| گانے یہاں آپ گانے اپلوڈ اور ڈونلوڈ بھی کر سکتے ہیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,621
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سپریم کورٹ نے معروف گلوکار ابرار الحق کو ان کے متنازعہ گانے’پروین تو بڑی شوقین‘ میں ترمیم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکم کی پندرہ دن کے اندر تعمیل کی جائے۔
ابرار الحق کے نئے البم میں شامل گانے ’پروین تو بڑی شوقین‘ کے حوالے سے تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا تھا جب لاہور کی ایک طالبہ نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ ان کا نام بھی پروین ہے اور ابرار الحق کے گانے کے منظر عام پر آنے کے بعد ان کا یونیورسٹی جانا محال ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس بھگوان داس نے گلو کار ابرار الحق کو ان کے مذکورہ گانے پر طالبہ کی طرف سے تحریری شکایت پر از خود نوٹس لیتے ہوئے عدالت میں طلب کیا تھا۔ عدات نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس گانے میں سے’پروین‘ اور’شوقین‘ کے الفاظ منہا کر دیے جائیں۔ عدالت نے ابرار کو ہدایت کی کہ نوجوان نسل ان کے گانے شوق سے سنتی ہے لہذٰا انہیں مثبت گانے بنانے چاہئیں۔ یاد رہے کہ ابرار الحق نے اس کیس کی پہلی سماعت کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ غلط فہمی کا معاملہ ہے اور ان کے گانے میں ’پروین‘ کا لفظ نہیں بلکہ انہوں نے ’پرمین‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ابرار الحق کے گانے ماضی میں بھی تنازعات کا شکار رہے ہیں اور ان کے ایک گانے ’نچ پنجابن نچ‘ پر پابندی عائد ہو چکی ہے جس میں بعد میں معمولی تبدیلی کرکے اسے’نچ مجاجن نچ‘ کے الفاظ سے جاری کیا گیا تھا۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,621
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا ذاتی خیال ہے کہ ایسے شخص کو کم از کم دس سال کی قید با مشقت کی سزا دینی چاہیے تھی۔ کیونکہ اس نے یہ پہلی دفعہ تو نہیں کیا ہے۔ اس بندے کا آغاز ہی ایسے گھٹیا قسم کے گانوں سے ہوا تھا۔ ہر دفعہ عدالت اس کو چھوڑ دیتی ہے اور وہ پھر سے وہی کام شروع کر دیتا ہے۔ اس کا کوئی مستقل حل ہونا چاہئے تھا۔ اگر کل کو پھر اس نے کوئی ایسی ہی گھٹیا حرکت کی تو کیا عدالت اس کی ذمہ داری لیتی ہے۔۔۔۔
|
|
|
|
| چاچا کمال کا شکریہ ادا کیا گیا | عزیزامین (04-06-09) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بلکل بجا فرمایا آپ نے
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() |
میں آپ سے اتفاق نہیں کرتا
گانے میں نام لینے سے کچھ بھی نہیں ہوتا یہ تو بس مڈیا مینرہنے کے خربے ہیں
__________________
[SIGPIC][/SIGPIC] |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
یار میں
نے تو سنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت آ رہی ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 6
کمائي: 43
شکریہ: 0
0 مراسلہ میں 0 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ان کی دوسری حرکت سے معلوم یہ ہوا کہ وہ تعلم یافتہ جاحل ہیی الہ انپر رحمکرے
|
|
|
|
|
|
#7 | |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 36
مراسلات: 1,489
کمائي: 10,968
شکریہ: 280
495 مراسلہ میں 1,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
1۔ابرارالحق صاحب ہمارے محترم ہیں اور قابل عزت ہیں، ان کا پیشہ تو ویسے پروفیسری ہے جو کہ ایک قابل احترام پیشہ جانا جاتا ہے۔ اگر ایک ڈاکٹر صاحب کلینک میں نیکر پہن کر مرٰیضوں کا اعلاج کریں گے تو کیا وہ مہذب لگیں گے یا ایک پائلٹ لاچا پہن کر جہاز اڑانے کے لیے جائے گا تو لوگ کیا اسے ڈاکٹر کہیں گے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ ہر انسان کو اپنے پیشے کا احترام کرنا چاہیے اور ایک مہذب اور مسلمان پروفیسر کو یہ زیب نیہیں دیتا کہ اس قسم کے شودے شودے گانے گائے۔ یہ تضاد ہے اور اگر ان کے گانے واقعی ہی ان کی شخصیت کا خاصہ ہے تو یہ بندہ اپنے طالب علموں کے لیے بے راہ روی کا باعث بن سکتا ہے جو کہ خطرناک بات ہے۔ اور اس کے اثرات آئندہ دس بارہ برسوں میں سامنے آئینگے۔ 2۔ اب بلو، پنجابن، پروین(یا پرمین) یا اس قسم کے نوع کے گانے ضروری نہیں نوجوان لڑکیوں کے نام پر ہی ہوں کسی عمر رسیدہ خاتون کا بھی ہو سکتا ہے جو کہ ان کے لیے اس عمر میں اچھا خاصا مزاق کا ذریہ بن جاتا ہے ہے، اب بلو یا پروین کسی کی بہن بھی ہو سکتی ہے، ماں بھی بیٹی بھی اور بیوی بھی، اب آپ خود سوچیں کہ جن گھروں میں ان ناموں کی خواتین ہیں ان کے گھر والوں پر کیا بیتتی ہو گی یا اس خاتون یا لڑکی کو بازار جاتے یا راہ جاتے کن مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ حدیث کا مفہوم ہے اس شخص اس وقت تک مسلمان یا مومن نہیں ہو جاتا جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی کچھ نہ پسند کرے جو اپنے لئے۔ اس حدیث کی تشریح کی ضرورت نہیں۔ اب اگر ابرارالحق صاحب اتنے ہی مسلمان یا سماجی کارکن ہیں تو بھائی صاحب جرات کریں اور اپنی بیٹی، بیوی ، بہن یا ماں کے نام کا بھی گانا مارکیٹ میں لے کر آئیں تو مانیں۔ میرا خیال ہے اتنا سوچنے کے بعد ہی ان کو راہ ہدایت نصیب ہو جائے گی ، انشااللہ |
|
|
|
|
| مسٹر رائٹ کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (03-12-07) |
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رائٹ بھائی اپ نے بہت ہی مناسب اور وضاحت کے ساتھ بات بیان کی ہے۔ میرا اپنے خیالات بھی بلکل ایسے ہی ہیں۔ اگر ابرار کو نام سے کوئی فرق نہیںپڑتا تو اپنی بہن کے نام سے کیوں گانے نہیں گاتا ہے۔ اگر گائے اور کہے کہ میں نے اپنی بہن کے نام پر یہ گانا رکھا ہے تو پھر زیادہ سنا جائے گا۔
اللہ سب پر رحم فرمائے۔۔۔۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کورٹ, گانے, پاکستان, پسند, قید, لوگ, موقع, ماں, ماں کے نام, مسائل, انسان, ابرار, بھائی, تحریری, ترمیم, جواب, حکم, حل, خواتین, سپریم, سال, شخص, عدالت, عزت, صحافیوں |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|