واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


عورت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-07-07, 01:08 PM  
عورت
کشورناہید کشورناہید آف لائن ہے 17-07-07, 01:08 PM

اقبال نے کہا
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
ہر دور میں عورت کے بارے میں لوگوں نے مختلف آ را دیں
آپ اپنی رائے دیں
میں ابتدا کرتی ہوں
ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے
_________________
سلوتری



ایک بات یاد رکھیں کہ اخلاق سے گری ہوئی بات ازراہ کرم یہاں نہ لکھی جائے۔

 
کشورناہید's Avatar
کشورناہید
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 28
مراسلات: 336
شکریہ: 63
44 مراسلہ میں 76 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1862
Reply With Quote
پرانا 05-08-07, 05:46 PM   #31
Senior Member
مقبول
 
گندہ بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 29
مراسلات: 106
کمائي: 356
شکریہ: 2
11 مراسلہ میں 13 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عورت

مرد کی بربادی میں بھی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے 100% درست کہا ہے میں نے ..
گندہ بچہ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-08-07, 08:38 PM   #32
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 60
کمائي: 285
شکریہ: 0
13 مراسلہ میں 13 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عورت

جہاں تک کامیابی یا ناکامی کا سوال ھے تو صف اس بات سے اندازہ ھو جاتا ھے کہ مرد کو جنت سے نکلنا پڑا تو عورت کی وجہ سے،دنیا میں پہلا قتل عورت کی وجہ سے ھوا-(قصہ ہابیل قابیل)
دنیا میں صرف تین چیزوں کی جنگ ھے
زن(عورت)
زر
زمین
یاسر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-08-07, 01:02 PM   #33
Senior Member
 
پاکستانی لڑکی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
عمر: 23
مراسلات: 1,945
کمائي: 19,513
شکریہ: 1,422
1,131 مراسلہ میں 2,401 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عورت

پاکستانی لڑکی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-08-07, 01:38 PM   #34
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,492
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: عورت

عام طور پر یہ جو مشہور ہو گیا ہے کہ شیطان نے پہلے حوا علیہا السلام کو دام فریب میں گرفتار کیا اور پھر انہیں آدم علیہ السلام کو پھانسنے کےلیے آلہ کار بنایا، قرآن اس بیان کی تردید کرتا ہے۔ اس کا بیان یہ ہے کہ شیطان نے دونوں کو دھوکا دیا تھا اور دونوں اس سے دھوکا کھاگئے۔ لیکن شیطان کی وسوسہ اندازی کا رخ دراصل آدم علیہ السلام ہی کی طرف تھا۔ اس کے برعکس بائبل کا بیان ہے کہ سانپ (بائبل میں یہاں شیطان کی بجائے سانپ کا ذکر ہے) نے پہلے عورت سے بات کی اور پھر عورت نے اپنے شوہر کو بہکا کر درخت کا پھل اسے کھلایا۔ سورۃ طہ آیت 120 تا 122 میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ شیطان نے پہلے آدم علیہ السلام کو بہکایا تھا:
فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آَدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَا يَبْلَى۔ فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْآَتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَعَصَى آَدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى۔ ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَى (طہ 120تا122)
''شیطان نے اس کو (یعنی آدم علیہ السلام کو) پھسلایا، کہنے لگا ''آدم! بتاؤں تمہیں وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے؟'' آخر کار دونوں (میاں بیوی) اُس درخت کا پھل کھا گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فورًا ہی ان کے ستِر ایک دوسرے کے آگے کھل گئے اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے۔ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی اور راہِ راست سے بھٹک گیا۔ پھر اس کے رب نے اسے برگزیدہ کیا اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی۔"
اب بائبل کا بیان ملاحظہ فرمائیےبائبل کی یہی عبارت جناب فوٹو ٹیک نے دلیل کے طور پر پیش کی ہے۔)
" اور جب عورت نے دیکھا کہ یہ درخت نیک ثمررکھتا ھے ،پرکشش اور پر ثمرھے، لہذا اس درخت کے میوے کو کھایا اور اپنے شوھر کو بھی دیا ، میوہ کھاتے ہی دونوں نے خود کوعریان پایا، فورا انجیر کےپتوں کو اکٹھا کرکے اپنے لیۓ ستر بنائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔" (پیدائش۔ باب3۔)
بائبل کے اس بیان نے دنیا میں عورت کے اخلاقی، قانونی اور معاشرتی مرتنے کو گرانے میں جو کردار ادا کیا ہے اسے سمجھنے کےلیے یہ کافی ہو گا کہ عیسائی پادریوں اور فلسفیوں نے عورت کو ''برائی کی جڑ'' قرار دیا اور عورت سے تعلق رکھنے کو گناہ خیال کیا جانے لگا۔ چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی کی تمام مذہبی تحریریں اس خیال سے بھری ہوئی ہیں کہ شادی نہ کرنا اور عورت سے دور رہنا سب سے بڑی اخلاقی قدر ہے۔ تاریخ میں وہ وقت بھی گزرا ہے کہ پادریوں کے ایک گروہ نے عورت کو انسان تسلیم کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ اسلام نے عورت پر سے اس جھوٹے الزام کو صاف کیا جو صدیوں تک اس کے لیے طعنہ بنا رہا ہے۔ اسلام میں عورت اور مرد کی ذمے داریوں میں فرق ضرور رکھا گیا ہے لیکن بحیثیت انسان دونوں برابر ہیں۔ فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً (النساء۔۱)
''لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مردوعورت دنیا میں پھیلا دیے۔''
اور فرمایا:
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (النحل۔97)
'' جو بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔''
جہاں تک ہابیل اور قابیل کے قصے کا تعلق ہے تو یہ قصہ سورۃ المائدۃ میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلے قرآنی بیان ملاحظہ فرمائیے پھر اس پر مزید گفتگو کرتے ہیں:
''اور ذرا انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بلا کم و کاست سنا دو۔ جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی۔ اس نے کہا '' میں تجھے مار ڈالوں گا۔'' اس نے جواب دیا '' اللہ تو متقیوں ہی کا عمل قبول کرتا ہے۔ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔'' (المائدۃ۔ 27 تا31)
قرآن کریم میں کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی کہ یہ قربانی کس لیے پیش کی گئی تھی نہ اس بارے میں کوئی صحیح حدیث ملتی ہے۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ دونوں بھائیوں نے بطور عبادت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نذر پیش کی۔ ہابیل کی قربانی قبول ہونے پر قابیل حسد کا شکار ہو گیا اور اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا۔ لیکن اگر اُس بات کو درست مان لیا جائے جو بعض لوگوں نے لکھی کہ دونوں کی دشمنی کی وجہ ایک لڑکی تھی تو یہ کہنے کی بجائے کہ ''دنیا میں پہلا قتل عورت کی وجہ سے ھوا'' یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ''دنیا میں پہلا قتل مرد کے جذبہ ہوس کی وجہ سے ہوا۔''
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا المَرْأَةُ الصَّالِحَةُ (مسلم۔ حدیث نمبر359
“دنیا ساری کی ساری ایک خاص وقت تک برتنے کی چیز ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔“
اور فرمایا:
“میرے لیے تمہاری دنیا کی دو چیزیں محبوب بنا دی گئیں، عورت اور خوشبو۔ اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی“
ہاں یہ ضرور ہے کہ عورت اگر اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کی خلاف ورزی کرے تو وہ بہت بڑے فتنوں کا سبب بن سکتی ہے۔اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
اتقواالدنیا واتقواالنساء ۔۔۔۔۔
“دنیا سے بچنا اور عورتوں(کے فتنے سے ) بچنا، اس لیے کہ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں کا تھا۔“
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-08-07, 02:47 PM   #35
Senior Member
 
پاکستانی لڑکی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
عمر: 23
مراسلات: 1,945
کمائي: 19,513
شکریہ: 1,422
1,131 مراسلہ میں 2,401 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عورت

شکریہ قسیم بھائی!
پاکستانی لڑکی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-08-07, 03:24 PM   #36
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,354
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عورت

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : قسیم حیدر
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : یاسر
جہاں تک کامیابی یا ناکامی کا سوال ھے تو صف اس بات سے اندازہ ھو جاتا ھے کہ مرد کو جنت سے نکلنا پڑا تو عورت کی وجہ سے،دنیا میں پہلا قتل عورت کی وجہ سے ھوا-(قصہ ہابیل قابیل)
دنیا میں صرف تین چیزوں کی جنگ ھے
زن(عورت)
زر
زمین
‌‌
قرآن کریم اس بات کی تردید کرتا ہے کہ مرد کو عورت کی وجہ سے جنت سے نکلنا پڑا۔ قرآنی بیان کے مطابق شیطان نے آدم علیہ السلام کے دل میں وسوسہ پیدا کیا تھا نہ کہ حوا علیہا السلام کے۔ سورۃ طہ میں فرمایا:
فوسوس الیہ الشیطان قال یآدم ھل ادلک علی شجرۃ الخلد و ملک لا یبلیٰ۔ فاکلا منھا
“تو شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا، اس نے کہا اے آدم! کیا میں تجھے نہ بتاؤں وہ درخت جس سے تجھے ہمیشہ کی زندگی اور کبھی فنا نہ ہونے والی بادشاہت مل جائے۔ تب ان دونوں (آدم اور حوا) نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔“
قرآن کریم کے مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ وسوسہ آدم علیہ السلام کےدل میں ڈالا گیا تھا۔اس کے برعکس بائبل کہتی ہے کہ شیطان نے پہلے حوا علیہا السلام کو بہکایا اور ان کے ذریعے آدم علیہ السلام کو جنت سے نکلوایا۔ قرآنِ کریم نے اس غلطی کی تصحیح کر دی ہے۔ بائبل کے اس بیان کی وجہ سے عیسائیت کی تاریخ میں عورت کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ بڑی دردناک داستان ہے۔تاریخ میں وہ وقت بھی گزرا ہے کہ پادریوں کے ایک گروہ نے عورت کو انسان تسلیم کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ اسلام نے عورت پر سے اس جھوٹے الزام کو صاف کیا جو صدیوں تک اس کے لیے طعنہ بنا رہا ہے۔ جہاں تک ہابیل اور قابیل کے واقعے کا تعلق ہے اگر وہ صحیح ہو تب بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں پہلا قتل مرد کے جذبہ ہوس کی وجہ سے ہوا۔ عورت کے مقام کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چند احادیث کا مفہوم پیش کرتا ہوں۔ فرمایا:
“دنیا ساری کی ساری ایک خاص وقت تک برتنے کی چیز ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔“
اور فرمایا:
“میرے لیے تمہاری دنیا کی دو چیزیں محبوب بنا دی گئیں، عورت اور خوشبو۔ اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی“ (بخاری)
اور فرمایا:
“تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنے گھر والوں (یعنی بیویوں) کے لیے اچھے ہیں۔“
ہاں یہ ضرور ہے کہ عورت اگر اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کی خلاف ورزی کرے تو وہ بہت بڑے فتنوں کا سبب بن سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
اتقواالدنیا واتقواالنساء ۔۔۔۔۔
“دنیا سے بچنا اور عورتوں(کے فتنے سے ) بچنا، اس لیے کہ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں کا تھا۔“
یہاں بعض مراسلات میں یہ اقتباس پیش کیا گیا ہے:
اور جب عورت نے دیکھا کہ یہ درخت نیک ثمررکھتا ھے ،پرکشش اور پر ثمرھے، لہذا اس درخت کے میوے کو کھایا اور اپنے شوھر کو بھی دیا ، میوہ کھاتے ہی دونوں نے خود کوعریان پایا، فورا انجیر کےپتوں کو اکٹھا کرکے اپنے لیۓ ستر بنائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔"
یہ عبارت نہ قرآن کریم میں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں، بلکہ یہ بائبل کے عہدنامہ قدیم کے باب “پیدائش“ سے لی گئی ہے اس لیے کسی مسلمان کے لیے اس میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ دین کے بارے میں بات کرتے ہوئے بہت محتاط رہنا چاہیے۔ قرآن کے بارے میں وہ بات کہنا جو اس میں نہیں ہے، اللہ پر بہتان باندھنا ہے:
ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون (یونس)
“جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔“
لیکن قسیم حیدر یہ کیاہے

" اور جب عورت نے دیکھا کہ یہ درخت نیک ثمررکھتا ھے ،پرکشش اور پر ثمرھے، لہذا اس درخت کے میوے کو کھایا اور اپنے شوھر کو بھی دیا ، میوہ کھاتے ہی دونوں نے خود کوعریان پایا، فورا انجیر کےپتوں کو اکٹھا کرکے اپنے لیۓ ستر بنائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔"
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-08-07, 01:50 PM   #37
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,492
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: عورت

فوٹو ٹیک بھائی! جو اقتباس آپ نے دیا ہے یعنی
‘‘ اور جب عورت نے دیکھا کہ یہ درخت نیک ثمررکھتا ھے ،پرکشش اور پر ثمرھے، لہذا اس درخت کے میوے کو کھایا اور اپنے شوھر کو بھی دیا ، میوہ کھاتے ہی دونوں نے خود کوعریان پایا، فورا انجیر کےپتوں کو اکٹھا کرکے اپنے لیۓ ستر بنائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔"
یہ عہدنامہ قدیم(بائبل) کے باب پیدائش سے لیا گیا ہے۔ قرآن کریم کا بیان اس سے مختلف ہے۔ اس بات کو واضح کرنے کے لیے میں نے اوپر اصل مراسلے میں تبدیلی کر دی ہے۔ آپ دوبارہ اسے پڑھ لیں۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-08-07, 02:17 PM   #38
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,354
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عورت

شکریہ جناب بہت شکریہ
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, فوٹو, ٹیک, پاک, پاکستانی, قرآن, قصہ, لوگ, لڑکی, نماز, ماں, آج, اللہ, انسان, امتحان, اسلام, بھائی, بادشاہت, جواب, حدیث, خلاف, دوست, شہزاد, عورت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی جاویداسد خبریں 2 21-09-10 08:12 PM
الطاف بھائی کا مارشل لاء کا مطالبہ اور عوام کی سوچ ۔ کیاعوام سیاستدانوں سے اکتا گئے ؟ جاویداسد خبریں 1 24-08-10 11:23 PM
عوامی حکومت کا اک اور کارنامہ naeemuddin خبریں 3 01-12-09 10:05 AM
عوج بن عوج کی عمر کتنی تھی؟ عرفان حیدر آئیے ذہانت آزمائیے 24 14-04-09 02:40 PM
’عوامی نمائندے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں‘ چاچا کمال خبریں 1 07-04-08 06:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:22 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger