بچپن سے جوانی تک
لڑکی سے عورت بننے تک
عورت سے ماں بننے تک
بنت ِ حوا کی زندگی میں
کتنے دور آتے ہیں
کتنے رشتے چھوٹتے ہیں
کتنے نئے رشتے جنم لیتے ہیں
کتنے دکھ اٹھاتی ہے
کتنی قربانیاں دیتی ہے
ہاں وہی بنت ِ حوا
جسے کبھی دیوی بنا کے پوجا گیا
تو کبھی اس کے پیروں تلے جنت بچھائی گئی
کبھی بیٹی کے صورت میں رحمت کہلائی
تو کبھی بہن کے روپ میں
گھر کی عزت ٹھہری
یہی بنت ِ حوا
جب بیوی بنی تو
شریک حیات قرار پائی
اسی کی کوک سے
پیغمبروں اور رسولوں نے جنم لیا
اے ابن ِ آدم
کیا تو نے
کچھ پل کے لیے ہی سہی
کبھی یہ سوچاہے
کہ بنت ِ حوا کتنی عظیم ہے
ہر روپ میں
ہر دکھ سکھ میں
تیرے کام آتی ہے
تیرا ساتھ دیتی ہے
مگر
اے ابن ِ آدم
کیا تو نے اس کے حقوق ادا کیے؟
کیا تو نے کو
اس کا اصل مقام دیا ؟
اگر نہیں تو کیوں ؟
کیا انسان نہیں یہ بنت ِ حوا ؟