کہ اکثر صارفین خریدنے سے پہلے چیز کو خود چھونا یا دیکھنا پسند کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی نظروں کے سامنے ان کا کریڈٹ کارڈ مشین میں ڈالا اور نکالا جائے تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہو۔ بی بی سی اردو
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا مت سوچو ! |
|
|
|
| عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالقدوس (15-09-10) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
پے پال کی طرز کا نظام متعارف ہوجائے تو مزا آجائے۔۔ فاروق بھائی جیسے ماہر اگر اس معاملہ میں سنجیدگی کا اظہار کریں تو پاکستان میں اس فیلڈ میں ترقی آسکتی ہے
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فروخت, کمال, کتابوں, گئی, پاکستان, پاکستانی, پسند, ویب, ڈیزائن, قواعد, موبائل, منتقلی, مطابق, انفارمیشن ٹیکنالوجی, انٹرنیٹ, اردو, دنیا, سال, شروع, عرصہ, غلط, صارف, صارفین, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ہم گناہ گار بھی ہیںتیرے پرستاروں میں | ابوسعد | شعر و شاعری | 3 | 03-03-11 11:09 PM |
| پاکستانی عوام کی خوداعتمادی بحال کرنے آؤں گا،پرویز مشرف | جاویداسد | خبریں | 1 | 29-09-10 01:25 PM |
| وزیرستان میں متوقع آپریشن پاکستان نواز گروپ معاون بن سکتے ہیں | مزمل فاروق | سیاست | 0 | 01-06-09 11:15 AM |
| پاکستان کے سب سے قابل اعتماد بیٹسمین محمدیوسف سلیکٹرزکا اعتمادحاصل نہ کرسکے؟ | خرم شہزاد خرم | کرکٹ | 9 | 09-08-07 11:24 PM |