واپس چلیں   پاکستان کی آواز > پروفیشنلز > کیرئر کی راہنمائی



کیرئر کی راہنمائی آجکل لاکھوں کی تعداد میں نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مگر تعلیم کے اختتام پر بہت کم اچھی نوکریاں حاصل کر پاتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی مدد اور راہنمائی کے لیے...


باتھ ٹب اور بالٹی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-10-10, 03:15 PM   #1
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb باتھ ٹب اور بالٹی

باتھ ٹب اور بالٹی

السلام علیکم

یہ چھوٹی سی کہانی یک طرفہ سوچ، مفروضوں اور لوگوں کے متعلق غلط رائے قائم کرنے کی چھوٹی چھوٹی مگر اہم غلطیوں‌کی نشاندہی کرتی ہے۔

کہانی کچھ یوں‌ہے کہ

دماغی امراض‌کے ادارے کی انتظامیہ نے ادویات اور دوسرا سامان مہیا کرنے والے کچھ اداروں کے مینیجرز کواپنے ہاں مدعو کیا۔

اسپتال کا دورہ کروایا جارہا تھا کہ ایک بڑی کمپنی کے مینیجر نے مریضوں کے متعلق حقیر الفاظ‌ میں رائے زنی کی۔

دورے کے آخر میں ان تمام افراد کو ادارے کی کینٹین میں دوسرے اسٹاف سے ملوایا گیا، جہاں چائے اور کھانے کا انتظام تھا۔

چائے پیتے ہوئے اسی بداخلاق مینیجر نے سیکیورٹی افسر، جو کہ ایک ریٹائرڈ پولیس والا تھا، سے مریضوں کے متعلق انتہائی حقارت سےدریافت کیا،

کیا سارے ہذیان بکنے والے خبطی اِدھر ہی جمع ہیں؟

سیکیورٹی افسر نے کہا، نہیں یہاں صرف وہ ہیں جو ہمارے ٹیسٹ میں فیل ہوجاتے ہیں۔

کیسا ٹیسٹ‌ہوتا ہے آپ کا، مینیجر نے پوچھا

جی، ہم انہیں ایک بھرا ہوا باتھ ٹب دکھاتے ہیں اور اس کے علاوہ ایک بالٹی، ایک چھوٹا جگ اور ایک چائے کا کپ دیتے ہیں۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ بتائیں باتھ ٹب کو جلد از جلد خالی کیسے کیا جاسکتا ہے؟ سیکیورٹی افسر نے ٹیسٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا۔

اوہو، یہ تو بہت آسان ہے۔ مینیجر نے لاپروائی سے کہا۔ کسی بھی عام اور نارمل انسان کے لیئے اس کا جواب بالٹی ہے، کیوں‌ٹھیک نا؟

دراصل ایسا نہیں ہے، سیکیورٹی افسر نے جواب دیا۔

نارمل آدمی کہتے ہیں کہ اس کا پلگ نکال دو





اس واقعے یا کہانی کا اہم ترین سبق "یک طرفہ سوچ" lateral thinking ہے۔ کسی بھی صورتحال کو آسان سمجھ کر، تفصیلات پر غور کیئے بغیر، یک طرفہ سوچ اسی قسم کی شرمندگی کا باعث‌بن سکتی ہے۔ اور ہاں دوسروں کی صلاحیتوں کو اپنے سے حقیر جاننا بھی آپ کی پروفیشنل زندگی میں آپ کے لیئے مصیبتوں کا باعث بن سکتی ہے۔

والسلام

طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
18 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (29-10-10), فیصل ناصر (30-10-10), ھارون اعظم (05-11-10), ننھا بچہ (19-03-11), ناصحی (30-10-10), محمدخلیل (30-10-10), مرزا عامر (30-10-10), مزمل فاروق (30-10-10), wajee (06-11-10), ام طلحہ (05-11-10), حیدر (29-10-10), حسنین ایوب (29-10-10), راجہ اکرام (30-10-10), رضی (29-10-10), سحر (29-10-10), شمشاد احمد (30-10-10), عبدالقدوس (30-10-10), عبداللہ آدم (12-11-10)
پرانا 29-10-10, 03:20 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,788
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک اور چھکا!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

آپ کی شئیرنگز کا بھی جواب نہیں۔۔۔۔۔
بہت خوب!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (30-10-10), مرزا عامر (30-10-10), حیدر (29-10-10), حسنین ایوب (29-10-10), راجہ اکرام (30-10-10), طاھر (29-10-10)
پرانا 30-10-10, 12:31 AM   #3
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
ایک اور چھکا!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

آپ کی شئیرنگز کا بھی جواب نہیں۔۔۔۔۔
بہت خوب!
شئیرنگ پسند کرنے کا شکریہ
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), فیصل ناصر (30-10-10), مرزا عامر (30-10-10)
پرانا 30-10-10, 12:53 AM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), مرزا عامر (30-10-10), راجہ اکرام (30-10-10), عبداللہ آدم (12-11-10)
پرانا 30-10-10, 01:43 AM   #5
Senior Member
 
مون's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 1,672
کمائي: 14,896
شکریہ: 2,817
894 مراسلہ میں 1,676 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
مون آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مون کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), مرزا عامر (04-11-10)
پرانا 30-10-10, 01:47 AM   #6
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,992
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ کہانی Lateral Thinking کی ایک عمدہ مثال ہے۔

کافی عرصہ ہو گیا ہے میں نے ایک کتاب پڑھی تھی، جسکا اوتھر Edward de bono تھا جو Lateral Thinking کا ماہر تھا۔ اس قسم کی سوچ کیلیے یہ اصطلاح بھی اسی نے بنائی تھی جسے بعد میں آکسفورڈ ڈکشنری میں بھی شامل کیا گیا تھا۔

عام طور پر ہم Linear Thinking کے عادی ہوتے ہیں جو کچھ حالات میں Lateral Thinking کے مقابلے بہت کم موثر ہے۔
__________________
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), مرزا عامر (30-10-10), طاھر (30-10-10), عبدالقدوس (30-10-10)
پرانا 30-10-10, 02:45 AM   #7
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کافی عرصہ قبل کسی کتاب میں ایک واقعہ قصہ نظر سے گذرا طاہر بھائی کی تحریر دیکھ کر یاد ‏آ گیا۔۔۔

قصہ یہ ہے کہ۔
سوئی کی ایجاد کے بعدہاتھ سے کپڑوں کی سلائی کا کام شروع ہو گیا۔۔۔ غالبا صدیوں یہ سلسلہ ‌چلتا رہا۔ یہاں تک کے کپڑے سلائی کی مشین ایجاد کر لی گئی۔۔۔۔ مشین تو ایجاد ہو گئی مگر۔۔۔۔
مسئلہ یہ تھا کہ جن صاحب نے مشین ایجاد کی تھی (ان کا نام اب میں بھول رہا ہوں۔ صاحب کتاب نے نقل کیا تھا ) وہ اس پر پریشان تھے کہ اگر سوئی کی نوک والی طرف کو نیچے کر کے مشین میں لگاتے ہیں۔ تو سوئی میں دھاگہ کیسے لگے گا۔ کیوں کہ سوئی میں دھاگے کا سوارخ تو اوپر کی طرف ہے۔۔۔اور اگر دھاگے والی طرف کو نیچے کر کے لگاتے ہیں تو سلائی کیسے ممکن ہو گی۔۔۔۔
وہ کئی دن سے اسی سو‌چ و بچار میں تھا مگرکوئی حل سمجھ میں نہیں ‏آ رہا تھا۔۔۔ ایک دن وہ اسی سو‌چ میں کہیں نیند کی ‏آغوش میں ‌چلا گیا۔۔۔ اور ایک خواب دیکھا۔۔
خواب میں اس نے دیکھا کہ اس کو بعض جنگلی گرفتار کر کے دور کہیں جنگلوں میں لے گئے ہیں۔
اسے جب خواب میں ہی ہوش ‏آتا ہے تو خود کو جنگلیوں کے رحم و کرم پر پایا۔۔
ان جنگلیوں نے اس کے ہوش میں ‏آنے کے بعد اس کے ہاتھ پاؤں کھول دیے اور اس کے سامنے مشین رکھی اور اس سے مطالبہ کیا کہ اس مشین میں سوئی نہیں لگ رہی اس کو اس طرح لگاؤ کہ اس میں دھاگہ ڈال کر ہم سلائی کر سکیں۔۔۔
وہ یہ دیکھ کر خواب میں پریشان ہو جاتا ہے اور انہیں سمجھانے کی بھر پور کوشش کرتا ہے کہ وہ پہلے ہی اس کام میں تقریبا ناکام ہو‌چکا ہے۔۔۔ لیکن جنگلیوں نے اس کی ایک نہ سنی اور اسے تین دن کا وقت دے کر ‏آ گے اور فیصلہ ہو گیا کہ تین دن میں اس نے کام نہ کیا تو اس کو قتل کر دیا جائے۔

تیسرا دن شروع ہو گیا مگر اس سے کام نہ ہو سکا۔۔ بالاخر اس کے قتل کا فیصلہ ہو گیا۔۔۔ اور جنگلی اسے قتل کرنے اس کے پیچھے دو‎ڑے مگر یہ ایک دم ڈر کر بھاگ جاتا ہے۔۔۔ اور جنگل میں بھاگتے بھاگتے کہیں دور نکل ‏آتا ہے اور جنگلی مسلسل اس کے تعاقب میں ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس کے قریب ‏آ جاتے ہیں۔ حتی کہ بہت قریب ہو جاتے ہیں۔۔۔ اتنے قریب کہ وہ اس کو ‏آرام سے پشت کی طرف سے نیزہ مار کر قتل کر سکتے ہیں۔۔۔ اسی خوف کے عالم میں وہ دو‎ڑتے دو‎ڑتے ایک دم پیچھے مڑ کر ان جنگلیوں کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہے تا کہ جان سکے کہ وہ اس سے کتنے فاصلے پر ہیں۔۔۔ تو کیا دیکھتا ہے کہ تین ‌چار جنگلی نیزے تانے اس کی گردن کے قریب ہی پہنچ ‌چکے ہوتے ہیں اور نیزہ بلند کر کے اس کو مارنے ہی والے ہوتے ہیں کہ اس کی نظر ان جنگلیوں کے نیزے کی انیوں پر جاتی ہے۔۔ جن پر نوک کی طرف سوراخ ہوا ہوتا ہے۔۔۔۔
اسی گھبراہٹ میں اس کی ‏آنکھ کھل جاتی ہے۔۔۔ اور پسینہ سے شرا بور ہوتا ہے۔۔۔ اور ہواس کو قابو میں لاتا ہے تو پتہ ‌چلتا ہے کہ یہ تو خواب تھا۔۔۔۔ لیکن ایک دم خوشی سے ا‌چھل پڑتا ہے کہ اس کو اس خواب میں اپنے مسئلہ کا حل مل جاتاہے۔۔۔
‌چنانچے وہ سو‌چتا ہے کہ سوئی کی ایک طرف دھاگہ اور دوسری طرف نوک ہونا۔۔۔ یہ ہمارے معاشرے میں صدیوں پرانا طریقہ ‌چلا ‏آ رہا ہے۔۔۔۔ لیکن کیا یہی طریقہ حرف ‏آخر ہے۔۔۔ جنگلیوں کے نیزوں کی انیوں کی طرح سوئی کی نوک کی سمت ہی سوراخ کر کے دھاگہ ڈال دیا جائے تو سوئی مشین میں ایک طرف سے فٹ ہو جائے گی۔۔۔۔ اور دوسری طرف سے سلائی ہو جائے گی۔۔۔۔
‌چنانچہ اس نے اسی طرح سوئی بنائی اور اپنی بنائی ہوئی مشین میں فٹ کر دی۔۔۔ جو ‏آج تک سلائی مشینوں میں فٹ ‌چلی ‏آ رہی ہے۔۔۔۔

سوال یہ ہے کہ اس کو یہ بات پہلے کیوں سمجھ میں نہیں ‏آئی تھی۔۔۔۔۔ بات واضح ہے۔۔۔ کیوں کہ صدیوں معاشرہ سوئی کو اسی طرح دیکھتا ‏آیا تھا کہ اس کے ایک طرف دھاگہ دوسرے طرف سلاکی کی نوک ہوتی ہے۔۔۔ اس لئے معاشرے کی اس سو‌چ سے ہٹ کر اس نے کبھی سو‌چا ہی نہیں اس لئے کامیابی بھی نہیں ملی۔۔۔ اور جب معاشرے کی سو‌چ سے ہٹ کر سو‌چا تو وہ اپنی ایجاد میں کامیاب ہو گیا۔۔۔۔

اس لئے ضروری نہیں کہ ہمارا ایک ‌چیز کو جس طرح دیکھتا ہے ہر شخص اس کو اسی طرح دیکھے۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), مرزا عامر (30-10-10), wajee (06-11-10), حیدر (30-10-10), حسنین ایوب (30-10-10), راجہ اکرام (30-10-10), رضی (30-10-10), عبداللہ آدم (12-11-10)
پرانا 30-10-10, 02:52 AM   #8
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
کیوں کہ صدیوں معاشرہ سوئی کو اسی طرح دیکھتا ‏آیا تھا کہ اس کے ایک طرف دھاگہ دوسرے طرف سلائی کی نوک ہوتی ہے۔۔۔ اس لئے معاشرے کی اس سو‌چ سے ہٹ کر اس نے کبھی سو‌چا ہی نہیں اس لئے کامیابی بھی نہیں ملی۔۔۔ اور جب معاشرے کی سو‌چ سے ہٹ کر سو‌چا تو وہ اپنی ایجاد میں کامیاب ہو گیا۔۔۔۔
کیا آپ اس بات سے متفق ہیں ؟؟
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), مرزا عامر (30-10-10), حیدر (30-10-10), راجہ اکرام (30-10-10)
پرانا 30-10-10, 02:59 AM   #9
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,992
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
کیا آپ اس بات سے متفق ہیں ؟؟
متفق کیوں نہیں؟
میرا خیال ہے انکے لیے معاشرے والے وہ لوگ ہیں جو ان کی طرح سوچتے نہیں!
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), مرزا عامر (30-10-10), حیدر (30-10-10), عبدالقدوس (30-10-10)
پرانا 30-10-10, 03:12 AM   #10
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
کیا آپ اس بات سے متفق ہیں ؟؟
بات سے تو متفق ہوں۔۔۔ لیکن اس پر بہر حال اختلاف کا حق رکھتا ہوں۔۔ کہ معاشرے سے ہٹ کر ہر سو‌چ ہی مقبول ہو گی۔۔۔۔

یعنی کہ

معاشرہ سے ہٹ کر ‌سو‌چنا ‌چاہے۔۔۔۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ معاشرے سے ہٹی ہوئی ہر سو‌چ درست ہو۔

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ میں یا میرا معاشرہ کیا سو‌چتا ہے ۔۔۔۔بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے حضرات یہ ‌چاہتے ہیں جو وہ سو‌چتے ہیں۔۔۔ وہی دوسرے بھی سو‌چیں۔۔۔۔۔ این خیال است و محال است و جنوں
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), مرزا عامر (30-10-10)
پرانا 30-10-10, 03:21 AM   #11
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ معاشرے سے ہٹی ہوئی ہر سو‌چ درست ہو۔
اور یہ بھی ضروری نہیں کے معاشرے سے ہٹی ہوئی ہوئی ہر سوچ غلط ہو

لیکن معاشرے سے ہٹ کر سوچنا غلط نہیں ہے
کیا خیال ہے ؟
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), مرزا عامر (30-10-10), حیدر (30-10-10), عبدالقدوس (30-10-10)
پرانا 30-10-10, 03:46 AM   #12
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
اور یہ بھی ضروری نہیں کے معاشرے سے ہٹی ہوئی ہوئی ہر سوچ غلط ہو

لیکن معاشرے سے ہٹ کر سوچنا غلط نہیں ہے
کیا خیال ہے ؟
جی معاشرن سے ہٹ کر سو‌چنا غلط نہیں۔۔۔۔ مگر معاشرے سے ہٹ کر قائم کی ہوئے سو‌چ کو معاشرے کے لئے مشین کی سوئی کی طرح درست اور مفید ثابت کرنا بہر حال ضروری ہے۔۔۔۔ ورنہ ‌چاہے ‏آپ کی سو‌چ درست ہو۔۔۔ لیکن ‏آپ اگر اسے درست ثابت نہیں کر پائے تو اس سو‌چ کا معاشرے کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔۔۔۔
اور ہاں۔۔۔۔ یہ معاشرے سے ہٹ کر سو‌چنا کوئی بھینس ‌چرانے والا معاملہ نہیں کہ معاشرے کی ہر سو‌چ اور ہر مسلمہ اقدار کے خلاف ‏آپ کی کھوپڑی ‌چلنا شروع ہو جائے۔۔۔۔ حدود و قیود بہر حال ہر جگہ ہر وقت لازم و ملزوم ہیں۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), مرزا عامر (30-10-10), شاہ جی 90 (30-10-10), عبداللہ آدم (12-11-10)
پرانا 30-10-10, 01:43 PM   #13
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم،

شمشاد بھائی کا شکریہ ایک او رسبق شئیر کرنے کا۔

اقتباس:

سوال یہ ہے کہ اس کو یہ بات پہلے کیوں سمجھ میں نہیں ‏آئی تھی۔۔۔۔۔ بات واضح ہے۔۔۔ کیوں کہ صدیوں معاشرہ سوئی کو اسی طرح دیکھتا ‏آیا تھا کہ اس کے ایک طرف دھاگہ دوسرے طرف سلاکی کی نوک ہوتی ہے۔۔۔ اس لئے معاشرے کی اس سو‌چ سے ہٹ کر اس نے کبھی سو‌چا ہی نہیں اس لئے کامیابی بھی نہیں ملی۔۔۔ اور جب معاشرے کی سو‌چ سے ہٹ کر سو‌چا تو وہ اپنی ایجاد میں کامیاب ہو گیا
معاشرے سے ہٹ‌کرسوچنے پر ایک اور کہانی سنیں۔۔۔۔۔

ایک ماں کچن میں کھانا پکانے کی تیاری کر رہی تھی۔ اسے آج مچھلی پکانی تھی۔ اس کی چھوٹی بیٹی کچن میں‌ رکھے میز پر بیٹھی اپنی ماں‌کو کھانا پکاتے دیکہ رہی تھی۔

ماں‌نے بیٹی سے کہا کہ آج ہم مچھلی بیک کریں گے۔

مچھلی کا پیٹ صاف کرکے ماں‌نے اس کا سراور دم کاٹ دی اور اسے بیک کرنے والے ٹرے میں رکھہ کر مصالحے لگانے لگی۔ بچی کو سر اور دم کے بغیر مچھلی کچھ عجیب سی لگی۔ اس نے ماں سے پوچھا ماں‌تم نے اس کا سر اور دم کیوں کاٹی ہے؟ ماں‌نے کہا کہ مجھے نہیں‌معلوم میری ماں مچھلی ایسے ہی بناتی ہے۔ تم اپنی نانی سے جاکرپوچھ لو۔

بچی نانی کے پاس گئی اور ان سے پوچھا نانی نانی، مچھلی پکاتے ہوئے ماں نے مچھلی کا دم اور سر کاٹ دیا، ایسا کیوں کرتے ہیں؟ نانی نے کہا ہمم یہ تو مجھے بھی نہیں معلوم، میری ماں‌اور تمہاری ماں کی نانی نے مجھے یہ سکھایا تھا۔ تم اس سے جاکرپوچھ لو۔

کچھ دنوں بعد بچی کا اپنی پرنانی کے گھر جانے کا اتفاق ہوا تو اس نے ان سے بھی یہی سوال پوچھا کہ ثابت مچھلی بیک کرتے ہوئے اس کا سر اور دم کیوں کاٹ دیتے ہیں؟ نانی کہتی ہیں کہ آپ نے انہیں ایسا سکھایا - کیوں؟

پرنانی نے جواب دیا -- دراصل میرے پاس بیک کرنے والی ٹرے چھوٹی ہوتی تھی - جس میں ثابت مچھلی نہیں آسکتی تھی تو میں‌اسے ٹرے میں فٹ‌کرنے کے لیئے سر اور دم کاٹ دیتی تھی

دنیا میں جو ہورہا ہے اور جیسا ہورہاہے اسی پر عمل کرنا ایک ٹرینڈ ہے۔ لوگ اس کو کہتے ہیں کہ ہمیں‌دوبارہ پہیہ ایجاد کرنے کی ضرورت کیا ہے، دوسروں‌کے تجربات سے فائدہ اٹھاؤ ۔

لیکن بعض‌اوقات عام روش سے ہٹ کر سوچنا فائدہ مند ہوتا ہے۔

والسلام

طاہر
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), فیصل ناصر (30-10-10), منتظمین (30-10-10), مرزا عامر (30-10-10), حیدر (30-10-10), شمشاد احمد (30-10-10), عبدالقدوس (30-10-10), عبداللہ آدم (12-11-10)
پرانا 30-10-10, 03:09 PM   #14
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

"Beliefs that survive aren't necessarily true, rules that survive aren't necessarily fair and rituals that survive aren't necessarily necessary. Things that survive do so because they are good at surviving, like viruses
."
Edip Yuksel
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), فیصل ناصر (30-10-10), منتظمین (30-10-10), حیدر (30-10-10), رضی (30-10-10), طاھر (30-10-10)
پرانا 30-10-10, 04:36 PM   #15
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
سوال یہ ہے کہ اس کو یہ بات پہلے کیوں سمجھ میں نہیں ‏آئی تھی۔۔۔۔۔ بات واضح ہے۔۔۔ کیوں کہ صدیوں معاشرہ سوئی کو اسی طرح دیکھتا ‏آیا تھا کہ اس کے ایک طرف دھاگہ دوسرے طرف سلاکی کی نوک ہوتی ہے۔۔۔ اس لئے معاشرے کی اس سو‌چ سے ہٹ کر اس نے کبھی سو‌چا ہی نہیں اس لئے کامیابی بھی نہیں ملی۔۔۔ اور جب معاشرے کی سو‌چ سے ہٹ کر سو‌چا تو وہ اپنی ایجاد میں کامیاب ہو گیا۔۔۔۔

اس لئے ضروری نہیں کہ ہمارا ایک ‌چیز کو جس طرح دیکھتا ہے ہر شخص اس کو اسی طرح دیکھے۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
کیا آپ اس بات سے متفق ہیں ؟؟
چچا بھائی ۔ ۔ ۔ آپ بڑی چیز ہو۔ مینوں ہُن پتا لگیا
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), فیصل ناصر (30-10-10), مرزا عامر (04-11-10), طاھر (30-10-10), عبداللہ آدم (12-11-10)
جواب

Tags
blog, color, com, images, ہے،, کہانی, کھانے, کرتے, پولیس, واقعے, وضاحت, قائم, لیئے, آدمی, انتظامیہ, انسان, از, جواب, جلد, زندگی, غور, غلط, صورتحال, صلاحیتوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مسلم لیگ ہم خیال کا پیپلزپارٹی کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ گلاب خان خبریں 0 17-12-10 06:30 AM
انٹرنیٹ کی سہولت کے ساتھ ٹی وی فروخت کے لیے پیش محمدعمر خبریں 3 10-12-09 09:33 PM
جج بحال نہ ہوئے تو پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کا جواز نہیں رہتا،ن لیگ لاہور عبدالقدوس خبریں 0 22-06-08 08:42 PM
افغان سرحد پربہترسیکورٹی کیلئے پاکستان کیساتھ کام کررہے ہیں،امریکا عبدالقدوس خبریں 0 16-12-07 08:55 AM
بے نظیرنے پارٹی رہنماؤں کو حکومت کے ساتھ مذاکرات سے روک دیا عبدالقدوس خبریں 0 09-12-07 02:34 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:01 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger