واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


تھا نیدار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-11-11, 05:51 PM   #1
تھا نیدار
حسن قادری حسن قادری آف لائن ہے 30-11-11, 05:51 PM

پولیس کی نوکری بڑی بارعب نوکری ہے اور پھر تھانیداری کی کیا بات ہے تھانیدار اور بادشاہ ایک جیسا مزاج رکھتے ہیں اور آجکل زنانہ پولیس اور مردانہ پولیس دوحصے ہیںاس صنف نازک کو معلوم نہیں کیا سوجھی اور پولیس میں بھرتی ہونا شروع ہو گی اب تو اندھا دھند تھانیدارنیاں بھرتی ہورہی ہیں ایک تھانیدارنی کے پاس ڈکیٹی کا ملزم براے تفشیش لایا گیا
تھانیدارنی نے چوچھا تم نے ڈکیٹی کیوں کی
ملزم میں نردوش ہوں محض دشمنی کی وجہ سے ملوث کردیا گیا ہوں مجھ جیسا بے بس انسان کیسے وردات کر سکتا ہے میرے گھر میری ماں کینسر کی مریضہ ہے چھوٹے چھوٹے بچے نصف درجن کے قریب ہیں جو بڑے ہونے کانام نہیں لیتے بیوی ہمیشہ پر امید رہتی ہے کیو نکہ دنیا امید سے قائم ہے ان مخدوش حالات میں کس کو ڈاکہ ڈالنے کا ہوش ہو سکتا ہے میں تو نقلی پستول خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا اگر گنجائش ہوتی تو کلو گھی مرچ مصالحہ خریدتا بچے کھالیتے یہ تو آسودہ حال لوگوں کا کام ہے جن کے پاس بے شمار وسائل ہوں جدید اسلحہ ہو میں تو پٹاخے کی آواز سن کر ڈر جاتا ہوں تھانیدارنی کادل پسیچ گیا اور ملزم بری ہو گیا اور اگر اسکی جگہ مہابت خان تھانیدار ہوتا ملزم کی کم سنتا اور اپنی سناتا چھترول کے ذریعے تھانیدار ہر جگہ تھانیدار اگر بننے کی کوشش کرے تو پھر نقصان بھی ہو جاتا ہے
ایک تھانیدار کو کسی دوست نے دعوت پر بلایا ادھر تھانیدار کو ایک مقدمے کی تفشیش کے سلسلہ میں جاے وقع پر حاضر ہونے کی کال آگی
بیوی سے کہا تم تیار رہنا میں مغرب تک آجاوں گا ادھر تفشیش لمبی ہوگئی اور ایک فریق سے تھانیدار کی جھڑپ ہوگی تو ایک منچلے نے غصے میں کہا تو تھانیدار ہوگا تو گھر میں
ادھر گھر میں بیگم انتظار کرتے کرتے تھک کے سوگی گھر پہنچے تو بیگم بے غم ہوکر سورہی تھی اٹھا کے کہنے لگا دعوت پہ نہیں جانا بیوی نے غصے میں کہا تم تھانیدار ہوگے تو تھانے میں
تھانیدار کی ہنسی نکل گی
اب اسکے پاس ایک ہنسی ہی تھی وہ بھی نکل گئی

 
حسن قادری's Avatar
حسن قادری
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 115
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (02-12-11), بنت حوا (30-11-11), حسنین ایوب (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 08:00 PM   #2
Senior Member
 
حسنین ایوب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 1,064
کمائي: 19,020
شکریہ: 1,708
625 مراسلہ میں 1,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہوت خوب سردار بہوت کھوس ہوا
حسنین ایوب آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, ہوتا, کوشش, کرے, کرتے, کردیا, کس, گھر, پولیس, قائم, نوکری, ماں, معلوم, انسان, بیوی, بے, بننے, بادشاہ, بس, خان, دوست, دنیا, شروع, غم, غصے


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
گلے لگ کر مرے وہ جانے ہنستا تھا کہ روتا تھا خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 13-10-10 10:43 AM
تھانیدار کا بیٹاخاندان کے 6افراد مار کر تھانے پیش ہو گیا جاویداسد خبریں 1 14-08-10 06:16 AM
ہنساتا تھا مجھ کو، تو پھر رُلا بھی دیتا تھا محمدعمر شعر و شاعری 2 14-11-09 09:35 AM
ترے جیسا میرا بھی حال تھ ،ا نہ سکون تھا نہ قرار تھا The Great شعر و شاعری 0 27-08-09 11:25 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:36 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger