| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 856
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,230
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نے کسی سے سُنا تھا کہ اگر بیٹا بڑا ہو کر اپنی ماں کو کندھوں پر اُٹھا کر لے جائے اور حج کروائے تو یہ عمل کمتر ہے اُس سے جب ماں ایکبار اپنے بچے کو بستر کی گیلی جگہ سے اُٹھا کر خشک جگہ پر رکھتی ہے اور گیلی جگہ پر خود سو جاتی ہے۔
سحر جی آپ کا بہت بہت شکریہ ایک خوبصورت تحریر شئیر کرنے کا۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (05-10-10), ایس اے نقوی (27-05-09), ام غزل (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09), سحر (27-05-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,270
شکریہ: 5,214
5,044 مراسلہ میں 11,477 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت ہی عمدہ زبردست ۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,501
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہتے ہیں ایک عورت اس دن اپنی تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جب وہ ماں بنتی ہے ، ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا تھا ! مجھے بچے بہت پسند ہیں مگر اللہ کی مصلحت کہ شادی کے 2 سال بعد مجھے اللہ نے بیٹی کے روپ میں ننھا فرشتہ میری جھولی میں ڈال کر مجھے ماں بنادیا ، تب احساس ہوا کہ ایک عورت اگر ماں بن جائے تو اس کے بعد اس م یں ایک خاص تبدیلی آتی ہے ، پھر بیٹی کیلئے فکر مند ہونا اس کیلئے رات رات بھر جاگنا ، اُٹھ اُٹھ کر دیکھنا کہ کہیں اس کے اوپر سے چادر ہٹی ہوئی تو نہیں، کہیں اس کو بھوک تو نہیںلگی ، اس کی ذرا سی تکلیف پر آنسو جاری ہوجاتے اور دعائیں تو اتنی کرنی کہ اے اللہ اس کی تکلیف مجھے دے دے اس کو اچھا کردے ،
ماں بننے کے بعد احساس ہوا کہ ہماری ماں نے بھی ہمیں اسی طرح پالا ہوگا ، اسی طرح ہمارے لئے تکلیفیں اُٹھائی ہوں گی ، اللہ ن ے ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی ، یہ تو سنا کرتے تھے مگر کیوں یہ احساس ماں بننے کے بعد ہی ہوا ! سحر جی انکھ سے آنسو جاری ہیں اور تبصرہ کرتے کرتے بہت دور نکل گئی ، آپ کا بہت بہت شکریہ۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا | مزمل فاروق (27-05-09), ایس اے نقوی (27-05-09), ابن جلال (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09), سحر (27-05-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے بھی ماں باپ کی اہمیت کا صحیح اندازہ اس وقت ہوا جب میں خود باپ بنا
اچھی تحریر ہے سحر جی لیکن ایک اعتراض ہے اس میں باپ کو کچھ کم محبت کرنے والا دکھایا گیا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے باپ مردانہ فطرت کے تحت کچھ سخت ضرور ہوتا ہے لیکن بچوں سے اسکی محبت ماں سے زیادہ نہیں تو کچھ کم بھی نہیں ہوتی اکثر گھر میں کسی بچے کو چوٹ لگتی ہے یا گر گرا جاتا تو ان کی ماں فورا بھاگ کر بچے کو اٹھا تی ہے چمکارتی ہے اور افسوس کرتی ہے جبکہ اس وقت میری کوشش یہ ہوتی ہے کے بچے کو اس چوٹ یا گرنے پڑنے پر زیادہ توجہ نا دوں اور اس کو معمول کی بات سمجھ کر بچے ان باتوں کو زیادہ اہمیت نا دیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کے بچے کی چوٹ کی تکلیف میں نے محسوس نہیں کی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (27-05-09), ایس اے نقوی (27-05-09), ام غزل (27-05-09), ابن جلال (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09), سحر (27-05-09) |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,634
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,399 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فیصل بھائی آپ کی بات ٹھیک ہے
مجھے باپ کی محبت پر کوئی شک نہیں ۔ میں خود ماں بننے تک یہ سمجھتی تھی کہ مجھ سے میرے ابو امی کے مقابلے میں ذیادہ محبت کرتے تھے۔اس لیے کہ ابو ہمارے ساتھ کھیلتے تھے باتیں کرتے تھے ۔ اور امی کے پاس کبھی اتنا وقت نہیں ہوتا تھا کہ ہم سے باتیں کریں لیکن ہماری ضروریات کا خیال امی ہی رکھتی تھی ۔ Last edited by سحر; 27-05-09 at 02:53 PM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
سحر جی ایک جاندار تحریر سامنے لانا پر آپ مبارک باد کی مستحق ہیں آپ کی یہ کاوش قابل تحسین ہے جس کےلئے میں آپ کا مشکور ہوں
مجھے اپنی ماں سے بڑھا پیار ہے میں اسکے بنا رہ ہی نہیں سکتا اکثر سنا کرتے تھے جب ماں باپ کہتےتھے کہ بیٹا ہم خود نہین کھاتے تھے تم کو کھلاتے تھے تو میں سوچا کرتا تھا یہ کیسی ہو سکتا ہے کہ بندہ خود نہ کھائے اور بچوں کو کھلا دے اس کا احساس تب ہوا جب مجھ سے بڑے نجم بھائی کے بیٹی ہوئی اور وہ میری لاڈلی بیٹی ہے کچھ عرصہ قبل وہ میری گود میں تھی اور میں چاول یا کچھ اور کھا رہا تھا گود میں کہتی ہے انجم چاچو میں نے بھی کھانا ہے تو قارئین یقین جانیں کہ میں اپنی بھوک کو نظر انداز کر چکا تھا اور اس کو کھلا رہا تھا تب احساس ہوا کہ بڑے ٹھیک کہتے ہیں کہ ہم خود نہیں کھاتے تھے تم لوگوں کو کھلاتے تھے بے شک ماں کا نعم البدل کوئی نہیں ماں سے بڑھ کر عظیم کوئی نہیں اور فیصل کی بات بھی درست ہے باپ کی محبت بھی کم نہیں ہوتی وہ صرف سخت مزاج اس لئے ہوتا ہے کہ بچہ بڑا ہو کر کمزور نہ بنے بے جا لاڈ پیار اسے بگاڑ نہ دے اب کچھ خاص کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ دنیا میں سب سے قیمتی شے کیا ہے؟ پیسہ،محبت،کاروبار،سونا چاندی،پھول،خوبصورت ملبوسات،ایک اچھا دوست،علم و ہنر،موصوم سے بچے،ایک خوبصورت گھر،محبت کرنے والا انسان،چرند پرند،خوبصورت موسم،بہتی ہوئی آبشار،اچھی غزا،اچھی کتابیں،خوبصورت آنکھیں یا حسین و جمیل چہرہ،ایک سے بڑھ کر ایک رنگ،ایک آئینہ جس میں ہم اپنا سراپا دیکھ سکتے ہیں،ساحل اور سمندر ،پہاڑ اور درخت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !!! میں نے بہت سوچا پھر میرے دل نے کہا۔ ان سب سے خوبصورت تو تمہاری ماں ہے وہ تو بے حد پاکیزہ اور محبت کرنےوالی عورت ہے۔وہ ان سب چیزوں سے بہتر اور خوبصورت ہے سورج نے کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تم کو سایہ دیتی ہے ،پیار کا چاند نے کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکیزہ بے داغ اور ہمیشہ روشنی دینے والی شخصیت کا نام ماں ہے پھولوں نے کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے حد نازک اور ساری زندگی خوشبو دینے والی چیز کا نام ماں ہے پھر میں نے خود سے کہاط ماں تو میرا ہر دکھ لے کر خوشیاں دینے کو ہر وقت تیار رہتی ہے حقیقیت یہ ہے کہ ماں تو ایک ایسا نغمہ ہے کہ جس کی تعریف کےلئے آج تک الفاظ ہی نہین ملے سحر جی بہت شکریہ آپ کا |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
میرے احباب اکثر پوچھتے ہیں ،مجھے پہلی محبت کب،کہاں،کس سے ہوئی ہو گی،تو سن لیجئے !وہ ایک ہستی کہ جس نے سانس لینے کا ہنر مجھ کو سکھایا ،میری سانسوں میں وہ سانسیں ملا کر سانس لیتی تھی،بچا کر اپنی سانسوں سے وہ مجھ کو سانس دیتی تھی،بھلا سوچو کہ کب کوئی کسی کو سانس دیتا ہے؟
وہ سارے کام میری بھوک کی خاطر بھلا دیتی میری خاطر وہ اپنا ماس تک مجھ کو کھلا دیتی بھلا سوچو! کسی کو ماس بھی کوئی کھلاتا ہے؟ کبھی ڈرتا یا گھبراتا! تو میرے اور اسکے دک کی دھڑکن ایک ہوجاتی میں چاروں سمت اسکے لمس کو محسوس کر لیتا میری آنکھیں ! جو نامانوس تھیں دنیا کی ہر شے سے میری آنکھیں کہ جو نا آشنا تھیں روشنی سے اور وا ہونے سے ڈرتی تھیں مجھے تو بس اسے محسوس کر لینے کی عادت تھی پھر اسکی دلنشیں آواز آئی محبت سے بھری ،شفاف اور خوشبو میں ڈوبی سی میری آنکھیں! جو اسکی دلنشیں آواز ہر وا ہو گئیں اور مسکرا اٹھیں تو پہلی بار آنکھوں نے بصارت کا ہنر سکیھا پھر اس نے اپنا اک دست مقدس پیار سے میرے لب و رخسار پر رکھا پھر اس نے بات کرنے کا ہنر مجھ کو سکھایا سو پہلا لفظ میں نے جو پکارا تھا وہ اس کا نام تھا! پھر اسکے بعد جب میں نے زمیں پر چلنا سیکھا تھا تو پہلی بار یارو میں اسی کے پاس چل کر گیا تھا میں چلتے چلتے گرتا پھر سنھبلتا اور گر جاتا تو اس کا دل دہل جاتا لپک کر مجھ کو سینے سے لگا لیتی مجھے وہ اپنےآنچل میں چھپا لیتی وہ اب بھی دیکھ کر مجھ کو خوشی کے گیت گاتی ہے محبت سے بھری آواز سے اب بلاتی ہے میں اسکے پاس جاتا ہوں تو سینے سے لگاتی ہے ہمیشہ معترف رہتا ہوں میں اسکی محبت کا! محبت کو میں لفظوں میں بیاں کرنے سے قاصر ہوں میرے یارو میں اس کا جسم ہوں وہ میری جاں ہے میرے یارو! میری پہلی محبت میری ماں ہے میری پہلی محبت میری ماں ہے |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
سحر جی جو کچھ میں نے لکھا ہے یہ سب میری ماں کےلئے ہے اور ان احباب کی مائوں کےلئے جو جانتے ہیں ماں کون ہے ماں کیا ہے
شکریہ مزید لکھنے کےلئے حوصلہ اجازت نہیں دیتا اللہ میری ماں کو زندگی عطا فرمائے اور مجھے اسکی خدمت کرنے کی آمین ثم آمین اور سحر جی آپ کا ایک مرتبہ پھر شکریہ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,543
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سب پڑھنے کے بعد اب لکھنے کا حوصلہ نہیں۔
سحر جی آپ کا بات سمجھانے کا انداز بہت اچھا ہے ، شکریہ ادا نہیں کروں گا، کیونکہ وہ اونٹ کے منہ میں رائی کے برابر والی بات ھو گی میری ماں میری ماں پڑھی لکھی تو نہیں پر انہوں نے ہمیں زمانے کے سرد و گرم سے بچایا ہے ۔ مجھے یاد جب سے میں نے ہوش سمبھالا ہے اپنے والد کو روزی روٹی کے چکروں میں گھر سے باہر ہی پایا ہے وہ مہینہ دو مہینہ بعد ایک دو چار دن کے لئے ہی آتے ایک اکیلی عورت نے جس طرح اپنے پورے گھر کو سمبھالا ھو گا آپ سحر جی اسکا اندازہ کر سکتی ہیں اور صرف یہی نہیں ہمیں شعور بھی دیا اور برے ماحول سے بھی بچایا ورنہ میں اپنے اکثر کزنوں اور محلہ داروں کو دیکھتا ہوں تو ان کے والدین پر مجھے ترس آتا ہے ۔
__________________
![]() عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟ سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (27-05-09), ایس اے نقوی (27-05-09), ام غزل (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), سحر (28-05-09), طاھر (27-05-09) |
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے مناسب تحریر ہے۔۔۔
