واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


اس بازار میں!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-04-11, 12:36 AM   #1
اس بازار میں!
فیصل ناصر فیصل ناصر آف لائن ہے 25-04-11, 12:36 AM

حالانکہ حالات نے پاکستان کے زیریں طبقے کا بھرکس نکال دیا ہے اور مڈل کلاس لوئر کلاس کے درجے پر آگئی ہے لیکن سیاسی بازار خاصا گرم اور گہما گہمی سے بھرپور ہے۔


عمران خان کی چھابڑی میں ڈرون حملوں کے خلاف دھرنے کا آئٹم پڑا ہوا ہے، لیکن اس چھابڑی پر مکھی تک منڈلانے پر آمادہ نہیں۔

ق لیگ کے ٹھیلے پر پیپلز پارٹی سے مفاہمت کے جھنجنے برائے فروخت ہیں۔

آصف زرداری نے گرتی ہوئی سیاسی سیل بڑھانے اور گاہکوں کو متوجہ رکھنے کے لیے بھٹو کے ری ٹرائل کا آئٹم سٹال پر رکھ لیا ہے۔

ن لیگ جاوید ہاشمی بمقابلہ نواز شہباز پہلوان پٹھہ ضیا پہلوان دنگل کی رونق لگائے ہوئے ہے۔

جنوبی پنجاب کی چھوٹی چھوٹی تانگہ پارٹیاں سر پر چھابہ رکھے سرائیکی و بہاولپوری صوبے کی کھجوریں لے لو کی صدائیں لگا رہی ہیں۔ان میں سے بیشتر بے روزگاروں کو چھابہ اور مال بڑے آڑھتیوں نے ادھار پر دے رکھا ہے۔

سندھ کی قوم پرست جماعتیں خانہ شماری و مردم شماری کے اپاہج کو ریڑھے پر بٹھا کر کھینچ رہی ہیں۔۔

ایم کیو ایم نے انقلابی ومٹوکولا کی ریڑھی لگائی ہوئی ہے۔جس پر جست کی چادر بھی تنی ہے۔کولا کی بوتل کا ڈھکن اڑتا ہے تو چادر سے ٹکرا کر پٹاک کی آواز بوتل سے نکلنے والی گیس کے ساتھ پرلطف سماں باندھتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کی دوکان کے تازہ پھل پہلے ہی فروخت ہوچکے ہیں۔ان دنوں سرد خانے کے کنوؤں پر گذارہ ہے۔تاہم آڑھتی سے بات چیت جاری ہے۔

جماعتِ اسلامی نے قیمت بڑھنے کے گمان میں عافیہ اور ریمنڈ کیس کی پوری کھیپ اٹھا لی ۔لیکن جس نے یہ کھیپ بیچی تھی جماعت اب اسے ڈھونڈ رہی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی نے خیبر پختون خوا کی دوکان پر بدستور اسفند کمیشن شاپ کا بورڈ چمکایا ہوا ہے۔

فوج نے شمالی وزیرستان پر’ بلا اجازت سودے کو ہاتھ لگانا منع ہے‘ کا گتا لگا رکھا ہے۔حالانکہ امریکہ پورا مال اٹھانے پر تیار ہے لیکن قیمت پر جھگڑا پڑا ہے۔

ایک دوکان پر آتش بازی کا سامان فروخت ہورہا ہے۔ دوکان پر لکھا ہے ’میڈیا اینڈ سنز‘۔

بلوچستان ’چونسٹھ سال سے بھوکا ننگا ہوں‘ کی تختی گلے میں لٹکا کر خاموش کھڑا ہے۔نیچے پڑی چادر پر چند سکوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔

لاپتہ لوگوں کی کہانیوں کے کتابچے فروخت کرنے والا نابینا مسلسل چیخ رہا ہے۔’ہے کوئی اللہ کا بندہ جو سڑک پار کرادے‘۔

عدلیہ کے یوٹلٹی سٹور کے باہر بے حسی کی دھوپ میں سستے انصاف کی لالچی ایک طویل قطار ہے۔

چند روز میں آموں کا سیزن شروع ہونے والا ہے۔سنا ہے اس بار فصل پچھلے برس سے بھی بہتر ہے۔

لنگڑا ، دسہری ، خوشامدی، فضلی ، عسکری، سندھڑی ، جہادی ، آصفی ، طالبی ، اوبامی ، گرنیڈی، انور ریٹول ، بجٹی ، چونسہ ، کرپٹی، قلمی ، چپڑ قناتی ۔۔۔

غرض بازار خوشبوؤں سے بھرنے والا ہے ۔۔۔۔۔

وسعت اللہ خان
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

 
فیصل ناصر's Avatar
فیصل ناصر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 195
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-04-11), محمد یاسرعلی (25-04-11), مرزا عامر (25-04-11), راجہ اکرام (25-04-11), رضی (05-06-11), عبدالقدوس (25-04-11)
جواب

Tags
color, ہے۔, فروخت, کوئی, کلاس, گمان, پہلے, پڑی, پاکستان, نواز, اللہ, امریکہ, اجازت, اسلامی, بڑھانے, بار, بازی, خلاف, خان, دے, زرداری, سال, شروع, عافیہ, صوبے


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:19 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger