آج صبح آفس آتے وقت میں نے کوچ کا ایک بہت ہی گندہ حادثہ دیکھا۔ کراچی میں اگر بلوچ کالونی سے قیوم آباد کی طرف آئیں تو یہاں ایک ایکسپریس وے بنا ہوا ہے جس پر لوگ بہت تیز رفتاری میں گاڑی چلاتے ہیں۔ یہاں پر ایک موڑ بہت خطرناک ہے، جس پر اگر رفتار ہلکی نہ کی جائے تو حادثہ ہونے کا بہت خطرہ ہوتا ہے۔
جس حادثے کا میں تذکرہ کر رہا ہوں وہ ہوا بھی اس موڑ پر ہے اور سمجھئیے کہ اس حادثے کے ایک منٹ بعد میں وہاں پہنچا۔ اس موڑ پر کوچ کا ڈرائیور گاڑی کو کنٹرول نہیں کرسکا اور بس بند سے ٹکرا کر الٹ گئی۔ میں جب وہاں پہنچا تو اس وقت گاڑی الٹی تھی اور دھول اڑ رہی تھی۔ ہمیشہ کی طرح ڈرائیور سب سے پہلے نکل کر بھاگ گیا۔ میرے سامنے ہی کچھ لوگ دوسرے روڈ کی طرف بھاگے تھے شاید ڈرائیور بھی انہی میں سے ہوگا۔ ہم نے وہاں فوراً 115 ملا کر ایدھی کی ایمبولینس منگوائیں۔ 7 یا 8 لوگ بس سے باہر گرے ہوئے تھے اور بہت زخمی حالت میں تھے اور بس کے اندر والوں کو شیشے توڑ کر باہر نکالا۔ اتنی دیر میں کسی کو احساس ہوا کہ گری ہوئی بس کے نیچے بھی شاید کوئی دبا ہوا ہے تو سب لوگوں نے مل کر بس کو اٹھانے کی کوشش کی۔ کافی مشقت کے بعد بس کو سیدھا کیا گیا تو اس کے نیچے دبا ہوا ایک آدمی ملا۔ مجھ سے اس کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی، اس کے بائیں کندھے سے تمام گوشت ہی ہٹ چکا تھا اور اس کی ہڈیاں تک نظر آرہی تھیں۔ سب یہی سمجھے کہ شاید یہ تو بس کے نیچے دب کر مر گیا ہوگا اور اس پر چادر ڈالنے لگے کہ ایک دم اتنا زخمی آدمی کھڑا ہوگیا۔ واقعی اس بندے کو دیکھ کر میں مان گیا کہ 'جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے'