واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


بچپن کی یادیں - 4

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-04-10, 05:57 PM   #1
بچپن کی یادیں - 4
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 02-04-10, 05:57 PM

پرائمری اسکول سے نکلنے کے بعد ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ گڑھی کپورہ کا ہائیر سیکنڈری اسکول پورے مردان ڈویژن کا پرانا اسکول ہے۔ ہمارے کچھ اساتذہ کے مطابق، اس کی تعمیر 1957 میں ہوئی تھی، اور اس وقت کے طلبہ نے اپنے کاندھوں پر پتھر لاد کر اس کی تعمیر میں حصہ لیا تھا۔ بعد میں اسی اسکول سے پڑھنے والے طلبہ میں سے کچھ اسکول ماسٹر بن کر وہاں پڑھاتے رہے۔

چھٹی جماعت میں ڈرائینگ اور پشتو اختیاری مضامین تھے۔ میں نے ڈرائینگ کا انتخاب کیا، کیونکہ پشتو کے استاد بہت سخت مزاج تھے۔ البتہ ڈرائینگ والے بہت اچھے تھے۔ نیز یہ بھی فائدہ تھا کہ کچھ زیادہ کام نہیں کرنا پڑتا تھا ڈرائینگ کے پیریڈ میں۔ جبکہ پشتو کی کلاس تو بہت سنجیدہ قسم کی کلاس ہوتی تھی۔ پشتو کے استاد زرشید صاحب تھے، جو شاید پورے اسکول میں پشتو پڑھانے والے واحد استاد تھے۔

میں جتنا ان سے ڈرتا تھا، اتنا ہی ان کے زیرعتاب آیا۔ ہوا یوں کہ ایک بار ہمارے اردو کے استاد چھٹی پر تھے۔ ان کی جگہ زرشید صاحب پیریڈ اٹینڈ کرنے آئے۔ اس وقت ہماری کلاس میں استاد کے لئے میز نہیں تھی۔ بس ایک کرسی تھی۔ میں سب سے آگے والی قطار میں ٹھیک استاد کے سامنے بیٹھتا تھا۔ زرشید صاحب آئے تو کچھ دیر تک چپ رہنے کے بعد لڑکوں نے شور کرنا شروع کردیا۔ ان کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا۔ چند لمحوں تک انتظار کرنے کے بعد جب ان کی صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، تو انہوں نے ڈنڈا اُٹھا کر زور سے مجھے رسید کیا، اور چلا کر کہنے لگے، خاموش!!!

لڑکے کچھ دیر تک خاموش رہتے۔ لیکن اپنی عادت سے مجبور ہوکر پھرشور مچانے لگتے۔ زرشید صاحب پھر وہی طریقہ دہراتے۔ حالانکہ میں ان شور کرنے والوں میں شامل نہیں تھا۔ خیر، کلاس ختم ہونے تک میری درگت بن چکی تھی۔

ساتویں جماعت میں، میں نے ڈرائینگ کی جگہ پشتو کا انتخاب کیا۔ پشتو کی کلاس ہمارے لئے بڑی دلچسپ کلاس ہوتی تھی۔ کیونکہ زرشید صاحب سنجیدہ انداز میں بھی اس طرح پڑھاتے کہ لڑکے پوری توجہ دیتے۔ ان کا اپنا ایک اسٹائل تھا۔ مثلاً، غصے میں آتے تو مسواک سے مارتے۔ اس طرح آتے ہی بلیک بورڈ پر پشتو کے کچھ الفاظ لکھ کر اس کی معنی پوچھتے۔  ایک بار انہوں نے کچھ لفظ لکھ دیا، اور کہا، اس کے معنی بتاؤ۔ کسی نے کہا، اس کا مطلب ہے دادا۔ کسی نے کہا، دادی۔ غرض کسی نے کچھ کہا، کسی نے کچھ۔ بعد میں انہوں نے ایک لمبی چوڑی تقریر کی، اور کہا، اس کا مطلب ہے ماموں۔

باقی اساتذہ کی طرح زرشید صاحب کو بھی کلاس میں شور بالکل پسند نہیں تھا۔ ایک بار سبق کے دوران کسی طالب علم نے ڈیسک کو زور سے دھکا دیا، جس سے ڈیسک کے کھسکنے سے آواز پیدا ہوئی۔ میں چونکہ کلاس کا مانیٹر تھا، اس لئے انہوں نے مجھے دیکھ کر کہا، یہ کس نے کیا ہے؟ جلدی بتاؤ۔

میرا دھیان تو سبق کی طرف تھا، اس لئے میں نے کسی کو دیکھا نہیں تھا۔ میں نے ان سے کہہ دیا۔ انہوں نے کہا، یا تو بندے کا نام بتاؤ یا پھر خود سزا کے لئے تیارہوجاؤ۔ یہ سن کر میں تو بہت پریشان ہوگیا۔ اب جس سمت سے آواز آئی تھی، اس طرف دیکھ کر دو، تین طلبہ میں سے ایک کا نام بتا دیا کہ سر، اس نے کیا ہے۔

زرشید صاحب ڈنڈا لے کر اس کی طرف جانے لگے۔ اس بیچارے نے شور مچانا شروع کردیا، کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے۔ مسلسل احتجاج دیکھ کر زرشید صاحب کو بھی تھوڑا شک ہوا۔ انہوں نے مڑ کر میری طرف دیکھا۔ میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ سوچا شامت آگئی ہے۔

کہنے لگے، ادھر آؤ۔ میں ان کے پاس گیا۔ کہا، اس بنچ پر بیٹھو۔ اور اس سے وہی آواز نکالو۔ میں بنچ پر بیٹھ گیا۔ دل ہی دل میں دعائیں کررہا ہوں کہ یا اللٰہ وہی آواز نکلے، ڈیسک کو بہت ہلایا، لیکن کچھ بھی آواز نہ نکلی۔ مجھے سردیوں میں پسینہ آگیا۔ ان سے کہا، سر، اس ڈیسک سے تو آواز نہیں نکل رہی۔ انہوں نے کچھ لمحوں تک مجھے گھورنے کے بعد کہا، ٹھیک ہے۔ اپنی بنچ پر جاؤ۔

ہماری کلاس میں دو تین لڑکے نعت خوانی کرتے تھے۔ ایک لڑکے گلزار شاہ کی آواز بہت اچھی تھی، لیکن وہ پڑھائی میں کچھ تیز نہیں تھا۔ اکثر دوسرے اساتذہ اس کو نعت پڑھنے کو کہتے۔ بہت اچھی آواز تھی اس کی۔ لیکن زرشید صاحب کو وہ بالکل پسند نہیں تھا۔ ہمیں چونکہ اس بات کا اندازہ تھا، اس لئے کبھی کبھار ان سے کہتے، سر، گلزار شاہ ایک نعت پڑھ لیں؟ یہ سن کر وہ جلدی سے کہتے، نہیں بالکل نہیں، اس کو کہو جا کر مسجد میں نعت پڑھے۔

ہمارے عربی کے استاد تھے، کفایت اللٰہ صاحب۔ بہت اچھے آدمی تھے۔ زرشید صاحب اکثر ان کو تنگ کرنے کے لئے ہمیں بھیج کر ان سے کچھ نہ کچھ الفاظ کا پشتو میں ترجمہ پوچھتے۔ ایک بار مجھے بلا کر کہنے لگے، تم کفایت اللٰہ کو جانتے ہو؟ میں نے کہا، جی ہاں، وہ ہمیں عربی پڑھاتےہیں۔ کہنے لگے، جاؤ ان سے پوچھو کہ جیسے ہر لفظ کا ایک مہمل ہوتا ہے، جیسے مولی وولی، اس کا پشتو میں کیا ترجمہ ہوگا؟

میں نے ان کے پاس جا کر کہہ دیا۔ کفایت اللٰہ صاحب سن کر ہنسنے لگے۔ کہنے لگے، زرشید صاحب کو کہو، میں عربی پڑھاتا ہوں، پشتو نہیں۔ 

اس سلسلے کی پہلی مضامین پڑھنے کے لئے:

بچپن کی یادیں - 1

بچپن کی یادیں - 2

بچپن کی یادیں - 3
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,939 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 241
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-04-10), وقاص احمد ضیاء (02-04-10), منتظمین (03-04-10), حیدر (05-04-10), راجہ اکرام (03-04-10), شاہ جی 90 (05-04-10), عبداللہ آدم (06-04-10), عدنان دانی (02-04-10)
پرانا 02-04-10, 06:30 PM   #2
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 12
کمائي: 480
شکریہ: 49
11 مراسلہ میں 25 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ھارون بھائی لکھتے رہے۔ آپ کا یہ مضون بہت ہئ اچھا ہے۔ اور ہم سب اس کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اسکو جاری رکھیے۔ کیونکہ اس مضمون سے ہمیں اپنے بچپن کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔
وقاص احمد ضیاء آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے وقاص احمد ضیاء کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-04-10), ھارون اعظم (05-04-10), شاہ جی 90 (05-04-10), عبداللہ آدم (06-04-10)
پرانا 02-04-10, 10:10 PM   #3
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,300
شکریہ: 4,887
4,401 مراسلہ میں 11,066 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واہ ہاورن بھائی بہت خوب ، اپ کا انداز بیاں بہت ہی اچھا ہے
بار بار پڑھنے کو من کررہا ہے ، اللہ تعالٰی مزید توفیق دے آمین
عدنان دانی آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (11-04-10), شاہ جی 90 (05-04-10)
پرانا 02-04-10, 10:12 PM   #4
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,300
شکریہ: 4,887
4,401 مراسلہ میں 11,066 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واہ ہاورن بھائی بہت خوب ، اپ کا انداز بیاں بہت ہی اچھا ہے
بار بار پڑھنے کو من کررہا ہے ، اللہ تعالٰی مزید توفیق دے آمین
عدنان دانی آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-04-10, 10:13 PM   #5
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,641
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,939 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عدنان دانی مراسلہ دیکھیں
واہ ہاورن بھائی بہت خوب ، اپ کا انداز بیاں بہت ہی اچھا ہے
بار بار پڑھنے کو من کررہا ہے ، اللہ تعالٰی مزید توفیق دے آمین
عدنان بھائی، حوصلہ افزائی کا شکریہ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (05-04-10)
پرانا 05-04-10, 09:51 AM   #6
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واہ ہارون بھائی!!
آپکا انداز تحریر بہت دلچسپ ہے۔ کام کی زیادتی کے باعث سرسری نظر ڈالنے کے ارادے سے آئی تھی کہ بعد میں تفصیل سے پڑھوں کی مگر تحریر نے تکمیل سے پہلے چھوڑا ہی نہیں اورجواب دئے بغیر رہا نہیں گیا۔ اسی طرح لکھتے رہئے،اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ آمین
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (05-04-10), حیدر (05-04-10), شاہ جی 90 (05-04-10)
پرانا 05-04-10, 04:26 PM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,413
کمائي: 96,303
شکریہ: 52,581
11,200 مراسلہ میں 35,315 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آہا ہارون بھائی بہت خوب۔ ویسے آپ کلاس کے شور کرنے اور ڈیسک ہلانے کے بعد کے واقعات حٍذف کر گئے ہیں۔ لگتا ہے فلم کٹی ہوئی ہے ادھر سے۔
کیونکہ جب ہم 7thکلاس میں تھے تو ایک مرتبہ کلاس میں شور و غوغا ہوا۔میں جب پڑھائی میں منہمک ہوتا ہوں تو مجھے دنیا و ما فیہ کا علم نہیں ہوتا ۔ انچارج صاحب تشریف لے آئے۔ مجھ سے پوچھا کون شور کر رہا تھا؟ میں نے حیران ہو کر کہا کہ ہیں سر ادھر تو کوئی شور نہیں کر رہا تھا ۔ انچارج صاحب کا پارہ چڑھ گیا۔ پوری کلاس کو مرغا بنا دیا۔ اور راؤنڈ لگانے لگے ۔ہر راؤنڈ میں ہر لڑکے کی تشریف پر ایک سوٹا جبکہ مجھ غریب پر خصوصی کرم تھا مجھے دو سوٹوں سے فیضیاب کیا جاتا تھا۔ 15 منٹ بعد جب ہم کو بیٹھنے کو کہا گیا تو صورت حال یہ تھی کہ ہم لوگ بیٹھنے کے بجائے مرغا بننے کو ترجیح دے رہے تھے۔ آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ کیوں
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-04-10), ھارون اعظم (05-04-10), شاہ جی 90 (05-04-10), عبداللہ آدم (06-04-10)
پرانا 05-04-10, 09:41 PM   #8
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی باتیں اور یادیں کتنا سکھ دیتی ہیں
مزا آ گیا
ہمارے بھی عربی کے ایک استاد عبدالرسول نے ایک بار ہمیں مرغا بننے کو کہا ، غلطی ہماری یہ تھی کہ ایک اور لڑکے کو مرغا بنوایا گیا تھا اور ہمیں اس کو جوتا اتار کر مارنے کو کہا گیا تھا ۔ ہم نے ان کے فرمان پر عمل کرنے کی جھجک دکھائی اور ان سے گزارش کی کہ یہ کچھ مناسب نہیں لگتا ، کوئی اور سزا اس بے چارے کو دے دیں ۔
بس ہمارا یہ کہنا تھا کہ ان کا پارا آسمان کو چھونے لگا اور ارشاد ہوا
تم بھی کان پکڑ لو ۔
ساتھ ہی ایک اور لڑکے سے کہا کہ اب تم ان دونوں کو تین تین جوتے مارو ۔
یہ سنتے ہی ہم نے کان چھوڑ دئیے اور گزارش کی کہ اصول تعلم میں کہیں بھی کان پکڑوا کر جوتا کاری کا ذکر موجود نہیں ، اگر آپ یہ حکم واپس لیتے ہیں تو درست ورنہ ہم ہیڈ ماسٹر صاحب کے پاس جا رہے ہیں ، اور اگر وہاں بھی شنوائی نہ ہوئی تو ڈائریکٹر سکولز کے پاس ہم براہ راست جا سکتے ہیں ۔
یہ سننا تھا کہ عبدالرسول صاحب خون کے گھونٹ پیتے خاموش ہو گئے اور دوسرے لڑکے کو بھی کان چھوڑنے کا حکم دیا ، ساتھ ہی ہلکی سی آواز میں ہمیں کلاس سے دفع ہو جانے کا حکم دیا ، جو کہ ہم نے ان کے احترام میں مان لیا تھا ۔
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-04-10), ھارون اعظم (05-04-10), حیدر (05-04-10), عبداللہ آدم (06-04-10)
پرانا 05-04-10, 09:49 PM   #9
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,641
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,939 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام طلحہ مراسلہ دیکھیں
واہ ہارون بھائی!!
آپکا انداز تحریر بہت دلچسپ ہے۔ کام کی زیادتی کے باعث سرسری نظر ڈالنے کے ارادے سے آئی تھی کہ بعد میں تفصیل سے پڑھوں کی مگر تحریر نے تکمیل سے پہلے چھوڑا ہی نہیں اورجواب دئے بغیر رہا نہیں گیا۔ اسی طرح لکھتے رہئے،اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ آمین

ام طلحہ بہن، یہ تو آپ کا حسن نظر ہے۔ میں نے تو نارمل انداز میں واقعات کو بیان کیا ہے۔ بہنوں اور بھائیوں کی یہی توجہ مجھے پاک نیٹ پر کھینچ کر لاتی ہے۔ اللٰہ آپ کو خوش رکھے۔ آمین
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
ام طلحہ (06-04-10), حیدر (05-04-10), شاہ جی 90 (05-04-10)
پرانا 05-04-10, 10:05 PM   #10
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,641
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,939 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
آہا ہارون بھائی بہت خوب۔ ویسے آپ کلاس کے شور کرنے اور ڈیسک ہلانے کے بعد کے واقعات حٍذف کر گئے ہیں۔ لگتا ہے فلم کٹی ہوئی ہے ادھر سے۔
کیونکہ جب ہم 7thکلاس میں تھے تو ایک مرتبہ کلاس میں شور و غوغا ہوا۔میں جب پڑھائی میں منہمک ہوتا ہوں تو مجھے دنیا و ما فیہ کا علم نہیں ہوتا ۔ انچارج صاحب تشریف لے آئے۔ مجھ سے پوچھا کون شور کر رہا تھا؟ میں نے حیران ہو کر کہا کہ ہیں سر ادھر تو کوئی شور نہیں کر رہا تھا ۔ انچارج صاحب کا پارہ چڑھ گیا۔ پوری کلاس کو مرغا بنا دیا۔ اور راؤنڈ لگانے لگے ۔ہر راؤنڈ میں ہر لڑکے کی تشریف پر ایک سوٹا جبکہ مجھ غریب پر خصوصی کرم تھا مجھے دو سوٹوں سے فیضیاب کیا جاتا تھا۔ 15 منٹ بعد جب ہم کو بیٹھنے کو کہا گیا تو صورت حال یہ تھی کہ ہم لوگ بیٹھنے کے بجائے مرغا بننے کو ترجیح دے رہے تھے۔ آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ کیوں
بدر بھائی، ڈیسک ہلانے کے بعد کے واقعات حذف نہیں کئے بلکہ بلا کم و کاست بیان کئے ہیں۔ دراصل مجھے بھی اس وقت یقین نہیں‌ آیا تھا، جب انہوں نے مجھے واپس اپنی سیٹ پر بیٹھنے کو کہا تھا۔ لیکن انہوں نے واقعی کچھ کہا نہیں تھا۔ اس لئے آپ حسن ظن رکھیں۔

لیکن واقعی ایک اور واقعہ کا ذکر کرنا بھول گیا تھا۔ چھٹی جماعت میں ڈرائینگ لی تھی، کیونکہ وہ ٹیچر بہت ہنس مکھ اور طلبہ سے پیار سے پیش آنے والے تھے۔ پورا سال ان کی کلاس ہمارے لئے کسی نعمت سے کم نہیں تھی۔ لیکن ساتویں جماعت میں مجھے پشتو کا انتخاب کرنا پڑا۔ اس کی وجہ بھی کچھ آپ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی طرح ہے۔

ہوا یوں کہ ڈرائینگ کے استاد عبید اللٰہ صاحب تھے۔ ایک بار کسی دوسرے استاد کی جگہ کلاس اٹینڈ کرنے آگئے تھے۔ ان کی عادت تھی، کہ اکثر کسی نہ کسی بات پر لطیفے سنایا کرتے تھے۔ اس دن بھی یہی کچھ چل رہا تھا۔ لڑکے بے اختیار ہنسے جارہے تھے۔ پتہ نہیں انہیں کس بات پر غصہ آیا کہ اچانک سب لڑکوں کو چپ رہنے کا کہہ کر ڈنڈا ہاتھ میں لئے باری باری سب کی پٹائی شروع کردی۔ جب میری باری آئی، تو مجھے بھی بہت مار پڑی۔ مجھے بہت غصہ آرہا تھا، کہ ایک طرف تو لطیفے سناتے ہیں، اور پھر ہنسنے پر مارتے بھی ہیں۔ اسی دوران یہ بات منہ سے نکل بھی گئی۔ بس پھرکیا تھا، میری تو شامت آگئی تھی۔ وہ مارتے ہی جارہے تھے۔ آخر میں مجھے کلاس میں ان سے بھاگنا ہی پڑا۔

اس واقعے کے بعد کچھ دنوں تک سب ساتھیوں نے مل کر ان کے ساتھ بات چیت کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ہم ان کی کلاس میں جاکر خاموشی سے بیٹھتے۔ وہ کچھ بات کرتے تو ہوں ہاں میں جواب دیتے۔ وہ بھی آخر استاد تھے۔ ہماری خاموشی کو سمجھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے غلط مت سمجھو، تم سب میرے بیٹوں کی طرح ہو۔(ان کا اپنا بیٹا بھی ہمارا کلاس فیلو تھا۔(

اللٰہ ان کو خوش رکھے۔ ہمارے سارے اساتذہ واقعی ماں‌ باپ سے بڑھ کر پیار کرتے ہیں ہمیں۔ فرق اتنا ہے کہ ہمیں‌ بعد میں ان کی توجہ اور پیار کا احساس ہوتا ہے۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-04-10), حیدر (05-04-10), شاہ جی 90 (05-04-10)
پرانا 05-04-10, 10:18 PM   #11
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,413
کمائي: 96,303
شکریہ: 52,581
11,200 مراسلہ میں 35,315 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہی یادیں تو سرمایہ زندگی ہیں۔ انہی کو یاد کر کے تو خوش ہو لیتے ہیں
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-04-10), ھارون اعظم (05-04-10), شاہ جی 90 (05-04-10)
پرانا 05-04-10, 10:20 PM   #12
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,641
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,939 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
یہی یادیں تو سرمایہ زندگی ہیں۔ انہی کو یاد کر کے تو خوش ہو لیتے ہیں
جی بدر بھائی۔ مجھے تو اسکول کا زمانہ ہی سب سے اچھا لگتا ہے۔ ویسے تو ہر حال پر اللٰہ کا شکر ہے۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-04-10), حیدر (05-04-10), شاہ جی 90 (05-04-10), عبداللہ آدم (06-04-10)
پرانا 06-04-10, 12:15 AM   #13
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,106
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,720 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہم تو ابھی بھی ذرہ نوازیوں سے نوازے جا رہے ہیں لیکن آج کل اساتذہ کی اکثریت سختی کرنے کی بجائے کہتی ہے کہ
:: پڑھنا ہے تو پڑہو نہیں تو کھڈے میں وڑو::
کم از کم کالجز میں یہی حال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (06-04-10), شاہ جی 90 (06-04-10)
جواب

Tags
ہے۔, کلاس, پسند, وقت, لمحوں, نام, نعت, مسجد, آدمی, انداز, احتجاج, اردو, استاد, بچپن, توجہ, حصہ, دیکھا, دعائیں, شور, شروع, علم, عادت, عربی, غصے, صبر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:30 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger