السلام علیکم
پہلا مرحلا
اس بات کو سمجھنے کے لئے کے سی ڈی کس طرح کام کرتی ہے۔ پہلے سی ڈی کی بناوٹ کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔
آپ کے قریب ہی سی ڈی ہوگی اگر نہیں تو ایک سی ڈی تلاش کر لیں
اور غور سے دیکھیں۔ ایک طرف آرپار نظر آنے والی ٹرانسپیرینٹ پلاسٹک ہے اور دوسری طرف لیبل تہہ جس پر کمپنی نے یا آپ نے کچھ لکھا ہے۔ دیکھنےمیں یہ دو تہے نظر آتے ہیں مگر اصل میں یے پانچ تہے ہوتے ہیں۔
پہلی تہہ: پلاسٹک کی وہ تہے جو سی ڈی میں سب سے موٹی اور وزندار
ہوتی ہے۔ اس پلاسٹک کا استعمال اُس ڈیٹا اور ڑفلکٹر تہے کی حفاظت اور مدد
کے لےء کیا جاتا ہے، جو بال سے بھی پتلی اور کمزور ہوتی ہے۔ یے پلاسٹک آرپارنظر آنے والی اسلئے ہوتی ہے۔ کیونکے ڈاٹا تہے اس پلاسٹک تہے کے پیچھے لگی ہوتی ہے جس پر آپ کا محفوظ کیا ہوا سارا ڈاٹا ہوتاہے۔ جس کو کمپیوٹر لیزرشعاع کی مدد سے لکھتا اور پڑھتا ہے۔ ڈاٹا اور ڑفلکٹر تہے کافی کمزور ہونےکی وجہ سے ان تہے کو پکڑے رکھنے کے لئے یے پلاسٹک تہے کا استعمال کیاجاتا ہے۔
اس پلاسٹک کے استعمال کے اور بھی مقاصد ہیں جن کا سمجھنا اتنا ضروری نہیں۔
دوسرہ تہہ: پلاسٹک کی تہے پر ڈاٹا تہے لگایا جاتا ہے جس پر ٹراکس بنی ہوتی ہیں۔ دائرہ نما بہت باریک لکیرین بنی ہوتی ہیں جو اندر سے باہر کی طرف جاتی ہیں اور ان لکیروں میں خانے بنے ہوتے ہیں۔ تصویر دیکھیں ۔یے تہے بھی تب تک ٹرانسپیرنٹ ہوتی ہے جب تک اس پر ڈاٹا لکھا نہیں جاتا۔ یہی وہ خاص تہہ ہے جس پر آپ کے تمام ڈاٹا ،میوزک، ویڈیواور گرافکس محفوظ ہوتے ہیں۔ اور اسی لیرپر آپ کو زیادہ غور کرنی ہے۔
تیسری تہہ: اس پر رفلکٹر تہے لگائی جاتی ہے۔ رفلکٹر وہ چیز ہے کے جس پر اگر روشنی پڑتی ہے تو وہ چمکنے لگتا ہے یعنی اس پر گری ہوئی روشنی کو واپس لوٹا دیتا ہے۔ سی ڈی میں صرف یہی دو تہے کام کے ہوتے ہیں۔
باقی دو حفاظت اور ایک لکھنے کے لئے لیبل تہے ہوتی ہے۔
چوتھی تہہ: اس رفلکٹر تہے پر ایک سخت مگر بیحد پتلی تہے لگائی جاتی ہے،
جو لیبل اور رفلکٹر تہے کی دوسری طرف سے حفاظت کرتا ہے یعنی جسطرف
لیبل تہے لگی ہوتی ہے۔ یے تہے لیبل تہے اور رفلکٹر تہے کے درمیان ہوتی ہے۔
تاکے اگر لیبل تہے پر کچھ لکھا جائے یا کچھ دھّکا لگے تو یے تہے ڈاٹا اور رفلکٹر تہہ کی حفاظت کرے۔ ایک بات بتاتی چلوں کہ یہ تہہ اتنی سخت نہیں ہوتی کے آپ کسی بھی نوکیلی قلم سے لیبل پر لکھیں اور وہ محفوظ رہے۔
پانچویں تہہ: آخری تہے جسے لیبل تہے کہتےہیں، جس پر سی ڈی کے معلومات لکھے ہوتے ہیں۔
یہ تو جائزہ تھا اب اصل بات کیطرف جاتی ہوں جہاں سے دوسرا مرحلہ شروع ہو گا۔
کمپیوٹر سی ڈی پر کس طرح لکھتا ہے
جیساکہ آپکو معلوم ہو گا کہ جانتے ہیں کے کمپیوٹر یعنی پروسیسر ہر کام اپنی زبان میں کرتا ہے یعنی مشین لینگوئج میں جو بینیری نمبر کی شکل میں ہوتی ہے جب انسان کمپیوٹر کو کسی کام کا حکم دیتا ہے ، تو پروسیسر اًس کام کو اپنی زبان میں یعنی بینیری نمبرمیں بدل لیتا ہے ۔ پھر کام کرنے کے بعد جو نتیجا نکلتا ہے اس نتیجے کوانسان کی زبان میں بدل کر تصویر یا آواز کی شکل میں انسان کو دکھاتا یا سناتا ہے۔اور جب تک انسان کو دکھانا یا سنانا نہیں ہوتا تب تک نتیجے کو اپنی ہی زبان بینیری نمبر میں رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ نے کمپیوٹر کو حکم دیا کے اے بی سی ڈی ای یف ان حروف کو سی ڈی
پر لکھو۔ اب پروسیسر ان حروف کو بینیری نمبر میں بدل کر سی ڈی رائٹر کی مدد سے سی ڈی پر لکھتا ہے۔ سی ڈی رائٹر اور سی ڈی ریڈر کا کام الگ الگ ہوتا ہے۔ لیکن ان دونو میں لیزر شعاع ہوتی ہے۔ جسے لیزر بیم کہتے ہیں۔ اب سی ڈی رائٹر اپنی شعاع سی ڈی کے سینے پر پھینکتی ہے ۔پلاسٹک کی تہہ پراور شعاع پلاسٹک کی پہلی تہے سے گزرتی ہوئی دوسری ڈیٹاکی تہہ تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر ایک لکھنا ہے تو سی ڈی رائٹر اپنی شعاع ہلکی
پھینکتی ہے جس سے ڈاٹا لیر کو کچھ نقصان نہیں ہوتا ، اور اگر صفر لکھنا ہو تو سی ڈی رائٹراپنی شعاع تیز پہینکتی ہے جس سے ڈاٹا لیر کا ایک خانہ جل جاتا ہے اوراسی کو سی ڈی برن یعنی سی ڈی جلانا کہتے ہیں۔ اسی طرح سارا ڈاٹا ایک اور صفر میں لکھا جاتا ہے۔
آپ ایک بلکل خالی سی ڈی اور اک ڈیٹا لکھی ہوئی سی ڈی لیں اور غور سے دیکھیں،خالی سی ڈی ڈیٹا لکھی ہوئی سی ڈی سے زیادہ چمکدار ہوتی ہے، صاف آئینے کی طرح، کیونکہ خالی سی ڈی کی ڈیٹا تہے ابھی جلا نہیں ہے اور آپ کی نظر رفلکٹر تہے سے ٹکرا رہی ہے۔جب یے ڈایٹا تہہ ضرورت کے مطابق جلادی جائےگی، پھر آپ کی نظررفلکٹر تہہ تک نہیں پہنچے گی۔ اب آپ کی وہ سی ڈی تیار ہے جس پر آپ نے اپنی ڈیٹا یعنی اے بی سی ڈی ای یف
محفوز کیا تھا ، آپ یہ سی ڈی کہیں بھی لےجا سکتے ہیں اور کسی بھی کمپیوٹر میں دیکھ سکتے ہیں۔ ایک بات یہاں یے یاد رکھنے کی ہے کے پروسیسر نے جو ڈیٹا سی ڈی پر محفوظ کیا ہے وہ بینیری نمبر میں ہے،کیوں کہ وہ ابھی آپ کو دکھانا یا سنانا نہیں ہے۔ جب دکھانا یا سنانا ہوگا وہ آپ کی زبان میں بدل کر شو کریگا۔
تیسرامرحلہ
آپ نے ابھی جس سی ڈی پر ڈیٹا اے بی سی ڈی ای یف محفوظ کئے تھے وہ سی ڈی جب آپ دوبارہ سی ڈی روم یا رائیٹر میں ڈالیں گے۔ تو فوراً سی ڈی روم یا رائیٹرپروسیسر کواطلاع بھیجتا ہے اور پروسیسر اس سی ڈی کو پڑھنے کا حکم دیتا ہے۔ سی ڈی روم یا رائیٹر اپنی لیزر بیم سی ڈی کے سینے پر پھینکتا ہے۔ یہ شعاع سی ڈی کی پہلی تہہ پلاسٹک کی تہہ سے گزرتی ہوئی ڈیٹا تہے تک پہنچ جاتی ہے اوراگرڈیٹا تہہ جلی ہوئی نہیں ہے تو یے شعاع ڈیٹا تہے سے آگے گزرتی ہے اوررفلکٹرسے ٹکراتی ہے، رٍفلکٹر اس شعاع کو واپس لوٹا دیتا ہے۔ یے شعاع جس راستے سے ہوتی ہوئی آئی تھی اسی راستے سے واپس گزرتی ہوئی پروسیسر تک پہنچ جاتی ہے اور جیسے ہی شعاع پروسیسر تک پہنچتی ہے ، پروسیسر فوراّ لکھتا ہے ایک، اور اپنی
میموری میں محفوز کرلیتا ہے۔ اور اگر ڈیٹا تہہ جلی ہوی ہے تو شعاع رفلکٹر تک پہنچ نہیں پاتی اور وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ جب شعاع واپس نہیں آتی تو پروسیسر اپنی
میموری میں فوراً لکھتا ہے صفر۔اسی طرح سارا ڈیٹا یعنی بینیری نمبر میموری
میں دوبارہ جمع کرلیتا ہے جسطرح اس نےسی ڈی رایٹر کی طرف بھیجاتھا اور ہماری زبان میں بدل کر شو کرتا ہے۔ یاد رہے، شعاع کے انتظار کا ایک طے شدہ وقت ہوتاہے ،طے شدہ وقت تک اگر شعاع واپس آگئی تو کونٹ ہوگا ایک ورنا صفر۔ اور اگر کونٹنگ ایک ایک ایک ایک ایک ایک ہوئی تو اس کا مطلب یے ہوگا کے سی ڈی خالی ہے۔ کیونکے سی ڈی برن نہیں ہوئی ہے، اور شعاع لگاتار واپس آتی ہے۔ اور اگر صفر صفر صفر صفر صفر صفر ہوا تو یا سی ڈی روم خالی ہے یا سی ڈی کی حالت ایسی ہوئی ہے کے شعاع رفلکٹر تک پہنچ نہیں پا رہی ہے۔ اسطرح پروسیسر ایک اور صفر کا استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی ڈاٹا سی ڈی پر لکھتا اور پڑھتا ہے۔
اب آپ ان باتوں پر زیادہ غور کریں کے اگر آپ کی سی ڈی ریڈ نہیں ہورہی ہے تو ضرور سی ڈی روم کی شعاع رفلکٹر تک پہنچ نہیں پارہی۔ اس کے وجوہات سی ڈی پرکسی بھی طرح کا میل یا گندگی لگی ہوگی۔ ہاتھ کا لگا پسینا بھی کافی اثر دکھاتا ہے۔ سی ڈی ٹیڑی یا ٹوٹی ہوگی۔ سی ڈی پر ہلکی یا گہری لکیریں ہونگی۔ سی ڈی پر لیبل کی طرف سے نقصان پہنچا ہوگا۔ یا سی ڈی روم پر اس جگا دھول جمی ہے جہاں سے لیزر شعاع نکلتی ہے یا سی ڈی روم سے شعاع بلکل بھی نکل نہیں رہی ہے یعنی سی ڈی روم خراب ہوگا۔
شکریہ
زارا