واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


بیٹی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-10-08, 05:59 PM   #1
بیٹی
سیپ سیپ آف لائن ہے 27-10-08, 05:59 PM


Assalam-o-Allykom wrt wbrkt
دور جہالت کے پروردہ ایک شخص نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللّہ علیہا کے ساتھ نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کا عالم دیکھا تو حیرت زدہ رہ گيا ۔ آنکھوں سے آنسو نکل آئے سوچنے لگا کہ آہ کس بے دردی سے میں نے اپنی پارۂ جگر کو صرف دور جہالت کی عصبیت کی بنا پر زندہ در گور کر دیا تھا۔ اور پھر نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کے استفسار پر اپنی داستان بیان کرنا شروع کردی ۔

میری بیوی حاملہ تھی ، ان ہی دنوں میں ایک سفر پر مجبور ہوگیا عرصے بعد پلٹ کر آیا تو اپنے گھر میں ایک بچی کو کھیلتے دیکھا بیوی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو بیوی نے کہا یہ تمہاری بیٹی ہے اور پھر کسی نامعلوم خوف کے تحت، التجا آمیزلہجے میں کہا: ذرا دیکھو تو کس قدر پیاری بچی ہے اس کے وجود سے گھر میں کتنی رونق ہے، یہ اگر زندہ رہے گی تو تمہاری یادگار بن کر تمہارے خاندان اور قبیلے کا نام زندہ رکھے گی۔ میں نے گردن جھکا لی، بیوی کو کوئی جواب دیے بغیر لڑکی کو بغور دیکھتا رہا لڑکی کچھ دیر تو اجنبی نگاہوں سے مجھے تکتی رہی پھر نہ جانے کیا سوچ کر بھاگتی ہوئی آئی اور میرے سینے سے لپٹ گئی، میں نے بھی جذبات کی رو میں اس کوآغوش میں بھر لیا اور پیار کرنے لگا کچھ عرصہ یونہی گزر گیا لڑکی آہستہ آہستہ بڑی ہوتی رہی اور ہوشیار ہوئی سن بلوغ کےقریب پہنچ گئی اب ماں کو میری طرف سے بالکل اطمینان ہو چکا تھا میرا رویہ بھی بیٹی کے ساتھ محبت آمیز تھا ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہا: ذرا اس کو بنا سنوار دو،میں قبیلے کی ایک شادی میں اسے لے جاؤں گا ماں بیچاری خوش ہو گئی اور جلدی سے سجا سنوار کر تیار کردیا۔ میں نے لڑکی کا ہاتھ پکڑ ا اور گھر سے روانہ ہوگيا۔ ایک غیر آباد بیابان میں پہنچ کر پہلے سے تیار شدہ ایک گڑھے کے قریب میں کھڑا ہوگیا لڑکی جو بڑی خوشی کے ساتھ اچھلتی کودتی چلی آرہی تھی میرے قریب آ کر رک گئی اور بڑی معصومیت سے سوال کیا: بابا یہ گڑھا کا ہے کے لیے ہے؟ میں نے سپاٹ لہجے میں اس سے کہا: اپنے خاندانی رسم و رواج کے مطابق میں تم کو اس میں دفن کردینا چاہتا ہوں تاکہ تمہاری پیدائش سے ہمارے خاندان اور قبیلے کو جو ذلت و رسوائی ہوئی ہے اس سے نجات مل جائے۔ لڑکی کو صورت حال کا اندازہ ہوا تو اس کے چہرے کا رنگ اڑ گيا اور قبل اس کے اس کی طرف سے کسی رد عمل کا اظہار ہو، میں نے اس کو گڑھے میں دھکیل دیا ۔ لڑکی دیر تک روتی اور گڑ گڑاتی رہی لیکن مجھ پر اس کے نالہ و فریاد کا کوئی اثر نہ ہوا۔ میں نے گڑھے کو مٹی سے بھر دیا ، اگرچہ آخر وقت تک وہ ہاتھ اٹھائے مجھ سے زندگی کی التجا کر رہی تھی لیکن افسوس! میں نے اپنے دل کے ٹکڑے کو زندہ در گور کردیا لیکن اس کی آخری التجا اب بھی میرے کانوں میں لاوے ٹپکاتی رہتی ہے: " بابا تم نے مجھے تو دفن کردیا لیکن میری ماں کوحقیقت نہ بتانا کہہ دینا کہ میں بیٹی کو اپنے قبیلے والوں میں چھوڑ آیا ہوں"۔

اپنے عرب صحابی سے ایک بیٹی کے زندہ درگور کر دیے جانے کی داستان سنی تو حضور صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہوگیا ۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوش میں جناب فاطمہ سلام اللّہ علیہا بیٹھی ہوئی تھیں ان کی آنکھوں میں بھی نمی نظر آئی نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا اور آپ صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کے ہونٹوں پر یہ جملے جاری ہوگئے: بیٹی تو رحمت ہے اور پھر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: میں فاطمہ کو دیکھ کر اپنے مشام جان کو بہشت کی خوشبو سے معطر کرتا ہوں۔

بار الٰہی میں تجھ سے موت کے وقت آرام و راحت اور قیامت کے حساب و کتاب کے وقت عفوو مغفرت کا طالب ہوں
__________________
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء *
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ

 
سیپ's Avatar
سیپ
Administrator


تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 353
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-03-09), نیلم خان (24-08-09), محمد عدنان (27-03-09), ایس اے نقوی (27-03-09), ام غزل (27-03-09), ابو عمار (27-10-08), ابن جلال (27-10-08), ثانیہ (13-11-08), سعود (27-03-09)
پرانا 27-10-08, 07:04 PM   #2
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: بیٹی

بہت اچھی شیئرنگ ہے ۔
___________
میں نے تو بہن کا پیار دیکھا ہے۔ بہن جیسی بھی ہو اتنا پیار کرتی ہے کہ اس کو لفظوں میں‌بیان نہیں کیا جاسکتا۔
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ابن جلال کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (24-08-09), ایس اے نقوی (27-03-09), ام طلحہ (27-03-09), ام غزل (27-03-09), سعود (27-03-09), عبداللہ حیدر (27-03-09)
پرانا 30-10-08, 11:37 PM   #3
Administrator


 
سیپ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,311
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: بیٹی

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زین الدین زیڈ ایف مراسلہ دیکھیں
بہت اچھی شیئرنگ ہے ۔
___________
میں نے تو بہن کا پیار دیکھا ہے۔ بہن جیسی بھی ہو اتنا پیار کرتی ہے کہ اس کو لفظوں میں‌بیان نہیں کیا جاسکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیپ آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (24-08-09), ام غزل (27-03-09), ابن جلال (13-11-08)
پرانا 13-11-08, 10:19 PM   #4
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: کسی کی یادوں میں
مراسلات: 80
کمائي: 1,407
شکریہ: 128
39 مراسلہ میں 90 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: بیٹی

ثوبیہ بہت اچھی شئرنگ ہے
ثانیہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ثانیہ کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (24-08-09), ام غزل (27-03-09)
پرانا 27-03-09, 04:54 AM   #5
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,501
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

باپ اور بیٹی کا رشتہ ہی کچھ ایسا ہے کہ خود ہمارے نبی (‌ ص ) نے بھی اس رشتے میں دنیا کیلئے ایک مثال چھوڑ دی۔
ثوبیہ جی بہت شکریہ۔
کہاں غائب ہیں‌آجکل۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (24-08-09), ام طلحہ (27-03-09), ابن جلال (03-04-09)
پرانا 27-03-09, 09:43 AM   #6
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 11
کمائي: 525
شکریہ: 24
4 مراسلہ میں 10 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت عمدہ شئیرنگ ہے
اللہ آپ کو اس کا اجر دے
آمین
محمد عدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمد عدنان کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (24-08-09), ام غزل (27-03-09)
پرانا 27-03-09, 01:01 PM   #7
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فرنٹ پیج پر بھی ڈال دیا ہے۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (24-08-09), ام غزل (27-03-09), ابن جلال (03-04-09)
پرانا 27-03-09, 05:35 PM   #8
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,020
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سیدہ ثوبیہ ناز صاحبہ گو کہ میں‌خود کافی دنوں بعد آیا ہوں پھر بھی آپ کی غیر موجودگی کا عرصہ مجھ سے زائد رہا ہے
اور آُپکی تحریر بہت کمال کی ہے جس کےلئے ابھی الفاظ کا انتخاب نہیں ہو سکا مجھ سے بہت اچھی تحریر ہے آپکی
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (24-08-09), ام غزل (27-03-09), ابن جلال (03-04-09)
پرانا 24-08-09, 10:44 PM   #9
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,909
کمائي: 561,191
شکریہ: 25,590
10,453 مراسلہ میں 38,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سیپ مراسلہ دیکھیں

Assalam-o-Allykom wrt wbrkt
دور جہالت کے پروردہ ایک شخص نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللّہ علیہا کے ساتھ نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کا عالم دیکھا تو حیرت زدہ رہ گيا ۔ آنکھوں سے آنسو نکل آئے سوچنے لگا کہ آہ کس بے دردی سے میں نے اپنی پارۂ جگر کو صرف دور جہالت کی عصبیت کی بنا پر زندہ در گور کر دیا تھا۔ اور پھر نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کے استفسار پر اپنی داستان بیان کرنا شروع کردی ۔

میری بیوی حاملہ تھی ، ان ہی دنوں میں ایک سفر پر مجبور ہوگیا عرصے بعد پلٹ کر آیا تو اپنے گھر میں ایک بچی کو کھیلتے دیکھا بیوی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو بیوی نے کہا یہ تمہاری بیٹی ہے اور پھر کسی نامعلوم خوف کے تحت، التجا آمیزلہجے میں کہا: ذرا دیکھو تو کس قدر پیاری بچی ہے اس کے وجود سے گھر میں کتنی رونق ہے، یہ اگر زندہ رہے گی تو تمہاری یادگار بن کر تمہارے خاندان اور قبیلے کا نام زندہ رکھے گی۔ میں نے گردن جھکا لی، بیوی کو کوئی جواب دیے بغیر لڑکی کو بغور دیکھتا رہا لڑکی کچھ دیر تو اجنبی نگاہوں سے مجھے تکتی رہی پھر نہ جانے کیا سوچ کر بھاگتی ہوئی آئی اور میرے سینے سے لپٹ گئی، میں نے بھی جذبات کی رو میں اس کوآغوش میں بھر لیا اور پیار کرنے لگا کچھ عرصہ یونہی گزر گیا لڑکی آہستہ آہستہ بڑی ہوتی رہی اور ہوشیار ہوئی سن بلوغ کےقریب پہنچ گئی اب ماں کو میری طرف سے بالکل اطمینان ہو چکا تھا میرا رویہ بھی بیٹی کے ساتھ محبت آمیز تھا ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہا: ذرا اس کو بنا سنوار دو،میں قبیلے کی ایک شادی میں اسے لے جاؤں گا ماں بیچاری خوش ہو گئی اور جلدی سے سجا سنوار کر تیار کردیا۔ میں نے لڑکی کا ہاتھ پکڑ ا اور گھر سے روانہ ہوگيا۔ ایک غیر آباد بیابان میں پہنچ کر پہلے سے تیار شدہ ایک گڑھے کے قریب میں کھڑا ہوگیا لڑکی جو بڑی خوشی کے ساتھ اچھلتی کودتی چلی آرہی تھی میرے قریب آ کر رک گئی اور بڑی معصومیت سے سوال کیا: بابا یہ گڑھا کا ہے کے لیے ہے؟ میں نے سپاٹ لہجے میں اس سے کہا: اپنے خاندانی رسم و رواج کے مطابق میں تم کو اس میں دفن کردینا چاہتا ہوں تاکہ تمہاری پیدائش سے ہمارے خاندان اور قبیلے کو جو ذلت و رسوائی ہوئی ہے اس سے نجات مل جائے۔ لڑکی کو صورت حال کا اندازہ ہوا تو اس کے چہرے کا رنگ اڑ گيا اور قبل اس کے اس کی طرف سے کسی رد عمل کا اظہار ہو، میں نے اس کو گڑھے میں دھکیل دیا ۔ لڑکی دیر تک روتی اور گڑ گڑاتی رہی لیکن مجھ پر اس کے نالہ و فریاد کا کوئی اثر نہ ہوا۔ میں نے گڑھے کو مٹی سے بھر دیا ، اگرچہ آخر وقت تک وہ ہاتھ اٹھائے مجھ سے زندگی کی التجا کر رہی تھی لیکن افسوس! میں نے اپنے دل کے ٹکڑے کو زندہ در گور کردیا لیکن اس کی آخری التجا اب بھی میرے کانوں میں لاوے ٹپکاتی رہتی ہے: " بابا تم نے مجھے تو دفن کردیا لیکن میری ماں کوحقیقت نہ بتانا کہہ دینا کہ میں بیٹی کو اپنے قبیلے والوں میں چھوڑ آیا ہوں"۔

اپنے عرب صحابی سے ایک بیٹی کے زندہ درگور کر دیے جانے کی داستان سنی تو حضور صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہوگیا ۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوش میں جناب فاطمہ سلام اللّہ علیہا بیٹھی ہوئی تھیں ان کی آنکھوں میں بھی نمی نظر آئی نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا اور آپ صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کے ہونٹوں پر یہ جملے جاری ہوگئے: بیٹی تو رحمت ہے اور پھر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: میں فاطمہ کو دیکھ کر اپنے مشام جان کو بہشت کی خوشبو سے معطر کرتا ہوں۔

بار الٰہی میں تجھ سے موت کے وقت آرام و راحت اور قیامت کے حساب و کتاب کے وقت عفوو مغفرت کا طالب ہوں
nice sharring ................................
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (25-08-09), ام غزل (16-09-09)
جواب

Tags
کمال, لڑکی, نظر, موت, ماں, محبت, اجنبی, تحریر, جواب, حال, خوش, دیکھو, دل, رشتے, زندگی, سفر, شخص, عالم, صاحبہ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اُمت کی بیٹی (ڈاکٹر عافیہ صدیقی) shafresha کتاب گھر 2 13-12-10 12:05 PM
بیٹی پیاری بیٹی مسافر بچوں کی تعلیم و تربیت 15 02-10-09 03:44 PM
حوا کی بیٹی کا قصاص ابن جلال خبریں 1 18-09-08 12:35 PM
چیف الیکشن کمشنر نے انتخابی اصلاحات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی عبدالقدوس خبریں 0 24-04-08 01:56 PM
گلبرگ ٹاؤن نے نقصانات کے جائزے کیلئے کمیٹی قائم کردی خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 10:16 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:35 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger