| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 646
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 812
کمائي: 5,892
شکریہ: 2,351
408 مراسلہ میں 663 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,413
کمائي: 96,298
شکریہ: 52,581
11,199 مراسلہ میں 35,314 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ بنیادی طور پر fatty acids ہوتے ہیں جو عام چکنائیوں کے بر عکس انسانی جسم کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ ویے تو ان چکنائیوں یا
fatty acids کی بہت سی اقسام ہیں لیکن ڈی ایچ اے اور آر پی اے اس کی مشہور اقسام ہیں ۔ ان چکنائیوں سے دماغ، دل، آنکھوں اور جوڑؤں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے بتائے جاتے ہیں۔ اس بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے ’’یہاں‘‘ کلک کریں |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | احمد نذیر (12-08-11), حسنین ایوب (14-08-11) |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,413
کمائي: 96,298
شکریہ: 52,581
11,199 مراسلہ میں 35,314 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ بنیادی طور پر fatty acids ہوتے ہیں جو عام چکنائیوں کے بر عکس انسانی جسم کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ ویے تو ان چکنائیوں یا
fatty acids کی بہت سی اقسام ہیں لیکن ڈی ایچ اے اور آر پی اے اس کی مشہور اقسام ہیں ۔ ان چکنائیوں سے دماغ، دل، آنکھوں اور جوڑؤں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے بتائے جاتے ہیں۔ اس بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے ’’یہاں‘‘ کلک کریں |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے خیال میں اگر تین دفعہ اومیگا سائن بنایا جائے تو اومیگا 3 ہو جائے گا۔
ڈاکٹر نذیر مشتاق اومیگا 3,6,9ترشۂ چربی کا وہ گروپ ہے جن میں وہ سبھی لازمی ترشۂ ہائے چربی موجود ہیں جو ایک انسان کے صحت مند رہنے کے لئے ضروری ہیں۔ ان میں فرق صرف کیمیائی ساخت کا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اومیگا -3کا ہماری غذامیں شامل ہونا ضروری ہے ۔ جواب یہ ہے کہ اومیگا 3-کے بغیر بھی زندگی سے کوئی شکوہ نہیں لیکن اس کے بغیر زندگی زندگی نہیں ۔یعنی اس کی کمی سے صحت کامل کا تصور ناممکن ہے ۔ اومیگا-6اور 9ہمیںغذا اورمختلف قسم کی چربیوں سے حاصل ہوتاہے لیکن اومیگا تھری کی قسم کی تیلوں سمندری مچھلیوں میں پایا جاتاہے اس لئے جہاں سمندری غذائیں دستیاب نہیں وہاں اسے حاصل کرنے کے لئے متبادل ذرائع استعمال کرنے پڑتے ہیں ۔ اومیگا تھری کے فائدے: ۱درد اور روم میں کمی : اومیگا تھر ی ترشۂ چربی (فیٹی ایسڈ) جسم کے داخلی اور خارجی ورم کو کم کرنے میں مدد دیتاہے ۔ کئی طریقوں سے یہ جسم کے التہابی چرخ کو کم کرنے میں اہم ترین رول اداکرکے درد اور التہاب سے نجات دلاتاہے ۔ جوڑوں میں ورم ہو یا پروسٹیٹ میں،مثانہ میں یا ناک میں ،آنکھ یا کان میں ، پیٹ میں یا کمردرد میں یا کسی بھی نظام کے کسی بھی عضو میں ورم ہو اومیگا تھری اسے کم کرتاہے ۔ ۲دل اور خون کی نالیوں کی صحت کے لئے اومیگا تھری ایک حیرت انگیز کیمیا ہے ۔ یہ دل اورہزاروں میل لمبی خون کی نالیوں کی کارکردگی پرانتہائی مثبت اثرات مرتب کرتاہے ۔ یہ کولسٹرول ، ٹرائی گلیسرائڈ کی سطح اور ہائی بلڈ پریشر کو کم کرتاہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اومیگا تھری مفید کولسٹرول کو بڑھاوادینے اور مضر کولسٹرول کو کم کرنے میں مدد کرتاہے ۔ اومیگا تھری دل کا بہترین اور وفاداردوست ہے ۔ یہ دل کی حفاظت کرتاہے ۔ ۳ہارٹ اٹیک او ربرین اٹیک سے بچائو :جب موٹاپا ، ہائی بلڈ پریشر ، ذیابیطس (شوگربیماری)اور کثرت سگریٹ نوشی سے خون کی نالیوں کی اندرونی تہیں موٹی اور سخت ہوجاتی ہیں تو ان کے اندر’’تھکے‘‘ بننے کے امکانات میں اضافہ ہوجاتاہے ۔کسی بھی وقت ، کسی بھی خونی کی نالی میں ، خون کے رُکنے کاباعث بن سکتے ہیں ۔ اس طرح ہارٹ اٹیک اور برین اٹیک (برین ہمریج)کا خطرہ لاحق ہوجاتاہے ۔ تحقیقات سے ثابت ہواہے کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ جمے ہوئے خون کو پتلا کرنے میں مدد دیتاہے اور خون کی نالیوں میں خون کو رُکنے نہیں دیتاہے ۔ بالفاظ دیگر امیگا تھری نہ صرف دل کا بلکہ دماغ کا بھی بہترین دوست ہے ۔ ۴دماغی کارکردگی اور ذہانت :-کئی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ جن حاملہ عورتوں کو دورانِ حمل اومیگا فیٹی ایسڈ دیا گیا ان کے بطن سے جنم لینے والے بچوں کی دماغی کارکردگی ،ذہانت اور مجموعی صحت پر انتہائی مفید اثرات پڑے ۔ اومیگاتھری فیٹی ایسڈ کے استعمال سے سکولی بچوں اور نوجوانوں کی یادداشت اور ذہانت میں بہتری آتی ہے اور وہ ہوم ورک کرنے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں ۔ تحقیقات سے ثابت ہواہے کہ بچوں ، نوجوانوں اور ادھیڑ عمر مردوں وعورتوں کے غیر فطری برتائو میں بدلائو آجاتاہے ۔ آٹزم ،ڈسلکسیا اور دیگر دماغی امراض میں مبتلا بچوں کو اومیگا تھری سے خاطرخواہ فائدہ ملتاہے ۔ ۵ڈپریشن اور دیگر دماغی امراض:- یونیورسٹی آ ف شفیلڈ میں تعینات ماہرین امراض نفسیات کی تحقیق اور دیگر محققین کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈکوادویات کے ساتھ ساتھ تجویز کرنے سے ڈپریشن اور دیگر کئی دماغی امراض کے علامات میں نمایاں کمی واقع ہوجاتی ہے ۔ اومیگا تھری مزاجی اختلال کو دور کرتاہے اور ڈپریشن کی شدت کو بہت کم کرتاہے ۔ اس طرح یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اومیگا تھری ایک دماغی ٹانک ہے ۔ ۶آرتھرائٹس اور اومیگا تھری:- جوڑوں کے ورم اور التہاب کو کم کرکے اومیگا تھری آرتھرائٹس کے مریض کو ایک نئی زندگی بخشتاہے ۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ریح ہار کے مریض اگر اومیگا تھری کا استعمال کریں تو ان کے جوڑوں پر کافی مثبت اثرات پڑتے ہیں ۔ ۷بڑی آنتوں او رپروسٹیٹ کا کینسر:- تحقیقات سے ثابت ہواہے کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ بڑی آنتوں اور پروسٹیٹ کے کینسر سے بچانے میں اہم رول ادا کرتاہے ۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اومیگا تھری سرسطان سے بچانے میں تین طرح سے مدد کرتاہے ۔ (ا):- نارمل خلیات کو سرطانی ٹیومر بنانے سے روکتاہے ۔(۲)-سرطانی خلیات کو منقسم ہونے سے روکتاہے ۔ ان کی تعداد کو حد سے زیادہ بڑھنے نہیں دیتاہے ۔(۳)-سرطانی خلیات کو موت کے گھاٹ اُتارنے میں اہم رول اداکرتاہے ۔ ۸نظامِ دفاع اور اومیگا تھری:-نظامِ دفاع ہمیں مختلف دشمنوں (وائرسوں، جراثیموں ،کیڑے مکوڑوں )کے حملوں سے بچاتا ہے۔ اس لئے نظام دفاع کا صحت مند ہونا بے حد ضروری ہے ۔ اومیگا تھری نظام دفاع کے لئے کام کرنے والے خلیات کو صحت مند رکھنے کے لئے ایک اہم رول ادا کرتاہے ۔ علاوہ ازیں یہ جسم کی جلد کی صحت کے لئے بھی سودمند ہے ۔ ۹آنکھوں کی بینائی :- اومیگا تھری کا ایک جز ڈی ایچ اےآنکھوں کے اندرونی پرے میں پایا جاتاہے ۔ تحقیقات سے ثابت ہواہے کہ آنکھوں کی بینائی پر اومیگا تھری مثبت اثرات مرتب کرتاہے ۔ ۱۰عورتوں اور بچوں میں مزید فوائد: ا]-سرطانِ پستان سے بچائو :-تحقیات سے ثابت ہواہے کہ جو عورتیں سمندری مچھلیوں کا تیل وافر مقدار میں استعمال کرتی ہیں ان کے سرطانِ پستان میں مبتلا ہونے کے امکانات میں پچاس فیصد کمی ہوجاتی ہے ۔ اومیگاتھری میں موجود ڈی ایچ اے ایک قدرتی ضدِ ورم ماد ہ ہے جو سرطانی خلیات کو منقسم ہونے سے روکتاہے او رسرطانی خلیات کو نابود کرنے میں اہم رول ادا کرتاہے ۔ ب]:-ماہواری کے دوران درد سے نجات:- جن عورتوں یا کنواری لڑکیوں کو ماہواری سے قبل پیٹ میں شدید درد ،سردرد ، اُبکائی اور مزاجی اختلال جیسے علامات کا سامنا کرنا پڑتاہے اُن کے لئے اومیگاتھری ایک اکسیر ہے ۔ اس کے استعمال سے ان کوناراحت کرنے والے علامات میں نمایاں کمی ہوجاتی ہے ۔ ج]:-بانجھ پن :-تحقیقات سے ثابت ہواہے کہ سمندری مچھلیوں سے برآمد تیل اور بانجھ پن کا آپس میں گہرا ربط ہے ۔مچھلی کا تیل (اومیگاتھری) زنانہ ہارمونوں کوا عتدال میں رکھنے کے علاوہ بچہ دانی کی خون کی سپلائی پربھی مثبت اثرات مرتب کرتاہے ۔ روز مرہ کی غذا میں تعین شدہ مقدار سے تھوڑا زیادہ اومیگاتھری لینے سے بانجھ عورت کا حمل ٹھہرنے کے امکانات میں اضافہ ہوتاہے ۔ علاوہ ازیں مچھلی کا تیل یعنی اومیگا تھری حاملہ عورت کی غذا میں شامل کرنے سے سقطِ حمل کے امکانات میں نمایاں کمی ہوجاتی ہے ۔ د]-صحت مند اور خوبصورت بچے : -اومیگا تھری حاملہ عورت کی غذا کا ایک انتہائی لازمی جُز ہے ۔یہ شکم میں پروان چڑھتے ہوئے بچے اور ماں کے درمیان خون کی سپلائی کو تیز کرتاہے ۔ اس طرح ماں کی طرف سے بچے کو زیادہ تغذیہ اور آکسیجن میسر ہوتاہے اس طرح صحت مند اور خوبصور ت بچے پیدا ہوتے ہیں ۔ ذ]-بچے کی دماغی نشونما:- ایک بچے کی دماغی نشونما(اور غذائی اجزاء کے علاوہ)اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی مناسب مقدار پر بھی منحصر ہے ۔ تحقیقات سے ثابت ہواہے کہ ڈی ایچ اے سے بچے کی دماغی نشوونما ہوتی ہے او ربچے کی ذہانت میں اضافہ ہوتاہے۔اس سے بچے کی قوت ِ بینائی ، سماعت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر بھی مثبت اثرات پڑتے ہیں ۔ ر]-بعداز زچگی ڈپریشن میں کمی :- تحقیقات سے ثابت ہواہے کہ جو عورتیں دورانِ حمل سمندری مچھلیوں کا تیل (یعنی اومیگا تھری)وافرمقدار میں استعمال کرتی ہیں ان کے ڈپریشن (بعدازحمل) میں مبتلا ہونے کے امکانات میں نمایاں کمی ہوجاتی ہے ۔ ز]- سنِ یاس کے علامات کی شدت میں کمی :- زنانہ ہارمونوں کو اعتدال میں رکھنے سے اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سن یاس میں کے ناراحت کنندہ علامات کو کم کرنے میں اہم رول اداکرتے ہیں ۔سن یاس کے آغاز میں اومیگا تھری کے استعمال سے عمر رسیدہ عورتوں کے مزاجی اختلال اور ’’گرم تھپیڑوں کے احساس‘‘ میں نمایاں کمی واقع ہوجاتی ہے ۔ علاوہ ازیں سن یاس میں قدم رکھنے کے بعد عورتوں کو ہڈیوں کی عام بیماری ’’ارسٹوپوروسس‘‘ میں مبتلا ہونے کے امکانات کو بھی کم کرتاہے ۔ س]- عورت کے دل کا دوست :- عام باطل عقیدہ کے برعکس عورتیں بھی مردوں کی طرح دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتی ہیں ۔سن یاس کے بعد عورتوں کے امراضِ قلب میں مبتلا ہونے کے امکانات مردوں کے برابر ہوجاتے ہیں۔ تحقیقات سے ثاتت ہواکہ اومیگا تھری عورتوں کو دل کی بیماریوں سے بچانے میں اہم رول ادا کرتاہے ۔ اس طرح بچپن سے لے کر عمر کی آخری حد تک اومیگا تھری کے بہت سارے فائدے ہیں ۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ سمندری مچھلیوں کا تیل استعمال کریں گے یا پھر یہ تیل دستیاب نہ ہونے کی صورت میں بازاروں میں دستیاب اومیگا تھری سپلیمنٹ استعمال کرنا شروع کریں گے اور بے شمار فوائد حاصل کریں گے۔
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (12-08-11), ھارون اعظم (13-08-11), منتظمین (12-08-11), محمدمبشرعلی (12-08-11), احمد نذیر (12-08-11), بلال الراعی (13-08-11), حیدر (12-08-11), حسنین ایوب (14-08-11), عروج (13-08-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مچھلی کا تیل دل کے مریضوں کے لیے مفید ہے ۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مچھلی کے تیل میں پایا جانے والے اومیگا تھری ایسڈز دل کی بیماری میں مبتلا افراد کی زندگی کے دورانیے میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ لیکن پہلی بار ایک نئی تحقیق سے یہ پتہ چلا ہے کہ اومیگا تھری سے کس طرح دل کی شریانوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی ڈاکٹر رامین فرزانہ فر کہتی ہیں کہ دل کی بیماری میں شریانوں کے اندرونی حصے میں گاڑھے مادے جم جاتے ہیں اور دل کی جانب خون کے بہاو میں رکاوٹیں ڈال دیتے ہیں۔دل کی شریانوں کی بیماری دنیا بھر میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ بہت سے جائزوں سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ ٹھنڈے پانی کی مچھلیوں، ٹونا، سامن اور دوسری چکنی مچھلیوں میں چربی کے مادے اومیگا تھری موجود ہوتے ہیں جو اس بیماری کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک کسی کو بھی صحیح طور پر یہ علم نہیں تھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ڈاکٹر رامین نے یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیق کی کہ آیا خلیوں کی عمر میں اضافے اور اومیگا تھری ایسڈز کے درمیان کوئی تعلق ہوسکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی تحقیق سے یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ جن مریضوں کے خون میں مچھلی کے تیل میں پائے جانے والے اومیگا تھری ایسیڈوںکی سطح زیادہ تھی، ان کے خلیوں میں عمر بڑھنے کے ساتھ بوسیدگی کے قدرتی عمل کی رفتار بظاہر سست تھی۔وہ کہتی ہیں کہ انسانی خلیوں کے مرکزے میں واقع کروموسومز کے آخری سرے پر واقع ٹیلومیر (Telomere) کی لمبائی میں عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ کمی آنے لگتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جوتوں کے تسموں کے سرے پر پلاسٹک کی چھوٹی سی نلکی لگی ہوتی ہے جو تسموں کی ڈوری کو کھلنے سے روکتی ہے۔ بالکل ایسے ہی ٹیلومیر کروموسوم کے دونوں سروں پر لگے ہوتے ہیں اور وہ کروموسوم کی ساخت کو برقرار رکھتے ہیں۔ عمر کے ساتھ ساتھ اس ٹیلومیر کی لمبائی گھٹتی چلی جاتی ہے جس کی وجہ سے کروموسوم کی ساخت برقرار نہیں رہ سکتی اور انسان مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر رامین اور ان کے ٹیم نے دل کے چھ سو مریضوں کے خون کے خلیوں میں موجود ٹیلومیر کی لمبائی کی پیمائش کی۔ وہ کسی مخصوص مدت کے دوران اومیگا تھری ایسڈز اور ٹیلومیر کی لمبائی میں تبدیلی کے درمیان کسی تعلق کا پتا چلانا چاہتے تھے۔ڈاکٹر رامین کہتی ہیں کہ جن مریضوں میں مچھلی کے تیل میں موجود اومیگا تھری ایسڈز کی مقدارسب سے زیادہ تھی، ان کے ٹیلومیر کی لمبائی میں کمی واقع ہونے کی رفتار سب سے کم تھی جبکہ جن مریضوں کے خون میں اومیگا تھری ایسڈز کی مقدار سب سے کم تھی، ان کے ٹیلومیر کی لمبائی کم ہونے کی رفتار سب سے زیادہ تھی۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان مریضوں میں عمر کے بڑھنے کے ساتھ قدرتی بوسیدگی کا عمل اس گروپ سے زیادہ تھا جن کے خون میں اومیگا تھری کی مقدار زیادہ تھی۔ ڈاکٹر رامین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی اس سفارش کی تائید کرتے ہیں کہ دل کی شریانوں کی بیماری میں مبتلا افراد کو دن میں کم از کم ایک گرام اومیگا تھری استعمال کرنا چاہیے۔ اس سے پہلے ماہرین کا یہ خیال تھا کہ صرف باقاعدہ ورزش اور ذہنی دباؤ پر قابو پانے سے ٹیلومیر کو صحت مند رکھا جاسکتا ہے۔ لیکن اس نئی تحقیق کے مطابق چکنی مچھلی کھانے یا اومیگا تھری کا استعمال بھی فائدہ مند ہوسکتا ہے۔کلیولینڈ کلینک کے ڈاکٹر مائیکل روئیزن کہتے ہیں کہ کم از کم ان سے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔وہ کہتے ہیں کہ یہ زندگی کے دورانیے کو بڑھانے اور معذوری کو امکانی طور پر کم کرنے کا ایک خطرے سے پاک طریقہ ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ اومیگا تھری صرف دل کی بیماری کے مریضوں کے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہیں بلکہ انہیں جوڑوں کی سوزش کم کرنے، حافظہ خراب ہونے کی رفتار گھٹانے اور مالیکیولوں کے انحطاط کے عمل کو سست کرنے سے بھی منسلک کیا گیا ہے جو بڑی عمر کے افراد میں نابینا پن کی ایک سب سے عام وجہ ہے۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
رامین ایک اسلامی نام اس کا مطلب اس وقت میرے ذہن میں نہیں آرہا کسی سے پوچھ کر بتاتا ہوں
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
| عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (12-08-11) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
اکثر ناولز میں ہیرو کا نام رامین ہوتا ہے
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,413
کمائي: 96,298
شکریہ: 52,581
11,199 مراسلہ میں 35,314 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,413
کمائي: 96,298
شکریہ: 52,581
11,199 مراسلہ میں 35,314 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جو خطاب عبد اللہ کو اُس کے پیر نے نہیں دیا آج تک ، وہ بالاخر مل ہی گیا
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, quote, ہوتے, فخر, فرمائیں, کہنے, کوکنگ, کلک, کرتے, پڑھا, ڈبے, معلومات, آنکھوں, آر, اقسام, السلام, احباب, بٹ, بلا, بر, تھری, تحفظ, ساتھ, طور, عکس |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا امت مسلمہ (پاکستان) میں مسلہ فلسطین پر دراڑ پڑگئی؟؟ | حیدر Rehan | اسلامی نظریہ حیات | 42 | 10-09-10 12:00 AM |
| ہنساتا تھا مجھ کو، تو پھر رُلا بھی دیتا تھا | محمدعمر | شعر و شاعری | 2 | 14-11-09 09:35 AM |
| ترے جیسا میرا بھی حال تھ ،ا نہ سکون تھا نہ قرار تھا | The Great | شعر و شاعری | 0 | 27-08-09 11:25 AM |
| وہ میرے پاس تھا اور میری دسترس میں نہ تھا | Ashfaq Ahmed | شعر و شاعری | 0 | 22-09-07 07:21 PM |