| کیرئر کی راہنمائی آجکل لاکھوں کی تعداد میں نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مگر تعلیم کے اختتام پر بہت کم اچھی نوکریاں حاصل کر پاتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی مدد اور راہنمائی کے لیے... |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
میں اور میری بیوی اپنے ایک دوست کے گھر اس سے ملنے گئے۔ اتنے میں اس کی نو سالہ بیٹی ڈینا اندر آئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے جنہیں وہ بڑی مشکل سے روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ میرے دوست کی بیوی نے ڈینا سے پوچھا - کیا ہوا بیٹی، تمہارے تیراکی کے مقابلے کا کیا بنا؟ ڈینا ایک بہتریں تیراک تھی اور اس عمر میں وہ کئی انٹر اسکول مقابلے جیت چکی تھی۔ اسکول ٹیم میں اس کا بڑا نام تھا۔ تیراکی کے ساتھ ساتھ پڑھائی میں بھی وہ بہت محنت کرتی تھی اورایکسٹرا کلاسس لے کر ہمیشہ کلاس کے ساتھ ساتھ رہنے کی کوشش کیا کرتی تھی۔ مجھے مقابلے میں نااہل قرار دے دیا گیا - آنسوؤں بھرے لہجے میں اس نے ماں کو جواب دیا۔ اس نے تیراکی کی ریس اچھی طرح کی، لیکن شروع میں وہ سیٹی سے پہلے ہی کودنے پر اسے مقابلے کا فاتح قرار نہیں دیا گیا بلکہ نااہل قرار دے دیا گیا۔ ارے بیٹا ! ایسی بھی کیا بات ہوئی، ایک مقابلہ نہیں ابھی تو اور بھی مقابلے آنے ہیں تمہارے زندگی میں۔ تمہارے پاس ابھی جیتنے کے بہت مواقع ہیں۔ ڈینا کے باپ نے اس کی ہمت بندھاتے کہا۔ اگر تم وقت سے کچھ پہلے ہی پول میں کود گئی تھیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تم ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ یہ ایک مثبت انسانی جبلت ہے۔ تم نے ٹائمنگ کا غلط اندازہ لگایا لیکن کوئی بات نہیں۔ تم جتنی پریکٹس کرو گی اس کو ٹھیک کر لوگی۔ میں نے بھی اپنا حصہ ڈالتے ہوئے کہا۔ یہ کھیل کا حصہ ہے، ہر تیراک کبھی نہ کبھی، اپنے کیرئیر کے کسی حصے میں کہیں نہ کہیں نااہل ضرور قرار پاتاہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ تمہارا کوچ تمہیں اس ٹائمنگ والے مسئلہ میں کافی مدد کرے گا اور تمہیں بالکل درست اندازہ ہو جائے گا کہ کب تم نے پول میں چھلانگ لگانی ہے۔ ڈینا کی ماں نے کہا۔ ہم سب کی باتوں اور اس کے چہرے کے تاثرات سے ہمیں یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ اس پر یہ باتیں کوئی اثر نہیں کر رہی ہیں۔ وہ ایک بے تاثر سا چہرہ اور نم آنکھیں لیئے سیڑھیوں پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اتنے میں اس کی دادی کمرے میں داخل ہوئیں۔ ہمیں چھوڑ کر وہ ڈینا کے ساتھ جا کر سیڑھیوں پر بیٹھ گئیں اور اپنے بازؤں میں اس پیار سے جکڑ لیا۔ ڈینا نے بھی اپنا سر دادی کے کاندھے سے لگا لیا۔ کچھ لمحوں بعد دادی گویا ہوئیں۔ ڈینا، مجھے معلوم ہے کہ تم نے اس مقابلے کے لیئے کتنی محنت کی تھی۔ ایمانداری کی بات ہے کہ اس قسم کی نااہلیت یا ہار بہت افسوسناک ہے۔ یہ الفاظ سن کر ڈینا نے زاروقطار رونا شروع کر دیا اور دادی کے کندھے سے لگ کر آنسو بہانے شروع کردیئے۔ کئی منٹ تک دونوں اسی طرح ایک دوسرے سے چمٹے رہے۔ آخر کار کچھ دیر بعد ڈینا نے اپنے آنسو پوچھے، دادی سے الگ ہوئی اور کہا "بہت شکریہ دادی جان"۔ دادی کی علاوہ ہم سب نے وہ بات ہی نہیں سوچی جو ڈینا چاہتی تھی۔ ہم سب اسے ہار کے فوائد بتلا کر اس کو اچھا محسوس کرنے میں لگے ہوئے تھے، یہ سمجھانا چاہ رہے تھے کہ اس ہار سے وہ کوئی سبق حاصل کرے جو آگے اس کے کام آئے، اور اسے ترغیب دےرہے تھے کہ وہ مزید محنت کر کے دوبارہ ایسا ہونے سے بچ سکتی ہے۔ لیکن اسے ان سب چیزوں کی ضرورت نہیں تھی۔ اسے خود بھی معلوم تھا کہ وہ کیا غلطی کر کے نااہل قرار پائی ہے، اس صورتحال سے بچنے کے لیئے وہ کیا کرسکتی ہے، اگر اسے معلوم بھی نہیں تھا تو شاید کل اسے اس کا پتا چل ہی جاتا۔ اسے جس چیز کی ضرورت بھی وہ چیز کبھی بھی وہ اپنے آپ کو نہیں دے سکتی تھی - وہ چیز اسے دادی نے دی۔ جی ہاں ہمدردی۔ اسے اس چیز کی ضرورت تھی کہ اس ناکامی کے لمحات میں کوئی اس کے ساتھ ہے۔ سب اس سے محبت کرتے ہیں اور اس ناکامی نے لوگوں کی محبت نہیں چھینی ہے۔ اسے یہ جاننے کی ضرورت تھی کہ ہم سب اس کے احساسات جانتے ہیں اور ہمیں اس بات پر بھروسہ ہے کہ وہ اپنی ان چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو ختم کر سکتی ہے۔ میں چاہتاہوں کہ مینیجر، ٹیم لیڈر، ٹیم ممبران سب اس کہانی کو غور سے پڑہیں۔ کسی بھی ناکامی کے لمحوں میں ہمدردانہ رویہ نہ صرف سب سے بہتر ہوتا ہے بلکہ سب سے زیادہ بارآور بھی ہے۔ ہمدردی اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔ اور لوگ اسی وقت بہترین نتائج دیتے ہیں جب ان پر اعتماد کیا جائے۔ جب میں آپ کی ناکامی کے موقع پر آپ کے ساتھ بیٹھتا ہوں اس چیز کے بغیر کہ کسی چیز کو کیسے تبدیل کیا جائے، میں دراصل آپ کو یہ پیغام پہنچا رہا ہوتا ہوں کہ مجھے آپ سے کوئی مسئلہ نہیں، چاہے آپ کی پرفارمنس خراب ہی کیوں نہ ہو۔ ہم میں سے اکثر لوگ اس قسم کی رویہ کو مس کرتے ہیں۔ جب کوئی ناکام ہوجاتا ہے تو ہم انہیں قصوروار ٹہراتے ہیں۔ کہہ لیں کہ ہم انہیں اپنے آپ کو بدترین سمجھنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ ہمارے احساسات بالکل درست ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ انسان بہتر محسوس کرے، غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کرے، اور دوبارہ غلطیوں سے بچے۔ کیونکہ ہم اپنی کمپنی، اپنی ٹیم اور اپنے محکمہ کوکسی بھی قسم کی غلطیوں سے بچانا چاہتے ہیں۔ سیکھنے کی بات ہےکہ مستقبل کی ناکامیوں سے بچنا اسی وقت آتا ہے جب انسان اپنی آپ اور اپنی غلطی کے بعد خود کو بہتر محسوس کرے ناکہ اس کا اعتماد بالکل ختم ہوجائے۔ یہ احساس اور یہ اعتماد ہمدردی سے ہی آتا ہے۔ ہمدردی کا احساس دلانا بہت سادہ ہے۔ جب کوئی غلطی کرے تو صرف اس کی سنیں۔ اس کو نہ ٹوکیں اور نہ ہی کوئی مشورہ دینے کی کوشش کریں۔ یہ بھی نہ کہیں کہ ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں سب ٹھیک ہوجائے گا۔ صرف سنیں۔ اور کچھ دیر بعد وہی چیز جو انہیں کہیں جو انہوں نے آپ سے کہیں اور بس۔۔۔۔۔۔ یہ سادہ ہے لیکن آسان نہیں۔ کسی کی بات کو خاموشی سے سننا اور پھر اپنے الفاظ، حرکات اور احساسات سے کسی کی بات کی عکاسی کرنا ایک مشکل عمل ہے۔ کسی کو مشورہ نہ دینا ایک ہمت والی بات ہے، کسی کی مشکل کا حل پیش نہ کرنا واقعی ایک مشکل عمل ہے۔ لیکن کسی ناکامی کے شکار شخص کےسامنے یہ مشکل عمل بہرحال انتہائی فائدہ مند شئے بھی ہے۔ کچھہ دیر بعد ڈینا پھر اپنے کمرے سے برآمد ہوئی وہ سونے سے قبل ہمیں خداحافظ کرنے آئی تھی۔ اب کیسا محسوس کررہی ہو ڈینا؟ میں سے سوال کیا ہمممم، بہتر ہوں، میرا خیال ہے کہ میں کچھ ٹوٹا ہواسا محسوس کررہی ہوں۔ میں اسے تقریبا کہہ چکا تھا کہ کوئی بات نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا، تم صبح ٹھیک محسوس کرنے لگو گی، ابھی آگے بھی کئی مقابلے آنے ہیں اور ابھی تمہارے پاس اپنی کمی پر قابو پانے کے لیئے بہت وقت ہے، لیکن میں نے اپنے آپ پر بڑی مشکل سے قابو پایا اور کہا واقعی یہ توڑ دینے والا واقعہ ہے۔ والسلام طاہر یہ مضمون ہارورڈ بزنس ریڈنگ کی ویب سائٹ پرپڑھا تھا اچھا لگا سوچا آپ سے بھی شیئر کر لیا جائے۔ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (15-03-11), shafresha (15-03-11), نورالدین (17-03-11), ننھا بچہ (19-03-11), محمدخلیل (15-03-11), احمد بلال (15-03-11), راجہ اکرام (15-03-11) |
|
|
#2 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,914
شکریہ: 10,606
1,223 مراسلہ میں 3,229 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
شاید اس طرح کے ہر مسئلے کا حل یہ نہیں۔ "یہ توڑ دینے والی غلطی/واقعی ہے" کہ کے لاشعوری طور پہ ہم اسے اور نہیںڈرا رہے اس غلطی سے؟ ہمدردی اپنی جگہ لیکن حوصلہ بڑہانا میرے خیال سے زیادہ معنی رکھتا ہے۔اور اگر دیکھا جائے تو دادی جان کے عمل نے اسکا بوجھ ہلکا کیا نہ کہ الفاظ نے۔ بالکل اسی طرح جب مقابلے کے لئے سٹیج پہ جانے سے پہلے آپکا قریبی دوست آپکے ہاتھ کو تھوڑا سا دباتا ہے تو اس عمل سے اسے جتنا حوصلہ ملتا ہے شاید الفاظ نہ سے سکیں۔ اگر ہر غلطی پہ ہمدرد ی دکھائی جائے تو انسان Lame excuses ڈہونڈنے لگتا ہے۔اس لئے موٹیویشن بہت ضروری ہے۔ میرا تجربہ تو یہی ہے۔ |
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,230
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلامُ علیکم
بہت اچھی تحریرتھی محترم طاہر بھائی۔ لیکن ہمدردی سے ذیادہ اگراُسکوموٹیویٹ کیا جائے تو ذیادہ بہترہوگا۔ میں ایسی صورتحال سے دوچار ہو چکی ہوں اورموٹیویشن کوہی فارئدہ مند پایا ہے۔ آپکی تحریرکا شُکریہ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
طاہد بھائی ویل ڈن!!!!!!!
ایک اور شاندار شئیرنگ!!!!!!
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,914
شکریہ: 10,606
1,223 مراسلہ میں 3,229 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شافی بھائی اور اجنبی بھائی صرف ویلڈن سے کام نہیںچلے گا۔آپ جیسے گھاگ، تجربہ کار کمنٹس نہیںدیں گے تو اس تحریر کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔ چلیں جلدی کریں ہم انتظار کر رہے ہیں۔
|
|
|
|
| احمد بلال کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (17-03-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,506
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت عمدہ۔۔۔۔اصل بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ آپ کیسے کسی کے درد کو محسوس کرتے ھیں اور اسوقت انسان کو کس چیز کی ضرورت ہے یہ محسوس کرنے والی بات ہے۔۔۔
__________________
رب میرا اللہ، دین میرا اسلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے نبی ھیں۔۔۔!! |
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,230
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کرناہی انکی خصوصیت ہے کہ وہ تحریرکو ہر پہلوسے پڑھ کرآپکوتحسین سے نواز رہے ہیں۔
|
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,914
شکریہ: 10,606
1,223 مراسلہ میں 3,229 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زارا آپ نے ٹھیک کہا لیکن اس کہانی پہ انکے کمنٹس کا مطلب ہے اصل زندگی کے لئے انکے تجربے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,230
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کیسا, کوشش, گھر, ویب, لمحوں, موقع, مقابلہ, ماں, محبت, معلوم, بہترین, بیوی, جیت, جواب, حل, دوست, زندگی, شخص, غور, غلط, غلطی, غلطیوں, صورتحال, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|