ویسے سحر جی باپ "ظالم" نہیں ہوتے ہیں۔۔۔ بحثیت باپ میں اپنے بچوں کو نرمی اور گرمی دونوں کی برداشت کا حوصلہ اور ظرف دینا چاہتا ہوں۔ میںچاہتا ہوں کہ وہ مظبوط بنیں اور ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کر سکیں۔ صبح اٹھ کر ان کے دانتوں میں اپنے ہاتھ سے برش کرواتا ہوں، کہ جہاں ان کا ہاتھ نہیں پہنچ پاتا وہاں بھی برش ہو سکے۔ ہاتھ منہ دھلاتا ہوں، اپنے ہاتھ میں پانی لے کر کلیاں کرواتا ہوں۔ ہر باپ صرف "پوڈر لگے" بچے کو پسند نہیں کرتا ہے۔ آج تک کبھی بھی بچی کی وجہ سے دوسرے کمرے میں نہیں سویا ہوں اور بعض اوقات تو یہ شرارت کی پڑیا رات کو تین بجے تک کارٹون ہی دیکھتی رہتی ہے اور ٹی وی بیڈ روم میں ہی ہے۔۔۔۔ ![]() کچھ چیزیں کچھ جگہوں پر مختلف بھی ہوتی ہیں۔ تمام جگہوں پر ایک ہی فارمولا کام نہیں کرتا ہے۔ اپ نے ماں کی عظمت کو ٹھیک اجاگر کیا ہے لیکن میری بیوی کی طرح اپ بھی یہی سمجھتی ہیں کہ باپ "ظالم" ہوتا ہے۔ اور بچوں کی اس کو کوئی فکر نہیں ہوتی ہے۔ بنیادی فرق میرے نزدیک یہ ہوتا ہے کہ ماں بچوں کو محبت فراہم کرتی ہے اور باپ دنیا داری کے لوازم۔ ان دو مختلف ضروریات کی بناء پر طریقہ کار بھی مختلف ہوتا ہے۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سید انجم اپ بھی اپنا مراسلہ سر ورق کے لیے پیش کریں۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,634
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,399 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میرے شوہر تو اس سے بھی ذیادہ کام کرتے ہیں لیکن تب بھی مجھے دن بھر بچوں کے پیچھے دوڑنا پڑتا ہے ۔ تو میں سوچتی ہوں کہ جن بیویوں کے شوہر ان کی ذرا بھی مدد نہیں کرتے ان کا کیا حال ہوتا ہوگا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ جیسے اور میرے شوہر جیسے مرد اس معاشرے میں بہت کم ہیں ۔ شکریہ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
دیکھا آپ نے سحر جی
|
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (27-05-09), ایس اے نقوی (27-05-09), ام غزل (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09), سحر (27-05-09) |
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا کہوں سحر!
لاجواب کر دیتی ہو!تڑپا کے رکھ دیتی ہو۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ واقعی اگر ماں بھی اپنے بچوں سے گھن کھاتی تو آج اس دنیا میں جتنے لوگ ہیں یہ سب کہاں ہوتے۔باپ کی محبت پر شک نہیں لیکن ایثار و قربانی میں عورت کے مقابلے کا دعویٰ کوئی مرد شاید ہی کر سکتا ہو۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (27-05-09), منتظمین (27-05-09), ایس اے نقوی (27-05-09), ام غزل (27-05-09), راجہ اکرام (28-05-09), رضی (27-05-09), سام (27-05-09), سحر (27-05-09) |
![]() |
| Tags |
| فورم, پسند, لوگ, نظر, مقابلہ, ماں, ماں کی عظمت, محبت, معلوم, معذرت, آج, بھائی, بچوں, تحریر, تعارف, جواب, خواتین, خوش, دل, رات, ظالم, عورت, غزل, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اگر آپ کو کوئی ایسی دھات مل جائے ۔۔۔۔۔۔! | Zullu230 | گپ شپ | 14 | 26-05-11 05:09 PM |
| میں ایسی محبت کرتا ہوں - تم کیسی محبت کرتی ہو | wajee | شعر و شاعری | 10 | 24-02-11 12:08 PM |
| ایک پردیسی کی کہانی | یاسر عمران مرزا | دیس ہوئے پردیس | 42 | 08-01-11 07:30 PM |
| مجھے تلاش ہے اک ایسی منزل کی | Shani | شعر و شاعری | 0 | 08-11-08 05:32 PM |
| موبائل فون کنکشن کے لئے نئی پالیسی | شازل | خبریں | 9 | 28-01-08 07:37 AM |