واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


تم کیسی ماں ہو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-05-09, 08:33 AM   #1
تم کیسی ماں ہو
سحر سحر آن لائن ہے 27-05-09, 08:33 AM

میں اس دنیا میں آیا تو میرا تعارف سب سے پہلے دو لوگوں سے ہوا ۔ ایک میری ماں دوسرےمیرے بابا۔ میرے ماں باپ مجھ کو ہاسپٹل سے لے کر آئے تو میں ذیادہ وقت اپنی ماں کی گود میں ہی تھا ۔ گھر پہنچ کر میری ماں نے مجھ کو بستر پر لٹایا اور میری چیزیں سمیٹنے لگی ۔ میرے بابا میرے پاس آئے اور مجھ کو گود میں لینے لگے تو ان کو پتا چلا کہ میں تو گیلا ہورہا ہوں انھوں نے جلدی سے مجھے اپنے سے دور کیا اور میری ماں کو آواز لگائی کہ وہ میرے کپڑے بدلیں ۔ میری ماں نے جلدی سے آکر مجھے بابا کی گود سے لیا مجھے پیار کیا اور اپنے سینے سے لگایا پھر بستر پر لٹاکر میرے کپڑے بدلائے۔ اتنے میں میرے بابا کی آواز آئی کہ اس کو پیک کرنا یا پیمپر پہناکر مجھے دینا ۔ میری ماں نے مجھ پر پاؤڈر ڈال کر اچھے سے تیار کیا پھر بابا کے حوالے کیا بابا نے مجھ کو لے کر پیار کیا ۔


تھوڑی دیر تک بابا میرے ساتھ کھیلتے رہے اتنے میں مجھ کو بھوک کا احساس ہوا تو میں رونے لگا ۔ بابا نے مجھ کو چپ کرانے کی کوشش کی لیکن میں چپ نہ ہوا تو بابا نے میری ماں کو آواز لگائی کہ یہ معلوم نہیں کیوں رورہا ہے ۔ تو میری ماں نے جواب دیا اس کو بھوک لگ رہی ہے اس لیے رورہا ۔ میں آتی ہوں ۔
رات کو جب بار بار مجھ کو بھوک ستاتی تو میں رونے لگتا ۔ میری ماں میری ایک آواز پر اُٹھ جاتی ۔
جب ایسا دو تین بار ہوا تو میرے بابا اُٹھے اور بولے میں دوسرے کمرے میں جاکر سو رہا ہوں ۔
مجھ کو صبح آفس جانا ۔ دن بھر میں سو نہیں پاتا اور رات کو یہ تنگ کرتا ہے ۔ تب میں نے سوچا کہ میری ماں بھی دن بھر نہیں سوتی
اگر وہ بھی یہ کہہ کر کہ میں دن بھر نہیں سو پاتی مجھے چھوڑ کر دوسرے کمرے میں چلی جائے تو میرا کیا ہو۔

ایسے ہی دن گزرتے گئے اور میں چھ ماہ کا ہوگیا ۔
ایک دن بابا آفس سے آئے میں کمرے میں کھلونوں سے کھیل رہا تھا ۔ بابا نے میرے پاس آکر پیار کرنا چاہا لیکن میرے پاس سے آتی پوٹی کی بو کی وجہ سے ایک دم پیچھے ہٹ گئے ۔ حالانکہ میں نے پیمپر پہنا ہواتھا اور میری ماں کو آواز لگائی ۔ کہ میں نے پوٹی کی ہوئی ہے۔ میری ماں کچن میں کام کررہی تھی ۔ و ہ کمرے میں آئی اس نے مجھے گود میں اٹھایا پیار کیا ۔ مجھے اپنے بابا کی آواز آئی وہ میری ماں سے کہہ رہے تھے تم کیسی ماں ہو تمھیں معلوم نہیں چلتا کہ تمھارے بیٹے نے پوٹی کی ہے۔ اس کو جلدی یہاں سے لے جاؤ پوٹی کی بو مجھ سے پرداشت نہیں ہو رہی ہے ۔ میری ماں نےمیری پوٹی دھلائی اور پاؤڈر ڈال کر مجھ کو تیار کیا اور مجھ کو بابا کے حوالے کیا ۔ بابا نے مجھ کو پیار کیا اور میرے ساتھ کھیلنے لگے ۔
مجھ سے میرے ماں باپ دونوں ہی بہت پیار کرتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ میری ماں مجھ کو پوٹی اور پشی کی بو کے باوجود پیار کرتی ہے اور میرے بابا مجھ کو پاؤڈر کی مہکتی ہوئی خوشبو کے ساتھ پیار کرتے ہیں
اسی طرح دن گزرتے گئے اور میں ایک سال کا ہوگیا ۔ اب میں کافی شرارتی ہوگیا تھا کبھی بستر پر سے گرنے لگتا ۔ میری ماں بھاگ کہ آتی اور مجھے پکڑتی ۔
میں اسی طرح اپنی ماں کو دوڑاتا رہتا ۔

ایک دن میرے بابا کمرے میں آفس کی فائلیں کھولے بیٹھے کچھ ضروری کام کررہے تھے ۔ میری ماں کچن میں مصروف تھیں ۔ میں بابا کے ساتھ کمرے میں اپنے کھلونوں سے کھیل رہا تھا ۔ اتنے میں مجھ کو خیال آیا ۔ سامنے ایک کرسی اور میز رکھی تھی جو میرے لحاظ سے کافی اونچی تھی ۔ میں چل کر کرسی پر چڑھا اور پھر میز پر
چڑ گیا ۔ ہمیشہ کی طرح بابا نے میری ماں کو آواز لگائی ۔ لیکن اس بار میری ماں کے آنے میں تھوڑی دیر ہوگئ اور میں میز پر سے زمیں پر گر گیا ۔ مجھے سر پر خاصی
چوٹ آئی ۔ میری ماں نے جلدی سے مجھ کو گود میں لیا اور اپنے ڈوپٹہ میں برف رکھ کر میری چوٹ پر رکھنے لگی کیونکہ وہاں نیل پر گیا تھا ۔ میری ماں کی آنکھوں میں آنسو صاف نظر آرہے تھے۔ میں تکلیف سے رورہا تھا ۔ اتنے میں مجھ کو اپنے بابا کی آواز سنائی دی وہ میری ماں سے کہہ رہے تھے جو سن کر میں رونا بھول گیا
کہ اتنی دیر سے میں تم کو آواز لگا رہا تھا تم آئی کیوں نہیں
تم کیسی ماں ہو تم کو اپنے بچے کا ذرا خیال نہیں۔

Last edited by سحر; 27-05-09 at 08:43 AM..

 
سحر's Avatar
سحر
Administrator
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,399 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 856
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
موجو (28-05-09), مرزا عامر (05-10-10), wajee (27-05-09), Zullu230 (27-05-09), ایس اے نقوی (27-05-09), ام طلحہ (27-05-09), ام غزل (27-05-09), ابن جلال (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09), سام (27-05-09)
پرانا 27-05-09, 09:48 AM   #2
Senior Member

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,230
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں نے کسی سے سُنا تھا کہ اگر بیٹا بڑا ہو کر اپنی ماں کو کندھوں پر اُٹھا کر لے جائے اور حج کروائے تو یہ عمل کمتر ہے اُس سے جب ماں ایکبار اپنے بچے کو بستر کی گیلی جگہ سے اُٹھا کر خشک جگہ پر رکھتی ہے اور گیلی جگہ پر خود سو جاتی ہے۔

سحر جی آپ کا بہت بہت شکریہ ایک خوبصورت تحریر شئیر کرنے کا۔
Zullu230 آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (27-05-09), ام غزل (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09), سحر (27-05-09)
پرانا 27-05-09, 10:09 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,270
شکریہ: 5,214
5,044 مراسلہ میں 11,477 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی عمدہ زبردست ۔۔۔۔۔۔۔
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (27-05-09), ام غزل (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09), سحر (27-05-09)
پرانا 27-05-09, 11:39 AM   #4
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,501
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کہتے ہیں ایک عورت اس دن اپنی تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جب وہ ماں بنتی ہے ، ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا تھا ! مجھے بچے بہت پسند ہیں مگر اللہ کی مصلحت کہ شادی کے 2 سال بعد مجھے اللہ نے بیٹی کے روپ میں ننھا فرشتہ میری جھولی میں ڈال کر مجھے ماں بنادیا ، تب احساس ہوا کہ ایک عورت اگر ماں بن جائے تو اس کے بعد اس م یں ایک خاص تبدیلی آتی ہے ، پھر بیٹی کیلئے فکر مند ہونا اس کیلئے رات رات بھر جاگنا ، اُٹھ اُٹھ کر دیکھنا کہ کہیں اس کے اوپر سے چادر ہٹی ہوئی تو نہیں‌، کہیں اس کو بھوک تو نہیں‌لگی ، اس کی ذرا سی تکلیف پر آنسو جاری ہوجاتے اور دعائیں تو اتنی کرنی کہ اے اللہ اس کی تکلیف مجھے دے دے اس کو اچھا کردے ،

ماں بننے کے بعد احساس ہوا کہ ہماری ماں نے بھی ہمیں اسی طرح پالا ہوگا ، اسی طرح ہمارے لئے تکلیفیں اُٹھائی ہوں گی ،
اللہ ن ے ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی ، یہ تو سنا کرتے تھے مگر کیوں یہ احساس ماں بننے کے بعد ہی ہوا !
سحر جی انکھ سے آنسو جاری ہیں اور تبصرہ کرتے کرتے بہت دور نکل گئی ،
آپ کا بہت بہت شکریہ۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
مزمل فاروق (27-05-09), ایس اے نقوی (27-05-09), ابن جلال (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09), سحر (27-05-09)
پرانا 27-05-09, 12:03 PM   #5
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے بھی ماں باپ کی اہمیت کا صحیح اندازہ اس وقت ہوا جب میں خود باپ بنا
اچھی تحریر ہے سحر جی لیکن ایک اعتراض ہے اس میں باپ کو کچھ کم محبت کرنے والا دکھایا گیا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے
باپ مردانہ فطرت کے تحت کچھ سخت ضرور ہوتا ہے لیکن بچوں سے اسکی محبت ماں سے زیادہ نہیں تو کچھ کم بھی نہیں ہوتی

اکثر گھر میں کسی بچے کو چوٹ لگتی ہے یا گر گرا جاتا تو ان کی ماں فورا بھاگ کر بچے کو اٹھا تی ہے چمکارتی ہے اور افسوس کرتی ہے جبکہ اس وقت میری کوشش یہ ہوتی ہے کے بچے کو اس چوٹ یا گرنے پڑنے پر زیادہ توجہ نا دوں اور اس کو معمول کی بات سمجھ کر بچے ان باتوں کو زیادہ اہمیت نا دیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کے بچے کی چوٹ کی تکلیف میں نے محسوس نہیں کی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (27-05-09), ایس اے نقوی (27-05-09), ام غزل (27-05-09), ابن جلال (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09), سحر (27-05-09)
پرانا 27-05-09, 12:16 PM   #6
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,634
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,399 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فیصل بھائی آپ کی بات ٹھیک ہے
مجھے باپ کی محبت پر کوئی شک نہیں ۔ میں خود ماں بننے تک یہ سمجھتی تھی کہ مجھ سے میرے ابو امی کے مقابلے میں ذیادہ محبت کرتے تھے۔اس لیے کہ ابو ہمارے ساتھ کھیلتے تھے باتیں کرتے تھے ۔ اور امی کے پاس کبھی اتنا وقت نہیں ہوتا تھا کہ ہم سے باتیں کریں لیکن ہماری ضروریات کا خیال امی ہی رکھتی تھی ۔

Last edited by سحر; 27-05-09 at 02:53 PM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (27-05-09), ام غزل (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09)
پرانا 27-05-09, 12:43 PM   #7
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,020
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سحر جی ایک جاندار تحریر سامنے لانا پر آپ مبارک باد کی مستحق ہیں آپ کی یہ کاوش قابل تحسین ہے جس کےلئے میں آپ کا مشکور ہوں
مجھے اپنی ماں سے بڑھا پیار ہے میں اسکے بنا رہ ہی نہیں سکتا اکثر سنا کرتے تھے جب ماں باپ کہتےتھے کہ بیٹا ہم خود نہین کھاتے تھے تم کو کھلاتے تھے تو میں سوچا کرتا تھا یہ کیسی ہو سکتا ہے کہ بندہ‌ خود نہ کھائے اور بچوں کو کھلا دے اس کا احساس تب ہوا جب مجھ سے بڑے نجم بھائی کے بیٹی ہوئی اور وہ میری لاڈلی بیٹی ہے کچھ عرصہ قبل وہ میری گود میں تھی اور میں چاول یا کچھ اور کھا رہا تھا گود میں کہتی ہے انجم چاچو میں نے بھی کھانا ہے تو قارئین یقین جانیں کہ میں اپنی بھوک کو نظر انداز کر چکا تھا اور اس کو کھلا رہا تھا تب احساس ہوا کہ بڑے ٹھیک کہتے ہیں کہ ہم خود نہیں کھاتے تھے تم لوگوں کو کھلاتے تھے
بے شک ماں کا نعم البدل کوئی نہیں ماں سے بڑھ کر عظیم کوئی نہیں اور فیصل کی بات بھی درست ہے باپ کی محبت بھی کم نہیں ہوتی وہ صرف سخت مزاج اس لئے ہوتا ہے کہ بچہ بڑا ہو کر کمزور نہ بنے بے جا لاڈ پیار اسے بگاڑ نہ دے
اب کچھ خاص

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ دنیا میں سب سے قیمتی شے کیا ہے؟
پیسہ،محبت،کاروبار،سونا چاندی،پھول،خوبصورت ملبوسات،ایک اچھا دوست،علم و ہنر،موصوم سے بچے،ایک خوبصورت گھر،محبت کرنے والا انسان،چرند پرند،خوبصورت موسم،بہتی ہوئی آبشار،اچھی غزا،اچھی کتابیں،خوبصورت آنکھیں یا حسین و جمیل چہرہ،ایک سے بڑھ کر ایک رنگ،ایک آئینہ جس میں ہم اپنا سراپا دیکھ سکتے ہیں،ساحل اور سمندر ،پہاڑ اور درخت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !!!
میں نے بہت سوچا پھر میرے دل نے کہا۔ ان سب سے خوبصورت تو تمہاری ماں ہے وہ تو بے حد پاکیزہ اور محبت کرنےوالی عورت ہے۔وہ ان سب چیزوں سے بہتر اور خوبصورت ہے
سورج نے کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تم کو سایہ دیتی ہے ،پیار کا
چاند نے کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکیزہ بے داغ اور ہمیشہ روشنی دینے والی شخصیت کا نام ماں ہے
پھولوں نے کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے حد نازک اور ساری زندگی خوشبو دینے والی چیز کا نام ماں ہے
پھر میں نے خود سے کہاط ماں تو میرا ہر دکھ لے کر خوشیاں دینے کو ہر وقت تیار رہتی ہے حقیقیت یہ ہے کہ ماں تو ایک ایسا نغمہ ہے کہ جس کی تعریف کےلئے آج تک الفاظ ہی نہین ملے

سحر جی بہت شکریہ آپ کا
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09), سحر (27-05-09)
پرانا 27-05-09, 12:53 PM   #8
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,020
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default میری پہلی محبت

میرے احباب اکثر پوچھتے ہیں ،مجھے پہلی محبت کب،کہاں،کس سے ہوئی ہو گی،تو سن لیجئے !وہ ایک ہستی کہ جس نے سانس لینے کا ہنر مجھ کو سکھایا ،میری سانسوں میں وہ سانسیں ملا کر سانس لیتی تھی،بچا کر اپنی سانسوں سے وہ مجھ کو سانس دیتی تھی،بھلا سوچو کہ کب کوئی کسی کو سانس دیتا ہے؟

وہ سارے کام میری بھوک کی خاطر بھلا دیتی
میری خاطر
وہ اپنا ماس تک مجھ کو کھلا دیتی
بھلا سوچو!
کسی کو ماس بھی کوئی کھلاتا ہے؟
کبھی ڈرتا یا گھبراتا!
تو میرے اور اسکے دک کی دھڑکن ایک ہوجاتی
میں چاروں سمت اسکے لمس کو محسوس کر لیتا
میری آنکھیں !
جو نامانوس تھیں دنیا کی ہر شے سے
میری آنکھیں کہ جو نا آشنا تھیں روشنی سے اور وا ہونے سے ڈرتی تھیں
مجھے تو بس اسے محسوس کر لینے کی عادت تھی
پھر اسکی دلنشیں آواز آئی
محبت سے بھری ،شفاف اور خوشبو میں ڈوبی سی
میری آنکھیں!
جو اسکی دلنشیں آواز ہر وا ہو گئیں
اور مسکرا اٹھیں
تو پہلی بار آنکھوں نے بصارت کا ہنر سکیھا
پھر اس نے اپنا اک دست مقدس
پیار سے میرے لب و رخسار پر رکھا
پھر اس نے بات کرنے کا ہنر
مجھ کو سکھایا
سو پہلا لفظ میں نے جو پکارا تھا
وہ اس کا نام تھا!
پھر اسکے بعد جب میں نے
زمیں پر چلنا سیکھا تھا
تو پہلی بار یارو میں
اسی کے پاس چل کر گیا تھا
میں چلتے چلتے گرتا پھر سنھبلتا اور گر جاتا
تو اس کا دل دہل جاتا
لپک کر مجھ کو سینے سے لگا لیتی
مجھے وہ اپنے‌آنچل میں چھپا لیتی
وہ اب بھی دیکھ کر مجھ کو
خوشی کے گیت گاتی ہے
محبت سے بھری آواز سے اب بلاتی ہے
میں اسکے پاس جاتا ہوں
تو سینے سے لگاتی ہے
ہمیشہ معترف رہتا ہوں میں
اسکی محبت کا!
محبت کو میں لفظوں میں بیاں کرنے سے قاصر ہوں
میرے یارو میں اس کا جسم ہوں
وہ میری جاں ہے
میرے یارو!
میری پہلی محبت میری ماں ہے
میری پہلی محبت میری ماں ہے
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (27-05-09), منتظمین (27-05-09), ام غزل (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09), سحر (27-05-09)
پرانا 27-05-09, 12:55 PM   #9
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,020
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سحر جی جو کچھ میں نے لکھا ہے یہ سب میری ماں کےلئے ہے اور ان احباب کی مائوں کےلئے جو جانتے ہیں ماں کون ہے ماں کیا ہے
شکریہ مزید لکھنے کےلئے حوصلہ اجازت نہیں دیتا
اللہ میری ماں کو زندگی عطا فرمائے اور مجھے اسکی خدمت کرنے کی آمین ثم آمین
اور سحر جی آپ کا ایک مرتبہ پھر شکریہ
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09)
پرانا 27-05-09, 02:34 PM   #10
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,543
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سب پڑھنے کے بعد اب لکھنے کا حوصلہ نہیں۔
سحر جی آپ کا بات سمجھانے کا انداز بہت اچھا ہے ، شکریہ ادا نہیں کروں گا، کیونکہ وہ اونٹ کے منہ میں رائی کے برابر والی بات ھو گی



میری ماں
میری ماں پڑھی لکھی تو نہیں پر انہوں نے ہمیں زمانے کے سرد و گرم سے بچایا ہے ۔ مجھے یاد جب سے میں نے ہوش سمبھالا ہے اپنے والد کو روزی روٹی کے چکروں میں گھر سے باہر ہی پایا ہے وہ مہینہ دو مہینہ بعد ایک دو چار دن کے لئے ہی آتے ایک اکیلی عورت نے جس طرح اپنے پورے گھر کو سمبھالا ھو گا آپ سحر جی اسکا اندازہ کر سکتی ہیں اور صرف یہی نہیں ہمیں شعور بھی دیا اور برے ماحول سے بھی بچایا ورنہ میں اپنے اکثر کزنوں اور محلہ داروں کو دیکھتا ہوں تو ان کے والدین پر مجھے ترس آتا ہے ۔
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (27-05-09), ایس اے نقوی (27-05-09), ام غزل (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), سحر (28-05-09), طاھر (27-05-09)
پرانا 27-05-09, 02:57 PM   #11
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے مناسب تحریر ہے۔۔۔

ویسے سحر جی باپ "ظالم" نہیں ہوتے ہیں۔۔۔ بحثیت باپ میں اپنے بچوں کو نرمی اور گرمی دونوں کی برداشت کا حوصلہ اور ظرف دینا چاہتا ہوں۔ میں‌چاہتا ہوں کہ وہ مظبوط بنیں اور ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کر سکیں۔
صبح اٹھ کر ان کے دانتوں میں اپنے ہاتھ سے برش کرواتا ہوں، کہ جہاں ان کا ہاتھ نہیں پہنچ پاتا وہاں بھی برش ہو سکے۔ ہاتھ منہ دھلاتا ہوں، اپنے ہاتھ میں پانی لے کر کلیاں کرواتا ہوں۔ ہر باپ صرف "پوڈر لگے" بچے کو پسند نہیں کرتا ہے۔ آج تک کبھی بھی بچی کی وجہ سے دوسرے کمرے میں نہیں سویا ہوں اور بعض اوقات تو یہ شرارت کی پڑیا رات کو تین بجے تک کارٹون ہی دیکھتی رہتی ہے اور ٹی وی بیڈ روم میں ہی ہے۔۔۔۔
کچھ چیزیں کچھ جگہوں پر مختلف بھی ہوتی ہیں۔ تمام جگہوں پر ایک ہی فارمولا کام نہیں کرتا ہے۔ اپ نے ماں کی عظمت کو ٹھیک اجاگر کیا ہے لیکن میری بیوی کی طرح اپ بھی یہی سمجھتی ہیں کہ باپ "ظالم" ہوتا ہے۔ اور بچوں کی اس کو کوئی فکر نہیں ہوتی ہے۔
بنیادی فرق میرے نزدیک یہ ہوتا ہے کہ ماں بچوں کو محبت فراہم کرتی ہے اور باپ دنیا داری کے لوازم۔ ان دو مختلف ضروریات کی بناء پر طریقہ کار بھی مختلف ہوتا ہے۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-05-09), ام غزل (27-05-09), ابن جلال (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (28-05-09), سحر (27-05-09)
پرانا 27-05-09, 02:58 PM   #12
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سید انجم اپ بھی اپنا مراسلہ سر ورق کے لیے پیش کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09)
پرانا 27-05-09, 03:08 PM   #13
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,634
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,399 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
سرورق کے لیے مناسب تحریر ہے۔۔۔

ویسے سحر جی باپ "ظالم" نہیں ہوتے ہیں۔۔۔ بحثیت باپ میں اپنے بچوں کو نرمی اور گرمی دونوں کی برداشت کا حوصلہ اور ظرف دینا چاہتا ہوں۔ میں‌چاہتا ہوں کہ وہ مظبوط بنیں اور ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کر سکیں۔
صبح اٹھ کر ان کے دانتوں میں اپنے ہاتھ سے برش کرواتا ہوں، کہ جہاں ان کا ہاتھ نہیں پہنچ پاتا وہاں بھی برش ہو سکے۔ ہاتھ منہ دھلاتا ہوں، اپنے ہاتھ میں پانی لے کر کلیاں کرواتا ہوں۔ ہر باپ صرف "پوڈر لگے" بچے کو پسند نہیں کرتا ہے۔ آج تک کبھی بھی بچی کی وجہ سے دوسرے کمرے میں نہیں سویا ہوں اور بعض اوقات تو یہ شرارت کی پڑیا رات کو تین بجے تک کارٹون ہی دیکھتی رہتی ہے اور ٹی وی بیڈ روم میں ہی ہے۔۔۔۔
کچھ چیزیں کچھ جگہوں پر مختلف بھی ہوتی ہیں۔ تمام جگہوں پر ایک ہی فارمولا کام نہیں کرتا ہے۔ اپ نے ماں کی عظمت کو ٹھیک اجاگر کیا ہے لیکن میری بیوی کی طرح اپ بھی یہی سمجھتی ہیں کہ باپ "ظالم" ہوتا ہے۔ اور بچوں کی اس کو کوئی فکر نہیں ہوتی ہے۔
بنیادی فرق میرے نزدیک یہ ہوتا ہے کہ ماں بچوں کو محبت فراہم کرتی ہے اور باپ دنیا داری کے لوازم۔ ان دو مختلف ضروریات کی بناء پر طریقہ کار بھی مختلف ہوتا ہے۔

والسلام
بھائی آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے
میرے شوہر تو اس سے بھی ذیادہ کام کرتے ہیں لیکن تب بھی مجھے دن بھر بچوں کے پیچھے دوڑنا پڑتا ہے ۔ تو میں سوچتی ہوں کہ جن بیویوں کے شوہر ان کی ذرا بھی مدد نہیں کرتے ان کا کیا حال ہوتا ہوگا۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ جیسے اور میرے شوہر جیسے مرد اس معاشرے میں بہت کم ہیں ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (27-05-09), ام غزل (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09)
پرانا 27-05-09, 03:09 PM   #14
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
یہ شرارت کی پڑیا رات کو تین بجے تک کارٹون ہی دیکھتی رہتی ہے اور ٹی وی بیڈ روم میں ہی ہے۔۔۔۔
اللہ آپ کی بیٹی کو اور شرارتی کرے
دیکھا آپ نے سحر جی
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (27-05-09), ایس اے نقوی (27-05-09), ام غزل (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09), سحر (27-05-09)
پرانا 27-05-09, 03:10 PM   #15
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا کہوں سحر!
لاجواب کر دیتی ہو!تڑپا کے رکھ دیتی ہو۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
واقعی اگر ماں بھی اپنے بچوں سے گھن کھاتی تو آج اس دنیا میں جتنے لوگ ہیں یہ سب کہاں ہوتے۔باپ کی محبت پر شک نہیں لیکن ایثار و قربانی میں عورت کے مقابلے کا دعویٰ کوئی مرد شاید ہی کر سکتا ہو۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-05-09), منتظمین (27-05-09), ایس اے نقوی (27-05-09), ام غزل (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09), سام (27-05-09), سحر (27-05-09)
جواب

Tags
فورم, پسند, لوگ, نظر, مقابلہ, ماں, ماں کی عظمت, محبت, معلوم, معذرت, آج, بھائی, بچوں, تحریر, تعارف, جواب, خواتین, خوش, دل, رات, ظالم, عورت, غزل, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اگر آپ کو کوئی ایسی دھات مل جائے ۔۔۔۔۔۔! Zullu230 گپ شپ 14 26-05-11 05:09 PM
میں ایسی محبت کرتا ہوں - تم کیسی محبت کرتی ہو wajee شعر و شاعری 10 24-02-11 12:08 PM
ایک پردیسی کی کہانی یاسر عمران مرزا دیس ہوئے پردیس 42 08-01-11 07:30 PM
مجھے تلاش ہے اک ایسی منزل کی Shani شعر و شاعری 0 08-11-08 05:32 PM
موبائل فون کنکشن کے لئے نئی پالیسی شازل خبریں 9 28-01-08 07:37 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:36 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger