| کیرئر کی راہنمائی آجکل لاکھوں کی تعداد میں نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مگر تعلیم کے اختتام پر بہت کم اچھی نوکریاں حاصل کر پاتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی مدد اور راہنمائی کے لیے... |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
یہ چھوٹی سی کہانی یک طرفہ سوچ، مفروضوں اور لوگوں کے متعلق غلط رائے قائم کرنے کی چھوٹی چھوٹی مگر اہم غلطیوںکی نشاندہی کرتی ہے۔ کہانی کچھ یوںہے کہ دماغی امراضکے ادارے کی انتظامیہ نے ادویات اور دوسرا سامان مہیا کرنے والے کچھ اداروں کے مینیجرز کواپنے ہاں مدعو کیا۔ اسپتال کا دورہ کروایا جارہا تھا کہ ایک بڑی کمپنی کے مینیجر نے مریضوں کے متعلق حقیر الفاظ میں رائے زنی کی۔ دورے کے آخر میں ان تمام افراد کو ادارے کی کینٹین میں دوسرے اسٹاف سے ملوایا گیا، جہاں چائے اور کھانے کا انتظام تھا۔ چائے پیتے ہوئے اسی بداخلاق مینیجر نے سیکیورٹی افسر، جو کہ ایک ریٹائرڈ پولیس والا تھا، سے مریضوں کے متعلق انتہائی حقارت سےدریافت کیا، کیا سارے ہذیان بکنے والے خبطی اِدھر ہی جمع ہیں؟ سیکیورٹی افسر نے کہا، نہیں یہاں صرف وہ ہیں جو ہمارے ٹیسٹ میں فیل ہوجاتے ہیں۔ کیسا ٹیسٹہوتا ہے آپ کا، مینیجر نے پوچھا جی، ہم انہیں ایک بھرا ہوا باتھ ٹب دکھاتے ہیں اور اس کے علاوہ ایک بالٹی، ایک چھوٹا جگ اور ایک چائے کا کپ دیتے ہیں۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ بتائیں باتھ ٹب کو جلد از جلد خالی کیسے کیا جاسکتا ہے؟ سیکیورٹی افسر نے ٹیسٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ اوہو، یہ تو بہت آسان ہے۔ مینیجر نے لاپروائی سے کہا۔ کسی بھی عام اور نارمل انسان کے لیئے اس کا جواب بالٹی ہے، کیوںٹھیک نا؟ دراصل ایسا نہیں ہے، سیکیورٹی افسر نے جواب دیا۔ نارمل آدمی کہتے ہیں کہ اس کا پلگ نکال دو ![]() ![]() اس واقعے یا کہانی کا اہم ترین سبق "یک طرفہ سوچ" lateral thinking ہے۔ کسی بھی صورتحال کو آسان سمجھ کر، تفصیلات پر غور کیئے بغیر، یک طرفہ سوچ اسی قسم کی شرمندگی کا باعثبن سکتی ہے۔ اور ہاں دوسروں کی صلاحیتوں کو اپنے سے حقیر جاننا بھی آپ کی پروفیشنل زندگی میں آپ کے لیئے مصیبتوں کا باعث بن سکتی ہے۔ والسلام طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|
| 18 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (29-10-10), فیصل ناصر (30-10-10), ھارون اعظم (05-11-10), ننھا بچہ (19-03-11), ناصحی (30-10-10), محمدخلیل (30-10-10), مرزا عامر (30-10-10), مزمل فاروق (30-10-10), wajee (06-11-10), ام طلحہ (05-11-10), حیدر (29-10-10), حسنین ایوب (29-10-10), راجہ اکرام (30-10-10), رضی (29-10-10), سحر (29-10-10), شمشاد احمد (30-10-10), عبدالقدوس (30-10-10), عبداللہ آدم (12-11-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
ایک اور چھکا!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
آپ کی شئیرنگز کا بھی جواب نہیں۔۔۔۔۔ بہت خوب!
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (30-10-10), مرزا عامر (30-10-10), حیدر (29-10-10), حسنین ایوب (29-10-10), راجہ اکرام (30-10-10), طاھر (29-10-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,992
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ کہانی Lateral Thinking کی ایک عمدہ مثال ہے۔
کافی عرصہ ہو گیا ہے میں نے ایک کتاب پڑھی تھی، جسکا اوتھر Edward de bono تھا جو Lateral Thinking کا ماہر تھا۔ اس قسم کی سوچ کیلیے یہ اصطلاح بھی اسی نے بنائی تھی جسے بعد میں آکسفورڈ ڈکشنری میں بھی شامل کیا گیا تھا۔ عام طور پر ہم Linear Thinking کے عادی ہوتے ہیں جو کچھ حالات میں Lateral Thinking کے مقابلے بہت کم موثر ہے۔
__________________
![]() |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کافی عرصہ قبل کسی کتاب میں ایک واقعہ قصہ نظر سے گذرا طاہر بھائی کی تحریر دیکھ کر یاد آ گیا۔۔۔
قصہ یہ ہے کہ۔ سوئی کی ایجاد کے بعدہاتھ سے کپڑوں کی سلائی کا کام شروع ہو گیا۔۔۔ غالبا صدیوں یہ سلسلہ چلتا رہا۔ یہاں تک کے کپڑے سلائی کی مشین ایجاد کر لی گئی۔۔۔۔ مشین تو ایجاد ہو گئی مگر۔۔۔۔ مسئلہ یہ تھا کہ جن صاحب نے مشین ایجاد کی تھی (ان کا نام اب میں بھول رہا ہوں۔ صاحب کتاب نے نقل کیا تھا ) وہ اس پر پریشان تھے کہ اگر سوئی کی نوک والی طرف کو نیچے کر کے مشین میں لگاتے ہیں۔ تو سوئی میں دھاگہ کیسے لگے گا۔ کیوں کہ سوئی میں دھاگے کا سوارخ تو اوپر کی طرف ہے۔۔۔اور اگر دھاگے والی طرف کو نیچے کر کے لگاتے ہیں تو سلائی کیسے ممکن ہو گی۔۔۔۔ وہ کئی دن سے اسی سوچ و بچار میں تھا مگرکوئی حل سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔۔۔ ایک دن وہ اسی سوچ میں کہیں نیند کی آغوش میں چلا گیا۔۔۔ اور ایک خواب دیکھا۔۔ خواب میں اس نے دیکھا کہ اس کو بعض جنگلی گرفتار کر کے دور کہیں جنگلوں میں لے گئے ہیں۔ اسے جب خواب میں ہی ہوش آتا ہے تو خود کو جنگلیوں کے رحم و کرم پر پایا۔۔ ان جنگلیوں نے اس کے ہوش میں آنے کے بعد اس کے ہاتھ پاؤں کھول دیے اور اس کے سامنے مشین رکھی اور اس سے مطالبہ کیا کہ اس مشین میں سوئی نہیں لگ رہی اس کو اس طرح لگاؤ کہ اس میں دھاگہ ڈال کر ہم سلائی کر سکیں۔۔۔ وہ یہ دیکھ کر خواب میں پریشان ہو جاتا ہے اور انہیں سمجھانے کی بھر پور کوشش کرتا ہے کہ وہ پہلے ہی اس کام میں تقریبا ناکام ہوچکا ہے۔۔۔ لیکن جنگلیوں نے اس کی ایک نہ سنی اور اسے تین دن کا وقت دے کر آ گے اور فیصلہ ہو گیا کہ تین دن میں اس نے کام نہ کیا تو اس کو قتل کر دیا جائے۔ تیسرا دن شروع ہو گیا مگر اس سے کام نہ ہو سکا۔۔ بالاخر اس کے قتل کا فیصلہ ہو گیا۔۔۔ اور جنگلی اسے قتل کرنے اس کے پیچھے دوڑے مگر یہ ایک دم ڈر کر بھاگ جاتا ہے۔۔۔ اور جنگل میں بھاگتے بھاگتے کہیں دور نکل آتا ہے اور جنگلی مسلسل اس کے تعاقب میں ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس کے قریب آ جاتے ہیں۔ حتی کہ بہت قریب ہو جاتے ہیں۔۔۔ اتنے قریب کہ وہ اس کو آرام سے پشت کی طرف سے نیزہ مار کر قتل کر سکتے ہیں۔۔۔ اسی خوف کے عالم میں وہ دوڑتے دوڑتے ایک دم پیچھے مڑ کر ان جنگلیوں کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہے تا کہ جان سکے کہ وہ اس سے کتنے فاصلے پر ہیں۔۔۔ تو کیا دیکھتا ہے کہ تین چار جنگلی نیزے تانے اس کی گردن کے قریب ہی پہنچ چکے ہوتے ہیں اور نیزہ بلند کر کے اس کو مارنے ہی والے ہوتے ہیں کہ اس کی نظر ان جنگلیوں کے نیزے کی انیوں پر جاتی ہے۔۔ جن پر نوک کی طرف سوراخ ہوا ہوتا ہے۔۔۔۔ اسی گھبراہٹ میں اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔۔۔ اور پسینہ سے شرا بور ہوتا ہے۔۔۔ اور ہواس کو قابو میں لاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ تو خواب تھا۔۔۔۔ لیکن ایک دم خوشی سے اچھل پڑتا ہے کہ اس کو اس خواب میں اپنے مسئلہ کا حل مل جاتاہے۔۔۔ چنانچے وہ سوچتا ہے کہ سوئی کی ایک طرف دھاگہ اور دوسری طرف نوک ہونا۔۔۔ یہ ہمارے معاشرے میں صدیوں پرانا طریقہ چلا آ رہا ہے۔۔۔۔ لیکن کیا یہی طریقہ حرف آخر ہے۔۔۔ جنگلیوں کے نیزوں کی انیوں کی طرح سوئی کی نوک کی سمت ہی سوراخ کر کے دھاگہ ڈال دیا جائے تو سوئی مشین میں ایک طرف سے فٹ ہو جائے گی۔۔۔۔ اور دوسری طرف سے سلائی ہو جائے گی۔۔۔۔ چنانچہ اس نے اسی طرح سوئی بنائی اور اپنی بنائی ہوئی مشین میں فٹ کر دی۔۔۔ جو آج تک سلائی مشینوں میں فٹ چلی آ رہی ہے۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ اس کو یہ بات پہلے کیوں سمجھ میں نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔ بات واضح ہے۔۔۔ کیوں کہ صدیوں معاشرہ سوئی کو اسی طرح دیکھتا آیا تھا کہ اس کے ایک طرف دھاگہ دوسرے طرف سلاکی کی نوک ہوتی ہے۔۔۔ اس لئے معاشرے کی اس سوچ سے ہٹ کر اس نے کبھی سوچا ہی نہیں اس لئے کامیابی بھی نہیں ملی۔۔۔ اور جب معاشرے کی سوچ سے ہٹ کر سوچا تو وہ اپنی ایجاد میں کامیاب ہو گیا۔۔۔۔ اس لئے ضروری نہیں کہ ہمارا ایک چیز کو جس طرح دیکھتا ہے ہر شخص اس کو اسی طرح دیکھے۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | shafresha (31-10-10), مرزا عامر (30-10-10), wajee (06-11-10), حیدر (30-10-10), حسنین ایوب (30-10-10), راجہ اکرام (30-10-10), رضی (30-10-10), عبداللہ آدم (12-11-10) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,992
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بات سے تو متفق ہوں۔۔۔ لیکن اس پر بہر حال اختلاف کا حق رکھتا ہوں۔۔ کہ معاشرے سے ہٹ کر ہر سوچ ہی مقبول ہو گی۔۔۔۔
یعنی کہ معاشرہ سے ہٹ کر سوچنا چاہے۔۔۔۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ معاشرے سے ہٹی ہوئی ہر سوچ درست ہو۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ میں یا میرا معاشرہ کیا سوچتا ہے ۔۔۔۔بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے حضرات یہ چاہتے ہیں جو وہ سوچتے ہیں۔۔۔ وہی دوسرے بھی سوچیں۔۔۔۔۔ این خیال است و محال است و جنوں |
|
|
|
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
لیکن معاشرے سے ہٹ کر سوچنا غلط نہیں ہے کیا خیال ہے ؟
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور ہاں۔۔۔۔ یہ معاشرے سے ہٹ کر سوچنا کوئی بھینس چرانے والا معاملہ نہیں کہ معاشرے کی ہر سوچ اور ہر مسلمہ اقدار کے خلاف آپ کی کھوپڑی چلنا شروع ہو جائے۔۔۔۔ حدود و قیود بہر حال ہر جگہ ہر وقت لازم و ملزوم ہیں۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
شمشاد بھائی کا شکریہ ایک او رسبق شئیر کرنے کا۔ اقتباس:
ایک ماں کچن میں کھانا پکانے کی تیاری کر رہی تھی۔ اسے آج مچھلی پکانی تھی۔ اس کی چھوٹی بیٹی کچن میں رکھے میز پر بیٹھی اپنی ماںکو کھانا پکاتے دیکہ رہی تھی۔ ماںنے بیٹی سے کہا کہ آج ہم مچھلی بیک کریں گے۔ مچھلی کا پیٹ صاف کرکے ماںنے اس کا سراور دم کاٹ دی اور اسے بیک کرنے والے ٹرے میں رکھہ کر مصالحے لگانے لگی۔ بچی کو سر اور دم کے بغیر مچھلی کچھ عجیب سی لگی۔ اس نے ماں سے پوچھا ماںتم نے اس کا سر اور دم کیوں کاٹی ہے؟ ماںنے کہا کہ مجھے نہیںمعلوم میری ماں مچھلی ایسے ہی بناتی ہے۔ تم اپنی نانی سے جاکرپوچھ لو۔ بچی نانی کے پاس گئی اور ان سے پوچھا نانی نانی، مچھلی پکاتے ہوئے ماں نے مچھلی کا دم اور سر کاٹ دیا، ایسا کیوں کرتے ہیں؟ نانی نے کہا ہمم یہ تو مجھے بھی نہیں معلوم، میری ماںاور تمہاری ماں کی نانی نے مجھے یہ سکھایا تھا۔ تم اس سے جاکرپوچھ لو۔ کچھ دنوں بعد بچی کا اپنی پرنانی کے گھر جانے کا اتفاق ہوا تو اس نے ان سے بھی یہی سوال پوچھا کہ ثابت مچھلی بیک کرتے ہوئے اس کا سر اور دم کیوں کاٹ دیتے ہیں؟ نانی کہتی ہیں کہ آپ نے انہیں ایسا سکھایا - کیوں؟ پرنانی نے جواب دیا -- دراصل میرے پاس بیک کرنے والی ٹرے چھوٹی ہوتی تھی - جس میں ثابت مچھلی نہیں آسکتی تھی تو میںاسے ٹرے میں فٹکرنے کے لیئے سر اور دم کاٹ دیتی تھی ![]() دنیا میں جو ہورہا ہے اور جیسا ہورہاہے اسی پر عمل کرنا ایک ٹرینڈ ہے۔ لوگ اس کو کہتے ہیں کہ ہمیںدوبارہ پہیہ ایجاد کرنے کی ضرورت کیا ہے، دوسروںکے تجربات سے فائدہ اٹھاؤ ۔ لیکن بعضاوقات عام روش سے ہٹ کر سوچنا فائدہ مند ہوتا ہے۔ والسلام طاہر |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (31-10-10), فیصل ناصر (30-10-10), منتظمین (30-10-10), مرزا عامر (30-10-10), حیدر (30-10-10), شمشاد احمد (30-10-10), عبدالقدوس (30-10-10), عبداللہ آدم (12-11-10) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
"Beliefs that survive aren't necessarily true, rules that survive aren't necessarily fair and rituals that survive aren't necessarily necessary. Things that survive do so because they are good at surviving, like viruses ."Edip Yuksel
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
|
#15 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (31-10-10), فیصل ناصر (30-10-10), مرزا عامر (04-11-10), طاھر (30-10-10), عبداللہ آدم (12-11-10) |
![]() |
| Tags |
| blog, color, com, images, ہے،, کہانی, کھانے, کرتے, پولیس, واقعے, وضاحت, قائم, لیئے, آدمی, انتظامیہ, انسان, از, جواب, جلد, زندگی, غور, غلط, صورتحال, صلاحیتوں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| مسلم لیگ ہم خیال کا پیپلزپارٹی کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ | گلاب خان | خبریں | 0 | 17-12-10 06:30 AM |
| انٹرنیٹ کی سہولت کے ساتھ ٹی وی فروخت کے لیے پیش | محمدعمر | خبریں | 3 | 10-12-09 09:33 PM |
| جج بحال نہ ہوئے تو پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کا جواز نہیں رہتا،ن لیگ لاہور | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 22-06-08 08:42 PM |
| افغان سرحد پربہترسیکورٹی کیلئے پاکستان کیساتھ کام کررہے ہیں،امریکا | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 16-12-07 08:55 AM |
| بے نظیرنے پارٹی رہنماؤں کو حکومت کے ساتھ مذاکرات سے روک دیا | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 09-12-07 02:34 PM |