وہ گھر جب بنا توگھر کے مالک نے اُسکی دیواریں مظبوط بنانے میں کوئی کسر نہیں چُھوڈی۔
مگر وہ ابھی گھر کی دہلیز پر تھا کہ وہ انتقال کرگیا ۔ایک طرف اُن کے جانے کا غم تو دوسری طرف گھر کو بچانے کی فکر چند روز تک افرادخانہ کو ستاتی رہی۔
اُس گھر پر قدرت بھی مہربان نہیں رہی۔ حالات کے تپھیڑوں میں ہمیشہ گھرا۔ دشمنوں نے کبھی اسے راحت کی سانس لینے نہیں دی گھر پھر بھی کھڑا رہا لیکن جب خودگھر کے افراد نے اسے چوروں کی طرح لوُٹاتو اسکا وجود خطرے میں پڑگیا اور اس کی ایک ایک انیٹ غایب ہونے لگی۔
آس پاس کے پڑوسی ٹکٹکی لگا کر دیکھ رہے تھے اورآخری اینٹ گرنے کا انتظار بھی کرتے رہے۔ گھر میں رہنے والوں کو اسکا کوئی احساس نہیں رہا بلکہ اپنی مستی میں ہوش وحواس کھو بیٹھے تھے
جب خدا نے دیکھا کہ ان لوگوں کو گھر کی تباہی کا کوئی خیال نہیں اور نہ اسے بچانے کا کوئی غم ہے یہ لوگ ہمیشہ لڑتے جھگڑتے ہیں ایک دوسرے کو مانتے نہیں نفسا نفسی کی مارا ماری میں پڑے ہیں تو کیوں نے اس گھر کوہی ختم کردیا جائے۔
پھر اچانک ایک بڑا زبردست دھماکہ ہوا ۔نہ گھر رہا اور نہ گھر میں رہنے والے لوگ رہے بالکل بگ بینگ والا دھماکہ جس میں کاینات ختم ہوگئ تھی۔
سکول میں جب ہم آپس میں لڑتے تھے تو ہماری ٹیچر یہ کہانی ہمیں سنایا کرتی تھیں۔ اتنا عرصہ گذرنے کے بعد نہ جانے آجکل یہ کہانی مجھے بار بار کیوں یاد آرہی ہے۔
آپ بتاسکتے ہیں؟
نعیمہ احمد مہجور