واپس چلیں   پاکستان کی آواز > پروفیشنلز > کیرئر کی راہنمائی



کیرئر کی راہنمائی آجکل لاکھوں کی تعداد میں نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مگر تعلیم کے اختتام پر بہت کم اچھی نوکریاں حاصل کر پاتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی مدد اور راہنمائی کے لیے...


ٹیلی ویژن نیوز

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-07-08, 02:54 PM   #1
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 17,186
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,963 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Arrow ٹیلی ویژن نیوز

ٹیلی ویژن نیوز

ٹیلی ویژن نیوز



ٹیلی ویژن کی خبریں نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کی کثیر آبادی کے لیے اطلاعات حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ بظاہر آسان دکھائی دینے والا یہ ذریعہ نہایت دشوار گزار اور سخت مقابلہ آرائی کا محاذ ہے۔ بے حد چیلنجنگ اور تھکا دینے والا جس میں ہر شخص کو جو ذمے داریاں دی جاتی ہیں اسے انجام دینا ازحد ضروری ہے اور نہایت خوش اسلوبی سے اور وہ بھی معینہ وقت پر۔ یہاں فرد واحد کی غلطی بھی پوری ٹیم پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اور اگر کسی شخص نے اپنا کام سلیقے سے نہیں کیا تو اس پر محض کچھ لوگوں کی نگاہیں نہیں پڑیںگی بلکہ ناظرین کا پورا حلقہ اس سے واقف ہو جائے گا جس کی تعداد چند لاکھ سے لے کر کروڑ تک ہو سکتی ہے۔ یہ اس پر منحصر ہے کہ خبر کی پہنچ کا دائرہ کہاں تک ہے۔ ایسے میں جو شخص بھی اس پیشے میں قدم رکھنا چاہتا ہے اسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ کوئی آسان پیشہ نہیں۔ کام کے اوقات دیر طلب ہوتے ہیں، کیرئیر کے ابتدائی دنوں میں تنخواہ بھی معقول نہیں ہوتی۔ اس پر طرہ یہ کہ ٹیلی ویژن صحافی نیوز روم کے کام کو پوری طرح سے نپٹا کر ہی گھر لوٹتا ہے اور اس کام کو دوسروں کے لیے نہیں چھوڑتا ہے۔ کئی زاویے سے دیکھا جائے تو اس پیشے میں کام ملنا کافی مشکل ہے اور مل گیا تو اسے برقرار رکھنا اور بھی مشکل ہے اور اس سے بھی مشکل ہے اچھی اسٹوری کا آئڈیا پیش کرنا، اسے اچھی خبر میں تبدیل کرنا اور اسے ناظرین کے سامنے پیش کرنا۔ اس سلسلے میں یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ آپ سے پہلے کوئی اور چینل اسے پیش نہ کر دے۔ اسی میں آپ کی مہارت مضمر ہے۔
ٹیلی ویژن نیوز میں کام کرنا صرف ایک پیشہ ہی نہیں بلکہ طرز زندگی ہے۔ یہاں کے ملازمین کو چھٹیوںاور تہواروں کے دنوں میں بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ دفتر کے باہر بھی نگاہ اچھی اسٹوری کی تلاش میں رہتی ہے۔ مختلف چینلوں کی خبروں پر نگاہ رکھنا اور ساتھ ہی اپنے کام پر بھی تاکہ پتہ چل سکے کہ اپنا کام اور بہتر کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ یہ چیزیں ذہنی تناﺅ میں مزید اضافہ کرتی ہیں اور یہ کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ تاہم ٹیلی ویژن نیوز میں کام کرنے کا اپنا صلہ بھی ہے، ایک پروقار اور پرجوش زندگی— سماج کے مختلف لوگوں سے ملنا اور ان کا انٹرویو کرنا۔ ان لوگوں سے ملاقات جو شاید دوسری صورت میں کبھی میسر نہ ہو پاتی۔ اس طرح کی ملاقاتوں سے اپنے فرقے اور برادری کے بڑے مسائل سے بھی روبرو ہونے کا موقع ملتا ہے۔ کام کو بہتر طریقے سے انجام دینے میں ایک جذباتی تسکین بھی حاصل ہوتی ہے۔

