| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 3409
|
||||
| 7 قاری/قارئین نے شریف کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (14-01-12), shafresha (16-08-10), پاکستانی (26-08-10), اویسی (16-08-10), احمد بلال (18-08-10), بلال اویسی (21-08-10), غلام خان (27-08-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی ہاں وہ رسیاں لوگوں کے خیال میں سانپ کی حیثیت اختیار کر گئی تھیں۔
اور رہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی تو یہ یہودی اور عیسائی عقیدہ اسلام میں داخل ہو گیا تھا۔ قران پاک میں اسکا کوئی ذکر نہیں ہے تاہم قران سے ٹکراتی کئی روایات میں اسکا ذکر ہے-
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
غامدی صاحب پرفتوا لگانے کے بجائے ان کی بات کی دلیل کو سمجھیں تو زیادہ مناسب رہے گا
اور ان دلائل کا جواب دلیل سے ہی دینا ہی اصول بنتا ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں Last edited by فیصل ناصر; 16-08-10 at 01:19 AM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (14-01-12), محمد ارشد مُغل (26-08-10), محمدخلیل (16-08-10), مرزا عامر (16-08-10), احمد بلال (18-08-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
جنوں کے ایمان لانے کا واضح تذکرہ کم از کم دو بار قرآن حکیم سورۃ جن میں موجود ہے۔
72:1 قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا آپ فرما دیں: میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے (میری تلاوت کو) غور سے سنا، تو (جا کر اپنی قوم سے) کہنے لگے: بیشک ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے 72:2 يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا جو ہدایت کی راہ دکھاتا ہے، سو ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو ہرگز شریک نہیں ٹھہرائیں گے اس کے بعد سورۃالجن کی 13 ویں آیت میں 72:13 وَأَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدَى آمَنَّا بِهِ فَمَن يُؤْمِن بِرَبِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا اور یہ کہ جب ہم نے (کتابِ) ہدایت کو سنا تو ہم اس پر ایمان لے آئے، پھر جو شخص اپنے رب پر ایمان لاتا ہے تو وہ نہ نقصان ہی سے خوف زدہ ہوتا ہے اور نہ ظلم سے جناب جاوید غامدی کے بارے میں اور اس سکالر کے مخالفین کے بارے میں جو کچھ جانتا ہوں ۔ اس کے بعد یہی کہہ سکتا ہوں کہ سننے والے کو مغالطہ ہوا ہوگا۔ اس کا ثبوت درکار ہے اگر جملہ یہ ہے کہ "رسول اللہ صلعم کے ہاتھوں پر اسلام قبول نہیں کیا " تو یہ بالکل درست ہے۔ قرآن سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ ایمان لے آنا جیسے کہ میں اور آپ اللہ تعالی، رسول اکرم صلعم اور قرآن حکیم پر ایمان لے آئے ہیں لیکن ہم میںسے آج موجود کسی نے بھی رسول ا للہ صلعم ہاتھوں پر اسلام قبول نہیں کیا۔ یہ بھی ایک درست بات ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی واپسی کا کوئی تذکرہ نہیں بلکہ ایک واضحآیت اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ حضرت عیسی قیامت سے پہلے واپس نہیں آئیں گے۔ 5:116 وَإِذْ قَالَ اللّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـهَيْنِ مِن دُونِ اللّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ اور جب اﷲ فرمائے گا: اے عیسٰی ابن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ تم مجھ کو اور میری ماں کو اﷲ کے سوا دو معبود بنا لو، وہ عرض کریں گے: تو پاک ہے، میرے لئے یہ (روا) نہیں کہ میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو یقیناً تو اسے جانتا، تو ہر اس (بات) کو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں ان (باتوں) کو نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہیں۔ بیشک تو ہی غیب کی سب باتوں کو خوب جاننے والا ہے یہ مکالمہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے کے بعد اللہ تعالی اور حضرت عیسی علیہ السلام کے درمیان ہورہا ہے۔ اس مکالمہ میں کہیں بھی یہ نہیں ہے کہ جہاں حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالی سے فرمائیں گے جب تو نے مجھے دوبارہ واپس بھیجا تو میں نے ان لوگوں کو منع کیا کہ ایسا نہ کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ لوگ عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ مریم علیھا السلام کو آج پوچتے ہیں ۔ اگر عیسی علیہ السلام کو قیامت سے ہلے واپس آنا ہوتا تو پھر کیا ہوتا؟ جناب عیسی علیہ السلام ایسا ہوتے دیکھتے اور لوگوں کو منع کرتے ۔ پھر کیا وہ اس کو تذکرہ روز قیامت اس ڈائیلاگ میں نہیںکرتے ؟ یقیناً کرتے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کا یہ ڈائیلاگ پھر کچھ اس طرح ہوتا کہ ۔۔۔ جب میں ان کے درمیان تھا تو میں نے تو ان کو اپنی یا اپنی والدہ کی عبادت کرنے کو نہیںکہا۔ ۔۔۔ لیکن جب میں واپس گیا تو میں نے دہکھا کہ وہ ایسا کررہے ہیں۔ تو میں نے ان کو منع کیا ا ور وہ مان گئے ۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد کا حال اب تھے (اللہ) کو ہی معلوم ہے۔ اس کے برعکس ۔ عیسی علیہ السلام ، اپنی وفات یعنی موت کے بعد سے قیامت تک ناواقفیت کا اظہار کررہے ہیں۔ اور فرما رہے ہیں کہ غیب کا علم تو صرف اللہ تعالی کو ہے وہ تو جانتے ہی نہیں کیا ہوا کیا ان کی وفات کے بعد قیامت تک۔ جو لوگ غیب کے علم پر بات کرتے نہیں تھکتے ۔ ان کو غیب کی یہ خبر دکھائی نہیں دیتی؟ ہاروت ماروت کے علم کے بارے میں قرآن حکیم تفصیل نہیںبتاتا۔ لہذا یہ کہنا کہ یہ جادو تھا یہ کوئی دوسرا علم ۔ اس بارے میں کوئی حتمی رائے قرآن حکیم سے قائم نہیں کی جاسکتی۔ باقی سب سنی سنائی باتیںہیں۔ موسی علیہ السلام کے واقعہ میں لوگوں کو نطر بندی کی وجہ سے رسیاں سانپ نظر آئی تھیں یہ بات قران حکیم کی آیات سے بہت واضحہے۔ رسیاں سانپ نہیں بنی تھیں۔ 7:116 قَالَ أَلْقُوْاْ فَلَمَّا أَلْقَوْاْ سَحَرُواْ أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ موسیٰ نے کہا: تم ہی پھینکو پھر جب اُنہوں نے پھینکیں تو مسحور کردیا لوگوں کی نگاہوں کو اور مرعوب کردیا اُن کو اور دکھایا اُنہوں نے جادُو، زبردست۔ 7:117 وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ اور اشارہ کیا ہم نے موسیٰ کو کہ پھینکو تم اپنا عصا سو وہ آن کی آن میں نگلتا چلا گیا اُن کے جھوٹے طلسموں کو۔ یہ آیات کہیں بھی نہیں بتاتی ہیں کہ رسیا ں سانپ بن گئی تھیں۔ یہ صرف روایات کا کمال ہے ![]() اسلام کی اساس کیا ہے ۔ قران حکیم یا پھر اسرائیلیات سے بھرپور کتب روایات؟ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 16-08-10 at 01:25 AM. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (14-01-12), shafresha (16-08-10), فیصل ناصر (16-08-10), گوندل (18-08-10), مرزا عامر (16-08-10), ایم آصف (16-08-10), ابن جلال (22-08-10), بلال اویسی (21-08-10) |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
غامدی کو کس نے حق دیا ہے کہ وہ انبیاء کے معجزات پر بات کرے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
معجزہ تو کہتے ہی عقل کو عاجز کر دینے والے واقعت کو ہیں............اس بے چارے کی عقل میں کیا خاک ائے گا....... بس انہی اتکل پچو میں ان کی فنکاریاں قائم ہیں کہ یوں ہوا تھا اور یوں نہیں ہوا تھا اور یون نہیں ہو سکتا تھا............. اور عامر بھائی یہ بتائیں کہ یہ محالف قرآن کیسے ہے؟؟؟؟؟؟؟کیا اللہ قدرت نہیں رکھتا کہ وہ عصا کو سانپ بنا دے............اور پھر دوبارہ عصا؟؟؟؟؟ Last edited by عبداللہ آدم; 20-08-10 at 12:56 AM. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (14-01-12), shafresha (16-08-10), مرزا عامر (16-08-10), مسٹر شیف (16-08-10), اویسی (16-08-10), احمد بلال (18-08-10), بلال اویسی (21-08-10), عبداللہ حیدر (16-08-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عبداللہ بھائی بہتر ہے ان موضوعات پر خود غامدی صاحبکی رائے سے استفادہ کریں نیٹ پر ان کی ویڈیوزبکھری پڑی ہیں
آپ اختلاف کا حق رکھتے ہیں لیکن مخالف کے دلائل کی مظبوتی پر بھی غور کریں جن کی بنیاد پر انہوں نے کوئی رائے قائم کی ہے صرف سنی سنائی اور ایکطرفہ بات پر کسی کو مطعون کرنا مناسب نہیں Last edited by فیصل ناصر; 16-08-10 at 02:07 AM. |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (14-01-12), shafresha (16-08-10), فاروق سرورخان (16-08-10), مرزا عامر (16-08-10), اویسی (16-08-10), عبداللہ آدم (16-08-10) |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
فیصل بھائی آپ خود ہی بتائیں کہ احادیث کا بہانے بہانے سے رد کرنے والے ہوں تو ان کے بارے میں کیا را ئے رکھی جا سکتی ہے..............
اب نزول عیسٰی پر بھی صحیح اور صرح احادیث موجود ہیں..........یہ پھر بھی نہیں مانتے تو کیا کریں............ اسی طرح واقعہ زیر بحث بھی ہے............... |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
رہی بات حضرت عیسٰی علیہ السلام کی واپسی کی تو سورۃ مائدہ کی آخری آیات اس عقیدہ کی واضح نفی کرتی ہیں۔لفظ وفات کو اکثر علما نے پورا لینے کا ترجمہ کیا ہے جبکہ اسکے معنی قران پاک میں روح کے قبض کرنے یا موت دینے کے معنوں میں آیا ہے۔ ہر جگہ قران میں اس لفظ وفات کا ترجمہ موت یا روح قبض کرنے کے معنوں مٰن ہے تو حضرت صرف عیسٰی کے لئیے ترجمہ میں تبدیلی کیوں؟ اللہ کی طرف سے کسی انسان کو جب نبوت کا درجہ ملتا ہے تو وہ اس کی پیدائش سے لے کر وفات تک اور قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے سے لے کر جنت میں داخلے تک وہ اس درجے پر فائز رہتا ہے۔ حضرت عیسٰی کی اس دنیا میں واپسی اور درجہ نبی سے تنزلی اور ایک عام انسان کی حیثت سے دوبارہ وفات اور پھر قیامت والے روز نبی کی حیثیت سے اٹھایا جانا- یہ سب کیا ہے؟ نبی ہمیشہ نبی ہوتا پیدائش سے لیکر جنت کا مقام پا لینے تک دنیا کے کسی بھی رسول کی رسالت سے انکار کفر تک لے جائے گا۔ اور آخری رسول کو آپ جانتے ہی ہیں کہ کون ہیں۔ اب اگر عیسٰی علہ السلام اس دنیا میں آتے ہیں تو کیا آپ انکے رسول ہونے سے انکار کریں گے۔ کیا آپ یہ کہیں گےکہ حضرت عیسٰی اللہ کے رسول تھے؟ لیکن اب ہم انہیں رسول نہیں مانتے- یہودیوں نے حضرت عیسٰی کو اللہ کا نبی مانا ہی نہیں اس لئیے وہ آج بھی اپنے مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں۔ اور حضرت عیسٰی کو آسمانوں پر زندہ ماننا اور زمین پر دوبارہ آکر اس دنیا میں آخری نظام پہنچانا ان عیسائیوں کا عقیدہ ہے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار کیا۔ لہٰذا اسرائیلی عقائد کو ایک طرف رکھتے ہوئے قران حکیم کی روشنی میں کچھ سمجھنے کی کوشش کریں گے تو بات بلکل واضح ہو جائے گی کہ پچھلی کتابوں میں جس آ خری مسیحا کے آخری زمانے میں آنے کی بات کی گئی تھی وہ کوئی اور نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی۔ جس نے اس دنیا کو بہترین نظام پہنچا دیا۔ جو قوم اس نظام کو اپنائے گی قیامت تک کامیاب رہے گی اور جو چھوڑ دے گی نا کام و نامراد ھو گی چھاھے اپنے آپ کو کتنا ہی بڑا مسلمان کہے۔ Last edited by مرزا عامر; 16-08-10 at 03:03 PM. |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
قرآن کو ماننے کے لئے ، قادیانی بننے کی ضرورت نہیں ہے۔
البتہ ایسی روایات کو مانے کے لئے جو قرآن حکیم کے خلاف ہوں۔ کفر ضروری ہے۔ عیسی علیہ السلام کی واپسی اور مسیح کی آمد کے نظریات ، اللہ تعالی کے فرمان قران حکیم کے نظریات نہیں ہیں۔ یہ اسرائیلیوں کا اپنے مسیحا کا انتظار ہے۔ عیسائیوں میں بھی یہ نظریہ اسرائیلیوں نے ہی داخل کیا، حضرت عیسی کی وفات کے 60 تا 70 سال بعد۔ آج بھی یونی ٹیرئین کرسچین ، حضرت عیسی کو صرف نبی اور وفات شدہ مانتے ہیں۔ والسلام |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (14-01-12), مرزا عامر (16-08-10) |
|
|
#10 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,696
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاء اللہ فاروق صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا جملہ ارشاد فرمایا ہے۔
اقتباس:
انتظار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اقتباس:
خیر فی الحال تو آپ پہلے سوال کا جواب دے دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن مجھے معلوم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ جواب گول کر جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔ یقینا گول کر جائیں گے۔۔۔۔۔۔ اور کچھ نہیں تو فراخ دلی سے لا علمی کا بہانہ تو کر ہی جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اس زنبیل سے نکلتا کیا ہے آخر۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (14-01-12), عبداللہ آدم (16-08-10) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,696
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فیصل ناصر صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس موضوع پر آپ نے جو کردار ادا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کم از کم مجھے ہضم نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (14-01-12) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() میں سمجھا نہیں شمشاد بھائی میں نے ایسا کیا کردیا ؟ میں نے تو صرف یہ عرض کیا ہے کے ان دلائل کو خود سننے یا سمجھنے کی کوشش کریں جو غامدی صاحب نے پیش کئے ہیں آپ کو بھی یہی مشورہ دونگا سنی سنائی باتوں سے کسی کے بارے میں رائے قائم کرنا مناسب نہیں ہے |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,696
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی ہاں۔۔۔۔۔ جی آپ درست فرماتے ہیں۔۔۔
جب فہم قرآن کے لئے صرف فاروق سرور صاحب اور غامدی صاحب جیسے 21ویں صدی کے نئے مجتہدین کے نئے اصول ہی درست قرار پاتے ہوں۔۔۔ اکابر صحابہ، تابعین، علماء و مجتہدین کا فہم دین جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے وہ بیک جنبش قلم مشکوک قرار دیا جائے۔۔۔۔ احادیث رسول۔۔۔ اور صحیح احادیث رسول کو 200 سال بعد کی خرافات قرار دیا جائے۔۔۔ اور ساتھ ہی یہ مشورہ بھی دے دیا جائے کہ ہر کس و ناکس کی کج فہمی کو قابل غور و ستائش سمجھا جائے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے جیسا دقیانوس رجعت پسند، ملا ٹائپ، انسان اور کیا کہہ سکتا ہے۔۔۔۔۔ آپ لوگ تو یہاں اس طرح بات کر رہے ہیں۔۔۔ کہ جیسے غامدی صاحب یا فاروق صاحب نے وہ عقدے کھول دیئے ہیں جن کو اس سے قبل کسی نے ہاتھ نہی نہیں لگایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ راے یہ وہی گھسے پٹے اعتراضات ہیں۔۔۔ جو صدیوں سے پٹتے چلے آ رہے ہیں۔۔۔۔۔ اور پٹتے رہیں گئے۔۔۔۔ اور قادیانی لابی اور منکرین حدیث یوں ہی۔۔۔۔۔۔ نئے نئے روپ سے روشناس ہوتے رہیں گے۔ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (14-01-12), فاروق سرورخان (18-08-10), ziamurtaza (18-08-10), آبی ٹوکول (16-08-10), ابوسعد (03-03-11), احمد بلال (18-08-10), عبداللہ آدم (16-08-10) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کرے
آپ کے بیان پر کچھ رائے تو نہیں دے پاؤں گا لیکن اتنا ضرور کہوں گا تقلید سے میرے خائف ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کے یہ سوچنے اور سمجھنے پر پابندی لگاتی ہے جبکہ اللہ اور اللہ کے رسول ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں وسلام |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی شمشاد اور عبداللہ اگر آپ کی بات کو مان لیا جائے اور ہم فرض کر لیں کہ حضرت عیسٰی آج دنیا میں تشریف لے آئے ہیں تو کیا آپ انہیں اللہ کا رسول مانیں گے یا نہیں اگر مانیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا انکار ہوتا ہے اور اگر نہیں مانیں گے تو ہمیں یہ حق کس نے دیا کہ اللہ کے رسول کو رسول نہ مانا جائے اس صورت میں یہ کفر ہوگا-اگر یہ کہا جائے کہ وہ اللہ کے رسول تھے لیکن زمین پر واپس آکر وہ اللہ کے رسول نہیں ہونگے لیکن قیامت والے روز وہ اللہ کے رسول یا نبی کی حیثیت سے ہی اٹھائے جائیں گے تو یہ بات کچھ بہت ہی عجیب و غریب لگتی ہے۔ عراق اور شام میں گھومنے پھرنے والی ان افواہوں پر نظر نہ کریں بلکہ قرانی حقائق کو غور سے پڑہیں تو انشاءاللہ کسی مسیحا کا انتظار نہیں رہے گا-
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (14-01-12), فاروق سرورخان (26-08-10) |
![]() |
| Tags |
| color, com, فن, کراچی, یو ٹیوب, ویب, قرآن, نظر, موسیٰ علیہ السلام, مقابلہ, ممکن, معجزہ, آج, ایمان, اللہ, اسلام, اسلامی, جواب, حدیث, حضرات, عیسیٰ, عالم, غامدی, صاف, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| بھارت میں حضرت عیسیٰؑ پر فلم بنے گی | جاویداسد | خبریں | 1 | 02-09-10 10:46 PM |
| حضرت عیسیٰ دنیا میں آئے تو مسلمان ہوں گے: قذافی | جاویداسد | خبریں | 5 | 02-09-10 12:18 AM |
| دجال، یاجوج ماجوج، عیسیٰ (علیہ السلام) اور قیامت | باذوق | مطالعہ حدیث | 2 | 15-06-09 04:03 PM |
| قرآن اور ولادت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام | Real_Light | علوم قرآن کریم | 4 | 24-12-08 10:13 PM |
| حضرت عیسیٰ کی تعلیمات امن اور احترامِ انسانیت پر مبنی ہیں، الطاف حسین | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 25-12-07 11:58 AM |