ٹیلی ویژن نیوز میں جس بنیادی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہے تحریر کی مہارت۔ تحریر دلچسپ اور واضح ہو۔ اس پیشے میں اچھی تحریر ایک بنیادی ہتھیار ہے جس کا اطلاق رپورٹر، پروڈیوسر، اینکر، ایڈیٹر، ویڈیو گرافر، ٹیپ ایڈیٹر اور دیگر سبھی کارکنوں پر جو اس عمل سے وابستہ ہیں، ہوتا ہے۔ جب تک وہ اچھی تحریر کی اہمیت کو نہ سمجھیں گے تب تک کوئی اچھا کام انجام نہیں دے سکتے۔اچھی تحریر کا دارومدار اچھی رپورٹنگ پر ہوتا ہے۔ رپورٹر، رائٹر، پروڈیوسر یا ایڈیٹر کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اطلاعات کیسے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ کن کن ذرائع سے رابطہ کیا جا سکتا ہے نیز اس موضوع پر کس طرح کا مواد آسانی سے فراہم ہو سکتا ہے۔ رپورٹنگ کی بنیادی مہارت کے لیے کسی استاد سے ایک دو لکچر یا ضروری مشورہ لینا کافی فائدے مند ہو سکتا ہے۔ یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ تحقیق کے ایک ضروری آلے یعنی انٹرنیٹ کا استعمال کیسے کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹر اور اینکر کے لیے بہتر زبانی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ زبانی ادائیگی سے مراد کسی مسودہ کو محض اچھی طرح پڑھ دینے سے نہیں بلکہ رپورٹر اور اینکر کو اس کا اہل ہونا چاہیے کہ ”تحریر کے ذریعے جن باتوں کو سامنے لانا چاہتے ہیں مہارت کے ساتھ پہلے ان کی زبانی ترسیل کریں۔ اس کے لیے اگر ممکن ہو تو بحث مباحثہ یا تھئیٹر کی کارگزاریوں میں حصہ لیں۔ لفظوں کی ادائیگی اس طرح کرنا سیکھیں کہ ان کے معنی واضح ہو جائیں۔ ان کی ترسیل ناظرین تک بہ آسانی ہو جائے۔ٹیلی ویژن صحافی کا علم وسیع ہونا ضروری ہے۔ اسے دنیا کے بارے میں پوری جانکاری ہونی چاہیے کہ کہاں کیا ہو رہا ہے تبھی وہ ایک اچھی اسٹوری کی شناخت کر پائے گا اور اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کن لوگوں سے کس طرح کے سوالات پوچھے جا سکتے ہیں اور کیسے ان کے جواب حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسے ادب، سائنس، تجارت، تاریخ، معاشیات وغیرہ کی بنیادی باتیں معلوم ہونی چاہئیں ایک کامیاب ٹیلی ویژن صحافی بننے کے لیے ان میں سے زیادہ تر کا استعمال معمول کے طور پر کرنا پڑے گا۔ ایسی معلومات بھی ضروری ہے جو اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی کلاسوں میں نہیں بلکہ سفر کے مشاہدوں، عام زندگی کے تجربوں اور لوگوں کے ساتھ گھلنے ملنے سے حاصل ہوگا یہ سبھی تجربات اور مشاہدات اس وقت کام آتے ہیں جب کوئی شخص اپنی صلاحیت کو اس پیشے میں بروئے کار لاتا ہے۔ ایسے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو ٹیلی ویژن نیوز میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے اخباروں کے مطالعے کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ٹیوی نیوز بلیٹن کو غور سے دیکھیں۔ اگر کسی شخص میں اپنے ارد گرد کے ماحول کے بارے میں جاننے کا تجسس نہیں تو یہ پیشہ اس کے لیے قطعی موزوں نہیں۔ ہر ماہ دو یا تین ایسے رسائل بھی پڑھنے چاہئیں جو خبروں سے متعلق ہوں۔ ٹیلی ویژن نیوز میں کام کے اچھے اور برے نمونے آسانی سے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس لیے ٹیلی ویژن کی خبریں دیکھتے وقت ان باتوں پر خصوصی توجہ دینی چاہیے کہ جو باتیں ان خبروں میں کہی گئی ہیں وہ کیسے کہی گئی ہیں اور کیا کہی گئی ہیں، پیش کش کا کیا اسٹائل ہے اور کون اچھے رپورٹر، رائیٹر، ایڈیٹر اور کیمرہ مین ہیں۔ ان سب کاموں کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ مختلف چیزوں کے بارے میں جاننے کے لیے آپ میں تجسس ہونا چاہیے۔ اس سے آپ کے سیکھنے اور انٹرویو کرنے کی مہارت میں اضافہ ہوگا۔ٹائپنگ کا جاننا ایک بنیادی تکنیکی مہارت ہے اور کمپیوٹر پر ٹائپ کرنے کی معلومات کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ کمپیوٹر کے بنیادی پروگرام، آن لائن وسائل اور نیٹ ورکنگ کے بارے میں بھی معلومات ضروری ہے۔ آڈیو اور ویڈیو ٹیکنالوجی کی بنیادی سمجھ بھی کافی اہم ہے اور یہ بھی کہ آوازوں اور تصویروں کو کیسے ریکارڈ کیا جاتا ہے اور کیسے ان سے ایک اچھی اسٹوری بنائی جا سکتی ہے۔اب سبھی نیوز روم پوری طرح سے کمپیوٹرائزڈ ہو چکے ہیں جس سے رپورٹر، رائٹر، اور پروڈیوسر کورن ڈاﺅن چیک کرنے، اسکرپٹ لکھنے، ویڈیو کی نظرثانی کرنے اور اسکرپٹ کو سینئر صحافی کی منظوری کے لیے بھیجنے یا پھر براہ راست ٹیلی پیرا میٹر تک بھیجنے میں آسانی ہوتی ہے۔ رپورٹر اور کیمرہ مین اب لیپ ٹاپ کمپیوٹر اور موبائل فون کے ساتھ اپنی اسٹوری کور کرنے کے لیے فیلڈ میں جاتے ہیں اور اپنے ساتھ ایسی گاڑی بھی لے جاتے ہیں جو جدید آلات سے مزین ہوتی ہے جن کی مدد سے وہ کسی بھی مقام سے اپنے اسٹوڈیو سے فوراً لائیو کنکٹ ہو سکتے ہیں۔ ٹیلی ویژن ٹیکنالوجی— آلات کا ایک سیٹ فراہم کرتی ہے جس سے ٹیلی ویژن صحافی کام کرتے ہیں۔ ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ ان آلات کے بارے میں جاننے اور سیکھنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔نیوز روم میں کسی رول کو کیسے ادا کیا جاتا ہے اور کس طرح سے یہ سبھی رول بلیٹن اور چینل کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔

ٹیلی ویژن میں کام کے دباﺅ سے چھٹکارا ممکن نہیں اس لیے آپ کو اس کا عادی ہو جانا چاہیے۔ ٹیلی ویژن میں بہترین صحافی وہی ہے جو کسی طرح کے دباﺅ کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتا اور اپنی توجہ اپنے کام پر مرکوز کیے رکھتا ہے۔ کیونکہ اس پیشے میں ڈیڈلائن کی بہت اہمیت ہے اور نیوز روم میں کام کر رہے پروفیشنل کا واسطہ بروقت ڈیڈلائن سے ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کئی اسٹوریز پر ایک ساتھ کام کرنا ہوتا ہے اور ان سب کی ڈیڈلائن بھی ایک ہوتی ہے۔ جب ڈیڈ لائن قریب آئے تو گھبرانا نہیں چاہیے— اپنے اعصاب پر قابو پانا سیکھیں۔لوگوں کے ساتھ گھل مل کر کام کریں۔ بہت سے لوگوں میں چڑچڑاپن ہوتا ہے یا جلد ناراض ہونے کی عادت ہوتی ہے۔ آپ سوچتے ہیں اگر وہ اپنا کام ویسے ہی کریں جیساکہ آپ چاہتے ہیں تو آپ کا کام کتنا آسان ہو جائے۔ ان باتوں کو سوچنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان کی ان خصلتوں کو جانتے ہوئے بھی آپ کو ان کے ساتھ کام کرنا ہے۔ اس لیے آپ ان سے بہتر تعلقات بنائیں، عزت سے پیش آئیںاور اپنے کام پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ کام کرنے کے کچھ بنیادی اصول و ضوابط تیار کریں اور جب کبھی اور جہاں کہیں بھی آپ کے تعاون کی ضرورت پڑے اپنا بھرپور تعاون دیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیوز روم میں کسی سے بھی تعلقات خراب نہ کریں کیونکہ اس پیشے میں داخلہ ملنا مشکل ہے اور اس سے بھی مشکل ہے آگے بڑھنا۔ پیشے سے وابستہ اچھے صحافیوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں اور ان سے اپنے رشتے استوار کریں۔ اس پیشے میں ایک دوست یا ایسا شخص جسے آج آپ جانتے ہیں اور جس کے ساتھ آپ نے اچھا سلوک کیا ہے، ممکن ہے کہ کل وہی آپ کو بہتر روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں آپ کی مدد کرے۔جن لوگوں کی پوزیشن آج آپ کے برابر یا آپ سے کم ہے وہی لوگ دو سال بعد آپ کو ترقی دینے یا نوکری سے نکالنے میں اہم کردار نبھا سکتے ہیں۔
بنیادی بات یہ ہے کہ دوسروں کی عزت کے ساتھ آپ کو اپنی قابلیت کے بارے میں بھی پر اعتماد ہونا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ بہت سی غلطیاں کریں اور انھی غلطیوں سے آپ کو سیکھنے کا موقع بھی ملے۔ کوشش کریں کہ غلطیاں کم سے کم ہوں، لیکن غلطیوں کا ہونا فطری ہے کیونکہ یہ اس عمل کا حصہ ہے۔ جب آپ کوئی غلطی کرتے ہیں اور اس کے لیے آپ کو کسی کی ڈانٹ سننا پڑتی ہے یا کسی کی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں تو بجائے اس پر اپنی ناراضگی دکھانے کے ان غلطیوں کو تسلیم کر لینا زیادہ بہتر ہوگا اور اس سے بھی بہتر ان غلطیوں سے سبق حاصل کرنا۔ اپنی صلاحیت پر یقین رکھیں اور جتنا بہتر کر سکتے ہیں کرنے کی کوشش کریں۔ صحت کا خیال رکھیں، سادہ کھانا کھائیں اور اپنی نیند پوری کریں اگر آپ شراب کے عادی ہیں تو کم سے کم مقدار ہیں شراب پینے کی کوشش کریں ورنہ آپ کے کام کرنے کی صلاحیت حد درجہ متاثر ہوگی۔ دن کے کھانے کو بھی کبھی نظرانداز نہ کریں۔

آپ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہر لمحہ آپ کسی نہ کسی نیوز اسٹوری پر کام کرتے رہیں۔ نیوز میکنگ کے پورے عمل میں غرق رہنے میں خوشی محسوس کریں اور اپنے کیرئیر کو آگے بڑھانے کے دوران ہر شخص سے پیشہ ورانہ مقابلہ کریں۔ مقابلے سے مراد یہ ہے کہ آپ اتنی محنت کریں کہ اپنے کام میں ماہر ہو جائیں اور دوسروں کو آپ کی اہمیت کا احساس ہو۔ اپنے عمل میں، اپنی وضع قطع میں، اپنے رویے میں پروفیشنلزم اپنائیں۔ ٹیلی ویژن نیوز کثیر الجہات ہوتی ہیں۔ ٹیلی ویژن کی تکنیک لگاتار بدلتی رہتی ہے اور اسی لیے سیکھنے کا عمل لگاتار جاری رہتا ہے۔ دوسرا عمل جو لگاتار جاری رہتا ہے وہ ہے تحریر ۔ اگر آپ کو زبان پر مکمل عبور حاصل ہے اور آپ ایک اچھے رائٹر ہیں تو ٹیلی ویژن نیوز میں آپ کا مستقبل تابناک ہے۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے   Reply With Quote
Real_Light کا شکریہ ادا کیا گیا
رفیع انجم (23-07-10)
جواب

Tags
کمپیوٹر, کالج, ٹیلی ویژن نیوز, قدم, نیوز, چینل, نیند, نوکری, مکمل, موبائل, مقابلہ, ممکن, مسائل, معلوم, آبادی, آج, انٹرنیٹ, اچھا کام, استاد, بہترین, تلاش, جواب, خوش, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
روزانہ 2 گھنٹے سے زیادہ ٹیلی ویژن دیکھنے والوں میں ہارٹ اٹیک کے امکانات دو گنا ہوجاتے ہیں۔ ماہرین گلاب خان شعبہ طب 0 19-02-11 03:12 AM
ٹیوب ٹیلی ویژن کا دور ختم ہونے کو ہے عدنان دانی کمپیوٹر کی باتیں 6 22-10-10 06:32 PM
پنجاب ویمنز ہاکی ٹیم بھارت پہنچ گئی عبدالقدوس خبریں 0 24-04-08 01:26 PM
حکومت پریس کونسل آرڈیننس اور نیوز پیپرز رجسٹریشن آرڈیننس مین ترمیم پر آمادہ عبدالقدوس خبریں 0 23-11-07 09:39 AM
قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کے باوجود انڈین لیگ کھیلنے کا خواہشمند ہوں ،انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے سے انکار بھی نہیں کیا ہے ۔ شعیب اختر کا خصوصی خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 03-09-07 10:41 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:02 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger